الصحیح من سیرة النبی الاعظم صلىاللهعليهوآلهوسلم
تیسری جلد
مؤلف: جناب حجة الاسلام والمسلمین سید جعفر مرتضی عاملی (ادام اللہ توفیقاتہ)
مترجم: معارف اسلام پبلشرز
نام کتاب: الصحیح من سیرة النبی الاعظم صلىاللهعليهوآلهوسلم
مؤلف: علامہ محقق جناب حجة الاسلام والمسلمین سید جعفر مرتضی عاملی (ادام اللہ توفیقاتہ)
مترجم: معارف اسلام پبلشرز
ناشر: نور مطاف
جلد: تیسری
اشاعت: اول
تاریخ اشاعت: ربیع الاول۱۴۲۷ھ _ق
بسم الله الرحمن الرحیم
و صلی الله علی محمد و آله الطاهرین و لعنة الله علی اعدائهم اجمعین
و لکم فی رسول الله اسوة حسنة
مقدمہ:
بہترین اور کامل ترین طرز زندگی، باعث تخلیق کائنات ہستیوں کی پیروی میں مضمر ہے_ اور ان ہستیوں میں بھی رسول اکرم حضرت محمد مصطفی صلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت طیبہ سب سے درخشان اور نمایاں ہے کہ پیروی کے لئے ان سے بہتر کوئی اور شخصیت ملی ہی نہیں سکتی_
یہ کتاب '' الصحیح من سیرة النبی الاعظم'' عظیم محقق ،حجت الاسلام والمسلمین علامہ سید جعفر مرتضی عاملی (ادام اللہ توفیقاتہ ) کی قیمتی ، گراں بہا، نہایت سودمند اور بے مثال کاوش ہے جس میں انہوں نے سیرت نبوی صلىاللهعليهوآلهوسلم کے تقریباً تمام پہلوؤں پر گہری اور منصفانہ تحقیق کرکے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کی قابل فخر حیات طیبہ کے بہت سے پہلوؤں کو متعصبانہ، مغرضانہ اور ناپختہ سیرت نگاری کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر منصفانہ تحقیق کے روشن افق پر لاکھڑا کیا اور حقیقت پسند علماء و محققین کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کرکے ان سے داد تحسین وصول کی ہے اور دنیائے اسلام کی علمی محافل کی بھی بھر پور توجہ حاصل کی ہے_
معارف اسلام پبلشرز خداوند متعال کا نہایت شکرگزار ہے کہ وہ اپنے اصلی فریضے _ یعنی اردو زبان جاننے والوں کی ضروریات کے مطابق اخلاق، عقائد، فقہ، تفسیر، تاریخ اور سیرت جیسے اہم اور ضروری موضوعات پر مختلف کتابوں کے ترجمہ اور نشر و اشاعت کے فرائض_ کو انجام دیتے ہوئے اللہ تعالی کی توفیق سے '' الصحیح من سیرة النبی صلىاللهعليهوآلهوسلم الاعظم'' کی تیسری جلد کو اس سال میں کہ جسے راہبرمعظم انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای (مدظلہ) نے رسول اعظم حضرت محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم کا سال قرار دیا ہے، اہل مطالعہ و تحقیق اور حق کے متلاشی حضرات کی خدمت میں پیش کررہاہے_ امید ہے کہ یہ کوشش خداوند متعال کی بارگاہ میں اور ولی خدا امام زمانہ حضرت مہدی حجت ابن الحسن العسکری (عج) کے نزدیک مقبول قرار پائے گی_
آخر میں اس نکتہ کا ذکر بھی فائدے سے خالی نہیں ہے کہ یہ ترجمہ عربی متن کے جدید ترین ایڈیشن سے بالکل مطابقت رکھتاہے_ اور اس کے مطالب و موضوعات کی ترتیب میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں اور منابع کی تکمیل کی گئی ہے، ان سب کا اس ترجمہ میں مکمل خیال رکھا گیا ہے _ لہذا معارف اسلام پبلشرز اس کتاب کا ترجمہ، تصحیح، نظر ثانی اورخاص کر جدید ایڈیشن سے مطابقت والے طاقت فرسا کام انجام دینے والی محترم فاضل شخصیات کا بھی نہایت شکرگزا رہے اور خداوند عالم سے ان کے لئے مزید توفیقات کا طالب ہے _
و آخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمین
معارف اسلام پبلشرز
پانچواں باب
ہجرت سے بدر تک
پہلی فصل : رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ میں
دوسری فصل : غیر جنگی حوادث و واقعات
تیسری فصل : ابتدائے ہجرت میں بعض اساسی کام
چوتھی فصل: شرعی احکام
پانچویں فصل :اسلام میں جہاد کی اہمیت
چھٹی فصل : جنگ بدرسے پہلے کی لڑائیاں
پہلی فصل :
رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ میں
رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدینہ میں تشریف آوری :
قباء کے مقام پر پندرہ(۱) دن قیام کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مدینہ کی طرف روانہ ہوئے ، مکہ سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی روانگی اور قبانیز مدینہ پہنچنے کی تواریخ کے بارے میں مؤرخین کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتاہے، البتہ اس بات پر سب متفق ہیں کہ ربیع الاول کے ابتدائی ایام میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ میں داخل ہوئے(۲) _
علامہ مجلسی کی تحقیق کے مطابق آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم یکم ربیع الاول بروز پیرہجرت کے لئے مکہ سے روانہ ہوئے اور بارہ ربیع الاول بروز جمعہ مدینہ پہنچے_ شیخ مفید کا بھی یہی نظریہ ہے اور بعض نے اس پر اجماع کا دعوی بھی کیا ہے_(۳)
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سورج نکلنے سے پہلے مدینہ پہنچے، اس وقت حضرت ابوبکر اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم ایک جیسے سفید لباس میں ملبوس تھے جس کی وجہ سے لوگ غلطی سے رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کا گمان کرتے ہوئے حضرت ابوبکر کو سلام کرتے رہے ، جب سورج نکل آیا اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم پر دھوپ پڑنے لگی تو حضرت ابوبکر نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر سایہ بنایا تو اس وقت لوگوں نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو پہچانا_(۴)
____________________
۱) البحارج ۱۹ ص ۱۰۶ از اعلام الوری ، السیرة الحلبیة ج۲ص۵۵ ، صحیح مسلم کی روایت کے مطابق آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے قبا ء میں چودہ دن قیام فرمایا ، ان کے علاوہ اور بھی کچھ اقوال موجود ھیں_
۲ )ملاحظہ ہو: بحار الانوار ج ۵۸ ص ۳۶۶ ، المواہب اللدنیہ ج ۱ ص ۶۷ اور تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۷_
۳)اس دعوی کے دلائل ملاحظہ ہوں : بحار الانوار ج۸ ص ۳۶۶ و ۳۶۷_
۴)تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۷ _ نیز مندرجہ ذیل منابع میں بھی اس واقعہ کا اشارہ ملتاہے; سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۵۲ ، دلائل النبوة بیہقی ج۲ ص ۴۹۸ و ۴۹۹ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۸۶ نیز ملاحظہ ہو السیرة النبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۱۳۷_
البتہ مذکورہ بالا روایت قطعاً صحیح نہیں ، اس لئے کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم بہت سے مؤرخین کی تصریح کے مطابق تپتی دوپہر میں مدینہ پہنچے تھے _(۱) اگر کہا جائے کہ ان روایات سے مراد شاید یہ ہو کہ مکہ سے آتے ہوئے جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سیدھے مدینہ پہنچے تو اس وقت دوپہر کا وقت تھا جس کے (فوراً) بعد آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم قبا کی طرف روانہ ہوئے تو اس کا جواب پہلے گزر چکا ہے کہ اہل مدینہ ہر روز گروہ در گروہ قبا آتے تھے اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں سلام عرض کرتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ والوں کے نزدیک ایک جانی پہچانی شخصیت تھے _ پس یہ دعوی کیسے کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ابوبکر کو نبی کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم سمجھ لیا ؟ یہانتک کہ ابوبکر نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر سایہ کیا تب انہیں پتہ چلا_ اس سے صرف نظر ، خود نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شخصیت ہی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی پہچان کیلئے کافی تھی ، آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شخصیت حضرت ابوبکر سے بہت زیادہ مختلف تھی_ چنانچہ جب ام معبد نے اپنے شوہر کے سامنے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی صفات ذکر کیں تو اس نے فوراً آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو پہچان لیا(۲) جبکہ حضرت ابوبکر کی صفات ان کی بی-ٹی حضرت عائشہ کی زبانی پہلے گزرچکی ہیں، علاوہ ازایں گزشتہ روایات میں گزرچکاہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ جاتے ہوئے راستے میں نماز جمعہ ادا کی تھی(۳) اس سے معلوم ہوتاہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ظہر کے کچھ دیر بعد مدینہ میں داخل ہوئے کیونکہ مدینہ اور قبا کے درمیان کچھ زیادہ فاصلہ نہیں ہے _ اس پر مزید یہ کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ، ابوبکر سے دو سال بڑے بھی تھے _ پس ابوبکر سے ان لوگوں کا یہ پوچھنا کہ یہ لڑکا آپ کے ساتھ کون ہے ؟(۴) یہ کیا معنی رکھتاہے اور کیا ترپن سالہ بزرگ کو بچہ کہا جاتاہے؟ مگر یہ کہا جائے کہ ''غلام'' کا لفظ لڑکے اور بزرگ دونوں کے لئے یکساں طور پر استعمال ہوتاہے_ لیکن یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ پر باقی رہتاہے کہ جب انہیں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت کا علم تھا تو ابوبکر سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے متعلق پوچھنے کی کیا تک بنتی ہے ؟ جبکہ سینکڑوں لوگ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے استقبال کے لئے شہر سے باہر بھی
____________________
۱) تاریخ الخمیس ج۱/ص۳۳۷ ، ۳۳۶ و السیرة النبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۱۳۷ ، صحیح بخاری مطبوعہ سنہ ۱۳۰۹ ج۲ ص ۲۱۳ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۵۲_
۲)تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۴ و ص ۳۳۵ ، سیرہ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۹۴ و ۵۰ ، دلائل النبوة ج۱ ص ۲۷۹_
۳) المواہب اللدنیہ ج ۱ ص ۶۷ ، سیرہ ابن ہشام ج۲ ص ۱۳۹ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۹ ، بحارالانوار ج۸ ص ۳۶۷ نیز دلائل النبوة ج۲ ص ۵۰۰_
۴)الغدیر ج۷ ص ۲۵۸ کثیر منابع سے ، نیز سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۴۱ و مسند احمد ج۳ ص ۲۸۷_
نکل آئے تھے_
رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کا مدینہ میں قیام :
آپ ، بروز جمعہ اپنی سواری پر بیٹھ کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے _ علی علیہ السلام آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ تھے جو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی سواری کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے، آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم انصار کے قبائل میں سے جس قبیلے کے پاس سے بھی گزر تے تھے وہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی تعظیم میں کھڑے ہوجاتے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں اپنے ہاں ٹھہرنے کی درخواست کرتے ، آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے جواب میں فرماتے تھے: ''اونٹنی کا راستہ چھوڑ دو ، یہ خود ہی اس کام پر مامور ہے''_
آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اونٹنی کی مہار ڈھیلی چھوڑ رکھی تھی ، یہاں تک کہ وہ چلتے چلتے مسجد النبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کی جگہ پر پہنچی اور وہیں رک کر بیٹھ گئی ، یہ جگہ ابو ایوب انصاری کے گھر کے قریب تھی جو مدینہ کے فقیرترین شخص تھے(۱) پس ابوایوب یا انکی والدہ وہاں آئے اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا سامان اٹھاکر اپنے گھر لے گئے ، یوں رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے ہاں قیام پذیر ہوئے جبکہ علی عليهالسلام بھی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ تھے اور مسجد اور اپنے گھروں کی تعمیر تک آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم وہیں مقیم رہے(۲) کہا گیا ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے تقریباً ایک سال تک ابو ایوب کے ہاں قیام فرمایا ، جبکہ ایک دوسرے قول کے مطابق سات ماہ اور تیسرے کے بقول صرف ایک ماہ وہاں قیام پذیر رہے(۳) ہمارے نزدیک یہ آخری قول حقیقت کے زیادہ قریب ہے ، کیونکہ بعید ہے کہ تعمیر کا کام اتنی طویل مدت تک جاری رہا ہو حالانکہ مہاجرین و انصار اپنی پوری کوشش اور توانائی سے اس کام میں مصروف تھے جبکہ رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم خود بھی ان کے ساتھ اس کام میں شریک رہے(۴) _
____________________
۱) البحار ج۱۹ص ۱۲۱ ، مناقب ابن شھر آشوب ج۱ص ۱۸۵ _
۲) روضة الکافی ص ۳۴۰ _ ۳۳۹ ، البحارج ۱۹ص ۱۱۶ _
۳) البدء و التاریخ ج۴ ص ۱۷۸ ، وفاء الوفاء ج ۱ص ۲۶۵ ، السیرة الحلبیة ج۲ص ۶۴_
۴) السیرة الحلبیة ج۲ص۶۴ _
ابن سلام کا قبول اسلام :
مکتب اہل بیت عليهالسلام سے ناواقف تاریخ اور سیرت نگارکہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن سلام نامی یہودی نے رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مدینہ میں داخل ہوتے وقت لوگوں کے شور و غل کو سنا تو تیزی سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آیا ، آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو دیکھنے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی باتیں سننے کے بعد اسے یقین ہوگیا کہ یہ(نورانی ) چہرہ جھوٹ بولنے والا نہیں ہوسکتا(۱) _
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے تین ایسے سوال پوچھے جنہیں نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا پس آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کا صحیح جواب دیا تو وہ اسلام لے آیا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں عرض کی : '' اس سے پہلے کہ یہودیوں کو میرے اسلام کا علم ہو، آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ان سے میرے متعلق پوچھیں'' رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہودیوں سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا : '' ہم سب سے اچھا شخص ہے اور سب سے اچھے شخص کا بیٹا ہے ، وہ خود بھی ہم سے افضل ہے اور ہم میں سے افضل ترین شخص کا بیٹا ہے'' _اسکے بعدجب یہودیوں کو اس کے اسلام کا علم ہوا تو کہنے لگے _ '' شرنا و ابن شرنا '' وہ خود بھی ہم میں سے بدترین شخص ہے اور بدترین شخص کا بیٹا ہے(۲) _
کہاگیا ہے کہ عبداللہ بن سلام ہی وہ شخص ہے جسکے بارے میںیہ آیت نازل ہوئی:
( شهد شاهد من بنی اسرائیل علی مثله فآمن واستکبرتم ) (احقاف۱۰)
بنی اسرائیل کا ایک گواہ ایسی ہی بات کی گواہی دے چکاہے جبکہ وہ ایمان لایا اور تم نے پھر بھی تکبر کیا_(۳)
____________________
۱) الاصابةج۲ص۳۲۰، الاستیعاب ج۲ ص ۳۸۲ ، مستدرک الحاکم ج۳ص۱۳ ، تلخیص مستدرک ذہبی ج ۳ص ۱۳_
۲) البخاری حاشیہ فتح الباری ج۷ص۲۱۳،۲۱۲( خود ابن سلام سے روایت) الاصابہ ج۲ ص۳۲۱ ، الاستیعاب (حاشیہ الاصابة )ج ۲ ص ۳۸۲ _
۳) اسد الغابة فی معرفة الصحابة ص۳ ج ۱۷۶، صحیح بخاری حاشیہ فتح الباری ج۷ ص ۹۷، الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج ۲ص۳۸۳ ، الدرالمنثورج ۴ص۶۹ ، روایت ابویعلی،ابن جریر، حاکم، مسلم ، نسائی ، ابن المنذر ، ابن مردویة ، ترمذی ، ابی حاتم ، ابن عساکر وعبد بن حمید_
نیز درج ذیل آیت بھی اس کے بارے میں ہی نازل ہوئی _
( قل کفی بالله شهیداً بینی و بینکم ومن عنده علم الکتاب ) (نبی اسرائیل ۹۶)
کہہ دیجئے میرے اور تمہارے درمیان اللہ اور وہ گواہ کافی ہے جسکے پاس کتاب کا علم ہے(۱) _
اس کے علاوہ اور بھی کئی آیات اس کے بارے میں ذکر کی جاتی ہیں، جنہیں یہاں ذکر کرنے کی گنجائشے نہیں، مذکورہ بالا روایات کے بارے میں درج ذیل امور توجہ طلب ہیں_
اول: اہل تحقیق حضرات جانتے ہیں کہ ابن سلام کے اسلام لانے کے بارے میں روایات کے درمیان واضح تناقض اور تضاد پایا جاتا ہے کیونکہ بعض مؤرخین کے مطابق اس نے ہجرت کے آٹھویں سال اسلام قبول کیا ، قیس بن ربیع نے عاصم اور اس نے شعبی سے نقل کیاہے کہ عبداللہ بن سلام نے رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات سے دو سال پہلے اسلام قبول کیا(۲) عسقلانی نے اس روایت کی سند میں قیس بن ربیع نامی راوی کی وجہ سے اسے ضعیف اور غلط قرار دیتے ہوئے ردکردیا ہے(۳) _
لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس روایت کو رد کرنے کی اس کی دلیل وہ گذشتہ روایات ہیں جن کے مطابق عبداللہ بن سلام ابتدائے ہجرت میں اسلام لے آیا تھا جبکہ ہم اس کی یہ بات قبول نہیں کرسکتے اس لئے کہ شعبی کا زمانہ عسقلانی کی نسبت نزدیک تر ہے اور اس نے عبداللہ بن سلام کے اسلام قبول کرنے کے سال کو اسطرح دقت کے ساتھ مشخص و معین کیا ہے جس سے واضح ہوتاہے کہ اس نے بے پرکی نہیں اڑائی ہے_
اسی طرح اگر ابن سلام اتنی ہی باعظمت شخصیت کا حامل تھا تو کیا وجہ ہے کہ ہجرت کے بعد آٹھ سال کے طویل عرصے میں اس کی کوئی بات یا کوئی مشورہ ہمارے لئے نقل نہیں ہوا جبکہ تاریخ نے ایسے کم عمر صحابہ کی
____________________
۱) الاصابة ج۲ص۳۲۱ ، الاستیعاب ج۲ ص۳۸۳ ، الدرالمنثور ج۴ ص ۶۹ ، روایت از ابن مردویہ ، ابن جریر ، ابن ابی شیبہ ، ابن سعد ابن منذر_
۲) الاصابة ج۲ ص ۳۲۰_
۳) الاصابة ج۲ ص ۳۲۰ ، فتح الباری ج۷ص۹۷_
باتیں اور ان کے کردار کو ہمارے لئے محفوظ رکھاہے کہ جنہیں ایام طفولیت میں نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ، پس کیا وجہ ہے کہ تاریخ نے (بقول ان کے ) ایسے عظیم شخص کے بارے میں سکوت اختیار کیا ہے_
اسی طرح عسقلانی کا قیس بن ربیع کو ضعیف قرار دینا بھی نامناسب ہے اس لئے کہ خود عسقلانی نے عفان بن قیس ، الثوری ، شعبہ ، ابوالولید اور ابن عدی سے قیس کی وثاقت کو نقل کیا ہے نیز یعقوب بن ابی شیبہ ، عثمان بن ابی شیبہ، ابو حاتم، شریک، ابن حبان ،العجلی، ابوحصین ، یحیی بن سعید، معاذ بن معاذ، ابن عینیہ اور ابونعیم و غیرہ نے قیس کی تعریف کی ہے(۱) _
عسقلانی و غیرہ کے قیس پر الزامات کا رازوہی ہے جس کی طرف احمدنے اشارہ کیا ہے، کیونکہ وہ ایک جگہ لکھتاہے: '' وہ (قیس) شیعہ تھا اورحدیث میںغلطی کیاکرتا تھا''(۲) _ جی ہاں اس سے منقول احادیث میں جرح کا یہی راز ہے اگر چہ اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ اس کی اکثر روایات درست ہیں(۳) قیس پر اس طرح کی الزام تراشی کرنے والی شخصیت احمد بن حنبل ہے ، اوراس سے یہ بات کوئی عجیب نہیں اس لئے کہ یہ وہی ہے جو متوکل ناصبی کے زمانے میںتھا اور اس ناصبی متوکل نے ابن سکیت کے ساتھ وہ سلوک کیا جو سب کو معلوم ہے کہ اس نے حکم دیا تھا کہ اس کی زبان گدی سے کھینچ لی جائے اور اسی فعل کے نتیجہ میں اس کا انتقال ہوگیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابن سکیت نے متوکل کے دو بیٹوں کو امام حسن اور امام حسین علیھما السلام سے افضل و برتر قرار دینے سے انکار کیا تھا(۴) ،متوکل وہی تو ہے جس نے اپنے ہی بیٹے منتصر ( جواپنے باپ سے امیر المؤمنین علی عليهالسلام کی کسر شان کرنے پر ناراض رہتا تھا) کو کچو کے لگانے کے لئے اپنی لونڈی کو یہ گانے کا حکم دیتا تھا _
غار الفتی لابن عمّه راس الفتی فی حرّامّه (۵)
____________________
۱) تہذیب التھذیب ج ۸ص۳۹۵ ، ۳۹۲ _
۲) تہذیب التھذیب ج۲ص۳۹۴_
۳) تھذیب التھذیب ، ترجمة قیس ج ۸_
۴)الکنی و الالقاب ج۱ ص ۳۱۴ تا ۳۱۵ ، نیز ملاحظہ ہو: وفیات الاعیان ج۶ ص ۳۹۵ ، ۳۹۶ ، ۴۰۰ و ۴۰۱ و تاریخ الخلفاء ص ۳۴۸_
۵)الکامل ابن اثیر ج۷ ص ۵۵_
متوکل وہی شخص ہے جو علی علیہ السلام کی فضیلت میں ایک روایت نقل کرنے والے کو ایک ہزار تازیانے لگایا کرتا تھا،اور اسی نے حضرت امام حسین عليهالسلام کے روضہ اطہر پر ہل چلوا دیا تھا اور وہ لوگوں کو آپ عليهالسلام کے روضہ اطہر کی زیارت سے روکتا تھا(۱) _ اسی متوکل کے دربار میں احمد بن حنبل کو وہ عظیم مقام حاصل تھا کہ اسے متوکل نے اپنے بیٹے معتز، دیگر بیٹوں ، شہزادوں اور ولی عہدوں کا اتالیق مقرر کیا ہوا تھا(۲) اور ابن کثیر کے بقول متوکل اس کے مشورے کے بغیر نہ تو کسی کو عزل کرتا اور نہ ہی کسی عہدہ پر کسی کو منصوب کرتا تھا_(۳) ہم سؤال کرتے ہیں کہ اے اہل بصیرت کس وجہ سے متوکل کے دربار میں احمد بن حنبل اس قدر عظیم منزلت و عظمت کا مستحق قرار پایا، اس بارے میں آپ کتاب ''بحوث مع اہل السنة والسلفیة ''کی طرف رجوع کریں تا کہ اہل حدیث اور حنابلہ کی ناصبیت کے کچھ شواہد آپ پر واضح ہوجائیں _
دوم: رہا آیت مجیدہ ( و شهد شاهد من بنی اسرائیل ) کا مسئلہ تو اس سلسلے میں ہم درج ذیل امور کی طرف اشارہ کرتے ہیں_
ا لف: عکرمہ کہتاہے : یہ آیت عبداللہ بن سلام کے بارے میں نازل نہیں ہوئی ، اور اس آیت کا نزول مکہ میں ہوا ، آیت سے مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سے جو شخص (قرآن پر)ایمان لایاوہ اس شخص کی مانند ہے جو رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایمان لے آئے اور اسی طرح کی بات مسروق بھی قسم کھاکر بیان کرتاہے_ شعبی بھی یہی کہتاہے اور عکرمہ ہی کی دلیل کو مدنظر رکھتے ہوئے ابوعمر نے بھی اس آیت کا (عبداللہ بن سلام کے متعلق ہونے کا ) انکار کیا ہے(۳) _ ابن سلام والی روایت پراعتماد کرتے ہوئے اس آیت کو مدنی قرار دینا کسی طرح بھی قابل توجیہ نہیں کیونکہ ایسے ایسے مذکورہ اشخاص اس کا انکارکررہے ہیں جو زمانہ نبوت کے قریب تھے جبکہ شعبی و غیرہ نے بھی اس کے خلاف تصریح کی ہے(جسے ہم بعد میں ذکر کریں گے)_
____________________
۱)الکامل ابن اثیر ج۷ ص ۵۵_
۲)مناقب امام احمد بن حنبل ابن جوزی ص ۳۸۵ و ۳۶۴ ، احمد بن حنبل والمحنہ ص ۱۹۰ و حلیة الاولیاء ج۹ ص۲۰۹ _
۳)البدایة والنہایہ ج۱۰ ص ۳۱۶ _
۴) الاستیعاب حاشیہ الاصابةج۲ص۳۸۳ ، فتح الباری ج۷ص۹۸،درالمنثورج۶ص۳۹ ،ابن جریر، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، ابن المنذر روایا ت سے منقول ہیں _
ب: بعض روایات کے مطابق یہ آیت میمون بن بنیامین کی شان میں نازل ہوئی ، اس کا قصہ بھی ابن سلام کے قصے کی مانند نقل کیا گیا ہے(۱) اورزہری ، مجاہد، ابن عمر ، سعید بن جبیر ، عمر اور قتادہ سے اس سے مختلف واقعات منقول ہیں(۲) _
ج: شعبی سے منقول ہے کہ اس نے کہا :'' عبداللہ کے متعلق قرآن مجید میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی''(۳) _
د: ظاہری طور پر مذکورہ آیت میں ان مشرکین کو خطاب کیاگیا ہے جنہوں نے اس سمے تکبر کیا جب ان کی باتوں پر اندھا اعتماد کرنے والے بعض بنی اسرائیل بھی آپ صلىاللهعليهوآله پر ایمان لے آئے اور یہ ممکن نہیں کہ اس آیت میں یہودیوں کو مخاطب کیا گیا ہو، کیونکہ خود یہود بھی بنی اسرائیل میں سے ہیں ، اور اس بات سے عکرمہ ، شعبی اور مسروق و غیرہ کے گزشتہ قول کی بھی تائید ہوتی ہے_
ھ : طحاوی نے واضح طور پر لکھا ہے کہ ابن سلام کی شان میں اس آیت کے نزول کے بارے میں رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے کوئی تصریح نہیں فرمائی اور اس بات کو مالک نے ( اپنی طرف سے) استنباط کیا ہے(۴) _
سوم: آیت مجیدہ : ( و من عنده علم الکتاب ) کے بارے میں ہم درج ذیل امور کی طرف اشارہ کرتے ہیں_
۱_ مذکورہ آیت کے ضمن جو قول بیان کیا گیا ہے اس کی مخالفت میں زہری ، مجاہد، سعید بن جبیر، ابن عمر، قتادہ اور عمر و غیرہ سے منقول روایات موجود ہیں، اور مذکورہ قول جندب،ابن عباس اورمجاہدسے منقول دو روایتوں میں سے صرف ایک میں ذکر ہوا ہے_
____________________
۱) الدرالمنثورج ۶ص۴۰ ، (عبد بن حمید مکی ) ، فتح الباری ج ۷ص۹۸ نیز الاصابہ ج۳ ص ۴۷۱_
۲) الدرالمنثور ج ۴ص۶۹ ، مشکل الآثارج۱ص ۱۳۷_
۳) مشکل الآثار ج۱ص۱۳۷ اس روایت کے مطابق ابن سلام کی شان میں کوئی آیت نازل نہ ہونے کے بارے میں سعید بن جبیر نے بھی شعبی کی تائید کی ہے، الدرالمنثورج ۴ص۶۹ ، و ج۶ص۳۹ ، ۴۰ ، ابن منذر سے روایت ، دلائل الصدق ج۲ص۱۳۵ ، المیزان ج۱۱ص۳۸۹_
۴) مشکل الآثار ج۱ص ۱۳۹_
۲ :شعبی کا بھی قول پہلے گزرچکاہے کہ ابن سلام کی شان میں قرآن مجید کی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی_
۳: اسی طرح عکرمہ، حسن ،شعبی ، محمد بن سیرین اور سعید بن جبیر میں سے ہر ایک نے ابن سلام کی شان میں اس آیت کے نازل ہونے سے متعلق قول کو رد کیا ہے اور یہ دلیل پیش کی ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور ابن سلام اس کے بعد اسلام لایا تھا(۱) _
۴: مورخین کا کہنا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے اس آیت کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا _ انہوں نے رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کو حالت نماز میں اس آیت کو دوسری آیات کے ساتھ تلاوت کرتے ہوئے سنا تو وہیں رک کر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی نماز ختم ہونے کا انتظارکرنے لگے، جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے سلام پھیرا تو وہ تیزی سے آگے بڑھے اور اسلام لے آئے(۲) اور واضح ہے کہ عمر مکہ میں اسلام لایا تھا_
۵: ایسی بہت سی متواتر روایات موجود ہیں جن میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ ( و من عنده علم الکتاب ) سے مراد امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ذات بابرکت ہے جو قرآن مجید کی تفسیر، تاویل ، ناسخ و منسوخ اور حرام و حلال و غیرہ کا علم رکھتے ہیں، یہ روایت ابوسعید خدری ، ابن عباس ، محمد بن حنفیہ ، امام محمد باقر عليهالسلام ، سدی ، زید بن علی عليهالسلام ،امام موسی عليهالسلام بن جعفر عليهالسلام اور ابوصالح سے منقول ہے(۳) _ اس آیت کے بارے میں ابوصالح کاقول مضحکہ خیزہے _وہ کہتاہے: ''ومن عندہ علم الکتاب'' سے مراد قریش کا ایک شخص ہے جو ہے تو حضرت علی عليهالسلام لیکن ہم کبھی اسکا نام نہیں لیں گے(۴) _
____________________
۱) مشکل الآثارج ۱ص ۱۳۷ ، ۱۳۸، الاستیعاب ( حاشیہ الاصابة) ج۲ص ۳۸۳ ، الدرالمنثورج ۴ص۶۹ ، روایات از نحاس، سعید بن منصور ، ابن جریر ، ا بن المنذروا بن ابی حاتم، دلائل الصدق ج۲ص ۱۳۵ ، غرائب القرآن نیشاپوری ج۱۳ ص ۱۰۰ (جامع البیان کے حاشیہ پر مطبوع) الاتقان ج۱ ص۱۲، احقاق الحق ج۳ ص ۲۸۰ تا ۲۸۴ ، الجامع الاحکام القرآن ج۹ ص ۳۳۶ نیز ینابیع المودة ص ۱۰۴ و ۱۰۳_ ۲) الدرالمنثور ج۴ص۶۹ ، عبدالرزاق اور ابن المنذر نے زھری سے روایت کی ہے_
۳) شواھد التنزیل حسکانی ج۱ص۳۰۷ ، ۳۰۸ ، ۳۱۰ ،مناقب ابن المغاز لی حدیث نمبر ۳۶۱ ، الخصائص ص ۲۶ ، غایة المرام ص ۳۵۷ ،۳۶۰، ازتفسیر ثعلبی والحبری ( خطی نسخہ) عمدة ابن بطریق ص ۱۲۴ ، دلائل الصدق ج ۲ص۱۳۵ ، (ینابیع المودة اور ابی نعیم سے منقول )_ ینابیع المودة ص ۱۰۲و ۱۰۵ نیز ملاحظہ ہو ملحقات احقاق الحق ج۴ ص ۳۶۲ و ۳۶۵ و ج۳ ص ۴۵۱ و ص ۴۵۲ و ج۳ ص ۲۸۰ تا ص ۲۸۵ حاشیہ اور متن دونوں ج۲۰ ص ۷۵ تا ۷۷ کثیر منابع سے ، اور الجامع لاحکام القرآن ج۹ ص ۳۳۶_ ۴) شواھد التنزیل ج ۱ص۳۱۰ نیز ملحقات احقاق الحق ج۱۴ ص ۳۶۴_
ہم پوچھتے ہیں : اے شخص تم ان کا نام کیوں نہیں لینا چاہتے ؟ جبکہ تمہیں اس بارے میں اچھی طرح علم ہے؟ پس کیوں حق کو چھپارہے ہو؟ کیا تم اس بات سے ڈرتے ہو کہ تم پر شیعہ ہونے کی تہمت لگ جائے گی جو کفرو الحاد کے برابر سمجھی جاتی ہے؟ اور پھر کیا تمہیں علی عليهالسلام اور اہل بیت عليهالسلام کے دشمنوں کی طرف سے مصائب و مشکلات کا خوف ہے کہ جو حکومت و سلطنت پر قابض تھے؟یہانتک کہ کسی شاعر نے یہ بھی کہا ہے;
و متی تولی آل احمد مسلم
قتلوه او وصموه بالالحاد(۱)
(اور جب کوئی مسلمان آل احمد صلىاللهعليهوآلهوسلم سے اظہار مؤدت کرتاہے تو وہ اسے قتل کردیتے ہیں یا اس پر کفر و الحاد کا الزام لگادیتے ہیں)_
دو اہم نکات:
پہلا اہم نکتہ:
بعید نہیں ہے کہ عبد اللہ بن سلام کو یہ تمغے معاویہ اور اس کے چیلوںنے ہی عطا کئے ہوں_ اس کی دلیل قیس بن سعد بن عبادہ کی وہ روایت ہے جس میں وہ کہتاہے کہ ( و من عنده علم الکتاب ) سے مراد علی عليهالسلام ہیں لیکن معاویہ بن ابوسفیان کہتاہے کہ وہ عبد اللہ بن سلام ہے _ جس پر سعد کہتاہے کہ خدا نے ( انما انت منذر و لکل قوم هاد ) اور ( افمن کان علی بینة من ربه و یتلوه شاهد منه ) والی آیتیں نازل کیں اور پہلی آیت میں ہادی اور دوسری آیت میں شاہد(گواہ) سے مراد حضرت علی عليهالسلام ہیں کیونکہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم نے انہیں غدیر کے دن منصوب فرمایا اور''من کنت مولاه فعلی مولاه'' کا فرمان ارشاد فرمایا اور یہ فرمایا :
____________________
۱) حیاة الامام الرضا السیاسیة از مؤلف و مجموعة الرسائل الخوارزی ا ہل نیشابور کے لیے_
( انت منی بمنزلة هارون من موسی الا انه لا نبی بعدی ) جس پر معاویہ خاموش ہوگیا اور اس کا جواب نہ دے سکا(۱) _
دوسرا اہم نکتہ :
یہاں ایک قابل توجہ بات یہ ہے کہ جس شخص سے مذکورہ آیت کو منسوب کیا جارہاہے اور امیر المؤمنین علی عليهالسلام کے فضائل کو جھوٹے دعوؤں کے ذریعہ زبردستی اس کی طرف نسبت دی جارہی ہے وہ ہمیشہ علی عليهالسلام کے دشمنوں کی مدد کیا کرتا تھا اور جب خلافت کے سلسلے میں لوگ آپ عليهالسلام کی بیعت کررہے تھے تو اس نے آپ عليهالسلام کی بیعت سے اجتناب کیا تھا(۲) _
یہ جو ابن سلام کو اتنی اہمیت دی گئی ہے، اس کی شخصیت کیلئے مقام و منزلت کوثابت کیاگیا ہے نیز رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم اور وحی الہی کی تصدیق میں اس کی پہل کو ذکر کیا گیاہے اس سب اہتمام میںشاید یہی راز پوشیدہ ہے ( کہ وہ دشمن علی عليهالسلام تھا)_
شیخ ابوریہ کہتے ہیں کہ یہ ابن سلام( اپنے یہودی مذہب کی) اسرائیلی روایات، اسلامی احادیث میں داخل کیا کرتا تھا(۳) اور یہودی حضرت جبرائیل عليهالسلام کے سخت دشمن تھے_ اور شاید یہی سبب تھا کہ ( و اذ را او تجارة او لهوا انفضوا الیها ) والی آیت میں ''لہو'' کی تشریح عبد اللہ بن سلام یوں کرتاہے کہ ''لہو'' سے مراد لوگوں کا دحیہ کلبی کے حسن کی وجہ سے اس کے چہرے کی طرف دیکھنا ہے _ جبکہ روایتوں میں آیاہے کہ حضرت جبرائیل عليهالسلام اسی دحیہ کی شکل میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل ہوتے تھے(۴) اور واضح رہے کہ بعض خلفاء بالخصوص حضرت عثمان ، اہم امور میں اس سے مشورہ کیا کرتے تھے اور وہ انہیں اپنے نظریات کے مطابق
____________________
۱)ینابیع المودة ص ۱۰۴ نیز کتاب سلیم بن قیس_
۲)حضرت علی عليهالسلام کی بیعت نہ کرنے کے سلسلے میں ملاحظہ ہو: شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۴ ص ۹_
۳)ملاحظہ ہو: ابوریہ کی کتب شیخ المضیرہ و اضواء علی السنة المحمدیہ_
۴)ملاحظہ ہو: التراتیب الاداریہ ج۱ ص ۱۹۰_
مشورہ دیا کرتا تھا_ اسی عبداللہ بن سلام نے حضرت عثمان کے محاصرے کے وقت اس کی زبانی کلامی حمایت پر اکتفا کیا اور اس کی کوئی عملی مدد نہیں کی(۱) حالانکہ اس نے جناب عثمان کی عملی مدد کا وعدہ بھی کیا تھا_ اور جب جناب عثمان کا گھیراؤ کرنے والے لوگوں نے عبداللہ بن سلام کے متعلق اسے کہا کہ یہ ابھی تک بھی اپنی یہودیت پر ڈٹا ہوا ہے تو وہ اپنی یہودیت کی نفی کرنے لگا(۱) نہ صرف یہ بلکہ ابن سلام ، کعب الاحبار اور یہود و نصاری کے دوسرے زعماء و بزرگان جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا تھا وہ اسلامی حکومت کے بہت سے اہم اور کلیدی عہدوں پر فائز تھے ، یہ دونوں اشخاص بہت سے اہم امور میں ا س وقت کے حکمرانوں کے مشیر اور معاون ہوتے تھے_
ہم بارگاہ خداوندی میں دعاگو ہیں کہ وہ ہمیں اہل کتاب کی سیاہ کاریوں اور مسلمانوں کی سیاست ،عقائد، تفسیر، حدیث ، فقہ اور تاریخ میں ان کی ریشہ دوانیوں اور اثر گذاریوں کے متعلق ایک مستقل کتاب لکھنے کی توفیق عطا فرمائے_
____________________
۱)مندرجہ ذیل کتب میں اس کے اقوال ملاحظہ ہوں : المصنف صنعانی ج۱۱ ص ۴۴۴، ص ۴۴۵و ۴۴۶ نیز اسی کے حاشیہ میں از طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۸۳ ، حیاة الصحابہ ج ۳ ص ۵۴۰ ، مجمع الزوائد ج ۹ ص ۹۲ و ۹۳ و الاصابہ ج ۲ ص ۳۲۱ _
۲)ملاحظہ ہو: الفتوح ابن اعثم ج ۲ ص ۲۲۳و ۲۲۴_
۲۳
دوسری فصل :
غیر جنگی حوادث و واقعات
حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے بعض مہاجرین کی واپسی :
جب حبشہ میں موجود مسلمانوں کو نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم اور مسلمانوں کی مدینہ کی طرف ہجرت کی خبر پہنچی تو ان میں سے (۳) مرد اور آٹھ عورتیں واپس آئیں_ جن میں سے دو مرد مکہ میں فوت ہوگئے اور سات آدمیوں کو قید کر لیا گیا لیکن باقی مدینہ میں رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پہنچے جن میں سے چوبیس افراد جنگ بدر میں بھی موجود تھے(۱) _
اور(حبشہ سے) مدینہ کی طرف ہجرت کا یہ سلسلہ جاری رہا(۲) یہاں تک کہ حضرت جعفر عليهالسلام ہجرت کے ساتویں سال فتح خیبر کے موقع پر باقی ماندہ افراد کو لے کر پہنچے _ جسکا ذکر انشاء اللہ بعد میں آئے گا_
مذکورہ بالا تیس اشخاص ان افرادکے علاوہ ہیں جو بعض کے بقول بعثت کے پانچویں برس اور ہجرت مدینہ سے آٹھ سال پہلے مکہ میں واپس آئے تھے_ لیکن ان کا مکہ سے گزرنے کا سبب(حالانکہ وہ اسی شہر سے ہی بھاگ کرگئے تھے) بظاہر یہ ہے کہ چونکہ مدینہ کی طرف جانے والا راستہ مکہ کے قریب سے گزر تا تھا(۳) تو شاید وہ مکہ میں موجود ا پنے اموال کو لینے، اقربااور رشتہ داروں سے ملنے اور بیت اللہ کی زیارت سے مشرف ہونے کے بعد پھر مدینہ جانے کے ارادے سے مخفیانہ یا علانیہ طور پر مکہ میں داخل ہوئے_
لیکن قریش ان کے ساتھ قساوت قلبی اور سنگدلی کے ساتھ پیش آئے، ان کے لئے کسی قسم کے
____________________
۱) طبقات ابن سعد ج/ حصہ۱ص ۱۳۹_
۲) طبقات ابن سعد ج/۱حصہ۱ ص ۱۳۹،زاد المعاد ج/ ۱ ص ۲۵ و ج/ ۲ ص ۲۴ ، ۴۵ ، البدء والتاریخ ج/ ۴ ص ۱۵۲ و فتح الباری ج/۷ ص ۱۴۵_
۳) اور اس پر المصنف ج/۵ ص ۳۶۷ کی یہ عبارت دلالت کرتی ہے کہ ''جب رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم کفار قریش سے برسرپیکارہوئے تو وہ مہاجرین حبشہ کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے پاس پہنچنے سے مانع ہوئے_یہاں تک کہ وہ لوگ جنگ خندق کے موقع پر مدینہ میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے آملے''_ البتہ ان کا '' جنگ خندق کے مو قع پر '' کہنا ، ناقابل تائید ہے اور شاید خندق ، خیبر کی جگہ لکھا گیا ہے_
احترام ، غریب الوطنی اور رشتہ داری کا لحاظ بھی نہیں کیا اور یہ بات واضح ہے کہ حبشہ کے مہاجرین کے اس گروہ کا مدینہ میں پہنچنا نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مدینہ پہنچنے کے چند مہینے بعد تھا کیونکہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت کی خبر کاان تک پہنچنا پھر ان کا مکہ کی طرف آنا اور وہاں پر رشتہ داروں سے ملاقات کرنا اور قریش کا وہ سلوک کرنا اور پھر ان کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا یہ سب چیزیں ایک طولانی مدت کے گزرنے کی متقاضی ہیں، یہاں تک کہ عسقلانی کہتا ہے :'' ابن مسعود مکہ کی طرف اور پھر مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے تیس آدمیوں میں سے تھے اور وہ مدینہ میں اس وقت پہنچے جب نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم جنگ بدر کی تیاریوں میں مصروف تھے''(۱) _
حضرت عائشہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآله کے گھر میں :
ہجرت کے پہلے سال (اور کہا گیا ہے کہ دوسرے سال )حضرت عائشہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیت الشرف میں آئیں اور یہ ماہ شوال کی بات ہے، مورخین نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کے علاوہ کسی دوسری کنواری عورت سے شادی نہیں کی لیکن ہم اس بات کے صحیح ہونے پر اطمینان نہیں رکھتے اور اس کی وجہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضرت خدیجہ عليهاالسلام کے ساتھ ازدواج کی بحث میں گزر چکی ہے کہ حضرت خدیجہ ع ليهاالسلام کی رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے علاوہ کسی دوسرے آدمی سے شادی کا مسئلہ نہایت مشکوک ہے_ ہو سکا تو انشاء اللہ ہم آئندہ بھی اس کی طرف اشارہ کریںگے_
رخصتی کی رسم
اور ہمیں معلوم نہیں ہوسکا کہ کس وجہ سے حضرت عائشہ کی رخصتی کی رسم نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک اہمیت نہیں رکھتی تھی کیونکہ روایت کی گئی ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کے لئے ولیمہ نہیں کیا حالانکہ اس دور میں لوگوں کو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے ولیمہ کھانے کی توقع بھی تھی اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اس کی طاقت بھی رکھتے تھے_ صر ف یہی کچھ نقل کیا گیا ہے کہ دودھ کاایک پیالہ سعد بن عبادہ کے گھر سے آیا اور اس میں سے کچھ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے پیا اور باقی حضرت عائشہ(۲)
____________________
۱) فتح الباری ج/۷ ص ۱۴۵ _
۲) تاریخ الخمیس ج/۱ ص ۳۵۸ ، السیرة الحلبیة ج/۲ ص ۱۲۱ _
نے_اسی کو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اس شادی کا ولیمہ قرار دینا بھی صحیح نہیں کیونکہ یہ طبعی بات ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم تو اپنے پاس بیٹھنے والے کو کھانا پیش کرنے سے غفلت نہیں فرماسکتے تھے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی زوجہ کی تو بات ہی اور ہے_
انوکھا استدلال :
حضرت عائشہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک اپنی منزلت اورشان پر اس طرح استدلال فرماتی تھیں کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے ساتھ ماہ شوال میں ازدواج کیا تھا _ وہ کہتی تھیںکہ :
رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ماہ شوال میں مجھے شرف زوجیت بخشا پس رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ازواج میں سے کون سی زوجہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک مجھ سے زیادہ منزلت رکھتی ہے؟(۱) _
حقیقتاً یہ انوکھا استدلال ہے _ اس لئے کہ کب ماہ شوال کی اتنی عظیم فضیلت تھی جو حضرت عائشہ کی منزلت و فضیلت پر دلالت کرتی ؟_
جبکہ بلاشک و شبہہ حضرت خدیجہ اور حضرت ام سلمہ اوردیگر ازواج ،نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک ان کی نسبت زیادہ منزلت و عظمت رکھتی تھیں اسی وجہ سے تو یہ ان سے حسد کرتیں، ان کو اذیت دیتیں اور اکثر خودنبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے بھی ان کے ساتھ بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتی تھیں ہمارے اس دعوے کے بعض دلائل ہجرت سے پہلے حضرت عائشہ کے عقد سے بحث کے دوران ذکر ہو چکے ہیں_
اور اس سے بھی عجیب تربات یہ ہے کہ بعض حضرات نے ماہ شوال میں عقد کے استحباب کا حکم صادر کیا ہے(۲) _
لگتا یہی ہے کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کی رحلت کے بعد آنے والی حکومت وقت کی دست راست اور حکومت وقت اور ان کے حامیوں کی آنکھوں کے کانٹے حضرت علی عليهالسلام کی اچھائی کے ساتھ نام تک نہ لے سکنے والی(۳)
____________________
۱) تاریخ طبری مطبوعہ الاستقامة ج ۲ ص ۱۱۸ ، السیرة الحلبیہ ج ۲ ص ۱۲۰، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۵۸_
۲) نزھة المجالس صفوری الشافعی ج/۲ ص ۱۳۷_
۳)فتح الباری ج ۲ ص ۱۳۱، مسند احمد ج ۶ ص ۲۲۸ ،و الغدیر ج ۹ ص ۳۲۴_
حضرت عائشہ سے کچھ لوگوں کی محبت و عقیدت ، اور ان کی خواہشات کو اہمیت دینا ہی ان لوگوں کی اس طرح کی شریعت سازی کا موجب بنا_حالانکہ خود ہی روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت جویریہ اورحضرت حفصہ کے ساتھ ماہ شعبان میں اور زینب بنت خزیمہ کے ساتھ ماہ مبارک رمضان میں اور زینب بنت جحش کے ساتھ ذی القعدہ میں رشتہ ازدواج استوار فرمایا_ پس اس صورت میں نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس مستحب کو ترک کیا ہے اور اس پر صرف اور صرف اکیلی حضرت عائشہ کے لئے عمل کیا ہے_ یہ بات حقیقتاًتعجب آور ہے اور نہایت ہی عجیب ہے
ایک نئے دور کی ابتداء
بہر حال نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بیت الشرف میں حضرت عائشہ کے آنے سے امن و آشتی اور عظمت و وقار کے نمونہ اس گھر میں خاص قسم کی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوگئیں اوریہ گھر بہت سے ایسے اختلافات اور جھگڑوں کی جولانگاہ بن گیا جو اکثر اوقات نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے غم و غصّہ کے موجب بنتے تھے اوراکثر جھگڑوں میں حضرت عائشہ کا کردار بنیادی ہوتا تھا_
ہمارے اس مدعا پر تاریخ اور متواتر احادیث گواہ ہیں بلکہ بعض منابع کے مطابق خود حضرت عائشہ نے تصریح کی ہے کہ : ''نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیت الشرف میں رونما ہونے والے تما م اختلافات کا سبب میں ہی تھی''_
مومنین کے درمیان صلح والی آیت:
بعض مورخین نے غزوہ بدر سے پہلے کے حالات میں لکھا ہے(۱) کہ رسول اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم ایک مرتبہ خزرج کے قبیلہ بنی حرث میں سعدبن عبادہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے _ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی بن سلول کے اسلام لانے سے پہلے کاہے_
____________________
۱)سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۶۴_
آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی سواری پرسوارعبداللہ بن ابی کی ایک محفل کے قریب سے گذرے جس میں مسلمان، مشرکین، اور یہودی ملے جلے بیٹھے تھے _ ان میں عبداللہ بن رواحہ بھی موجود تھا_ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی سواری کی ٹاپوں سے گرد و غبار اڑا تو ابن ابی نے اپنی چادر سے ناک ڈھاپنتے ہوئے کہا:'' ہم پر گرد و غبار نہ اڑاؤ''_ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سواری سے نیچے اترے اور اسے مسلمان ہونے کی دعوت دی تو ابن ابی کہنے لگا : '' بھلے مانس اگر تیری باتیں سچ ہیں تو یہ سب سے بہترین باتیں ہیں لیکن تیرے کہنے کا انداز بالکل بھی صحیح نہیں ہمیں محفل میں آکر پریشان مت کرو ،جاؤ اپنی سوار ی کا رخ کرواور جو تمہارے پاس آئے تم اسے یہ باتیں سنانا''_ ابن رواحہ نے کہا:'' جی ہاں یا رسول اللہ آپ ہمارے پاس آکر ہمیں اطمینان سے یہ باتیں سنائیں کیونکہ ہمیں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ فرمائشےات پسند ہیں '' _ پھر تو مسلمانوں اور مشرکوںکے درمیان ایسی گالی گلوچ شروع ہوگئی کہ مارکٹائی تک نوبت پہنچنے والی تھی _ لیکن رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا انہیں خاموش رہنے کی برابر تلقین کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے_
اس کے بعد آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سعد بن عبادہ کے پاس تشریف لے گئے اور سارا ماجرا اسے سنایا_ سعد نے عرض کی کہ آپ ابن ابی کو چھوڑ دیں کیونکہ جلد ہی ہم اس پر ہلہ بولیں گے _ لیکن جب وہ ان کے حملے سے پہلے اسلام لے آیا تو سعد بن عبادہ کے قبیلہ والے اس پر چڑھائی سے باز رہے _
دوسری روایت یہ کہتی ہے کہ رسول کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم
اور کچھ مسلمان آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم
کے ہمراہ ابن ابی کی طرف تشریف لے گئے تا کہ ا س کے قبیلے سے روابط برقرار کریں _جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم
اس کے پاس پہنچے تو اس نے کہا: ''دور ہو جاؤ مجھ سے بخدا تمہاری سواری کی بد بو سے مجھے بہت تکلیف ہوئی ہے ''_ اس پرایک انصاری صحابی بولے:'' اللہ کی قسم تیرے وجود کی بوسے رسول اللہ کی سواری کی بو کہیں زیادہ پاکیزہ ہے''_ ابن ابی کے قبیلے کے آدمی کو غصہ آیا اس نے اسے گا لیاں دیں_ اب طرفین غضبناک ہوگئے اور پھر دونوں میں چھڑیوں اورجوتوں سے لڑائی ہوئی _
اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی:
( و ان طائفتان من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینهما ) (حجرات _۹)
اگر مومنین کے دو گروہوں میں لڑائی ہوجائے تو ان میں صلح کرادو_(۱)
تفسیر مجمع البیان میں مذکورہے کہ جس نے ابن ابی سے مذکورہ بات کی وہ عبداللہ بن رواحہ تھے اور لڑائی ابن رواحہ کے قبیلے اوس اور ابن ابی کے قبیلے خزرج کے درمیان ہوئی_
البتہ دونوں روایات قابل اعتراض ہیں _کیونکہ:
اولاً: آیت صلح پہلی روایت پہ منطبق نہیں ہوتی کیونکہ اس روایت کی روسے جھگڑا مشرکوں اور مسلمانوں کے درمیان تھادو مسلمان گروہوں کے درمیان نہیں _بلکہ دوسری روایت سے بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ جھگڑا مومنین کے دوگروہوں میں تھا _اگر دونوں روایات کو ایک روایت قرار دیں کیونکہ دونوں کا سیاق و سباق اور مضمون ایک ہی ہے تو پھر بھی یہ اطمینان حاصل نہیں ہوتا کہ یہ آیہ مجیدہ اسی مناسبت سے نازل ہوئی ہو_
ثانیاً : آیہ مجیدہ سورہ مبارکہ حجرات میں ہے جو ہجرت کے چند سال بعد نازل ہوئی _کیونکہ اس سورت کا نزول سورہ مجادلہ ، اور جنگ خندق کی مناسبت سے نازل ہونے والی سورت احزاب اور دیگر سورتوں کے نزول کے بعد ہوا_ جبکہ یہ بات گزر چکی ہے کہ مذکورہ واقعہ جنگ بدر سے پہلے کاہے_ ان ساری باتوں کے علاوہ روایات کے مضامین میں بھی اختلاف و تناقض پایا جاتاہے جو واضح ہے_
البتہ ایسا بھی نہیں کہ روایت سرے سے ہی ناقابل قبول اور جعلی ہو_ تا ہم ہو سکتا ہے یہ واقعہ ہجرت کے چند سال بعد سورہ حجرات کے نزو ل اور ابن ابی کے اسلام لانے کے بعد رونما ہوا ہو اور جھگڑا مومنین کے دو گروہوں کے درمیان ہو_ اس اعتبار سے دوسری روایت مضمون کے زیادہ قریب اور مناسب ہے_
____________________
۱)السیرة الحلبیہ ج/۲ ص۶۳و۶۴،درمنثورج/۶ص۹۰از مسلم، بخاری، احمد، بیہقی کی سنن ، ابن مردویہ ، ابن جریر اور ابن منذر ، حیاة الصحابہ ج/۲ ص ۵۷۸ ،۵۷۹ ، ۵۶۰از البخاری ج/۱ص ۳۷۰ ، ج/۳ ص ۸۴۵_
سلمان محمدی صلىاللهعليهوآلهوسلم کاقبول اسلام :
پہلی ہجری میں اوربقولے اسی سال کے ماہ جمادی الاولی(۱) میں سلمان محمدی صلىاللهعليهوآلهوسلم المعروف سلمان فارسی (حشر نا الله معه و فی زمرته )نے اسلام قبول کیا_ یہی وہ شخصیت ہیں جن کے بارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ اہل بیت علیھم السلام نے فرمایا:''سلمان منا اهل البیت'' (۲) _
یہی وہ سلمان ہیں جنہوں نے دین حق کی تلاش میں اپنے علاقے سے ہجرت کی اور اس را ہ میں انہوں نے بہت ساری مصیبتیں اور مشکلات برداشت کیں _ یہاں تک کہ غلام ہوئے اور پھر نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہاتھوں آزاد ہوئے(۳) _
کہتے ہیں کہ مدینہ میں ''قبا'' کے مقام پر حضرت سلمان فارسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضری دی اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے یہ کہہ کہ کھجوریں پیش کیں کہ یہ صدقہ ہے _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے خودتو کھانے سے انکار فرمایالیکن اصحاب سے امر فرمایا کہ کھالیں تو انہوں نے یہ کھجوریں کھالیں_ حضرت سلمان نے اسے پہلی نشانی شمار کیا _
اگلی مرتبہ پھر جناب سلمان کی ملاقات آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے مدینہ میں ہوئی_ اس نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں کھجوریں یہ کہہ کر پیش کیں کہ یہ تحفہ ہے _آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے قبول فرمایا اور کھجوریں کھالیں پس حضرت سلمان نے اسے دوسری نشانی شمار کیا _
____________________
۱)تاریخ الخمیس ج/ ۱ ص ۳۵۱_
۲)قاموس الرجال ج/۴ ترجمہ سلمان_
۳) المصنف ج / ۸ ص ۴۱۸ میںان کے اسلام لانے کا واقعہ مذکور ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سلمان فارسی کے علاقے میں ایک راہب تھا _ آپ نے بعض خاص قسم کی تعلیمات اس سے سیکھیں اور علاقے کے لوگوں کو بتائیں تو انہوں نے راہب کو اپنے علاقے سے نکال باہر کیا_ آپ اپنے اہل و عیال سے چھپ کر اس کے ساتھ وہاں سے نکلے اور موصل پہنچ گئے _ وہاں انکی ملاقات چالیس۴۰راہبوں سے ہوئی _ چند ماہ بعد ایک راہب کے ہمراہ آپ بیت المقدس گئے وہاں ایک راہب کی سخت عبادت و ریاضت اور انکی بے چینی کو دیکھا لیکن پھر جلد ہی اس کا دل اس سے بھر گیا _ وہاں انصار کے سواروں کے ایک دستے نے ان راہبوںسے حضرت سلمان کے بارے سوال کیا توانہوںنے جواب دیا کہ یہ ایک بھگوڑا غلام ہے _پس انہوں نے اسے مدینے لے جاکر ایک باغ میں کام پر لگادیا_ اس راہب نے جناب سلمان کو بتایا تھا کہ عرب سے ایک نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم نے عنقریب ظہور کرناہے جو صدقہ نہیں کھائے گا، ہدیہ قبول کرے گا اور اسکے شانوں پر نبوت کی مہر ہوگی _ اس راہب نے آپ سے کہا تھا کہ اسکی اتباع کرنا_
اسکے بعد حضرت سلمان کی ملاقات آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے بقیع کے ایک نشیب میں ہوئی جہاں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے بعض اصحاب کی تشیع جنازہ میں شریک تھے پس قریب آئے ، آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام کیا اور پیچھے پیچھے چل دیئے_ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی پشت مبارک سے چادر ہٹائی تو دیکھا کہ شانوں پر نبوت کی مہر موجود ہے_ پس اب وہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف جھکے ،شانوں پر بوسہ دیا اور گریہ کرنا شروع کیا_ اس کے بعد اسلام قبول کیا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں اپنا سارا واقعہ بیان کیا _ اسکے بعد حضرت سلمان نے اپنے مالک سے اپنی آزادی کا معاہدہ کیا اور اپنی آزادی کی رقم ادا کرنے کے لئے محنت مزدوری کرنے لگا اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی اس کی مالی امداد فرمائی _ اور پھر حضرت سلمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی غلامی میں اپنی ساری زندگی گذاردی تا کہ اس آزادی کا حق ادا کرسکیں_
اس نے پہلی مرتبہ جنگ خندق میں حصہ لیا اور پھر اس کے بعد کئی جنگوں میں حصہ لیا_ ابن عبدالبر کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے پہل جنگ بدر میں حصہ لیا اور یہ نظریہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی مالی امداد کے تناظر میں زیادہ مناسب ہے _ اسکے لئے حدیث و تاریخ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے _(۱) نیز ہماری کتاب''سلمان الفارسی فی مواجهة التحدی'' ( سلمان فارسی چیلنجوںکے مقابلے میں) بھی ملاحظہ فرماسکتے ہیں_
ایک اہم بات :
یہاں قابل ملاحظہ ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ حضرت سلمان نے ذاتی احساسات یا مفادات کی بناء پر اسلام قبول نہیں کیا اور نہ ہی کسی مجبوری یا کسی کے دباؤ یا کسی سے متاثر ہونے کی بنا پر اسلام قبول کیا بلکہ خالصتاً اپنی عقل و فکر اور سوچ و بچار کے ساتھ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے_ دین حق تک پہنچنے کے لئے انہوں نے بہت سعی و کوشش کی اور اس راہ میں بہت سی رکاوٹوں، مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کیا _ اور یہ بات اس دین کے فطری ہونے نیز عقل کے احکامات اور سالم فطرت کے تقاضوں کے مطابق ہونے کی تائید کرتی
____________________
۱)بطور مثال قاموس الرجال ج/۴ ، الاصابہ ج/ ۲ ص ۶۲ ، الاستیعاب اور دیگر کتابیں_
ہے_ اسی طرح کی باتیں ہم حضرت ابوذرکے اسلام قبول کرنے کے واقعات میں بیان کرچکے ہیں، وہاں ملاحظہ فرماسکتے ہیں_
رومہ کا کنواں حضرت عثمان کے صدقات میں :
بعض نے حضرت عثمان کے فضائل میں لکھاہے کہ جب رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ تشریف لائے تو سوائے رومہ کے کنویں کے کوئی اور ایسا کنواں نہ تھا جس سے صاف اور میٹھا پانی پیا جاتا_ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' کون ہے جو اپنے ذاتی مال سے اس کنویں کو خریدے اور اپنی بالٹی اور دیگر مسلمانوںکی بالٹیاں اس میں قرار دے (یعنی سب مسلمانوں کے لئے وقف کردے ) تو اسے جنت میں اپنی پسند کا اس سے بھی اچھا کنواں ملے گا؟ ''پس حضرت عثمان نے اپنے خالص مال سے اس کنویں کو خریدا اور اس کنویں میں اپنی اور مسلمانوں کی بالٹیاں ڈال دیں_ لیکن جب حضرت عثمان کا محاصرہ ہو اتو لوگوں نے انہیں اس کنویں سے سخت پیاس کی صورت میں بھی پانی نہیں پینے دیا تھا حتی کہ وہ مجبور ہوکر سمندر کا پانی پینے لگے تھے _
لیکن ان روایات میں شدید اختلاف پایا جاتاہے_ہم بعدمیں مدارک و مصادر کی طرف اشارہ کریں گے_ انہی اختلافات کی وجہ سے ہمیں ان کے صحیح ہونے کے بارے شک ہے_یہ اختلافات مندرجہ ذیل ہیں:_
اولاً : روایات میں اتنا تناقض و اختلاف ہے کہ کوئی ایک روایت بھی دوسری سے نہیں ملتی _مثلاً کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کے خلاف بغاوت ہوئی توانہوں نے باغیوں کو رومہ کے کنویں والے واقعہ کا واسطہ دیا لیکن یہاں روایتوں میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے _ ایک روایت تو یہ کہتی ہے کہ جب وہ اپنے گھر میں محاصرے میں تھے تو تب انہوں نے لوگوں کے سامنے آکر یہ بات کی تھی جبکہ ایک اور روایت کہتی ہے کہ اس وقت وہ مسجد میں تھے _ ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے آدھا کنواں سو اونٹنیوں کے عوض اور باقی آدھا ایک آسان نرخ پہ خریدا_دوسری روایت کہتی ہے کہ چالیس ہزار کا کنواں خریدا ایک اور روایت میں
ہے کہ ۳۵ اونٹینوں کے عوض خریدا_ چوتھی روایت ہے کہ آدھا کنواں بارہ ہزار درہم میںاور باقی آدھا آٹھ ہزار میں خریدا_
ایک اور روایت اس بارے میں یہ ہے کہ یہ کنواں ایک یہودی کا تھا_ کوئی بھی قیمت ادا کئے بغیر اس سے پانی کا ایک قطرہ تک نہیں پی سکتا تھا_ایک اور روایت کہتی ہے کہ یہ کنواں قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کا تھا_ تیسری روایت کہتی ہے کہ یہ کنواں بنی غفار کے ایک شخص کی ملکیت تھا_ یہاں ایک روایت یہ کہتی ہے کہ حضرت عثمان نے کنواں خریداجبکہ دوسری یہ کہتی ہے کہ انہوں نے کنواں کھودا _ لوگ دونوں روایتوں کو جمع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے پہلے کنواں خریدا لیکن اسکے بعداسے دوبارہ کھودنے کی ضرورت پڑ گئی_(۱) لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ خود کہتے ہیں کہ اس کا ذکر حضرت عثمان نے اس وقت کیا تھا جب اصحاب کو اس کی قسم دی تھی اور یہ واقعہ صرف ایک ہی مرتبہ ہواتھا_
ایک روایت یہ کہتی ہے کہ یہ چشمہ تھا جو زمین پر جاری تھا جبکہ دوسری کہتی ہے کنواں تھا_ ایک روایت کہتی ہے کہ حضرت عثمان نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلمانوں کے مدینہ پہنچنے پر کنواں خریدا _ لیکن دوسری روایت کی حکایت یہ ہے کہ جب خلیفہ تھے تب یہ کنواں خریدا تھا_
ایک روایت میں ہے کہ خود آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے کنواں خریدنے کو فرمایا _دوسری روایت یہ کہتی ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسلمانوں میں اعلان کرایا کہ کوئی ہے جو کنواں خریدے_ تیسری روایت کا کہناہے کہ اس غفاری (کنویں کے مالک ) نے جنت میں دو چشموں کے بدلے بھی پاک پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہاتھوں اسے بیچنا گوارا نہ کیا _جب یہ بات حضرت عثمان کو معلوم ہوئی تو انہوں نے اسے ۳۵ ہزار میں خریدا(۲) _
____________________
۱)اس توجیہ کو سمہودی نے وفاء الوفاء ج/ ۳ ص ۹۷۰ میں ذکر کیا ہے_
۲)ان روایات کا مطالعہ فرمائیں اور ان کا آپس میں تقابل کریں_وفاء الوفاء للسمھودی ج / ۳ ص ۹۶۷ _ ۹۷۱ ، سنن نسائی ج/۶ ص ۲۳۴، ۲۳۵ ، ۲۳۶ ، منتخب کنز العمال ج/۵ ص۱۱ ، حیات الصحابہ ج/۲ ص ۸۹ از طبرانی وابن عساکر ، مسند احمد ج /۱ ص۷۰ ، ۷۵ ، السیرة الحلبیہ ج/۲ ص۷۵ ، اسی طرح بغوی، ابن زبالہ، ابن شبة، ابن عبدالبر، الحازمی، ابن حبان، ابن خزیمہ سے بھیروایت کی گئی ہے ، الترمذی ص ۶۲۷ ، حلیة الاولیاء ج/۱ ص ۵۸ ، البخاری حاشیہ فتح الباری ج/۵ ص ۳۰۵ ، فتح الباری ج ۵ ص ۳۰۵ ، ۳۰۶ ، سنن بیہقی ج/ ۶ ص ۱۶۷ ، ۱۶۸نیز التراتیب الاداریہ _
اختلافات اور تناقضات کی فہرست طولانی ہے جن کے ذکر کا موقع نہیں _اگر کوئی چاہے تو ان کتابوں کی طرف رجوع کرسکتاہے جن کے ہم نے حوالے دیئے ہیں_
ثانیاً : نسائی، مسند احمد اور ترمذی جیسی کتب میں ایک روایت مذکور ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم جب مدینہ تشریف لائے تووہاں میٹھا اور پینے کے قابل پانی نہ تھا_ یہ بات کسی طرح بھی درست نہیں ہے کیوں کہ جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ تشریف لائے تو میٹھے پانی کے کافی سارے کنویں تھے_ جن کنوؤں سے حضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے زندگی بھر پانی استعمال فرمایا_ ان کنوؤں میں سے اسقیا، بضاعہ، جاسوم اور دار ا نس کے کنویں تھے جن میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنا لعاب دین پھینکا تو اسکے بعد مدینے میں ان سے زیادہ میٹھے پانی کا کوئی اور کنواں نہ تھا(۱) اس کے علاوہ بہت سارے کنویں تھے اس سلسلے میں وفاء الوفاء کے باب '' آبار المدینہ'' کا مطالعہ کرسکتے ہیں _
ثالثاً : اگر رومہ کے کنویں والی حدیث صحیح مان لی جائے تو پھر مندرجہ ذیل جواب طلب سؤالات سامنے آتے ہیں_
۱_حضرت عثمان جو حبشہ سے تازہ آئے تھے اور انکے پاس کوئی مال و متاع بھی نہ تھا تو پھر چالیس ، پینتیس یا بیس ہزار درہم اور سو اونٹنیاں کہاں سے آگئیں _ انہوں نے کب اور کس طرح یہ مال کمایا؟_
۲ _ حضرت عثمان نے جنگ بدر کے موقع پر اتنی بڑی رقم کے ہوتے ہوئے مدد کیوں نہ کی ؟ یا ان اونٹیوں میں کوئی چیز کیوں خرچ نہ کی جو روایات کے بقول یہ ان کا خالص ذاتی مال تھا؟ حالانکہ اس وقت مسلمانوں کو چھوٹی سے چھوٹی چیز کی بھی اشد ضرورت تھی _کیونکہ دو یا تین افراد ایک ہی اونٹ پر بیٹھتے تھے اوران کے پاس صرف ایک ہی گھوڑا تھا _ مسلمانوں کے پاس صرف چھ عدد زر ہیں اور آٹھ عدد تلواریں تھیں جبکہ باقیوں نے ڈنڈوں اور کھجور کی چھڑیوں کے ساتھ جنگ کی _ اسکا اور اس کے منابع کا ذکر آئے گا_
حضرت عثمان نے اپنے اموال سے بالکل بھی مدد نہ کی ؟ کیا پھر بھی یہ بات درست اور معقول ہے کہ انہوں نے اپنے پاس موجود سب کچھ لٹا دیا اور خالی ہاتھ ہوگئے؟
____________________
۱) وفاء الوفاء للسمھودی ج/ ۳ ص ۹۵۱ ، ۹۵۶ ، ۹۵۸ ، ۹۵۹ ، ۹۷۲_
حضرت عثمان نے کیونکر غریب مسلمانوں کو کھانا نہ کھلایا ، انکی ضروریات کو پورا نہ کیا اور انصار کی مدد نہ کی ؟ خود پیامبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کیوں نہ کی _ جبکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم شدید اقتصادی بحران کا شکار تھے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اور مسلمانوں کی معاشی حالت ہجرت کے چند سال بعدجاکے کہیں ٹھیک ہوئی؟
۳_ بعض روایات کہتی ہیں کہ حضرت عثمان کو اس کنویں کا پانی پینے سے منع کردیا گیا جس سے وہ سمندر کا پانی پینے پر مجبور ہوگئے_ یہ بات واقعاً بہت عجیب ہے پس اگر حضرت عثمان پانی حاصل کرسکتے تھے تو انہوں نے مدینہ میں دسیوں کی تعدا میں موجود دیگر کنوؤں کا میٹھا پانی کیوں استعمال نہیں کیا ؟_
کیونکہ جس شخص نے پانی پینے سے منع کیا تھا وہ تو چاہتا تھا کہ ان تک کسی طرح کا کوئی پانی ، کہیںسے بھی نہ پہنچے_ کیونکہ بقول ان کے حضرت عمار یاسر اس تک پانی پہنچانے لگے تو طلحہ نے انہیں منع کردیا _(۱)
پس جب تک حضرت علی عليهالسلام نے اپنے بچوں کے ہمراہ پانی نہیں پہنچایا تب تک انہیں پانی میسر نہیں آیا اور واضح ہے کہ آپ عليهالسلام نے اس کام سے اپنے خاندان کو خطرات میں جھونک دیا_ کیا یہ درست ہے کہ انہوں نے واقعا سمندر کا پانی پیا تھا؟_ جبکہ سمندر کا فاصلہ مدینہ سے بہت زیادہ دور ہے _ یا یہ نمکین اور کھارا پانی استعمال کرنے سے کنایہ ہے ؟ ؟
۴_ اگر حضرت عثمان نے یہ سارا مال صدقہ کیاتھا تو کیوں ان کی مدح میں ایک آیت بھی نازل نہیں ہوئی جو اس عمل کی تعریف کرتی جبکہ حضرت علی عليهالسلام نے مختلف اوقات میں '' جو کی تین روٹیاں'' ، '' انگوٹھی'' ، '' چاردرہم'' اسی طرح '' نجوی'' کے واقعہ میں صدقے دیئے تو مختلف آیات کے نزول سے تعریف کے مستحق بنے لیکن حضرت عثمان کئی ہزار درہم اورایک سو اونٹنیاں صدقہ دینے پر بھی کسی تعریف کے مستحق نہیں ٹھہرے بلکہ خدا نے ان کے متعلق ایک کلمہ یا ایک حرف تک بھی ارشاد نہیں فرمایا ؟ اس کے برعکس وہ روایت جو اس عظیم فضیلت کو بیان کرتی ہے اس میں بہت زیادہ تناقض پایا جاتاہے اور وہ علمی اور آزاد تنقید کے سامنے بالکل نہیں ٹھہرتی _ اس کے علاوہ انہوںنے بھی دوسرے صحابہ کی طرح ایک درہم کا صدقہ دے کر ''آیت
____________________
۱)وفاء الوفاء ج ۳ ص ۹۴۵_
نجوی'' پر عمل کیوں نہیں کیا ؟ یہاں تک کہ اصحاب کی مذمت میں آیت نازل ہوئی_ اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم سے گفتگو سے قبل صدقہ دینے سے کترانے پر ان کی بھی دوسرے صحابہ سمیت مذمت کی ہے _
'' اریس'' کا کنواں
بالا خر ہم یہ نہیں جان سکے کہ صرف '' رومہ'' کے کنویں کو اتنی عزت و عظمت کیسے ملی اور اریس کے کنویں کے ساتھ ایسا کیوں نہ ہوا ؟ _ جبکہ دعوی یہ ہے کہ یہ کنواں بھی حضرت عثمان نے ہی ایک یہودی سے خریدا تھا_ پھر اسے وقف بھی کردیا تھا _(۱) اللہ تعالی حضرت عثمان کو کنوؤں کے معاملے میں برکت دے لیکن یہودیوں کو تو اس غم اور غصہ سے مرجانا چاہئے تھا کیونکہ کنویں تو وہ کھودتے تھے لیکن ان سے حضرت عثمان خرید خرید کر وقف کردیتے تھے اور یہ سب فضیلت ، کرامت اور عظمت حاصل کرتے جاتے تھے _
مسئلے کی حقیقت
ظاہراً صحیح بات وہی ہے جو '' عدی بن ثابت '' کے ذریعہ سے ابن شبہ کی روایت میں آئی ہے کہ مزینہ قبیلے کے ایک شخص کو '' رومہ '' نامی کنواں ملاتو اس نے اس کا ذکر حضرت عثمان (جو اس وقت خلیفہ تھے) سے کیاتو انہوں نے یہ کنواں بیت المال سے ۳۰ ہزار درہم کا خریدکر اسے مسلمانوں کے لئے وقف کردیا(۲) _
لیکن سمہودی نے اس روایت کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ روایت متروک ہے اور زبیر بن بکار نے اپنی کتاب ''عتیق'' میں اس روایت کو بیان کیا ہے_لیکن وہ اسے رد کرتے ہوئے کہتاہے:'' یہ درست نہیں کیونکہ ہمارے نزدیک ثابت یہ ہے کہ حضرت عثمان نے یہ کنواں رسول اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں اپنے مال سے خریدکر اسے وقف کردیا تھا''(۳) _
____________________
۱) وفاء الوفاء ج ۳ ص ۹۶۸_
۲)وفاء الوفاء ج/ ۳ ص ۹۶۷ از ابن شبة _اس روایت کو زبیر بن بکار نے بھی روایت کیاہے_
۳)گذشتہ حوالہ_
جبکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ روایات جن کی طرف زبیر بن بکار نے اشارہ کیا ہے کسی بھی لحاظ سے صحیح نہیں ہیں _خصوصاً جبکہ ان روایات میں بہت اختلاف اور تناقض پایا جاتاہے اور ان روایات پہ ایسے اعتراضات بھی گزر گئے ہیں کہ جن کا کوئی جواب نہیں نیز ان روایات کی اسنا د و مدارک میں بھی بہت سے اعتراضات ہیں _ ایسے حالات میں روایت مذکور کی سند میں متروک شخص کے ہونے میں کوئی حرج نہیں _ اور اسے ماننا ہی پڑے گا کیونکہ یہ روایت اس زمانے کے حالات اور تاریخی واقعات سے مطابقت بھی رکھتی ہے_ اور بقیہ روایات بھی صحیح نہیں ہوسکتیں کیونکہ یہ ساری کی ساری حضرت عثمان کی فضیلت بنانے کے لئے گھڑی گئی ہیں_
البتہ مذکورہ بالا روایت کا یہ جملہ ہم نہیں سمجھ سکے '' انہوں نے بیت المال مسلمین سے ۳۰ ہزار درہم کا کنواں خریدا اور پھر مسلمانوں کے لئے اسے وقف کردیا ...'' _اگر یہ کنواں مسلمانوں کے اموال سے خریدا گیا تھا تو پھر مسلمانوں ہی کے لئے وقف کرنے کا کیا معنی ہے؟ہاں اس صورت میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ در حقیقت بیت المال کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھتے تھے اس لئے اسے وقف کہتے تھے _ اور ہم نے ان کے اس نظریئے پر کچھ دلائل اور قرائن بھی بیان کئے ہیں اس لئے آپ ملاحظہ فرماسکتے ہیں(۱)
کھجور کی پیوندکاری
کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب مدینہ تشریف لائے اور کھجوروں کی پیوند کاری کر نے والے کچھ افراد کے قریب سے گذرے ( یا ان کا شور سنا ) تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے فرمایا اگر تم اس کام کو چھوڑ دو تو بہتر ہوگا _ ان لوگوں نے اس کام کو چھوڑ دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کھجوریں نرم گٹھلی والی اور خراب نکل آئیں _ پھر ایک روز ان کے قریب سے گزرے یا ان سے یہ بات ذکر کی گئی، تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے استفسار فرمایا کہ کیا ہوا تمہاری کھجوروں کو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہی تو ایسا کرنے کو کہاتھا (لہذا اس کا نتیجہ واضح ہے)_آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم
____________________
۱) ملاحظہ ہو ہماری کتاب : دراسات و بحوث فی التاریخ و الاسلام ، بحث ''ابوذر ، سوشلسٹ ، کیمونسٹ یا مسلمان ؟''_
نے فرمایا:'' تم لوگ دنیاوی امور کو مجھ سے بہترجانتے ہو'' _ یا یہ فرمایا : ''اگر مفید تھا تو انہیں ویساہی کرنا چاہئے تھا میں نے تو یوں ہی ایک گمان کیا تھا_ لہذا تم لوگ اس گمان کی وجہ سے میرا مؤاخذہ نہیں کرسکتے _ البتہ میں جب اللہ تعالی کی کوئی بات تمہیں بتاؤں تو تم اس پر ضرور عمل کرو کیونکہ میں خدا پر ہرگز جھوٹ نہیں بولتا''_(۱)
ہمیں اس روایت کے صحیح ہونے میں شک ہے _کیونکہ اس روایت کی نصوص میں بھی اختلاف پایا جاتاہے _اس کے علاوہ مندرجہ ذیل چند سوالات کا پوچھنا ضروری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایسے کاموں میں مداخلت کیوں کرتے تھے جن سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا کوئی واسطہ ہی نہ تھا اور نہ ہی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو ان میں کوئی مہارت حاصل تھی ؟
کیا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نہیں جانتے تھے کہ لوگ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی باتوں کو اہمیت دیتے ہیں _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ہرلفظ پر عمل کرتے اور اس سے متاثر ہوتے ہیں ؟ ؟_
لوگ اتنے بڑے نقصان پر کیسے راضی ہوگئے؟ پھرآپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مشور ے کے نتیجہ میں ہونے والے نقصان کا ذمہ دار کون تھا؟ پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ کہنا کیسا ؟ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم تو وہ ہیں جنہوں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص کو حکم دیا کہ وہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے جو کچھ بھی سن رہاہے سب تحریر کرے کیونکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبان مبارک سے سوائے حق کے کوئی چیز نہیں نکلتی ؟ یہ روایت بہت مشہور و معروف ہے _ یہ روایت اپنے مآخذو مدارک کے ساتھ پہلی جلد میں بیان ہوچکی ہے ، وہاں ملاحظہ فرمائیں_
اسی طرح آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا سن مبارک اس وقت (۳۳ تینتیس) سال سے زیادہ تھا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم عرب خطے کے مرکزی حصے کے رہنے والے تھے_ کیا ہم اس بات کی تصدیق کرسکیں گے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پیوند کاری اور اس کے فوائد کو نہیں جانتے تھے اور یہ کہ کھجور اسکے بغیر کوئی نتیجہ نہیں دیتی؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے زندگی کا
____________________
۱)صحیح مسلم ج/۷ ص ۹۵، سنن ابن ماجہ ج/۲ ص ۸۲۵ کتاب الرھون باب ۱۵، مسنداحمد ج/۶ ص۱۲۳نیز ج ۳ ص ۱۵۲، البر صان والعرجان ص ۲۵۴، مشکل الآثارج/۲ص۲۹۴، کشف الاستار عن مسند البزار ج ۱ ص ۱۱۲ ، مسند ابویعلی ج ۶ ص ۱۹۸و ۲۳۸ و صحیح ابن حبان مطبوعہ مؤسسة الرسالہ ج ۱ ص ۲۰۱_
ایک بڑا عرصہ اس کے متعلق کچھ بھی نہ سنا ہو حالانکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم انہی عربوں کے درمیان اور ان کے ساتھ رہتے تھے یا کم از کم ان کی ہمسائیگی میں تو تھے؟
بالآخر کیا یہ صحیح ہے کہ دنیاوی امور میں لوگوں پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت واجب نہ تھی؟ اور یہ کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی رائے بیان فرمائی تھی؟ کیا یہ درست ہے کہ اسلام، دین اور دنیا میں فاصلے کا قائل ہو اور اس دین مقدس کا کل ہم و غم دنیاوی امور نہ ہوں بلکہ صرف اخروی امور ہوں ؟ کیا یہ اسلام پر بہتان اور تہمت نہیں ہے ؟ کیا یہ سب کچھ اسلام اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے برخلاف نہیں ؟اور کیا یہ سیکو لرازم کی طرف اشارہ نہیں ؟ اور اسلام کو صرف عبادت گا ہوں میں منحصر کرنے کی ابتداء نہیں ؟
۴۱
تیسری فصل :
ابتدائے ہجرت میں بعض اساسی کام
تمہید:
مدینہ پہنچنے کے فوراً بعد رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بہت سے ایسے بنیادی کام انجام دیئے جو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اسلامی دعوت کے مستقبل سے مربوط تھے، یہ کام مختلف نوعیت کے تھے ذیل میں ہم اختصار کے ساتھ ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں_
۱: نماز جمعہ کا انعقاد_
۲ : مسجد قبا کی تعمیر،ان دونوں کا موں کے متعلق ہم پہلے بحث کرچکے ہیں_
۳ : مدینہ میں مسجد کی تعمیر _اس بارے میں ایک علیحدہ فصل میں بات کریں گے_
۴ : ہجری تاریخ کا آغاز _اس کے لئے بھی ایک علیحدہ فصل مخصوص کی گئی ہے_
۵ : مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ_
۶ : مسلمانوں کے آپس میں آئندہ تعلقات نیز غیر مسلم اقوام کے ساتھ ان کے روابط
کی نوعیت اور حدود کا تعین_
۷ : علاقے میں بسنے والے یہودیوں سے صلح :
اور ان مؤخر الذکر تین امور کے لئے بھی علیحدہ فصل رکھی گئی ہے_
اس سلسلے میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے کچھ اور کام بھی انجام دیئے ، آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت طیبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے ہم ان کی طرف اشارہ کریں گے ، یہاں ہم مؤخر الذکر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پانچ کاموں کی وضاحت کرتے ہیں اور ابتدا ہجری تاریخ کے آغاز سے کرتے ہیں_
۱_ ہجری تاریخ کی ابتداء کے متعلق تحقیق
کسی بھی ایسے تمدن کی حیات اور دوسرے گروہوں ، قبیلوں اور قوموں پر اس کے غلبے اور مطلوبہ اہداف تک پہنچنے کے لئے حالات، واقعات اور معاملات کو ضبط تحریر میں لانا ایک لازمی اور ناگزیر امر ہے جو مذکورہ کاموں کا ارادہ رکھتی ہو_ اور یہ مسئلہ اس مسلم امت کے لئے بہت ہی اہمیت کا حامل ہوجاتاہے جو الطاف خداوندی اور رضائے الہی کے سائے میں پھل پھول رہی ہو اور زمانوں بلکہ طویل دورانیے تک کے لئے تمام انسانوں کے تمام امور اور حالات کو دگرگوں کرنے کا ارادہ رکھتی ہو_ یہیں سے یہ بات بالکل واضح اور بدیہی ہوجاتی ہے کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے فوری طور پر پہلا کام ہی تاریخ وضع کرنے کا کیا ہوگا _ بلکہ تعمیر مسجد کی طرح یہ بات بھی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اولین ترجیحات میں ہونی چاہئے تھی_ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ در پردہ ہاتھوں نے اس اہم ترین واقعہ کی بھی پردہ پوشی کرنی چاہی_ اس لئے اس واقعہ پرتاریخی لحاظ سے بحث کرنا بھی ہمارے لئے ضروری ہوگیا ہے_ جس کے نتیجے میں علمی دلائل کے ساتھ ہمارے لئے یہ قطعی طور پر ثابت ہوجائے گا کہ اس ہجری تاریخ کو رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم نے ہی وضع کی ہے _ اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہی کئی بار اور کئی موقعوں پر تاریخ گذاری کی ہے _ اس لئے ہم یہ سب سمجھنے کے لئے اس بحث کی ابتداء ہی اس سوال سے کرتے ہیں کہ :
کس شخص نے سب سے پہلے ہجرت نبویہ کے ساتھ تاریخ لکھی ؟
تمہید:
مؤرخین کہتے ہیں کہ جس شخص نے سب سے پہلے ہجرت نبویہ کے ساتھ تاریخ لکھی وہ خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب ہے _اور اکثر مؤرخین کہتے ہیں کہ تاریخ کے لئے ہجرت کو مبدء اور بنیاد قرار دینا حضرت علی ابن ابی طالب عليهالسلام کی رہنمائی سے تھا(۱) اور بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ مشورہ دینے والے فقط حضرت علی عليهالسلام نہیں تھے
____________________
۱) تاریخ عمر بن الخطاب لابن الجوزی ص ۷۶ ، الکامل لابن الاثیر مطبوعہ صادر ج/۲ ص ۵۲۶، تاریخ الیعقوبی ط صادر ج/۲ ص ۱۴۵ ، التنبیہ والاشراف ص ۲۵۲ ، محاضرة الاوائل ص ۲۸ ، تہذیب تاریخ ابن عساکر ج/۱، ص ۲۳ ،فتح الباری ج / ۷ ، ص ۲۰۹ ، تاریخ الخلفاء ص ۱۳۲ ، ۱۳۶ ، ص ۲۳ و۱۳۸ از تاریخ بخاری ،بحارالانوار ج /۵۸ ص ۳۵۰ ، ۳۵۱ ، سفینةالبحار ج/۲ ص ۶۴۱ المناقب لابن شہر آشوب ج/۲ ص ۱۴۴، البحارج/۴۰ ص۲۱۸،ا حقاق الحق ج/۸ ص ۲۲۰ علی و الخلفاء ص ۱۳۹،۱۴۱ ، اعلان بالتوبیخ ص ۸۰ و ۸۱ والوسائل سیوطی ص ۱۲۹_
بلکہ ان کے ہمراہ کچھ اور صحابہ بھی تھے(۱) اور تیسرے گروہ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ کچھ صحابہ نے مشورہ دیا تھا لیکن مشورہ دینے والوں کا نام ذکر نہیں کیا(۲) _
اور چوتھا گروہ مشورہ کے ذکر سے خاموش ہے اور فقط اسی پر اکتفا کرتاہے کہ حضرت عمر سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہجری تاریخ لکھی(۳) _
تاریخ گذاری کی حکایت مؤرخین کی زبانی:
مؤرخین نے وضع تاریخ کے سبب کے متعلق مختلف حکایتیں نقل کی ہیں لیکن ہم نے ابن کثیر سے منقول واقعہ کا انتخاب کیا ہے البتہ در میان میں بعض وضاحتوں کو بریکٹ میں لکھاہے، اور ان کے منابع کی طرف اشارہ بھی کردیا ہے _
ابن کثیر کہتاہے کہ واقدی کا قول ہے کہ اسی سال (یعنی ۱۶ ویں ،۱۷ ویں یا ۱۸ ویں(۴) )سال کے ربیع الاول میں حضرت عمر بن الخطاب نے تاریخ لکھی اور یہ پہلی شخصیت ہے کہ جس نے تاریخ لکھی_ البتہ اس کی وجوہات کے متعلق میں کہتاہوں کہ ہم نے سیرت عمر میں اس کے سبب کو ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ حضرت عمر کے پاس ایک سند لائی گئی جس میں ایک شخص کے لئے دوسرے شخص کے ذمہ قرض لکھا ہوا تھا کہ جسے شعبان میں ادا کیا جانا تھا تو اس نے کہا کہ کون سا شعبان ؟ اس سال کا ، گذشتہ سال کایا آئندہ سال کا؟
پھر ( اصحاب النبی صلىاللهعليهوآلهوسلم ) کو جمع کیا اور کہا کہ لوگوں کے لئے کوئی ایسی تاریخ معین کریں کہ جس سے ان کو
____________________
۱) البدایة والنھایة ج/۷ ص ۷۴ ، الوراء والکتاب ص ۲۰ و مآثر الانافہ ج۳ ص ۳۳۶_
۲) صبح الاعشی ج/۶، ص ۲۴۱، مآثر الانافة ج۳ص۳۶ ، فتح الباری ج۷ص۲۰۹، کامل ابن ج ۱،ص۱۰_
۳) الاستیعاب (حواشی الاصابة) ج۲ ، ص ۴۶۰، المحاسن والمساوی ج۲ ص ۶۸ ، تاریخ الخمیس ج/۱ ص ۳۳۸ ، اور ج/۲ ص ۲۴۱،تہذیب التھذیب ج/۷ ص ۴۴۰ ، ماثر الانافة ج۱،ص ۹۲ ، تحفة الناظرین شر قاوی ( حواشی فتوح الشام) ج/ ۲ ص ۶۲، صفة الصفوة ج/۱ ص ۲۷۶ ، طبقات ابن سعد ج ۳ ، حصہ اول ص ۲۰۲ تاریخ ابن الوردی ج/۱ ص ۱۴۵ الاوائل للعسکری ج/۱ ص ۲۲۳ تاریخ طبری ج/۳ ص ۲۷۷ ، محاضرات الراغب ج۱ ص ۱۰۵ ، الانس الجلیل ج ۱ص۱۸۸ الاعلاق النفیسہ ص ۱۹۹ بحارالانوار ج۵۸ ص ۳۴۹ و ۳۵۰ ، نیز ملاحظہ ہو: الاعلان بالتوبیخ ص ۷۹ و نفس الرحمان ص ۴۴_
۴)الوزراء والکتاب ص ۲۰ نیز البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۲۰۶ و ۲۰۷_
اپنے قرض کی ادائیگی کا وقت معلوم ہو _ کہا جاتاہے کہ کچھ حضرات (یا ہرمزان)(۱) نے کہا کہ ایرانیوں کی طرح تاریخ لکھی جائے جیساکہ وہ اپنے بادشاہوں سے تایخ لکھتے ہیں ، جب ایک بادشاہ ہلاک ہوجاتاہے تو بعد میں آنے والے بادشاہ کی تاریخ حکومت سے تاریخ لکھتے ہیں لیکن اسے اصحاب نے ناپسند کیا ، کچھ لوگوں نے ( جو یہود یت سے مسلمان ہوئے تھے)(۲) کہا:''اسکندر کے زمانہ سے روم کی تاریخ لکھی جائے''_ اسے بھی طولانی ہونے کی وجہ سے ناپسند کیا گیا اور کچھ لوگوں نے کہا کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ولادت سے تاریخ لکھی جائے اور کچھ کہتے تھے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی بعثت سے لیکن حضرت علی عليهالسلام ابن ابی طالب اور کچھ صحابہ نے مشورہ دیا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت سے تاریخ لکھی جائے کیونکہ یہ واقعہ ہر شخص کے لئے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ولادت اور بعثت کی نسبت زیادہ واضح ہے _پس حضرت عمر اوردیگر صحابہ نے اس کو پسند کیا اور حضرت عمر نے حکم دیا کہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم اکرم کی ہجرت سے تاریخ لکھی جائے(۳) _ اور حاکم نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے ( اس روایت کو حاکم اور ذہبی نے صحیح قرار دیا ہے) کہ اس نے کہا ہے کہ '' حضرت عمر نے لوگوں کو جمع کیا اور ان سے پوچھاکہ کس دن سے تاریخ لکھی جائے تو حضرت علی عليهالسلام بن ابی طالب نے فرمایا کہ جس روز نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہجرت فرمائی تھی اور شرک کی زمین کو چھوڑ ا تھا
____________________
۱) صبح الاعشی ج/۶ ص ۲۴۱ ، اس میں لکھاہے کہ حضرت عمرنے اسے خط لکھا اور مشورہ چاہاالبحار ج/۵۸ ص ۳۴۹ ، ۳۵۰ ، سفینة البحار ج/۲ ص ۶۴۱، تاریخ ابن الوردی ج /۱ ص ۱۴۵ ، الانس الجلیل فی اخبار القدس و الخلیل ج/۱، ص ۱۸۷ ، الخطط للمقریزی ج/۱ ص ۲۸۴ ، اور اس میں ہے کہ حضرت عمر نے اس سے استدعا ء کی تھی _ (۲) الاعلان با لتوبیخ ص ۸۱ ، البحار ج / ۵۸ ، ص ۳۵۰ ، اور نزھة الجلیلس ج/۱ ص ۲۲ میں تاریخ ابن عساکر سے نقل کیا گیا ہے کہ نصاری اسکندر کی تاریخ سے لکھتے تھے یہاں مؤلف کہتے ہیں کہ پھر تاریخ عیسوی کہاں تھی ، اور کب ظاہر ہوئی ؟ جواب: جیسا کہ کہتے ہیں کہ تقریباً چوتھی صدی ہجری میں ظاہر ہوئی ہے بلکہ ان آخری صدیوں میں ظاہر ہوئی ہے_
۳) البدایة و النہایة ج / ۷ ص ۷۳ ، ۷۴ نیز ج۳ ص ۳۰۶، تاریخ عمر بن الخطاب ابن جوزی ص ۷۵، ۷۶ تہذیب تاریخ ابن عساکر ج/۱ ص ۲۲ ، ۲۳ ، شرح نہج البلاغہ للمعتزلی ج/۱۲ ، ص ۷۴ ، علی و الخلفاء ص ۲۴۰ ، الاعلان بالتوبیخ ص۸۰ ، ۸۱، منتخب کنز العمال ، حواشی مسند احمد ج / ۴ ص ۶۷ ، الکامل لابن الاثیر ج/۱ ص ۱۰ البحار ۵۸ ص۳۴۹ نزھة الجلیس ج۱ص ۲۱ طبری ج۲ص ۳۸۸ ، الوزراء والکتاب ص ۲۰ ، فتح الباری ج۷ص۲۰۹ ، صبح الاعشی ج۶ص۲۴۱ ابن حاجب نعمان سے ذخیرہ الکتاب میں روایت ہے کہ ابوموسی نے حضرت عمر کو لکھا کہ آپ کی ہمارے پاس کچھ تحریری اسناد آئی ہیں جو شعبان کی ہیں ہم نہیں جانتے یہ کونسا شعبان ہے گذشتہ یا آنیوالا تو حضرت عمر نے اصحاب کو جمع لیا الاوائل ابوہلال عسکری ج۱ص۲۴۳ کنز العمال ج۱۰ ص ۱۹۵ از مستدرک و حصہ ادب صحیح بخاری و ص ۱۹۳ از ابن ابی خیثمہ ، نیز الاعلان بالتوبیخ ۷۹_
اس روز سے _پس حضرت عمر نے ایسا ہی کیا_ یہ حدیث صحیح السند ہے لیکن شیخین نے اس کو درج نہیں کیا''(۱) _
اور یعقوبی نے ۶ ۱ ھ کے واقعات میں لکھا ہے : '' اور اسی سال خطوط پر تاریخ لکھی گئی _ جبکہ وہ یہ چاہتے تھے کہ مولد النبی صلىاللهعليهوآلهوسلم سے تاریخ لکھیں _اور پھر بعثت سے لکھنے کا ارادہ کیا لیکن حضرت علی عليهالسلام بن ابی طالب نے مشورہ دیا کہ ہجرت سے تاریخ لکھی جائے ''(۲) _ ان کے علاوہ اور بھی نصوص پائی جاتی ہیں جو اس بات کی تاکید کرتی ہیں کہ حضرت عمر ہی وہ پہلی شخصیت ہے جس نے تاریخ ہجری اسلامی کو وضع کیا _
بہترین نظریہ
لیکن اس قول کے صحیح ہونے میں ہمیں شدید شک ہے ہماری رائے یہ ہے کہ ہجری تاریخ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے سے ہی وضع کی گئی ہے اور خود نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے متعددبار مختلف مناسبتوں سے یہ تاریخ لکھی ہے اور جو کچھ حضرت عمر کے زمانے میں ہوا ہے وہ فقط یہی ہے کہ ربیع الاول کے بجائے محرم کو سال کی ابتداء قرار دیا ہے جیسا کہ صاحب بن عباد نے بھی اس بات کی طرف اشار ہ کیا ہے(۳) _ اور اس سلسلے میں بھی مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے ، کچھ مؤرخین قائل ہیں کہ انہوں نے پہلے سال کے محرم کو ہجری سال کی ابتداء قرار دیا تھا اور یہ جمہور کا نظریہ ہے، اور کچھ مؤرخین کہتے ہیں کہ انہوں نے دوسرے سال کے محرم کو ہجری سال کی ابتداء قرار دیا تھا اور اس سے پہلے کے مہینوں کو شمار نہیں کیا اور ا س کی بیہقی نے حکایت کی ہے اور یعقوب بن سفیان الفسوی اسی کا قائل ہے(۴) _
____________________
۱) مستدرک الحاکم ج/۳ ص۱۴ ، تلخیض المستدرک للذھبی ( اس صفحہ کے حواشی میں ) الاعلان بالتوبیخ ص ۸۰ فتح الباری ج۷ ص ۲۰۹ ; تاریخ الطبری ط ا لمعارف ج/۲ ، ص ۳۹۱ اور ج/ ۳ ص ۱۴۴ ، تاریخ عمر بن الخطاب ص ۷۶ ، تہذیب تاریخ ابن عساکر ج/۱ ص ۲۳ ، منتخب کنزالعمال (حاشیہ مسند)ج/۴ ص ۶۷ ، علی و الخلفاء ص ۲۳۹ ، و ۲۴۰ ، احقاق الحق ج /۸ ص ۲۱۹ ، الخطط و الآثار ج/۱ ص ۲۸۴ ، الشماریخ للسیوطی ص ۴ مطبوعہ لیڈ ن و التاریخ الکبیر للبخاری ج/۱ ص ۹ اور الکامل ج/۱ ص ۱۰ ، ط صادر کنز العمال ج۱۰ ص ۱۹۳ و ۱۹۲_
۲) تاریخ الیعقوبی طبع صادر ج/ ۲ ص ۱۴۵_
۳) عنوان المعارف و ذکر الخلائف ص ۱۱_
۴) البدایة والنھایة ج/۳ ص ۹۴_
محرم کا مشورہ کس نے دیا ؟
لیکن ربیع الاول کی بجائے محرم کو ابتدائے سال ہجری قرار دینے کا مشورہ کس شخص نے دیا؟ تو اس سلسلہ میںبھی روایات میں اختلاف پایا جاتاہے ، کہا گیا ہے کہ یہ حضرت عثمان بن عفان کے مشورہ سے تھا(۱) یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلکہ یہ خود حضرت عمر کی رائے تھی(۲) اور کچھ کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف نے رجب کا مشورہ دیا تو حضرت علی عليهالسلام نے اس کے مقابلہ میں محرم کا مشورہ دیا تو اسے قبول کرلیا گیا(۳) _ اوردیار بکری و غیرہ قائل ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت علی عليهالسلام اور حضرت عثمان کے مشورہ دینے کے بعد محرم سے ابتداء کی(۴) _ سخاوی اور کچھ دوسرے حضرات قائل ہیں کہ '' تمام روایات و آثار سے استفادہ ہوتاہے کہ عمر حضرت عثمان اور حضرت علی عليهالسلام نے محرم کا مشورہ دیا تھا(۵) اور کتاب اوائل ج/۱ ص ۲۲۳ میں کلام عسکری سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت عمر ہی ہیں جنہوں نے سال کی ابتداء محرم قرار دینے کا مشورہ دیا تھا کہ امن والے مہینے ایک ہی سال میں جمع ہوجائیں_
لیکن ہمیں بہت بعید معلوم ہوتاہے کہ حضرت علی عليهالسلام نے ربیع الاوّل کو چھوڑ دینے اور محرم کو ابتداء قرار دینے کا مشورہ اس لئے دیا ہو کہ محرم عربوں کے نزدیک سال کا پہلا مہینہ شمار ہوتاہے(۶) بلکہ ہم اس کے خلاف یقین رکھتے ہیں_ حضرت علی عليهالسلام تو اپنی پوری زندگی میں ربیع الاول کو ابتداء سال قرار دینے پر مصرّ تھے اور یہ فقط آپ کی رائے نہیں تھی بلکہ بہت سے نیک و صالح مسلمانوں اور صحابہ کرام کی بھی یہی رائے تھی اور اس سلسلہ میں ہم مندرجہ ذیل امور کو دلیل سمجھتے ہیں کہ جن کو مجموعاً ملاحظہ کیا جانا چاہیے_
____________________
۱) نزھة الجلیس ج/۱ ص ۲۱ ، فتح الباری ج / ۷ ص ۲۰۹ ، الاعلان بالتوبیخ ص ۸۰ ، منتخب کنز العمال (حاشیہ مسند احمد) ج / ۴ ص ۶۷ ، الشماریخ ص ۱۰ ، ط ۱۹۷۱، کنز العمال ج۱۷ ص ۱۴۵ از ابن عساکر و ج۱۰ ص ۱۹۳ از ابوخیثمہ_
۲) الاعلان بالتوبیخ ص ۷۹ ، الوزراء والکتاب ص ۲۰ ، فتح الباری ج/۷ ص ۲۰۹ نیز مآثر الانافہ ج۳ ص ۳۳۷
۳) الاعلان بالتوبیخ ص ۸۱ ، ط القاھرہ اور ص ۸۲ ، میں لکھا ہے کہ الفردوس میں دیلمی اور اس کے بیٹے دونوں نے اس واقعہ کو علی عليهالسلام سے روایت کی ہے، احقاق الحق ج/۸ ص ۲۲۰_ ( ۴) تاریخ الخمیس ج/۱ ص ۳۳۸ ، وفاء الوفاء ج/۱ ص ۲۴۸_( ۵) الاعلان بالتوبیخ لمن یذم التاریخ ص ۸۰ ، ارشاد الساری ج/۶ ص ۲۳۴ ، فتح الباری ج/۷ ص ۲۰۹ و ص ۲۱۰_ ( ۶)البدایة والنہایة ج۳ ص ۲۰۷ ، بحارالانوار ج۵۸_
۱_ پہلے گزر چکاہے کہ آپ نے مشورہ دیا تھا کہ یوم ہجرت یا جس دن نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے شرک کی زمین کو چھوڑا اس دن سے تاریخ لکھی جائے جیسا کہ ابن مسیب کی روایت میں یہ صراحت موجود ہے اور یہ ہجرت سب کو معلوم ہے کہ ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی_
۲_ اہل نجران کے ساتھ معاہدہ میں یہ عبارت امیر المؤمنین عليهالسلام نے لکھی تھی _
عبداللہ(۱) بن ابی رافع نے ۱۰ جمادی الثانی ۳۷ ھ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مدینہ میں داخل ہونے کے دن سے سینتیس سال بعد تحریر کیا ہے(۲) _اور واضح ہے کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا ربیع الاول کے مہینے میں مدینہ میں داخل ہوئے_ دوسرے صحابہ کی بہ نسبت ہم کہتے ہیں کہ:
۱_ سھیلی و غیرہ کی روایت کے مطابق مالک بن انس قائل ہے کہ ''اسلامی سال کی ابتداء ربیع الاول سے ہے چونکہ یہی وہ مہینہ ہے کہ جس میں نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہجرت فرمائی تھی''(۳) _
۲_ سنحاوی نے اصمعی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ربیع الاول یعنی ''ماہ ہجرت'' سے تاریخ لگائی(۴) اور اس طرح زھری سے بھی نقل کیا گیا ہے_
۳ _ جہشیاری کہتاہے کہ ایک شاذ روایت میں آیاہے کہ جب رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نبوت کے چودہویں سال پیر کے روز بارہ ربیع الاول کو ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو تاریخ گذاری کا حکم دیا(۵) _
۵_ ہجرت کے پانچویں سال کے وسط تک صحابہ ربیع الاول سے ہجری سال کے مہینوں کو شمار کرتے تھے (اور بعد میں آئے گا کہ مؤرخین نے بھی صحابہ کی پیروی کی ہے)_
ان تمام باتوں کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ہم جان سکتے ہیں کہ حضرت علی عليهالسلام نے کبھی بھی حضرت عمر کو مشورہ نہیں دیا کہ محرم کو ابتدائے سال ہجری قرار دیا جائے بلکہ آپ ان لوگوں میں سے تھے جو اصرار کرتے تھے کہ
____________________
۱)ظاہراً عبیداللہ ہے_ (۲)الخراج لابی یوسف ص ۸۱ ، جمھرة رسائل العرب ج/۱ ص ۸۲ ،شمارہ نمبر ۵۳_
۳) البدایة والنھایة ج/۳ ص ۲۰۷ ، اور اسی طرح اس کی طرف ج/۴ص۹۴ میں بھی اشارہ کیا ہے_ (۴) الاعلان بالتوبیخ لمن یذم التاریخ ص ۷۸_
۵)الوزراء والکتاب ص ۲۰_
ابتدائے سال ربیع الاول ہی کو رہنے دیا جائے کہ جس میں نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم مکہ سے خارج ہوئے یا غار سے نکلے یا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مدینہ میںداخل ہونے کے پہلے دن کو ابتدائے تاریخ رہنے دیا جائے جیسا کہ بہت سے مسلمان و صحابہ بھی اس تبدیلی پر راضی نہیں تھے لیکن دوسرے گروہ نے غلبہ حاصل کرلیا_
اس بات کی طرف بھی متوجہ کر تے چلیںکہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے مدینہ میں داخل ہونے کے دن کو تاریخ کی ابتداء قرار دینے پر حضرت علی عليهالسلام کے اصرار والی روایت اس شخص کے قول کی تائید کرتی ہے جو قائل ہے کہ نبی اکر م صلىاللهعليهوآلهوسلم ربیع الاول کی پہلی تاریخ کو مدینہ میں داخل ہوئے اوراس کے متعلق کچھ گفتگو آئندہ بھی آئے گی_ اگر چہ اس بحث میں ہمارا اصلی مقصد یہ نہیں بلکہ یہاں پر ہمارا اصل مقصد یہ بحث کر نا ہے کہ کس شخص نے سب سے پہلے ہجری سال کے ساتھ تاریخ لکھی اور ہم کہہ چکے ہیں کہ ہمارا نظریہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے سب سے پہلے ہجرت کے ساتھ تاریخ لکھی_
اس نظریہ کے حامی حضرات :
اگر چہ بہت سے حضرات اس نظریہ میں ہمارے ساتھ موافقت نہیں رکھتے اور بعض اس بارے میں کوئی قطعی حکم لگانے میں تردد کا شکار ہیں_ اور بعض کی باتوں سے پتہ چلتاہے کہ قول مشہور کی طرف رجحان رکھتے ہیں لیکن ان سب چیزوں کی بازگشت ایک ہی امر کی طرف ہے اور وہ یہ کہ اس سلسلہ میں قطعی نظریہ پیش کرنے کیلئے وہ حضرات ضروری مقدار میں نصوص کے وجود سے بے خبر ہیں اور مؤرخین اور راویوں کے زبانوں پر جو مشہور ہے اسی پر قناعت کے عادی ہوگئے ہیں بہر حال پھر بھی یہ حضرات ہمارے نظریہ کے موافق ہیں :سید عباس مکی نزھة الجلیس میں _( جیسا کہ بعد میں اس کی عبارت کا ذکر آئیگا)_ اور اسکوسیوطی نے ابن القماح سے ( اس نے) ابن الصلاح سے اور اس نے ابن مجمش الریادی سے نقل کیا ہے (اسکا ذکر بھی آئے گا) البتہ صاحب المواھب نے کہا ہے کہ '' نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے تاریخ لکھنے کا حکم دیا اور ہجرت کے وقت سے تاریخ لکھی'' _زرقانی کہتاہے کہ '' اسی کو حاکم نے الاکلیل میں زھری سے مفصلاً روایت کیاہے جبکہ قول
مشہوراس کے برخلاف ہے کہ حضرت عمر کے زمانہ میں ایسا ہوا ہے جیسا کہ حافظ نے کہا ہے(۱) '' اس کو اصمعی و غیرہ سے بھی نقل کیا گیا ہے جیسا کہ بعد میں آئے گا_
صاحب بن عباد کہتاہے کہ '' آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم بروز سو مواربارہ ربیع الاوّل کو مدینہ میں داخل ہوئے اور تاریخ ہجری اسی دن سے شروع ہوئی لیکن پھر اسے محرم سے شمار کیا گیا(۲) _
ابن عساکر کہتاہے کہ ''یہی قول نہایت ہی مناسب ہے'' سیوطی نے بھی ان بعض امور کےساتھ اس کی بات تائید کی ہے جو بعد میں ذکر ہوں گے(۳) _
قسطلانی نے المواہب اللدنیہ ج۱ ص ۶۷ میں اورمغلطائی نے اپنی کتاب سیرت ص ۳۵ ، ۳۶ ، میں لکھا ہے '' نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے تاریخ لکھنے کا حکم دیا اور یہ تاریخ ہجرت سے لکھی گئی_ اورابن الجزّار کہتاہے کہ یہ سال عام الاذن کے نام سے مشہور ہے جبکہ ایک قول یہ ہے کہ سب سے پہلے حضرت عمر نے تاریخ لکھی اور سال ہجری کو محرم سے شمارکیا '' علاوہ ازیں ان دس سالوں میں سے ہر ایک کو ایک خاص نام کے ساتھ موسوم کیا گیا ہے اور پہلے سال کو مسعودی کی التنبیہ والاشراف میں بھی عام الاذن کہا گیا ہے_(۴) علامہ مجلسی کا کہنا ہے کہ ہجرت کو مبدا تاریخ قرار دینا در اصل حدیث نبوی سے منسوب اور وحی الہی سے حاصل شدہ، کلام جبرائیل سے ماخوذ ہے(۵) _
سہیلی کی بات:
سہُیلی اس بات پر مصر ہے کہ قرآن مجید میں ہجری تاریخ کا حکم نازل ہوا ہے_ اس کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر تاریخ کے لئے ہجرت کو مبدا قرار دینے پر صحابہ کا اتفاق اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اس چیز کو
____________________
۱) التراتیب الاداریة ج/۱ ص ۱۸۱ ، المواھب اللدنیہ ج/۱ ص ۶۷_ (۲) عنوان المعارف و ذکر الخلائف ص۱۱_
۳) الشماریخ فی علم التاریخ للسیوطی ج۱۰ ط ۱۹۷۱_ (۴)نفس الرحمان ص ۴۴ نیز ملاحظہ ہو: الاعلان بالتوبیخ ص ۸۲_
۵)ملاحظہ ہو بحارالانوار مطبوعہ مؤسسہ الوفاء ج۵۵ ص ۳۵۱ نیز ملاحظہ ہو : المناقب ابن شہر آشوب ج ۲ ص ۱۴۴ ، بحارالانوار ج۴۰ ص ۲۱۸و علی الخلفاء ص ۲۴۱_
قرآن سے اخذ کیا ہے تو یہ اچھا استفادہ ہے اور ان کے متعلق ہمارا گمان خیر بھی یہی ہے اور اگر ان کی اپنی ذاتی رائے اور اپنا اجتہاد تھا تو پھر بھی اچھی رائے اور اجتہاد ہے اور قرآن کریم نے ان کے ایسا کرنے سے پہلے اس کے صحیح ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے:
آیت مجیدہ ہے:
( لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ ) (توبہ /۱۰۸)
وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقوی پر رکھی گئی ہے وہ اس کی زیادہ حقدار ہے کہ تم اس میں (نماز کے لیے) قیام کرو _
اس آیت میں '' اول یوم ''سے مراد تمام دنوں میں سے پہلا دن قطعاً نہیں اور اس طرح اس آیت میں ظاہراً کوئی ایسا لفظ بھی موجود نہیں کہ جس کی طرف یوم مضاف ہو بس لفظ یوم کی اضافت ضمیر کی طرف متعین ہوجائے گی اور یہ معقول نہیں کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں نے پہلے دن انجام دیا مگر یہ کہ سال یا مہینہ یا کسی معلوم تاریخ و دن کی طرف اضافت دے_ (یعنی اسے یہ کہنا ہوگا کہ میں نے فلاں سال کے یا مہینے کے پہلے دن یہ کام انجام دیا ہے_مترجم)
اور یہاں پر کوئی حالیہ یا لفظی قرینہ بھی نہیں مگر یہ کہ اصل عبارت اس طرح ہو_''من اول یوم حلول النبی صلىاللهعليهوآلهوسلم المدینة '' (نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مدینہ پہنچنے کے پہلے دن سے ہی ...) اور وہی تاریخ ہجری کا پہلا دن ہے _بعض نحویوں کا یہ کہنا کہ اصل عبارت ''من تاسیس اول یوم'' ہے ، کیونکہ ''من '' زمان پر داخل نہیں ہوتا، یہ صحیح نہیں اس لئے کہ اس تقدیر کی بناء پر بھی زمان کو مقدر ماننا ضروری ہے پس اس طرح کہا جائے گا '' من وقت تاسیس'' پس لفظ تاسیس کو مقدر ماننا کوئی فائدہ نہیں دیتا علاوہ ازیں لفظ ''من'' زمان و غیر زمان دونوں پر داخل ہوتاہے _ بطور مثال اللہ تعالی ہی کا ارشاد ہے ''من قبل و من بعد''(۱) یہاں تک سہیلی کی
____________________
۱) الروض الانف ج/۲ ص ۲۴۶ ط۱۹۷۲ء ، ارشادالساری ج/۶ ص ۲۳۴ ، فتح الباری ج/۷ ص۲۰۸ و ص ۲۰۹ ، وفاء الوفاء ج/۱ ص ۲۴۸_ نیز اس بات کا اشارہ البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۲۰۷ میں بھی ہے_
بات کا خلاصہ ختم ہوا_ الکتانی کہتاہے کہ حافظ نے فتح الباری میں سہیلی کے کلام کے بعد کہا ہے اور ''من اول یوم''سے مرادیہ ذہن میں آتاہے کہ جس دن نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اصحاب مدینہ میں داخل ہوئے(۱)
لیکن ابن منیر کی رائے یہ ہے کہ سھیلی کا کلام تو تکلف اور انحراف ہے اور متقدمین کی تقدیر سے خارج ہے چونکہ انہوں نے ''من تاسیس اول یوم'' کی تقدیر کو ذکر کیا ہے یعنی اس پہلے دن سے ہی جس دن مسجد کی تاسیس ہوئی ہے اور عربیت اسی کا اقتضاء کرتی ہے اور قواعد اس کی شہادت دیتے ہیں_
الکتانی کہتاہے کہ سہیلی کا کلام ظاہر ہے اور اگر اس پر انصاف سے غور کریں تو دیکھیں گے کہ حق بھی یہی ہے_ اسی لئے شہاب الدین الخفاجی نے اپنی کتب عنایت القاضی اور کفایة القاضی میں اسے پسندکرتے ہوئے اسی پر اکتفا کیا ہے(۲) _
اور یاقوت الحموی کہتاہے کہ '' من اول یوم ''سے مسجد قبا کی تعمیر والادن مراد ہے چونکہ دارالہجرة (مدینہ) میں نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے داخل ہونے کے پہلے دن ہی اس کی بنیاد رکھی گئی تھی اور وہی دن تاریخ ہجری کا پہلا دن ہے اور چونکہ خداوند متعال علم رکھتاتھا کہ یہی دن تاریخ (ہجری) کا پہلا دن قرار پائے گااس لئے اس دن کو '' اول یوم ارخ فیہ'' (یعنی جس میں تاریخ لکھی گئی ) کے نام سے موسوم کیا گیا یہ بعض فضلاء کا قول ہے_ اور بعض قائل ہیں کہ یہاں پر مضاف مقدر ہے اور اصل عبارت یوں ہے''تاسیس اول یوم''لیکن پہلی بات بہتر ہے''(۳) علاوہ ازیں مذکورہ آیت کی تفسیر میں ابن عباس سے وہی کچھ نقل کیا گیا ہے جو پہلے سہیلی سے نقل کیا جاچکاہے(۴) _
اگر ان کی بات صحیح ہے تو مناسب یہی لگتا ہے کہ خود نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے سب سے پہلے آیت کے مقصود پر عمل کرتے ہوئے سبقت فرمائی ہوگی _یہ اب تک کی بحث کا نتیجہ ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ جو کچھ سھیلی و غیرہ
____________________
۱) فتح الباری ج/۷ ص ۲۰۹_ (۲) التراتیب الاداریة المسمی ، بانظام الحکومة النبویة ج/۱ ص ۱۸۱ ، ۱۸۲ _
۳) معجم البلدان ج/۵ ص ۱۲۴_ (۴) تنویر المقباس ( حاشیہ در المنثور) ج۲ ص۲۲۴_
نے ذکر کیا ہے و ہ بادی النظر میں بعید ہے تو ہم جواب دیں گے کہ کم سے کم آیت شریفہ کے معنی میں دیئے جانے والے احتمالات میں سے ایک احتمال یہ بھی ہے اگر چہ متعین نہ ہو اور ہم نے اسے بطور تائید ذکر کیا ہے نہ بطور استدلال _
ہمارا نظریہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے سب سے پہلے ہجرت کے ساتھ تاریخ لکھی اسکے دلائل مندرجہ ذیل ہیں_
۱_ زہری سے روایت ہے کہ جب ہجرت کرکے نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ میں تشریف لائے تو تاریخ لکھنے کا حکم دیا پس ربیع الاول میں تاریخ لکھی گئی(۱) _
اور زہری سے ایک اور روایت میں ہے کہ تاریخ (ہجری) کی ابتداء نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہجرت کرکے آنے کے دن سے ہے(۲) _
قلقشندی کہتاہے کہ'' اس بناء پرتاریخ کی ابتداء عام الھجرة(ہجرت کے سال) سے ہوئی ہے''(۳) _ اور اس کے علاوہ دوسرے حضرات کا کلام پہلے گزر چکا ہے اور کچھ کے کلام کو بعد میں ذکر کریںگے_
لیکن الفتح و غیرہ میں عسقلانی و غیرہ نے اس حدیث کو خبرمعضل (پیچیدہ اور مشکل) قرار دیاہے اور کہا ہے کہ قول مشہور اس کے برخلاف ہے(۴) _
اورجہشیاری نے شاید اسی بناپر اسے خبر شاذ قرار دیا ہے(۵) _
____________________
۱) فتح الباری ج/۷ ص ۲۰۸،ارشادالساری ج/۶ص۲۳۳،التنبیہ والاشراف ص۲۵۲، تاریخ الطبری مطبوعہ دارالمعارف ج/۲ ص ۳۸۸ ، نزھة الجلیس ج/۱ ، ص ۲۱ ، مناقب آل ابی طالب ج/۲ ص ۱۴۲، البحار ج/۴۰ ص ۲۱۸ عنہ، علی والخلفاء ص ۲۴۱ ، عن البحار،صبح ا لاعشی ج/۶ص ۲۴۰، التراتیب الاداریة ج/۱ ص ۱۸۰ ، آخری دونوں نے اس کو نحاس سے صناعت الکتاب میں سے نقل کیا ہے تاریخ الخمیس ج/۱ ص ۳۳۸ ، الشماریخ فی علم التاریخ ص ۱۰، ط ۱۹۷۱، عن ابن عساکر عن یعقوب بن سفیان وفاء الوفاء للسمھودی ج/۱ ، ص ۲۴۸ ، المواھب اور زرقانی وغیرہ نے حاکم کی کتاب (الاکلیل سے) مفصلاً نقل کیا ہے،الکامل ابن الاثیر ج/۱ ، ص ۱۰مطبوعہ صادر ،المواھب اللدنیہ ج/۱ ص ۶۷ میںاس کو ذکر کیا ہے لیکن زہری کی طرف نسبت نہیں دی نیز ملاحظہ ہو الاعلان بالتوبیخ ص ۷۸_
۲) الشماریخ فی علم التاریخ ص ۱۰_
۳) صبح الاعشی ج/ ۶ ص ۲۴۰_
۴) فتح الباری ج/۷ ، ۲۰۸، ارشادالساری ج/۶ص ۲۳۳ از فتح الباری،وفاء الوفاء ج/۱ص ۲۴۸_
۵) الوزراء والکتاب ص ۲۰_
اور سخاوی اور الدیار بکری و غیرہ کا کلام بھی تقریباً ان جیساہے(۱) _ مسعودی نے اس روایت پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس پر عمل نہیں کیا گیا چونکہ خبر واحد ہے اور جو شخص مراسیل پراعتماد نہیں کرتا وہ اس پر عمل نہیں کرسکتا چونکہ یہ مرسل ہے او ریہ جو پہلے بیان ہوا ہے کہ حضرت علی عليهالسلام کے مشورہ سے حضرت عمر صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہجرت کے ساتھ تاریخ لکھی یہ متفق علیہ ہے چونکہ اس خبر میں کوئی معّین وقت ذکر نہیں کیا گیا کہ جس میں تاریخ لکھی گئی ہوا ور اس کی کیفیت کو بھی نقل نہیں کیا گیا(۲) _ لیکن مسعودی اور ووسرے حضرات کا اعتراض زہری کی روایت پر وارد نہیں چونکہ اس کا ارسال (اگر اسے مرسل مان بھی لیا جائے ) اور خبر واحد ہونا اس سے اجتناب کرنے کا جواز نہیں بن سکتے بلکہ اس کو اخذ کرنا ضروری ہے حتی کہ اس شخص کے لئے بھی جومرا سیل کو قبول نہیں کرتا چونکہ یہاں پر اور ادلہ و روایات بھی پائی جاتیں ہیں جو اس پر دلالت اور اس کی تائید کرتی ہیں ذیل میں ان تمام کو ذکر کرتے ہیں(۳) _
۲_ حاکم نے عبداللہ بن عباس سے روایت کی ہے (اور اسے صحیح بھی قرار دیا ہے )کہ اس نے کہا ہے کہ تاریخ اس سال میں تھی کہ جس میں نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ میں وارد ہوئے اور اسی سال عبداللہ بن زبیر پیدا ہوا(۴)
____________________
۱) الاعلان با لتوبیخ ص ۷۸ ، تاریخ الخمیس ج/۱ ص ۳۳۸_ (۲) التنبیہ والاشراف ص ۲۵۲_ (۳)زھری سے ایک اور روایت ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تاریخ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانہ سے تھی، تہذیب تاریخ ابن عساکر ج/۱ ص ۲۱ میں ہے کہ زھری نے کہا ہے '' قریش ، فیل اور فجار کے درمیان چالیس سال کی مدّت شمار کرتے تھے اور فجار اور ھشام بن مغیرہ کی وفات کے درمیان چھ سال کی مدّت شمار کرتے تھے اور اس کی وفات اور کعبہ کی تعمیر کے در میان نو سال اور بناء کعبہ اور مدینہ کیطرف رسول کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے خارج ہونے کی درمیانی مدّت کو پندرہ برس گنتے تھے کہ جن میں سے پانچ سال آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف وحی نازل ہونے سے پہلے کے تھے پھر عدد تھا یعنی تاریخ کو گننا'' اس آخری عبارت سے ظاہر ہوتاہے کہ عربوں نے گذشتہ روش سے اعراض کرلیا تھا اور ہجرت کے ساتھ تاریخ معّین کرنا شروع کردی تھی لیکن اس روایت میں ایک یہ اعتراض باقی رہ جاتاہے کہ مشہور یہ ہے کہ فیل اور فجار کے درمیان بیس برس کا فاصلہ تھا نہ چالیس برس کا جیسا کہ طبری ج/۲ اور البدایة والنھایة ج/۲ ص ۲۶۱ اورتاریخ الخمیس ج/۱ ص ۱۹۶ اور ابن الاثیر اور مسعودی نے اس کی تصریح کی ہے لیکن زھری کا یہ قول کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم عام الفیل کے تیس سال بعد میں پیدا ہوئے ہیں ( جیسا کہ البدایة والنھایة ج/۲ ص ۲۶۴ میں اس سے نقل کیا گیا ہے ) دلالت کرتاہے کہ زھری کا یہ قول منفرد ہے کہ فجار اور فیل کے در میان چالیس برس کا فاصلہ ہے جبکہ یہ بات مشہور قول کے مخالف ہے لیکن یہ تمام اعتراضات اور نقائص ہمارے مدعا پر اس کے کلام کی دلالت میں مضر نہیں ہیں_ (۴) مستدرک الحاکم ج/۳ ، ص ۱۳ ، ۱۴ اور اس روایت کو مسلم کے معیار پر صحیح قرار دیا ہے، تلخیص المستدرک للذھبی(اس صفحہ کے حاشیہ پر) مجمع الزوائد ج/۱ ص ۱۹۶، عن الطبرانی فی الکبیر، الاعلان بالتوبیخ ص ۸۰ ،۸۱، الطبری ج/۲ ص ۳۸۹ ، ۳۹۰ ، اور ج/۳ ص۱۴۴ ، التاریخ الکبیر للبخاری ج/۱ ص۹ ، الشماریخ ص ۱۰ ، عن البخاری فی التاریخ الصغیر والخطط للمقریزی ج/۱ ص ۲۸۴_
۳_ سخاوی کہتاہے کہ '' کس نے سب سے پہلے تاریخ لکھی اس میں اختلاف ہے، ابن عسا کرنے تاریخ دمشق میں انس سے روایت کی ہے کہ تاریخ کی ابتداء رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مدینہ میں داخل ہونے سے ہوئی تھی'' _
اور اسی طرح اسمعی نے کہا ہے کہ انہوں نے ہجرت کے مہینہ ربیع الاول سے تاریخ لکھی(۱) پھر اس کے بعد زھری کی سابقہ روایت کو ذکر کیاہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ تاریخ کو وضع کرنے والے جناب عمر نہیں تھے، کیونکہ عمر نے محرم سے تاریخ گذاری کی تھی_
پھر اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ صحیح اور مشہور کے خلاف ہے (چونکہ مشہور یہ ہے) کہ یہ کام عہد عمر میں ہواتھا اور سال کی ابتداء ربیع الاّول سے نہیں بلکہ ماہ محرم سے ہوئی لیکن یہ اعتراض بھی مسعودی کے اعتراض کی طرح وارد نہیں ہے چونکہ صرف اس کا مشہور کے خلاف ہونا اس کے باطل و فاسدہونے کا موجب نہیں بنتا بلکہ جب قطعی دلیل مشہور کے خلاف قائم ہوجائے تو اس کو اخذ کرنا اور مشہور سے عدول کرنا ضروری ہے _
اور جلد ہی واضح ہوجائیگا کہ پہلے ذکر شدہ ادلہ کے علاوہ ہمارے پاس اور بھی ادلہ موجود ہیں جو ہر قسم کے شک و شبہہ کو زائل کردیتے ہیں_
۴_ مورخین کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ربیع الاول میں مدینہ کی طرف ہجرت کی _زھری و غیرہ کی رائے یہ ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ربیع الاول کی پہلی تاریخ کو مدینہ میں پہنچے ابن اسحاق اور کلبی کو یقین ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ربیع الاوّل کی پہلی تاریخ کو مکہ سے خارج ہوئے اور بعض کہتے ہیں کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ربیع الاوّل کی پہلی تاریخ کو غار سے خارج ہوئے(۲) _
ربیع الاول کی پہلی تاریخ کو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مدینہ میں وارد ہونے والے قول کی تائید حضرت علی عليهالسلام کی اس تحریر''منذ و لج رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم الله المدینة'' سے بھی ہوسکتی ہے مگر اس کے مقابلہ میں دوسرے قول کی تائیدبھی موجود ہے وہ یہ کہ آپ عليهالسلام نے مشورہ دیا تھا کہ تاریخ ہجری کی ابتداء رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے شرک کی زمین کو چھوڑنے سے
____________________
۱) الاعلان با لتوبیخ لمن یذم التاریخ ص ۷۸_
۲) تاریخ الخمیس ج/۱ ص ۳۲۴ اور ۳۲۵ الاستیعاب (حاشیہ الاصابة پر)ج/۱ ص۲۹ الروض الانف ج / ۲ ص ۲۴۵ ، اسی طرح دلائل النبوة ج/۲، ص ۲۲۶، المواہب ج/۱ ص ۶۷ _
قرار دی جائے یا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت کو قرار دیا جائے _مگر یہاں یہ دعوی کیا جائے کہ چونکہ وہ کلی طور پر اس سال کو معین کرنے کے درپے تھے کہ جس سے ابتداء کی جائے ، اس لئے اس فقرہ میں اجمال پایا جاتاہے (جس کی تفصیل گذشتہ تحریر میں ہے) تو اس صورت میں پہلا فقرہ ہماری بات کے مخالف نہیں رہے گا _یہاں پر اہم بات یہ ہے کہ ہجرت ربیع الاول کی ابتداء میں تھی اور جب ہم اس پر ان اقوال کا اضافہ کریں جوپہلے مالک اور اصمعی سے بیان ہوچکے ہیں ساتھ ہی زھری کی روایت اور حضرت علی عليهالسلام کی تحریر سے ظاہر ہونے والی اس بات کوکہ اسلامی سال کی ابتداء ربیع الاول تھی ملاکر دیکھیں تو ہمیں یہ اطمینان حاصل ہوجائے گا کہ عہد عمر سے پہلے ہی تاریخ مقرر کی جاچکی تھی _حضرت عمر نے صرف ربیع الاول کی بجائے ماہ محرم کو سال کی ابتداء قرار دیا اور یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عمر ہجری تاریخ کو وضع کرنے والا پہلا شخص نہیں تھا _ اور یہ بات بھی اس مدعا کی تائید کرتی ہے کہ بعض صحابہ پانچویں سال کے وسط تک ہجرت والے مہینہ ( ربیع الاول) سے مہینوں کو شمار کرتے تھے_
ابوسعید خدری کہتاہے کہ '' رمضان ( کے روزوں ) کافریضہ ماہ شعبان میں قبلہ تبدیل ہونے کے بعد تھا کہ ابھی اٹھارہ (۱۸) مہینے مکمل ہونے سے ایک مہینہ باقی تھا''(۱) _
عبداللہ بن انیس سفیان بن خالد کی طرف اپنا فوجی دستہ لے جانے کے متعلق کہتاہے کہ میں پانچ محرم کوبروز سوموار مدینہ سے خارج ہوا جب کہ ٹھیک چوّن (۵۴) ماہ مکمل ہوچکے تھے(۲) _
اسی طرح محمد بن سلمہ جنگ قرطاء کے متعلق کہتاہے کہ '' میں محرم کی دس تاریخ کو خارج ہوا اور انیس دن غائب رہا اور محرم کی باقی ماندہ رات میں واپس آیا کہ پچپن (۵۵) مہینے پورے ہوچکے تھے_''(۳) _
اور اسی کے بعد سالوں کا حساب کتاب شروع ہوتاہے جیسا کہ سلمة بن الاکوع اور خالد بن ولید و غیرہ کے قول سے ظاہر ہوتاہے(۴) _
یہی صحابہ کا طریقہ تھامورخین نے بھی صحابہ کی پیروی کی ہے پس انہوں نے پانچویں سال کے وسط بلکہ
____________________
۱) تاریخ الخمیس ج/۱ ص ۳۶۸ _ _ (۲) مغازی الواقدی ج/۲ ص ۵۳۱ ، ۵۳۴ علی الترتیب_
۴) مغازی الواقدی ج/۲ ص ۵۳۷ ، صفة الصفوة ج/۱ ص ۶۵۲_
آخر تک مہینوں کے ساتھ تاریخ لکھی اور پانچویں سال سے سالوں کا ذکر کرنا شروع کیا(۱) اور یہ چیز اگر کسی چیز پر دلالت کرتی ہے تو وہ یہ ہے کہ ہجرت کے ابتدائی برسوں سے یہی تاریخ مقرر کی جا چکی تھی وگرنہ یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی کہ کسی صحابی سے پانچویں سال میں پیش آنے والے واقعہ کے متعلق سوال کیا جائے لیکن وہ سال کا ذکرنہ کرے اور گننے کے عمل میں مصروف ہوجائے جو فکر و تامل کا باعث ہے اور کچھ دیر سوچنے کے بعد جو اب دے مگر اس صورت میںکہ یہ چیز مرسوم اور ذہنوں میں راسخ ہو _اس سے و اضح ہوجاتاہے کہ صحابہ کس قدر اس بات کی اہمیت کے قائل تھے کہ ربیع الاول ہی کو تاریخ ہجری کی ابتداء قراردیا جائے اگر چہ بعد میںبھی غالباً یہی سلسلہ رہا _
۵_ سلمان فارسی کے لئے نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی تحریر ہمار ے پاس ہے جس پر ہجرت کے نویں سال کی تاریخ لکھی ہوئی تھی_
ابونعیم کہتاہے کہ حسن بن ابراھیم بن اسحاق البرجی المستملی نے روایت کی ہے کہ مجھے محمد بن عبدالرحمن نے بتایاہے کہ میں نے ابوعلی حسین بن محمدبن عمرو و ثابی کوکہتے ہوئے سنا کہ میں نے یہ تحریر شیراز میں جناب سلمان کے بھائی ماہ بنداذ کی اولاد غسان بن زاذان بن شاذویہ کے نو اسے کے ہاتھ میں دیکھی _ یہ وصیت علی عليهالسلام بن ابی طالب کی تحریر تھی اورنبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مہر اس پر لگی ہوئی تھی ہم یہاں پر اس تحریر کے متن کو درج کرتے ہیں_
بسم اللہ الرحمن الرحیم : یہ خط محمدرسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے سلمان کے بھائی ماہ بنداذ اور اس کے اہل و عیال اور نسل کے متعلق وصیت لکھنے کی سلمان کی درخواست پر لکھا جارہا ہے_( ابونعیم اس کو لکھنے کے بعد آخر میں کہتاہے): علی عليهالسلام بن ابی طالب نے بحکم رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم ہجرت کے نویں سال ماہ رجب میں یہ خط تحریر کیا اور ابوبکر، عمر، عثمان ، طلحہ، زبیر،عبدالرحمن ، سعد، سعید، سلمان، ابوذر، عمار،عیینہ ، صہیب، بلال، مقداد، اور مؤمنین کی ایک جماعت وہاں پر حاضر تھی _ اسی طرح ابومحمدبن حیان نے بعض مورد اعتماد اشخاص سے ذکر کیا ہے کہ
____________________
۱) طبقات ابن سعد ج /۲ حصہ اول فی غزواتہ صلىاللهعليهوآلهوسلم خصوصاً غزوہ بواط میں اس کا صفحہ ۵۶ ، مغازی الواقدی ج۲ ص ۹،۱۱،۳۶۳ ، الوفاء باخبار المصطفی ج/۲ ص ۶۷۳،۶۷۴،۶۷۵،البدایة و النھایة ج/۴ ص۶۱ اور تاریخ الخمیس و غیرہ_
شیراز میں سلمان کے بھائی کی نسل سے ایک قبیلہ ہے جن کے رئیس و سردار کو غسان بن زاذان کہتے ہیں اور ان کے پاس یہ خط موجود ہے یہ علی عليهالسلام ابن ابی طالب کی تحریر ہے اور سفید رنگ کے چمڑے پر لکھا گیا ہے نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مہر ابوبکر کی مہر اور علی عليهالسلام کی مہر اس پر درج ہے یہ حرف بحر ف ابونعیم کی تحریر ہے لیکن اس نے جماعت میں عیینہ کا ذکر نہیں کیا(۱) _
۶_ بلاذری نے اس معاہدہ کے متن کو ذکر کیا ہے کہ جس کونبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مقنا کے یہودیوں اوربنی حبیبہ کے لئے لکھا تھا اس میں نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے ساتھ مچھلی شکار کرنے کی چھڑیوں، ان کی کاتی ہوئی روئی اور ان کی بھیڑ بکریوں ،مویشیوں اور پھلوں کے ایک چوتھائی حصہ پر مصالحت کی تھی_
بلاذری کہتاہے کہ مصر کے رہنے والے ایک شخص نے مجھے بتایاہے کہ اس نے خود اس تحریر کو ایک سرخ رنگ کے چمڑے میں دیکھا البتہ اس کے خطوط مٹے ہوئے تھے لہذا اس نے مجھے لکھوایا تو میں نے نسخہ برداری کی _
بسم الله الرحمن الرحیم: من محمد رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم ، الی بنی حبیبةواهل مقنا: سلم انتم فانه انزل علی، انکم راجعون الی قریتکم، فاذا جاء کم کتابی هذا، فانکم آمنون و لکم ذمة الله و ذمة رسوله ...( بلاذری نے پوری تحریر کو درج کیا ہے حتی کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے آخر میں فرمایا) '' کہ تم پر امیر و حکمران صرف تم میں سے ہوگایا رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت میں سے_ علی عليهالسلام بن ابو طالب نے اس تحریر کو ۹ ہجری میں لکھا ''(۲) _
فتوح البلدان پر حاشیہ لکھنے والے محمدبن احمد بن عساکر نے اس عہد نامہ پر دو اعتراض کئے ہیں _
____________________
۱) ذکر اخبار اصفہان لابی نعیم ج/۱ص۵۲ ، ۵۳، الدرجات الرفیعہ ص ۲۰۶ و ۲۰۷ ، طبقات المحدثین باصبہان ج۱ ص ۲۳۱ و ۲۳۴ نیز نفس الرحمان از تاریخ گزیدہ_
۲) فتوح البلدان للبلاذری ص ۶۷ ، ط ۱۳۱۸ ہجری نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ولایت و حکمرانی کو اپنے اہل بیت عليهالسلام کے ساتھ مخصوص کرنے میں غور فرمائیں یہ ایک واضح دلیل ہے کہ اس شہرکاخراج (کہ جس کو بغیر لشکرکشی کے صرف مصالحت کےساتھ حاصل کیاگیا ہے اور اصطلاحاً فے کہا جاتاہے اور فَے ،اللہ اور اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے ہے اور )نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے اپنے اہل بیت عليهالسلام کو عطا کیا ہے اور یہ دلالت کرتاہے کہ آل رسول عليهالسلام جس طرح مسلمانوں کے لئے اولوا الامر ہیں اس طرح اہل ذمہ کے لئے بھی اولوا الامر ہیں_
اول : کہ علی عليهالسلام وہ شخصیت ہیں کہ جنہوں نے علم نحو کو اختراع کیا تا کہ عجمیوں کے کلام کے ساتھ مخلوط نہ ہو ایسے شخص سے اعرابی غلطی کا صادر ہونا ممکن نہیں اور یہاں پرعلی عليهالسلام ابن ابوطالب درج ہے یعنی ابو کو رفع کے ساتھ لکھاگیا ہے( جبکہ نحوی قواعد کی بناء پر ابی لکھا جانا چاہیے) _
دوم: اہل مقنا کے ساتھ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی صلح غزوہ تبوک میں ہوئی (جیسا کہ بلاذری کی کتاب میں مذکور ہے ) اور واضح ہے کہ علی عليهالسلام اس غزوہ میں شریک نہیں تھے پس یہ کیسے ہوسکتاہے کہ اس صلح نامہ کو لکھنے والے علی عليهالسلام ہوں(۱) _
اور ہم یہاں پر ان اعتراضات کے جواب میں صرف علامہ محقق الشیخ علی احمدی کے کلام کو(البتہ موقع محل کی مناسبت اپنی طرف سے کچھ کمی بیشی کے ساتھ) ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ :
پہلے اعتراض کا جواب : یہ ہے کہ ملاعلی قاری ، قاضی عیاض کی کتاب '' شفائ'' کی شرح میں ابوزید اصمعی کی نوادر سے نقل کرتے ہیں کہ یحیی بن عمر سے روایت ہے کہ قریش کنیت میں لفظ'' ابّ'' میں کوئی تبدیلی نہیں کرتے تھے بلکہ اسے ہمیشہ مرفوع پڑھتے تھے ، چاہے رفعی حالت میں ہوتا یا نصبی یا جرّی حالت میں_
نہایة ابن الاثیر میں لفظ ''ابی''کے ذیل میں اور قاضی عیاض کی کتاب '' شفائ'' پر لکھی جانے والی ملا علی قاری کی شرح میں ہے کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مہاجر بن امیہ (مہاجربن ابوامیہ) کو خط میں (المہاجر ابوامیة ) لکھا اس کے بعد دونوں نے کہا ہے کہ چونکہ ابوامیہ کنیت کے ساتھ مشہور تھا اور وہ صرف اسی نام سے ہی معروف تھااس لئے نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی اسے ا یسے ہی رہنے دیا اور ملاعلی قاری اس کے لئے مثال ذکر کرتے ہوئے کہتاہے :'' جیسا کہ کہا جاتاہے علی عليهالسلام بن ابوطالب '' _ ہم یہاں زمخشری کے اس قول کا بھی اضافہ کرتے چلیں کہ ''وائل بن حجر نے لکھا ہے : اللہ کے رسول محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے مہاجربن ابوامیہ کے نام _بے شک وائل ...'' یہاں تک کہ زمخشری کہتاہے لفظ ابوامیہ کو جر والی حالت میں بھی رفعی حالت کے مطابق لکھا گیا ہے ، کیونکہ وہ اسی نام سے مشہور ہوگیا تھا اور ضرب المثل کی طرح ناقابل تبدیلی ہوگیا تھا یہ عربوں کے اس قول :
____________________
۱)حاشیہ فتوح البلدان بلاذری ص ۶۷_
''علی بن ابوطالب اور معاویة بن ابوسفیان'' کی مانند ہے(۱) اسی طرح شیخ علی احمدی کا بیان ہے کہ مجموعة الوثائق السیاسیہ میں صفدی سے منقول ہے کہ بعض عرب لکھتے تو ''علی عليهالسلام بن ابوطالب ''واو کے ساتھ ہیں لیکن پڑھتے یاء کے ساتھ ( ابی طالب) ہیں _ اورمجموعہ میں التراتیب الاداریة سے منقول گذشتہ کلام کونقل کرنے کے بعد کہتاہے کہ اس سے بڑھ کر یہ کہ میں جب ماہ محرم ۱۳۵۸ ھ میں مدینہ میں تھا توسلع کے جنوب میں ایک قدیمی تحریر میں ( انا علی عليهالسلام بن ابوطالب ) لکھا ہوا دیکھا اور متوقع ہے کہ یہ تحریر خود علی عليهالسلام کی ہو_ اسی طرح مجموعةالوثائق میں ہے کہ شیو خ (اپنے اساتذہ) سے پڑھی گئی کتابوں میں چار مقامات پر ( علی عليهالسلام بن ابوطالب) واو کے ساتھ لکھا ہوا دیکھا ہے_ اور ہم اضافہ کرتے ہیں کہ عسقلانی کا کہناہے کہ حاکم کہتاہے : '' اکثر بزرگان اس بات کے قائل ہیں کہ ان (یعنی ابوطالب) کی کنیت ہی ان کا نام تھا''(۲) _ نیز مغلطائی نے کہاہے '' ایک قول (جسے حاکم نے ذکر کیا )ہے کہ اس کی کنیت ہی اس کا اسم ہے لیکن ہمیں اس پر اعتراض ہے ''(۳) مروج الذھب ج/۲ص ۱۰۹ طبع بیروت میں مذکور ہے کہ '' ابوطالب کے اسم میں اختلاف ہے کچھ لوگ قائل ہیں کہ ان کی کنیت ہی ان کااسم ہے اور نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم اکرم کی املاء سے علی عليهالسلام نے خیبر کے یہود کے لئے لکھا تھا ( و کتب علی عليهالسلام بن ابی طالب) لفظ ابن سے الف کو گرا دینا اس بات پردلالت کرتاہے کہ یہ لفظ دونا موں کے درمیان میں واقع ہواہے نہ کہ نام او رکنیت کے درمیان '' _ بلاذری لکھتاہے کہ یحیی بن آدم نے کہا ہے کہ میں نے نجرانیوں کے پاس ایک تحریر دیکھی کہ جس کا نسخہ اس نسخہ کی طرح تھا اور اس کے آخر میں یہ عبارت درج تھی (-و کتب علی عليهالسلام بن ابوطالب) لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے متعلق کیا کہوں(۴) _ اور یہ مشہور روایت بھی ہے کہ ربیعہ اور یمن کے درمیان آپ عليهالسلام اپنی تحریر کے آخر میں لکھتے ہیں (کتب علی عليهالسلام بن ابوطالب )(۵) _عمدة الطالب ص۲۰ ، ۲۱ طبع نجف میں محمدبن ابراہیم نسابہ سے منقول ہے کہ
____________________
۱) الفائق ج۱ ص ۱۴_ (۲) الاصابہ ج۴ ص ۱۱۵_ (۳)سیرہ مغلطائی ص۱۰_
۴)فتوح البلدان ص ۷۲_
۵)شرح نہج البلاغہ ابن میثم بحرانی ج۵ ص ۲۳۱_
اس نے امیر المؤمنین عليهالسلام کی تحریر کے آخر میں یہ عبارت( و کتب علی عليهالسلام بن ابوطالب) لکھی ہوئی دیکھی اور کہتاہے کہ میرے دادا اور دیگر افراد کے بقول حرم امیر المؤمنین عليهالسلام میں حضرت علی عليهالسلام کے ہاتھوں کا لکھا ہوا قرآن کریم کا ایک نسخہ موجود تھا جو ۷۵۵ میں حرم میں آگ لگنے کی وجہ سے جل گیا کہا جاتاہے کہ اس کے آخر میں یہ عبارت درج تھی ( و کتب علی عليهالسلام بن ابوطالب) پھر کہتاہے کہ واو یاء کے مشابہ ہے چونکہ خط کوفی میں یہ دونوں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اگر چہ صحیح (علی عليهالسلام ابن ابی طالب) ہے علاوہ ازیں دیگر شواھد بھی ہیں جنہیں یہاں پر ذکر کرنے کی گنجائشے نہیں_
پس ہم گذشتہ امور سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ لفظ ( ابو) کا ہونا ضرر رساں نہیں اور روایت پر اعتراض کا موجب نہیں بنتا خصوصاً اگر قریش کے لغت کو مدّ نظر رکھا جائے _ اس بناپر ہمیں عمدة الطالب و غیرہ کی تاویل کی بھی کوئی ضرورت نہیں_
دوسرے اعتراض کا جواب: علامہ احمدی میانجی کہتے ہیں کہ بلاذری کے کلام میں ایسی کوئی صراحت و دلالت نہیں پائی جاتی جس سے یہ معلوم ہوکہ یہ تحریر تبوک میںلکھی گئی ہے جیسا کہ خود تحریر میں بھی اس قسم کا کوئی اشارہ تک بھی موجود نہیں بلکہ تحریر کی عبارت سے معلوم ہوتاہے کہ اہل تبوک میں سے ایک گروہ بطور وفد نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آیا اور جلد ہی اپنے شہر واپس جانا چاہتا تھا شاید ان کا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس مدینہ آنا تجارتی غرض کی وجہ سے تھا یا صلح نامہ لینے کی غرض سے آئے تھے، یا اس کے علاوہ کسی اور غرض سے آئے تو نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے لئے یہ صلح نامہ تحریر فرمادیا یہاں پر قابل ملاحظہ بات یہ ہے کہ کچھ منابع میں فقط اسی بات پر اکتفاء کیا گیا ہے کہ آپ نے ۹ ھ میں اہل مقنا کےلئے صلح نامہ لکھا(۱) _
____________________
۱) ملاحظہ فرمائیں،مکاتیب الرسول صلىاللهعليهوآلهوسلم ج/۱ص ۲۸۸ ، ۲۸۹ ، ۲۹۰ اہل مقنا کے ساتھ معاہدہ کے سلسلہ میں ایک اور روایت بھی پائی جاتی ہے_ کہ یہ معاہدہ ہجرت کے پانچویں برس علی عليهالسلام کے ہاتھوںسے لکھاگیا لیکن کچھ تاریخی اعتراضات سے خالی نہیں اگر چہ ان میں بعض یا تمام کاجواب دینا ممکن ہے، ملاحظہ فرمائیں، مکاتیب الرسول صلىاللهعليهوآلهوسلم ج/۱ ص ۲۹۳ ، ۲۹۴_نیز نصرانیوں کے ساتھ ایک اور معاہدہ بھی موجود ہے جو علی عليهالسلام کے خط مبارک سے ہجرت کے دوسرے سال میں لکھا گیا اور نصرانیوں کے ساتھ ایک اور معاہدہ بھی موجود ہے جس پرہجرت کے چوتھے سال کی تاریخ ہے جس پر معاویہ کی تحریر ہے_ لیکن یہ دونوں معاہدے قابل اعتراض ہیں خاص کر دوسرا معاہدہ کیونکہ معاویہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوا تھا ( جو ہجرت کے کئی سال بعد آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے آخری دور میں فتح ہوا تھا) چنانچہ ملاحظہ فرمائیں: مکاتیب الرسول ج۲ ص ۶۳۷ و ۶۳۴ و غیرہ_
ان تمام مذکورہ کلمات کو علامہ احمدی نے ذکر فرمایا ہے البتہ ہم نے بھی کچھ کمی، بیشی اور تلخیص کی ہے اور مذکورہ خط پر کئے گئے اعتراضات کے جواب کے لئے یہی بات ہی کافی ہے پس اس روایت پر اعتراض کرنے اور اس کے صحیح ہونے میں شک کرنے کی گنجائشے نہیں رہتی _
۷_اہل دمشق سے خالدبن ولید کا صلح نامہ_ ابن سلام کہتاہے کہ '' محمد بن کثیر نے ہمارے لئے اوزاعی سے اور اس نے ابن سراقة سے روایت کی ہے کہ خالدبن ولید نے اہل دمشق کو لکھا '' یہ خالد بن ولید کی طرف سے اہل دمشق کے لئے (صلح) نامہ ہے میں نے ان کے خون اور اموال اور عبادت گاہوںکے متعلق انہیں امان دی ''_''ابوعبید کہتاہے کہ اس میںاس نے کوئی ایسی بات ذکر کی تھی جو مجھے یاد نہیں رہی ہے اور اس کے آخر میں یہ عبارت ہے '' ابوعبیدہ جراح، شرحبیل بن حسنة اور قضاعی بن عامر گواہ ہیں اور یہ تحریر ۱۳ ھ میں لکھی گئی ...''(۱) _
جبکہ یہ بات واضح ہے کہ مورخین کے بقول حضرت عمرنے ۱۶ ھ یا ۱۷ ھ میں تاریخ وضع کی اور کوئی بھی شخص یہ دعوی نہیں کرتاکہ اس تاریخ سے پہلے عمر نے تاریخ وضع کی خصوصاً اس حقیقت کو مدّ نظر رکھتے ہوئے کہ دمشق کی فتح حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دنوں میں تھی بلکہ حضرت ابوبکر کی وفات اور عمر کی خلافت کی خبر شام میں مسلمانوں کے لشکر تک پہنچنے سے پہلے ہی دمشق فتح ہوچکا تھا_
صاحبان مغازی (کیفیت غزوات کو حیطہ تحریر میں لانے والے حضرات) کے اس اختلاف کے باوجود کہ فتح دمشق ۱۳ ھ کو ہوئی تھی یا ۴ ۱ ھ کو، مصالحت کرنے والے ابوعبیدہ جراح تھے یا خالد بن ولید اور ان میں سے کون اس لشکر کا امیر تھا؟ ہم مذکورہ بات کے قائل ہیں کیونکہ ہمارے پاس ایسی تقریبا یقینی
____________________
۱) الاموال ص ۲۹۷ اور بلاذری نے اس کو فتوح البلدان ص ۱۲۸ میں تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ بغیر تاریخ کے ذکر کیا ہے اور اسی طرح فتوح البلدان ص ۱۳۰ میں واقدی سے منقول ہے کہ خالد نے اس پر تاریخ نہیں لکھی تھی لیکن جب مسلمانوں نے یرموک پر چڑھائی کا ارادہ کیا تو خالد نے نصرانیوں کے لیے صلح نامہ کی تجدید کی اور اس میں ابو عبیدہ ، شرحبیل اور یزید بن سفیان کی گواہی ثبت کی اور اس پر ربیع الثانی ۱۵ ھ کی تاریخ درج کی اور ابن کثیر نے گواہوں میںعمرو بن عاص کا اضافہ کیا ہے_البتہ اس میں بھی کوئی مانع نہیں ہے کہ یہ تحریر ایک اور خط ہوجسے اس نے یرموک پر چڑھائی کے وقت نصرانیوں کو ان کے کلیساؤں کے تحفظ کے لئے لکھا ہو_ جیسا کہ ابن کثیر کی البدایہ والنہایہ ج ۷ ص ۲۱ کے الفاظ سے بھی یہی ظاہر ہوتاہے_
دستاویزات موجود ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ ۳ ۱ ھ کو جناب ابوبکر کی وفات کی خبر لشکر تک پہنچنے سے پہلے یا کم از کم ابوعبیدہ جراح کے اس خبر کو ظاہر کرنے سے پہلے دمشق فتح ہوگیا تھا_ اور اہل دمشق کے ساتھ مصالحت کرنے والے بھی اس وقت کے سردار لشکر خالد بن ولید ہی تھے_
حتی کہ اگر اس تحریر کی تاریخ ۱۵ ہجری بھی مان لی جائے تب بھی ہماری مدعا کے لئے نقصان دہ نہیں ہے_ تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ حضرت عمر کی حکومت کا واقعہ اس کے بعد یعنی ۱۶ ھ یا ۱۷ ھ میں تھا_
ابوعبیدہ، ابن قتیبہ ، واقدی ، بلاذری(۱) اور دوسرے بہت سے حضرات نے تصریح کی ہے کہ صلح خالد کے ہاتھ پر ہوئی اور اس سے واضح ہے کہ صلح کے وقت لشکر کا امیر وہی تھا_
بلکہ واقدی کا کہناہے کہ ان کے ساتھ خالد کے صلح کرنے کی وجہ سے ابو عبیدہ اور خالد کے درمیان سخت تکرار اور مقابلہ بازی پیش آئی _اس سے ہمارے لئے واضح ہوجاتاہے کہ خالد اپنے موقف میں کس قدر سرسخت تھا اور ابوعبیدہ اس کے مقابلہ میں کس قدر کمزور(۲) _یہی چیز ہمارے اس نظریئےے ساتھ بہت زیادہ ہماہنگی رکھتی ہے کہ لشکر کی قیادت اس وقت خالد کے پاس تھی_
بلکہ بلاذری و غیرہ نے ذکر کیا ہے کہ ابوعبیدہ مشرقی دروازے پر تھا اور قہر و غلبہ سے شہر میں داخل ہوا تو شہر والے خالدکے پاس آئے اور اس سے صلح کرلی_ اس نے ان کے لئے تحریر لکھی اور انھوں نے اس کے لئے دروازہ کھول دیا پھر بلاذری نے ابی مخنف کے قول کو بھی نقل کیا ہے جو مذکورہ واقعہ کے بالکل برعکس ہے_ پھر اس کے بعد کہتاہے کہ پہلا قول نہایت مناسب ہے(۳) _
ہم بھی کہتے ہیں : کہ ہاں یہی قول درست ہے کیونکہ اکثر مورخین بھی اسی کے قائل ہیں، اس بحث کی ابتداء میں مذکور صلح نامہ کی عبارت اور دیگر دستاویزات بھی اس بات پر قطعی دلالت کرتی ہیں کہ اہل دمشق سے صلح کرنے والا خالد ہی تھا اور وہی امیر لشکر تھا_
____________________
۱) المعارف لابن قتیبة ص ۷۹ ط ۱۳۹۰ بیروت ، فتوح الشام ج/۱ ص ۵۸ ، ۵۹ ، فتوح البلدان ازص ۱۲۸ تا ص ۱۳۱ و دیگر کتب_
۲) فتوح الشام ج۱ ص ۵۸ ، ۶۰_ (۳) فتوح البلدان ص ۱۲۹ ، البدایة والنھایة ج/۷ ص ۲۱_
البتہ خالد کی معزولی کا حکم مسلمانوں کو اس وقت پہنچا تھاجب وہ دمشق کا محاصرہ کئے ہوئے تھے تو ابوعبیدہ نے تقریباً بیس دن تک اسے مخفی رکھا یہاں تک کہ دمشق کو فتح کرلیا گیا تا کہ دشمن کے مقابلے پر ڈٹے رہنے والے مسلمانوں کو خالد کا مسئلہ کمزور نہ کردے(۱)
البتہ واقدی کہتاہے کہ دمشق کی فتح حضرت ابوبکر کی وفات والی رات ہوئی(۲) _
اور زینی دحلان کہتاہے : '' کہا گیا ہے کہ حضرت ابوبکر کی وفات کی خبر دمشق کی فتح کے بعد ۱۳ ھ میں آئی اورحضرت ابوبکر کی وفات اسی رات ہوئی جس رات مسلمان دمشق میں داخل ہوئے اور یہ ۲۲جمادی الثانی ۱۳ ھ کا واقعہ ہے _ اور جو قائل ہیں کہ وفات کی خبر دمشق کی فتح کے بعد آئی وہی افراد اس بات کے قائل ہیں کہ یرموک کا واقعہ فتح دمشق کے بعد پیش آیا(۳) _
اور ابن کثیر کہتاہے کہ '' سیف بن عمر کی عبارت کے سیاق سے ظاہر ہوتاہے کہ ۱۳ ھ میں دمشق فتح ہوا لیکن خود سیف عمومی نظریئے کے مطابق تصریح کرتے ہیں کہ ۱۵ رجب ۱۴ ھ کو دمشق فتح ہوا ''(۴) _
اورعبدالرحمن بن جبیر سے منقول ہے کہ ابوعبیدہ خود حضرت ابوبکر کو فتح دمشق کی خوشخبری دینے کے لئے گیا تھا لیکن حضرت ابوبکر پہلے ہی وفات پاچکے تھا او ر حضرت عمر نے اسے لشکر کا امیر بنادیا پھر جب وہ دمشق واپس آیا تو مسلمانوں نے یہ کہتے ہوئے اس کا استقبال کیا : '' ایسے شخص کو خوش آمدید جسے ہم نے قاصد بنا کر بھیجا تھا اور وہ ہم پر امیر بن کر واپس آیا ہے''(۵) _
بہرحال یہ صلح نامہ اور تمام گذشتہ دستاویزات گواہ ہیں کہ اکثر مؤرخین کے مطابق خالد نے ہی اہل شام سے صلح کی تھی اور ہم یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر فرض کریں کہ یہ تحریر ۱۵ ھ میں بھی لکھی گئی ہو یا یہ دوسری تحریر ہو تب بھی واضح طور پر دلالت کرتی ہے کہ تاریخ حضرت عمر کی خلافت سے پہلے مقرّر کی جاچکی تھی_
____________________
۱)البدایہ والنہایہ ج۷ ص ۲۳ و فتوح البلدان ص ۱۲۷ و ۱۲۹_
۲) فتوح الشام ج/۱ ص ۵۸ ، ص ۵۹_ (۳) الفتوحات الاسلامیة ج/۱ ص ۴۷_
۴) البدایة والنھایة ج/۷ ص ۲۲_ (۵) البدایة والنھایة ج/۱ ص ۲۴_
رہی یہ بات کہ مؤرخین اور راویوں نے اس حقیقت سے روگردانی کیوں کی ؟شاید واقعات و حوادث کاپے درپے واقع ہونا اور ایک دوسرے کے نزدیک ہونا ان کے اشتباہ کا موجب بناہواور ان پر اچھا گما ن کرتے ہوئے (کیونکہ ان کے متعلق اچھا گمان ہی کیا جاسکتاہے) یہی کہہ سکتے ہیں کہ شاید وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ حضرت عمر کا دور حکومت عظیم فتوحات ا ور کشور کشائی کادور تھا اور فتح شام بھی چونکہ نہایت اہم معرکہ تھا اس لئے اسے بھی عمر کے دور حکومت میں ہونا چاہئے ، حضرت ابوبکر کے عہد میں نہیں_اور اسی طرح خالد کی شجاعت اور مختلف مواقع میں اس کی قوت و بہادری ثابت اور ظاہر کرناچاہتے تھے اور یہ بتانا چاہتے تھے کہ وہ بلا شرکت غیرے تلوار کا دھنی ہے _ پس اس کا شام پر غلبہ حاصل کرنا ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ شامیوں سے مصالحت کرنے والا کوئی اور ہو چاہے یہ معاملہ جھوٹ اور مکرو فریب سے ہی حل ہوا ہو _ لیکن کیا یہ مذکورہ باتیں ہی ان لوگوں کی حقیقت سے روگردانی کا حقیقی سبب ہیں _ مجھے تو نہیں معلوم لیکن شاید ذہین و فطین قارئین کو اس کا علم ہوگا_
۸_ سیوطی نے ابن القماح کے ہاتھ سے تحریر شدہ مجموعہ سے ایک بات نقل کی ہے جس میں مذکور ہے کہ ابن الصلاح نے کہا ہے : ''ابوطاہر محمد بن محمش الزیادی نے تاریخ الشروط میں ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جب نجران کے نصاری کے لئے تحریر لکھی اس میں ہجرت کی تاریخ قلمبند فرمائی اور علی عليهالسلام کو حکم دیا کہ یہ عبارت لکھیں '' انہ کتب لخمس من الھجرة'' کہ ہجرت کے پانچویں سال میں لکھی گئی ہے''_ (پھر ) کہتاہے ''ہجرت کے ساتھ تاریخ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اجازت سے لکھی گئی اور تاریخ لکھنے میں حضرت عمر نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی پیروی کی ہے''(۱)
اسی طرح سیوطی کہتاہے '' کہا جاتاہے یہ بات صداقت رکھتی ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہجرت کے پانچویں برس تاریخ لکھی اور پہلی حدیث ( زھری کی گذشتہ روایت) میں تھا کہ ''آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ پہنچنے کے دن تاریخ لکھی '' اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ان دونوں میں کوئی منافات نہیں چونکہ ظرف (یوم قدم المدینة ) فعل (امر)
____________________
۱)الشماریخ فی علم التاریخ، سیوطی ص ۱۰ نیز التراتیب الاداریہ ج ۱ ص ۱۸۱_
سے متعلق نہیں بلکہ مصدر ( التاریخ) سے متعلق ہے تو اصل عبارت اس طرح ہوگی _امربان یورخ بذلک الیوم لا ان الامر کان فی ذلک الیوم یعنی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکم دیا کہ اس دن سے تاریخ لکھی جائے نہ یہ کہ یہ فرمان اس دن جاری ہوا'' (یعنی ہوسکتاہے کہ پانچ ہجری کو حکم دیا ہو کہ مدینہ تشریف آوری سے تاریخ شمار کی جائے _از مترجم)(۱) یہ سیوطی کا کلام ہے_
لیکن اس سے واضح تر جواب یہ ہے کہ آپ نے مدینہ پہنچتے ہی تاریخ لکھنے کا حکم دیا اور ربیع الاول کو مبداء قرار دیا اور خودنبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جب ۵ میں نجران کے نصرانیوں کے لئے تحریر لکھی تو اس وقت اسی تاریخ سے استفادہ کیا_
بہر حال سخاوی کہتاہے کہ '' اگر یہ بات ثابت ہوجائے تو عمر پیروی کرنے والا ہوگا پہل کرنے والا نہیں''(۲) _
اور عباس مکی کہتاہے کہ '' تاریخ ایک گذشتہ سنت اور پسندیدہ طریقہ ہے کہ جس کا حکم رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے نجران کے نصاری کی طرف نامہ لکھتے ہوئے دیا تھا _آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے علی عليهالسلام کو حکم دیا کہ اس میں لکھیں (کتب لخمس من الہجرة)(۳) _پھر ابن شہاب کی گذشتہ روایت نقل کی ہے_
۹_ صحیفہ سجادیہ کی خبر سے ظاہر ہوتاہے کہ رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت کو تاریخ کا مبدا قرار دینااللہ جلّ شانہ کی منشاء کے مطابق تھاکیونکہ حدیث میں آیاہے کہ جبرائیل عليهالسلام نے نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا کہ '' آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت سے اسلام کی چکی چلے گی اور دس سال تک چلتی رہے گی اور ہجرت سے پینتیس (۳۵) برس بعد پھراسلام کی چکی چلے گی اور پانچ سال تک چلتی رہے گی''(۴) _
____________________
۱)الشماریخ فی علم التاریخ ص ۱۰ ، التراتیب الاداریة ج۱ ، ص ۱۸۱_
۲) التراتیب الاداریة ج/۱ ص ۱۸۱_
۳) نرھة الجلیس ج/۱ص ۲۱_
۴) البحار ج/۵۸ ص ۳۵۱ (البتہ صفحات کی تصحیح کرنے کے بعد) سفینة البحار ج/۲ ص ۶۴۱ ، الصحیفة السجادیة ص ۱۰ ، البتہ یہ روایت کئی اور اسناد سے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم سے بھی وارد ہوئی ہے جنہیں البدایة والنھایة ج۶ ص۲۰۶ ، ۲۰۷ ، ج/۷ ص ۲۱۹ ، ۲۷۵ ، ص ۲۷۶ ، میں ذکر کیا گیا ہے نیز ملاحظہ ہو سنن ابی داؤد مطبوعہ دار الکتاب العربی ج۴ ص ۱۵۹ ، ص ۱۶۰_ و دیگر کتب
۱۰ _ ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :''میری ہجرت کے ساٹھ (سال) پورے ہونے پر حسین عليهالسلام بن علی عليهالسلام کو شہید کیا جائے گا''(۱) _
۱۱ _ انس سے ایک روایت منقول ہے کہ اس نے کہا :' ' نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب نے ہمارے لئے روایت بیان کی ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ ہجرت کے (۱۰۰) سال پورے ہونے تک تم میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا''_(۲)
۱۲_ ڈاکٹر سعاد ماہر محمد نے اپنے رسالے (مشہدالامام علی عليهالسلام فی النجف الاشرف) ص ۱۰۴، ص ۱۰۵ میں اہل حیرہ کے لئے خالد بن ولید کی لکھی ہوئی تحریر کا متن درج کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ عبارت ہے ( اور اگر انہوں نے فعل یا قول کے ساتھ بدعہدی اور خیانت کی تو ہم ان سے بری الذمہ ہوں گے اور ( یہ تحریر) ۱۲ ھ ماہ ربیع الاول میں لکھی گئی) _
اور یہ بات واضح ہے حیرہ کی فتح خالد کے ہاتھوں حضرت ابوبکر کے دور میں ہوئی تھی اس کا معنی یہ ہے کہ تاریخ حضرت عمر کی خلافت سے بھی پہلے وضع کی جاچکی تھی اور اس سے پہلے سے ہی استعمال بھی ہورہی تھی پس کس طرح حضرت عمر نے ۱۶ ھ میں تاریخ معین کی ؟اور سھیلی و ابن عباس و غیرہ کے کلام سے مذکورہ بات کی تائید ممکن ہے_
۱۳_ حافظ عبدالرزاق نے ابوھریرہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا: ''ہلاکت ہے عربوں کے لئے اس بدبختی سے جو ساٹھ سال پورے ہونے پر آئے گی _جب امانت کو غنیمت سمجھا جائے گا ...''(۳) _
۱۴_ اسی طرح عبدالرزاق نے ہی ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا :''جب پینتیس برس
____________________
۱) مجمع الزوائد ج۹ ص۱۹۰عن الطبری اوراس کی سند میں کوئی اعتراض نہیں مگر سعد بن طریف میں اور وہ بھی خود ان کی تصریح کے مطابق اس کے شیعہ ہونے کی وجہ سے ہے تاریخ بغدادج/۱ص۱۴۲، الالمام ج/۵ص ۲۹۹، کنزالعمال ج/۱۳ص۱۱۳ط حیدرآباد،میزان الاعتدال ج/۱ص۲۱۲عن الطبرانی وا لخطیب و ابن عساکر ،منتخب کنز العمال (حاشیہ مسنداحمد)ج/۵ ص۱۱۱، مقتل الحسین خوارزمی ج/۱ ص ۱۶۱ ، احقاق الحق ج/۱۱ ص ۳۵۴ از گذشتہ بعض و از مفتاح النجا ص ۱۳۶ قلمی نیز از امعجم الکبیر طبرانی، زندگینامہ امام حسین عليهالسلام از تاریخ دمشق با تحقیق محمودی ص ۱۸۵_
۲) مجمع الزوائدج/۱ص ۱۹۷ ، عن ابی یعلی ، یہ روایت مختلف الفاظ اور مختلف اسناد سے نقل کی گئی ہے ، لیکن ان میں لفظ ( من الہجرة) نہیں ہے_
۳)مصنف عبدالرزاق ج/۱۱ ص ۳۷۳ و ۳۷۵_
پورے ہوں گے تو ایک امر عظیم حادث ہوگا پس اگر تم ہلاک ہوگئے تو اس کے لائق ہو گے اور اگر نجات پاگئے تو اس کی امید ہے اور جب ستر برس پورے ہوں گے تو تم انوکھی چیزیں دیکھوگے(۱) _
ابن مسعوداور ابوہریرہ نے اس کا علم نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم سے حاصل کیا ہے کیونکہ یہ غیب گوئی ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ خود نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہجری تاریخ مقر ر فرمائی _
۱۵_ ایک حدیث جس کے راوی موثق ہیں یہ ہے کہ : ہم ساٹھ ہجری سال کے پورے ہونے سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ ۶۰ ھ اور بچوں کی فرمانروائی سے(۲) _
ابوہریرہ سے مروی ہے : '' خدایا مجھے ۶۰ ھ اور بچوں کی حکومت دیکھنا نصیب نہ کر''(۳) _
۱۶_ مالک نے نافع سے اور اس نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ جب ایک سوستر سال پورے ہوجائیں تو جدّہ میں رہائشے پذیر ہونا بہترین اقامت اختیار کرنے میں سے ہوگا(۴) _
خلاصہ بحث:
گذشتہ امور سے واضح ہوجاتاہے کہ لوگوں کے درمیان مشہور یہ بات کہ حضرت عمر نے اسلامی ہجری تاریخ کی بنیاد رکھی، ناقابل قبول ، بلا دلیل اور بے بنیاد ہے_ البتہ حضرت عمر کے دور میں صرف یہ ہوا کہ ربیع الاّول کی بجائے محرم کو ہجری سال کا مبدا قرار دیا گیا اورایسا انہوں نے یا توخود کیا تھا یا حضرت عثمان کے مشورہ سے _ جبکہ محرم ( جیسا کہ سب کو معلوم ہے) زمانہ جاہلیت میں سال کا مبداء شمار ہوتا تھا(۵) _ بعید نہیں کہ ہجری تاریخ جسے نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مقرر فرمائی تھی اور کئی بار لکھی بھی تھی،اس زمانہ میں تاریخ کی ضرورت کم ہونے کی وجہ سے لوگوں میں مشہور نہ ہوسکی ہو اور پھر حضرت عمر نے صحابہ کو اکٹھا کیا ہو تا کہ تاریخ
____________________
۱)مصنف عبدالرزاق ج/۱۱ ص ۳۷۳ و ۳۷۵_ (۲) تطہیر الجنان واللسان ص ۶۶ ۱۳۷۰ نیز کنز العمال ج۱۱ ص ۱۱۳_
۳)الاتحاف بحبّ الاشراف ص ۶۵ از ابن ابی شیبہ و غیرہ _ (۴) لسان المیزان ج/۲ ص ۷۹_
۵)البدایة والنہایہ ج۳ ص ۲۰۶ و ص ۲۰۷ نیز السیرة النبویة ابن کثیر ج۲ ص ۲۸۸ و ۲۸۹_
پر اتفاق حاصل ہوجائے(۱) لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے کہ جن کی غرض یہ تھی کہ جس تاریخ کا نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکم دیا تھا اور جس تاریخ کو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مقرر فرمایا تھا اس کو طاق نسیان میں رکھ دیا جائے _ اس لئے کہ فلاں آدمی رومی تاریخ کا مشورہ دے رہا تھا، یہود یت سے اسلام لانے والے کچھ مسلمان ایسی تاریخ کا مشورہ دیتے ہیں جو سکندر اورہر مزان کے دورکی طرف لوٹتی ہے اور ان لوگوںسے حضرت عمر یہ مشورے لے رہے تھے حالانکہ حضرت عمر ایرانیوں سے شدید نفرت کرتے تھے لیکن پھر بھی وہ لوگ اسے ایرانی تاریخ کا مشورہ دیتے ہیں کہ جب کوئی بادشاہ ہلاک ہوجاتا تو وہ نئے بادشاہ کی تاج پوشی کے دن سے تاریخ کی ابتدا کرتے تھے_ (یعنی ...؟) کوئی مولد النبی صلىاللهعليهوآلهوسلم یعنی عام الفیل کو تاریخ کا مبداء قرار دینے کا مشورہ دیتاہے واضح رہے کہ زمانہ جاہلیت کے آخری سالوں میں عرب عام الفیل سے تاریخ لکھتے تھے_ اور مسعودی کے الفاظ کے مطابق:
(و کثر منهم القول و طال الخطب فی تواریخ الاعاجم و غیرها) (۲)
عجمیوں و غیرہ کی تاریخوں میں ان کے درمیان اقوال زیادہ ہوگئے اور بحث لمبی ہوگئی_
یعنی جتنے منہ اتنی باتیں ہوئیں تو محافظ دین اورحق کے علمبردار حضرت علی عليهالسلام نے مناسب وقت میں اس ہجری تاریخ کا اعلان کیا جسے خود رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مقرّر فرمایا تھا اور خود انہوں نے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم اکرم کی حیات طیبہ میں متعدد خطوط اور معاہدوں میں لکھا تھا_
آپ عليهالسلام کی رائے اور نظریہ کو قبول کرنے اور آپ عليهالسلام کے مشورہ کو دل و جان سے مان لینے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کیونکہ یہ حق ہے''والحق یعلو ولا یعلی علیه '' _نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے یوم ولادت و رحلت کی بجائے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت کو تاریخ کا مبداء قرار دینے کی وجہ ارض شرک سے (جہاں ذلت، گمراہی اور پستی تھی) ارض
____________________
۱) علامہ محقق سید مہدی روحانی نے اپنے مقالہ میں یہ احتمال دیا ہے اور یہ مقالہ ما ہنامہ '' الھادی'' سال اول شمارہ نمبر ۴ ص ۴۸ میں شائع ہوا ہے_
۲) التنبیہ الاشراف ص ۲۵۲_
اسلام کی طرف (جہاں عزت ، شرافت اور سربلندی تھی) ہجرت کی اہمیت تھی اور انسانیت اور تاریخ کی تشکیل کے اعتبار سے یہ چیز نہایت اہمیت کی حامل ہے_ اسی طرح آپ عليهالسلام نے اس عمل سے ہرذلت آمیز رائے اور ظالم و جابر اور طاغوتی حکمرانوں سے وابستہ واقعات کو تاریخ کا مبداء قرار دینے سے اجتناب کیا _ اور بہتی گنگا کی لہروں کا دھارا بننے سے بھی پرہیز کیا جبکہ عام لوگوں میں یہ چیز عام ہوتی ہے اور ان کی رگ و پے میں خون اور زندگی کی طرح گردش کررہی ہوتی ہے_
پھر عیسوی تاریخ کیوں؟
اس کے بعد ہم یہاں نہایت افسوس اور گہرے ملال سے یہ لکھنے پر مجبور ہیں کہ اہل مغرب اور غیر مسلم تواپنی تاریخ، تمدن اور واقعات کی حفاظت کرتے ہیں _ اور خواہ وہ کتنے ہی حقیر اور بے اہمیت ہوں کسی طر ح بھی ان سے دستبردار نہیں ہوتے بلکہ انہیں پھیلانے اور دوسری قوموں میں انہیں ترویج دینے اور راسخ کرنے کے درپے ہوتے ہیں _ حتی کہ اسلامی واقعات اور تاریخ کو لکھنا چاہتے ہیں تو ہجری تاریخ کو عیسوی تاریخ سے بدل کر لکھنے پر اصرار کرتے ہیں خواہ ایسا کرنے سے کتنے ہی حقائق مسخ ہوجائیں اور ان میں اشتباہ و غلطی ہوجائے_
لیکن دوسری طرف ہم ترقی ، ترقی یافتہ اور تہذیب و ثقافت و غیرہ جیسے بے وزن اور خوشنما الفاظ اور نعروں کا فریب کھاکے اپنی بہت سی بنیادی اور اساسی چیزوں سے بآسانی دستبردار ہوجاتے ہیں حالانکہ ان نعروں کے پس پردہ ہزاروں خطرات اور بربادیاں چھپی ہوئی ہوتی ہیں _ حتی کہ بعض اسلامی ممالک نے تو عربی رسم الخط کو چھوڑ کر لاطینی اور انگریزی رسم الخط کو اپنا لیا ہے _ بلکہ اپنے رنگ ڈھنگ اور لباس جیسے حیاتی اور ضروری امور کو چھوڑ کر غیروں کے اقدار اپنالئے ہیں_ بالکل یہی صورتحال ہجری تاریخ کے متعلق بھی ہے_
ہم نے کس سہولت سے ہجری تاریخ کو چھوڑ دیا ہے جب کہ یہ ہماری عزت و سربلندی کا سرچشمہ تھی
اس سے ہماری تاریخ اور ثقافت قائم تھی ہم نے اس کی جگہ عیسوی تاریخ کو اپنا لیا جو تقریباً چوتھی صدی ہجری میںیعنی اسلامی ہجری تاریخ کے وضع ہونے کے بہت عرصہ بعد ظاہر ہوئی عیسائی حضرت عیسی عليهالسلام کی ولادت کے دن سے نہیں بلکہ ان کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے دن سے اپنی تاریخ لکھتے ہیں _(۱) بلکہ ایک اور دستاویز کے مطابق جناب سکندر ذوالقرنین کے دور سے اپنی تاریخ لکھتے ہیں(۲) حتی کہ ابن العبری نے بھی ( جو عیسائیوں کے بہت بڑے پادری شمار ہوتے تھے اور کارڈینال کے درجہ کے برابر ان کا رتبہ تھا اور ۶۸۵ ہجری کو فوت ہوئے انہوں نے بھی) اپنی کتاب میں عیسوی تاریخ کبھی نہیں لکھی بلکہ کئی مقامات پر تاریخ سکندری سے کتاب کو مزین کیا _ پس اگر اس وقت عیسوی تاریخ عام اور معروف ہوتی تو وہ اس سے ہرگز روگردانی نہ کرتے_ اسی طرح ۹۰۲ ہجری کو وفات پانے والے سخاوی کے کلام سے بھی ظاہر ہوتاہے کہ دسویں صدی ہجری کے اوائل تک بھی میلاد مسیح کی تاریخ رائج نہیں تھی_
لیکن بہت سی ایسی حکومتیں ہمارے سامنے ہیں جو اپنے آپ کو اسلامی حکومت کے نام سے یاد کرتی ہیں اور بہت سی قومیں جو خود کو اسلام سے منسوب کرتی ہیں انہوں نے صرف عیسوی تاریخ کو اپنا رکھاہے فارسی اور رومی تاریخ کو بھی نہیں اپنایا ہاں انہوں نے صرف تمدن و ترقی کے نام پر اور اس قسم کے دلکش اور پرفریب نعروں کی وجہ سے عیسوی تایخ کو محور نظام بنایا جبکہ اپنی عظمت و سربلندی کی اساس ،تاریخ اور ثقافت کو چھوڑ دیا ہے اس طرح بہت سے عظیم اور اہم امور سے دستبردار ہوچکے ہیں جب کہ ان سے پیچھے ہٹنا نہایت دشوار اور خطرناک ہے_
نکتہ:
ایک روایت کے مطابق حضرت امام جعفر صادق عليهالسلام سے پوچھا گیا کہ عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسی عليهالسلام کی ولادت کانون (رومی مہینہ) کی چوبیس تاریخ کو ہے (آپ عليهالسلام کیا فرماتے ہیں ؟) جس پر آپ عليهالسلام نے فرمایا: '' وہ
____________________
۱)الاعلان بالتوبیخ لمن یذم التاریخ ص ۸۳ _
۲)نزہة الجلیس ج۱ ص ۲۲ نیز ملاحظہ ہو کنز العمال ج ۱۰ ص ۱۹۵ از مستدرک و از کتاب الادب صحیح بخاری_
جھوٹ کہتے ہیں بلکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ولادت حزیران (رومی مہینہ) کے نصف میں ہوئی جو گردش ایام کے حساب سے آذر (فارسی مہینہ) کا بھی نصف بنتاہے''(۱) ( جس سے معلوم ہوتاہے کہ فارسی اور رومی مہینے، عیسوی مہینوں سے پہلے اور معروف تھے کہ عیسائی حضرت عیسی عليهالسلام کی پیدائشے کو ان تاریخوں سے مطابقت دے رہے ہیں _ اور یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ وہ صحیح مطابقت نہیں دے پائے_ از مترجم)
مخلصانہ اپیل
ہم امت مسلمہ کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے امور اور تقویم ( کیلنڈروں ) میںہجری تاریخ کو اپنائیں چونکہ اس طرح ان کا ماضی ان کے حال سے متصل ہوجائے گا اور یہی چیز انہیں ان کی عزت و سربلندی کا راز یاد دلائے گی اور یہی وہ دین ہے جسے اللہ تعالی نے ان کے لئے اور تمام انسانیت کے لئے اختیار فرمایا ہے_ علاوہ ازیں اگر فرض کریں کہ تاریخ کا مبداء بڑے اور عظیم واقعات ہونے چاہئیں تو پھر کونسا واقعہ نبی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے ظہور سے عظیم تر ہے اور کونسا بڑا واقعہ اس عظیم واقعہ کی برابری کرسکتاہے_
علامہ مجلسی (رہ) کا کہنا ہے : (ہجری تاریخ کو اپنانے کی) اصلی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یہ (ہجرت) اسلام اور مسلمانوں کے غلبہ کا ابتدائیہ، دینی احکام کے ظہور کا افتتاحیہ، مشرکوں کی قید سے مسلمانوں کی رہائی کی شروعات اور ہجرت کے بعد دین مبین کے قواعد کی تاسیس جیسے دوسرے اہم کاموں کا ابتدائیہ تھی''(۲) _
میں امت اسلامی خصوصاً عربوں سے گزارش کرتاہوں اگر ہم دینی لحاظ سے بھی اس سے صرف نظر کرلیں تب بھی عرب ہونے کے ناطے اس کو اہمیت دینی چاہئے اور اس مقام پر انہیں سید الشہداء امام حسین عليهالسلام
____________________
۱)بحارالانوار ج۷۵ ص ۳۶ ، تحف العقول ، مختصر التاریخ ابن کازروفی ص ۶۷ اور مروج الذہب ج۲ ص۱۷۹ و ص ۱۸۰_
۲)بحارالانوار ج۸۵ ص ۳۵۱_
کا بہترین قول یاد دلاتاہوں کہ آپ عليهالسلام نے فرمایا:
(ان لم یکن لکم دین و کنتم لا تخافون المعاد فکونوا احراراً فی دنیاکم هذه و ارجعوا الی احسابکم ان کنتم عرباً کما تزعمون )(۱)
اگر تم کسی دین کے قائل نہیں اور قیامت کا خوف نہیں رکھتے تو کم از کم اپنی اس دنیا کے معاملے میں تو آزاد رہو اور اپنے آبا ء و اجداد کے محاسن ومفاخر کو مدّنظر رکھو اگر تم اپنے آپ کوعرب سمجھتے ہو_
بارگاہ رب العزت میں دعا ہے کہ وہ انہیں ان کا بہترین منشور عطا فرمائے او ر اپنی عقول و ضمائرسے راہنمائی حاصل کرنے والوں میںقرار دے_
اگروہ ہر چیز میں دوسروں کی تقلید کرنا چاہتے ہیں تو اس معاملے میں بھی ان کی تقلید کریں یعنی دوسروں کی تقلید اس طرح کریں کہ ہم اپنے عظیم تمدن اور اعلی روایات سے دستبردار نہ ہونے پائیں تا کہ دوسروں کے دست نگر نہ ہوں اور ایسی چیزیں اخذ نہ کریں جن کا نقصان ان کے فائدے سے زیادہ ہو_
''قل هذا سبیلی ادعوا الی الله علی بصیرة اناومن اتبعنی''
۲_ مدینہ میں مسجد کی تعمیر :
مسجد والی جگہ یا تو رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے خریدی تھی یا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو ہدیہ کی گئی تھی ، اس بارے میں کہا جاتاہے کہ اس جگہ قبیلہ خزرج کے دو یتیم بچوں کے اونٹوں کا باڑہ تھا اور وہ بچے اسعد بن زرارہ یا کسی اور شخص کے زیر کفالت تھے، ایک قول کے مطابق آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ جگہ دس دینار میں خریدی _
وہاں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسجد کی بنیاد رکھی، آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم بہ نفس نفیس اپنے اصحاب کے ساتھ مل کر(مدینہ کے
____________________
۱)اللہوف ص۵۰ نیز مقتل الحسین مقرم ص ۳۳۵ ازلہوف_
مضافات میں) سیاہ پتھروں پر مشتمل ''حرّہ'' نامی زمین سے پتھر اٹھاکر لاتے تھے، اس کام میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شرکت کی وجہ سے اصحاب اور زیادہ کوشش اورتگ و دو سے کام کرتے تھے، یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے یہ شعر پڑھا_
لئن قعدنا و النبی یعمل
لذاک منا العمل المضلل
(اگر ہم آرام سے بیٹھ جائیں اور رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کام میں مشغول رہیں ( تو یہ درست نہیں) لہذا ہم اسی وجہ سے سخت طاقت فرسا کام میں مصروف ہیں)_
مسجد کی تعمیر کے وقت مسلمین یہ رجز پڑھ رہے تھے_
لا عیش الا عیش الآخرة
اللّهم ارحم الانصار والمهاجرة
(زندگی تو صرف آخرت اور جنت کی ہی زندگی ہے، خدایا انصار و مہاجرین پر رحم فرما)
اور اسطرح کے دیگر اشعار(۱) آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسجد کا طول و عرض تقریباً سوسو ذراع (ہاتھ)قرار دیا(۲) ایک اور قول کے مطابق طول ستر ذراع (ہاتھ)(۳) اور عرض ساٹھ ذراع قرار دیا(۴) ، احتمال ہے کہ یہ دونوں قول صحیح ہوں اور وہ اس طرح کہ پہلی دفعہ تعمیر کرتے وقت آپ نے لمبائی میں ستر اور چوڑائی میں ساٹھ ذراع پر بنیادیں رکھی ہوں جبکہ تعمیر نو کے وقت اس میں توسیع کردی ہو(۵) _
رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسجد کے اطراف میں اپنے اور اپنے اصحاب کے گھر بنائے شروع میں ہر گھر کا دروازہ مسجد کے صحن کی طرف کھلتا تھا لیکن بعد میں امیر المؤمنین علی عليهالسلام کے گھر کے علاوہ باقی تمام دروازے بند کردیئے گئے ، انشاء اللہ بعد میں ہم اس بات کی زیادہ وضاحت کریں گے _ آگے بڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم یہاں مؤرخین کے بعض اقوال کا جائزہ لیں_
____________________
۱) السیرة الحلبیة ج۲ص ۶۵ ص ۶۴ و ۶۷ و ۷۱_ (۲)یعنی تقریباً ۹۱ میٹر سے کچھ زیادہ طول اور اتنا ہی عرض (مترجم)
۳)یعنی تقریباً ۶۷ میٹر کے لگ بھگ (مترجم) (۴)یعنی تقریباً ۴۹ میٹر سے کچھ کم (مترجم)
۵)وفاء الوفاء ج۱ ص ۳۴۰ اور اس کے بعد _ نیز ملاحظہ ہو: تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۶۵ و ۳۶۶ اور التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۷۷_
الف: حضرت ابوبکر اوردس دینار:
اہل سنت مؤرخین نے لکھا ہے کہ مسجد کی جگہ کو خریدنے کیلئے حضرت ابوبکر نے دس دینار ادا کئے(۱) _
لیکن ہماری نظر میں یہ بات مشکوک ہے اس لئے کہ :
اولاً: حضرت ابوبکر کی مالی حالت اس قدر مستحکم نہ تھی کہ وہ یہ رقم ادا کرسکتے، اگر فرض کریں کہ ان کی مالی حالت بہتر تھی تب بھی ہمیں شک ہے کہ انہوں نے یہ قدم اٹھایا ہو اور اس کی دلیل ہم واقعہ غار میں ذکر کرچکے ہیں_
ثانیاً:اگر یہ بات مان بھی لی جائے تو بھی اس کے برعکس کچھ اور روایات بھی موجود ہیں _ جن میں سے ایک روایت کے مطابق اسعد بن زرارہ نے اس زمین کے بدلے میںبنی بیاضہ میں اپنا کھجور کا ایک درخت ان یتیموں کو دیا تھا، جبکہ دوسری روایت میں آیاہے کہ ابوایوب نے کسی طرح انہیں راضی کیا تھا اور تیسری روایت کے بقول معاذ بن عفراء نے یہ کام انجام دیا تھا(۲) _
بعض مؤرخین نے احتمال دیا ہے کہ ممکن ہے حضرت ابوبکر نے زمین کی قیمت ادا کی ہو جبکہ بعض دیگر صحابہ نے محض اجر و ثواب اور نیکی کے طور پر زمین کی اصل قیمت کے علاوہ ان یتیموں کو یہ سب کچھ دیا ہو(۳) _
لیکن یہ احتمال بھی دیا جاسکتاہے کہ دیگر صحابہ نے زمین کی اصل قیمت ادا کی ہو اور حضرت ابوبکر نے صلہ و نیکی کے طور پر کچھ رقم ادا کی ہو، اس طرح پہلے احتمال کو اس دوسرے احتمال پر ترجیح نہیں دی جاسکتی ، علاوہ ازیں یہ احتمال روایت میں موجود کلمہ ''عوضھما'' کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا اس لئے کہ اس کلمے سے واضح ہوتاہے کہ ایک تو یہ چیز زمین کی قیمت تھی اور دوسرا وہ رقم اس زمین کے بدلے میں تھی نیکی اور صدقہ کے طور پر نہیں تھی_
ثالثاً : صحیح بخاری و غیرہ میں لکھا ہے کہ رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک شخص کو بنی نجار کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا
____________________
۱)سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۶۵_
۲) البدایة و النہایةج ۳ص۳۱۵ ، وفاء الوفاء ج۱ص۳۲۳ و ص ۳۲۴، (روایت ابن حجر) ، السیرة الحلبیة ج ۲ص ۶۵_
۳) السیرة الحلبیة ج۲ص ۶۵ ، وفاء الوفاء ج۱ص ۳۲۳ ، ۳۲۴_
کہ وہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ اس زمین کے محدودے کی قیمت طے کریں_ تو انہوں نے جواب دیا :'' قسم بخدا ہم خدا کے علاوہ کسی اور سے اس زمین کی قیمت وصول نہیں کریں گے''(۱) _
ب: پتھراور خلافت
حاکم نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ مسجد کیلئے سب سے پہلا پتھر خود رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم اٹھاکر لائے تھے پھر دوسرا پتھر حضرت ابوبکر (تیسرا حضرت عمر(۲) )اور چوتھا حضرت عثمان اٹھاکر لائے ، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ یہ دیکھ کر میں نے رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم سے عرض کی : ''کیا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ان کی طر ف نہیں دیکھتے کہ یہ کس طرح آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کررہے ہیں ''؟ تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : ''اے عائشہ ، میرے بعد یہ میرے خلیفہ ہوں گے ''یہ حدیث شیخین کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن خود انہوں نے اسے ذکر نہیں کیا(۳) _
اس روایت کے الفاظ میں موجود تضاد و تناقض کے علاوہ درج ذیل امور کی بنا پر اس حدیث کا صحیح ہونا ہرگز ممکن نہیں_
اولاً : ذہبی اس حدیث کی سند کو ضعیف قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں : اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو یہ تینوں خلفاء کی خلافت پر نصّ ہوتی جبکہ یہ کسی طرح بھی صحیح نہیں ، اس لئے کہ حضرت عائشہ اس وقت ایک کم سن پردہ نشین بچی تھیں اور ابھی رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہی نہیں ہوئی تھیں ، پس ان سے اس حدیث کو منسوب کرنا، اس حدیث کے جھوٹے ہونے پر دلالت کرتاہے(۴) _البتہ ہم ان کے کم سن ہونے والی بات پر اپنی رائے محفوظ رکھتے ہیں_
ابن کثیر کہتے ہیں : ''اس سیاق و سباق کے ساتھ یہ حدیث بالکل عجیب وغریب ہے''(۵) _
____________________
۱) صحیح البخاری ج۱ص ۵۷ ، تاریخ الطبری ج۲ص ۱۱۶ ، الکامل لابن اثیرج ۲ ص۱۱۰ وفاء الوفاء ج ۱ص ۳۲۳ _ نیز التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۷۷_
۲) حضرت عمر کا ذکر صرف تلخیص المستدرک کی روایت میں ہوا ہے_
۳) مستدرک الحاکم ج۳ص۹۶ ، ۹۷ ، وفاء الوفاج ۱ص۳۳۲ ، ۳۳۳ ، ۳۵۱ ، البدایة والنہایة ج۳ ص ۲۱۸ ، اورج ۶ص ۲۰۴ ( انہوں نے وضاحت کی ہے کہ یہ واقعہ مسجدمدینہ کی تعمیر کے وقت پیش آیا) السیرة الحلبیةج ۲ص ۵۶ ، ۶۶ ، تاریخ الخمیس ج۱ص ۳۴۴ ، ۳۴۳ نیز دلائل النبوة بیہقی ج۲ ص ۲۷۲_
۴) تلخیص المستدرک ذہبی ج ۳ص ۹۷ ( مستدرک الحاکم ج۳ ص ۹۷کے حاشیے پرمطبوع )_ (۵) البدایة والنہایة ج۳ص ۲۱۸ _
ثانیاً:حدیث سفینہ پر اشکال و اعتراض کرتے ہوئے بخاری نے '' خلافت اور پتھر'' کی حدیث(۱) کے بارے اپنی تاریخ میںلکھا ہے :_
ابن حبان نے اس حدیث کو قبول نہیں کیا کیونکہ حضرت عمر ، حضرت عثمان اور حضرت علی عليهالسلام ( البتہ یہ انہی لوگوں کے الفاظ ہیں)کہا کرتے تھے : '' نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے کسی شخص کو اپنا خلیفہ مقرر نہیں کیا ''(۲) _
یہاں بخاری یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس لحاظ سے یہ حدیث خود اہل سنت کے اس عقیدے سے بھی تضاد رکھتی ہے کہ جس کے مطابق رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے نہ تو کسی شخص کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا تھا اور نہ ہی خلافت کے بارے میں کوئی وضاحت فرمائی تھی ، اور اسی بناپر اہل سنت حضرت ابوبکر کے ہاتھ آنے والی خلافت کو درست قرار دیتے ہیں_ بلکہ حضرت عائشہ سے یہ روایت بھی منقول ہے : '' اگر رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کسی شخص کو اپنا خلیفہ مقرر فرماتے تو (میرے خیال میں) ضرورحضرت ابوبکر و حضرت عمرکوہی خلیفہ مقرر فرماتے'' اس حدیث کو ذہبی اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے(۳) _
علامہ امینی علیہ الرحمہ نے اپنی گراں قدر تصنیف '' الغدیر'' (ج/۵ ص ۳۵۷ تا ۳۷۵) میں علمائے اہل سنت کے بہت سے اقوال نقل کئے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ خلافت ایک انتخابی امر ہے (یعنی معاملہ لوگوں کے انتخاب پر چھوڑ دیا گیا ہے) پس یہ حدیث ان کے مذہب کے مطابق بھی جھوٹی ہے اور حقیقت میں بھی جھوٹی ہے اس لئے کہ رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی عليهالسلام کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کرنے کا واضح اعلان فرمایا اور اس بارے میں بے شمار روایات منقول ہیں انہی روایات کے ذریعے امیرالمؤمنین عليهالسلام ، آپ عليهالسلام کے اصحاب ، اہل بیت ، آپکی اولاد اور آپ عليهالسلام کے شیعہ ، اس وقت سے آج تک آپ عليهالسلام کی خلافت پر استدلال کرتے چلے آرہے ہیں، شاید ہی کوئی کتاب ایسی ہوکہ جس میں ان بے شمار متواتر روایات یا خبر واحدمیں سے کوئی روایت نقل نہ کی گئی ہو(۴) _
____________________
۱) مستدرک الحاکم ج۳ ص ۱۳_ (۲) السیرة الحلبیہ ج ۲ص۶۶_
۳) مستدرک الحاکم ج۳ ص ۷۸_
۴)بطور مثال ملاحظہ ہو: الغدیر ج۱ ص ۱۹۵ ا ص ۲۱۳_
ثالثاً : اس روایت کے مطابق مسجد کی تعمیر میں سب سے پہلے پتھر رکھنے والوں میں حضرت عثمان بھی شامل تھے لیکن خود اہل سنت کے مؤرخین کے بقول حضرت عثمان اس وقت حبشہ میںتھے اور مدینہ میں موجود نہ تھے جیسا کہ سمہودی نے اس طرف اشارہ کیا ہے اسی وجہ سے سہیلی نے اس روایت کو نقل کرتے ہوئے حضرت عثمان کو حذف کرتے ہوئے اس کے نام کو ذکر نہیں کیا(۱) _
اور جب حاکم کی کتاب طبع ہوئی تو اس روایت میں سے حضرت عثمان کا نام حذف کردیا گیا اس کے پیچھے بھی شاید یہی راز پوشیدہ تھا ، حالانکہ ذہبی نے اپنی تلخیص میں اس روایت کو ذکر کیا ہے _اور اسے تحریف کہا جاتاہے جو دین، امت اور کسی فرقے کے حقائق کے ساتھ خیانت میں شمار ہوتی ہے_
کیونکہ بطور خلاصہ واقعہ یوں ہے کہ حضرت عثمان اگر چہ اہل مکہ کے اسلام لانے کی خبر سن کر مکہ پلٹ آئے تھے لیکن حقیقت حال کا پتہ چلنے پردوبارہ واپس حبشہ چلے گئے تھے ، جیسا کہ خود اہل سنت مؤرخین کہتے ہیں کہ حضرت عثمان نے دو دفعہ حبشہ کی طرف ہجرت کی(۲) عسقلانی کہتے ہیں :'' جب حبشہ میں موجود مسلمانوں کو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت کا علم ہوا تو ان میں سے تیس آدمی واپس مکہ لوٹ آئے ، ان میں ابن مسعود بھی تھے ، جو اس وقت مکہ پہنچے جب نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم جنگ بدر کی تیاریوں میں مصروف تھے(۳) (تو پھر عثمان کہاں سے شریک ہوسکتے ہیں؟)_
ج: حضرت عثمان اور حضرت عمار:
مؤرخین لکھتے ہیں : حضرت عثمان بہت صفائی پسند اور صاف ستھرے رہنے والے آدمی تھے، جب مسجد کی تعمیر کیلئے اینٹیں اٹھاتے تو انہیں اپنے کپڑوں سے دور رکھتے تھے اور جب اینٹوں کو مسجد کے پاس رکھتے تو
____________________
۱) وفاء الوفاء ج۱ ص ۲۵۲ _
۲) طبقات ابن سعد ج ۱حصہ اول ص۱۳۸ ، الکامل لابن اثیرج۳ص۱۸۵،البدء والتاریخ ج۱ص۲۲،اس کتاب کی روایت کے مطابق حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کے وقت کشتی میںحضرت عثمان کی زوجہ حضرت رقیہ کا حمل گر گیا تھا _
۳) فتح الباری ج۷ص۱۴۵_
اپنی آستینوں کو جھاڑتے اور اپنے کپڑوں کو دیکھتے کہ کہیں ان پر مٹی تو نہیں لگی ، اگر مٹی لگی دیکھتے تو اسے جھاڑ دیتے تھے، حضرت علی عليهالسلام ابن ابیطالب نے انہیں دیکھ کر یہ اشعار پڑھے_
لا یستوی من یعمر المساجدا
یدأب فیها قائما ً و قاعداً
و من یری عن التراب حائداً
( وہ شخص جو مساجد کی تعمیر میں کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر نہایت کوشش و مشقت سے کام کرتاہے اس شخص کے برابرنہیں ہوسکتا جو مٹی سے دور رہنے کی کوشش کرتاہے)_
جب حضرت عمار یاسر نے یہ اشعار سنے تو انہوں نے ان اشعار کو دہرانا شروع کردیا ، اگر چہ انہیں معلوم نہ تھا کہ ان اشعار سے مراد کون ہے؟ اسی اثناء میں جب وہ حضرت عثمان کے پاس سے گزرے تو حضرت عثمان( جن کے ہاتھ میں اس وقت ایک چھڑی تھی) نے ان سے کہا : ''اے سمیہ کے بیٹے یہ کس کی عیب جوئی کررہے ہو؟'' پھر کہا :'' چپ ہوجاؤ ورنہ (یہی چھڑی) تیرے چہرے پر ماروںگا''_ یہ بات نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے سن لی ، اس وقت آ پ صلىاللهعليهوآلهوسلم حجرہ ام سلمہ کے سائے میں تشریف فرماتھے، یا ایک اور روایت کے مطابق اپنے حجرہ کے سائے میں آرام کررہے تھے، یہ سن کر آنحضرت سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: ''بے شک عمار بن یاسر میری ناک اور آنکھوں کے درمیان موجود جلد (پیشانی) کی مانند ہیں''_ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی دو آنکھوں کے درمیان اپنا دست مبارک رکھا اور فرمایا: ''جب کوئی شخص اس مقام تک پہنچ جائے تو یہ قربت کی انتہا ہے''_
یوں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے لوگوں کو انہیں آزار و اذیت پہنچانے سے باز رکھا، پھر لوگوں نے حضرت عمار سے کہا : ''رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم آپ کی وجہ سے ہمارے ساتھ ناراض اور غضبناک ہوئے ہیں، ہمیں ڈر ہے کہیں ہمارے بارے میں کوئی قرآنی آیت نازل نہ ہوجائے'' حضرت عمار نے کہا : ''جس طرح آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم ناراض و غضبناک ہوئے ہیں میں ابھی اسی طرح آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو راضی کرتاہوں''_
پھر حضرت عمار نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں عرض کی : ''یا رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب کو مجھ سے کیا
دشمنی ہے؟ ''_ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :'' ان کی طرف سے تمہیں کیا تکلیف پہنچی ہے؟ ''عرض کی :'' وہ میرے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں ، خود تو ایک ایک اینٹ اٹھاتے ہیں جبکہ میرے اوپر دو دو تین تین اینٹیں لاد دیتے ہیں''_
آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت عمار کا ہاتھ پکڑا اور مسجد کے اندر چکر لگایا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے بالوں سے خاک جھاڑتے ہوئے فرمایا : ''اے ابن سمیہ تمہیں میرے اصحاب قتل نہیں کریں گے بلکہ تم ایک باغی گروہ کے ہاتھوں قتل ہوگے(۱) ...''_
کیا حضرت عثمان حبشہ میں نہ تھے؟
ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ حضرت عثمان مسجد کی تعمیر کے وقت وہاں موجود نہ تھے اور اس وقت وہ حبشہ میں تھے_
شاید یہی وجہ ہے کہ عسقلانی اور حلبی نے حضرت عثمان بن عفان کی جگہ اس روایت میں عثمان بن مظعون کا نام ذکر کیا ہے(۲) _
ہم اس سوال اور اعتراض کا جواب دینے سے پہلے گذشتہ اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتے چلیں کہ اس کی یہ توجیہ کرنا بھی نامناسب ہے کہ '' رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم ایک سال یا سات ماہ تک ابوایوب کے ہاں قیام پذیر رہے اور اسی دوران آپ اپنے گھر اور مسجد کی تعمیر میں مصروف رہے، ممکن ہے کہ اس وقت یہ خبر حبشہ میں مہاجرین تک پہنچی ہو اور اس دوران وہ مدینہ آتے رہے ہوں اور شاید حضرت عثمان بھی ان میں سے ایک ہوں وہاں انہوں نے مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا اور مذکورہ واقعہ پیش آیا ہو، اگر چہ مسجد کی بنیاد رکھتے وقت اور خلافت کے پتھر رکھنے میں وہ شریک نہ ہوسکے ہوں''_
بہر حال ہمارے نزدیک یہ بعید ہے کہ مسلمان اتنے طویل عرصہ تک مسجد کی تعمیر میں مصروف رہے ہوں
____________________
۱) سیرة ابن ھشام ج۲ص۱۴۲، تاریخ الخمیس ج۱ص ۳۴۵ ، اعلاق النفیسة ، وفاء الوفاء ج۱ص ۳۲۹ ، السیرة الحلبیة ج۲ص۷۲ ، علامہ امینی نے '' الغدیر'' کی نویں جلد میں (ص ۲۱ سے ۲۷ تک) اس واقعہ کے بہت زیادہ مصادر و منابع ذکر کئے ہیں، ہم نے صرف چند ایک ذکر کئے ہیں ، مزید تحقیق کیلئے '' الغدیر'' ج۹ کی طرف رجوع فرمائیں_
۲) السیرة الحلبیة ج ۲ص۷۱ ، حاشیہ سیرت النبی صلىاللهعليهوآلهوسلم ابن ھشام ج ۲ص۱۴۲_ از مواہب اللدنیہ_
اس لئے کہ وہ دسیوں کی تعداد میں تھے اور اہل مدینہ میں سے اسی(۸۰) سے زیادہ افرادتو مقام عقبہ پر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے بیعت کرچکے تھے_
صحیح بات یہ ہے کہ ظاہراً حضرت عمار اور حضرت عثمان کا مذکورہ واقعہ مسجد کی دوبارہ تعمیر کے وقت پیش آیا اور یہ جنگ خیبر کے بعد کی بات ہے یعنی ہجرت کے ساتویں سال(۱) اور درج ذیل امور اسی بات کے صحیح ہونے پر دلالت کرتے ہیں:
اولاً: بیہقی نے اپنی کتاب'' الدلائل'' میں روایت کی ہے کہ جب حضرت عمار قتل کردیئے گئے تو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے اپنے والد(عمرو بن العاص) سے کہا: ''اس شخص (حضرت عمار) کو ہم نے قتل کیا ہے جبکہ رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا وہ بھی پتاہے''_ اس کے والد نے پوچھا:'' تم کس شخص کی بات کررہے ہو؟ ''تو اس نے جواب دیا : ''عمار یاسر کی'' پھر کہا : ''کیا تمہیں یاد نہیں جب رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم مسجد تعمیر کررہے تھے تو اس وقت ہم ایک ایک اینٹ اٹھاکر لارہے تھے جبکہ عمار یاسر دو دو ا ینٹیں اٹھالاتا تھا چنانچہ اسی دوران جب وہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس سے گزرا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ تم دو دو اینٹیں اٹھاکر لارہے ہو حالانکہ تمہارے لئے یہ ضروری نہیں ہے جان لو کہ تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا اور تم اہل جنت میں سے ہو''_ پھر عمرو معاویہ کے پاس گیا الخ_(۲)
سمہودی نے اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد کہا ہے:'' اس بات سے پتہ چلتاہے کہ دوسری بار مسجد کی تعمیرکے وقت رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت عمار کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا تھا، اس لئے کہ عمرو نے ہجرت کے پانچویں برس اسلام قبول کیا تھا ''(۳) _
عبدالرزاق و غیرہ سے مروی ہے کہ عمرو بن عاص معاویہ کے پاس گیا اور اس نے معاویہ سے کہا کہ ہم
____________________
۱) وفاء الوفاء ج ۱ص۳۳۸_
۲)تذکرة الخواص ص ۹۳ از طبقات ابن سعد، الفتوح ابن اعثم ج۳ ص ۱۱۹ و ۱۳۰ ، الثقات ابن حبان ج۲ ص ۲۹۱ ، انساب الاشراف ; با تحقیق محمودی ج ۲ ص ۳۱۳و ص ۳۱۷ ، طبقات ابن سعد ج۳ حصہ اول ص ۱۸۰ و ۱۸۱ المصنف ابن ابی شیبہ ، مسند احمد بن حنبل ج ۲ ص ۱۶۴ ، حاشیہ انساب الاشراف ج ۲ ص ۳۱۳ ; تحقیق محمودی،المناقب خوارزمی ص ۱۶۰ ، وفاء الوفاء ج۱ ص ۳۳۱و ۳۳۲_
۳) وفاء الوفاء ج۱ ص ۳۳۱ و ۳۳۲_
نے سنا کہ رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم عمار کے بارے ہیں فرمارہے تھے: ''اسے (عمار کو) ایک باغی گروہ قتل کرےگا''(۱) _
اور معاویہ کے پاس دو آدمی آئے جو حضرت عمار کے سرکے بارے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے ، عبداللہ بن عمرو بن العاص نے انہیں دیکھ کر کہا :'' عمار کے سر کی بابت تمہیں اپنے ساتھی کے لئے راضی ہو جانا چاہئے ، کیونکہ میں نے عمار کے بارے میں رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : '' عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا _'' اس پر معاویہ نے عمرو سے کہا: ''تو اپنے اس پاگل کو ہم سے دور کیوں نہیں کرلیتا ''(۲) _
اور یہ واضح ہے کہ حضرت عمار کا واقعہ ایک ہی دفعہ اور ایک ہی مناسبت سے پیش آیاہے_
ثانیاً: خود روایت میں قرینہ موجود ہے جس سے واضح ہوتاہے کہ یہ واقعہ مسجد کی دوبارہ تعمیر کے دوران پیش آیا تھا، کیونکہ روایت میں ہے کہ رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم اس وقت حضرت ام سلمہ کے حجرے کے سائے میں تشریف فرماتھے اور یہ بات واضح ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے سب سے پہلے مسجد تعمیر فرمائی تھی اور اس کے بعد اپنے حجرے تعمیر کئے تھے(۳) نیز آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ گھر اکٹھے تعمیر نہیں کئے تھے بلکہ ضرورت کے ساتھ ساتھ انہیں تدریجی طور پر تعمیر کیا تھا، چنانچہ سب سے پہلے حضرت سودہ اور حضرت عائشہ کا حجرہ تعمیر کیا گیا(۴) اور اس میں کسی شک و شبہہ کی گنجائشے نہیں کہ مسجد نبوی کی تعمیر مکمل ہونے کے کافی دیر بعد آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت ام سلمہ کیلئے حجرہ تعمیر کیا تھا_
____________________
۱) المصنف ج۱۱ص۲۴۰ ، مجمع الزوائدج ۹ص ۲۹۷ ،ج ۷ص۲۴۲ ، ( امام احمد کی مسند اور طبرانی سے روایت نقل ہوئی ہے)_
۲) انساب الاشراف ج۲ص۳۱۳، مسند احمد،مسند عبداللہ بن عمرو، مصنف ابن ابی شیبہ اور فتح الباری کے علاوہ دیگر بہت سے مصادر و منابع میں یہ روایت نقل ہوئی ہے_
۳) زاد المعاد ج۱ص۲۵ ، السیرة الحلبیة ج۲ ص۸۷ _
۴) تاریخ الخمیس ج۱ص۳۴۶ ، وفاء الوفا ج ۲ص ۴۵۸ وفاء الوفاء کے صفحہ ۴۶۲ پر ذھبی سے نقل ہواہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے سب سے پہلے حضرت سودہ کا گھرتعمیر کیا ، پھر جب حضرت عائشہ کیلئے گھر کی ضرورت پڑی تو ان کے لئے گھر تعمیر کردایا، اسی طرح مختلف مواقع پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے باقی گھر تعمیر کروائے_
آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے عمار کی نصرت و تائید کا راز:
اس قصے سے ظاہر ہوتاہے کہ اس وقت مسلمان شعور و ادراک کے اس درجہ پر فائز تھے کہ وہ اپنے اس عمل کو اپنی دنیا کیلئے نہیں بلکہ ذخیرہ آخرت سمجھتے ہوئے انجام دیتے تھے اور ان کے اعمال اور افکار و نظریات میں آخرت ہی کو اولین و آخرین مقام حاصل ہونا چاہئے تھا، اس لئے کہ حقیقی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے اور اس کے علاوہ اصلاً زندگی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا، اور وہاں کی ناکامی ہی حقیقی ناکامی اور خسارہ ہے ...''
اللّهم لا عیش الا عیش الآخرة
فارحم الانصار و المهاجرة
(حقیقی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے اے اللہ مہاجرین و انصار پر اپنی رحمتیں نازل فرما)_
آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ایک حدیث(۱) کے مطابق حضرت عمار کا پورا وجود نور ایمان سے منور تھا، راہ خدا میں انہوں نے بہت سی مشکلات اور تکالیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور اپنے دین و عقیدے کی خاطر خلوص دل سے مصروف عمل رہے ، چنانچہ جب بعض افراد کی طرف سے حضرت عمار کو دھمکیاں دی گئیں تو ایسے میں آنحضرت کی طرف سے ان کی حمایت و نصرت ،ان کے اعمال و افکار کی تائید تھی اور دھمکیاں دینے والے نیز تعمیر مسجد کے وقت اپنے آپ کو مٹی اور گرد و غبار سے بچانے والے کا عمل بتارہا تھا کہ وہ ایمان کے لحاظ سے مطلوبہ سطح فکر کا حامل نہیں تھا اور دنیا ہی اس کیلئے سب کچھ تھی جیسا کہ اس شخصیت کے بعد کے اعمال و کردار نے اس بات کو روز روشن کی طرح عیاں کردیا_
ان حالات میں رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے حضرت عمار کی نصرت و حمایت اس بات پر دلالت کررہی تھی کہ حضرت عمار اپنے دین اور عقیدے کی راہ میں خلوص دل سے جہاد و کوشش میں مصروف تھے_
یہاں ایک اور بات کی وضاحت بھی ضروری ہے اور وہ یہ کہ حضرت عثمان نے حضرت عمار کی تحقیر و توہین کے ارادے سے انہیں ان کی ماں کی نسبت سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا : '' اے سمیہ کے بیٹے یہ کس کی عیب جوئی کررہے ہو'' حالانکہ حضرت عمار کی والدہ محترمہ وہ پہلی مسلمان خاتون ہیں جو شہادت کے عظیم
____________________
۱)البدایہ والنہایہ ج۷ ص ۳۱۲ ، سنن نسائی ج۸ ص۱۱۱ ، الاصابہ ج۲ ص ۵۱۲ ، تہذیب التہذیب ج۷ ص ۴۰۹ ، حلیة الاولیاء ج۱ ص ۱۳۹ ، سنن ابن ماجہ ج۱ ص ۵۲ والاستیعاب ( بر حاشیہ الاصابہ) ج۲ ص ۴۷۸_
منصب پر فائز ہوئیں اور جنہیں ان کے دین و عقیدے کی بناپر ظلم و تشدد کے ذریعہ شہید کردیا گیا _
دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عمار کے حامی و ناصر حضرت رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم جب ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم بھی ان کی صابرہ اور مجاہدہ ماں کی عظیم شان و منزلت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں والدہ سے نسبت دیتے ہوئے فرماتے ہیں :''یابن سمیة لا یقتلک اصحابی الخ'' _
پہلے مسجد کی تعمیر کیوں؟
غور طلب بات یہ ہے کہ رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ میں سب سے پہلے جس کام کو شروع کیا وہ مسجد کی تعمیر تھی اور اس کام کی بڑی اہمیت اور خاص وجہ تھی اوراس کی وجہ یہ تھی کہ :
اس وقت مسلمانوں کے دو گروہ تھے ، مہاجرین اور انصار_ یہ دو گروہ فکری ، روحانی، اقتصادی، اور عادات و اطوار کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف تھے، خود مہاجرین بھی مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے جو آپس میں فکری، معاشرتی ، مادی اور روحانی لحاظ سے الگ الگ صفات و خصوصیات کے حامل تھے،نیز انہوں نے اپنا گھر با ر چھوڑ کر وہاں سے ہجرت کرلی تھی اور اب وہ بے وطن اور بے گھر ہوچکے تھے_ اسی طرح انصار بھی ایک دوسرے پر غلبہ و تسلط کے متمنی دو گروہوں میں بٹے ہوئے تھے اور ماضی قریب میں کئی دفعہ ان کے درمیان تباہ کن جنگیں بھی ہوچکی تھیں_
اس بات کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتاہے کہ منزل و مقصود کے حصول میں اہداف، رسومات اور محسوسات و غیرہ کا اثر بہت ہی بنیادی ہے لہذا ان امور میں نظم و انسجام بہت ضروری ہے_
اور اسلام تمام لوگوں کے عقائد و نظریات کو اسلامی قالب میں ڈھالنا چاہتا ہے تا کہ وہ سب ایک ہی جسم کی مانند ہوجائیں اور ہر قسم کی مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے کام آئیں_ نیز ان کی کوششیں ، اہداف ، اغراض و مقاصد ، موقف اور حرکات و سکنات سب یک سو ہوجائیں_ اور یہ چیز ایک دوسرے کے ساتھ رہن سہن کو ممکن بنانے کے لئے ان لوگوں کی نفسیاتی ، اخلاقی اور فکری تربیت کی ضرورت کو مزید واضح کردیتی
ہے_ تا کہ وہ لوگ ایک پروردگار ، ایک ہدف اور ایک مقصد رکھنے والی امت کے بنیادی عنصر یعنی معاشرے کو خود کفیل اور ہم نوا بنانے کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کرسکیں_ اور یہ معاشرہ مدینہ کے یہودیوں ، عربوں اور مشرکوں بلکہ پوری دنیا سے در پیش خطرات کے مقابلے میں رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اور رسالت کی حمایت ،حفاظت اور دفاع کر سکے_ اس لئے اس معاشرے کے فکری اور مادی وسائل اور طاقتوں کو ایک ہی ہدف یعنی رسالت کی خدمت کے لئے ڈھالنا ضروری تھا_
اور مسجد ہی وہ جگہ ہے جہاں یہ سب اہداف حاصل ہوسکتے ہیں کیونکہ مسجد صرف عبادت ہی کی جگہ نہیں ہے ، بلکہ وہ فکری اور ذہنی تربیت اور تہذیب کا ایک بہترین اور اعلی مقام ہے_ بلکہ ہمارا مدّعا تو یہ ہے کہ وہ آج بھی ثقافتی ، فکری اور نظریاتی اتحاد اور انسجام کا بہترین ذریعہ ہے_ کیونکہ جب فرض یہ ہے کہ یہ تعلیمات ایک ہی سرچشمہ سے بیان ہوئی ہیں اور زندگی کے تمام مراحل میں ان کا صرف ایک ہی مقصد ہے ساتھ ہی ذہنوں میں اللہ تعالی کا تقدس اور اس سے رابطہ کا تصور ہو، تو اس سے مسلم معاشرہ اس فکری تصادم سے بچ سکتا ہے جو ہر کسی کی اپنی ثقافت کی وجہ سے پیش آنے والی ثقافتی عدم ہم آہنگی سے پیدا ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے پھر مفاہیم، افکار اور ذہنی اور دیگر سطح کی جنگ چھڑ جاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ خلا اور دوریاں بڑھتی رہتی ہیں پھر تو واضح طور پر ان اہداف اور ان علامات و غیرہ میں عدم ہم آہنگی نظر آتی ہے جن کا ہدف تک پہنچنے میں بہت بڑا کردار ہوتا ہے_
پس مسجد انسانوں کی ذہنی ، فکری اور نظریاتی تربیت اور معاشرے کے ثقافتی ، نظریاتی اور فکری اتحاد و انسجام کا بہترین مقام ہے_
لیکن اس زمانے میں معروف ا سکول فقط بے جان مفاہیم اور انسانی حقیقت سے دور افکار عنایت کر تے ہیں جنکا انسان کی بنیادی ضرورتوں اور روحانی و فکری تربیت سے دور کا بھی واسطہ نہیں، علاوہ برایں ان افکار میں اللہ سبحانہ تعالی اور اسکی ذات کے سامنے خشوع و خضوع کا شعور تو بالکل بھی شامل نہیں ہے_
اسی طرح ان اسکولوں میں عقیدہ و فکر کی تو کوئی گنجائشے ہی نہیں ، صرف تکبر و ہوائے نفس ہی رہ جاتاہے
جسے ہماری خدمت میں پیش کیا جاتاہے، ہمیں دنیا کے ان تاجروں کے ہاتھوں میں پہنچا دیتے ہیں جو قوموں کو جدید میڈیا کی قوت سے نابود کررہے ہیں جبکہ آمادگی یا انسانی تربیت کے لئے جن و سائل کا استعمال کر رہے ہیں ان کے ذریعے انسان کو بھوک اور افلاس کی طرف دھکیلا جارہاہے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ انسان اپنی ذاتی معاش ہی کی فکر میں رہتاہے اور اس میں دوسروں کی ضرورتوں کا احساس ختم ہوکے رہ جاتاہے، ان کے اندر باہمی رابطہ اور محبت و مودت نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے اور تنگ نظری پیدا ہوجاتی ہے_
پس اس صورت حال میں ان تمام گروہوں کی فکری ، اخلاقی اور روحانی تربیت کا اہتمام بہت ضروری تھا تا کہ وہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں اور ان میں احساس ذمہ داری پیدا ہو اور ایک دوسرے کی نسبت اسی احساس ذمہ داری کے ساتھ ایک ایسے معاشرے کو تشکیل دیں جو ایک جسم واحد کی مانند ہو کہ جب اس کے اعضاء میں سے کوئی عضو درد و الم میں مبتلا ہو تو جسم کے باقی اعضاء بیدار رہ کر اس مصیبت میں اس کے ساتھ شریک ہوں_
اور اس طرح یہ معاشرہ رسالت کے دفاع اور اس کی حمایت جیسی عظیم ذمہ داری سے عہدہ برآہونے کے قابل ہوجائے تا کہ جب مدینہ کے یہودی، دوسرے عرب مشرکین بلکہ پوری دنیا ان کی مخالفت پر اتر آئے تو وہ اس کا مقابلہ کرسکیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے کہ جس کی تمام فکری، مادی اور دیگر قوتیں ایک مشترکہ ہدف یعنی رسالت و نبوت کی راہ میں صرف ہوں_
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر
خلاصہ یہ کہ سوشل معاشرتی اور اجتماعی کام بھی عبادت ہیں ، جہاد بھی عبادت ہے ، سیاسی کام بھی عبادت ہے یہانتک کہ مندوبین کا استقبال بھی عبادت ہے ، مسلمانوں کے امور کی تدبیر بھی عبادت ہے ( البتہ اس صورت میں یہ تمام امور عبادت میں شمار ہوں گے جب یہ اسلام کے اعلی مقاصد کی ترجمانی، تبلیغ اور اجراء کے لئے کئے جائیں) اسی طرح مؤمنوں کا باہمی رابطہ، آپس کی میل ملاقات اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کی محفل میں
ان کی حاضری اور احکام دین سیکھنا یہ سب بھی عبادت ہی ہیں_
اور مسجد ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں ان افکار و اہداف کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے ، اس لئے کہ مسجد صرف عبادت کی جگہ نہیں بلکہ فکری تہذیب و تربیت کا بہترین مقام اور وسیلہ ہے ، اگر ہم یہ کہیں کہ مسجد ایک مشترکہ تمدن اور وحدت آراء کی تشکیل کا ایسا بہترین مقام ہے جہاں انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کے لئے ایک ایسا ہدف میسر آتاہے جس میں اللہ تعالی کی قدوسیت اور ارتباط کا شعور شامل ہوتاہے تو بے جانہ ہوگا_ اس کے علاوہ مسجد معاشرے کو ایسے فکری جھگڑوں سے دور رکھتی ہے جو تہذیب و ثقافت کے اختلاف سے جنم لیتے ہیں _ خلاصہ کلام یہ کہ عقائد ، اخلاق اور روحانی تربیت اور بلند مرتبہ تہذیب و ثقافت کے لیے مسجد ایک بہترین وسیلہ ہے، اس کے علاوہ مسلمانوں کے درمیان محبت و مودت اور دوستی کو عام کرنے کا ذریعہ بھی ہے ، کیونکہ جب ہر روز چند مرتبہ مسلمان ایک دوسرے سے ملیں، ایک ہی صف میں خدا کے حضور کھڑے ہوں، عملاً عدل و مساوات شعور پر حاکم ہو، جاہ و مال کی تفریق اور فاصلے آڑے نہ آئیں، انسان کی ذات سے غرور و تکبر اور انانیت کے بت پاش پاش ہوچکے ہوں تو ایسی فضاؤں میں حتمی طورپر محبت و الفت اور برادری کے عہد و پیمان مضبوط ہوجاتے ہیں ایسے میں ہرشخص اپنے آپ کو ایسے معاشرے میں پاتاہے کہ جو محبت و غمخواری رکھتاہے، وہ سمجھتاہے کہ اس کے دوسرے مسلمان بھائی اس کو اہمیت دیتے ہیں، اس پر اعتماد کرتے ہیں اور اس کی مشکلات و مصائب میں برابر کے شریک ہیں،یہ بات اسے اپنے دین ،ذات ، معاشرے ، اور امت پر اور زیادہ اعتماد کرنے کا شعور بخشتی ہے اس طرح ایک سچا، معتمد مؤمن وجود میں آتاہے اور ایسے مومنین سے مل کر اسلامی معاشرہ اور بہترین امت وجود میں آتی ہے جن کے بارے میں قرآن فرماتاہے ''کنتم خیر امة اخرجت للناس''تم بہترین امت ہو جسے انسانوں کےلئے بھیجا گیاہے_
مسجد معاشرے کے افراد کے درمیان روابط کو عمومیت اور تقویت دیتی ہے اور ایسے رسمی میل جول اور تکلفات کی مشکلات کو کم کرتی ہے جو اختلافات اور طبقہ بندی کی غماز ہوتی ہیں، اسلام کا مسجد کو اس حد تک اہمیت دینا کہ پیامبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے قبا اور مدینہ میں سب سے پہلے مسجد کی تعمیر کی ،اس بات کی واضح دلیل ہے کہ
اسلام چاہتاہے کہ دنیا اور اس کے اسباب کو دینی شعور اور تصور کے زیر سایہ استفادہ کیا جائے اور دنیا کو آخرت کی کھیتی سمجھا جائے_
اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسجد اس لئے بنائی کہ یہ قیادت و امارت کا مرکز بھی ہو مسجد میں پیامبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم مختلف وفود سے ملاقاتیں کرتے تھے، صلح و جنگ کے احکامات مسجد سے صادر ہوتے تھے، جھگڑوں کے فیصلے مسجد میں ہوتے، انسانی معاملات و روابط پر غور و خوض کیا جاتا، ان تمامتر امور پر بحث ہوتی جنکا اسلامی حکومت اور اسکے مختلف شعبوں سے کوئی تعلق ہے _یہ مسجد ہی ہے جہاں خدا سے بھی رابطہ ہوتاہے اور خدا کے بندوں سے بھی رابطہ رہتاہے ، مسجد میں ہی کمزور کو اپنی قوت اور غمزدہ کو صبر و تسلی ملتی ہے اور جو قبیلہ و خاندان نہ رکھتا ہو وہ اس چیز کو بھول کر مسجد میں اپنا خاندان اور قبیلہ پالیتاہے، محبت و غمخواری سے محروم شخص مسجد میں اپنی مراد پاتاہے_
اسی طرح مسجد عبادت او رتعلیم فقہ کی بھی جگہ ہے جہاں سے دین و دنیا کے امور میں رہنمائی ملتی ہے_مسجد اخلاقی و روحانی تربیت گاہ اور اجتماعی و فردی مشکلات کو حل کرنے کی جگہ بھی ہے_
مسجد کو بنانے میں نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شرکت:
یقیناً خودمسلمان مسجد بنانے اور اس کے تعمیراتی کام کرنے کی قدرت رکھتے تھے اور اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کا بنفس نفیس اس کام میں شرکت فرمانا ضروری نہیں تھا_ لیکن آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان تعمیراتی کاموں میں شرکت فرمائی ، اس چیز نے مسلمانوں کے دلوں میں ولولہ اور جوش پیداکیا اور وہ پوری کوشش اور توانائی کے ساتھ کام میں مصروف رہے اور کہتے تھے_
لئن قعدنا والنبی یعمل
لذاک منا العمل المضلل
رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کا مسجد کے تعمیری کام میں شرکت کرنا جہاں مسجد کی تعمیر کی اہمیت کو اجاگر کرتا وہاں ایک اسلامی قائد اور حکمران کی شخصیت کو بھی اجاگر کرتاہے اور یہ عمل رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم بتاتاہے کہ کام کی اہمیت کے پیش نظر
اس (قائد و حکمران کی )ذمہ داری ، حکم صادر کرنے کی حدود سے آگے خود عملی تک ہے ، خصوصاً جب کام ایسا ہو جس میں مسلمانوں کی مصلحت ، ہدف اصلی اور اسلام کی سربلندی پوشیدہ ہو_
مسجد کی تعمیر میں خواتین کا کردار:
بعض روایتوں میں آیاہے کہ عورتوں نے بھی مسجد کی تعمیر میں بھر پور حصہ لیا_ عورتیں مسجد کی تعمیر کے لئے رات کے وقت پتھروں کو اٹھاکر لاتیں اورمرد دن کے وقت یہ کام کرتے(۱) اس بارے میں ہم صرف دو نکات بیان کرتے ہیں:
ایک: جب ہم یہ تصور کرلیں کہ اس دور میں عورتوں کا زندگی کے کسی بھی شعبے میں کوئی مقام بھی نہیں تھا اور عرب اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اس کے ساتھ نہایت ہی ظالمانہ اور گھٹیا سلوک روا رکھتے تھے جن کا نمونہ اس کتاب کی دوسری جلد میں ذکر ہوچکا ہے _ تو اس سمے ایسے کاموں میں عورتوں کا حصہ لینا سیاسی معاشرتی اور عبادتی لحاظ سے بہت ضروری اور نہایت ہی اہم کام شمار کیا جاتا تھا_
دو: عورتوں کے معاملہ میں خاص فضا کے حاکم ہونے کے پیش نظر عورتوں کی اس شرکت میں بھی حفاظتی تدابیر اختیار کی گئیں تا کہ وہ دن کے وقت مردوں کی موجودگی میں کام کرنے کی وجہ سے ان کے ساتھ گھلنے ملنے اور محفوظ نہ رہنے کی صورت میں معاشرے پر منفی اثرات مرتب کرنے والی فضا سے بھی دور اور محفوظ رہیں_
صرف عورتوں کیلئے نماز جماعت:
کہتے ہیں کہ عورتوں کے لیے علیحدہ نماز جماعت قائم کی جاتی تھی مرد مسجد کے اندر نماز پڑھتے تھے اور خواتین سلیمان بن ابی حثمة کی امامت میں مسجد کے صحن میں نماز ادا کرتی تھیں ، جب حضرت عثمان خلیفہ بنے
____________________
۱)ملاحظہ ہو کشف الاستار عن زوائد البزار ج۱ ص ۲۰۶ و ص ۲۲۲ و ۲۴۹ و مجمع الزوائد_
تو انہوں نے مردوں اور عورتوں کو اکٹھے نماز پڑھنے کا حکم دیا(۱) _
ظاہراً جماعت میں عورتوں اور مردوں کی جدا ئی نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے بعد عمل میں آئی اور در اصل یہ جدائی جناب عمر بن خطاب کے دور میں اس کی ایجاد کردہ بدعت نماز تراویح کی جماعت میں ہوئی(۲) پھر عثمان نے آکر مردوں اور عورتوںکو ایک ہی جماعت میں کھڑا کیا _
اور جب حضرت علی عليهالسلام خلیفہ بنے تو حسب سابق مردوں اور عورتوں کی نماز جماعت جدا ہونے لگی اور خواتین '' عرفجہ'' نامی شخص کی امامت میں نماز پڑھنے لگیں(۳) _-
لیکن ان روایات میں ایک اشکال ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ روایات کہتی ہیںکہ حضرت علی عليهالسلام نے ماہ رمضان کی نماز میں ایسا کیا تھا یعنی نماز تراویح میں_
اور واضح ہے کہ علی عليهالسلام اس کو بدعت سمجھتے تھے اور اس سے منع فرماتے تھے(۴) پس کسی طرح خود اس کو انجام دیتے تھے، پس صحیح یہ ہے کہ یہ چیز یومیہ نمازوں میں واقع ہوئی ہے نہ نماز تراویح میں _
یہ وہ بعض امور تھے کہ جن کو ہم نے مسجد کی تعمیر کے حوالے سے بیان کیا ہے اور اس سلسلہ میں مزید گفتگو کسی اور موقع پر کریں گے _
انشاء اللہ تعالی
____________________
۱) حیاة الصحابہ ج/۲ ص ۱۷۱ از طبقات ابن سعد ج/۵ ص ۲۶_
۲) ملاحظہ ہو: التراتیب الاداریہ ج۱ ص ۷۳ از طبقات_
۳) حیاة الصحابہ ج/۳ ص ۱۷۱ ، از کنز العمال ج/۴ ص ۲۸۲_
۴) دلائل الصدق ج/۳ جزء ۲ ص ۷۹ لیکن لوگوں نے آپ عليهالسلام کی نہی کی کوئی پروا نہیں کی_
۳ _ مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ:
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مدینہ میں ورودکے کم و بیش پانچ یا آٹھ ماہ(۱) کے بعد آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے اصحاب یعنی مہاجرین اور انصارکے درمیان رشتہ اخوت برقرار کیا _ابن سعد نے یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ آپ نے اسی وقت خود مہاجرین کے درمیان بھی مؤاخات برقرار کی(۲) _
آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حقوق اور مساوات پر ان کے درمیان مؤاخات برقرار فرمائی _(ایک قول کے مطابق وراثت پر مؤاخات قائم کی)لیکن مؤاخات رکھنے والوں میں سے کسی کے مرنے سے پہلے ہی سورة انفال نازل ہوئی جس نے وراثت کو رشتہ داروں کے لئے مخصوص کردیا(۳) کیونکہ کہتے ہیں کہ مہاجرین میں سے سب سے پہلے وفات پانے والے شخص عثمان بن مظعون ہیں اور وہ جنگ بدر کے بعد فوت ہوئے(۴) _ البتہ ہمیں وراثت کے لئے مواخات قائم کرنے میں شک ہے کیونکہ :
۱_ اگر اس حکم کو نسخ ہونا ہی تھا تو عمل کا وقت آنے سے پہلے نسخ معنی نہیں رکھتا کیونکہ اس سے لازم آتاہے کہ مؤاخات کرنے والے اشخاص کے درمیان وراثت کا قانون عبث و بے فائدہ ہو مگر یہ کہا جائے کہ اس مشکل دور میں اتنے عرصہ کے لئے بذات خود اس حکم کا جاری ہونا، مسلمانوں کا بھائی چارے کی فضا میں رہنا اور اتنی گہری رشتہ داری نہایت ضروری تھی_ لیکن ہم اطمینان سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ( یہ حکم نازل نہیں ہوا تھا بلکہ ) خود مسلمانوں یا کچھ مسلمانوں نے یہ گمان کرلیا کہ یہ بھائی چارہ ایک دوسرے سے وراثت لینے کی حد تک بھی پہنچ سکتاہے_
۲_ خود نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مہاجرین اور انصار میں سے جنگ بدر میں شہید ہونے والوں کو ایک دوسرے کا وارث کیوں نہیں ہونے دیا جبکہ یہ واقعہ آیت ( اولوا الارحام بعضهم اولی ببعض ) کے نزول سے پہلے رونما ہوا_
____________________
۱) البحار ج/۱۹ ص ۱۲۲ ، اور ص ۱۳۰ کے حواشی از مناقب ابن شہر آشوب ج۱ ص ۱۵۲، المواھب اللدنیة ج/۲ ص ۷۱ ، تاریخ الخمیس ج/۱ ص ۳۵ از اسد الغابہ، وفاء الوفاء ج/۱ ص ۲۶۷ ، فتح الباری ج/۷ ص ۲۱۰ ، السیرة الحلبیة ج/۲ ص ۹۲ _
۲) طبقات ابن سعد مطبوعہ لیڈن ج/۱ جز ء ۲ ص ۱_ (۳)بحارالانوار ج۱۹ حاشیہ ص ۱۳۰ نیز سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۹۲ و ص ۹۳_
۴)الاصابہ ج۲ ص ۴۶۴ ، الکامل ابن اثیر مطبوعہ صادر ج۲ ص ۱۴۱_
جبکہ ان کا یہ کہنا کہ''واقعہ بدر کے بعد وفات پانے والے عثمان بن مظعون سے پہلے کوئی مؤمن فوت نہیں ہوا'' بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ خود جنگ بدر میں کئی مسلمانوں نے شہادت پائی _ ہاں یہ ہوسکتاہے کہ عثمان بن مظعون طبیعی طور پر وفات پانے والے پہلے شخص ہوں یا مہاجرین میں سے وفات پانے والے پہلے مسلمان ہوں_
۳ _ یہ بات بھی یقینی نہیں ہے کہ عثمان بن مظعون کی وفات سابقہ حکم کو نسخ کرنے والی آیت کے نزول کے بعد ہوئی ہو_ کیونکہ یہ بات صرف مؤرخین اور مؤلفین کا اپنا اجتہاد اور ان کی ذاتی رائے ہے_
مؤاخات کرنے والوں کی تعداد:
کہتے ہیں کہ مؤاخات کے وقت مسلمانوں کی تعداد نوّے افراد تھی _پینتالیس آدمی انصار میں سے اور اتنے ہی مہاجرین میں سے تھے_ ابن الجوزی کا دعوی ہے کہ اس نے انہیں شمار کیا ہے وہ کل چھیاسی آدمی تھے_ ایک قول کے مطابق سو آدمی تھے(۱) _ البتہ ہوسکتاہے کہ یہ مواخات کل مسلمانوں کی تعداد کے برابر نہیں بلکہ اس واقعہ میں موجود مہاجرین کی تعداد کے برابر افراد کے درمیان ہوئی ہو کیونکہ یہ ایک نادر اتفاق ہی ہوسکتاہے کہ مسلمان مہاجرین کی تعداد بغیر کسی کمی بیشی کے اتنی ہی ہوجتنی انصار مسلمانوں کی تھی _ بہر حال پھر نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ کام جاری رکھا یعنی جو بھی اسلام قبول کرتا یا کوئی مسلمان مدینہ میں آتا تو حضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کسی کے ساتھ اس کی مؤاخات قائم فرماتے(۲) _اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مورخین نے ذکر کیا ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابوذر اور منذر بن عمرو کے درمیان مؤاخات قائم فرمایا حالانکہ ابوذر جنگ احد کے بعد مدینہ میں آئے اور اسی طرح آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے زبیر اور ابن مسعود کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا جبکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم جنگ بدر کی تیاریوں میں مصروف تھے(۳) _لیکن اس پر یہ اعتراض کیا جاسکتاہے کہ مسلمانوں کی تعداد اس سے بہت زیادہ تھی
____________________
۱) طبقات ابن سعدج/۱جزئ۲ص۱، المواھب اللدنیة ج/۱ ص ۷۱، فتح الباری ج/۷ ص۲۱۰،سیرة الحلبیة ج/ ۲ص ۹۰، البحارج /۱۹، ص۱۳۰ ،از المنتقی و المقریزی_
۲) فتح الباری ج/۷ ص ۲۱۱_
۳) فتح الباری ج/۷ ص ۱۴۵_
کیونکہ عقبہ ثانیہ میں اہل مدینہ میں سے اسی(۸۰) سے زیادہ افراد نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیعت کی تھی _اسی طرح مدینہ میں تشریف فرمائی کے صرف دس یا تیرہ مہینے بعد آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جو سپاہ جنگ بدرکے لیے تشکیل دی اس کی تعداد تین سو تیرہ افراد پر مشتمل تھی _
اس کا جواب یہ دیا جاسکتاہے کہ :
اولاً: بعض مورخین نے ذکر کیا ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مہاجرین کے ڈیڑھ سو افراد کی انصار کے ڈیڑھ سو افراد کے ساتھ مؤاخات برقرار کی تھی(۱) _
ثانیاً :اگر ہم قائل بھی ہوں کہ یہ قول درست نہیں کیونکہ جنگ بدر کے لئے جانے والے مہاجرین کی تعداد ساٹھ یا اسّی کے درمیان تھی ( بناء پر اختلاف اقوال) ، تو ہم یہ جواب دیں گے کہ روایت میں مؤاخات کرنے والوں کی تعداد ان مہاجرین کی ہے جنہوں نے اپنے انصار بھائیوں کے ساتھ بھائی چارہ کیا تھا_ کیونکہ انصار مہاجرین سے بہت زیادہ تھے جبکہ مہاجرین کی تعداد پینتالیس تھی پس مؤاخات ان کے اور اسی تعداد میں انصار کے درمیان تھی پھر جوں جوں مہاجرین کی تعدادبڑھتی گئی مؤاخات کا یہ عمل بھی جاری رہا یہاں تک کہ ان کی تعداد ایک سو پچاس تک پہنچ گئی جیسا کہ گذشتہ روایت میں وارد ہوا ہے_ پس مذکورہ تعداد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ باقی انصار بھائی چارہ کئے بغیر رہ گئے تھے_
ہر ایک کا اس جیسے کے ساتھ بھائی چارہ
نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم ہر شخص اور اس جیسے کے درمیان مؤاخات برقرار فرماتے جیسا کہ ہجرت سے پہلے اور بعد والی مؤاخات سے ظاہر ہے کیونکہ بظاہر آ پ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہجرت سے پہلے حضرت ابوبکر اورحضرت عمر،طلحہ اور زبیر ، عثمان اور عبدالرحمان بن عوف اور اپنے صلىاللهعليهوآلهوسلم اور علی عليهالسلام کے درمیان مؤاخات برقرار فرمائی(۲) لیکن ابن حبان
____________________
۱) البحار ج/۱۹ ص ۱۳۰_
۲)مستدرک الحاکم ج/۳ص۱۴، وفاء الوفاء ج/۱ ص ۲۶۷ و ص۲۶۸، السیرةالحلبیةج/۲ص۲۰، السیرة النبویہ دحلان ج/۱ ص ۱۵۵ ، فتح الباری ج/۷ ص ۲۱۱ نیز الاستیعاب_
کہتاہے کہ یہ مدینہ میں دوسری مؤاخات تھی اور اس نے سعد بن ابی وقاص اور عمار بن یاسر کا اضافہ کیا ہے(۱) اور یہ سب کے سب مہاجرین میں سے تھے_
اور مدینہ میں ابوبکر اور خارجہ بن زھیر نیز عمر اور عتبان بن مالک کے درمیان رشتہ اخوّت برقرار فرمایا _ پھر علی عليهالسلام کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: یہ'' میرا بھائی ہے ''_ اسی طرح حمزہ اور زید بن حارثہ کے درمیان نیز جعفر بن ابی طالب اور معاذ بن جبل کے درمیان بھی مؤاخات برقرار فرمائی اور اسی آخری مؤاخات پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ جعفر تو اس وقت حبشہ میں تھے(۲) اور اس کا جواب وہی ہے جو پہلے گزر چکاہے کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسلمانوں کے درمیان مؤاخات قائم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا یعنی جب بھی کوئی مدینہ میں آتا تو اسے کسی کا بھائی بنادیتے بعض نے یہ جواب بھی دیا ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جعفر عليهالسلام کی آمد پر معاذ کوجعفر کے ساتھ مؤاخات کے لئے تیار کررکھا تھا(۳) _
البتہیہاں پر ایک سوال سامنے آتاہے کہ جعفر کو اس امر کے ساتھ خاص کرنے کی کیا وجہ تھی ؟ یہاںیہ کہا جاسکتاہے کہ شاید جعفر کی شان اور اہمیت کا اظہار اور اس کی بیان فضیلت مقصود تھی_
علی عليهالسلام کے ساتھ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مؤاخات :
احمد بن حنبل و غیرہ نے روایت کی ہے کہ: آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے لوگوں کے درمیان مؤاخات برقرار فرمائی اور علی عليهالسلام کو آخر تک چھوڑے رکھا یہاں تک کہ ان کے لئے کوئی بھائی نہ بچا تو علی عليهالسلام نے عرض کیا :''یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان تورشتہ اخوت قائم کردیا لیکن مجھے چھوڑ دیا ''؟ تو نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : ''میں نے تجھے صرف اپنے لئے رکھاہے _تو میرا بھائی ہے اور میں تیرا بھائی ہوں_پس اگر کوئی تجھ سے پوچھے تو کہنا ''انا عبداللہ و اخو رسول اللہ '' میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کا بھائی ہوں _ تیرے بعد
____________________
۱) الثقات ج/۱ص ۱۳۸ ، ۱۴۲_ (۲) سیرة ابن ھشام ج/۲ ص ۱۵۱ نیز السیرة الحلبیة و غیرہ_
۳) البدایة النہایةج/۳ ص ۲۲۷ ، السیرة الحلبیة ج/۲ ص ۹۱_
صرف بہت بڑا جھوٹا شخص ہی اس چیز کا دعوی کرے گا مجھے حق کے ساتھ مبعوث کرنے والی ذات کی قسم میں نے تجھے مؤخر نہیں کیا مگر اپنے لئے اور میرے ساتھ تیری وہی نسبت ہے جو ہارون عليهالسلام کی موسی عليهالسلام سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور تو میرا بھائی اورمیرا وارث ہے''(۱) _
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی جملہ''انا عبدالله و اخو رسوله'' (میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کا بھائی ہوں) حضرت علی عليهالسلام نے نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے بعد اس وقت فرمایا جب حادثات زمانہ کے سبب پیامبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کے حقیقی جانشین سے خلافت غصب کرلی گئی_ لیکن صحابہ نے آپ کو جھٹلایا اور جواب میں کہنے لگے : ''خدا کے بندے ہونے والی بات تو ہم تسلیم کرتے ہیں لیکن رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کا بھائی ہونے والی بات نہیں ''(۲)
نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرمان '' تو میرا بھائی اور میرا وارث ہے '' سے یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اگر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مراد یہ تھی ''کہ علی عليهالسلام نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے علم کے وارث ہیں نہ کوئی اور'' تو پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مقام و منصب کا علی عليهالسلام کے علاوہ اور کون حقدار ہوسکتاہے؟ اور اگر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مراد یہ تھی کہ (علی عليهالسلام ہر لحاظ سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے وارث ہیں حتی کہ مال و جائیداد کے بھی) تو یقیناً مال و جائیداد حضرت فاطمہ علیہا السلام کا ہی حق تھا(۳) جبکہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد خلافت کے غاصب ، حضرت فاطمہ عليهالسلام کے اموال پربھی مسلّط ہوگئے اورفدک و غیرہ بھی انہی اموال میں سے تھا جس کا ذکر انشاء اللہ اسی کتاب میں غزوہ بنی نضیر پر گفتگو کے دوران ہوگا_ بہر حال بات جو بھی ہو، بھائی چارے والے واقعہ میں غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اس کا م میں لوگوں کی سنخیت ، مشابہت اور دلی رجحان کو بھی مدنظر رکھا گیا تھا اور اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مرحوم ازری نے حضرت علی عليهالسلام کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا :
____________________
۱) نہج الحق (دلائل الصدق کے متن کے ضمن میں) ج/۲ ص ۲۶۷ ، ینابیع المودة ص ۵۶ تذکرة الخواص ص ۲۳ ، احمد سے ( اس کی کتاب الفضائل سے ) اور اس نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور ابن جوزی نے بھی نیزکنز العمال ج/۶ ص ۳۹۰ ، الریاض النضرة ج/ ۲ ص ۲۰۹ ، تاریخ ابن عساکر ج/۶ ص ۲۱ ، کفایة الشنقیطی ص ۳۵ ، ۴۴، الثقات ج ۱ ص ۱۴۱ تا ص ۱۴۲ _ (۲)الامامة والسیاسة ج۱ ص ۱۳ ، اعلام النساء ج۴ ص ۱۱۵ نیز تفسیر البرہان ج۲ ص ۹۳_
۳)ملاحظہ ہو: الکافی ج۱ ص ۴۵۸ با تحقیق غفاری ، بحار طبع تختی ج۸ ص ۲۳۱ نیز طبع جدید ج ۱۰۰ ص ۱۹۷ ، کشف الغمہ ج۲ ص ۱۳۲ امالی شیخ طوسی ج۱ ص ۱۰۸ ، العوالم ج۱۱ ص ۵۱۸ ، امالی شیخ مفید ص ۲۸۳ مطبوعہ جامعہ مدرسین نیز ملاحظہ ہو: مرآة العقول ج۵ ص ۳۳۱و غیرہ_
لک ذات کذاته حیث لو لا
انها مثلها لما آخاها
(یا علی عليهالسلام ؟) آپ عليهالسلام کی ذات اور شخصیت بھی آنحضور صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شخصیت کی مانند تھی _ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کبھی بھی آپ عليهالسلام کو اپنا بھائی نہ بناتے_
حدیث مؤاخات کا تواتر:
بہر حال حدیث مؤاخات متواتر ہے اور اس کا انکار ممکن نہیںبلکہ اس میں شک و شبہہ کی بھی کوئی گنجائشے نہیں ہے _ خصوصا ً نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم اور علی عليهالسلام کے درمیان مؤاخات چاہے مکہ میں ہونے والی پہلی مؤاخات ہو یا مدینہ میں ہونے والی دوسری مؤاخات اور یہ حدیث دسیوں صحابہ اور تابعین سے مروی ہے جیسا کہ حاشیہ میں درج منابع(۱) سے معلوم ہوتاہے_
اور مروی ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی عليهالسلام سے فرمایا: '' جب قیامت کا دن ہوگا تو عرش کے درمیان سے مجھے یہ کہا جائے گا کہ بہترین باپ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے بابا ابراہیم عليهالسلام اور بہترین بھائی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی علی عليهالسلام بن ابی طالب ہیں ''(۲)
____________________
۱) تاریخ الخمیس ج/۱ص۳۵۳،وفاء الوفاء ج/۱ص ۲۶۷،و ص۲۶۸، ینابیع المودة ص ۵۶ ، ۵۷ (مسند احمد سے ) تذکرة الخواص ص ۲۲ ، ۲۴ میں ترمذی سے نقل ہواہے کہ اس نے اس حدیث کو صحیح قراردیا ہے، السیرہ الحلبیةج/۲ص ۲۰وص ۹۰ ، مستدرک الحاکم ج/۳ ص ۱۴ ، الثقات لابن حبان ج/۱ ص ۱۳۸ ، فرائد السمطین ج / ۱، باب ۲۰ ، الفصول المہمة ابن الصباغ ص۲۲، ۲۹، البدایة والنھایة ج/۳ ص ۲۲۶، اور ج/۷ ص ۳۵ ، تاریخ الخلفاء ص ۱۷۰، دلائل الصدق ج/۲ص ۲۶۸ ، ۲۷۰ ، صاحب دلائل الصدق نے یہ حدیث کنز العمال، سنن بیہقی اور ضیاء کی کتاب المختارة سے، عبداللہ بن احمد بن حنبل کے زیادات المسند سے آٹھ احادیث اور اس کے و الد کی المسند اور الفضائل ،سے ابویعلی ، الطبرانی ، ابن عدی اور الجمع بین الصحاح الستة سے نقل کیا ہے ، خوارزمی نے بارہ احادیث اور ابن مفازلی نے آٹھ حدیثیں درج کی ہیں سیرة ابن ھشام ج/۲ ص ۱۵۰ ، الغدیر ج/۳ ص ۱۱۲ تا ص ۱۲۵ میں بعض مذکورہ کتب اور مندرجہ ذیل کتب سے نقل ہے : جامع الترمذی ج/۲ ص ۱۳، مصابیح البغوی ج/۲ ص ۱۹۹ ، الاستیعاب ج/۲ ص ۴۶۰ ، زندگانی امیر المؤمنین ، اس نے حدیث مؤاخات کو مسلم احادیث میں سے شمارکیاہے تیسیر الوصول ج/۳ ص ۲۷۱،مشکاةالمصابیح (حاشیہ مرقاة) ج/۵ ص ۵۶۹ ، المرقاة ص ۷۳ تا ص ۷۵ ، الاصابة ج/۲ ص ۵۰۷ ، المواقف ج/۳ ص ۲۷۶ ، شرح المواہب ج/۱ ص ۳۷۳ ، طبقات الشعرانی ج/۲ ص ۵۵ ، تاریخ القرمانی( حاشیہ الکامل ) ج/۱ ص ۲۱۶ ، سیرة دحلان (حاشیہ حلبیہ پر) ج/۱ ص ۳۲۵ ،کفایة الشنقیطی ص ۳۴، الامام علی( تالیف محمدرضا) ص۲۱ ، الامام علی( تالیف عبدالفتاح عبدالمقصود) ص ۷۳، الفتاوی الحدیثیتہ ص۴۲ ، شرح النہج ج / ۲ ، ۶۲ ، اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور اسے روایات مستفیضہ میں سے شمار کیا ہے ، کنز العمال ج/۶ ص ۲۹۴ ص ۲۹۹ ، ۳۹۰،۳۹۹، ۴۰۰ ، ۵۴ _
۲)ربیع الابرار ج۱ ص ۸۰۷ و ص ۸۰۸_
اس بناء پریہ دعوی قابل سماعت ہی نہیں کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے علی عليهالسلام اور عثمان کے درمیان مؤاخات برقرار فرمائی(۱) یا نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم اور عثمان کے درمیان مؤاخات ہوئی ، کیونکہ یہ بات بلاشک و شبہہ درست نہیں ہے(۲) _ اس لئے کہ اس بات سے ان کامقصد عثمان کی شان کو بڑھانا اور علی عليهالسلام کی فضیلت کو جھٹلانا ہے بلکہ عثمان اور علی عليهالسلام کو ایک ہی مقام پر لاکھڑا کرناہے _یہ کیسے ہوسکتاہے ؟ اور کب ایسا ہوا ہے ؟
حضرت علی علیہ السلام کو ابوتراب کی کنیت ملنا :
یہاں پر کچھ حضرات نے ذکر کیا ہے کہ جب علی عليهالسلام نے دیکھا کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے اور کسی اور شخص کے درمیان مؤاخات برقرار نہیں فرمائی تو غمگین اور دل برداشتہ ہوکر مسجد کی طرف گئے اور مٹی پر سوگئے پھر نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم آپ عليهالسلام کے پاس آئے اور آپ عليهالسلام کی پشت سے مٹی جھاڑنا شروع کی اور فرمانے لگے ( قم یا اباتراب) یعنی اے ابوتراب کھڑے ہو جاؤ اور پھر ان عليهالسلام کے اور اپنے صلىاللهعليهوآلهوسلم درمیان مؤاخات برقرار فرمائی(۳) _
اور ہم انشاء اللہ عنقریب سرایا کی بحث میں اس پر گفتگو کریں گے_
علی عليهالسلام کے ساتھ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مؤاخات کے منکرین:
اتنے گذشتہ منابع کے باوجود ( جن کی تعداد توبہت زیادہ ہے لیکن ہم نے ان میں سے بہت کم کا ذکر کیا ہے) ابن حزم اور ابن کثیر حدیث مواخات کی سند کے صحیح ہونے کا انکار کرتے ہیں(۴) اور اسی طرح ابن تیمیہنے بھی اس کا انکار کیا ہے اور اس حدیث کو اس دلیل کے ساتھ باطل اور جعلی قرار دیاہے کہ مہاجرین
____________________
۱)تاریخ ابن خلدون ج/۲ص ۳۹۷ اور الغدیر ج/۹ ص۹۴ ، ۹۵ اور ۳۱۸ میں الریاض النضرة ج/۱ ص ۱۷، طبری ج/۶ ص ۱۵۴ ، کامل ابن اثیر ج/۳ ص ۷۰ اور معتزلی ج/ ۱ ص ۱۶۵ سے نقل کی ہے لیکن خود اس نے ج/۲ ص ۵۰۶ میں اس حدیث کونقل کیا ہے اور مؤاخات میں اس کا ذکر نہیں کیا _
۲) طبقات ابن سعد مطبوعہ لیڈن ج/۳ ص ۴۷ ، الغدیر ج/۹ ص ۱۶ طبقات سے_ (۳) الفصول المہمة لا بن الصباغ ص ۲۲، مجمع الزوائد ج/۹ ص ۱۱۱طبرانی کی الکبیر اور الاوسط سے، مناقب الخوارزمی ص ۷، کفایة الطالب ص ۱۹۳ ،از ابن عساکر _
۴) البدایة والنھایة ج/۷ ص ۲۲۳ ، ۳۳۶_
اور انصار کے درمیان مؤاخات برقرار کرنے کی غرض یہ تھی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کا سلوک کریں ان کے دلوں میں ایک دوسرے سے الفت و محبت پیدا ہو پس نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کا اپنوں میں سے کسی ایک کے ساتھ اور مہاجرین کے درمیان ایک دوسرے کے ساتھ مؤاخات قائم کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا(۱) _
ہم کہتے ہیں کہ :
علی عليهالسلام کے ساتھ نبی اکرم کی مؤاخات والی حدیث کی سند کا انکار بے معنی ہے جب کہ محققین اور بزرگان میں سے بہت سی شخصیات نے اسے صحیح قرار دیاہے اوردسیوں صحابہ ،تابعین اور علماء و غیرہ سے مسلمانوں کی کتابوں میں اور تواتر کے ساتھ یہ حدیث نقل کی گئی ہے خصوصاً جب یہ انکار ان تین اشخاص ( ابن حزم ، ابن کثیر اور ابن تیمیہ) سے ہو جو علی عليهالسلام اور اہل بیت طاہرین علیھم السلام کے فضائل کے سلسلہ میں متعصب اور ان سے دشمنی میں معروفہیں_ جس چیز کو ابن تیمیہ نے اپنے انکار کرنے کی علت کے طور پر ذکر کیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے :
۱_ بہت سے حضرات نے بھی یہ جواب دیا ہے کہ یہ قیاس کے ذریعہنص کی تردید اور اس مسئلہ میں حقیقی حکمت سے غفلت ہے _ کیونکہ کچھ مہاجرین دوسروں کی نسبت مال اور قبیلہ کے لحاظ سے مضبوط حیثیت کے مالک تھے _ اس وجہ سے ایکدوسرے کی مدد بھی ممکن تھی پس آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان مہاجرین کے درمیان مؤاخات قائم کی تا کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کریں _ پھر انہوں نے اسی احتمال کو علی عليهالسلام اور نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم پر بھی منطبق کیا ہے کیونکہ بعثت سے پہلے نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم علی عليهالسلام کی کفالت کیا کرتےتھے(۲) یعنی مہاجرین کے درمیان بھی باہمی محبت اور الفت مطلوب تھی کیونکہ یہ لوگ مختلف گروہوں سے تعلّق رکھتے تھے اور مختلف عقید وں ، ذہنیت اور معاشروں کے مالک تھے_
____________________
۱) ملاحظہ ہو: منھاج السنةج/۲ص۱۱۹،البدایةوالنھایة ج/۳ص۲۲۷،فتح الباری ج/۷ص۲۱۱،السیرةالنبویة لدحلان ج/۱ص۵ ۱۵ ، السیرة الحلبیةج/۲ص۲۰،دلائل الصدق ج/۲ ص ۲۷۲_
۲)وفا الوفاء ج/۱ ص ۲۶۸، فتح الباری ج/۷ ص ۲۱۱،والسیرة الحلبیة ج/۲ص ۲۰، السیرة النبویة لدحلان ج/۱ص ۱۵۵، الغدیر ج/۳ ص ۱۷۴تا ۱۷۵ ، عن الفتح عن الزرقانی فی شرح المواھب ج/۱ ص ۳۷۳_
بلکہ مواخات کی نصّ میں یہ تصریح وارد ہوئی ہے کہ یہ مؤاخات حق اور ایک دوسرے کی حمایت پر مبنی تھی اور مہاجرین کو ایک دوسرے کی حمایت کی ضرورت تھی کیونکہ خود ان کے بقول اگر کسی ایک قبیلہ سے ایک آدمی نے ہجرت کی تھی تو دوسرے قبیلہ سے دس آدمیوں نے ہجرت کی تھی پس اس ایک کو ان دس افراد کی جانی اور مالی امداد کی ضرورت ہوتی تھی_ اسی طرح بعض حضرات نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ کچھ مہاجرین اپنا مال اپنے ہمراہ لائے تھے پس اگر ان کا یہ دعوی صحیح ہو تو ان کے لئے ایک دوسرے کی مالی امداد ممکن تھی_
لیکن حضرت علی عليهالسلام اور نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی بہ نسبت ہمیں ان کے اس قول سے اتفاق نہیں ہے کیونکہ حضرت علی عليهالسلام تو اس حد تک پہنچ چکے تھے کہ کام کر کے اپنی کفالت خود کرسکیں اور زراعت یا تجارت بلکہ غنائم سے اپنی ضروریات کو پورا کرسکیں _نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کا آپ سے مواخات برقرار کر نے کا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ عليهالسلام کی شان اورمنزلت کی پہچان کروائی جائے اور ووسرے لوگوں پر آپ کی فضیلت کا اظہار کیا جائے کیونکہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک جیسے اشخاص کے درمیان رشتہ اخوّت برقرار فرمایاتھا_ جیسا کہ مؤرخین نے اس بات کی تصریح کی ہے اور خود مؤاخات کے عمل پر غور کرنے سے بھی یہ واضح ہوجاتا ہے ،کیونکہ یہی چیز باہمی تعاون میں زیادہ ممّد و معاون اور باہمی محبت و الفت کے لئے زیادہ ضروری ہے_(۱)
۲_ حاکم اور ابن عبدالبر نے سند حسن کے ساتھ یہ روایت ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے زبیر اور ابن مسعود کے درمیان رشتہ اخوت قائم کیا حالانکہ وہ دونوں مہاجرین میں سے تھے اور ضیاء نے اس روایت کو اپنی کتاب ( المختارة من المعجم الکبیرللطبرانی) میں درج کیا ہے اور خود ابن تیمیہ نے تصریح کی ہے کہ المختارة کی احادیث المستدرک سے زیادہ صحیح اور با وثوق ہیں_(۲)
لیکن ضروری ہے کہ یہ مواخات ابن مسعود کے مدینہ میں آنے کے بعد واقع ہوئی ہو کیونکہ ابن مسعود حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں میں سے تھے اور عمومی مواخات کے واقعہ کے بعد اس وقت مدینہ میں آئے جب نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم بدر کے لئے جنگی تیاریوں میں مصروف تھے_(۳)
____________________
۱) دلائل الصدق ج/۲ ص ۲۷۲ / ۲۷۳_
۲) فتح الباری و فاء الوفا ء ج / ۱ ، ص ۲۶۸ _ الغدیر ج/۳ ص ۱۷۴ ، ۱۷۵ ازالفتح و از شرح المواہب للزرقانی ج/۱ ص ۳۷۳ _
اسی طرح ہجرت کے بعد (بعض کے بقول ) آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت ابوبکر او ر حضرت عمر ، حضرت عثمان اور عبدالرحمان بن عوف ، طلحہ اور زبیر ، سعد بن ابی وقاص اور عمار بن یاسر اور اپنے اور حضرت علی عليهالسلام کے درمیان مؤاخات قائم کی _(۱)
اور اسی طرح زید بن حارثہ کی حضرت حمزہ کے ساتھ مؤاخات بھی ثابت ہے جب کہ وہ دونوں مہاجر تھے_ اس لئے تو کہا جاتاہے کہ حمزہ کی بیٹی کی کفالت کے سلسلہ میں زید ، علی عليهالسلام اور جعفر کے درمیان کشمکش ہوئی تو زید کی دلیل یہ تھی کہ وہ اس کے بھائی کی بیٹی ہے_(۲)
البتہ حمزہ کی بیٹی کی کفالت کے سلسلہ میں واقع ہونے والے اختلاف کے متعلق ہمیں شک ہے کیونکہ حضرت حمزہ کی شہادت کے وقت جناب جعفر موجود ہی نہیں تھے جبکہ اس صورت میں برسوں تک جناب حمزہ کی بیٹی کا کسی سرپرست کے بغیر رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے _ کیونکہ اگر اتنے عرصے میں وہ جناب علی عليهالسلام کے پاس رہی تو اتنے عرصے تک زید نے کیوں خاموشی اختیار کئے رکھی اور حضرت علی عليهالسلام سے تنازعہ کیوں نہیں کیا_ اور اسی طرح بر عکس ، اگر وہ حضرت علی عليهالسلام کے پاس نہیں بلکہ زید کے پاس تھی تو حضرت علی عليهالسلام نے اتنے عرصے تک اس سے بحث کیوں نہیں کیا؟ _ بہر حال جناب حمزہ کی بیٹی کی کفالت کے سلسلے میں مذکورہ تنازعہ مزید تحقیق کا محتاج ہے_ بارگاہ رب العزة میں دعا ہے کہ ہمیں کسی مناسب فرصت میں اس کی تحقیق کرنے کی توفیق عنایت فرمائے_
ان شاء اللہ تعالی
____________________
۱) الثقات لابن حبان ج/۱ص ۱۳۸ تا۱۴۲، اور ملاحظہ فرمائیں الغدیر ج/۱۰ص ۱۰۳تا ۱۰۷،مستدرک الحاکم ج/۳ ص ۱۴ وفاء الوفاء ج/۱ ص ۲۶۸ السیرة الحلبیة ج/۲ ص۲۰، السیرةالنبویةلدحلان ج /۱ص ۱۵۵،فتح الباری ج/۷ص۲۱۱،نیز الاستیعاب میں حضرت عثمان کا ذکر ہے جب کہ وہ حبشہ میں تھے اور اسی طرح عبدالرحمن بن عوف کا ذکر کرنا اس بات کی تائید ہے کہ یہ مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد دوسری مواخات تھی_
۲) صحیح البخاری ج/۳ص ۳۷ط المیمنیة ،مستدرک الحاکم ج/۲ص۱۲۰ تلخیص المستدرک لذھبی صفحہ مذکور کے حاشیہ پر و دیگر منابع _
کچھ مواخات کے متعلق :
الف : بہترین متبادل
واضح سی بات ہے کہ یہ نو مسلم اپنے قوم ، قبیلے اور برادری سے در حقیقت بالکل کٹ کر رہ گئے تھے_حتی کہ ان کے عزیز ترین افراد بھی دھمکیوں اور ایذاء رسانیوں کے ساتھ ان کے مقابلے پر اتر آئے تھے_ ان کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ اپنے رشتہ داروں نے ان سے قطع تعلق کر لیا تھا اور وہ بے کس اور لا وارثوں کی طرح ہوگئے تھے_ اور بعض افراد کو یہ احساس بھی تھا کہ اب وہ بالکل اکیلے اور بے یار و مدد گار ہوگئے ہیں_ یہاں پر اسلامی برادری اور اخوت ان کے اس خلاء کو پر کرنے، اکیلے پن کے احساس کو ختم کرنے اور ان کے اندر مستقبل کی ا مید اور اس پر یقین جگانے کے لئے آئی _ اور اس مواخات نے ان کے اندر اتنا گہرا اثر چھوڑا کہ وہ اتنا تک سمجھنے لگے کہ یہ بھائی چارہ تمام امور میں ہے حتی کہ وراثت میں بھی برابری اور ساجھا ہے_ جس کی طرف ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے_
ب: انسانی روابط کا ارتقائ
عمل مواخات سے غرض یہ تھی کہ اس سے انسانی روابط کو مصلحت اندیشی کے دائرہ سے بلند تر کر دیا جائے اور انہیں اتنے حد تک خالص الہی روابط میں تبدیل کردیا جائے کہ وہ حقیقی اخوت و برادری تک پہنچ جائیں اور مسلمانوں کے باہمی لین دین میں یہ تعلق داری ہماہنگی و ہمنوائی کی صورت میں ظاہر ہو اور ایسی ذاتی رنجشوں سے بہت دور ہو جو بسا اوقات آپس میں تعاون کرنے والے دو بھائیوں کے درمیان چاہے نجی اور ذاتی طور پر ہی سہی ، کسی نہ کسی معاملے میں قطع تعلق کا باعث بنتی ہیں_
اگر چہ اسلام نے نظریاتی طور پر مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ہے اور یہ تاکید کی ہے کہ ہر مؤمن دوسرے مؤمن کابھائی ہے چاہے وہ اسے اچھا لگے یا بُرا _ اور ہر مؤمن کے لئے یہ ضروری قراردیا ہے کہ وہ
اس اخوت اور برادری کے تقاضوں کو پورا کرے _ لیکن اس کے با وجود اس محبت ، صداقت اور عشق کی جڑوں کو مضبوط کرنے کے لئے اس برادری کا عملی مظاہرہ بھی ضروری تھا_ کیونکہ ایک اعلی مقصد کے لئے بے مثال نمونہ کا ہونا ضروری ہے_
ج: نئے معاشرے کی تشکیل میں مؤاخات کا کردار:
حضرت رسول کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم ایک ایسے جدید معاشرے کی تشکیل کے در پے تھے جو فلاح و بہبود کی بہترین مثال ہو اور ہر قسم کے حالات و شرائط میں دعوت الی اللہ اور دین خدا کی نصرت کی راہ میں پیش آنے والی ہر قسم کی مشکلات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو_
مسجد نبوی کی تعمیر کی بحث میں گزر چکاہے کہ خود مہاجرین ،خود انصار اور ان دونوںکے درمیان بہت زیادہ معاشرتی ، قبائلی ،خاندانی ، ذاتی ، جذباتی حتی کہ گہرے عقائدی اور نظریاتی اختلافات پائے جاتے تھے_ علاوہ ازیں کچھ ایسے اقتصادی اور نفسیاتی حالات بھی تھے جو خاص کر مہاجرین کے لئے پریشان کن تھے _اس کے ساتھ ساتھ مزید کچھ خطرات بھی اس نو خیز معاشرے کو در پیش تھے یہ خطرات چاہے داخلی ہوں جیسے اوس اور خزرج کے باہمی اختلافات کے خطرات تھے جن میں سے اکثر ابھی تک بھی مشرک تھے، پھر ان میں سے بعض منافق بھی تھے ، ساتھ ہی مدینہ کی یہودیوں سے بھی خطرات در پیش تھے_ اور چاہے وہ خارجی ہوں جیسے جزیرة العرب کے یہودیوں اور مشرکوں کے خطرات بلکہ پوری دنیا سے خطرات در پیش تھے_
اس نئے دین کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے اور اسکے دفاع کیلئے عملی طور پر ایک عظیم ذمّہ دار ی اس معاشرے کے کندھوں پر تھی، ان حالات میں قبیلوں ، گروہوں اور افراد میں بٹے اور بکھرے اس معاشرے میںمضبوط روابط کو وجود میں لانا ضروری تھا تا کہ معاشرے کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ ایک محکم رشتہ میں منسلک ہوجائیں_ اور مضبوط احساسات اور جذبات کی ایسی عمارت کھڑی کرنے کی ضرورت تھی جو عقیدے کی بنیاد پر استوار ہو _اس طرح اس نئے معاشرے میں کسی بھی فرد پر ظلم و زیادتی نہ ہو اور معاشرے
کے تمام افراد عدل و انصاف اورنظم و انتظام سے بہرہ مند ہوں_ لوگ محبت و اخوت کا اعلی اور مکمل نمونہ دیکھیں، اسی طرح کا معاشرہ ان نفسیاتی کشمش اور تاریخی اختلافات سے پاک ہوگا (بلکہ انہیں آہستہ آہستہ جڑ سے اکھاڑے گا) جنہیں معاشرے کے افراد نے باہمی تعلقات میں اپنا شیوہ بنالیا تھا_ اور جس کے کئی وجوہات کی بنا پر ظاہر ہونے کاخطرہ وسیع ، سخت اور زیادہ تباہ کن ہو سکتا تھا_ پس ایسے مضبوط باہمی روابط برقرار کرنے کی ضرورت تھی جسے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ''مواخات ''کے عمل سے انجام دیا ، مؤاخات کے اس عمل میںآخری ممکنہ حد تک دقت نظری اور صدیوں کی ایسی منصوبہ بندی شامل تھی جس میں باہمی روابط اور امداد کے فروغ اور استحکام کے لئے انتہائی حد تک کامل ضمانت فراہم کی گئی تھی خصوصاً جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے دو ایک جیسے افرادکے درمیان مؤاخات قائم کردی تھی _
یہ مواخات دو بنیادوں پر قائم تھی:_
اوّل : حق : _
حق ،انسانی تعلقات میں ایک بنیادی عنصر ہے_ اسی بنیاد پر انسانوں کے روابط و تعلقات قائم ہیں اورزندگی کے مختلف شعبوں میں معاملات اور باہمی لین دین پر یہی چیز حکمفرما ہے _ہاں حق ہی اساس و بنیاد ہے، ذاتی اور انفرادی شعور و ادراک اور ذاتی ، قبائلی اور گروہی مصالح اورمفادات نہیں _واضح ہے کہ اخوت ، باہمی ہمدردی اور احساسات کے ذریعہ سے جب حق بیان ہو اور یہ امور حق سے آراستہ ہوں تو یہ چیز حق کی بقاء ،دوام اور ان لوگوں کی حق کے ساتھ وابستگی اور حق سے دفاع کی ضمانت فراہم کرتی ہے لیکن اگر حق کو بزور بازومسلط کیا جائے تو جوں ہی یہ قوت غائب ہوگی تو حق کے بھی غائب ہونے کا خطرہ لا حق ہوجائے گا کیونکہ اس کی بقاء کی ضمانت چلی گئی ہے پس اب اس کی بقاء اور وجود کے لئے کوئی وجہ باقی نہیں رہی_ بسا اوقات اس طرح سے حق کی بقاء بھی کینہ اور نفرتوں کو جنم دیتی ہے جس سے بسا اوقات ظلم و طغیان اپنی انتہائی ، بدترین او رخوفناک صورت میں ظاہر ہوتاہے_
دوم : باہمی تعاون:_
پس یہ برادری صرف جذبات کو بھڑکانے اور ذاتی شعور کو بیدار کرنے کیلئے نہ تھی بلکہ نتیجہ خیز احساس ذمہ داری تھی جس پر اسی وقت ہی فوری عملی اثرات مرتب ہوئے اور انسان اسی وقت سے ہی اس کی گہرائی اور تاثیر کو واضح طور پر محسوس کرسکتاہے بالکل اسی بھائی چارے کی طرح جس طرح قرآن کریم میں ذکر کیا گیا ہے '' انما المؤمنون اخوة فاصلحوا بین اخویکم''(۱) کیونکہ اس آیت مجیدہ میں خداوند نے مؤمنین کے درمیان صلح کی ذمہ داری کو ایمانی بھائی چارے کا حصہ بیان فرمایا ہے _جب بھائی چارہ ثمر آور اور نیک نیتی پر مشتمل ہو توفطری بات ہے کہ یہ برداری اور اسی طرح اس کی حفاظت اور پابندی بھی ممکن ترین حد تک دائمی ہوگی_ اس مؤاخات کے عظیم اور گراں قدر نتائج جہاد کی تاریخ میں بھی ظاہر ہوئے_ خداوند کریم نے اپنے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم پر جنگ بدر میں احسان جتلاتے ہوئے فرمایاہے : وان یریدوا ان یخدعوک، فان حسبک اللہ، ھو الّذی ایدک بنصرہ و بالمومنین و الف بین قلوبھم، لو انفقت ما فی الارض جمیعاً ما الفت بین قلوبھم ، و لکن اللہ الف بینہم ، ان اللہ عزیز حکیم(۲) _ اور اگر وہ تمہیں دھو کہ دینا بھی چاہیں تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اطمینان ہے کہ آپ کی حمایت کے لئے خداہی کافی ہے جس نے اپنی مدداور مومنوں کے ذریعہ سے پہلے سے ہی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی تائید اور حمایت کر رکھی ہے اور اسی نے ہی مومنوں کے دلوں کو آپس میں (محبت کے ذریعہ) جوڑ دیا ہے وگر نہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم چاہے تمام دنیا و مافیہا کو بھی خرچ کر ڈالتے تب بھی ان کے دلوں میں محبت نہیں ڈال سکتے تھے ، لیکن خدا نے یہ محبت ڈال دی ہے اور خدا تو ہے ہی عزت والا اور دانا_
حضرت ابوبکر کے خلیل:
مؤرخین یہاں روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :'' اگر مجھے کسی کو دوست بناناہو تا تو میں ضرور ابوبکر کو دوست بناتا''(۳) لیکن یہ کس طرح صحیح ہو سکتاہے حالانکہ خود ہی آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کرتے ہیں:
____________________
۱) الحجرات ۱۰_ (۲) الانفال ۶۲_
۳) مصنف عبدالرزاق ج / ۱۰ از ابن الزبیر اور اس کے حاشیہ میں سعید بن منصور سے روایت نقل کی گئی ہے الغدیر ج/۹ ص ۳۴۷ ،از صحیح البخاری ج/۵ ص ۲۴۳ باب المناقب اور باب الہجرة ج/۶ ص ۴۴_نیز الطب النبوی ابن قیم ص ۲۰۷_
_بے شک میری امت میں سے میرا دوست ابوبکر ہے(۱) _
_ ہر نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کا دوست ہوتاہے اور میرا دوست سعد بن معاذ(۲) یا عثمان بن عفان ہے(۳) _
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ : حضرت عثمان کی دوستی والی حدیث کو اسحاق بن نجیح ملطی نے گھڑا ہے(۴) اور حضرت ابوبکر کی دوستی والی حدیث ( جیسا کہ معتزلی نے بھی اس کی تصریح کی ہے)(۵) نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم اور علی عليهالسلام کے درمیان مواخات والی حدیث کے مقابلہ میں گھڑی گئی ہے _
سلمان کی دوستی ، کس کے ساتھ؟
پھر وہ کہتے ہیں کہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم نے جناب سلمان اور ابو دردا کے درمیان اخوت قائم کی(۶)
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جناب سلمان او رحذیفہ کے درمیان مواخات برقرار فرمائی(۷) جبکہ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے اور مقداد کے درمیان رشتہ اخوت برقرار کیا(۸)
حدیث مواخات کاانکار اور اس کا جواب :
لیکن ابن سعد کہتاہے کہ ہمیں محمد بن عمر نے خبر دی ہے کہ مجھے موسی بن محمد بن ابراہیم بن حارث نے اپنے باپ سے ایک قول نقل کرکے بتایا ہے نیز مجھے محمد بن عمر نے کہا ہے کہ محمد بن عبداللہ نے مجھے زہری سے
____________________
۱) ارشاد الساری ج/۶ ص ۸۳ ،۸۴، کنزالعمال ج/۶ ص ۱۳۸ ، اور ص ۱۴۰ ، الریاض النضرة ج/۱ ص ۸۳_نیز الغدیر مذکورہ کتب سے_
۲)الغدیر ج/۹ ص ۳۴۷ ، از کنزالعمال ج/۶ ص۸۳،منتخب کنزالعمال (مسند کے حاشیہ پر ) ج/۵ ص ۲۳۱_ (۳)تاریخ بغداد خطیب ج۶ ص ۳۲۱ و الغدیر ج۹ ص ۳۴۶ و ۳۴۷_ (۴)ملاحظہ ہو: الغدیر ج ۹ ص ۷۴۳_ (۵)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱۱ ص ۴۹_ (۶) الاصابہ ج۲ ص ۶۲ ، اس کے حاشیہ میں الاستیعاب ج۲ ص ۶۰ و ج۴ ص ۵۹ ، الغدیر ج۱۰ ص ۱۰۳ تا ۱۰۴ و ج۳ ص ۱۷۴ اس میں اس روایت پر مناقشہ کیا گیا ہے ، السیرة النبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۱۵۲ ، اسد الغابہ ج۲ ص ۳۳۰ _۳۳۱ ، طبقات ابن سعد مطبوعہ لیڈن ج۴ حصہ اول ص ۶۰ تہذیب تاریخ دمشق ج۶ ص ۲۰۳ ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱۸ ص ۳۷ ، تہذیب الاسماء ج۱ ص ۲۲۷، قاموس الرجال ج۷ ص ۲۵۶ ، نفس الرحمان ص ۹۱ و ۸۵ از ابن عمرو المناقب خوارزمی فصل ۱۴ نیز تہذیب التہذیب ج۴ ص ۱۳۸_ (۷)طبقات ابن سعد مطبوعہ لیڈن ج۴ حصہ اول ص ۶۰_ (۸)نفس الرحمان ص ۸۵ از حسین بن حمدان_
ایک روایت بیان کی ہے_ یہ دونوں (حارث کا باپ اور زہری) واقعہ بدر کے بعد ہر قسم کی مواخات کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ بدر نے (بھائی چارے کی بنیاد پر) میراث کا معاملہ ہی ختم کردیا تھا جبکہ سلمان اس وقت غلامی کی زنجیر میں جکڑے ہوئے تھے اور وہ اس کے بعد آزاد ہوئے تھے اور انہوں نے سب سے پہلے پانچویں ہجری میں واقع ہونے والی جنگ خندق میں شرکت کی تھی(۱) _
اس لئے بلاذری نے یہ کہا ہے کہ '' اور ایک گروہ کا کہناہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابودر داء اور سلمان کے درمیان مواخات برقرار فرمائی _ حالانکہ سلمان واقعہ احد اور خندق کے درمیانی عرصہ میں مسلمان ہوئے _ اور واقدی کہتاہے کہ علمائ، بدر کے بعد کسی بھی قسم کی مواخات کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ بدر نے ہر قسم کی (مؤاخاتی) وراثت کو منقطع کردیا ہے''(۲) _
'' اور ابن ابی الحدید کا کہناہے کہ ابوعمر کے بقول رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے جب مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا تو سلمان کو بھی ابودرداء کا بھائی بنایا تھا_ لیکن مخفی نہ رہے کہ یہ قول ضعیف اور عجیب و غریب ہے''(۳) جبکہ ہمیں مذکورہ بیانات پر کئی اعتراضات ہیں جنہیں ہم مندرجہ ذیل نکات کی صورت میں بطور خلاصہ بیان کرتے ہیں :
۱ _ ان کا یہ کہنا کہ جنگ بدر کے بعد مواخات کا سلسلہ منقطع ہوگیا تھا_ گذشتہ باتوں کی رو سے صحیح نہیں ہے _ پس ان لوگوں کے اس بات کو عجیب و غریب سمجھ کر انکا ر کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے_
۲ _ ان کا یہ کہنا بھی کہ '' بدر کے بعد مواخات کا سلسلہ منقطع ہونے کی وجہ سے سلمان کا کسی بھی آدمی کے ساتھ اخوت کا مسئلہ صحیح نہیں ہوسکتا'' درست نہیں کیونکہ یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بدر سے پہلے سلمان کی ( چاہے وہ غلام ہی ہو) کسی اور آزاد آدمی سے مواخات کیوں نہیں کی ؟ اس پرمزید یہ کہ عنقریب ہم بیان کریں گے کہ جناب سلمان ہجرت کے پہلے برس میں ہی مسلمان اور آزاد ہوگئے تھے_
____________________
۱) طبقات ابن سعد مطبوعہ لیڈن ج۴ حصہ اول ص ۶۰_
۲)انساب الاشراف ( حصہ حیات طیبہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم ) ج۱ ص ۲۷۱_
۳) نفس الرحمان ص ۸۵ از انساب الاشراف_
۳_ پس بلاذری کا یہ دعوی کہ'' سلمان ، احد اورخندق کے درمیانی عرصے میں مسلمان ہوئے تھے'' صحیح نہیں ہے کیونکہ جس طرح ہم نے کہا ہے وہ ہجرت کے پہلے سال ہی مسلمان ہوگئے تھے_ ہاں البتہ مورخین یہ کہتے ہیں کہ وہ جنگ خندق سے کچھ عرصہ قبل آزاد ہوئے تھے_
پس جب وہ مواخات کے عمل کے موقعہ پر مسلمان تھے تو کسی بھی مسلمان کے ساتھ ان کی مؤاخات ہوسکتی تھی، چاہے وہ دوسرا آدمی آزاد ہو، کیونکہ اسلام کی نگاہ میں ایمان اور انسانیت و غیرہ کے لحاظ سے آزاد اور غلام میں کوئی فرق نہیں ہے _
یہ تو اس صورت میں ہے جب انہیں اس وقت تک غلام مان لیا جائے_
۴_بدر کے بعد جس چیز کا سلسلہ منقطع ہوگیا تھا وہ ایسے مؤاخاتی بھائیوں کے درمیان توارث کا حکم ہے، خود مؤاخات نہیں _ یہ بھی ان لوگوں کے بقول ہے وگرنہ ہمارا نظریہ تو یہ ہے کہ توارث کا مسئلہ تو اس سے پہلے بھی نہیں تھاشاید بعض مسلمانوں نے یہ گمان کرلیا تھا کہ بھائی بننے والوں کے درمیان توارث کا سلسلہ بھی موجود ہے تو آیت اس گمان کی نفی اور اس شک کے ازالہ کے لئے ناز ل ہوئی _ اس آیت کے نزول کازمانہ اور جنگ بدر کازمانہ ایک ساتھ ہوگئے جس سے دو اور غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور وہ یہ کہ :
الف: توارث کا سلسلہ پہلے یقینی تھا_
ب: توارث کا سلسلہ منقطع ہوتے ہی اخوت کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیاہے_
جبکہ یہ دونوں گمان ، باطل اور نادرست ہیں_
۵_ان کے اس قول '' سلمان اور ابودردا کے درمیان بھائی چارہ ہوا تھا '' کے مقابلے میں مندرجہ ذیل اقوال ہیں:
الف: ہمارے امام زین العابدین علیہ السلام کا فرمان ہے: '' اگر ابوذر کو معلوم ہوجاتا کہ سلمان کے دل میں کیا ہے تو وہ اسے قتل کرڈالتا، حالانکہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا _ تو پھر
دوسرے لوگوں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟''(۱) _
ب: حضرت امام جعفر صادق عليهالسلام کا فرمان ہے : '' نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم نے سلمان اور ابوذر کے درمیان مواخات برقرار کیا تھا اور ابوذر پر یہ شرط عائد کردی تھی کہ وہ سلمان (کاہر کہنا مانے گا اور اس ) کی نافرمانی نہیں کرےگا(۲) _
ج: ہمارا بھی یہی نظریہ ہے کہ سلمان کی مؤاخات ، ابوذر کے ساتھ ہی صحیح اور مؤرخین و محدثین کے اس بات کے زیادہ موافق ہے کہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم نے ہر شخص کو اسی کی طرح کے فرد کا بھائی بنایا _ اور ابودردا کی نسبت ابوذر ہی گفتار و کردار کے لحاظ سے سلمان سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے کیونکہ قرآن اور حکومت کے ٹکراؤ کی صورت میں جناب سلمان قرآن مجید کا دامن تھامنے اور اس کا ساتھ دیتے ہوئے اس پر ڈٹ جانے کی تاکید کیا کرتے تھے_ اسی طرح جب کوئی حکومت کسی بڑے انحرافی رستے پر چل نکلتی تو جناب ابوذر حکومت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے تھے _ پس وہ حق کی طرفداری کرتے تھے اور اپنے موقف پر ڈٹ جانے کا پر زور اعلان کرتے تھے_ اسی طرح جناب ابوذر اور جناب سلمان کا واقعہ سقیفہ اور اس کے نتائج پر ایک ہی موقف تھا(۳) _
لیکن ابودردا ئ وہ حکومت کا ترجمان اور جابر حکمرانوں کا مددگار بن گیا تھا_ یہانتک کہ ہم معاویہ کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس اچھائی کے بدلے میں اس کی تعریف توصیف اور تمجید میں رطب اللسان رہتا تھا(۴)
اسی ابودرداء نے ( جیسا کہ بیان ہوچکا ہے ) سلمان کو ایک خط میں مقدس سرزمین کی طرف دعوت دی تھی_ اور اس کے گمان میں سرزمین مقدس، شام ہے مکہ اور مدینہ نہیں پس پڑھتے جائیں اور تعجب کرتے جائیں کیونکہ زمانے کا دستور نرالا ہوتاہے_
____________________
۱) بصائر الدرجات ص ۲۵ ، الکافی ج۱ ص ۳۳۱ الغدیر ج۷ ص ۳۵ از مذکورہ دونوں، اختیار معرفة الرجال ص ۱۷ ، بحار الانوار ج۲۲ ص ۳۴۳ ، مصابیح الانوار ج۱ ص ۳۴۸ ، قاموس الرجال ج۴ ص ۴۱۸ ،۴۱۹ بظاہر یہ روایت معتبر بھیہے _
۲) الکافی ج۸ ص ۱۶۲ ، بحارالانوار ج۲۲ ص ۳۴۵ از کافی نیز نفس الرحمان ص ۹۱_
۳)ملاحظہ ہو مؤلف کی کتاب '' سلمان الفارسی فی مواجہة التحدی''_
۴)طبقات ابن سعد مطبوعہ لیڈن ج۲ حصہ ۲ ص ۱۱۵
اس کے متعلق یہ تذکرہ ہی کافی ہوگا کہ یزید بن معاویہ نے بھی ابودرداء کی مدح اور تعریف کی(۱) جبکہ معاویہ نے اسے دمشق کا گورنر بنایا تھا(۲) اس پرمزید یہ کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے ابودردا کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تمہارے اندر جاہلیت پائی جاتی ہے _ اس نے پوچھا کہ کفر والی جاہلیت یا اسلام والی؟ تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ کفر والی جاہلیت(۳) _
د: جب جناب سلمان ہجرت کے پہلے سال مسلمان ہوئے تھے (جیسا کہ ایک علیحدہ فصل میں اس کے متعلق گفتگو ہوگی) اور ابودرداء جنگ احد کے بعد بہت دیر سے مسلمان ہوا تھا(۴) تو نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم نے سلمان کو کسی کا بھائی بنائے بغیر اتنا لمبا عرصہ کیوں چھوڑے رکھا ؟
ھ : اگر ہم واقدی کے اس قول کو مان لیں کہ '' علماء ، بدر کے بعد کسی بھی قسم کی مواخات کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ واقعہ بدر نے (اخوت کی بنیاد پر ) ہر قسم کی میراث کو منقطع کردیا ہے ''(۵) تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ علماء ، سلمان اور ابودرداء کے درمیان مؤاخات کے منکر ہیں _ کیونکہ ابودرداء جنگ بدر کے بہت عرصہ بعد مسلمان ہوا تھا_
و: اور آخر کار بعض روایتوں میں آیا ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابودردا اور عوف بن مالک اشجعی کے درمیان رشتہ اخوت برقرار فرمایا تھا(۶) اور شاید یہ روایت ہی زیادہ صحیح اور قبول کرنے کے زیادہ قابل ہو
ابوذر ،سلمان کی مخالفت نہ کرے
کلینی نے حضرت امام صادق عليهالسلام سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے سلمان اور ابوذرکے درمیان
____________________
۱) تذکرة الحفاظ ج۱ ص ۲۵ (۲) الاستیعاب بر حاشیہ الاصابہ ج۳ ص ۱۷ و ج۴ ص ۶۰ ، الاصابہ ج۳ ص ۴۶ نیز التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۴۲۶، ۴۲۷
۳) الکشاف ج۳ ص ۵۳۷ ، قاموس الرجال ج ۱۰ ص ۶۹_ (۴)الاستیعاب بر حاشیہ الاصابہ ج۳ ص ۱۶، نیز ملاحظہ ہو ج۴ ص۶۰_
۵)قاموس الرجال ج۷ ص ۲۵۶ و ج۱۰ ص ۶۹ ، انساب الاشراف ( حصہ حیات طیبہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم) ج۱ ص ۲۷۱ نیز ملاحظہ ہو: طبقات ابن سعد ج۴ حصہ اول ص ۶۰_
۶)طبقات ابن سعد ج۴ حصہ اول ص ۲۲_
مؤاخات برقرار فرمائی اور ابوذر پر یہ شرط عائد کی کہ وہ سلمان کی نافرمانی نہ کرے(۱) اور واضح سی بات ہے کہ ابوذر کے سلمان کی اطاعت کرنے کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ یہ اطاعت حق تک پہنچانے والی اور اخوت اور حق کے دوام اور ان سے وابستگی اور اس سے دفاع تک لے جانے والی تھی اور اس کی ایک اوروجہ یہ بھی ہے کہ سلمان خدائے بزرگ و برتر تک رسائی اور اعلی مقاصد تک پہنچنے کے لئے ذہنی ، نظریاتی اور علمی بلکہ ہر قسم کی حرکات و سکنات کے لحاظ سے اعلی سطح پراس عظیم دینی شعور اور اعلی ظرفی کا عملی نمونہ تھے جو ثمر بخش پختہ ایمان اور راسخ عقیدہ کا، حمایت یافتہ تھا،تا کہ زندگی اس ایمان کے سائے میں بسر کریں _ بہر حال جناب سلمان میں صحیح معنوں میں تمام کمالات بدرجہ اتم موجود تھے_ کیونکہ ایمان کے کل دس درجے ہیں اور سلمان دسویں درجے پر فائز تھے ، ابوذر نویں درجے پر اور مقداد آٹھویں درجے پر تھے(۲) _
آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ابوذر کو سلمان کی اطاعت کرنے کے حکم سے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ : اطاعت کا معیار اور میزان صرف یہی مذکورہ چیز ہے _ قرآن کریم نے بھی اسی چیز کو یقین اور تقوی تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دیاہے_ فرمان الہی ہے:(ہل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون)(۳) اور (انمایخشی اللہ من عبادہ العلمائ)(۴) اور(ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم)(۵) پس اس صورت میں ایک دوسرے پر فضیلت حاصل کرنے اور امتیازی حیثیت پیدا کرنے میں رنگ و خون اور جاہ و مال و غیرہ کا کسی قسم کا اور کسی بھی شخص کے حق میں کوئی کردار نہیں ہے_ بلکہ ان تمام امور میں معیار اور میزان صرف اورصرف وہ تقوی ہے جو پختہ ایمان، روشن فکر اور عظیم دینی شعور کے زیر سایہ ہوتی ہے_ اسی وجہ سے ابوذر پر ضروری تھا کہ وہ سلمان کی نافرمانی نہ کرے_ وہ سلمان جو علم و معرفت کے ا س درجہ پر فائز تھے کہ اگر ابوذر کو معلوم ہوجاتا کہ سلمان کے دل میں کیا ہے اسے قتل کردیتا(۶) _ فضل سے منقول ہے کہ اسلام کے
____________________
۱) روضة الکافی ص ۱۶۲_ (۲) قاموس الرجال ج/۴ ص ۴۲۳ ازخصال للصدوق _
۳) الزمر ۹_ (۴) فاطر ۲۸_
۵) الحجرات ۱۳_
۶) قاموس الرجال ج/۴ ص ۴۱۸_
زیر سایہ پرورش پانے والے تمام لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو سلمان فارسی سے زیادہ فقیہ ہو(۱) _
اور بالکل اسی طرح سے دوسرے زبر دستی حاکم بننے والے جاہلوں ، طاغوتوں اور جابر لوگوں کی اطاعت کی بجائے ائمہ ھدی عليهالسلام کی اطاعت ضروری ہے جو علم و معرفت اور در نتیجہ تقوی کی انتہائی بلندترین چوٹی پر فائز ہیں اور زمین پر خلافت الہی کا حقیقی نمونہ ہیں _
۴_ جدید معاشرے میں تعلقات کی بنیاد:
نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ تشریف لانے کے کچھ عرصہ بعد اور بعض کے بقول پانچ مہینوں(۲) کے بعد اپنے اور یہودیوں کے درمیان ایک تحریر یا سند لکھی جس میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں اپنے دین اور اموال کا مالک رہنے دیا لیکن ان پر یہ شرط عائد کی کہ وہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف کسی کی مدد نہیں کریں گے اور جنگ اور اضطراری صورت حال میں ان پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کرنا ضروری ہوگا جیسا کہ اس کے بدلہ میں مسلمانوں پر بھی یہ چیز لازم ہے لیکن یہود یوں نے بہت جلدی اس عہد و پیمان کو توڑدیا اور مکر وفریب سے کام لینے لگے _ لیکن جو دوسروں کے لئے کنواں کھودتا ہے ، اسی کے لئے کھائی تیار ملتی ہے _
قابل ملاحظہ بات یہ ہے کہ اس سند میںصرف اغیار کے ساتھ مسلمانوں کے روابط کی نوعیت و کیفیت کے بیان پر ہی اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ اس کا اکثرو بیشتر حصہ خود مسلمانوں کے درمیان روابط کے ایسے ضروری اصولوں اور قواعد پر مشتمل ہے جو احتمالی غلطیوں کے واقع ہونے سے پہلے ہی ان کی روک تھام کرسکے اور یہ سند ایک ایسے دستور العمل کی مانند ہے کہ جس میںنئی حکومت کے داخلی و خارجی روابط کا بنیادی ڈھانچہ پیش کیا گیا ہو _حق بات تو یہ ہے کہ یہ سند ان اہم ترین قانونی اسناد میں سے ایک ایسی سند ہے جس کا مطالعہ ماہرین قانون اور قانون گذاروں کو پوری دقت اور توجہ کے ساتھ کرنا چاہیے تا کہ اس سے دلائل او ر احکام استخراج کرسکیں اور اسلام کے اعلی مقاصد اور قوانین کی عظمت و بلندی کو درک کرسکیں _ نیزاس سند کا دیگر
____________________
۱)قاموس الرجال ج ۴ ص ۴۱۸ و غیرہ _
۲) تاریخ الخمیس ج/۱ ص ۳۵۳_
انسانوں کے بنائے ہوئے ان قوانین کے ساتھ موازنہ کرنا چاہئے جن پر اس امت کے فکری طورپر مستضعف افرادبھی مرے جا رہے ہیں حالانکہ یہ قوانین انسان کی فطری و غیر فطری ضروریات کا تسلی بخش جواب دینے سے قاصر ہیں_یہاں پر ہم سند کے متن کو درج کرتے ہیں_
سند کا متن
ابن اسحاق کے بقول :
رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے مہاجرین اور انصار کے لیے ایک قرار داد تحریر فرمائی جس میں یہود یوں کے ساتھ بھی عہد و پیمان کیا اور انہیں اپنے دین اور مال کا مالک رہنے دیا اور طرفین کے لئے کچھ شرائط بھی طے پائیں_
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ کے رسول محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم کی جانب سے یہ معاہدہ یثرب اور قریش کے مسلمانوں ، مومنوں، ان کے پیروکاروں ، ان سے ملحق ہونے والوں اور ان کے ساتھ مل کر جہاد کرنے والوںکے درمیان ہے_ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں یہ سب کے سب ایک امت ہیں _ قریشی مہاجرین اپنے رسوم و رواج کے مطابق آپس میں خون بہا کے معاملات طے کریں گے جبکہ اپنے قیدیوں کا فدیہ بہتر طریقے سے اور برابر برابر مسلمانوں سے لے کرادا کریں گے_ (البتہ یہ شقیں ذو معنی الفاظ رکھتی ہیں لیکن ان کا یہی معنی مناسب لگتاہے_مترجم)
بنی عوف بھی اپنے رسوم و رواج کے مطابق خون بہا کے گذشتہ معاملات طے کریں گے جبکہ ہر قبیلہ اپنے قیدیوں کا فدیہ بہتر طریقے سے اور برابر برابر مؤمنین سے لے کرادا کرے گا _
اسی طرح بنی ساعدہ ، بنی الحارث ، بنی جشم، بنی نجار، بنی عمرو بن عوف ، بنی النبیت اور بنی اوس بھی اپنے رسوم و رواج کے مطابق خون بہا کے گذشتہ معاملات طے کرلیں گے جبکہ اپنے قیدیوں کا فدیہ بہتر طریقے سے اور برابر برابر مؤمنین سے لے کراداکریں گے _
اور مومنین اپنے درمیان کسی کثیر العیال مقروض کو اپنے حال پر نہیں چھوڑیں گے اور مناسب طریقے سے اسے فدیہ اور خون بہا کا حصہ عطا ء کریں گے _
اور پرہیزگار مؤمنین سب مل کربا ہمی طور پر بغاوت کرنے والے یا ظلم ، گناہ، دشمنی یا مومنین کے درمیان فساد پھیلانے جیسے کبیرہ کا ارتکاب کرنے والے کے خلاف اقدام کریں گے چا ہے وہ ان میں سے کسی کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو_
اور کسی مومن کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے مومن کو کسی کافر کی خاطر قتل کرے اور مومن کے خلاف کافر کی مدد کرے_
اور خدا کا ذمہ ایک ہی ہے اسی لئے مسلمانوں میں سے ادنی ترین شخص بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے_
اور دوسرے لوگوں کے مقابلے میں تمام مؤمنین ایک دوسرے کے دوست اور ساتھی ہیں_
اورجو یہودی بھی ہماری پیروی کرے گا تو اس کی مدد اور برابری کے حقوق ضروری ہیں_اور اس پر ظلم نہیں کیا جائے گا اور اس کے خلاف کسی کی مدد نہیں کی جائے گی _
اورتمام مومنین کی صلح و سلامتی ایک ہے اور کوئی مومن بھی دوسرے مومن کی موافقت کے بغیر جہاد فی سبیل اللہ میں کسی سے صلح نہیں کرسکتا مگر سب اکٹھے ہوں اور عدالت کی رعایت کی جائے _
اور جو قبیلہ بھی ہمارے ساتھ مل کر جنگ کرے گا اس کے سب افراد ایک دوسرے کی مدد کریںگے _
اور مومنین کا جو خون راہ خدا میں بہے گا وہ اس میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور(راضی بہ رضا رہنے والے) متقی مومنین بہترین اور محکم ترین ہدایت پر ہیں _
کسی مشرک شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قریش کے کسی شخص یا اس کے مال کو پناہ دے اور مومن کے اس پر مسلط ہونے سے مانع ہو_
اور جو شخص بھی ناحق کسی مومن کو قتل کرے گا اور قتل ثابت ہوجائے تواسے اس کے بدلے قتل کیا جائے گا مگر یہ کہ مقتول کے وارثین ( دیت لینے پر) راضی ہوجائیں اور تمام مؤمنین کواس قاتل کے خلاف قیام کرنا
پڑے گا اوران پر قاتل کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ضروری اور واجب ہوگا_
اور جو مومن اس معاہدے میں درج امور کا اقرار کرتا ہے اور خدا اور قیامت پر ایمان رکھتاہے اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی بدعت گزار کی مدد کرے یا اس کو پناہ دے اورجو شخص بھی اس کو پناہ دے گا یا اس کی مدد کرے گا تو قیامت کے دن خدا کی لعنت اور غضب کا مستوجب قرار پائے گا اور اس سے اس چیز کا معاوضہ یا بدلہ قبول نہیں کیا جائے گا_
اور جب بھی کسی چیز کے متعلق تمہارے درمیان اختلاف واقع ہو تو ( اس اختلاف کو حل کرنے کا ) مرجع و مرکز خدا اور ( اس کے رسول ) محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں_
اور جنگ کے دوران یہود ی بھی مومنین کے ساتھ ساتھ جنگ کے اخراجات برداشت کریں گے اور بنی عوف کے یہودیوں کا شمار بھی مومنین کے ساتھ ایک گروہ میں ہوگا( اس فرق کے ساتھ کہ ) یہود یوں اور مسلمانوں کا اپنا اپنا دین ، دوستیاں اور ذاتیات ہوں گے مگر جو شخص ظلم یا گناہ کا ارتکاب کرے گا تو ( اس صورت میں) وہ صرف اپنے آپ اور اپنے اہل خانہ کو ہی ہلاکت میں ڈال دے گا _ بنی نجار کے یہودیوں کا معاملہ بھی بنی عوف کے یہودیوں کی طرح ہے_ اسی طرح بنی حارث ، بنی ساعدہ ، بنی اوس اور بنی ثعلبہ کے یہودیوں کا معاملہ بھی بنی عوف کے یہودیوں کی طرح ہے مگر جو شخص ظلم یا گناہ کاارتکاب کرے گا تو ( اس صورت میں ) وہ صرف اپنے آپ اور اپنے اہل خانہ کو ہی ہلاکت میں ڈالے گا_ ثعلبہ کے خاندان ، جفنہ کا معاملہ بھی ثعلبہ کی طرح ہے_ اسی طرح بنی شطیبہ کا معاملہ بھی بنی عوف کے یہودیوں کی طرف ہے_ اور نیکی اور برائی کا علیحدہ علیحدہ حساب کتاب ہے_ ثعلبہ کے ساتھیوں کا معاملہ بھی انہی کی طرح ہے_ نیز یہودیوں کے قریبی افراد کا معاملہ بھی انہی کی طرح ہے_
اور(حضرت) محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اجازت کے بغیر کوئی بھی یہودی مدینہ شہر سے خارج نہیں ہوگا نیز کسی بھی قبیلہ کو اس معاہدے سے خارج نہیں کیا جائے گا_ اور زخمیوںکا بدلہ لینے میں بھی کوئی زیادہ روی نہیں کی جائے گی اور جو ناحق خونریزی کرے گا اس کا اور اس کا گھر والوں کا خون بہایا جائے گا_ لیکن مظلوم ہونے کی
صورت میں اسے اس بات کی اجازت ہے اور خدا بھی اسی بات پر راضی ہے_
یہودی اور مسلمان ہر ایک اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے اور اس معاہدے کو قبول کرنے والوں میں سے کسی فریق کے خلاف جنگ کی گئی تو یہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے_
اوریہ لوگ پند و نصیحت اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے ، گناہ کے کاموں میں نہیں _ کوئی شخص بھی اپنے حلیف سے بدی نہیں کرے گا اور (اس صورت میں)مظلوم کی مدد کی جائے گی _
اور یہود ی مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگی اخراجات برداشت کریں گے جب تک وہ جنگ میں مصروف ہیں _اس معاہدے کو قبول کرنے والوں کے لئے یثرب (مدینہ) شہر جائے امن وا حترام ہے_
اور ( ہر شخص کا)ہمسایہ اور پناہ گیر خود اسی کی طرح ہے اور اسے ضر ر اور تکلیف نہیں پہنچنی چاہئے _ کسی شخص کو نا حق پناہ نہیں دی جائے گی مگر اس کے خاندان کی اجازت سے_
اور اگر اس معاہدے کو قبول کرنے والے اشخاص کے درمیان ایسا جھگڑا اور نزاع واقع ہو جس سے فساد کا خوف ہو تو اسے حل کرنے کا مرجع و مرکز خدا اور ( اس کا رسول ) محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم ہے اور خداوند متعال یقیناً اس عہد و پیمان کے مندرجات پر ر اضی خوشنود ہے_ مشرکین قریش اور ان کے مددگاروں کو پناہ نہیں دی جائے گی یثرب پر حملہ کرنے والوں کے خلاف سب ایک دوسرے کی مدد کریںگے_ اگر (مؤمنین ) انہیں صلح کی دعوت دیں(۱) اور وہ قبول کرلیں تو تمام مؤمنین بھی اس کے مطابق عمل کریں گے اور اگر وہ مومنین کو صلح کی دعوت دیں گرچہ ان کامؤمنین کی طرح یہ حق ہے مگر جو شخص دین کے بارے میں جنگ کرے تو اس کی پیشکش کو قبول نہیں کیا جائے گا_ اور ہر شخص کو اپنے ذمہ لئے جانے والا حصہ(۲) ادا کرنا چاہئے_اوس کے یہود ی خود اور ان کے ساتھیوںکے بھی وہی حقوق ہیں جو اس معاہدے کو قبول کرنے والوں کے لئے ثابت ہیں_ ان کے ساتھ بھی اچھا سلوک کیا جائے_ اچھائی اور
____________________
۱) کتاب الاموال ابوعبید کی روایت ہے کہ اگر ( مومنوں میں سے) یہودیوں کا کوئی حلیف انہیں صلح کی دعوت دے گا تو سب کو ان کے ساتھ صلح کرنی پڑے گی اور اگر وہ یہ کام کریں تو مومنوں کی طرح ان کابھی یہ حق بنتا ہے مگر جو دین کے خلاف جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہوں_
۲)الاموال کے مطابق ، ہر کسی کو اپنے ذمہ لئے جانے والے خرچہ کا حصہ ادا کرنا چاہئے_
برائی کا علیحدہ حساب کتاب ہے اور جو بوئے گا وہی کاٹے گا_ خداوند اس معاہدے کے مندرجات پر خوشنود وراضی ہے اوراس قرار داد کی خلاف ورزی صرف ظالم اور گناہگار افراد ہی کریں گے_ ( اور اس قرارداد کو قبول کرنے والے اشخاص میں سے ) جو شخص بھی مدینہ سے خارج ہو یا مدینہ میں رہے امان میں ہے مگر یہ کہ ظلم کرے اور گناہ کا مرتکب ہو _یقینا خدا اور اس کا رسول محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم نیک اور پرہیزگار لوگوں کی پناہ گاہ ہیں(۱) _
یہ ایک اہم اور بلند پایہ سند ہے لیکن مؤرخین نے(۱) اسے زیادہ اہمیت نہیں دی اور محققین و مؤلفین نے اس میں تحقیق کرنے میں کوتاہی کی ہے ، ہم روشن فکر اشخاص کو اس سند میں غور و خوض اور گہرے سوچ بچار کی دعوت دیتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اس کی عظمت کے مطابق اسے اہمیت دی جائے گی واللہ ھو الموفق والمسدد_البتہ ہم بھی اپنی حیثیت کے مطابق اس کے متعلق چند نکات بیان کریں گے_
معاہدہ یا معاہدے؟
مؤرخین ، اس معاہدے کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ایسا دستور العمل ہے جو ایک طرف سے تو مہاجرین اور انصار کے درمیان اور دوسری طرف سے مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت معین کرتاہے بعض مؤرخین کا دعوی ہے کہ یہ ایک معاہدہ نہیں ہے بلکہ یہ کئی علیحدہ علیحدہ سلسلہ وار معاہدوں کا مجموعہ ہے جنہیں مندرجہ ذیل دو مرحلوں میں آپس میں ترکیب کیا گیا ہے :
پہلا مرحلہ : اس مرحلہ میں مختلف عرب قبائل کو رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی قیادت میں مدینہ میں یکجا کیا گیا _
دوسرا مرحلہ : اس مرحلہ میں کسی بھی بیرونی دباؤ کے مقابلے کی خاطر مدینہ کے یہودیوں کے تعاون کے حصول کے لئے مذکورہ قبائل کے اجتماع اور تعاون کی قوت سے مدد لی گئی_
____________________
۱) سیرة ابن ھشام ج/۲ ص ۱۴۷ تا ۱۵۰ ، البدایة والنھایة ج/۳ ص ۲۲۴ تا ۲۲۶، الاموال ص ۲۰۲ تا ص ۲۰۷،مجموعة الوثائق السیاسیہ نیز مسند احمد ج ۱ ص ۲۷۱ و مسند ابویعلی ج ۴ ص ۳۶۶_۳۶۷ میں بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے_
اور یہ بھی لازمی نہیں ہے کہ یہ معاہدے ایک ہی وقت میں طے پائے ہوں _ بلکہ ان دومرحلوں میں بھی کئی ایسے چھوٹے چھوٹے مراحل ہیں جو (اس معاہدے کی شقوں پر نظر ثانی کا باعث بننے والے) ہر نئے پیش آنے والے حالات و واقعات کے مطابق دقتاً فوقتاً مذکورہ معاہدے کی شقوں اور جملوں میں اضافہ کا باعث بنے _ جن کی رو سے مدنی معاشرے کے مختلف ارکان کے درمیان مذکورہ تبدیلی کے اثرات کی حامل شقوں اور جملوں کا اضافہ ہوا _ لیکن مذکورہ بیانات پر ان لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ اس معاہدے میں بعض جملوں کا تکرار ہوا ہے _ خاص کر جب یہ ملاحظہ کیا جائے کہ یہ جملے ایک ہی شق اور شرط کو بیان کررہے ہیں بطور مثال مندرجہ ذیل عبارتیں ہیں جو یہ بیان کررہی ہیں کہ '' جنگ کے دوران یہودی بھی مومنوں کے ساتھ ساتھ جنگ کے اخراجات برداشت کریں گے'' اور '' اس معاہدے کے حلیفوں کے درمیان جب بھی کسی چیز کے متعلق اختلاف واقع ہو تو اسے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے حضور پیش کریں '' اسی طرح '' اچھائی اور برائی کا حساب جدا جدا ہے'' اور '' ہر قبیلہ اپنے قیدیوں کا فدیہ بہتر طریقے سے اور برابر برابر تمام مومنین کے درمیان تقسیم کریں گے'' جبکہ یہ جملے اوس اور خزرج کے مختلف قبیلوں کی بہ نسبت کئی بار تکرار ہوئے ہیں(۱) _
جبکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ واضح سی بات ہے کہ یہ دلیل ان کے اس گمان کے اثبات کے لئے ناکافی ہے _ کیونکہ یہ تکرار یقینا ہر قبیلے کی بہ نسبت اس معاہدے کی جداگانہ تاکید کے لئے آیا ہے جو تحریری معاہدوں میں دقت اور صراحت کے حصول کے لئے ایک پسندیدہ امر ہے تا کہ کسی بہانہ جو اور حیلہ گر کے لئے عذر اور بہانہ کا کوئی بھی موقع نہ رہے_ اور یہ وضاحت اور تصریح ہر گروہ ، خاندان اور قبیلہ کے لئے بیان ہوئی ہے کیونکہ مقصود یہ تھا کہ اس گروہ یا قبیلہ کو وضاحت سے ہر وہ بات معلوم ہوجائے جو اس کے لئے اور اس سے مطلوب ہے پس یہ معاہدہ ان تمام قرار دادوں کا مجموعہ ہے جسے ہر قبیلہ نے دوسرے قبیلوں ،گروہوں یا خود قبیلہ کے افراد کے ساتھ طے کئے تھے_ پس ان تمام قراردادوں کا بیان ضروری تھا_ اسی بناپر اس ایک معاہدے میں کئی مختلف معاہدوں کی خصوصیات پیدا ہوگئیں_البتہ اس معاہدے میں مذکور یہودیوں سے مراد بنی اسرائیل
____________________
۱) مذکورہ بیانات کے لئے ملاحظہ ہو کتاب '' نشا الدولة الاسلامیہ ص ۲۵ ، ۲۷''
کے یہودی نہیں ہیں اور ان کے قبیلے قینقاع، نضیر اور قریظہ ہیں _ بلکہ یہاں پر یہودیوں سے مراد قبائل انصار کے یہودی ہیں_کیونکہ انصار کے قبیلوں کے چند گروہ یہودیت اختیا ر کرچکے تھے اور معاہدے میں بھی ان کا ذکر ان کے قبیلہ کے ذکر کے ساتھ ہوا ہے _ ابن واضح کا کہنا ہے : '' اوس اور خزرج کا ایک گروہ یمن سے خارج ہونے کے بعد خیبر ، قریظہ اور نضیر کے یہودیوں کے ساتھ ہمسائیگی کی وجہ سے یہودی ہوگیا_ نیز بنی حارث بن کعب، غسان اور جذام کے افراد بھی یہودی ہوگئے ''(۱) _ اسی طرح بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ انصار کی ایک نسل اس سبب سے یہودی ہوگئی تھی کہ جب بھی کسی عورت کا بچہ زندہ نہ بچتا تھا تو وہ اپنے آپ سے یہ عہد کرتی تھی اور یہ نذر مان لیتی تھی کہ اگر اس کا بچہ زندہ بچا تو وہ اسے یہودی بنائے گی _ پھر جب قبیلہ بنی نضیر کو جلا وطن کیا جانے لگا تو انہی کے بزرگوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے جس پر خدا نے ( لا اکراہ فی الدین ) ( دین اختیار کرنے پر کوئی جبر نہیں) والی آیت نازل کی _ مورخین و محدثین کہتے ہیں کہ یہ حکم ان مذکور افراد کے لئے خاص ہے جو اسلام کے آنے سے پہلے یہودی ہوگئے تھے(۲) _
معاہدے پر سرسری نگاہ :
بہر حال معاملہ جو بھی ہو _ لیکن یہ معاہدہ یا معاہدے اس نئے معاشرے میں تعلقات استوار کرنے کے سلسلے میں کئی نہایت اہم اور بنیادی نکات کے حامل ہیں اس بات پر بطور مثال ہم مندرجہ ذیل امور کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
۱ _ اس معاہدے میں یہ طے پایا کہ تمام تر قبائلی ، نسبتی ، فکری نیز کمی اور کیفی لحاظ سے نظریاتی،معاشی ، معاشرتی اور دیگر اختلافات کے با وجود مسلمان ایک امت اور گروہ ہوں گے_
____________________
۱) تاریخ یعقوبی ج۱ ص ۲۵۷_
۲)ملاحظہ ہو: سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۶۷ ، الجامع لاحکام القرآن ج۳ ص ۲۸۰ از ابوداؤد ، لباب التاویل ج۱ ص ۱۸۵ فتح القدیر ج۵ ص ۲۷۵، از ابوداؤد، نسائی ، ابن جریر ، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان ، ابن مردویہ ، بیہقی در سنن و ضیاء در المختارہ ، درمنثور ج۱ ص۳۲۸
اس عہد کے کئی سیاسی پہلو ہیں _ نیز اس کے حقوقی اور دیگر اثرات بھی ہیں_ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اور معاشرتی ڈھانچے اور نجی ، جذباتی ، فکری ، معاشی حتی کہ بنیادی حالات و تعلقات پر بھی اس کے عمومی سطح پر گہرے اثرات اور نتائج مرتب ہوتے ہیں_ لیکن ہم اس کی تفصیل اور جزئیات میں جانے کے درپے نہیں ہیں_
۲_ اس معاہدے میں قریش مہاجرین کو دیت اور خون بہا کے معاملے میں اپنی عادت اور رسم پر باقی رکھنا بھی شامل ہے_ گرچہ مؤرخین کہتے ہیں کہ یہ شق بعد میں منسوخ ہوگئی تھی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ شقیں بعد میں بھی برقرار رہیں_ جبکہ یہ ان رسومات میں سے ہے جنہیں جناب عبدالمطلب نے رواج دیا تھا _ یا دین حنیفیت سے ان تک پہنچی تھی _ اس وجہ سے استثنائی طور پر صرف اس رسم کو اسلام میں باقی رکھا گیا اور بطور مثال قریشیوں کی تجارتی یا دوسرے نجی رسومات کو باقی نہیں رکھا گیا_
حتی کہ اگر بعض مقامات پر یہ صورتحال نہ بھی ہو تو عین ممکن ہے کہ شرعی احکام کی تشریع اور انہیںلاگو کرنے کے باب میں اس دور کے معاشی اوراقتصادی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے تدریج کا سہارا لیا گیا ہو_
۳_ مہاجرین اور دوسرے قبائل کا اپنے قیدیوں کا فدیہ عدل و انصاف سے سب قبائل میں تقسیم کرنے کا فریضہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ تمام قبائل کو ایک دوسرے کی کفالت اور معاشرتی اور اجتماعی احساس ذمہ داری کی حالت میں گذر بسر کرنا ہوگی _ مزید یہ کہ یہ چیز ان لوگوں کے درمیان ایک قسم کے تعلق ، ایک دوسرے کے دفاع اور خطرے اور مشکلات کے لمحات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ضامن ہے_ اس کے علاوہ اپنے جنگی حلیف کو یہ احساس دلانا ہے کہ یہاں اس کے خیرخواہ موجود ہیں اور اس کے قیدی ہونے کی صورت میں اسے آزاد کرانے کے لئے اپنا مال خرچ کرنے پر بھی تیار ہیں اور یہ بات اس کی امنگوں ، خود اعتمادی اور دشمن کا مقابلہ کرنے کے ارادوں میں اضافہ کا باعث بنے گا_ اس پر مزید یہ کہ اگر اقتصادی اور معاشی بوجھ کو بہت سے افراد مل کر برداشت کریں تو وہ بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے_ اور مشکلات سے دوچار (غریب) افراد پر بھی زیادہ بوجھ نہیں پڑتا_
یہاں پر قابل ملاحظہ بات یہ ہے کہ اس شق میں قسط (عد ل و انصاف) اور معروف (نیکی اور بھلائی) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں _ کیونکہ قسط کا لفظ قبیلہ کے افراد میں حصّہ رسد کی برابر تقسیم میں کسی بھی قسم کی کمی یا بیشی کے انکار اور ممانعت پر دلالت کرتا ہے _ لیکن معروف کا لفظ اس سے بھی وسیع مطلب پر دلالت کرتا ہے کیونکہ یہ لفظ بتاتا ہے کہ اس شق یا کسی بھی ایسے شرعی حکم کا عملی نفاذ بہتر اور احسن انداز میں ہونا ضروری ہے جس کا تعلق عام لوگوں سے ہوتا ہے اور وہ حکم ان کی مالی یا غیر مالی حالات کی معاونت کے متعلق ہو _ پس صادرہ احکام یا عمومی قانون کے بہانے مذکورہ طریقے اور راستے سے ادھر ادھر ہونا صحیح نہیں ہے_
۴_ اس معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ اگر کسی مقروض کا کوئی ایسا خاندان نہ ہو جو اس کے قیدی کی رہائی کے بدلے، فدیہ دینے میں اس کی مدد کرسکے تو اس قیدی کی رہائی کے لئے تمام مسلمانوں پر اس کی مدد لازمی ہے_ اور یہ شق ، قبائل پر فدیہ کی ادائیگی ضروری قرار دینے والے مذکورہ حکم سے پیدا ہونے والے شگاف کو پرکرنے کے لئے منظور کی گئی ہے_ اور اس نکتہ کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ مذکورہ دونوں شقیں اس وقت کی مالی مشکلات کو حل کرنے کے لئے وضع ہوئیں جب مسلمانوں کے پاس ایسا کوئی بیت المال (خزانہ داری )نہیں تھا جو ان مشکل اور کٹھن حالات میں مسلمانوں کی کفایت کرتا _ کیونکہ یہ وہ وقت تھا جب مسلمان دوسروں کی ضروریات تو اپنی جگہ ، اپنی ذاتی ضروریات تک پوری کرنے سے قاصر تھے_ اور کوئی ایسا متبادل ذریعہ بھی نہیں تھا جس سے وہ اس بارے میں استفادہ کرتے_
۵_ اس معاہدے میں یہ بھی آیا ہے کہ ظالموں کو دور بھگانے کا فریضہ صرف مظلوموں پر ہی نہیں بلکہ سب پر عائد ہوتا ہے_ شاید یہ اس معاہدے کی اہم ترین شقوں میں سے ایک ہے_ چاہے اس جیسے عہد کو معاشرے کی جڑوں پر اثرات کے لحاظ سے دیکھا جائے، پھر ان اثرات کے تعلق کو معاہدے اور سیاسی موقف ، ظلم کے مسئلہ کے ساتھ حکمرانوں کے برتاؤ کے تناظر میں دیکھا جائے اور پھر اس معاہدے کے مثبت یا منفی رد عمل کے ساتھ دیکھا جائے جو ظلم سے مقابلے کو ایک معاشرتی اور اجتماعی فریضہ قرار دیتا ہے اور اسے صرف حکمران کے ساتھ ہی مخصوص نہیں کرتا، (گرچہ اکثر اوقات اس کے لئے اقتدار اور مقام کی ضرورت
رہتی ہے)_ یا چاہے عوام اور امت پر روحانی ، نفسیاتی اور دیگر اثرات کے لحاظ سے اس جیسے عہد کو دیکھا جائے تو یہ پہلو بھی نہایت خطیر اور باا ہمیت ہے _ البتہ اس کی تفصیل میں جانے کی گنجائشے نہیں ہے کیونکہ اس کے لئے اسلامی شریعت کی طبیعت اور فطرت کے گہرے اور دقیق مطالعہ کی ضرورت ہے_
۶_ اس معاہدے میں ایک یہ شق بھی ہے کہ کسی کافر کے بدلے میں کسی مسلمان کا خون نہیں بہا یا جائے گا_ اور اس شق میں یہ تاکید پائی جاتی ہے کہ انسان کی بزرگی اور قدر و قیمت صرف اسلام کے ساتھ ہی بڑھتی ہے_ اور یہ بات اس مقولہ سے ماخوذ ہے کہ کسی فرد یا اجتماع کے افکار و عقائد ہی اس کی قدر و قیمت کا معیار ہیں_ یہی چیزیں ہیں جو اس کی قدر بڑھاتی ہیں یا پھر گھٹاتی ہیں_ پس اسلام ، ایک مسلمان کی روح کو بلندی تک پہنچا نے والے ایسے اقدار کا مجموعہ ہے جن کے ذریعہ وہ مسلمان اپنی ذات میں انسانیت کے بلند و بالا معانی سموئے ہوئے ہو اور پھر ان پر حقیقی اور عملی زندگی میں عمل پیرا بھی ہو_ ان اقدار کے حامل مسلمان سے ایسے افراد کا قیاس ممکن ہی نہیں ہے جو یا تو اپنی انسانیت پر کاربند نہیں رہتے یا بہت قلیل مقدار میں ان اقدار کے حامل ہوتے ہیں یا سرے سے ان کے اندر انسانیت ہی نہیں پائی جاتی_ یہ صورتحال تو اس صورت کے علاوہ ہے جس میں کوئی شخص وقت پڑنے پر انسانیت کے دفاع اور اس کی راہ میں عزیز اور قیمتی چیزوں کی قربانی تو دریغ ، بلکہ وہ تو انسانیت کے لئے کسی وقعت بلکہ خود انسانیت کا بھی قائل نہ ہو اور ہر حال میں اسے اپنا مفاد عزیز ہوتاہے_
۷_ اس معاہدے میں یہ مذکور ہوا ہے کہ مسلمانوں کا کمتر شخص بھی دشمنوں کو امان دے سکتا ہے لیکن کسی مسلمان کے مقابلے میں کسی کافر کو پناہ اور امان نہیں دی جائے گی_ یہ شق بھی گذشتہ نکتہ میں مذکور مطلب پر تاکید کرتی ہے_ کیونکہ اسلام شرف اور بزرگی کو مال ، قبیلہ اور کسی دوسری چیز میں نہیں بلکہ صرف انسانیت میں دیکھتا ہے اور انسانیت ہی ہے جو اس کی قدر بڑھاتی ہے_ یہاں پر ہم یہ اضافہ بھی کرتے چلیں کہ اس جیسا پیمان مسلمانوں کے درمیان مساوات کے احساس کو مزید پختہ کرتا ہے_ پس جب تک تمام مسلمانوں میں انسانیت کا یہ اعلی نمونہ موجود ہے تب تک امیر کو غریب پر اور طاقتور کو کمزور پر کوئی برتری نہیں ہے_ اس
صورتحال میں انہیں صرف ان اعلی اقدار سے احسن انداز میں استفادہ کرنا چاہئے تا کہ ان کی زندگی کے تمام شعبوں میں بہتری ، بھلائی ، علم و فضل او رتقوی غالب ہو_
۸_ اس معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ مسلمان کسی بھی بدعتی کی حمایت اور مدد نہیں کریں گے بلکہ نہایت صلابت، مضبوطی ، پائیداری اور مستعدی سے اس کا اور اس کی بدعت کا مقابلہ کریں گے_ معاہدے کی اس شق میں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ، ذہنی اور فکری سلامتی کے لئے بہت زیادہ اہمیت کا قائل ہے_ اور ثقافتی ، عقائدی اور فکری میدان میں حفاظت اور صیانت کی بہت زیادہ تاکید کرتا ہے_ پھر اس صیانت کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وہ عوام یا دوسرے لفظوں میں امت کو اصلی کردار فراہم کرتا ہے_ اور اس سے قبل کہ اس بدعت کا طوفان اس امت کو اپنے ساتھ اڑالے جائے اور اس سمندر کی موجزن لہریں انہیں بہالے جائیں، اسلام ان انحرافات سے نمٹنے کے لئے عوام کو گروہی اور انفرادی کردار ادا کرنے کی تاکید کرتا ہے_ کیونکہ یہ بدعت ابتداء میں امت کے افراد کو نشانہ بناتا ہے تا کہ ان کی اجتماعی طاقت کو مذاق بنا کر اسے حقیرو ذلیل کرے اور پھرا نہیں تسخیر کرکے ان کی طاقت کو اپنی بنیادیں مضبوط کرنے اور اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے کام لائے _ جس کے بعد عوام کی یہ طاقت ایک ایسے پنجے اور کدال کی صورت اختیار کرلے گی جو ہر فضیلت پر کاری ضرب لگا کر اسے تباہ کرنے او ر ہر پستی اور برائی کو پھیلانے کے کام آئے گی_
۹_ اس معاہدے میں غلبہ اسلام کی بھی بنیاد رکھ دی گئی ہے کیونکہ اس معاہدے میں اسلام کے سخت ترین دشمنوں یعنی یہودیوں (مراد انصار قبیلوں سے دین یہودیت اختیار کرنے والے افراد) کی طرف سے بھی اسلام کے غلبہ کا تحریری اعتراف بھی موجود ہے_ حالانکہ یہودی صرف اور صرف اپنے آپ کو ہی تمام امتیازات اور خصوصیات کا مالک جانتے تھے اور ضروری تھا کہ ہر فیصلے کا مبداء ، منتہاء اور محور یہی ہوں _ خلاصہ یہ کہ یہ اپنے آپ کو حکمران اور پوری دنیا کو اپنا ایسا غلام اور حلقہ بگوش سمجھتے تھے جو پیدا ہی ان کی غلامی کرنے کے لئے ہوئے ہیں_ بہرحال اس معاہدے میں یہ طے پایا کہ کوئی بھی یہودی رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی اجازت کے بغیر مدینہ سے باہر قدم بھی نہیں رکھے گا_ اور حاکمیت اور فرمانروائی کسی اور کے ساتھ نہیں بلکہ
دین خدا اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے ساتھ خاص ہے_
ہوسکتا ہے کہ یہ عہد اور فیصلہ اس لئے بھی کیا گیا ہو کہ داخلی طور پر یہودیوں کو اسلام اور مسلمانوں کے متعلق برا سو چنے والے بیرونی دشمنوں کے مفاد میں فتنہ انگیزیوں اور جاسوسیوں کا کوئی موقع میسر نہ آسکے_ اور اس لئے بھی یہ عہد لیا گیا کہ مسلمانوں کے ساتھ اور آس پاس رہنے والے لوگوں کو بھی معلوم ہوجائے کہ یہاں پر بھی ایک ایسی طاقت موجود ہے جسے بہر صورت تسلیم کرنا ہی پڑے گا اور اس کے ساتھ حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے برابری اور سچائی کے ساتھ تعلقات قائم کرنے ہوں گے_
۱۰_ اس معاہدے میں (جس میں مذکورہ عہد کی گہری تاکید کی گئی ہے اور جسے یہودیوں نے تسلیم بھی کیا اور تحریری طور پر اس کا ثبوت بھی دیا) یہ بھی بیان ہوا ہے کہ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان پیدا ہونے والے تمام تنازعوں اور مشکلات کے حل کا مرجع اور مرکز صرف رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی ذات والا صفات ہی ہے_ البتہ ہم یہاں اس شق کے سیاسی مدلول اور یہودیوں نیزمدینہ کے رہائشےی دیگر افراد اسی طرح پورے علاقے کے باسیوں پر ذاتی ، انفرادی اور اجتماعی اثرات پر بحث کرنے کے درپے نہیں_ البتہ یہ ضرور بتاتے چلیں کہ اس شق کی وجہ سے عقائد کی حفاظت کا سامان بھی فراہم کیا گیا اور اگر تھوڑی سی دقت کی جائے تو یہ بھی معلوم ہوگا کہ اس میں فقہی پہلوؤں کی مراعات بھی کی گئی ہے _اس بارے میں کسی اور مقام پر تفصیلی بحث کریں گے_
۱۱_ ان تمام شقوں کے علاوہ اس معاہدے نے فتنہ انگیزی نہ کرنے کی شرط پر انصاری یہودیوں کے '' امن '' اور '' آزادی'' جیسے عمومی حقوق کے تحفظ کی ضمانت بھی دی ہے_ اور یہ دونوں خاص کر آزادی کا حق عطا کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جب تک کوئی چیز حقیقت اور سچائی کی بنیادوں پر برقرار رہتی ہے اور حقیقت کے راستے پر گامزن ہوتی ہے تب تک اسلام کو بھی کسی چیز سے خطرہ محسوس نہیں ہوتا _ اسلام صرف اور صرف فتنہ انگیزی اور فساد سے ڈرتا ہے_ یہ چیز اس بات کی طرف ہماری راہنمائی کرتی ہے کہ اسلام علم اور معرفت کے حصول کی تاکید کرتا ہے کیونکہ اسلام ہی ہے جو ( تخریبی رستوں سے ہٹ کر صرف) تعمیری راستوں میں علم اور معرفت سے سب سے زیادہ استفادہ کرسکتاہے_
۱۲_ پھر اس معاہدے میں منافقوں اور مشرکوں بلکہ یہودیوں کی طرف سے بھی یہ اعتراف پایا جاتا ہے کہ مسلمان ہی سب سے بہتر اور معتدل تر ہدایت پر ہیں_ حالانکہ انہی لوگوں نے پہلے یہ پھیلا رکھا تھا کہ یہ نبی ہمارے اتفاق اور اجتماع میں رخنہ ڈالنے اور ہماری امیدوں اور لائحہ عمل پر پانی پھیرنے آیا ہے اور اسی طرح کے دیگر الزامات بھی تھے جو بطور مثال عمرو بن عاص نے حبشہ ( ایتھوپیا) کے بادشاہ نجاشی سے ذکر کئے تھے_
۱۳_ اس معاہدے میں قبیلہ پرستی کو بھی ناجائز قرار دے دیا گیا کیونکہ قبیلہ پرستی ، افراد قبیلہ کی ہر قسم کی اور ہر صورت میں مدد کا باعث بنتی تھی چاہے وہ دوسروں پر ظلم اور زیادتی کے بھی مرتکب ہوتے_
اس معاہدے میں یہ طے پایا کہ قاتل جو بھی ہو اور جہاں بھی ہو تمام مؤمنوں پر اس کا تعاقب اور پیچھا ضروری ہے _ نیز اس شق میں ریاست ، سرداری اور مجرم کے قبیلہ کی قسم جیسے دیگر امتیازی قوانین اور سلوک کو بھی باطل قرار دیا گیا _ جس طرح بنی قریظہ اور بنی نضیر کی حالت تھی _ کیونکہ اس معاملے میں بنی قریظہ پر بنی نضیر کو امتیازی حیثیت حاصل تھی_
۱۴_ پھر اس قرار داد نے مسلمانوں کو ( تمام مشرکوں کو چھوڑکر ) صرف قریشیوں کے اموال ضبط کرنے کا حق بھی دیا_ کیونکہ قریشیوں نے بھی ان سے تمام اموال چھین کر انہیں اپنے گھروں سے نکال باہر کردیا تھا_ اور یہ ضبطی اس ادلے کا بدلہ ہوگا_ حتی کہ مشرکوں نے بھی مسلمانوں کے اس حق کا اعتراف کیا حالانکہ وہ بھی اس معاہدے کے فریق تھے_ اس شق کے متعلق مشرکوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اس معاملے میں وہ قریش کی کوئی مدد نہیں کرسکتے اور اس معاملے کو دوسرے رنگ میں ڈھالنا شروع کر دیا تھا _ اسی شق نے انسانی ضمیر میں انسانیت کی قدر بڑھائی اور اسے فعال کردار عطا کیا جسے یا تو وہ لوگ بھلا چکے تھے یا بھلانے لگے تھے_
۱۵_ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس معاہدے میں '' مسلمانوں'' کی بجائے'' مومنوں'' کا لفظ استعمال کیا گیا ہے_ روابط اور تعلقات کے میدان میں اس لفظ کے بہت اثرات ہیں _ اسی طرح مخلصین کے لئے بھی اس میں اشارے پائے جاتے ہیں تا کہ ان کے خلوص اور اخلاص میں اضافہ ہو نیز ان منافقوں کے لئے بھی
اشارے پائے جاتے ہیں جو خدا اور مؤمنوں کو دھو کا دینا چاہتے ہیں حالانکہ وہ صرف اپنے آپ کو ہی دھوکا دیتے ہیں_ اسی طرح مختلف گروہوں کی شناخت میں اس کے سیاسی اثرات بھی ہیں تا کہ یہ پہچان اور امتیاز مذہبی اور دینی تعصب کی روسے نہ ہو _
۱۶_ اس معاہدے میں ایمان کی عظمت کا اظہار بھی ہے جس کی روسے ترجیحات اور امتیازات عطا ہوتے ہیں_ نیزکفر کو پست ترین رتبہ دیا گیا ہے کیونکہ اس معاہدے میں یہ کہا گیا ہے کہ کافر کے مقابلے میں کوئی بھی مؤمن کسی مؤمن کو قتل نہیں کرے گا اور نہ ہی مؤمن کے خلاف کسی کافر کی مدد اور حمایت کرے گا_
۱۷_ یہ شق کفر اور ایمان کے لشکر کے درمیان امتیازات کی واضح جنگ اور اس حالت جنگ کی بنیاد ڈالنے کی جانب ایک قدم ہے_
۱۸_ ملاحظہ ہو کہ یہ قرار داد یہ بیان کر رہی ہے کہ جو اس معاہدے کے مندرجات کا اقرار کرتا ہے اسے کسی بدعتی کی مدد ، حمایت اور پناہ کا کوئی حق نہیں پہنچتا_ اور یہ شق امن عامہ کو پھیلانے ، لوگوں کو ایک طرح سے مطمئن اور آسودہ خاطر رکھنے نیز اوس اور خزرج پر منڈلاتے ہوئے خوف کے بادلوں کو کم کرنے کی طاقت رکھتی ہے_ اسی طرح اس شق میں مسلمانوں کے ساتھ ایک ہی علاقے میں بسنے والے یہودیوں اور مشرکوں کو ڈھکی چھپی دھمکی بھی پائی جاتی ہے_
۱۹_ اسی طرح دشمنوں کے سامنے مسلمانوں کا یہ دعوی ہے کہ '' وہ ایک دوسرے کی مدد کرنے والی ایک متحد اور منسجم طاقت ہیں'' _ اور دوسروں کے دلوں میں اپنی ہیبت اور رعب و دبدبہ بٹھانے کے لئے نیز قبائلی یا دیگر قسم کے جذبات سے کھیل کر ان کے ذریعے مسلمانوں کی صفوں میں نفوذ کرنے والوں کی سوچ اور طمع کو دور کرنے اور مٹانے کے لئے اس دعوے کا بہت زیادہ اثر اور کردار ہے_
۲۰_ آخر میں یہ نکتہ بھی ملاحظہ ہو کہ یہ معاہدہ مشرکوں کے لئے کسی اضافی حق کا قائل نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس ان پر کئی پابندیاں عائد کردیں_ پس اس معاہدے کی روسے کسی مشرک کو قریش کے کسی شخص یا مال کو پناہ اور امان دینے بلکہ ان کی خاطر مومنوں اور قریشیوں کے درمیان حائل ہونے کا بھی کوئی حق نہیں ہے_
یہی وہ چند نکات تھے جنہیں ہم عجلت میں سرسری طور پر ذکر کرنا چاہتے تھے _ امید ہے کہ کسی فرصت میں بہت سے دیگر نکات کا بھی مطالعہ کریں گے_
۵_ یہودیوں سے صلح :
بنی قریظہ ، نضیر اور قینقاع کے یہودی ( نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں ) آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے صلح کی خواہش کی تو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے لئے تحریر لکھ دی کہ (یہ صلح) اس شرط پر ہوگی کہ وہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف کسی شخص کی مدد نہیں کریں گے _ نیز زبان ، ہاتھ، اسلحہ یا سواری کے ساتھ یعنی کسی بھی ذریعے سے اور خفیہ یا علانیہ اور رات یا دن میں یعنی کسی بھی طریقے سے اور کسی بھی وقت آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے کسی بھی صحابی کے لئے کسی بھی قسم کی کوئی مزاحمت ایجاد نہیں کریں گے _ اور اگر انہوں نے ان میں سے کوئی کام انجام دیا تو ان کا خون بہانے، ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنانے اورا ن کے اموال ضبط کرنے کا اختیار رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو ہوگا _اور ہر قبیلہ کے لئے جدا گانہ تحریر لکھ دی(۱) _ لیکن یہودی ، اس معاہدے کو توڑ کر دوبارہ اپنی مکر و فریب والی عادت پر پلٹ گئے_
____________________
۱) اعلام الوری ص۶۹،البحارج/۱۹س ص ۱۱۰/۱۱۱ عنہ، السیرة النبویة لدحلان ج/۱ ص ۱۷۵_
۱۲۹
چوتھی فصل: شرعی احکام
اذان کی تشریع :
یہاں پرمؤرخین ذکر کرتے ہیں کہ : ہجرت کے پہلے سال اذان تشریع کی گئی _ ایک قول یہ ہے کہ دوسرے سال میںتشریع ہوئی لیکن اس چیز کی تحقیق ہمارے لئے زیادہ اہم نہیں_
البتہ تشریع اذان کی کیفیت اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ : آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم اس فکر میںتھے کہ لوگوں کو نماز کے لئے کس طرح اکٹھا کیا جائے تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ایک پر چم نصب کریں جب لوگ دیکھیں گے تو ایک دوسرے کو اطلاع دے دیں گے تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے پسند نہ فرمایا _ صحابیوںنے ( یہود یوںکے بگل کی طرح ) بگل بجانے کا مشورہ دیا_ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے بھی پسند نہیں کیا اور فرمایا کہ یہ یہود یوںکی رسم ہے _ انہوں نے ناقوس ( بجانے کا ) مشورہ دیا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے (اسے بھی ناپسند کرتے ہوئے )فرمایا کہ یہ نصاری کی عادت ہے غالباً آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے پہلے اسے ناپسندفرمایا پھر اس کا حکم دے دیا اوراسے لکڑی سے بنایا گیا_
عبداللہ بن زید گھر واپس آئے جبکہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے فکرمندہونے کی وجہ سے غمگین تھے _ اس رات انہوں نے خواب میں اذان دیکھی_ خود عبداللہ بن زید بیان کرتے ہیں: ''صبح کے وقت رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کواذان کے متعلق بتایا پھر عرض کی کہ یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ میں نیند اور بیداری کی حالت میں تھا کہ کوئی میرے پاس آیااور اس نے مجھے اذان کی کیفیت دکھائی ''_
وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب اس واقعہ سے پہلے اذان کو دیکھ چکے تھے اورانہوں نے بیس دن تک اسے چھپائے رکھا _ پھر جب نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کو بتایا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ پھر مجھے بتانے سے کون سی چیز مانع
تھی؟ جواب دیا کہ عبداللہ بن زید نے مجھ پر سبقت لے لی لیکن میں جھجکتا رہا ( اس پر ) رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ بلال اٹھو اور دیکھو کہ عبداللہ بن زیدتجھے کس چیز کا حکم دیتا ہے تم اسے بجا لاؤ _یوںحضرت بلال نے اذان کہی ( الحدیث) _تشریع اذان کی کیفیت کے سلسلہ میں وارد ہونے والی روایات میں سے ایک نصّ یہ تھی_ یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے مزید اطلاع کے لئے حاشیہ میں مندرج کتب کی طرف رجوع کریں(۱) _
اذان کی روایات پر بحث:
ہم معتقد ہیںکہ یہ بات درست نہیں اور اس سلسلہ میںہمارے پاس مندرجہ ذیل دلائل ہیں_
ایک : ان روایات کے مطالعہ اور ایک دوسرے کے ساتھ تقابل سے ظاہر ہوتاہے کہ ان روایات میں سخت اختلاف پایا جاتا ہے اور یہ چیز کسی روایت کے ضعیف ہونے کا باعث بنتی ہے اور اس پر کئی طرح کے سوالات اٹھتے ہیں_مثلاً گذشتہ روایت کہتی ہے کہ ابن زید نے نیند اور بیداری کی حالت میں اذان دیکھی_
دوسری روایت میں اس کے برعکس یہ ہے کہ انہوں نے یہ اذان حالت خواب میں دیکھی جبکہ تیسری روایت میں آیا ہے کہ خود ابن زید نے کہا '' لوگ اگرباتیں بنا کرمیرے درپے نہ ہوتے تو میں یقیناً یہی کہتا کہ میں تو سو ہی نہیں رہا تھا بلکہ حالت بیداری میں تھا ''_ ایک اور روایت یوں کہتی ہے '' یقیناً ابن زید نے اذان ہوتے ہوئے دیکھی اور پھر نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس کی اطلاع دی'' مزید ایک روایت میں ہے کہ یقیناً جبرائیل نے دنیا کے آسمان پر اذان دی حضرت عمر اور حضرت بلال دونوںنے سنا ، لیکن حضرت عمرنے حضرت بلال
____________________
۱)سنن ابی داؤد ج/۱ ص ۳۳۵،۳۳۸ ، المصنف عبد الرزاق ج /۱ص۴۵۵تا۴۶۵، السیرة الحلبیةج/۲ ص ۹۳ تا ۹۷ ، تاریخ الخمیس ج/۱ ص ۳۵۹، الموطا ج۱ نیزشرح موطا للزرقانی ج/۱ص۱۲۰تا ۱۲۵،الجامع الصحیح للترمذی ج/۱ص۳۵۸تا۳۶۱،مسند احمدج/۴ ص ۴۲ ، سنن ابن ماجہ ج/۱ص ۱۲۴، سنن البیہقی ج/۱ ص۳۹۰و۳۹۱،سیرةابن ھشام ج/۲ص۱۵۴،۱۵۵،۱۲۵،نصب الرایة ج/۱ ص ۲۵۹تا۲۶۱، فتح الباری ج/۲ ص ۶۳تا۶۶، طبقات ابن سعدج/۱جزء ۲ص ۸،البدایةوالنھایة ج/۳ ص۲۳۲و ۲۳۳، المواھب اللدنیة ج/۱ص۷۱، منتخب کنزالعمال(حاشیہ مسنداحمدپر)ج/۳ ص۲۷۳، اور ۲۷۵ ، تبیین الحقائق للزیلعی ج /۱ ص ۹۰، الروض الانف ج/۲ ص ۲۸۵،۲۸۶، حیاة الصحابة ج/۳ ص ۱۳۱، از کنز العمال ج/۴ ص ۲۶۳،۲۴۶،اور اسی طرح ابی شیخ ابن حبان اور ابن خزیمہ سے بھی نقل کیا گیاہے ، سنن الدار قطنی۰۶۶ ج/۱، ۲۴۱ ، ۲۴۲ ، اور ۲۴۵ ، علاوہ ازین دیگر کثیرکتب_
پر سبقت لیتے ہو پہلے جاکر پیامبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس کی اطلاع دی _جب حضرت بلال آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت آئے تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: '' تم سے پہلے عمر نے مجھے اس کی اطلاع دے دی ہے'' _
لیکن ایک روایت میں ملتاہے کہ فقط ابن زید نے اس اذان کو دیکھا _اس کے برعکس ایک روایت یوں کہتی ہے کہ انصار کے سات افراد نے اذان دیکھی جبکہ ایک قول میں یہ تعداد چودہ بیان ہوئی ہے، ایک روایت میں عبداللہ بن ابی بکر کابھی اضافہ کیا گیا ہے علاوہ بر ایں ایک روایت میں ہے کہ یقیناً یہ بلال ہی تھے جنہوںنے سب سے پہلے ''اشھد ان لا الہ الا اللہ حی علی الصلاة'' کہا_ اس پر حضرت عمر نے ''اشھد ان محمد رسول اللہ'' کا اضافہ کیا پس نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ سنتے ہی حضرت بلال سے فرمایا :''جیسے عمر نے کہا ہے تم بھی ویسے ہی کہو''_
بعض روایات میں اذان کی فصلیں ایک مرتبہ اور بعض میں دو مرتبہ ذکر ہوئی ہیں_ان روایات میں طرح طرح کے دیگر اختلافات بھی پائے جاتے ہیں لیکن ان سب کو بیان نہیں کیا جاسکتا _ اس سلسلے میں آپ اصل منابع کی طرف رجوع کرکے روایات میں تقابل کرسکتے ہیں _
دو: یہ بات کہ حضرت عمر اور حضرت بلال نے خود حضرت جبرائیل عليهالسلام کی آواز سنی یا ابن زید نے یہ اذان حالت بیداری میں ہوتے ہوئے دیکھی ، قابل قبول نہیںکیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ سب لوگ بھی نبی ہیں کیونکہ انہوں نے جبرائیل عليهالسلام کو اپنی آنکھوں سے دیکھااو ر جبرائیل عليهالسلام سے ایک شرعی ، توقیفی حکم سنا جبکہ یہ امر تو انبیاء عليهالسلام و رسل عليهالسلام سے مخصوص ہے_
حالت خواب میں دیکھی گئی اذان کے متعلق عسقلانی لکھتے ہیں:
'' عبداللہ ابن زید کے خواب کی بنیاد پر اذان کے حکم شرعی کے ثبوت پر یہ اعتراض کیا گیاہے کہ غیر نبی عليهالسلام کا خواب حکم شرعی نہیں ہوتا _ البتہ اس کاجواب یہ دیا جاسکتاہے کہ ممکن ہے کہ وحی بھی اس کے مطابق نازل ہوئی ہو؟''(۱) _
____________________
۱) فتح الباری ج/ ۲ ص ۶۲ _
لیکن یہ جواب قانع کنندہ نہیں کیونکہ صرف احتمال سے کوئی چیز ثابت نہیں ہوتی _حالانکہ ان کے ہاں معتبر اور قابل اعتماد مذکورہ روایات میں ایسے کسی احتمال کی طرف اشارہ بھی نہیں پایا جاتابلکہ یہ روایات فقط رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس حکم پر اکتفاء کرتی ہیں کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت بلال سے فرمایا کہ ابن زیدسے اذان کی تعلیم حاصل کرو _
اس کے علاوہ اس معاملے میں شروع ہی سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر وحی نازل کیوں نہ ہوئی _ حالانکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سر گردان ، فکرمنداور رنجیدہ خاطر تھے اورآپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں_
یہاںایک یہ سوال باقی رہ جاتاہے کہ اذان، اس کیفیت سے کیوں شروع ہوئی جبکہ باقی سب احکام ایسے نہیں ہیں؟
''سہیلی ''نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ اذان در اصل خدا کی شان اور ذکر کو بلند کرناہے پس غیر نبی کی زبان پر اس کی شان نہایت بلند اور عظیم المرتبت ہونی چاہئے اس لئے اسے پہلے صحابیوں کو سکھا یا گیا(۱) _
اگر چہ عسقلانی و غیرہ نے اس جواب کو سراہا ہے لیکن یہ جواب بھی بے معنی اور کم وزن ہے _اگر یہ جواب صحیح ہو تو شریعت میں نماز، زیارتیں، دعائیں، اسی طرح خدا کی توحید کا اقرار اور پیامبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رسالت کی گواہی اور دیگر احکام اسلام سب کے سب غیرنبی کی زبان سے جاری ہونے چاہئیں_ کیونکہ اس کا مطلب اللہ کا ذکر بلند کرنا اور اس کے حکم کو عظمت سے بجا لاناہے_ یہی حال خصوصاً ان قرآنی آیات کا بھی ہے جن میں حضور سرور کائنات صلىاللهعليهوآلهوسلم کی تعریف و توصیف بیان ہوئی ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے_
( وَ انَّكَ لَعَلی خلق عظیم )
اور اس طرح کی دیگر آیات بھی ہیں_ گذشتہ مطالب کے علاوہ ہم یہ کہیں گے کہ پیامبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کا زید کے خواب کے مطابق عمل کرنے کا حکم دینا تو وحی کے بغیر بلکہ اپنی ذاتی خواہش کے تابع ہوگا جبکہ یہ بات خداوند متعال کے اس فرمان ( و ما ینطق عن الهوی ) سے منافات رکھتی ہے_
____________________
۱) الروض الانف ج/ ۲ ص ۲۸۵_
پیامبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کا دینی امور میں اپنے صحابیوں سے مشورہ کرنا یقیناً محال ہے کیونکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم ''وحی'' کے ہوتے ہوئے اس امر سے مستغنی تھے _البتہ دنیاوی امور میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے اصحاب سے مشورہ فرمایا کرتے تھے_ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کئی وجوہات کی بنا پر چاہتے تھے کہ دنیاوی امور کو مشورت سے انجام دیں _انشاء اللہ جنگ بدر و احد کے واقعات میں ہم ان وجوہات کا ذکر کریںگے_
تین: یہ کیسے ممکن ہے کہ پیامبر گرامی اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم نے پہلے تو یہود و نصاری کے فعل سے موافقت کو ناپسند فرمایا ہو اور پھر اسی پر ہی رضایت دے دی ہو؟ ایک قبیح امر کیسے اچھا ہوگیا ؟ ایک برائی اچھائی میں تبدیل ہوگئی یا حضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم ان لوگوںسے موافقت پر مجبور تھے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس اور کوئی چارہ ہی نہ تھا؟ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک منادی کیوں نہ مقرر فرما دیا جو لوگوں کو نماز کے لئے بلاتا؟ جیسا کہ نماز یا دیگر مواقع پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے اوروہ ''الصلاة جامعة'' پکار پکار کر لوگوں کو اکٹھا کرتے تھے_
اس مشکل کے حل کے لئے صرف نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم اور عبداللہ ابن زید (یا حضرت عمر ) ہی کیوں فکرمند تھے؟ اور یہ مشکل آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رضامندی سے صرف ناقوس بنانے پر ہی حل ہوگئی؟ اور کوئی حل باقی نہیں رہا تھا؟ یا کوئی اور آدمی موجوود نہیں تھا؟_
بہر حال اس سے اہم بات یہ ہے کہ وہ یہ روایت کرتے ہیں (گرچہ ہم اس کی تصدیق و تائید نہیں کرتے بلکہ اس کے جھوٹ ہونے پر ہمیں یقین ہے) کہ جن امور میں وحی نازل نہیں ہوئی تھی ان تمام امور میں رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم اہل کتاب کی پیروی کرنا چاہتے تھے(۱) تو پھر مذکورہ معاملے میں یہ کیونکر ہوا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے کراہت و ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اوراسی کے لئے فکرمند اور پریشان ہوئے_ یہ تو بہت عجیب و غریب تناقض گوئی ہے جسے آنحضور( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی طرف نسبت دی گئی ہے_
چہار: الصباح المزنی ، سدیر الصیرفی، محمد بن النعمان الا حول اور عمر بن اذینہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم امام صادق عليهالسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :'' اے عمر بن اذینہ یہ ناصبی اپنی اذان و نماز کے
____________________
۱) روز عاشور کے روزے کے متعلق گفتگو میں اس کی طرف اشارہ کریں گے (انشاء اللہ )
متعلق کیا کہتے ہیں''؟ میں نے عرض کیا:'' میری جان آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر قربان ہو وہ کہتے ہیں کہ اسے ابی بن کعب انصاری نے خواب میں دیکھا تھا''_ حضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :'' خدا کی قسم جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ خدا وند قدوس کے دین کی شان خواب میں دکھائے جانے سے بالاتر ہے'' _ ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت عليهالسلام نے فرمایا:'' اللہ نے تمہارے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم پر اس کے متعلق وحی نازل فرمائی لیکن یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ حضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے عبداللہ بن زید سے سیکھا ہے''(۱) _
۲ _ابی علاء سے روایت ہے کہ میں نے محمد بن حنفیہ سے کہا: '' ہم تو یہ بیان کرتے ہیں کہ اذان کی ابتداء ایک ایسے خواب سے ہوئی جسے ایک انصاری نے خواب میں دیکھا تھا'' اس پر محمد حنفیہ سختغصہ ہوگئے اورگرج کر کہا :''شریعت مقدسہ اسلام اور دینی معارف کی بنیادوں کو تم نے نشانہ بنا لیا ہے_تمہارا گمان ہے کہ اسے ایک انصاری نے خواب میں دیکھا ہے جس میں جھوٹ اور سچ دونوں کا احتمال پایا جاتا ہے _ اور اکثر اوقات تو یہ خواب ویسے ہی بے تعبیر اور لاحاصل ہوتے ہیں''؟
میں نے کہا :''یہ حدیث تو لوگوں میں پھیل چکی ہے''؟
انہوں نے کہا :'' خدا کی قسم یہ غلط ہے_'' پھر کہا :''مجھے میرے والد گرامی نے بتایا تھاکہ حضرت جبرائیل عليهالسلام نے شب معراج بیت المقدس میں اذان و اقامت کہی اور پھر جب رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے آسمان کی طرف معراج فرمائی تو انہیں پھر دہرایا''(۲) _
۳_ اس طرح امام حسن مجتبی عليهالسلام نے بھی اس بات کا انکار فرمایاہے _ جب آپ عليهالسلام کے سامنے اذان کے بارے میں گفتگو ہوئی اور عبداللہ ابن زید کے خواب کا تذکرہ کیا گیا تو آپ عليهالسلام نے فرمایا '':اذان کی عظمت اس افسانے سے کہیں بالاتر ہے_
حضرت جبرائیل عليهالسلام نے آسمان میں دو دو مرتبہ اذان کہی اور پھراسی طرح اقامت کہی اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس
____________________
۱)بحار الانوار ج/۱۸ ص۳۵۴ ، علل الشرائع ص ۱۱۲ / ۱۱۳ ، النص والاجتہاد ص ۲۰۵ عن الشہید فی الذکری نیز وسائل الشیعہ ج۴ ص ۶۱۲ و ۶۱۳_
۲) السیرة الحلبیہ ج/ ۲ ص ۹۶ ، النص والاجتہاد ص ۲۰۵ و کتاب العلوم (امالی احمد بن عیسی بن زید) ج۱ ص ۹۰_
کی تعلیم دی''(۱) _
۴ _ جب حضرت امام حسین عليهالسلام سے اذان اور لوگوں کی باتوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ عليهالسلام نے فرمایا:
'' تمہارے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم پر وحی نازل ہوتی ہے اور تم لوگ یہ گمان کرتے ہو کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے عبداللہ بن زید سے اذان سیکھی ہے ؟ جبکہ میں نے اپنے والد حضرت علی ابن ابی طالب (علیہما السلام) سے سنا ہے کہ جب حضرت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو معراج پر لے جایا جانے لگا تو ایک فرشتے نے اتر کر اذان اور اقامت کی فصلوں کو دو دو مرتبہ دہرا کرا ذان و اقامت کہی پھر جبرائیل عليهالسلام نے آپ عليهالسلام سے کہا : '' یا محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم نماز کی اذان بھی اسی طرح ہے ''(۲) _
البتہ اقامت کی فصلوں کاایک ایک مرتبہ ہونا اہل بیت عليهالسلام کی قطعی تعلیمات کے بالکل مخالف ہے_ کیونکہ یہ یقینی بات ہے کہ اہل بیت عليهالسلام کی روایات اور نظریات میں اس کی دودو فصلیں بیان ہوئی ہیں اور اصحاب تابعین اور فقہائے اسلام کی اکثریت کی بھی یہی رائے ہے _ایک ایک مرتبہ والی بات امراء کے ہاتھوں کی صفائی معلوم ہوتی ہے کیونکہ بقول مورخین اس ذریعہ سے انہوں نے اقامت کی تحقیر، بے قدری اور توہین کرنے کی کوشش کی(۳) ورنہ اقامت کی فصلیں بھی دو دو مرتبہ ہیں_
پانچ: خو د عبداللہ ابن زید سے روایت ہے : '' میں نے رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے اذان سنی ہے ، آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے دو دو مرتبہ اذان و اقامت کہی(۴) ''_
پس اگر ابن زید نے ہی خواب میں اذان دیکھی ہوتی تو وہ دوسروں کی نسبت اس ا مر سے سب سے زیادہ آگاہ ہوتا ، پھر اس کی رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا سے یہ حدیث کیسی؟
چھ: داؤود ی کی ابن اسحاق سے حکایت ہے کہ عبداللہ بن زید اور حضرت عمر کے خواب میں دیکھنے سے آٹھ روز قبل حضرت جبرائیل عليهالسلام اذان لے کر آنحضور صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں آئے'' _ اس بات کی تائید اس
____________________
۱) النص و الاجتہاد ص ۲۰۵ از مشکل الآثار ،ابن مردویہ اور کنزالعمال ج/۶ ص ۲۷۷ نیز مستدرک حاکم ج۳ ص ۱۷۱_
۲) گذشتہ و آئندہ منابع ملاحظہ فرمائیں_ (۳) المصنف عبدالرزاق ج/ ۱ ص ۴۶۳ ، سنن البیہقی ج/ ۱ ص ۴۲۵ _
۴) مسند ابی عوانہ ج/ ۱ ص ۳۳۱ سنن دارقطنی ج/ ۱ ص ۲۴۱_
روایت سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت عمر ناقوس( گھنٹی) خریدنے جارہے تھے کہ اطلاع ملی ابن زید نے خواب میں اذان دیکھی ہے وہ رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں بتانے کے لئے واپس آئے تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: '' تمہارے بتانے سے پہلے وحی نازل ہوچکی ہے ''(۱) _
سات: ہم اذان کے شرعی حکم کے ہجرت سے قبل مکہ میں نزول کو ترجیح دیتے ہیں ، کیونکہ یہ بات محمد حنفیہ والی گذشتہ روایت میں بیان ہوچکی ہے اور مندرجہ ذیل روایات میں بھی مذکور ہے_
۱_ جناب زید بن علی نے اپنے اجداد طاہرین عليهالسلام سے روایت کی ہے: ''رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو شب معراج اذان کی تعلیم دی گئی اور نماز فرض ہوئی ''_ یہ بات امیر المومنین عليهالسلام ، امام باقر ، ابن عمر اور حضرت عائشہ سے بھی روایت کی گئی ہے(۲) _ امام باقر عليهالسلام سے بھی صحیح سند کے ساتھ تقریباً یہی مطلب نقل ہوا ہے(۳) _
۲ _ انس روایت کرتے ہیں کہ جب نماز فرض ہوئی تو اس وقت جبرائیل عليهالسلام نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اذان کا بھی حکم دیا(۴) _
امام باقر عليهالسلام کی اس مذکورہ روایت کو سھیلی نے بھی صحیح قرار دیا ہے جس میں آیا ہے کہ اذان کا شرعی حکم شب معراج لاگو ہوا_ لیکن اس روایت پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک تو اس کی سند میں زیاد بن منذر ہے جو شیعہ تھا(۵) اور دوسرایہ کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہجرت کے موقع پر اذان کا حکم نہیںدیا تھا(۶) _
____________________
۱) المصنف عبدالرزاق ج/۱ص۴۵۶،تاریخ الخمیس ج/۱ ص۳۶۰،البدایة والنہایة ج/ ۳ ص ۲۳۳ ، السیرة الحلبیہ ج/ ۲ ص ۹۶ ، ۹۷_
۲)منتخب کنزالعمال ( مسند احمد کے حاشیہ پر ) ج/۳ ص ۲۷۳ از طبرانی سے اوسط السیرة الحلبیہ ج/ ۱ ص ۳۷۳ ، ج/ ۲ ص ۹۳ ، ۹۵ مجمع الزوائد ج/ ۱ ص ۳۲۹ و ۳۲۸ ، نصب الرایة ج/۱ ص ۲۶۲ و ۲۶۰ ، المواھب اللدنیہ ج/۱ ص ۷۱ ، ۷۲ فتح الباری ج/ ۲ ص ۶۳ ، الدرالمنثور ج۴ ص ۱۵۴ از بزار ، ابن مردویہ ، طبرانی و ابو نعیم در دلائل النبوہ ، الروض الانف ج/ ۲ ص ۲۸۵ و ۲۸۶ ، البدایةوالنہایة ج/۳ ص ۲۳۳ ، تبیین الحقائق از البزار، النص والاجتہاد ص ۲۰۵ از مشکل الآثار و شہید در ذکری ، کنزالعمال ج۱۴ ص ۴ ، از ابن مردویہ، قصار الجمل ج۱ ص ۱۳ ، الوسائل ج۴ ص ۶۶۰ و کافی ج۳ ص ۳۰۲_
۳) الکافی ج/۳ ص ۳۰۲_ (۴) المواھب اللدنیہ ج/۱ ص ۷۲ و فتح الباری ج/۲ ص ۶۳_ (۵) نصب الرایة ج/ ۱ ص ۲۶۱_
۶) البدایة و النہایہ ج / ۳ ص ۲۳۳ ، مستدرک الحاکم ج/ ۳ ص ۱۷۱ ، نصب الرایہ ج/ ۱ ص ۲۶۱ ، حاکم نے اس بارے میں سکوت کیا ہے جبکہ ذھبی نے نوح بن دراج پر جرح کی ہے شاید انہوں نے اپنی عادت کے مطابق اس کے شیعہ ہونے کی بناپر ایسا کیا ہے_
جبکہ ان کے پہلے اعتراض کے متعلق تو معلوم ہوچکاہے کہ وہ ہے ہی بے بنیاد لیکن دوسرے اعتراض کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ یہی تو اختلاف کا مقام ہے _ اسی مناسبت سے یہاں ذکر کرتے چلیں کہ:
روایات میں یہ بھی آیاہے کہ جب حضرت آدم عليهالسلام جنت سے نکالے گئے تو جبرائیل عليهالسلام نے اس وقت اذان کہی(۱) گذشتہ بیانات سے ابن عباس سے مروی یہ روایت بھی غلط ثابت ہوجاتی ہے کہ سورہ جمعہ کی اس آیت ''یا ایھا الذین آمنوا اذا نودی للصلاة من یوم الجمعة ''کے نزول کے ساتھ ہی اذان فرض ہوئی تھی(۲) اس روایت کے رو سے تو اذان کے شرعی حکم کا نزول ، ہجرت کے ساتویں سال سورہ جمعہ کے نزول کے ساتھ اور جنگ احد میں یا اس کے کچھ عرصہ بعد قتل ہونے والے عبداللہ بن زیاد کی وفات کے بعد جا بنے گا _
اسی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے حاکم نے کہا ہے'' بخاری و مسلم نے عبداللہ بن زید کی خواب میں اذان والی اس روایت کو مذکورہ حدیث کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے کیونکہ عبداللہ اس سے پہلے ہی رحلت کرگئے تھے کیونکہ کہا گیا ہے کہ عبداللہ بن زید جنگ احد میں اور بقولے اس کے کچھ ہی عرصہ بعد شہید ہو گئے تھے''(۳) _
لیکن درمنثور کی عبارت یوں ہے ''نماز کے فرض ہونے کے ساتھ اذان رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل ہوئی _ ( یا ایها الذین آمنوا اذا نودی للصلاة ) اب اس عبارت سے ان کا مقصود یہ ہوسکتاہے کہ اذان مکہ میں اس وقت شروع ہوئی جب نماز فرض کی گئی لیکن مذکورہ آیت کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بھی اذان کے بارے میں اشارہ کیا ہے اگر یہ صحیح ہو تو اس روایت کا ماسبق سے کوئی تعارض اور اختلاف نہیں_
آٹھ: حضرت عائشہ ، عکرمہ ، قیس بن ابی حازم و غیرہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالی کے اس قول ( و
____________________
۱)فتح الباری ج/ ۲ ص ۶۴ ، السیرة الحلبیہ ج/۲ ص ۹۳_
۲)فتح الباری ج ۲ ص ۶۲، الدر المنثور ج ۶ ص ۲۱۸از ابو شیخ_
۳) مستدرک الحاکم ج/۴ ص ۳۴۸_
من احسن قولاً ممن دعا الی الله و عمل صالحاً ) (۱) سے مراد اذان و اقامت کے درمیان دو رکعت نماز کی ادائیگی ہے(۲) _
یہ بات واضح ہے کہ مذکورہ آیت سورہ مبارکہ فصلت کی ہے جو مکی سورت ہے_ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اذان و اقامت کا حکم مکہ میں دیا گیاتھااور یہ آیت اذان اور اقامت کے احکام اور مسائل بیان کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے_
البتہ اس دعوی کہ '' یہ آیت بھی ان آیتوں میں سے ہے جن کا حکم ان کے نزول کے کچھ عرصہ بعد لاگو ہوا '' اس کی سوائے ابن زید کی گذشتہ روایت کے کوئی اور دلیل نہیں ہے اور یہ ہم جان چکے ہیںکہ اس روایت پراعتماد نہیں کیاجاسکتا بلکہ اس کے جھوٹے ہونے پر بھی دلیل قائم کی گئی ہے_
نو: مفسرین نے اس آیت ( و رفعنا لک ذکرک) کے متعلق کہا ہے کہ یہ آیت اذان کے بارے میں نازل ہوئی ہے(۳) اور کئی مفسروں نے اسے ابن عباس اور مجاہد سے نقل کیا ہے(۴) اور یہ آیت سورہ انشراح میں ہے اور یہ بھی مکی ہے_
آخری بات
حضرت امام جعفر صادق عليهالسلام سے صحیح سند کے ساتھ روایت ہے کہ حضرت عليهالسلام نے فرمایا '' جب جبرائیل عليهالسلام اذان لے کر رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس تشریف لائے تو جبرائیل عليهالسلام نے خود اذان و اقامت کہی_ اسی موقع پر آنحضور صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی عليهالسلام سے فرمایا کہ حضرت بلال کو بلالائیں _آپ عليهالسلام نے حضرت بلال کو بلایا تو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت
____________________
۱)اس سے بہتر بات کس کی ہوگی جو لوگوں کو اللہ اور عمل صالح کی طرف دعوت دے_
۲) السیرة الحلبیہ ج/۲ ص۹۳، درمنثور ج / ۵ ص ۳۶۴ ، از عبد بن حمید ، سعید بن منصور، ابن ابی حاتم ، ابن مردویہ ، ابن ابی شیبہ ، ابن منذر خطیب در تاریخ _
۳) الکشاف مطبوعہ دار الفکر ج۴ ص ۲۶۶ ، جوامع الجامع ص ۵۴۵ ، البحر المحیط ج۸ ص ۴۸۸ ، مجمع البیان ج۱۰ ص ۵۰۸ ، التفسیر الکبیر ج۳۲ ص۵ و مدارک التنزیل ( مطبوعہ بر حاشیہ الخازن) ج۴ ص ۳۸۹_
۴) ملاحظہ ہو: تفسیر القرآن العظیم ج۴ ص ۵۲۵، الجامع لاحکام القرآن ج۲۰ ص ۱۰۶ و لباب التاویل ج۴ ص ۳۸۹_
بلال کو اذان کی تعلیم دی اور اذان دینے کا امر فرمایا''(۱) _
اور اس روایت میں گذشتہ روایتوں کے ساتھ کوئی تضاد نہیں پایا جاتا_ کیونکہ عین ممکن ہے کہ جبرائیل عليهالسلام مکہ میں اذان لے کر نازل ہوئے ہوں _ اسی طرح وقت معراج تشریع ہونے والی اذان فرداً فرداً کہی جانے والی اذان ہو جبکہ جس اذان کو جبرائیل عليهالسلام (مدینہ میں ) لے کر نازل ہوئے اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے بلال کو اس کی تعلیم دی اور اسے بلند آواز سے کہنے کا حکم دیا وہ اذان اعلان ( نماز جماعت کے قیام کا اعلان کرنے والی اذان ) ہو_
مدینہ میں رونما ہونے والے واقعہ کے متعلق شاید زیادہ مناسب وہ روایت ہو جو یہ کہتی ہے: ''مسلمان جب مدینہ پہنچے تو وہ اکٹھے ہوکر وقت نماز کا انتظار کیا کر تے تھے جبکہ کوئی منادی بھی نہیں تھا_ ایک دن انہوں نے اس بارے میں آپس میں گفتگو کی_ بعض نے کہا کہ ناقوس (گھنٹی) بجائی جائے جیسے عیسائی بجاتے ہیں_ بعض نے کہا کہ یہودیوں کی طرح بگل بجایا جائے _ حضرت عمر نے کہا کہ ایسے کچھ افراد مقرر کئے جائیں جو لوگوں کو نماز کے لئے بلائیں جس پر رسول اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت بلال سے فرمایا کہ اٹھو اذان دو''(۲)
اس روایت کے مطابق اختلاف خود مسلمانوں کے درمیان پیدا ہوگیا اور وہ ہی تھے جو ایک دوسرے سے بعض ذرائع اور اسباب کی فرمائشے کرنے لگے تھے _ جبکہ اس جھگڑے کو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت بلال کو اذان کا حکم دے کر نمٹایا_ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ اذان کا شرعی حکم اس سے قبل (مثلاً شب معراج )آچکا تھا _
لیکن یہ افراد یا تو نو مسلم ہونے کی وجہ سے اس امر سے بے خبر تھے یا وہ سب یا بعض افراد اس بات سے باخبر تو تھے لیکن یہ اذان والی بات ان کے دل کو نہیں لگی تھی اس لئے وہ اس میں تبدیلی کے خواہش مند تھے_
بہر حال اس موضوع پر مزید مطالعہ کے لئے امام عبدالحسین شرف الدین کی بہترین کتاب '' النص والاجتہاد '' کی طرف مراجعہ فرمائیں(۳) _
____________________
۱) الوسائل ج/۱ ، ص ۳۲۶، الکافی ج/۳ ص ۳۰۲ ، النص والاجتہاد ص ۲۰۵ ، اس روایت کو جناب شیخ صدوق اور شیخ مفید رحمھما ا اللہ تعالی نے بھی نقل کیا ہے_ (۲) سنن دار قطنی ج/۱ ص ۲۳۷_ (۳)النص و الاجتہاد ص ۱۹۷ تا ۲۰۵_
اذان میں حی علی خیر العمل:
وہ امور جو مسلمانوں میں اختلاف کا باعث بنے ، ان میں سے ایک اذان میں '' حی عل الفلاح '' کے بعد دو مرتبہ ''حی علی خیر العمل'' کہنے کا مسئلہ بھی ہے_ بعض اس کے قائل ہیں اور بعض انکار کرتے ہیں _
مسلمانوں کا ایک گروہ اپنے پیشواؤںکی اطاعت میں اذان میں''حی علی خیر العمل''کہنے کو صحیح نہیں سمجھتا _ انہیںاہل سنت و الجماعت کہتے ہیں_ البتہ بعض اس کو مکروہ سمجھتے ہیں_ اسکی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ یہ جملہآنحضور صلىاللهعليهوآلهوسلم سے ثابت نہیں ہے جبکہ اذان میں اضافہ مکروہ ہے(۱) _
عما د الدین یحیی بن محمد بن حسن بن حمید مقری کی توضیح المسائل سے نقل کرتے ہوئے قاسم بن محمد بن علی کہتاہے: '' رویانی نے کہا ہے کہ مشہور قول کے مطابق شافعی اس کے جواز کا قائل ہے نیز مالکی مذہب کے علاوہ حنفی اور شافعی مذہب کے اکثر علماء کا بھی کہناہے کہ '' حی علی خیر العمل'' کا جملہ اذان کا ہی حصہ تھا_ اسی طرح زرکشی نے اپنی بحر المحیط نامی کتاب میں کہا ہے : '' بعض مسائل تو ایسے ہیں جن کے متعلق دوسرے شہروںکے علاوہ خود مدینہ کے اندر ہی اختلاف پایا جاتا تھا_ خود مدینہ والوں کے پیشوا جناب عبداللہ ابن عمر اذان کی فصلوں کو ایک ایک کرکے پڑھتے تھے اور اس میں '' حی علی خیر العمل'' بھی کہتے تھے _ یہانتک کہ مقری کہتاہے کہ رویانی کی یہ بات درست ہے کہ شافعی کا مشہور قول ''حی علی خیر العمل '' کے اثبات کے متعلق ہے(۲) _
لیکن اہل بیت عليهالسلام اور ان کے شیعہ '' حی علی خیر العمل'' کو اذان و اقامت کا جزء سمجھتے ہیں بلکہ اسکے بغیر اذان و اقامت کو صحیح نہیں سمجھتے_ ان کے نزدیک اس حکم پر سب کا اجماع ہے_(۳)
____________________
۱) سنن بیہقی ج/۱ ص ۴۲۵ ، البحر الرائق ج/۱ ص۲۷۵ شرح المھذب سے _
۲)الاعتصام بحبل اللہ المتین ج۱ ص ۳۰۷
۳) الانتصار للسید المرتضی ص ۳۹_
اس نظریئےو شوکانی نے عترت سے منسوب کیا ہے(۱) اور کہا ہے کہ البحر میں مہدی نے اس قول کو شافعی کے دو اقوال میں سے ایک قرار دیا ہے(۲) شوکانی کہتاہے کہ یہ قول شافعی مذہب کی موجودہ کتابوں میں موجود قول کے برخلاف ہے(۳) _
لیکن اس بات میں شیعیان اہل بیت عليهالسلام کے ہاں قطعاً کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا_ اس پر ان کی دلیل اجماع اور اہل بیت عليهالسلام کی بہت ساری روایات ہیں مثلاً مندرجہ ذیل روایات ہیں_
ابو ربیع ، زرارہ، فضیل بن یسار، محمد بن مہران کی امام صادق عليهالسلام سے روایات، فقہ الرضا میں امام ہشتم عليهالسلام کی روایت ،ابن سنان، معّلی بن خنیس ، ابو بکر حضرمی اور کلیب اسدی کی امام صادق عليهالسلام سے روایات، ابو بصیر کی امام باقر عليهالسلام یا امام صادق عليهالسلام سے روایت ، محمد بن ابی عمیر کی امام ابوالحسن الکاظم عليهالسلام سے روایت، امیر المؤمنین علی عليهالسلام اور حضرت محمد حنفیہ کی پیامبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت اور عکرمہ کی ابن عباس سے روایت ہے(۴) _
اس اختلاف کے ہوتے ہوئے ہمارے لئے اہل عليهالسلام بیت علیہم السلام اور ان کے ماننے والوں کا نظریہ اختیار کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے _ اس سلسلے میں ہم فقط اجماع پریا پھر صرف اہل بیت عليهالسلام سے مروی روایات پر بھروسہ نہیں کررہے حالانکہ یہ ہستیاں ثقلین کا ایک حصہ ہیں اور خدا نے ان سے ہر قسم کی پلیدی کو دور رکھاہے اور انہیں ہر قسم کی آلائشےوں سے بالکل پاک اور پاکیزہ رکھاہے بلکہ اسکے علاوہ بھی ایسے بہت سے شواہد اور دلائل ہیں جو دوسروں کے ہاں بھی پائے جاتے ہیں_
بطور مثال وہ بعض روایات جو صحیح اسناد کے ساتھ مندرجہ ذیل شخصیات سے منقول ہیں_
۱_ عبداللہ بن عمر ۲_ حضرت امام زین العابدین عليهالسلام
۳_ سھل بن حنیف ۴ _ بلال
____________________
۱)نیل الاوطار ج۲ ص ۱۸_ (۲)نیل الاوطار ج۲ ص ۱۸ ، ۱۹ ، البحر الزخار ج۲ ص ۱۹۱ نیز الاعتصام بحبل اللہ المتین ج۱ ص ۳۰۷ ، ۳۰۸ ، مؤخر الذکر دونوں کتابوں میں شافعی کے ایک قول کی بجائے شافعی کا آخری (حتمی) نظریہ ذکر ہوا ہے_
۳) نیل الاوطار ج۲ص ۱۹_
۴)الوسائل، جامع احادیث الشیعہ، البحار، مستدرک الوسائل ابواب اذان_
۵_حضرت امام علی عليهالسلام ۶_ ابو محذورة
۷ _ابن ابی محذورة ۸_ زید بن ارقم
۹_ حضرت امام باقر عليهالسلام ۱۰ _ حضرت امام صادق عليهالسلام
۱۱ _ حضرت امام حسن عليهالسلام ۱۲_ حضرت امام حسین عليهالسلام
اس کے علاوہ اور بھی بہت سی شخصیات ہیں_
عبداللہ بن عمر سے روایات:
۱ _ مالک بن انس، نافع سے روایت کرتے ہیں کہ جناب عبداللہ بن عمر بسا اوقات ''حی علی الفلاح'' کے بعد ''حی علی خیر العمل'' کہتے تھے(۱) _
۲_ لیث بن سعد ، نافع سے روایت کرتے ہیں کہ جناب ابن عمر سفر میں کبھی بھی اذان نہیں کہتے تھے بلکہ وہ صرف ''حی علی الفلاح'' کہتے تھے اور بسااوقات ''حی علی خیر العمل'' کہتے تھے(۲) _
۳ _ لیث بن سعد، نافع سے روایت کرتے ہیں کہ جناب عبداللہ بن عمر اذان میں بعض اوقات''حی علی خیر العمل'' کا اضافہ کرتے تھے، یہی روایت انس بن مالک نے نافع کے ذریعے عبداللہ بن عمر سے نقل کی ہے(۳) نیز عطاء نے بھی عبداللہ بن عمر سے یہی روایت نقل کی ہے(۴) _
۴_محمد بن سیرین نے عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ وہ ہمیشہ اذان میں ''حی علی خیر العمل'' کہتے تھے(۵) _
____________________
۱) سنن بیہقی ج/ ۱ ص ۴۲۴ الاعتصام بحبل اللہ المتین ج۱ ص ۲۹۷ و ص ۳۰۸ و ۳۱۲_
۲) سنن بیہقی ج/ ۱ ص ۴۲۴ نیز ملاحظہ ہو نیل الاوطار ج۲ ص ۱۹_ (۳) سنن بیہقی ج /۱ ص۴۲۴ ، دلائل الصدق ج/ ۳ جزء دوم ص ۱۰۰ از مبادی الفقہ الاسلامی للعرفی ص ۳۸ شرح تجرید ، جواہر الاخبار اور صعدی کی الآثار المستخرجہ من لجة البحر الزخارج ۲ ص ۱۹۲ کے مطابق ، ابن ابی شیبہ نے اسے ''الشفائ'' میں نقل کیا ہے، نیز الاعصام بحبل اللہ المتین ج۱ ص ۳۰۸ _ (۴) الاعتصام بحبل اللہ المتین ج۱ ص ۲۹۹ نیز ملاحظہ ہو ص ۳۱۰_ (۵) سنن بیہقی ج/ ۱ ص ۴۲۵ نیز الاعتصام بحبل اللہ المتین ج۱ ص ۳۰۸ از سنن بیہقی_
۵_ نسیربن ذعلوق ، ابن عمر کے بارے میںکہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ سفر میں '' حی علی خیر العمل'' کہتے تھے(۱) _
۶_ عبدالرزاق، ابن جریح سے اور وہ نافع سے روایت کرتے کہ عبداللہ بن عمر سفر میں جب بھی نماز پڑھتے تو نماز کے لئے اقامت کہتے اور اس میں دو یا تین مرتبہ یوں کہتے تھے''حی علی الصلاة حی علی الصلاة، حی علی خیر العمل(۲)
۷_ عبدالرزاق ، معمر سے وہ یحیی بن ابی کثیر اور وہ کسی ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر اذان میں ہمیشہ ''حی علی الفلاح ''کے بعد ''حی علی خیر العمل'' کہتے تھے اور پھر'' اللہ اکبر، اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ'' کہتے(۳) اسی روایت کوابن ابی شیبہ نے ابن عجلان اور عبیداللہ ، نافع اور عبداللہ ابن عمر کی سندسے روایت کی ہے(۴)
۸_ زید بن محمد نے نافع سے روایت نقل کی ہے کہ عبداللہ بن عمر جب بھی اذان کہتا تھا '' حی علی خیر العمل'' کہتا تھا(۵) صاحب اعتصام نے ابن عون ، ابن جریح ،عثمان بن مقسم ، عبداللہ بن عمر اور جویریہ بن اسماء کی نافع سے روایتیں بیان کی ہیں(۶) اس لئے وہاں انہیں ملاحظہ فرمائیں _ اسی طرح کی ایک روایت حلبی و غیرہ نے بھی عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے(۷)
امام زین العابدین عليهالسلام سے روایات
۹_ حاتم بن اسماعیل نے حضرت امام صادق عليهالسلام سے انہوں نے اپنے والد گرامی سے اور انہوں نے حضرت
____________________
۱) مذکورہ منابع_
۲) مصنف عبدالرزاق ج/ ۱ ص ۴۶۴_
۳)سنن بیہقی ج۱ ص ۴۶۰ نیز الاعتصام بحبل اللہ المتین ج۱ ص ۲۹۹_
۴) مصنف ابن ابی شیبہ ج۱ ص ۱۴۵ حاشیہ مصنف عبدالرزاق ج۱ ص ۴۶۰ از مذکورہ کتاب نیز ملاحظہ ہو الاعتصام بحبل اللہ المتین ج۱ ص ۲۹۶_
۵) الاعتصام بحبل اللہ المتین ج۱ ص ۲۹۵_
۶) الاعتصام بحبل اللہ المتین ج۱ ص ۲۹۶ تا۲۹۹_
۷) سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۹۸ ، الاعتصام بحبل اللہ المتین ج۱ ص ۳۱۱ ، ۳۱۲ ، از ابن حزم در کتاب '' الاجماع''_
امام علی بن الحسین عليهالسلام سے روایت کی ہے کہ آپ عليهالسلام ہمیشہ اذان میں '' حی علی الفلاح'' کہنے کے بعد'' حی علی خیر العمل'' کہتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہی پہلی اذان ہے(۱) _
اور ان کے ''یہی پہلی اذان ہے ''فرمانے کا مطلب صرف یہی ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں اذان یہی تھی(۲) _
۱۰_حلبی اور ابن حزم وغیرہ نے حضرت امام علی ابن الحسین عليهالسلام سے بالکل ایسی ہی روایت بیان کی ہے _ اسکا ذکر آئندہ آئے گا_
سہل بن حنیف سے روایات:
۱۱_ بیہقی کا بیان ہے کہ اذان میں '' حی علی خیر العمل'' کے ذکر کوسہل بن حنیف نے ابو امامہ سے روایت کی ہے(۳) _
۱۲ _ ابن وزیرنے محبّ طبری الشافعی کی کتاب احکام الاحکام سے یوں نقل کیا ہے کہ '' سہل بن حنیف نے اذان میں حی علی خیر العمل کے ذکر کوصدقہ بن یسار کے ذریعے سے ابی امامہ سے روایت کیا ہے _ وہ جب بھی اذان دیتے تو'' حی علی خیر العمل '' ضرورکہتے تھے_ سعید بن منصور نے بھی اس روایت کو ذکر کیا ہے(۴) _
حضرت بلال سے روایات:
۱۳ _ عبداللہ بن محمد بن عمار نے عمار اور عمر فرزندان حفص بن عمر سے اور انہوں نے اپنے آباء و اجداد سے
____________________
۱) سنن بیہقی ج/ ۱ ص۴۲۵، دلائل الصدق ج/۳ جزء دوم ص ۱۰۰ از مبادی الفقہ الاسلامی ص ۳۸ از مصنف ابن ابی شیبہ ، جواھر الاخبار والآثار ج/۲ ص۱۹۲، الاعتصام بحبل اللہ المتین ج۱ ص ۲۹۹ ، ۳۰۸ ، ۳۱۰ ، نیل الاوطار ج۲ ص ۱۹ نیز کتاب العلوم ج۱ ص ۹۲_
۲) دلائل الصدق ج/۳ جزء دوم ص ۱۰۰ از مبادی الفقہ الاسلامی ص ۳۸ _
۳)سنن بیہقی ج/۱ ص ۴۲۵_
۴)دلائل الصدق ج / ۳ جزء دوم ص ۱۰۰ از مبادی الفقہ الاسلامی ص ۳۸ نیز ملاحظہ ہو الاعتصام بحبل اللہ المتین ج۱ ص ۳۰۹ و ۳۱۱ _
اور انہوں نے حضرت بلال سے نقل کیا ہے کہ حضرت بلال صبح کی اذان میں ''حی علی خیر العمل''کہتے تھے تو آنحضور صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:''حی علی خیر العمل'' کو چھوڑ کر اس کی جگہ ''الصلاة خیر من النوم'' کہو_ تو اس نے حی علی خیر العمل کہنا ترک کردیا(۱) _ لگتا یہی ہے کہ اس روایت کا آخری حصہ راویوں کی ستم ظریفی کے باعث اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ ''الصلاة خیر من النوم ''کو پیامبر خدا صلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد خود جناب عمر بن خطاب کی جانب سے اضافہ کیا گیا اور بہت ساری روایات میں اس بات کی صراحت و وضاحت بھی موجود ہے(۲) شاید کسی اورفرصت میںہم اس پربحث کرسکیںگے_
۱۴ _ حضرت بلال جب بھی صبح کی اذان دیتے تو ''حی علی خیر العمل'' ضرور کہتے تھے(۳) _
۱۵_ قوشجی و غیرہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے کہا : ''لوگو تین چیزیں رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں تھیں _میں ان سے منع کرتاہوں اور انہیںحرام قرار دیتاہوںاور ان کے ارتکاب پر سزابھی دونگا_ وہ تین چیزیں یہ ہیں :
۱_ متعة النسائ_
۲ _ متعة الحج _
۳ _ حی علی خیر العمل ''(۴) _
مذہب اشاعرہ کے متکلم اور مناظر قوشجی نے جناب عمر کے مذکورہ حکم کے متعلق یہ عذر پیش کیا ہے کہ
____________________
۱)مجمع الزوائد ج/ ۱ ص ۳۳۰ از الطبرانی در الکبیر ،مصنف عبدالرزاق ج/۱ ص ۴۶۰ ، سنن بیہقی ج / ۱ ص ۴۲۵ ، کنز العمال ج /۴ حدیث نمبر ۵۵۰۴، منتخب کنز العمال بر حاشیہ مسند ج / ۳ ص ۲۷۶ ، از ابو الشیخ درکتاب الاذان ، دلائل الصدق ج/ ۳ جزء دوم ص ۹۹_
۲)مؤطا امام مالک ج/۱ ص۹۳،سنن دار قطنی، مصنف عبدالرزاق ج/ ۱ احادیث نمبر ۱۸۲۷ ، ۱۸۲۹، ۱۸۳۲ ص ۴۷۴ ، ۴۷۵ ، کنزالعمال ج/ ۴ احادیث نمبر ۵۵۶۷ ، ۵۵۶۸ ، منتخب کنز العمال برحاشیہ مسند ج/ ۳ ص ۲۷۸ اس میں '' الصلاة خیرمن النوم'' کو بدعت قرار دیا گیا ہے نیز ملاحظہ ہو_ الترمذی ، ابوداؤود اور دیگر کتب_ (۳)منتخب کنز العمال بر حاشیہ مسند ج / ۳ ص۲۷۶ ، دلائل الصدق ج/۳ جزء دوم ص ۹۹ ، از کنزالعمال ج/۳ ص ۲۶۶ _
۴) شرح تجرید قوشجی مبحث الامامة ص۴۸۴ ، کنز العرفان ج/۲ ص۱۵۸ از الطبری در المستنیر، صاحب الغدیر ج / ۶ ص ۲۱۳ میںکہتے ہیں کہ طبری نے المستبین میں حضرت عمر سے اسکی نسبت دی جبکہ شیخ علی البیاضی نے اپنی کتاب الصراط المستقیم میں طبری سے اس روایت کی حکایت کی ہے: و جواھر الاخبار والآثار ج/۲ص ۱۹۲ از تفتازانی در حاشیہ شرح العضد _
''اجتہادی مسائل میں کسی مجتہد کی دوسرے مجتہد سے مخالفت بدعت اور کوئی نئی بات نہیں ہے''(۱) _
قوشجی کا یہ عذر ناقابل قبول اور بے ہودہ ہے کیونکہ ہم ثابت کرچکے ہیں نبی اکرم صلی للہ علیہ و آلہ و سلم کبھی بھی خواہشات نفسانی سے گفتگو نہیں فرماتے _ اس سلسلے میں قرآن حکیم کی یہ آیت ( ما ینطق عن الهوی _ ان هو الا وحی یوحی ) اور اسی طرح کی دیگر آیات بھی دلیل ہیں لیکن حضرت عمر کے پیروکاروں نے اس کی بات کو صحیح قرار دینے کے لئے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کے رتبے کو نیچے لے آنے کی کوشش کی ہے_
اس اجتہاد کی صحیح توجیہ وہی ہے جسے حضرت عمر نے خود بیان کی ہے_ ان کا خیال تھاکہ لوگ جب یہ سنیں گے کہ '' نماز بہترین عمل ہے'' تو لوگ آہستہ آہستہ نماز پر ہی اکتفا اور بھروسہ کرلیں گے اور جہاد کو ترک کردیں گے_ خود حضرت عمر نے ہی اس مطلب کی وضاحت کی ہے_ اس کاذکر بعد میں آئے گا_
اس مذکورہ توجیہ کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کی نہی وقتی مصلحت کے پیش نظر تھی، شرعی طور پر حرمت کا حکم لاگو کرنے والی نہیں تھی _ کیونکہ یہ بات تو اسے بھی معلوم تھی کہ اسے شریعت میں دخل اندازی کا کوئی حق حاصل نہیں ہے_
۱۶_ حلبی کہتے ہیں: '' ابن عمر اور علی عليهالسلام ابن الحسین عليهالسلام رضی اللہ تعالی عنھما سے منقول ہے کہ دونوں شخصیات جب اذان دیتیں توحی علی الفلاح کے بعدحی علی خیرالعمل کہتی تھیں''(۲)
۱۷_ علاء الدین حنفی اپنی کتاب التلویح فی شرح الجامع الصحیح میں کہتے ہیں:'' بہر حال ''حی علی خیر العمل'' کے متعلق تو ابن حزم نے ذکر کیاہے کہ عبداللہ بن عمر اور سہل بن حنیف کے بیٹے ابوامامہ(۳) سے صحیح احادیث کی روسے نقل ہوا ہے کہ دونوںاذان میں ''حی علی خیر العمل'' کہا کرتے تھے(۴) اورصاحب '' التلویح '' اس کے متعلق مزید کہتے ہیں کہ حضرت علی ابن الحسین عليهالسلام کی بھی سیرت یہی تھی(۵) _
____________________
۱) شرح تجرید للقوشجی ص ۴۸۴_ (۲) السیرةالحلبیہ مطبوعہ سہ۱۳۸۲ ، باب الاذان ج/۲ ص۹۸ _ (۳)اصل عبارت میں اسی طرح مذکور ہے وگرنہ صحیح یہ ہے کہ ابوامامہ اور سہل بن حنیف کہا جائے _ مولف (۴) دلائل الصدق ج/۳ جزء دوم ص ۱۰۰از مبادی الفقہ الاسلامی للعرفی ص۳۸ ، المحلی ج/ ۳ ص ۱۶۰و الاعتصام بحبل اللہ المتین ج ۱ ص ۳۱۱_ (۵) دلائل الصدق ج ۳ جزء دوم ص ۱۰۰از مبادی الفقہ الاسلامی للعرفی ص ۳۸ و الاعتصام بحبل اللہ المتین ج ۱ ص ۳۱۱_
۱۸_ سید مرتضی کہتے ہیں '' اہل سنت یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ (حی علی خیر العمل) پیامبر صلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام ہی کے زمانے کے بعض امور میں سے ہے لیکن اس کے بارے میں یہ بھی کہا اور دعوی کیا جاتاہے کہ یہ امور نسخ ہوگئے اور ان کے احکام اٹھ گئے تھے تا ہم جس نے نسخ کا دعوی کیا ہے اسے اپنے دعوی کے لئے دلیل لانے کی ضرورت ہے لیکن اس کے پاس اسکے اس دعوی کی کوئی دلیل نہیں ہے ...''(۱) _
۱۹_ عبدالرزاق نے معمر سے ،انہوں نے ابن حماد سے ،انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے جد سے اور انہوں نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حدیث معراج میں فرمایا: ''پھر جبرائیل عليهالسلام کھڑے ہوئے، اپنے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کان میں رکھی پھر اذان دی اور اسکے جملوں کو دو دو مرتبہ ادا کیا اور اس کے آخر میںحی علی خیر العمل کو بھی دو مرتبہ ادا کیا ''(۲) _
۲۰ _ ابن النباح اذان میں ''حی علی خیر العمل'' کہا کرتے تھے(۳) _
قاسم بن محمد کا کہنا ہے کہ کتاب السنام میںیہ عبارت درج ہے:'' صحیح بات تو یہ ہے کہ اذان کی تشریع حی علی خیر العمل کے ساتھ ہی ہوئی ہے _ کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ انہی جملوں کے ساتھ اذان دینے پر اتفاق رائے جنگ خندق کے موقع پر ہوا تھا اور دوسری یہ کہ اس سے نماز کے لئے پکارا جاتا ہے _ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے کہ تمہارا سب سے بہترین عمل نماز ہے _ اور اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ عبداللہ بن عمر ، حضرت امام حسن علیہ السلام ، حضرت امام حسین علیہ السلام ، بلال اور بزرگ صحابہ کی ایک جماعت بھی حی علی خیر العمل کے ساتھ اذان دیتے تھے_ یہ بات موطا امام مالک کی شرح اور ان کی دیگر کتب میں بھی ذکر ہوئی ہے _ صوفی مذہب کے بزرگ ، صاحب فتوح مکہ ( شاید فتوحات مکیہ ) کا کہنا ہے کہ تمام مذاہب نے تعصب کی بنا پر اذان سے حی علی خیر العمل کے ترک کرنے پر اجماع اور ایکا کر لیا ہے _ پھر کہتا ہے کہ علامہ بزرگوار عزالدین ابو ابراہیم ، محمد بن ابراہیم کے یہ الفاظ ہیں : '' میں نے حی علی خیر العمل سے متعلق
____________________
۱)الانتصار ص ۳۹_
۲) سعد السعود ص ۱۰۰،البحار ج/۴ ص ۱۰۷،جامع احادیث الشیعہ ج/۲ص ۲۲۱_
۳) الوسائل، جامع احادیث الشیعہ، قاموس الرجال_
دو روایتوں کی اسناد کے متعلق تحقیق کی تو ابن عمر اور حضرت امام زین العابدین عليهالسلام تک ان کے سارے سلسلے کو صحیح پایا''(۱) _اور امام سروجی نے شرح الہدایة للحنفیہ میں حی علی خیر العمل کی احادیث کو کثیر منابع اور اسناد سے نقل کیا ہے(۲) _
۲۱ _ حضرت امام علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ عليهالسلام نے فرمایا : ''میں نے رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم کویہ فرماتے سنا کہ جان لو یقیناً تمہارا سب سے بہترین عمل نماز ہے_ پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بلال کو حکم فرمایا کہ اذان میں ''حی علی خیر العمل'' کہے ''_اس حدیث کو ''الشفائ'' میں روایت کیا گیا ہے(۳) _
۲۲_ محمد بن منصور نے اپنی کتاب'' الجامع'' میں بعض پسندیدہ شخصیات کی سند کے ساتھ اورا نہوں نے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے ایک موذن ابو محذورة سے روایت کی ہے _وہ کہتے ہیں کہ مجھے خود آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے امر فرمایا تھاکہ میں اذان میں '' حی علی خیر العمل'' کہوں(۴) _
۲۳_ محمد بن منصورسے روایت ہے کہ ابو القاسم عليهالسلام نے انہیں حکم دیا کہ اذان میں ''حی علی خیر العمل'' کا ذکر کرو اور فرمایا کہ رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی ایسے ہی حکم فرمایا تھا _'' الشفائ'' میں بھی اسی طرح مذکورہے(۵) _
۲۴_ ابوبکر احمد بن محمد السری کی روایت ہے کہ اس نے موسی بن ہارون سے ،انہوں نے الحمانی سے،انہوں نے ابوبکر بن عیاش سے ،انہوں نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور انہوں نے ابو محذورہ سے روایت کی ہے _
ابو محذورہ کہتے ہیں کہ میں اسوقت نوجوان تھا جب مجھے نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ اذان کے آخر میں '' حی
____________________
۱)الاعتصام بحبل اللہ المتین ج ۱ ص ۳۱۰ نیز ص ۳۱۲_ (۲)ایضاً ص ۳۱۱_
۳)جواھر الاخبار و الآثار المستخرجہ من لجة البحر الزخار ج/۲ ص ۱۹۱ ، الامام الصادق عليهالسلام والمذاہب الاربعة ج/ ۵ ص ۲۸۴_نیز الاعتصام بحبل اللہ المتین ج ۱ ص ۳۰۹_
۴) البحر الزخار ج/۲ ص ۱۹۲ ،نیز اسی صفحے کے حاشیہ پر جواھر الاخبار والآثار نیز کتاب العلوم ج ۱ ص ۹۲_
۵)جواھر الاخبار والآثار ج/ ۲ ص ۱۹۱_
علی خیر العمل'' کہا کرو(۱) _
۲۵ _ الشفاء میں ھذیل بن بلال مدائنی کی روایت ہے_ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی محذورہ کو ''حی علی الفلاح'' کے بعد ''حی علی خیر العمل '' کہتے ہوئے سنا(۲) _
۲۶_ زید بن ارقم نے اذان میں ''حی علی خیر العمل'' کہا(۳) _
۲۷_ شوکانی نے کتاب الاحکام سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے نزدیک پوری طرح سے ثابت ہے کہ رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں اذان میں ''حی علی خیر العمل'' کہا جاتا تھا اور یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ حضرت عمر کے زمانے میں ترک کردیا گیا _(۴) _
۲۸_ حسن بن یحیی نے بھی اسی طرح کہا ہے اور اس کا یہ قول کتاب '' جامع آل محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم '' سے مروی ہے(۵) _
اسی کے متعلق محمد کہتا ہے کہ میں نے احمد بن عیسی سے پوچھا کہ کیا تم اذان دیتے وقت دو مرتبہ حی علی خیر العمل بھی کہتے ہو؟ اس نے کہا کہ بالکل کہتاہوں _میں نے پوچھا کہ اذان اور اقامت دونوں میں کہتے ہو؟ اس نے کہا ہاں البتہ میں دھیمی آواز سے پڑھتا ہوں _ اسی کے متعلق کہتے ہیں کہ مجھے محمد بن جمیل نے نصر بن مزاحم سے ، انہوں نے ابوجارود اور حضرت اما م محمد باقر علیہ السلام سے حدیث بیان کی ہے کہ حضرت امام باقر عليهالسلام اپنی اذان اور اقامت میں حی علی خیر العمل کہا کرتے تھے(۶) _
۲۹_حضرت امام علی ابن الحسین عليهالسلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت تھی کہ موذن کے ساتھ اذان کے الفاظ دہراتے تھے اور جب کوئی موذن یہ کہتا: ''حی علی الصلاة، حی علی الفلاح،حی علی خیرالعمل'' آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے '' لا حول و لا قوة الا باللہ ...''(۷) _
____________________
۱) میزان الاعتدال للذھبی ج/۱ص ۱۳۹، لسان المیزان للعسقلانی ج/ ۱ ص ۲۶۸_ (۲) سابقہ حوالہ ص ۱۹۲، جواھر الاخبار والبحر الزخار_
۳) الامام الصادق عليهالسلام والمذاھب الاربعة ج/ ۵ ص ۲۸۳_نیز ملاحظہ ہو نیل الاوطار ج ۲ ص۱۹ از محب طبری در الاحکام_
۴) نیل الاوطار ج/۲ ص ۱۹_ (۵) نیل الاوطار ج/۲ ص۱۹ _ (۶) کتاب العلوم معروف بہ امالی احمد بن عیسی ج ۱ ص ۹۲_
۷)دعائم الاسلام ج/ ۱ ص ۱۴۵ ، البحار ج/۸۴ ص ۱۷۹_
۳۰_ حضرت امام محمد باقر عليهالسلام اپنے والد گرامی امام علی ابن الحسین عليهالسلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ عليهالسلام جب بھی حی علی الفلاح کہتے تو اس کے بعد ''حی علی خیر العمل'' کہتے تھے(۱) _
۳۱_ زرکشی بحر المحیط میں تحریر کرتے ہیں : ''بعض مسائل ایسے ہیں جن کے متعلق دوسرے شہروں کے علاوہ خود مدینہ کے اندر ہی اختلاف پایا جاتا تھا خود مدینہ والوں کے پیشوا جناب ابن عمر اذان کی فصلوں کو ایک ایک کرکے پڑھتے تھے اور اس میں '' حی علی خیر العمل '' بھی کہتے تھے''(۲) _
۳۲_ کتاب ''السنام'' کے الفاظ یہ ہیں : ''صحیح یہی ہے کہ اذان کا حکم ''حی علی خیر العمل''کے ساتھ ہی آیا ''(۳) _
۳۳_ حضرت امام علی عليهالسلام سے مروی ہے کہ آپ عليهالسلام اذان میں '' حی علی خیر العمل '' کہا کرتے تھے اور اسی عادت کو شیعوں نے اپنا لیا ہے(۴) _
۳۴_ الروض النضیر میں ہے کہ مالکی علماء کی ایک کثیر تعداد اسی طرح حنفی اور شافعی علماء اس بات کے قائل ہیں کہ ''حی علی خیر العمل'' کا جملہ اذان کا حصہ ہے(۵) _
بے جا اعتراضات :
۱_ یہ دعوی کہ کتب صحیحین ( بخاری و مسلم ) میں اس قسم کی کسی حدیث کا ذکر نہ ہونا اس بات پر دلات کرتا ہے کہ اذان میں یہ جملہ معتبر اور صحیح نہیں ہے _ اور اگر یہ جملہ پہلی اذان میں شامل تھا بھی تو مذکورہ کتب میں ان کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے یہ جملہ بعد میں منسوخ ہوگیا(۶) یہ دعوی صحیح نہیں ہے _ کیونکہ :
ایک : کتب صحیحین میں احکام پر مشتمل تمام احادیث ذکر نہیں کی گئیں _
____________________
۱)جواھر الاخبار والآثار للصعدی ج/۲ ص۱۹۲_
۲)الروض النضیر ج/۱ ص۵۴۲_و الاعتصام بحبل اللہ المتین ج ۱ ص ۳۰۷_
۳ ) ایضاً_ (۴) الاعتصام بحبل اللہ المتین ج۱ ص ۳۰۸_ (۵) الروض النضیر ج۱ ص ۵۴۲_ (۶)ملاحظہ ہو: نیل الاوطار ج۲ ص ۱۹_
دو : اگر یہ جملہ منسوخ ہوگیا ہوتا تو اس کا علم عبداللّہ بن عمر ، حضرت امام زین العابدین عليهالسلام اور زید بن ارقم و غیرہ جیسی شخصیات کو ضرور ہوتا _ تو ( اگر ایسا تھا تو ) ان شخصیات نے کس بنا پر اس اذان کو حتی کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی رحلت کے بعد بھی جاری رکھا ؟
تین : اس بحث میں مذکور بعض روایتوں میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ اذان سے مذکورہ جملے کو حذف کرنے والا پہلا شخص خلیفہ ثانی عمر بن خطاب تھا _ اور اس کی وجہ بھی اس کے خیال میں ایک وقتی مصلحت تھی _ اگر اس کی یہ بات صحیح بھی تسلیم کرلی جائے تو پھر بھی اس وقتی مصلحت کے ٹل جانے کی صورت میں رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے حکم کے متروک رکھنے کی کیا ضرورت رہتی ہے ؟ اور شاید کئی صحابیوں ، تابعیوں اور دوسرے لوگوں کے علاوہ اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کا اذان میں اس جملے کی ادائیگی پر کاربند رہنے کا مطلب یہ ہو کہ ان بزرگواروں نے خلیفہ ثانی کے اجتہادی فتوے کو قبول نہیں کیا تھا اور وہ اس کے موافق نہیں تھے _
۲_ ان تمام تصریحات کے بعد معلوم ہوجاتا ہے کہ بعض افراد کا یہ دعوی کہ '' اذان میں مذکورہ جملہ کہنا مکروہ ہے کیونکہ یہ جملہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم سے ثابت نہیں ہے '' _(۱) بھی صحیح نہیں ہے _ اس لئے کہ مذکورہ شخصیات کے ذریعہ سے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کی صحیح احادیث بیان ہوچکی ہیں _ یہ تمام بزرگ شخصیات بھی ''حی علی خیر العمل '' کہنے کی قائل اور پابند تھیں اور یہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت ، رسالت کی کان اور ثقلین کے ایک جزء کا نظریہ بھی تھا _ اور '' حی علی خیر العمل '' کا جملہ کئی عرصے تک اہل بیت عليهالسلام ، علویوں اور ان کے پیروکاروں کا شعار ، نعرہ اور پہچان رہا _ حتی کہ تحریک فخ کے بانی جناب حسین بن علی کی انقلابی تحریک کی ابتداء بھی اسی نعرے کی بنیاد پر ہوئی تھی _ اس بارے میں مندرجہ ذیل بیانات ملاحظہ فرمائیں :
'' حی علی خیر العمل '' ، نعرہ بھی اور موقف بھی
الف : مسجد نبوی صلىاللهعليهوآلهوسلم میں حضور صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے سرہانے مقام جنائز کے ساتھ بنے گلدستہ اذان پر عبداللّہ بن حسن
____________________
۱) البحر الرائق ج ۱ ص ۲۷۵ از شرح المہذب نیز سنن بیہقی ج ۱ ص ۴۲۵_
افطس نے چڑھ کر مؤذن کو تلوار دکھاتے ہوئے کہا کہ '' حی علی خیر العمل '' کے ساتھ اذان دو_ مؤذن نے اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر خوف کے مارے مذکورہ جملے کے ساتھ اذان دے دی _ العمری (منصور کی طرف سے مدینہ کے گورنر) نے جب یہ اذان سنی اور اسے گڑبڑ کا احساس ہوا تو دہشت زدہ ہو کر چیخ پڑا : '' جلدی سے دروازے بندکر دو اور مجھے پانی پلاؤ''(۱) _
ب: تنوخی نے کہا ہے کہ اسے ابوالفرج نے بتایا ہے کہ میں نے خود اپنے کانوں سے قطعی طور پر سنا ہے کہ منصور کے زمانے میں علوی حی علی خیر العمل کے ساتھ اذان دیتے تھے(۲) _
ج: ابن کثیر نے ۴۴۸ھ کے واقعات میں رافضیوں کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ حی علی خیر العمل کے ساتھ اذان دیا کرتے تھے(۳) _
د: حلبی کہتا ہے : '' بعض مؤرخین کے بقول عليهالسلام آل بویہ کے دور حکومت میں رافضی''حی علی الصلوة '' اور '' حی علی الفلاح '' کے بعد '' حی علی خیر العمل '' کہا کرتے تھے _ پھر جب سلجوقیوں کا دور حکومت آیا تو انہوں نے مؤذنوں کو مذکورہ جملے کہنے سے منع کردیا اور اس کے بدلے میں انہیں صبح کی اذان میں'' الصلواة خیر من النوم '' کہنے کا حکم دیا _ اور یہ ۴۴۸ ہجری کی بات ہے ''(۴) _
ہ: ابن فرحون کہتا ہے کہ حضور بنی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے حجرہ سے ملحق ایک ہال سا بنایا گیا تھا تا کہ ڈوبتے سورج کی تمازت سے بچاجاسکے _ وہ کہتا ہے : '' یہ ہال نماکمرہ ایک بدعت اور گمراہی تھی جس میں شیعہ نماز پڑھا کرتے تھے '' _ پھر کہتا ہے : '' میں خود بعض افراد سے سنا کرتا تھا کہ وہ اس کے دروازے پر کھڑے ہوکربلند آواز سے حی علی خیر العمل کہتے تھے _ وہ کمرہ ان کی درس گاہ اور ان کے علماء کاخلوت کدہ تھا _یہاں تک کہ خدا نے اسے ان کے اوپر گرادیا اور ایک شب اس کے دروازے تک بھی اکھڑ گئے ''(۵) _
____________________
۱) مقابل الطالبین ص ۴۴۶_ (۲) نشوار المحاضرات ج ۲ ص ۱۳۳_ (۳) ملاحظہ ہو : البدایة و النہایہ ج ۲ ص ۶۳_ (۴) سیرہ حلبیہ مطبوعہ ۱۳۸۲ھ باب الاذان ج ۲ ص ۱۰۵، البدایہ والنہایہ ج ۱۲ ص۶۸ واقعات ۴۴۸ ھ_
۵) وفاء الوفاء ج ۲ ص ۶۱۲_
ابن قاسم نویری اسکندرانی کہتا ہے : '' معز جب مصر پہنچا تو اس نے عمرو بن عاص اور ابن طولون کی جامع مسجدوں میں حی علی خیر العمل کے ساتھ اذان دینے کا حکم دیا _ اور یہ سلسلہ ۷ ۵۶ ہجری میں عبیدیوں کی حکومت کے خاتمے تک جاری رہا اور ان کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی حی علی خیر العمل کا ذکر بھی ختم ہوگیا _ ان کی حکومت کا خاتمہ سلطان صلاح الدین یوسف بن نجم الدین ایوب ( صلاح الدین ایوبی ) نے کیا تھا ''(۱) _
و: ۰ ۳۵ ہجری میں دمشق میں سلطان معز کے نائب جعفر بن فلاح کے حکم سے مؤذنوں نے ''حی علی خیر العمل '' کے ساتھ اذان دی(۲) _ اسی سال میں بساسیری نے بغداد پہنچ کر اذان میں '' حی علی خیر العمل '' کا اضافہ کیا(۳) _
ز: نو یری کہتا ہے : '' اپنے آپ کو فاطمی سمجھنے والے عبیدی شیعہ تھے _ وہ اپنی اذانوں میں '' حی علی الصلاة'' اور '' حی علی الفلاح '' کے بعد '' حی علی خیر العمل '' بھی کہتے تھے_ جس طرح مکہ اور مدینہ میں زیدی ایام حج کے علاوہ عام دنوں میں بھی اپنی اذانوں میں دو مرتبہ '' حی علی خیر العمل '' کہتے تھے ، وہ بھی اسی طرح کرتے تھے _ اسی طرح یمن کے صعدہ اور دیگر علاقوں میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا ''(۴) _
ح : صلاح الدین ایوبی کے خلاف حلب کے گور نر کی حمایت کے لئے شیعوں کی شرائط کا ذکر کرتے ہوئے ابن کثیر کہتا ہے : '' رافضیوں نے حلب کے گورنرکی حمایت کے لئے اس پر یہ شرطیں عائد کیں کہ ایک تو اذان میں دوبارہ حی علی خیر العمل کو ذکر کیا جائے ، نیز یہ اذان تمام جامع مسجدوں اور گلیوں اور بازاروں میں دی جائے _ ہمارے لئے ایک جامع مسجد مخصوص کی جائے ، بارہ اماموں کانام سر عام لینے کی اجازت
____________________
۱) الالمام با لا علام فیما جرت بہ الاحکام ج ۴ ص ۲۴ نیز ملاحظہ ہو : تاریخ الاسلام ذہبی واقعات ۳۸۱ ھ ص ۳۲ و تاریخ الخلفاء ص ۴۰۲ _
۲) تاریخ الاسلام واقعات ۳۵۰ ھ ص ۴۸ ، البدایة و النہایہ ج ۱۱ ص ۲۷۰ نیز ملاحظہ ہو : تاریخ ابن الوردی ج ۱ ص ۴۰۸ و مآثر الانافہ ج ۱ ص۳۰۷_
۳) تاریخ الخلفاء ص ۴۱۸_
۴) الالمام ج ۴ ص ۳۲ نیز ملاحظہ ہو ص ۴۰ و ص ۴۱_
دی جائے ، نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں پڑھی جائیں اور ہمارے نکاح اور جنازے ( جیسے دینی امور ) کو حلب کے شیعہ رہنما شریف طاہر ابو المکارم حمزہ بن زہرہ حسینی کے سپرد کیا جائے اور حلب کے گور نر نے یہ تمام شرائط منظور کرلیں ''(۱) _
اس عبارت کے حذف ہونے کا سبب :
یہ عبارت اذان سے کیوں حذف ہوئی ؟ حضرت عمر نے خود اس راز سے پردہ اٹھایاہے جیسا کہ پہلے بھی گذرچکاہے_
۳۵_ ابن شاذان نے اہل سنت و الجماعت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: '' تم لوگوںنے ہی قاضی ابویوسف سے ایسی روایت ذکر کی ہے جسے محمد بن الحسن اور انکے اصحاب نے بیان کیاہے نیز امام ابوحنیفہ سے بھی روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت ابوبکر کے عہد میں اور حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دور تک اذان میں''حی علی خیر العمل'' کہا جاتا تھا _اس کے بعد حضرت عمر نے کہا کہ مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ جب تک ''حی علی خیر العمل'' کہا جاتا رہے گالوگ صرف نماز پر اعتماد اور اکتفا کرتے رہیںگے اور جہاد کو ترک کردیں گے، پس اس نے اذان سے ''حی علی خیر العمل'' حذف کرنے کا حکم دیا''(۲) _
۳۶ ،۳۷،۳۸ _ اسی طرح کی روایات حضرت امام صادق عليهالسلام ، حضرت اما م باقر عليهالسلام اور ابن عباس سے بھی منقول ہیں(۳) _
____________________
۱) الکنی و الالقاب ص ۱۸۹ و البدایہ و النہایہ ج ۱۲ ص ۲۸۹ _
۲)الایضاح لابن شاذان ص ۲۰۱ و ۲۰۲_نیز ملاحظہ ہو : الاعتصام بحبل اللہ المتین ج۱ ص ۲۹۶، ص۲۹۹ ، ۳۰۴،۳۰۵ ،۳۰۶ ، ۳۰۷ و کتاب العلوم ج۱ ص ۹۲_
۳)دعائم الاسلام ج/۱ ص ۱۴۲، البحار ج/ ۸۴ ص ۱۵۶ و ۱۳۰، علل الشرائع ج/۲ص ۵۶ ، البحر الزخار ، جواھر الاخبار والآثار ان دو کتابوں کے حاشیہ پر ج/۲ ص ۱۹۲ ، دلائل الصدق ج / ۳ جزء دوم ص۱۰۰ عن مبادی الفقہ الاسلامی لمحمد سعید العرفی ص ۳۸ عن سعد الدین تفتازانی شرح العضد کے حاشیہ پر جو ابن حاجب کی مختصر الاصول پر ہے، سیرت المصطفی صلىاللهعليهوآلهوسلم للسید ھاشم معروف الحسنی ص ۲۷۴ الروض النضیر ج/ ۲ ص ۴۲سے نیز الاعتصام بحبل اللہ المتین ج ۱ ص ۳۱۰_
اس رائے پہ تبصرہ:
ہمیں اس بات پر باو رہے کہ خلیفہء ثانی کی نسبت رسول اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں جہاد یقیناً زیادہ اہمیت رکھتا تھا_ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں لوگوں کو اس کی زیادہ ضرورت تھی لیکن اس کے باوجود آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اذان سے اس جملے کو نہیں نکالا _ جس سے ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیںکہ حضرت عمر قوت اور لیاقت کے لحاظ سے قابل قبول حد تک بھی اجتہاد کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے _ کیونکہ وہ اس مسئلے کے تمام تر پہلوؤں اور نتائج و عواقب کا خیال نہیں رکھ سکتے تھے( جیسا کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کرسکتے تھے)_
البتہ اس زمانے کے حالات کے مطابق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی یہ توجیہہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی نظر میں وقتی اسباب تھے جن کا اس کے خیال میں یہ تقاضا تھا کہ اس جملے کو نکال دیا جائے، تا ہم انہوں نے یہ کبھی نہ سوچا ہوگا کہ تا ابد اس جملے کو اذان سے نکال دیا جائے گا_بہر حال یہ تو معلوم ہے کہ انہوں نے ایسا کیا تو صرف ایک محدود زمانے کے لئے تھا_
جو ہوا سو ہوالیکن اب ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس جملے کو اذان سے آج تک کیوں حذف رکھا گیا ہے حالانکہ اب تو وہ حالات بھی نہیں رہے جن کی وجہ سے ''حی علی خیر العمل'' کو اذان سے نکال دیاگیاتھا؟_
ہم سب مل کر رسول اعظم صلىاللهعليهوآلهوسلم اورا ن کے اہل بیت عليهالسلام کی سنت و سیرت کی طرف دوبارہ لوٹ کیوں نہیں جاتے؟
نماز میں اضافہ:
بعض معتبر اور صحیح روایات میں ذکر ہوا ہے(۱) کہ شروع شروع میں نماز دو، دو رکعت تھی جنہیں خوداللہ تعالی نے ابتدائی طور پر اپنے بندوں پر فرض فرمایا تھا _ لیکن اللہ رب العزت نے اپنے حبیب صلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ اختیار بھی دیاکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کسی جدید وحی کی ضرورت محسوس کئے بغیر مناسب اوقات کے لئے ان کی رکعتوں میں
____________________
۱)الوسائل ج / ۳ ،ابواب اعداد الفرائض و نوافلہا ، باب عدد الفرائض الیومیہ و جملة من احکامھا_
اضافہ فرمادیں _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مغرب کی نمازمیں ایک رکعت نیز ظہرعصر اور عشاء کی نمازوں میں دو دو رکعتوں کا اضافہ فرمایا_
ان اضافی رکعتوں کے بارے میںایک قول یہ ہے کہ ان کا اضافہ ہجرت کے پہلے سال ہوا _ جبکہ ایک دوسرے قول کے مطابق حسنین شریفین علیھما السلام کی ولادت کے بعد ایسا ہوا _ غالباً پہلی رائے صحیح ہے کیونکہ اس بات کا ذکر قبلہ کی تبدیلی والی حدیث میں ہوا ہے جو آپ حضرات عليهالسلام کی ولادت سے پہلے کا واقعہ ہے_
بہر حال نماز میں یہ اضافہ غیر معقول نہ تھا کیونکہ شرعی احکام تدریجی طور پر نازل ہوئے، خاص طور پر وہ احکام جن کی پابندی عربوں کے لئے مشکل ہو سکتی تھی کیونکہ جن امور کے وہ عادی ہوچکے تھے اور ان کا تعلق انکی بود و باش اور رہن سہن سے تھا ان کی مخالفت انکے لئے مشکل تھی_
نماز کے فرض ہونے میں ایک اور نظریہ:
گذشتہ بحث کے علاوہ یہاں بعض ایسی روایات ملتی ہیں جن میں آیا ہے کہ نماز شروع میں ہی کامل فرض ہوئی تھی یا پھر یہ کہ کم از کم مکہ میں نماز کامل تھی_ ان میں سے بعض روایات مندرجہ ذیل ہیں_
۱_ سب سے پہلی نماز جسے رسول اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ادا فرمایا وہ نماز ظہر تھی_ جبرائیل عليهالسلام تشریف لائے اور فرمایا ''انا لنحن الصافون'' ''و انا لنحن المسبحون''(۱) بے شک ہم بارگاہ ایزدی میں صف بستہ ہیں، اور بے شک ہم ہی اسکی تسبیح بجالانے والے ہیں _ اسکے بعد جبرائیل عليهالسلام آنحضور صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے کھڑے ہوگئے ،اس کے پیچھے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیچھے سب مرداور پھر ان کے پیچھے خواتین کھڑی ہوگئیں پس سب نے چار رکعت نماز ظہر ادا کی پھر جب نماز عصر کا وقت آیا تو جبرائیل عليهالسلام کھڑے ہوئے اور پہلے کی طرح یہ عمل انجام دیا_ اسکے بعد روایت نماز مغرب کی تین رکعت اور عشاء کی چار رکعت کا ذکر کرتی ہے(۲)
____________________
۱) صافات /۱۶۵_ (۲) المصنف حافظ عبدالرزاق ج / ۱ ص ۴۵۳ ، سنن بیہقی ج/۱ ص ۲۶۲ ،از ابی داؤد فی مراسیلہ ، درمنثور ج/ ۵ ص ۲۹۳_
البتہ یہ بات واضح ہے کہ سورة الصافات مکی ہے پس روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نمازمکہ میں ہی کامل طورپر فرض ہوئی تھی_
۲ _ نافع بن جبیر و غیرہ سے روایت ہے کہ شب معراج ، صبح تک جبرائیل عليهالسلام آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس رہے حتی کہ زوال کا وقت بھی ہو گیا پھر روایت ذکر کرتی ہے کہ جبرائیل عليهالسلام نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اور دیگر افراد کے ہمراہ نماز ظہر چار رکعت ادا کی اور پھر اسی طرح نماز عصر بھی ادا کی(۱) _
۳ _ حسن بصری روایت کرتے ہیں نماز حضر ( غیر سفر کی نماز) شروع سے ہی چار رکعت فرض ہوئی(۲) _
لیکن شیعوں اور سنیوںکے ہاں ایسی بہت ساری صحیح اور قطعی روایات کی موجودگی میں (جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ غیر سفر کی نماز شروع میں دو رکعت فرض ہوئیں اور بعد میں ان میں اضافہ ہوا)ہم ان مذکورہ روایات کو قبول نہیں کر سکتے_
البتہ یہ ممکن ہے کہ ان روایات کا مطلب یہ ہو کہ نماز تو شروع میں ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس کامل آئی لیکن مصلحتاً پہلے دو رکعت فرض کی گئی پھر ساری فرض کی گئی اور مذکورہ امر آنحضور صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سپرد کردیا گیا کہ مناسب وقت پر اس کی تبلیغ فرمادیں_ اسی لئے پہلی دو رکعتوں کو فریضہ کہا جاتا ہے یعنی یہ فریضہ اللہ کی جانب سے بندے پر براہ راست تھا اور باقی رکعتوں کو سنت کہا جاتا ہے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ذمے تھا کہ موزوں موقع پر اس حکم کو پہنچادیں _اور اسے ہی مصلحت اقتضائی کہتے ہیں_
زکوة کا فریضہ:
کہتے ہیں کہ اموال کی زکاة جنگ بدر کے بعد دوسری ہجری میں فرض ہوئی اور یہ حکم زکوة فطرہ کے
____________________
۱)مصنف الحافظ عبدالرزاق ج/ ۱ ص ۴۵۵ اور اس کے ذیل میں ابی داؤد کا حاشیہ _
۲)البدایة والنہایة ج/ ۳ ص ۳۳۱ ، تفسیر طبری سورة النساء آیت ۱۰۱_
وجوب کے بعد آیا _ ایک اور رائے کے مطابق زکوة تیسری ہجری میں فرض ہوئی اور ایک قول چوتھی ہجری کابھی ہے(۱) _
لیکن یہ درست نہیں _صحیح قول یہ ہے کہ زکوة مکہ میں فرض ہوئی_ بعض اسی کے قائل بھی ہیں(۲) اسکے دلائل مندرجہ ذیل ہیں_
۱_ قرآن حکیم کی کئی مکی آیات میں زکوة کی ادائیگی کا حکم آیاہے جن میں سے بعض آیات مندرجہ ذیل ہیں_
( فساکتبها للذین یتقون و یؤتون الزکاة )
(اعراف ۱۵۶)
پس میں عنقریب جنت ان لوگوں کے لئے لکھ دوں گا جو صاحبان تقوی اور زکوة ادا کرنے والے ہیں_ ( یہ سورہ مکی ہے)
( والذین هم للزکاة فاعلون ) ( المؤمنون ۴)
اور( کامیاب مومن وہی ہیں) جو زکوة ادا کرنے والے ہیں_ ( یہ سورہ مکی ہے)
( الذین یقیمون الصلوة و یؤتون الزکاة )
(النحل ۳، لقمان ۴)
وہ لوگ جو نماز قائم کرتے اور زکوة دیتے ہیں_(یہ دونوں سورتیں مکی میں)
( الذین لا یؤتون الزکاة و هم بالآخرة هم کافرون )
(فصلت ۷)
وہ لوگ جو زکوة ادا نہیں کرتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں_ (یہ سورہ مکی ہے)
____________________
۱) تاریخ الخمیس ج/ ۱ ص ۴۰۷، سیرہ حلبیہ ج ۱ ص ۳۳۹ و دیگر کتب_
۲)وفاء الوفاء ج/ ۱ ص ۲۷۷_
اسی طرح سورہ الروم _ ۳۹ بھی ملاحظہ فرمائیں جو مکی ہے_
خداوند عالم جناب اسحاق عليهالسلام ، یعقوب عليهالسلام ، لوط عليهالسلام اور حضرت ابراہیم علیہم السلام کے متعلق فرماتا ہے:
( و اوحینا الیهم فعل الخیرات و اقام الصلاة و ایتاء الزکاة )
(انبیاء ۷۳)
اور ہم نے ان پر وحی نازل کی کہ اچھے کام کرو، نماز قائم کرو اور زکوة ادا کرو _
اسی طرح خدا حضرت عیسی علیہ السلام کی زبانی فرماتا ہے:
( ' و اوصانی بالصلاة و الزکاة مادمت حيّاً ) (مریم ۳۱)
اور مجھے مرتے دم تک نماز اور زکات کی ادائیگی کا حکم ملا ہے _
نیز حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے:
( ' و کان یامر اهله بالصلاة و الزکاة ) (مریم ۵۵)
وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکات کی ادائیگی کا حکم دیا کرتے تھے _
یہ تمام مذکورہ آیات مکی سورتوں کی ہیں _ اور ان آخری آیتوں میں تو سابقہ امتوں میں زکات کے فرض ہونے کی بات ہوئی ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زکات کا حکم منسوخ نہیں ہوا ( جس کا مطلب یہ ہے کہ زکات نہ صرف مدینہ کی بجائے مکہ میں فرض ہوئی بلکہ پہلے سے ہی فرض تھی)_
۲_ حضرت ابوطالب عليهالسلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے متعلق فرمایا : '' اسے اللہ نے صلہ رحمی ، نماز قائم کرنے اور ادائیگی زکوة کے حکم کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے''(۱) _
۳_ جریر بن عبداللہ بجلی روایت کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم مبعوث ہوئے _ میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں قبول اسلام اور بیعت کرنے کے لئے پہنچا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے استفسار فرمایا: '' جریر تم یہاں کس لئے آئے ہو؟''_ میں نے عرض کیا :
____________________
۱) الاصابہ ج /۴ ص ۱۱۹ ، البحار ج/ ۳۵ ص ۱۵۱،الطرائف ص ۳۰۴ ، الغدیرج/۷ ص ۳۶۸ از نہایة الطلب شیخ ابراھیم الخلیلی_
''میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہاتھوں پر اسلام قبول کرنے آیا ہوں ''_پس آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجھے حکم دیا کہ لا الہ الا اللہ اور میری رسالت کی گواہی دو،واجب نماز قائم کرو، اسی طرح فرض زکوة بھی ادا کرو(۱) _
۴_ جناب ثقة الاسلام کلینی نے علی بن ابراھیم سے ،انہوں اپنے والد سے، انہوں حماد سے، انہوں حریز سے، انہوں محمد بن مسلم اور ابوبصیر، بریداور فضیل سے ،ان سب نے حضرت امام باقر اورحضرت امام صادق علیہما السلام سے روایت کی ہے _امام عليهالسلام نے فرمایا : ''اللہ تعالی نے زکاة بھی نماز کے ساتھ فرض کی ہے ''(۲) اور جیسا کہ ملاحظہ فرمارہے ہیں اس روایت کی سندبھی بہت عمدہ ہے _
۵_ اس نظریئےی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت جعفر بن ابی طالب نے حبشہ کے بادشاہ کے سامنے زکوة کا ذکر بھی ان چیزوں میں فرمایاجن کے متعلق انہیں اللہ نے حکم دیا ہے(۳) _
ماسبق سے متعارض روایت
گذشتہ مطالب سے بظاہر اختلاف اور تضاد رکھنے والی ایک صحیح السند روایت بھی ہے جو یہ کہتی ہے کہ جب سورہ توبہ میں مذکور زکاة کی آیت نازل ہوئی (جبکہ یہ سورت مدنی اور نازل ہونے والی آخری سورتوں میں سے ہے ) تو اس کے نزول کے بعد آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے ایک منادی کو فرمایا تو اس نے لوگوں میں یہ اعلان کیا'' اللہ نے تم پر زکاة فرض فرمائی ہے''_اسکے ایک سال بعد دوبارہ ڈھنڈ ھورچی سے فرمایا تو اس نے مسلمانوں میں اعلان کیا '' اے مسلمانواپنے اموال کی زکاة دو تا کہ تمہاری نمازیں قبول ہوں '' راوی کہتا ہے کہ اس اعلان کے بعد آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مختلف علاقوں میں زکات اور صدقہ اکٹھا کرنے والے عامل (ایجنٹ ) بھیجے(۴) _
____________________
۱)تدریب الراوی ج/۲ ص ۲۱۲ از الطبرانی درالاوسط، الاصابہ ج/ ۱ ص ۲۳۲میں حدیث کے پہلے حصے کا ذکر کیا گیا ہے_
۲)الوسائل ج/۴ ص ۵ ، فروع الکافی ج/ ۳ ص ۴۹۸_ (۳)الثقات لابن حبان ج / ۱ ص ۶۵ ، حلیة الاولیاء ج / ۱ ص۴ ۱۱ ، ۱۱۶ از ابن اسحاق ، البدایة والنہایة ج/ ۳ ص ۶۹ ، ۷۰ ، ۷۴ ، تاریخ الخمیس ج/ ۱ ص ۲۹۰ ، سنن بیہقی ج/ ۹ ص ۱۴۴ ، سیرة ابن ہشام ج/ ۱ ص ۳۶۰ ، مجمع الزوائد ج/۶ ص ۲۷ و ۲۴از طبرانی اور احمد اس کی سند کے تمام افراد صحیح بخاری کے افراد ہیں حیاة الصحابة ج/۱ ص ۳۵۴ و ۳۵۷ از گذشتہ بعض منابع و فتح الباری ج/۷ ص ۳۰ اور اس نے اس کی سندکو حسن قرار دیا ہے _ (۴)الکافی ج/۳ ص ۴۹۷، تفسیر البرھان ج/۲ ص ۱۵۶_
لیکن یہ روایت ان دسیوں آیات سے متضادہے جو زکاة کے فرض ہونے کے بارے میں سورہ توبہ سے قبل نازل ہوئیں ان کی تعداد تقریباً تیس تک جاپہنچتی ہے اور وہ سب کی سب زکات کے فرض ہونے پر دلالت کرتی ہیں_ ان سب سے استحباب کا معنی لینا یا زکوة فطرہ مراد لینا واقعاًبعید ہے_
بنابرایں اس روایت کو اس مفہوم پر محمول کریں گے کہ اگر چہ زکوة اس آیت کے نزول سے پہلے فرض ہوئی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس آیت کے نزول کے بعد اس کی ادائیگی اور حصول کے متعلق سخت گیری کی _ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ زکات کے وجوب کا حکم تو مکہ میں آیا لیکن اس کے حصول کے فریضہ اور ادائیگی کے لزوم کا حکم مدینہ میں اس آیت کے نزول سے آیا _
زکات فطرہ کا فرض ہونا
چونکہ زکات فطرہ ، زکوة اموال سے پہلے فرض ہوئی پس یہ بھی مکہ میں فرض ہوئی _ اس کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں:
۱ _ گذشتہ روایت
۲_ '' سفر السعادة'' کی روایت، جس میں آیا ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم ایک منادی کو مکہ کے گلی، کوچے، محلے اور بازاروں میں اس اعلان کے لئے بھیجا کرتے تھے کہ صدقہ فطرہ ( زکوة فطرہ) ہر مسلمان مرد و خاتون پر واجب ہے(۱) البتہ ہم اس وقت کے حالات اور مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان بہت زیادہ کشیدگی کے سبب اس عمل کو بعید سمجھتے ہیں_
روزے کا فرض ہونا:
کہتے ہیں کہ ماہ مبارک رمضان کے روزے مدینہ میں دوسری ہجری میںاس وقت فرض ہوئے(۲) جب یہ آیات مبارکہ نازل ہوئیں_
____________________
۱)السیرة الحلبیہ ج/۲ ص ۱۳۶_
۲) البدایة والنہایة ج/ ۳ ص ۲۵۴_
( کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم شهر رمضان الذی انزل فیه القرآن هدی للناس و بینات من الهدی و الفرقان فمن شهد منکم الشهر فلیصمه ) (بقرة ۱۸۳ تا ۱۸۵)
جناب قمی نے تحریر فرمایاہے کہ ماہ مبارک رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے بھی لوگ کچھ ایام روزے رکھتے تھے(۱) حلبی کہتا ہے کہ ماہ رمضان المبارک کے روزے فرض ہونے سے پہلے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابہ ہر مہینے میں ایام البیض (۱۳، ۱۴، ۱۵ تاریخ ) کے تینوں دن کے روزے رکھا کرتے تھے(۲) _
روزوں کے مکہ میں فرض ہو نے کی دلیل حضرت جعفر بن ابی طالب کی وہ گفتگو ہے جو انہوں نے حبشہ کے بادشاہ کے ساتھ کی _ اس میں انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہمیں نماز، زکوة اور روزوں کا حکم دیا ہے_
ایک اعتراض اور اس کا جواب
بعض افراد نے اس حدیث پر ایک نوٹ لکھا ہے کہ میرے گمان میں حضرت جعفر بن ابی طالب عليهالسلام اور بادشاہ حبشہ کا قصہ گھڑا گیاہے کیونکہ اس میں روزوں کا ذکر ہے جو ہجرت حبشہ کے بعد فرض ہوئے(۳) _ لیکن ان کی یہ بات قابل قبول نہیں کیونکہ حضرت جعفر بن ابی طالب کا کلام ہی اس بات کی دلیل ہے کہ روزے مکہ میں فرض ہوئے _ یہاں ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ خود جناب جعفر کا کلام اس بات کی دلیل کیوں نہیں بن سکتا کہ روزے مکہ میں واجب ہوئے؟ جبکہ جناب قمی اور حلبی کا قول بھی ذکر ہوچکا ہے_البتہ ہوسکتاہے یہاںان کی مراد ماہ مبارک رمضان کے روزے ہوںتو اس صورت میں قمی اور حلبی کے مذکورہ قول سے ان کا جواب نہیں دیا جا سکتا_
____________________
۱)تفسیر القمی ج/ ۱ ص ۶۵_
۲)فجر الاسلام ص ۷۶_
۳)السیرة الحلبیہ ج/ ۲ ص ۱۳۲ و ۱۳۶تفسیر ابن کثیر ج/۱ ص ۲۱۳ و ۲۱۴_
لیکن مکہ میں ماہ رمضان المبارک کے روزے فرض ہونے کی ہمارے پاس دلیل یہ ہے کہ جب عمرو بن مرة الجھنی نے اسلام قبول کیا تو حضور صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے تبلیغ کے لئے اس کی قوم کی طرف بھیجا _ اس نے اپنی قوم سے کہا : '' میں اللہ کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کی جانب سے تمہاری طرف نمائندہ بناکر بھیجا گیاہوں، میں تمہیں جنت کی طرف دعوت دیتاہوں، جہنم کی آگ سے تمہیں ڈراتا ہوں، تمہیں خون کی حفاظت ، صلہ رحمی، اللہ کی عبادت، بتوں کو چھوڑنے ، بیت اللہ کے حج اور ماہ رمضان المبارک جو بارہ مہینوں میں سے ایک ماہ ہے، اس کے روزوں کا حکم دیتاہوں پس جواسے قبول کرے گا اس کے لئے جنت ہے'' _ اور یہ واقعہ بعثت کے ابتدائی ایام کا ہے(۱) _
یہاں اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ سابقہ امتوں میں بھی روزے فرض تھے جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے_
( کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم ایاماً معدودات ...)
یہاں ایاماً معدودات سے مراد ماہ رمضان کے روزے ہیں جیسا کہ آیت خودہی بیان فرمارہی ہے_
روز عاشور کا روزہ :
یہاں مؤرخین یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم جب مدینے میںتشریف لائے توماہ مبارک رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مشاہدہ کیا کہ مدینے کے یہودی روز عاشور کا روزہ رکھتے ہیں یعنی ماہ محرم کی دسویں تاریخ کو روزہ رکھتے تھے(۲) _
آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے اس کی بابت پوچھا تو انہوں نے (صحیحین اور دیگر کتابوں کے مطابق )جواب دیا: '' یہ
____________________
۱)البدایةوالنہایةج/۲ص۲۵۲از ابو نعیم، مجمع الزوائدج/۸ص۲۴۴ از طبرانی ، حیاة الصحابہ ج/۱ ص۱۹۱،کنزالعمال ج/ ۷ ص۶۴از رویانی اور ابن عساکر _
۲)اسدالغابہ ج/ ۵ ص۵۰۷ _
دن بڑا عظیم دن ہے اس دن اللہ تعالی نے حضرت موسی عليهالسلام اور ان کی قوم کو نجات بخشی نیز فرعون اوراسکی قوم کو غرق کیا ''_ تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: '' میں موسی عليهالسلام سے بہتر ہوں تم سے زیادہ روزے کا حقدار ہوں '' _پس آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی اس دن روزہ رکھا اوردوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا(۱) _
نیز صحیحین اور دیگر کتابوں میں حضرت عائشہ اور دیگر افراد سے روایت ہے کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشور کے دن روزہ رکھتے تھے اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم بھی اس روز روزہ رکھتے تھے_ جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی تو اس دن خود بھی روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم بھی ارشاد فرمایا _جب ماہ مبارک رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :'' جو چاہے اس (عاشور کے )دن روزہ رکھے اور جوچاہے ترک کردے اسے اختیار ہے ''(۲) _
مسلم و غیرہ نے ذکر کیا ہے کہ آنحضور صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی رحلت کے صرف ایک سال پہلے روز عاشور کو روزہ رکھا تھا(۳) _
ان روایات کا جھوٹ:
ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ سب خیال بافیاں ہے_کیونکہ:
۱_ ان روایات کی اسناد مشکوک اور قابل اعتراض ہیں _خصوصاً ان روایات کے اکثر راوی مشکوک ، قابل اعتراض اور متہم ہیں_ ان میںابوموسی اشعری جیسے کئی ایسے بھی ہیں جوہجرت کے کئی سال بعد مدینہ آئے نیز ابن زبیر جیسے کئی ایسے بھی ہیں جو ہجرت کے موقع پر بچے تھے _پس وہ اس سے پہلے کے حالات کی گواہی
____________________
۱)المصنف ج/۴ ص ۲۸۹ و ۲۹۰ ، البخاری مطبوعہ المیمنیة ج/ ۱ ص ۲۴۴ ، صحیح مسلم مطبوعہ صبیح در مصر ج/۳ ص۱۵۰،السیرة الحلبیہ ج/۲ص ۱۳۲ ، ۱۳۳، تاریخ الخمیس ج/۱ ص ۳۶۰،البدایة والنہایة ج/۱ص۲۷۴ و ج/ ۳ ص ۳۵۵ ، تفسیر ابن کثیر ج/۱ سورة بقرہ میں ماہ رمضان کے روزوں والی آیات، مشکل الآثار ج/۳ ص ۸۵ ،۹۰و زاد المعاد ج ۱ ص ۱۶۴ و ۱۶۵_
۲)گذشتہ حوالہ جات ،نیز الموطا ج /۱ ص۲۷۹ ، البخاری طبع مشکول ج/۵ ص ۵۱ ، مشکل الآثار ج/۳ ص ۸۶ و ۸۷ و زاد المعاد ج ۱ ص ۱۶۴ و ۱۶۵_
۳) صحیح مسلم ج/ ۳ ص ۱۵۱_
کیسے دے سکتے ہیں؟اس کے علاوہ ان روایات میں معاویہ جیسے کئی ایسے بھی ہیں جو ہجرت کے چند سال بعد فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے _
۲_ان روایات میں تناقض پایا جاتاہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا مثلاً:
ایک روایت یہ کہتی ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ میں یہودیوں کی پیروی میں عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے اورخود آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس بارے میں کوئی علم نہ تھا_ دوسری روایت یہ کہتی ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اور اسی طرح مشرکین بھی زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھتے تھے_ تیسری روایت یہ کہتی ہے کہ جب ماہ مبارک رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے روز عاشورا کا روزہ ترک فرمایا _ ایک اور روایت یہ کہتی ہے کہ جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے روزہ رکھا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا گیا کہ یہودیوں کے نزدیک یہ دن بڑا باعظمت ہے اسکے بعد آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے عہد کیا کہ آئندہ سال ۹ محرم کو روزہ رکھیں گے لیکن اس سے پہلے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت ہوگئی(۱) اور فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہونے والے معاویہ کی روایت کہتی ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے اصحاب کو اس دن کے روزے کا حکم نہیں دیا تھا _ بلکہ ان سے فرمایا تھا کہ خدانے اس دن کے روزے کو تم پر فرض نہیں کیا لیکن میں روزہ دار ہوں اس لئے تم میں سے جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے کھائے پئے_
روایات میں ان اختلافات کے علاوہ اور بھی اختلافات اور مسائل ہیں جو دقت و تحقیق سے ظاہر ہوسکتے ہیںان میں سے بعض کو ابن قیم نے بھی ذکر کیا ہے(۲) _ مذکورہ بالا اختلافات سے اگر ہم چشم پوشی کرلیں تو بھی مندرجہ ذیل پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں_
۱لف: سب سے پہلی روایت سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے برادر حضرت موسی عليهالسلام کی سنت و سیرت سے آگاہ نہ تھے جبکہ یہ امر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہودیوں سے سیکھا اور پھر انہی ہی کی پیروی کی _ ان کے نزدیک تو شاید اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی اس میں کوئی مضائقہ ہے کیونکہ (نعوذباللّه و نستغفر اللّه من
____________________
۱)صحیح مسلم ج ۳ ص ۱۵۱ نیز گذشتہ منابع _
۲) ملاحظہ ہو : زاد المعاد ج ۱ ص ۱۶۴و ۱۶۵_
ذلک ) یہی لوگ روایت کرتے ہیں کہ جن امور میں وحی نازل نہیں ہوئی تھی ان میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اہل کتاب کی موافقت اور پیروی کرنا پسند فرماتے تھے(۱) _لیکن پھر بعض مقامات پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے متعلق ایسی روایتیں نقل کرتے ہیں جو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس عمل کے بالکل برخلاف ہیں _
ان روایات کے نتیجے میں تو ان لوگوں کے نزدیک خود آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات گرامی میں ہمیشہ تناقض عمل پایا جاتا رہا یہاں تک کہ اس مقام میں بھی _ وہ اس طرح کہ یہاں تو یہودیوں کی پیروی فرماتے ہیں لیکن اذان کے مسئلے میں یہودیوں کی طرح بگل بجانے اور عیسائیوں کی طرح ناقوس بجانے کی مخالفت فرماتے ہیںنیز حائضہ عورت کے مسئلے میں بھی ان کی مخالفت فرماتے ہیں_
حالانکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم دوسروں کو یہود و نصاری کا رنگ ڈھنگ اختیار کرنے سے منع اور اسلام میں انکی اتباع کی مخالفت فرماتے ہیں(۲) _بلکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ مخالفت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ یہودی کہنے لگے تھے :'' یہ شخص چاہتا کیا ہے ؟ یہ تو ہر بات میں ہماری مخالفت کرتاہے''(۳) ابن الحاج کہتاہے: '' آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم تمام امور میں اہل کتاب کی مخالفت فرماتے تھے اور ان کی موافقت ناپسند فرماتے تھے _ یہاں تک کہ یہودی پکار اٹھے کہ محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم تو ہر بات میں ہماری مخالفت کرتاہے''(۴) _
ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ '' جو کسی قوم سے مشابہت اختیارکرتا ہے وہ انہی میں سے شمار ہوتا ہے''(۵) _
ب: محرم کے دسویں دن پر عاشورا کا اطلاق حضرت امام حسین عليهالسلام ، آپ عليهالسلام کے اہل بیت عليهالسلام اور اصحاب رضوان اللہ تعالی علیھم کی شہادت کے بعد ائمہ اہل بیت علیھم السلام اور آپ عليهالسلام کے شیعوں کی جانب سے آپ عليهالسلام کی مجالس عزاکے بپا کرنے پر ہوا _
____________________
۱) صحیح البخاری مطبوعہ المیمنیة ج / ۴ ص ۶۷ باب فرق الشعر فی اللباس، السیرة الحلبیہ ج/ ۲ ص ۱۳۲ و زاد المعاد ج ۱ ص ۱۶۵_
۲) اس سلسلے میں اہل سنت کی بنیادی اہم کتابوں کی طرف رجوع کرسکتے ہیں _ نیز مفتاح کنوز السنہ از البخاری کتاب ۶۰ و ۷۷ باب ۵۰ و ۶۷ ، صحیح مسلم کتاب ۳، حدیث ۱۶ و کتاب ۳۷ باب ۸ ، الترمذی کتاب ۴۴ حدیث ۲۴، کتاب ۲۲ باب ۱۰و کتاب ۴۰ باب ۷،النسائی کتاب۳، ۴۸ و۸۳ اسی طرح دیگر معروف و غیر معروف کتابوں کی ایک کثیر تعداد ہے نیز ملاحظہ ہو : مسند ابو یعلی ج ۱۰ ص ۳۹۸، ۳۹۹و ۳۶۶ نیز اس کے حاشیہ میں متعدد منابع _
۳) السیرة الحلبیہ ج/ ۲ ص ۱۱۵ سنن ابو داؤد ج ۲ ص ۲۵۰ و مسند ابی عوانہ ج ۱ ص ۳۱۲_ (۴)المدخل ابن الحاج ج ۲ ص ۴۸_ (۵)ایضاً_
لفظ عاشورا اس سے قبل بالکل غیر معروف تھا_ اس بات کی اہل لغت نے بھی وضاحت کی ہے_ ابن اثیر کہتے ہیں '' یہ ایک اسلامی نام ہے''(۱) ابن درید کا کہناہے'' یہ ایسا اسلامی لفظ ہے جو زمانہ جاہلیت میں معروف نہ تھا''(۲) _
ج: یہودیوں کی شریعت میں کبھی بھی یوم عاشورا کا روزہ نہ تھا اور نہ ہی آج وہ یہ روزہ رکھتے ہیں _ اس حوالے سے ان کے ہاں اس دن کوئی عید یا کوئی اور مناسبت بھی نہیں ہے(۳) _
گذشتہ مطالب اور ان جعلی احادیث کا کذب ثابت ہونے کی روشنی میں اس بات کی گنجائشے بالکل نہیں رہتی کہ آنحضور صلىاللهعليهوآلهوسلم نے روز عاشورا کا روزہ اس لئے ترک کیا ہو کہ یہودی مسلمانوں کے بارے میں کینہ رکھتے تھے، جیسا کہ بعض کا گمان ہے(۴) _
روز عاشورا کے دیگر فضائل:
روز عاشورا کی فضیلت کے بارے میں بڑی ہی عجیب و غریب روایات ملتی ہیں _ بلکہ اس کے فضائل محرم کی پہلی تاریخ سے ہی شروع ہوجاتے ہیں _اس بارے میں اتنے فضائل ملتے ہیں کہ ان کا مطالعہ کرنے والا آپے سے باہر ہوجائے گا اور پھولے نہیںسمائے گا_ مثلاً یہ کہ قطعی طور پر اس دن سے افضل ترین کوئی دن نہیں یہاں تک کہ لیلة القدربھی اس کی فضیلت کا مقابلہ نہیں کرسکتی _ اس دن ایسے اہم ترین واقعات رونما ہوئے جنہیں تاریخ بشریت کبھی فراموش یا اس سے تجاہل نہیںکرسکتی _یہاں تک کہ پیامبراسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ولادت و ہجرت بھی اس دن میں ذکر کئے گئے ہیں حالانکہ یہ بات متفقہ ہے کہ یہ دونوں واقعات ربیع الاوّل میں ہوئے(۵) اس دن خدا نے فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کر کے حضرت موسی عليهالسلام اور
____________________
۱) نہایہ ابن اثیر ج ۳ ص ۲۴۰_ (۲)الجمھرة فی لغة العرب ج/ ۴ ص ۲۱۲ _ (۳) مقالہ حسن السقاف _ مجلہ الہادی سال ہفتم شمارہ ۲ ص ۳۶_
۴)الیہود فی القرآن ص ۲۰ و ۲۶_
۵)بعض فضائل کے بارے میں آپ رجوع کریں تاریخ الخمیس ج/۱ ص ۳۶۰ و ۳۶۱ ، السیرة الحلبیة ج / ۲ ص ۱۳۳ و ۱۳۴ ، الآلی المصنوعة ج/۱ص ۱۰۸ ، ۱۱۶ اور دیگر کتب_
اس کی قوم کو نجات دلائی تھی _حضرت نوح عليهالسلام کی کشتی پہاڑ کی چوٹی پر رکی اور حضرت آدم عليهالسلام کی توبہ قبول ہوئی و غیرہ(۱) _
یوم عزاء یا عیدکا دن ؟
ابوریحان البیرونی الآثار الباقیہ میں ، امام حسین عليهالسلام کے متعلق روز عاشور کے واقعات کا ذکر کرنے کے بعدلکھتے ہیں: '' اس دن بنوامیہ نے نئے نئے لباس پہنے،زینت اور آرائشے کی، آنکھوں میں سرمے لگائے ، عید منائی ، ولیمے اور خوشیاں کیں، دعوتیں کیں، ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلائیں اور اچھی اچھی اشیاء ایک دوسرے کو کھلائیںاور خوشبو لگایا_ یہ رسم ان کی حکومت کے زمانے سے عام سنی مسلمانوں میں جاری ہوئی جو ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد تک بھی جاری رہی _ لیکن شیعہ سیدالشہداء حضرت امام حسین (علیہ الصلوة و السلام) کی شہادت کے غم میں نوحہ خوانی اور گریہ کرتے رہے ''(۲) _ مقریزی کہتے ہیں : ''مصر کے علویوں نے عاشور کے دن کو '' یوم الحزن''قرار دیا اور اس دن بازار بند ہوتے تھے''_ اسکے بعد لکھتے ہیں'' جب علویوں کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور بنی ایوب کی حکومت آئی تو انہوں نے روز عاشور کو خوشی اور سرور کا دن قرار دیا _اس دن وہ اپنے اہل و عیال پر کھلے دل سے خرچ کرتے، وسیع دستر خوان بچھاتے اورہنسی مذاق کی محفلیں ہوتیں، نئے برتن استعمال کرتے ، سرمہ لگاتے، اہل شام کی طرح حمام جاتے اور ایک دوسرے پر پانی پھینکتے_ یہ رسم عبدالملک بن مروان کی حکومت کے زمانے میں حجاج بن یوسف نے شروع کی تھی تاکہ حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کے شیعوں کو ذلیل کیا جائے کیونکہ یہ لوگ حضرت اما م حسین بن علی علیہما السلام کی شہادت کی وجہ سے عاشور کو غم، عزا اورحزن کے دن کے طور پر مناتے تھے ''_ اس کے بعد مقریزی لکھتے ہیںکہ ہمیں بنی ایوب کے ایسے آثار بھی ملے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے عاشورا کے دن کو خوشی ، سرور اور عید کا دن قرا ردیا تھا(۳) _
____________________
۱) ان کے بعض منابع تقریباً تین صفحات قبل ذکر ہوچکے ہیں _ نیز ملاحظہ ہو : عجائب المخلوقات بر حاشیہ حیاة الحیوان ج ۱ ص ۱۱۴_
۲)الکنی والالقاب ج/ ۱ ص ۴۳۱نیزملاحظہ ہو : الحضازة الاسلامیة فی القرن الرابع الھجری ج ۱ ص ۱۳۷ از الاثار الباقیہ مطبوعہ یورپ ص ۳۲۹ ، عجایب المخلوقات مطبوع بر حاشیہ حیاة الحیوان ج ۱ ص ۱۱۵ و نظم درر السمطین ص ۲۳۰_ (۳) الخطط للمقریز ی ج/۱ ص ۴۹۰_ نیز ملاحظہ ہو : الحضارة الاسلامیة فی القرن الرابع الھجری ج ۱ ص ۱۳۸ _
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی زیارت عاشورا میں آیا ہے : '' پروردگارا یہ دن ایسا ہے جسے بنی امیہ اور ہندہ جگر خور کی اولاد نے با برکت ( او رعید کا ) دن جانا ہے ''(۱) _ لیکن ان لوگوں نے جناب ابن عباس کی زبانی ''موعدکم یوم الزینة ''کی آیت کی تفسیر میں یہ حدیث بھی گھڑی ہے کہ زینت( عید ) کے دن سے مراد عاشورا کا دن ہے(۲) _
جعلی احادیث:
حضرت امیر المؤمنین عليهالسلام ، ان کی اولاد عليهالسلام اور انکے ماننے والوں کے دشمنوں نے اپنی دنیا کے بدلے آخرت کو بیچنے والے کچھ ایسے افراد ڈھونڈلئے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نسبت دے کر روز عاشور کی فضیلت کے بارے میں بہت ساری احادیث گھڑیں _جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اس دن زیب و زینت انجام دینا، خضاب لگانا، خوشی منانا، اپنے اہل و عیال پہ زیادہ خرچ کرنا، نئے کپڑے پہننا، روزہ رکھنا، مرغوب غذائیں پکانا، اچھے کھانے تیار کرنا، غسل کرنا، خوشبو لگانا اور سرمہ لگاناو غیرہ مستحب ہیں _ لیکن یہ ساری باتیں اہل بیت عليهالسلام سے بغض اور دشمنی کا مظہر ہیں(۳) _
تا ہم وہ بات جوان جھوٹی احادیث کو بے وقعت اور کم وزن کردیتی ہے وہ یہ ہے کہ تمام علماء اور ناقدین حتی کہ ابن تیمیہ جیسے مذہب اہل بیت سے منحرفین اور منکرین نے بھی چندایک احادیث کے سوا سب کو جھوٹی اور جعلی قرار دیا ہے(۴) _
لیکن ابھی تک رسنے و الازخم اور نہ مٹنے والی ذلت تو یہ ہے کہ ایک طرف سے وافر مقدار میں دلائل،
____________________
۱) مصابیح ( مفاتیح ) الجنان ص ۲۹۱ _ (۲) تاریخ واسط ص ۷۸ _
۳) اللئالی المصنوعة فی الاحادیث الموضوعة ج/۱ ص ۱۰۸ _ ۱۱۶ ، السیرة الحلبیة ج/۲ ص۱۳۴، نوادر الاصول للحکیم الترمذی ص ۲۴۶_عجایب المخلوقات ( مطبوعہ بر حاشیہ حیاة الحیوان )ج ۱ ص ۱۴ و ۱۱۵ ، نظم دررالسمطین ص ۲۳۰، اقتضاء الصراط المستقیم ص ۳۰۰ ، تذکرةالموضوعات ص ۱۱۸ ، در منثور ج ۴ ص ۳۰۳ ، الحضارة الاسلامیة فی القرن الرابع الھجری ج ۱ ص ۱۳۸ ، الصواعق المحرقہ ص ۱۸۲و المدخل ابن الحاج ج ۱ ص ۲۸۹ _
۴) تذکرة الموضوعات للفتنی ص۱۱۸،اللئالی المصنوعةج/۱ص۱۰۸_۱۱۶، السیرة الحلبیة ج/۲ ص ۱۳۴ ، اقتضاء الصراط المستقیم ص ۳۰۱ ، الصواعق المحرقہ ص ص ۱۸۱، ص ۱۸۲ ، نظم درر السمطین ص ۲۲۸_۲۳۰و المدخل ابن الحاج ج ۱ ص ۲۹۰ و ص ۲۹۱ _
قرائن اور شواہد کے ہوتے ہوئے وہ یزید پر لعنت کی حرمت اور اس کی تکفیر کے عدم جواز کے فتوے دیتے ہیں(۱) اور دوسری طرف سے وہ حضرت امام حسین عليهالسلام کی مقتل کی روایتوں کے بیان(۲) نیز عاشورا کے دن عزاداری اور سوگواری کی حرمت کے فتوے لگاتے ہیں(۳)
( و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ) (شعراء ۲۲۷)
اور عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ کہاں پلٹائے جائیں گے_ وہ ظالم جنہوں نے محمد و آل محمد علیھم السلام کے حقوق پر ظلم کیا اور ان کے ایام غم میں خوشیاں منائیں وہ عنقریب اپنی ان زیادتیوں کا مزہ چکھ لیں گے _
عاشوراکی یادمٹا نے کے مختلف طریقے:
عاشورادشمنان اہل بیت عليهالسلام کی نظروں میں نوک دار کانٹے کی صورت چبھتا رہا_ لہذا انہوں نے اس انقلاب اور اس کی مقاومت کو روکنے کے لئے ہر حیلہ اورحربہ استعمال کیا_ صرف یہی نہیں کہ انہوں نے عاشور کو عید کے طور پر منایا بلکہ دیگر امور بھی انجام دیئےذشتہ بیانات کے علاوہ ہم مندرجہ ذیل نکات میں انکی طرف اشارہ کررہے ہیں_
۱_ابن عماد کہتے ہیں: '' شیعہ لوگ صدیوں سے آج تک عاشورا میں رونے پیٹنے اور سینہ کوبی کرنے نیز غدیر کے دن زیب و زینت کے ساتھ عید منانے کی گمراہی میں پڑے رہے جس کے مقابلہ میں متعصب سنیوں نے بھی اپنی بدعتیں ایجاد کرلیں '' اسکے بعد ابن عماد کہتے ہیں :''عاشورا کے مقابلے میں عاشورا کے آٹھ دن بعد سنیوں نے یوم مصعب بن الزبیر منانا شروع کیا _ اس دن ''مسکن ''میںاسکی قبر کی زیارت اور گریہ کرتے ہیں اور اسے امام حسین عليهالسلام کی مثل قرار دیتے کیونکہ اس نے بھی صبر کیااور جنگ کی یہاں تک کہ
____________________
۱)ملاحظہ ہو : الصواعق المحرقہ ص ۲۲۱ ، احیاء علوم الدین ج ۳ ص ۱۲۵ ، العوالم من القواصم مع حاشیے و الاتحاف بحب الاشراف ص ۶۲و ۶۸ بلکہ بعض بے وقوف تو اسے اپنا راہنما ، امام اور رہبر مانتے ہیں اور ایڑی چوٹی کازور لگا کر اسے معصوم ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں _
۲) الصواعق المحرقہ ص ۲۲۱_ (۳) اقتضاء الصراط المستقیم ص ۲۹۹ _۳۰۰ و نظم دررالسمطین ص ۲۲۸_
قتل ہوگیا اور اس لئے بھی کہ اسکا والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا پھوپھی زاد تھا ...''(۱) _
افسوس صد افسوس کہ مصعب جیسے دنیاپرست ، جاہ طلب اور دشمن اہل بیت عليهالسلام کو سید الشہداء عليهالسلام جیسی عظیم ہستی کی مثل بنادیاگیا جو گلستان پیامبر صلىاللهعليهوآلهوسلم کا حسین اور خوشبو دار پھول ہے، جنت کے جوانوں کا سردار ہے، امت کا امام ، طالب حق اور دین کا مددگار ہے _ وہ تو کبھی بھی ان کے ہم پلہ نہیں ہو سکتا _
البتہ یہ سب کچھ معدن رسالت ، مراد آیت مودّت یعنی اہل بیت عليهالسلام نبوت کے خلاف قدیم اور پوشیدہ کینے اور دشمنی کا نتیجہ تھا_حالانکہ انہی شخصیات کے متعلق خداوند عالم نے محبت و مودّت کا حکم فرمایاہے:
( قل لا اسالکم علیه اجراً الا المودة فی القربی ) (شوری ،۲۳)
۲_ابن کثیر نے ۳۶۳ ھ کے واقعات لکھتے ہوئے کہاہے: '' لوگوں نے اس سال روز عاشور رافضیوں کی پیروی میں ایک بہت ہی بری بدعت شروع کی تو بغداد میں اہل سنت اور رافضیوں کے درمیان ایک بہت بڑا فتنہ بپا ہوا_ دونوں فریق کم عقل یا بے عقل اورصحیح راستے سے بھٹکے ہوئے تھے_ہوا یہ کہ اہل سنت میں سے کچھ افرادنے ایک خاتون کو اونٹ پر سوارکرکے اسے بی بی عائشہ کا نام دیانیز دو اور افراد سوار ہوئے جنہیں طلحہ اور زبیر کہا گیا _ انہوں نے کہا ہم اصحاب علی عليهالسلام سے جنگ کرنے آئے ہیں_ بس پھر کیا تھا فریقین کی ایک کثیر تعداد اسی ڈرامے میں قتل ہوگئی''(۲) لیکن اس صاحب نے شیعوں کو اہل بیت عليهالسلام اوران کے پیرو کاروں کے دشمن یعنی ناصبیوں کے برابر قرار دے کر ان پر ظلم اور زیادتی کی ہے _ کیونکہ شیعوں کا یہ فعل عین دین اور عین عقل ہے لیکن ان کے دشمنوں کاکام بے عقلی ، بے دینی اور حماقت پر مبنی تھا _
۳_ قوت اور طاقت کا استعمال کیا گیا _ تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے کہ ہر سال لوگ محرم کا چاند کیسے دیکھتے تھے_ان سالناموں میں '' اس روز(روز عاشور) رافضیوں اور اہل سنت کی ایک کثیر تعدادآپس میں
____________________
۱) شذرات الذھب ج/۳ ص ۱۳۰از العبر، الامام الصادق عليهالسلام والمذاھب الاربعہ ج/۱ ص ۹۵ ، بحوث مع اھل السنہ و السلفیہ ص ۱۴۵ ، المنتظم لابن الجوزی ج/۷ ص ۲۰۶_
۲) البدایہ و النہایہ ، ج ۱۱ ص ۲۷۵ ، الامام الصادق عليهالسلام و المذاہب الاربعہ ، ج ۱ ص ۹۴، بحوث مع اہل السنة و السلفیہ ص ۱۴۴و ص ۱۳۴_
لڑتی تھی '' اس سلسلے میں المنتظم ابن الجوزی اور دیگر کتب کی طرف رجوع کریں(۱) _ ان میں سب سے زیادہ دردناک اور شدیدترین واقعہ شاید ''کرخ بغداد'' کاہے_ جس میں شیعیان اہل بیت عليهالسلام کوگھیر کران کے گھروں کو آگ لگائی گئی اور انکے ہزاروں مردوںاور بچوں کو قتل کردیا گیا(۲) _ اس بارے میں چند دستاویزات کا ذکر ہم نے اپنی کتاب ''صراع الحریة فی عصر المفید'' ( شیخ مفید کے دور میں آزادی کی جنگ) میں کیا ہے _ خواہشمند افراد وہاں مراجعہ فرمائیں_ البتہ یہاں یہ ذکر کرتے چلیں کہ ۴۳۷ ہجری میں بغداد میں روز عاشورا شیعوں اور سنیوں کے درمیان ایک سخت جھگڑا ہوا لیکن آخر کار فریقین نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ وہاں موجود یہودیوں کے گھروں کو لوٹ لیا جائے اور ان کے گرجاؤں کو نذر آتش کردیا جائے(۳)
اور ۴۴۲ ہجری کے واقعات میں لکھتے ہیں : '' بغداد کے شیعوں اور سنیوں نے آپس میں صلح کرلی اور سب کے سب حضرت امام علی عليهالسلام اور حضرت امام حسین عليهالسلام کے روضہ ہائے اقدس کی زیارت کو گئے اور پھر کرخ میں سب نے صحابہ کے حق میں دعائے رحمت اور مغفرت کی ''(۴) _
یہاں ہم انہی مطالب پر اکتفا کرتے ہیں، کیونکہ یہاں اس سے زیادہ تحقیق و جستجو کی ضرورت اور گنجائشے نہیں ہے_
____________________
۱) بحوث مع اہل السنة و السفلیہ ص ۱۴۵_ شاید یہ سلسلہ امام زمانہ (عج) کے ظہور تک کبھی بھی رکنے میں نہ آئے ، روز عاشور عزاداروں کا قتل عام اب صرف جزیرہ نمائے عرب یا عراق تک محدود، نہیں ہے بلکہ پاکستان، ہندوستان ، ایران اور دیگر ممالک تک اس کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے اور ہوتا جا رہا ہے_ اور ذرائع بھی جدید ہوگئے ہیں_ اس سے ایک بات کا علم ضرور ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے تمام تر مظالم کے باوجود شیعہ مذہب دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا ہے _ اس لئے مظالم کا دائرہ بھی وسیع ہوتا جا رہا ہے_ لیکن سوال تو یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اگر یہ مذہب مطابق عقل ہے تو اس پر خون خرابا کیسا؟ اور اگر بدعت ہے تو کیا اپنے مذہب کی بدعتیں ختم ہوگئی ہیں جو شیعوں کے در پے ہوئے ہیں؟ اور اگر یزید اور اس کے اگلوں پچھلوں پر لعنت برداشت نہیں تو یہ کیسے مسلمان ہیں کہ شاتم رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم یہودیوں اور عیسائیوں کے تو جگری دوست ہیں لیکن قاتلان رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم و آل رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم پر لعنت کرنے والوں کے جانی دشمن؟ کیا یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شر مائیں یہود؟ (۲) البدایہ و النہایہ ، ج ۱۱ ص ۲۷۵ (۳)البدایہ و النہایہ ، ج ۱۲ ص ۵۴
۴) البدایہ و النہایہ ، ج ۲۱ ص ۱۶_ ان بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں بھی یہودیوں یا ان کی ریشہ دوانیوں کا وجود رہا مسلمان آپس میں لڑتے رہے اور ایک دوسرے کو کاٹتے رہے_ اور جو نہی کسی خطے سے ان کا وجود ختم ہوا اور ان کے وجود سے وہ خطہ پاک ہوا تو وہ خطہ امن و آشتی کا گہوارہ بن گیا_ عراق کی تازہ ترین صورتحال اس کی گواہ ہے نیزان لوگوں کا ایک مقولہ'' لڑاؤ اور حکومت کرو'' نہایت مشہور ہے_
پانچویں فصل:
اسلام میں جہاد کی اہمیت
اسلام اور تلوار
اسلام دشمن عیسائی مشنری اس بات کو بڑی اہمیت اور اہتمام کے ساتھ بیان کرتی ہے کہ اسلام تلوار اور طاقت کا دین ہے_یہاں تک کہ بعض کتابوں میں انہوں نے ایسے کارٹون بنائے ہیں جن میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں تلوارہے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم لوگوں کے سروں پر کھڑے ہیں اور یہ عبارت تحریر ہے ''قرآن پر ایمان لے آؤ ورنہ تلوار سے تمہاری گردنیں اڑادونگا'' پس دشمن گویا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو اسلام '' ادع الی سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة''(۱) کا دعویدار ہے وہ اپنے اس دعوے میں سچا نہیں ہے بلکہ وہ عملی طور پر تلوار سے اپنی تبلیغ کا دعویدار ہے_
اس نظریئےی تقویت میں خود مسلمانوں کی اس مقولے میں طبعی شک و تردید نے بھی مدد کی ہے کہ ''اسلام حضرت خدیجہ عليهالسلام کے مال اور حضرت علی عليهالسلام کی تلوار سے پھیلا''(۲) _ مسلمانوں نے اس جملے کے الفاظ پر تو توجہ کی لیکن اس کے مفہوم پر گہری دقت نہیں کی_ ...بلکہ ایسا ہوا کہ بعض قدیم مورخین اور قصہ نویس حضرات نے بھی اس مفہوم کو اسلام سے خارج کرنے میں مدد کی _ کتاب ''فتوح الشام للواقدی'' سے یہ مطلب بڑی حد تک واضح ہوتاہے_ کیونکہ اس کتاب کا شاید ہی کوئی ایسا صفحہ ہو جو اس طرح کے محیر العقول اور خارق العادہ کارناموں اور تباہ کن واقعات سے خالی ہو_ یہ سب کچھ بعض پس پردہ اہداف کی خاطر تھا تا کہ عوام کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کے ساتھ ساتھ امویوں کی قدرت اور عظمت بیان کی جائے اموی حکومت کے منظور نظر افراد کے لئے خیالی بہادریاں ثابت کی جائیں اور اس ذریعہ سے
____________________
۱) اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور موعظہ حسنة سے دعوت دو_ ( النحل۱۲۵)
۲) مفکر اسلام شہید مطہری کا مقالہ مجلہ '' جمہوری اسلامی'' میں(۱۰جمادی الثانی ۱۴۱۰ ھ شمارہ ۲۶۱_
حضرت علی عليهالسلام کے موقف اور کارناموں کو لوگوں کی نظروں سے گرا دیا جائے _ اس کے علاوہ اور بھی مقاصد تھے جن کے متعلق گفتگو کی گنجائشے یہاں نہیں ہے _ ان بڑے بڑے سفید جھوٹوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام ایک تباہ کن طوفانی موج ( سونامی کی لہروں ) اور قتل و غارت کا دین دکھائی دینے گا _ یہاں تک کہ خود اکثر مسلمانوں کے لئے بھی یہ مسئلہ نہایت پیچیدہ ہوگیا جس کا جواب دینے کے لئے انہوں نے دائیں بائیں جانا شروع کردیا_ ان مسلمانوں نے جواباً جو مناسب سمجھا اور جس راستے کو اپنی خواہشات کے مطابق دیکھا اختیار کرلیا_
اگر چہ یہ بات تاریخ سے مربوط ہے اور یہاں اس گفتگو کو طول دینے سے خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل سکتاتا ہم اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کے لئے سر راہے چند نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں _
۱: اسلام اور دیگر ادیان میں جنگ کے خد و خال
جنگ بدر سے پہلے کے سرایا اور غزوات کی فصل میں اپنی افواج کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصیحتوں کا مختصر ذکر ہوگا _ انہیں دقت سے پڑھنے اور ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے _ مزید مطالعہ کے خواہش مند حضرات بحار الانوار اور کافی کے علاوہ حدیث اور تاریخ کی دیگر کتابوں کا بھی مطالعہ فرمائیں_
ساتھ ہی کتب حدیث اور تاریخ کا دقت سے مطالعہ کرتے وقت جنگی قیدیوں کے ساتھ مسلمانوں کے مثالی سلوک سے آگاہی بھی ضروری ہے _ ہم بھی جنگ بدر کی بحث میں انشاء اللہ اس موضوع پر روشنی ڈالیں گے _ اسی طرح علامہ احمدی نے بھی اپنی کتاب '' الا سیر فی الاسلام'' میں اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے _ لیکن اس کے مقابلے میں مندرجہ ذیل مطالب ملاحظہ فرمائیں_
الف: انجیل میں لکھاہے''یہ گمان بھی نہیں کرو کہ میں زمین پر امن پھیلانے آیا ہوں، میں زمین پر سلامتی پھیلانے نہیں بلکہ تلوار کے ساتھ جنگ کے لئے آیاہوں''(۱)
باء : تورات میں یوں تحریر کیا گیاہے'' جب تم جنگ کے لئے شہر کے قریب جاؤ گے تو وہاں کے لوگوں
____________________
۱)انجیل متی اصحاح ( سورت ) ۲۰ سطر ۳۴_
سے صلح کی استدعا کرو_ اگرانہوں نے مثبت جواب دیا تو وہ تیرے لئے فتح ہوجائے گا _ پس وہاں موجود تمام افراد تیرے غلام ہوں گے_ لیکن اگرانہوں نے صلح نہ کی اور جنگ ہی کی تو شہر کا محاصرہ کر لو اور جب تیرا رب، تیرا معبود تجھے فتح دے دے تو تمام مردوں کی گردنیں تلوار سے اڑادے_لیکن خواتین، بچے اور حیوانات اور جو کچھ شہر میں ہے یہ سب کچھ مال غنیمت ہے جو صرف تیرے لئے ہے_ دشمنوں کا مال غنیمت جو تیرے رب اور معبود نے تجھے عطا کیاہے کھالے، استعمال کر_ وہ تمام علاقے جو تجھ سے بہت دور ہیں اور یہ علاقے ان اقوام کے نہیں ہیں ،ان میں بھی یہی اعمال انجام دے_ لیکن وہ علاقے جو یہاں کی اقوام کے ہیں اور تیرے رب اور تیرے معبود نے تجھے عنایت کیے ہیں وہاں کا کوئی ذی روح بھی زندہ نہیں رہنا چاہئے''(۱) _
جیم: تورات ہی میں لکھا ہے''شہر والوں کو تلوار سے اڑاکے رکھ دو_ شہر کو اس میں موجود تمام چیزوں سمیت جلا دو_اسکے ساتھ حیوانات و غیرہ جو کچھ بھی ہے سب کو تلوار سے نابود کردو _ تما م اشیاء کو اکٹھا کرو اور شہر کے چوک میں جمع کرکے انہیں شہرسمیت آگ لگادو _اس سے وہ شہر ابد تک راکھ کا ٹیلہ بن جائے گا(۲) _
یہاں مزیددستاویزات بھی ہیں جن کی تحقیق کا موقع و محل نہیں(۳) _
ایک اشارہ
امویوںاور عباسیوں و غیرہ کے کرتو توں نیز جنگوں اور ذاتی دشمنیوں میں ان کے مظالم اور قتل و غارتگری کی وجہ سے ہونے والی اسلام کی بربادی اسلام کی پہچان نہیں بلکہ اسلام پر ہونے والا ظلم ، زیادتی اور خیانت ہے _ کیونکہ اسلام اپنے سے منحرفین کی بدکرداری کا ضامن نہیں ہے اس لئے کہ اسلام اور چیز ہے اور منحرفین کا کردار اور چیز ہے_
____________________
۱) سفر تثنیہ'' اصحاح'' ۲۰ سطر/۱۰ _ ۱۷
۲) سفر تثنیہ ''اصحاح'' ۱۳ سطر۱۵_
۳) سفر تثنیہ الاصحاح ۷ ;سطر۱ ، ۲ سفر سموئیل اوّل الاصحاح ۱۵ ، عبرانیوں کو پولس کا خط الاصحاح ۱۱ سطر ۳۲ اور اسکے بعد ، انیس الاعلام ج/۵ ص ۳۰۲ و ۳۱۶ اور دیگر کتب_
۲ : جب جنگ ناگزیرہو
اگر ہم رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کی مشرکوں کے خلافلڑی جانے والی جنگوں کا مطالعہ کرنا چاہیں تو انہیں مندرجہ ذیل نکات میں خلاصہ کر سکتے ہیں:
الف : وراثت و غیرہ جیسے عوامل سے قطع نظر انسان کی شخصیت; اسکی خصوصیات، عادات، صفات اور مختلف نفسیاتی، روحانی ، فکری ، جذباتی اور دیگر پہلو عام طور پر اس ماحول کے زیر اثر ہوتے ہیں جہاں انسان رہتاہے_ وہ والدین ، استاد اور دو ست و غیرہ سے افکار اور دینی مفاہیم و اقدار حاصل کرتا ہے_
پس وہ شخص ذلیل و بزدل ہوگا جس کی تربیت کرنے والوں نے خوف اور دہشت کا رویہ اختیار کیا ہو اور وہ شخص شجاع اور جنگجو ہوگا جسکی تربیت کرنے والوں نے خوف کے برخلاف حوصلہ افزائی کی روش اختیار کی ہو(۱) _ اسی طرح وہ بچہ جسے بچپن میں بہت زیادہ توجہ اور شفقت ملی ہو اس کی پرورش بالکل مختلف ہوگی اور جو ظلم و قساوت کو دیکھے گا تو اس کا رد عمل بہت مختلف ہوگا _ چاہے ان دو بچوں نے ایک ہی گھر میں پرورش پائی ہو اور وہ دونوں حقیقی جڑواںبھائی ہوں_
بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ ذہنی تصورات جنہیں انسان حو اس کے ذریعے حاصل کرتاہے اور انہیں اپنے علم و ادراک کا اہم منبع قرار دیتاہے وہ بھی دوسروں سے بہت مختلف ہوتے ہیں_ اگر ہم دو ایسے جڑواں بچوں کو فرض کر لیں جو اکٹھے رہتے ہوں ان کے حالات بھی ایک جیسے ہوں اور یہ بھی فرض کرلیں کہ تعلیم و تربیت ،وسائل اور حالات زندگی و غیرہ تک بھی یکساں ہوں تو اسکے باوجود بھی ہم دیکھیں گے کہ ان دونوں کے افکار ، نفسیات اور احساسات و غیرہ ایک دوسرے سے بہت حد تک مختلف ہیں_ اسکی وجہ وہ ذہنی تصورات ہیں جو دونوں نے اخذ کیے ہیں اورجن سے ان کے تفکر کی تشکیل ہوئی اور ان دونوں کا ان خیالات پر رد عمل مختلف تھا_ جی ہاں چاہے وہ دونوں ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوں، ایک ہی راستے پر چل رہے ہوں اورایک ہی سکول اور مدرسے میں پڑھ رہے ہوں پھر بھی دونوں کا ذہن ایک ہی خیال کے متعلق مختلف رد عمل ظاہر کرے گا
____________________
۱) یعنی خوف ، دھمکیوں اور دہشت کے سائے میں پلنے والا بچہ خود اعتمادی کے فقدان سے بزدل اور ذلت پسند ہوگا _ لیکن محبت اور شفقت کے سائے میں پلنے والا بچہ خود اعتمادی کے وجود سے بہادر اور سوشل ہوگا_ البتہ لاڈ اور ناز کے سائے میں پلنے والا بچہ خود پسند اور مغرور ہوگا_
چاہے وہ اختلاف جزوی ہی ہو _ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ہر ایک کانقطہ نظر مختلف ہے_ یہی صورت حال آوازوں،اور خوشبوؤں و غیرہ کے بارے میںہے _یہ صورت اسکے ہاں اپناایک خاص مقام اور ایک خاص اثر رکھتی ہے، اس کے فکری خطوط کو بھی بدل دیتی ہے_ کبھی تو ان خطوط کو آگے بڑھاتی ہے اور کبھی اس کے آگے بند با ندھ دیتی ہے _
تصورات کا اختلاف ان کے ذہنوں میں مختلف نتائج کو جنم دیتاہے_ اسی طرح یہ تصورات روح ، آداب اور احساسات پر مختلف اثرات مرتب کرتے ہیں_
ان باتوں سے ہمیں پتہ چل سکتا ہے کہ لوگ آداب، افکاراور اخلاقیات و غیرہ کے لحاظ سے ایک دوسرے پر کتنے اثر انداز ہوتے ہیں_آپ خود اگر کسی بدمزاج، غصیلے اور ترش رو دوکاندا ر کے پاس کھڑے ہوں اور پھر کسی ایسے مہذب دوکاندار کے پاس کھڑے ہوںجو مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ملے اور بہت اچھے اور میٹھے لہجے کے ساتھ آپ سے گفتگو کرے تو آپ یقیناًاپنے رگ و پے میں ان دونوں کا فرق محسوس کریں گے_ اس سارے عمل کا اثر بچوںاور دوستوں و غیرہ کے ساتھ آپ کے تعلقات پر یقیناً مرتب ہوگا_
پس جب ایک فکر اتنی اہمیت کی حامل اور حساس ہے کہ اس سے انسانی عقیدہ تشکیل پاتا ہے اور انسان اس سے متاثر ہوتا ہے تو یقینا کسی معاشرے میں پیدا ہونے والا انحراف چاہے وہ محدود پیمانے پر ہی ہو وہ صرف انحراف کے مرتکب ہونے والے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ چاہے تھوڑی مقدار اور محدود پیمانے پر ہی سہی وہ اس کے ساتھ رہنے والوں اور اس کے دور یا نزدیک کے تعلق داروں پر بھی اثر انداز ہوگا پھر ان سے دوسروں میں سرایت کرجائے گا اور اسی طرح وہ انحراف آگے پھیلتا جائے گا_ ( اور انحراف کے مرتکب فرد کا حلقہ شناسائی اور دائرہ اثرجتنا وسیع اور پھیلا ہوا ہوگا انحراف بھی اتنے وسیع پیمانے پر اور تیزی سے پھیلے گا مترجم)_
یہی سبب ہے کہ اسلام برائی سے پوری طاقت کے ساتھ اورعلانیہ نبرد آزما ہوتاہے_ اسلام نے تو چھپ چھپ کر گناہ والے کی غیبت سے بھی منع کیا ہے تا کہ لوگ کسی بھی برائی یا انحراف کی خبرسننے کی عادت
نہ اپنا لیں کیونکہ اس سے ان کے ذہن برائی سے مانوس ہو جائیں گے پھر ان کے لئے برائی کا ارتکاب آسان ہو جائے گا اور وہ اس کی عادت بنالیں گے _ اسلام تو اتنا بھی نہیں چاہتا کہ ان کے ذہنوں میں برائی کے تصور کابھی گزر ہو چہ جائیکہ وہ شخص خوداس برائی کی عادت اپنالے کیونکہ اسلام چاہتا ہے کہ لوگ برائیوں سے دور رہیں لیکن اس کے اثر سے لوگ برائیوں کے مرتکب ہوں گے _ آپ ذرابرائیوں اور نقصان دہ امو ر پر لفظ '' المنکر''کے اطلاق پر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اسلام چاہتاہے کہ لوگ ان باتوں سے دور اور لاعلم رہیں_ اسی طرح جہاں اسلام چھپ چھپ کر گناہ کرنے والے کی غیبت سے منع کرتاہے تو وہ یہچاہتاہے کہ گناہگار انسان کو ایک فرصت مہیا کی جائے تا کہ وہ اپنے گناہوں سے چھٹکارا حاصل کرسکے نیز اس کی شخصیت کی تعمیر و ترقی کے لئے اسے ایک مناسب معاشرتی فضا مہیا کرے نیزاس کی عزت و شرافت و غیرہ کی حفاظت کرے اس کے علاوہ اور بھی مقاصد ہیں جن کے بیان کا مقام یہاں نہیں ہے _
پس اگر انحراف اور کجی کا نقصان اسکے ارتکاب کرنے والے تک محدود نہ رہے اور وہ دوسروں تک سرایت کر جائے تو پھر دوسروں کوبھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود کو اس نقصان سے محفوظ کریں_ اگر شریعت کی بات نہ بھی ہو تو بھی عقل و فطرت کا یہی حکم ہے _ البتہ شریعت ،ذات کے اس حق دفاع کے اعتراف پر ہی اکتفا نہیں کرتی بلکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے وجوب کے ذریعہ اس دفاع کو ہر فردپر واجب اور فرض قرار دیتی ہے تا کہ ایک تو یہ لوگ اپنی حفاظت کریں اور دوسرا اس انحراف اور برائی سے دوسروں کو بچائیں(۱) _
گذشتہ تمام گفتگو کی روشنی میں رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے اس فرمان کا راز بھی معلوم ہو جاتاہے کہ اسلام کی نظر میں
____________________
۱)برائی کے ا نجام دینے والے کو دو عذاب (ایک برائی کے انجام دینے پر اور دوسرا عذاب دوسروںکو مبتلاکرنے پر)نہیں ہوں گے بلکہ اس شخص کے لئے صرف ایک ہی عذاب ہے ، وہ اس لئے کہ اس نے (برائی نہ کرنے پر )دوسروں کے اختیار کو سلب نہیں کیا اور نہ ہی اسکا یہ ارادہ تھا_ البتہ اسکے فعل نے دوسروں کے لئے برائی انجام دینے کی راہ ہموار کی اور یہ امر دوسروں کی برائی کا مسبب نہیں_ارتکاب گناہ میں ارادہ اور نیت نیز عذاب کے استحقاق یا عدم استحقاق کے عنصر کو مد نظر رکھتے ہوئے ہماری بات اور مندرجہ ذیل معروف حدیث کے درمیان فرق واضح ہوجائے گا _ معروف حدیث یہ ہے :'' جس کسی نے ایک نیک عمل کی بنیاد رکھی اس کو اسکا اجر اور قیامت تک ہر اس شخص کے عمل کا اجر ملے گا جو اس پر عمل کرتا رہے گااورجس کسی نے ایک برے عمل کی بنیاد رکھی تو اس کو اپنے عمل کاگناہ اور قیامت تک ہر اس شخص کے عمل کاگناہ بھی ملے گا جو یہ برائی انجام دے گا''_
سب مؤمن ایک جسم کی مانند ہیں کہ جب بھی جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے خوابی و پریشانی میں مبتلارہتاہے_
پس اس بنا پر برائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے والے کو یہ نہیں کہا جاسکتاکہ تجھے کیا ؟ تجھے اس سے کوئی مطلب ؟ یا میں آزاد ہوں یا اسطرح کے جملے_ کیونکہ یہ امر بالمعروف ہی ہے جو در حقیقت آپ کی حفاظت کرتا ہے_ اور ہر کسی کی آزادی اتنی ہے کہ وہ دوسروں پر کسی قسم کی بھی زیادتی نہ کرے اور نہ ہی اس کی آزادی کو کوئی نقصان ہو _ او رانحراف تو زیادتی کی خطرناک ترین اور ناپسندیدہ ترین صورت ہے _
یہ بڑی واضح سی بات ہے کہ انحراف کے خطرے کو دور کرنے اوربرائی کے خاتمے کی خاطر مختلف مدارج اور مراحل کا خیال رکھا جانا چاہئے_ جیسے آپکا بیٹا اگرکسی برائی یا غلطی کا مرتکب ہوتا ہے تو پہلے مرحلے میں آپ اسے منع کریں گے ، پھراسے سمجھائیں گے ، پھر ڈرائیںدھمکائیں گے،پھر ماریں پیٹیں گے اور پھر خود سے دور کریں گے _ اسی طرح شدت اختیار کرتے جائیں گے_ یہ سب مراحل و مدارج شرعی ، عقلی اور فطری ہیں_ انسان کا کوئی ایک عضواگر بیماری میں مبتلا ہوجائے تو پہلا مرحلہ دوائیوں سے علاج ہے_ اگرپھر بھی ٹھیک نہ ہو تو جراحی '' operation '' کا مرحلہ آتا ہے _اور اگر اس کے باوجود مرض اتنی خطرناک صورت اختیار کرجائے اور زخم ناسور بن جائے کہ وہ عضو نہ صرف پورے جسم پر بے فائدہ بوجھ بن جائے بلکہ اس کا درد اوراس کی بیماری دوسرے اعضاء میں سرایت کرنے لگے اور انہیں صحیح طریقے سے کام نہ کرنے دے تو اس صورت میں اگر طبیب اس حصے کو علیحدہ نہیں کرے گا تو خود انسان کے تلف ہونے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا_ اس مرحلے میں بدن کے اس حصے کو کاٹنے کی نوبت بھی آسکتی ہے _ نہ کاٹنے کی صورت میں وہ طبیب اس بیمار سے خیانت کا مرتکب ہوگا_ یہی سبب ہے کہ اسلام ، عقل اور فطرت نے مسلمانوں کو ایک جسم کی طرح قرار دیاہے _ جب ایک عضو میں درد ہو تو سارا بدن درد و اضطراب میں مبتلا ہوجاتاہے_یہ بات صرف مسلمانوں ہی سے مخصوص نہیں بلکہ تمام بنی آدم کے ساتھ ایسا ہی ہے_ پس جو شخص عقیدہ و اخلاق اور آداب و کردار کے لحاظ سے منحرف ہوجائے تو ضروری ہے کہ سب سے پہلے حکمت ، پیاراور موعظہ حسنہ سے
اسکی اصلاح کی جائے پھر ڈرایا دھمکایا جائے اسکے بعد سختی اور شدت کا استعمال کیا جائے _ اگر یہ سارے ذرائع اور و سائل کامیاب نہ ہوں تو پھر اس کاآخری علاج اسے قرنطینہ کرنا ہے اور اگربیماری انتہائی خطرناک اور ناسورہو جائے تو پھر( نہ صرف اس شخص کو قرنطینہ کرنا چاہئے بلکہ) ضروری ہو جاتا ہے کہ اس بیماری کو ہی جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے_اس صورت میں عضو فاسدکو نہ کاٹنا پوری امت بلکہ نسلوں اور انسانیت کے ساتھ خیانت ہوگی_ بلکہ دینی اور عقیدتی انحراف کا خطرہ تو جسمی اور بدنی امراض سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ جسمانی امراض کا دائرہ نسبتاً محدود ہے لیکن دینی، عقیدتی، فکر ی اور اخلاقی انحراف سے جسم، مال و اموال،مقام، انسان ، اخلاقی اقدار ، انسانیتبلکہ سارا معاشرہ تباہ ہوجاتاہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں پر بھی پڑتے ہیں _ یہ اس وقت ہوتاہے جب اس منحرف شخص کو جرم اور گناہ انجام دینے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی اور وہ بڑے سے بڑا جرم و گناہ انجام دیتاچلا جاتاہے_جب اس انسان کی کسوٹی اورمعیار ،فقط اور فقط اسکے ذاتی مفادات ہوں ، تب وہ شخص کسی اور چیز کو اہمیت نہیں دیتا، اللہ کی خوشنودی کو اہم نہیں سمجھتا، امت کی اجتماعی مصلحتوں کو مدنظر نہیں رکھتا، شریعت اور دین کے احکام کو غیر اہم سمجھتا ہے اورعقل و منطق کو کوئی حیثیت نہیں دیتا_
اسی لئے جہاد در حقیقت اس انحراف کو روکنے کا ایک ذریعہ ہونے کی وجہ سے دین اور شریعت سے بڑھ کر عقل اورفطرت کے احکام میں سے ایک حکم ہے_
گزشتہ بحث کی روشنی میں ہم نہایت جرا ت کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اگر اسلا م، جہادکے لئے تلوار استعمال نہ کرتا تووہ حق اور عدل نیز فطرت اور عقل کا دین ہی نہ ہوتا_ اس طرح نہ صرف معاشرے بلکہ ابد تک کے لئے تمام انسانیت کا خائن ہوتا_ ہم جانتے ہیں کہ فکر ، عقل اور قوت مدافعت پر مبنی سیاسست ہی عدل قائم کرنے والے اور ظلم کو مٹانے والے دین ،اسلام کا اصل اصول ہے_
ارشاد باری تعالی ہے:
( و لقد ارسلنا رسلنا بالبینات و انزلنا معهم الکتاب و
المیزان لیقوم الناس بالقسط و انزلنا الحدید فیه باس شدید و منافع للناس و لیعلم الله من ینصره و رسله بالغیب ان الله قوی عزیز ) ( حدید /۲۵ )
بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجاہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا تا کہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں اور ہم نے لوہے کو بھی نازل کیا ہے جس میں شدید سختی اور لوگوں کے لئے بہت سے دوسرے فوائدبھی ہیںیہ سب اس لئے ہے کہ خدا یہ دیکھے کہ کون بغیر دیکھے اسکی اور اسکے رسول کی مدد کرتاہے اور یقیناً اللہ بڑا صاحب قوت اور صاحب عزت ہے_
اگر دین خیانت کو اپنی عادت اور اصول قرار دیتا، انسانی نسلوں کی مصلحتوں سے تجاہل برتتااور اس کے احکام میں یہ بہت بڑے نقائص ہوتے تو اس کے قوانین کی انسانوں اور انسانی سماج کو قطعاً ضرورت نہ ہوتی _ پھر تو اسکی راہ میں قربانی دینے بلکہ اس کی حفاظت کرنے اور دین کی عظمت اور سر بلندی کی خاطر کسی بھی کام کا کوئی معنی اور فائدہ نہ رہتا _ یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ کیوں جہاد کو جنت کے دروازوں میں سے ایک ایسا دروازہ قرار دیا گیا ہے جسے اللہ نے اپنے خاص اولیاء کے لئے کھول رکھاہے_ یہ تقوی کا لباس، اللہ تعالی کی مضبوط زرہ اور قابل اعتماد ڈھال ہے(۱) _
یہ سب تونظریاتی لحاظ سے ہے_ البتہ رسول اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے کے تاریخی حقائق کیا تھے جہاد کے متعلق گفتگو کے دوران اس کی طرف اشارہ کریں گے_
باء :اہل مکہ کے مقابلے میں اپنا دفاع کرنا ہرمسلمان کا حق تھا کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کو ان کے دین سے ہٹانے کے لئے سازشیں کیں اور اللہ کے راستے میں رکاوٹیں ڈالیں_ اس لئے ان سب کا حق بنتا تھا کہ وہ عقیدہ ، بیان ، فکر اور دعوت الی اللہ کی آزادی کے حصول کے لئے اہل مکہ کے خلاف جنگ کرتے یہ جنگ خصوصاً اس وقت ضروری ہوجاتی ہے جب دشمن تشدد کے استعمال پر اصرار کرے اور اس کے نیز اس
____________________
۱)ملاحظہ ہو: نہج البلاغہ شرح محمد عبدہ خطبہ جہاد ج ۱ ص ۶۳_
کے عقائد کے سامنے منطق اور دلیل کی کوئی حقیقت نہ ہو _ پس اسلام یہ نہیں چاہتا کہ کوئی جبراً اس کو قبول کرے_اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ سب کو عقیدے، فکر ، اور موقف میں آزادی حاصل ہو _ اس لئے اسلام نے جو علاقے فتح کئے وہاں کے لوگوں کو بعض معاملات میں اختیار دیا_ ان میں سے ایک '' قبول اسلام''بھی تھا_ جو کوئی اسلام قبول کرتا وہ پوری رغبت وشوق ، آزادی اور ارادے کے ساتھ نیزمسلمانوں کی طرف سے کسی رسمی سے دباؤ کے بھی بغیر قبول کرتا_ بہت سارے علاقوں میں تو اسلامی فتح کا انتظار بھی نہ کیا گیا_ فقط اسلام کی اطلاع پر ہی لوگ اسلام کے سامنے جھک گئے_
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلا م اور مسلمان اپنے خلاف ہر طرح کی سختی،زیادتی اور مسلسل ظلم کے سامنے ہاتھ باندھے رکھیں کہ ظالم ان کا خون چوستے رہیں _ یاان لوگوں کے ہر دباؤ اور فیصلوں کے سامنے جھک جائیں جو ہر حال میں انکے خلاف ہیں_نیز اس آزادی کا یہ مطلب بھی نہیںکہ مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کے مقابلے میںایسی تیاری بھی بالکل نہیں کرنی چاہئے کہ جس سے وہ اللہ اور اپنے دشمن کو خوف زدہ کرسکیں_ جس اسلام کی طرف مسلمان دعوت دیتے ہیں اور آزادی فکر و نظرسے اسے قبول کرنے کے خواہاں ہیں وہ فقط ایک انفرادی مذہبی اعمال یا تزکیہ نفس جیسے اعمال ہی کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ اسلام ایک ایساعمومی نظام حیات ہے جو عالمی سطح پر یکسر تبدیلیوں کی قیادت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہے _ اور ایک ایسا نظام ہے جس میں سب انسانوں کے حقوق محفوظ ہوں_ یہی وہ بات ہے جس نے اسلام کی وسیع سطح پر حمایت کو یقینی بنایاہے_ کیونکہ اسلام کو ان جابر و ظالم اور لالچی افراد سے ٹکر لینی ہے جو اپنی نفسانی خواہشات اور رجحانات کے مطابق لوگوں پر حکومت کرنا چاہتے ہیں _ہاں جب رائے، فکر اور عقیدہ کی آزادی کا حصول صرف طاقت کے استعمال سے ہی ممکن ہو تو پھر سختی اور شدت استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ معاشرے میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے لئے ایک مناسب فضا مہیا کی جائے نیز حقیقی اسلام، ان حکمرانوں کے اسلام میں تبدیل نہ ہوجائے جو اسلام کو اپنی خواہشات اور مفادات کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں_ جیسا کہ بعض فرقوں اور مذاہب کے ساتھ ایسا ہی ہوا اور وہ اس شدید بیماری میں مبتلا ہوگئے ،نیز اسلامی
قانون سازی کا محور کوئی بڑی اور سرکردہ شخصیت بھی نہ بننے پائے ورنہ اسلام ایک مردے کی فکر ہوگی جوصرف اور صرف عجائب گھر میں رکھنے کے قابل ہوگی جس کا تعلق معاشرتی زندگی سے قطعاً نہیں ہوگا(۱)
اگر رائے ، فکر اور عقیدہ کی آزادی ہو تو یہ بات دوسروںکے حوصلے کا سبب بنے گی کہ وہ لوگ بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوکرتکلیفوں ، اذیتوں ، مختلف قسم کے دباؤ اور اس فتنہ کی آگ سے بھی محفوظ رہیں جو اسلام کی نظر میں قتل سے زیادہ خطرناک ہے _ پس مسلما ن جب جنگ کرتے ہیں تو وہ اپنے ان حقوق کے دفاع کے لئے جنگ لڑتے ہیں جو اللہ نے ان کے لئے قرار دیئےیں_ اس سلسلے میں رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی احادیث بھی ہیں جن کا ذکر بعد میں آئے گا_نیز قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے_
( اذن للذین یقاتلون بانهم ظلموا و ان الله علی نصرهم لقدیر الذین اخرجو من دیارهم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا الله ) (الحج ۳۹ ، ۴۰)
جن لوگوں سے مسلسل جنگ کی جارہی ہے انہیں ان کی مظلومیت کی بنا پر(جنگ کی) اجازت دی گئی ہے اور یقینا اللہ ان کی مدد پر قدرت رکھنے والا ہے_ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے نا حق نکال دیئے گئے ہیںان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں اللہ ہمارا پروردگار ہے_
پس مسلمانوں کو جنگ کی اجازت اس صورت میں ملی کہ دوسروں نے ان پر جنگ مسلط کردی تھی اور انہیں اپنے گھروں سے بھی نکال باہر کیاتھا لیکن اگر ایسی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے جن میں غزوات کا ذکر ہے تو قاری کے ذہن میں یہ تصور ابھرتاہے کہ اسلام تو قتل و نابودی کا مذہب ہے_ آپ واقدی کی '' فتوح الشام'' کی طرف رجوع کرکے دیکھیں _یہ سب کچھ غالباً اس لئے ہے کہ اس میں بنی امیہ کی شان و شوکت اور اقتدار و غلبے کا ذکر ہے_ بعض محققین نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے(۱) _
____________________
۱) مصنف کا اشارہ شاید کیمونزم کی جانب ہے جس کے متعلق خمینی بت شکن نے گورباچف کے نام اپنے خط میں پیشین گوئی کردی تھی کہ (دوسرے باطل عقائدو مذاہب کی طرح) یہ بھی تاریخ کے میوزیم میں منتقل ہوجائے گا _ اور ہوا بھی یہی اب صرف چند مردہ پرست ہی اس دنیا میں رہ گئے ہیں جو اسے زندہ رکھنے کی نام کوششوں میں مصروف ہیں _ مترجم
۲)آیت الل ہ سید مہدی الحسینی الروحانی_
جیم: گزشتہ گفتگو کی روشنی میںیہ بات قابل ذکر ہے کہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم اور مسلمانوںکی سیرت اور عادت یہ تھی کہ وہ دشمنوں کے سامنے نہایت منصفانہ انتخاب رکھتے تھے_ حتی کہ ان پیشکشوں کے بعد بعض مشرکین یہ اقرار کرتے تھے کہ اس پیشکش کے بعد اب جنگ پر اصرار ظلم و زیادتی کے علاوہ اور کچھ نہیں لیکن سریہ ابن حجش میں ابن حضرمی کے قتل کے بعد باقی مشرکوں نے ان پیشکشوں کو ٹھکرانا شروع کردیا تھا کیونکہ وہ مسلمانوں سے جنگ کا پختہ ارادہ کرچکے تھے(۱) _
حالانکہ وہ ابن حضرمی کے قتل کا بدلہ دو طرح سے لے سکتے تھے_ایک یہ کہ محدود پیمانے پر اس کا بدلہ لیا جاتا دوسرا یہ کہ دیت قبول کرلی جاتی حالانکہ یہ دونوں عمل عربوں کے رسم و رواج کا حصہ تھے اور ان کی اخلاقیات کے لحاظ سے بعید بھی نہیں تھے _
دال: معاہدے توڑنے والوںکے خلاف قیام کرنااور انہیں اپنی حدود میں رکھنا کیونکہ یہودی معاہدے توڑتے تھے اور پھر کفار و مشرکین مکہ بھی وہ لوگ تھے جو صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ چکے تھے_
ہائ: جنگ کے شعلے بھڑ کانے والوں اورزیادتی کرنے والوں کے مقابلے میں اپنا دفاع _ جن لوگوں نے مدینہ پر لشکر کشی کی اور لوٹ مار مچائی ان کا پیچھا _
بہر حال ہم دیکھتے ہیں کہ مشرکین مکہ نے مسلمانوں کے خلاف مسلسل معرکہ آرائی جاری رکھی جبکہ مسلمان صلح حدیبیہ تک ہمیشہ اپنا دفاع کرتے رہے_ حتی کہ بخاری لکھتے ہیں کہ نبی کریم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے غزوہ بنی قریظہ سے پلٹنے کے بعد فرمایا: '' اب ہم ان کے خلاف جنگ کر سکتے ہیں لیکن وہ ہمارے خلاف جنگ نہیں کرسکتے '' _اس کا ذکر انشاء اللہ آئے گا _
کیا اسلام تلوار سے پھیلا؟
گذشتہ مطالب کی روشنی میں ہمارے لئے واضح ہوجاتاہے : کہ'' اسلام علی عليهالسلام کی تلوار سے پھیلا '' کے
____________________
۱)تاریخ طبری ج/۲ ص ۱۳۱ کامل ابن اثیر ج/ ۲ ص ۱۱۶_
مقولے کا مطلب ہر گزیہ نہیں ہے کہ حضرت عليهالسلام نے لوگوںکے سر پر تلوار رکھ کر فرمایا ہو کہ اسلام لے آؤ یا قتل کے لئے تیار ہوجاؤ_ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت علی عليهالسلام کی تلوار فقط اور فقط اسلام کے دفاع کے لئے اٹھی_ اس تلوار نے دشمنوںکی زیادتیوںکو روکا اور آزادی رائے ، فکر اور عقیدہ کی حفاظت کی اور اسلام کے دفاع میں اپنا گہرا اثر چھوڑا_
اور چونکہ اسلامی جنگوں کا مقصد انسان کی حفاظت ، اس کی شخصیت کاتحفظ اور آزادی فکر و عقیدہ و رائے کے لئے فضا ہموارکرنا تھا ،اس لئے ان وجوہات کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جنگیں ممکنہ طور پر اتنی مختصر تھیں جن سے فقط مقصد حاصل ہوجائے_یہی وجہ ہے کہ انتہائی ضبط نفس اور تقوی کا خیال رکھا جاتا تھا_ یہاں تک کہ خطرناک ترین حالات اور لحظوں میںبھی ان چیزوں کا لحاظ کیا جاتا تھا_ اسی لئے پیامبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کی دس سالہ مدنی زندگی کے مختصر عرصے میں غزوات اور سریوں پر مشتمل دسیوں جنگوں میں مؤرخین کے بقول آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی تلوار سے مقتولین کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز نہیںکرتی(۱) حالانکہ ان جنگوں سے مشرکین کا مقصد پورے جزیرة العرب میں اسلامی حکومت کے نفوذ و قدرت کے زیادہ ہونے نیزاسکی حدود کو اس سے کہیں زیادہ پھیلنے سے روکنا تھا بلکہ سرے سے اسلام کا ہی قلع قمع کرنا تھا_
ہم نے عجلت میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے ورنہ جہاد کا موضوع تو بہت زیادہ طول و تفصیل کا طالب ہے_ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ قرآن حکیم کی آیات ،پیامبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم اور آئمہ ہدی عليهالسلام کی احادیث ، انکے جہادی موقف اور کوششوں پر گہری نظر ڈالی جائے_
____________________
۱)ملاحظہ ہو سید ھادی خسرو شاہی کا مضمون '' سیمای اسلام'' _
چھٹی فصل:
جنگ بدر سے پہلے کی لڑائیاں
رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے غزوات اور سرایا:
''غزوہ'' سے مراد ایسی جنگ ہے جس میں خود حضور سرور کائنات صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بنفس نفیس شرکت فرمائی ہو اور ''سریہ' ' ایسی جنگ ہے جس میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے براہ راست شرکت نہ فرمائی ہو_
ان جنگوں کی تعداد میں مورخین کے ہاں خاصا اختلاف پایا جاتاہے _ہمارے خیال میں اس مطلب کی تحقیق میں کلام کو طول دینے کی ضرورت نہیں_ ہم صرف ان اہم جنگوں کا ذکر کریں گے جن کا کوئی عمومی فائدہ تھا_ البتہ اس سے قبل دو نکات کا بیان ضروری محسوس ہوتا ہے _
ایک : معرکہ سے فرار
علماء نے یہاں بیان کیا ہے کہ ابتدائے امر میں ایک مسلمان کا دس مشرکین کے مقابلہ سے فرار کرنا جائز نہیں تھا(۱) ( یعنی ایک مسلمان پر بیک وقت دس مشرکوں کا مقابلہ واجب تھا ) پھر اللہ تعالی کی جانب سے مسلمانوں پر تخفیف اور رعایت کا حکم آیا کہ اب ایک مسلمان دو کا مقابلہ کرسکتاہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
( یا ایها النبی حرض المومنین علی القتال ان یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا مئتین و ان یکن منکم مئة یغلبوا الفاً من الذین کفروا بانهم قوم لا یفقهون
____________________
۱) الجامع لاحکام القرآن ج ۸ ص ۴۴ ، جامع البیان ج ۱۰ ص ۲۷ و تفسیر المنارج ۱۰ ص ۷۷_
الان خفف الله عنکم و علم ان فیکم ضعفاً فان یکن منکم مئة صابرة یغلبوا مئتین و ان یکن منکم الف یغلبوا الفین باذن الله و الله مع الصابرین ) (انفال ۶۵ ، ۶۶)
اے پیامبر آ پ صلىاللهعليهوآلهوسلم لوگوں کو جہاد پر آمادہ کریں_ اگر ان میں بیس افراد بھی صبر کرنے والے ہوں گے تووہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سوہوں گے تو ہزار کافروں پر غالب آئیں گے_ اس لئے کہ کفار سمجھ بوجھ نہیں رکھتے البتہ اب اللہ نے تمہارا بار ہلکاکر دیاہے کیونکہ اس نے دیکھ لیا ہے کہ اب تم لوگوں میں کمزوری پائی جاتی ہے تو اب تم میں اگر سو افراد بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آجائیں گے اور اگر ہزار ہوں گے تو بحکم خدا دو ہزار پر غالب آئیں گے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے_
اس بات کی مزید تفصیل جنگ بدر کے باب کی آخری فصل ''جنگ کے نتائج '' میں ذکر ہوگی _
دو: سرایا کے لئے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کی وصیت :
دوسری قابل ملاحظہ بات یہ ہے کہ حضور سرور دو عالم صلىاللهعليهوآلهوسلم جب کسی سریہ کے لئے مسلمانوں کو بھیجنے کا ارادہ فرماتے تو مسلمانوں کو بلاتے_ اپنے سامنے بٹھاتے اور فرماتے:
(سیروا باسم الله ، و بالله و فی سبیل الله و علی ملة رسول الله و لا تغلوا و لا تمثلوا و لا تعذرو و لا تقتلوا شیخاً فانیاً و لاصبیاً و لا امراة و لا تقطعوا شجراً الاّ ان تضطروا الیها ؟ و ایما رجل من ادنی المسلمین او افضلهم نظر الی رجل من المشرکین فهو جار حتی یسمع کلام الله فان تبعکم فاخوکم فی الدین و ان ابی فابلغوه مأمنه و
____________________
۱)تاریخ الخمیس ج/۱ ص ۳۵۶ ، السیرة الحلبیہ ج/۳ ص ۱۵۲_
استعینوا بالله علیه . ..)
اللہ کے نام اور اللہ ( کی لا یزال قوت )کے ساتھ اور اللہ کی راہ میں اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے دین پر ہوکے سفر کرو اور دور تک تیر نہ پھینکو اورنہ ہی کسی کا ناک یا کان کاٹو(۱) ، کسی کے ساتھ بدعہدی اور خیانت نہ کرنا ، کسی نہایت بوڑھے کو قتل نہ کرنا اور نہ ہی کسی بچے یا خاتون کو قتل کرنا ، کسی درخت کو نہ کاٹنا مگر یہ کہ کوئی مجبوری پیش آجائے، تم میں سے جس چھوٹے یا بڑے مسلمان نے کسی بھی مشرک پر نظر کرم کی تو وہ ا سے پناہ دینے والا ہے یہاں تک کہ وہ کلام الہی کو سنے پس اگر اس نے اطاعت کی تووہ تمہارا دینی بھائی ہے اور اگر اس نے انکار کیا تو اسے اس کی پناہ گاہ تک چھوڑ آؤ اور اس پر کامیابی کے لئے اللہ سے مدد طلب کرو(۲) یہ وصیت طولانی ہے اسی طرح آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی دیگر وصیتیں بھی ہیں جن کے مطالعہ کے لئے ان کے منابع کی طرف رجوع فرمائیں(۳) _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے دشمن پر کبھی بھی شب خون نہیں مارا(۴) بلکہ جب کبھی بھی کسی لشکر کو کہیں بھیجتے تو دن چڑھے بھیجتے تھے(۵) _
اس کتاب میں ہمارا مطمح نظر:
ہم اپنی اس کتاب میں تمام غزوات اور سرایا کے متعلق مکمل تفصیلی گفتگو نہیں کرسکتے اس لئے ہم ان جنگوں کے ذکر پر اکتفا کریں گے جن میں لڑائی ہوئی ہے البتہ دوسرے غزوات اور سرایا کی طرف تھوڑا سا اشارہ بھی کریں گے _ مگر ان میں کوئی ایسا نیا نکتہ پایاجائے جس پر روشنی ڈالنے کے لئے ان کا ذکر ناگزیر ہوجائے تو ان کا بھی تفصیلی ذکر آئے گا _ البتہ اس فصل میں مندرجہ ذیل سرایا کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
____________________
۱)روایت میں لفظ مثلہ کرنا آیا ہے جس کا مطلب ٹکڑے ٹکڑے کرنا یا دوسرے لفظوں میں ناک کان کاٹنا ہے_
۲)الکافی ج/۱ص ۳۳۴ ، ۳۳۵ ، البحار ج/۱۹ ص ۱۷۷ ، ۱۷۹ نیز ملاحظہ ہو سند احمد ج ۱ ص ۳۰۰ و غیرہ ، التہذیب شیخ طوسی ج ۶ ص ۱۳۸ و ص ۱۳۹ و الاموال ص ۳۵_ (۳)النظم الاسلامیہ صبحی صالح ص ۵۱۴_
۴) التہذیب شیخ طوسی ج ۶ ص ۱۷۴ ، الکافی ج ۱ ص ۳۳۴و ص ۳۳۵ و بحار الانوار ج ۱۹ص ۱۷۷ تا ص ۱۷۹ _
۵) التراتیب الاداریہ ج ۲ ص ۲۲و الجامع الصحیح ج ۳ ص ۵۱۷_
ابتدائی جنگیں :
مؤرخین کہتے ہیں کہ :
۱_ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ تشریف آوری کے سات ماہ بعد ( البتہ دیگر اقوال بھی ہیں ) ابوجہل کا پیچھا کرنے کے لئے جناب حمزہ بن عبدالمطلب کو تیس مہاجرین کا سردار بنا کر بھیجا ( یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس دستے میں انصار کے کچھ افراد بھی شامل تھے لیکن یہ بات ناقابل وثوق ہے کیونکہ جنگ بدر سے پہلے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے کسی بھی انصاری کو کسی جنگی مشن پر نہیں بھیجا تھا)(۱) انہوں نے ابوجہل کو تین سو مشرکوں میں گھرے ہوئے جالیا _ لیکن وہاں فریقین کے ثالث مجدی بن عمرو جہنی ان کے اس مشن کے آڑے آگیا اور وہ جنگ کئے بغیر واپس لوٹ آئے _
۲_ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ تشریف آوری کے بعد ٹھیک آٹھویں مہینے کی ابتداء میں دوسو افراد میں گھرے ابوسفیان کو '' رابع'' کے میدان میں جا پکڑنے کے لئے عبیدہ بن حارث بن مطلب کی سرکردگی میں ساٹھ افراد کا ایک لشکر بھیجا _ اس سریہ میں مقداد اور عتبہ بن غزو ان ابوسفیان کے دستے سے بھاگ کر مسلمانوں کے ساتھ مل گئے(۲) _
۳_ اس کے بعد مہاجرین کے ایک گروہ کی سرکردگی میں سعد بن ابی وقاص کا سریہ بھی ہے جو قریش کے ایک قافلے کا مقابلہ کرنے نکلا تھا لیکن وہ قافلہ ان کی پہنچ سے باہر جا چکا تھا _ البتہ ایک قول کے مطابق یہ واقعہ جنگ بدر کے بعد پیش آیا(۳) _
۴_ اس واقعہ کے بعد یعنی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت کے کم و بیش ایک سال بعد غزوہ ابواء کا واقعہ پیش آیا _ اس غزوہ میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم بنفس نفیس قریش اور قبیلہ بنی مرّہ بن بکر سے جنگ کرنے نکلے لیکن '' ابوائ'' کے مقام پر قبیلہ بنی مرّہ کے سردار سے مڈبھیڑ ہوگئی جہاں انہوں نے آپس میں صلح کرلی اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم واپس مدینہ پلٹ آئے(۴) _
____________________
۱) تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۵۶، سیرہ حلبیہ ج ۳ ص ۱۵۲، السیرة النبویہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۴۵_
۲) السیرة النبویہ دحلان ( مطبوعہ بر حاشیہ سیرہ حلبیہ ) ج ۱ ص ۳۶۰و ۳۵۹ _ نیز ملاحظہ ہو تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۵۹_
۳) تاریخ الخمیس ج ۱ ۳۵۹_ (۴) تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۶۳، السیرة النبویة ابن ہشام ج ۲ ص ۲۴۱ ، السیرة النبویہ دحلان ( مطبوعہ بر حاشیہ سیرہ حلبیہ ) ج ۱ ص ۳۶۱_
۵_ اس کے بعد غزوہ '' بواط'' کا واقعہ پیش آیا ( بواط مدینہ کے قریب جہینہ قبیلہ سے متعلق ایک پہاڑی تھی ) اس غزوہ میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم دوسو مہاجرین کو لے کر قبیلہ بنی ضمرہ کے قافلے کا سامنا کرنے نکلے لیکن بواط تک پیچھا کرنے کے بعد پھر واپس پلٹ آئے اور کوئی لڑائی نہیں کی(۱) البتہ اس غزوہ میں مہاجرین کی تعداد کے متعلق اپنا اعتراض ہم محفوظ رکھتے ہیں _
۶_ مذکورہ غزوہ کے چند دن بعد '' غزوة العشیرہ '' کا واقعہ پیش آیا _ اس میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم قبیلہ بنی مدلج اور اس کے حلیف بنی ضمرہ سے صلح کر کے واپس مدینہ پلٹ آئے _ اس غزوہ میں بھی کوئی لڑائی نہیں ہوئی _ البتہ اس غزوہ میں حضرت علی علیہ السلام کو '' ابوتراب '' کا لقب ملا جس کے متعلق ہم بعد میں گفتگو کریں گے(۲) _
۷_ نخلہ کی وادی میں عبداللہ بن حجش کا سریہ :
اس کے بعد ہجرت کے دوسرے سال رجب یا جمادی الثانی کے مہینے میں عبداللہ بن حجش کی جنگ کا واقعہ رونما ہوا _ جس میں آٹھ یا بارہ مہاجرین نے حصہ لیا تھا _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے عبداللہ بن حجش کو ایک خط دے کر روانہ کیا اور فرمایا کہ اس خط کو دو دن کے بعد کھول کردیکھنا ( یہ حکم غالباً اس لئے تھا کہ کوئی اسلام دشمن یہودی اور مشرک اس خط کے مضمون سے مطلع نہ ہونے پائے جس سے یہ بات تمام دشمنوں میں پھیل سکتی تھی ) _ دو دن چلنے کے بعد جب اس نے خط کھول کردیکھا تو اس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد لکھا تھا :
'' امّا بعد خدا کی برکت سے اپنے ساتھیوں سمیت نخلہ کی وادی میں جا کر قریش کے ایک قافلے پر گھات لگاؤ ( ایک روایت میں آیا ہے کہ قریشیوں کے خلاف گھات لگاؤ) یہاں تک کہ ہمارے پاس کوئی اچھی خبر لے کر آو'' _
عبداللہ بن حجش نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے حکم دیا ہے کہ اپنے کسی ساتھی پر بھی زبردستی نہیں کرو بلکہ انہیں اس بات کا اختیار دو کہ وہ تمہارے ساتھ جائیں یا پھر واپس پلٹ آئیں _ لیکن اس کے تمام ساتھی اس کے ساتھ ہولئے _ پھر یہ دستہ وادی نخلہ میں ٹھہرا تو وہاں سے قریش کے ایک قافلے کا
____________________
۱) ملاحظہ ہو : تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۶۳، السیر النبویہ دحلان ج ۱ ص ۳۶۱، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۲۶و السیرة النبویہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۴۹_
۲)ملاحظہ ہو : تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۶۳، السیرة النبویہ دحلان ج ۱ ص ۳۶۱ ، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۲۶، السیرة النبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۲۴۹_
گذر ہوا جس پر انہوں نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس فاقلے پرہلہ بول دیا ، ان کے ایک آدمی کو قتل اور دو کو قید کر کے ان کا تمام مال و اسباب لوٹ لیا _ یہ واقعہ اختلاف اقوال کی بناپر رجب کی پہلی تاریخ کو یا اس سے ایک دن پہلے پیش آیا _ پھر جب وہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے پاس آئے تو انہوں نے وہ قافلہ مع مال و اسباب اور دو قیدی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضور پیش کردیئےیکن آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے ایک دھیلا بھی لینے سے انکار کردیا ( لیکن ابو ہلال عسکری کہتا ہے کہ عبداللہ بن حجش نے اس مال کو پانچ حصوں میں تقسیم کر کے پانچواں حصہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے حضور پیش کردیا اور باقی کو اپنے ساتھیوں کے درمیان تقسیم کردیا _ اور اس کا یہ خمس اسلام کا پہلا خمس تھا)(۱) _ البتہ دوسرے مسلمان بھائیوں نے ان کو سخت سرزنش کی _ اس واقعہ کی وجہ سے قریشیوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ (حضرت) محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حرام مہینے کی حرمت کو پایمال کیا ہے _ اس مہینے میں ان لوگوں نے خون بہایا، مال لوٹا اور کئی آدمیوں کو قیدی بنایا ہے _ اس وجہ سے انہوں نے مسلمانوں کو بہت برا بھلا بھی کہا اور اس بارے میں کئی خطوط بھی لکھے _ اس کے ساتھ ساتھ اس معاملہ کو مزید ہوا دینے کے لئے یہودیوں کو بھی بھڑ کانا شروع کردیا_ جب ان کی سرگرمیاں حد سے زیادہ بڑھ گئیں تو مہاجرین کے اس کام کی دلیل اور توجیہ بیان کرنے کے لئے یہ آیتیں نازل ہوئیں:
( یسالونک عن الشهر الحرام قتال فیه قل قتال فیه کبیر و صد عن سبیل الله و کفر به و المسجد الحرام و اخراج اهله منه اکبر عندالله و الفتنة اکبر من القتل ) (۲)
اے پیغمبر وہ لوگ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے (طنز یہ طور پر ) محترم مہینے میں جنگ کے متعلق پوچھتے ہیں تو
____________________
۱) الاوائل ، ج ۱ ، ص۱۷۶ ، سیرہ حلبیہ، ج ۳ ، ص ۱۵۷ ، الاستیعاب زندگی عبداللہ بن جحش، نیز ملاحظہ ہو : السیرة النبویة ابن ہشام ، ج ۳، ص ۲۵۲ و ۲۵۳_ المغازی واقدی ، ج ۱ ، ص ۱۳ ، طبقات الکبری ، ج ۲ ، ص ۱۰ ، مطبوعہ۱۴۰۵ ھ _ تاریخ الامم و الملوک ، ج ۲ ، ص ۴۱۰تا ۴۱۳ ، السنن الکبری ، ج ۹ ، ص ۱۲ ، دلائل النبوة بیہقی ، ج ۲ ، ص ۳۰۷و ۳۰۸ ، تاریخ الاسلام ذہبی (مغازی ) ص ۲۹ ، اسباب النزول ص ۳۶ ، بحارالانوار ، ج ۲۰ ، ص ۱۸۹و ۱۹۰، رجال مامقانی ، ج ۲ ، ص ۱۷۳، قصص الانبیاء راوندی ، ص ۳۳۹_ السیرة النبویہ ابن کثیر ، ج ۲ ص۳۶۶، الکامل فی التاریخ ، ج ۲ ، ص ۱۱۳، تاریخ الخمیس ، ج ۱ ، ص ۳۶۵ _ تاریخ یعقوبی ، ج ۲ ، ص ۶۹_ الدرالمنثور سیوطی ، ج ۱ ص ۲۵۱_ مجمع الزوائد ، ج ۲ ، ص ۱۹۸_ السیرة النبویہ دحلان (مطبوعہ بر حاشیہ سیرہ حلبیہ) ، ج ۱ ، ص ۳۶۲ و دیگر کتب_
۲) بقرہ / ۲۱۷_
آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم انہیں کہہ دیجیے کہ اس مہینے میں جنگ کرنا بہت بڑا گناہ اور خدا کے راستے سے روکنے اور خدا اور مسجد الحرام کے انکار کے مترادف ہے لیکن مسجد الحرام میں رہنے والوں کو اپنے گھروں سے نکال با ہر کرنا خدا کے نزدیک اس سے بھی بڑا جرم ہے نیز فتنہ اور سازش بھی قتل سے بہت بڑا جرم ہے_
ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت اس وقت اتری جب مشرکین مکہ نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آکر بطور طنز اور تنقید حرام مہینے میں جنگ کی کیفیت کے متعلق سوال کیا تو اس آیت کے ذریعہ سے خدانے مسلمانوں کی مشکل آسان کردی اور قریشیوں کو اپنے قیدیوں کا فدیہ دے کر انہیں چھڑواناپڑا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا(۱)
۸_ غزوة العشیرہ کے چند دن بعد غزوہ بدر اولی کا واقعہ پیش آیا _ جب کرز بن جابر فہری ،مدینہ کے چوپائے غارت کر کے اپنے ساتھ لے گیا تو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم خود اس کا پیچھا کرنے کے لئے نکلے لیکن جب بدر کی جانب سفوان کی وادی تک پہنچے تو وہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی دسترس سے باہر نکل چکاتھا، جس کی وجہ سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم دوبارہ مدینہ پلٹ آئے(۲)
یہاں ہم کچھ اہم امور پر بحث ضروری تصور کرتے ہیں ان کاتعلق گزشتہ ابحاث سے ہے اور وہ مندرجہ ذیل ہیں_
۱ _ حضرت علی عليهالسلام کی کنیت ابوتراب قرار دینا:
غزوة العشیرہ میں نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم نے امیر المومنین علی عليهالسلام کی کنیت ابوتراب رکھی_ یہ کنیت حضرت عليهالسلام کو بہت زیادہ پسند تھی لیکن بنوامیہ اس کنیت کی وجہ سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے_
____________________
۱) ملاحظہ ہو : تاریخ الخمیس ، ج ۱ ص ۳۶۶ ، السیرة النبویہ دحلان (مطبوعہ بر حاشیہ سیرہ حلبیہ ) ، ج ۱ ، ص ۳۶۳ و السیرة النبویہ ابن ہشام ، ج ۲ ، ص ۲۵۴و ۲۵۵_
۲)سیرہ حلبیہ ، ج ۲ ، ص ۱۲۸، السیرة النبویہ ابن ہشام ، ج ۲ ، ص ۲۵۱_
جناب عمار بن یاسر کی روایت کے مطابق معاملہ اختصار کے ساتھ کچھ یوں ہے کہ جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم اصحاب کے ہمراہ غزوة العشیرہ کے مقام پر پہنچے تو حضرت عمار اور حضرت علی عليهالسلام قبیلہ بنی مدلج کے حالات جانچنے گئے وہاں انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگ اپنے لئے کنواں کھود رہے تھے اور کھجور کے درختوں پر کام کررہے تھے_ دیکھتے ہی دیکھتے ان دونوں پر نیند طاری ہونے لگی تووہ چل کر کھجور کے درخت کے سائے تلے پہلو کے بل مٹی کے اوپر لیٹ گئے_ حضرت عمار کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ابھی ہم سونے کی تیاری کر ہی رہے تھے کہ ہمیں اٹھانے کے لئے رسول اللہ بنفس نفیس تشریف لائے اور پاؤں سے ہمیں جھنجھوڑا_ ہم لوگ جس مٹی پر سوگئے تھے اس سے اٹے ہوئے تھے_ اس روز رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی عليهالسلام کے بدن پر مٹی دیکھ کر ان کو ''ابوتراب'' کہہ کر آواز دی اور فرمایا :'' اے ابوتراب کیا بات ہے ؟''(۱) _ ''مؤاخات'' کے متعلق گفتگومیں بھی ابوتراب کی کنیت کاتذکرہ گزرچکاہے_ عبدالباقی العمری نے ان اشعار میں نہایت احسن انداز سے اس معنی کو بیان کیا ہے_
یا ابا الاوصیاء انت لطه---- صهره و ابن عمه و اخوه
ان لله فی معانیک سراً ---- اکثر العالمین ما علموه
انت ثانی الآباء فی منتهی---- الدور و آباؤه تعد بنوه
اے ابوالاوصیائ( حضرت علی عليهالسلام )آپ عليهالسلام آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے داماد چچازاد اور بھائی ہیں_ اللہ کے ہاں آپ عليهالسلام کے (اسماء القاب اور صفات کے ) معانی میں کئی رازپوشیدہ ہیں جنہیں اہل جہاں نہیں جانتے _ آپ عليهالسلام اس آخری دور میں دوسرے ابوالبشر ہیں جن کے آباء بھی ان کے بیٹے کہلاتے ہیں_
____________________
۱)البدایہ والنہایہ ج/۳ ص ۲۴۷، الآحاد والمثانی مخطوط کتابخانہ کوپر لی شمارہ ۲۳۵، صحیح ابن حبان مخطوط ، البحار ج/ ۱۹ ص ۱۸۸ ، مسند احمد ج/۴ ص ۲۶۳ و ۲۶۴، تاریخ طبری ج/۲ص ۱۲۳،۱۲۴،لکامل ابن اثیر ج/۲ص۱۲ ط صادر، سیرة ابن ہشام ج/۲ ص ۲۴۹،۲۵۰، مستدرک الحاکم ج/۳ ص ۱۴۰ ، کنز العمال ج/ ۱۵ ص ۱۲۳،۱۲۴ازالمصنف ، البغوی،الطبرانی در الکبیر ،ابن مردویہ ، ابو نعیم در معرفة الصحابة ،ابن النجار ابن عساکر ودیگرا فراد، شواھد التنزیل ج/۲ ص ۳۴۲ ، مجمع الزوائد ج/۹ ص ۱۰۰، ۱۳۶از طبرانی در الاوسط و الکبیر ، البزارو احمد اوراس روایت کی بعض اسناد کی اس نے توثیق کی ہے _ تاریخ الخمیس ج/۱ ص ۳۶۴ ، تاریخ ابن عساکرامام علی عليهالسلام کے حالات زندگی ج/۳ ص۸۶محمودی کی تحقیق سے، انساب الاشراف ج/۲ ص ۹۰، السیرة الحلبیہ ج/ ۲ ص ۱۲۶ ، طبقات ابن سعد، السیرة النبویہ ابن کثیر ج/۲ص۳۶۳،کتاب الفضائل احمد بن حنبل ج۲۹۵ ، الغدیر ج/۶ص۳۳۴،عیون الاثر ابن سید الناس ج/۱ص۲۲۶، الامتاع مقریزی ص۵۵ و دلائل النبوہ بیہقی ، ج ۲ ، ص ۳۰۳ اور دیگر حوالہ جات بھی ہیں _بہرحال غزوة العشیرة کے حالات اگرکوئی تاریخ اور حدیث کی کتابوں میں ملاحظہ کرے تواس مطلب کو پائے گا_
دغابازی اور جھوٹ:
لیکن مذکورہ باتوں کے با وجود بھی بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب حضرت علی عليهالسلام کی بی بی فاطمہ عليهالسلام سے شکر رنجی ہوئی تو آپ عليهالسلام نے غصے میں آکر اپنے سر پر مٹی ڈال دی _ پھر جب نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ منظر دیکھا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی عليهالسلام کو اس خطاب سے نوازا(۱) بعض یہ بھی کہتے ہیںکہ جب حضرت علی عليهالسلام جناب فاطمہ عليهالسلام پر ناراض ہوگئے تو مسجد کی طرف چلے گئے اور مٹی پر سوگئے جب نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کو پتہ چلا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت علی عليهالسلام کی تلاش میں نکلے ، جب آپ عليهالسلام کو دیکھا تو اس خطاب سے مخاطب فرمایا(۲) اس طرح وہ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت علی عليهالسلام جناب فاطمہ پر سخت گیری کیا کرتے تھے تو جناب فاطمہ عليهالسلام نے کہا: '' خدا کی قسم میں رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے پاس جا کر ان سے تمہاری شکایت کرتی ہوں'' _ یہ بات کہہ کر وہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی طرف چل پڑیں جبکہ حضرت علی عليهالسلام بھی ان کے پیچھے پیچھے چل پڑے _ وہاں انہوں نے رسول عليهالسلام خدا سے شکایت کی تو حضرت علی عليهالسلام آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر سخت غصہ ہوئے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو برابھلا کہا ، جس پر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی دختر سے فرمایا:'' بیٹی میری یہ بات خوب کان کھول کر سنو اور اسے ذہن نشین کرلو، وہ عورت کبھی راج نہیں کر سکتی جو شوہر کے چپ ہورہنے کی صورت میں اس کی مرضی کے مطابق نہیں چلتی '' _ اس کے بعد حضرت علی عليهالسلام جو پہلے چپ کھڑے تھے بولے: ''اب میں اسے کچھ نہیں کہوں گا '' _ اس پر حضرت فاطمہ عليهالسلام نے فرمایا کہ اب میں بھی ہرگز ایسا کام نہیں کروں گی جو اسے ناپسند ہوگا(۳) ایک داستان یوں بھی ہے کہ حضرت علی عليهالسلام اور جناب فاطمہ عليهالسلام کے در میان کچھ تلخ کلامی ہوگئی اور ان کے گھر میں رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا آئے تو حضرت علی عليهالسلام نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے بستر بچھا یا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اس پر لیٹ گئے جناب زہرا عليهالسلام آئیں تو وہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ایک طرف لیٹ گئیں اور دوسری جانب حضرت علی عليهالسلام آکر لیٹ گئے _آپ عليهالسلام نے حضرت علی عليهالسلام اور حضرت فاطمہ عليهالسلام کے ہاتھ پکڑ کر اپنے شکم پر رکھا اور دونوں کے ہاتھ پکڑ پکڑ کر اپنے شکم پر رکھتے رہے حتی کہ دونوں میں پھر سے صلح ہوگئی(۴) یہاں بعض نے اس طرح بھی کہا ہے کہ مؤاخات کے موقع پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم
____________________
۱)السیرة الحلبیہ ج/ ۲ ص ۱۲۷ ، انساب الاشراف ج/۲ ص ۹۰_ (۲)البدایة والنہایة ج/ ۳ ص ۳۴۷ ، الغدیر ج/۶ ص ۳۳۶ ازسیرة ابن ھشام ج /۲ ص ۲۳۷ ، عمدة القاری ج/۷ ص ۶۳۰ السیرةالنبویةلابن کثیرج/۲ص۳۶۳از صحیح البخاری ،المناقب للخوارزمی ص ۷ ، انساب الاشراف ج/۲ص ۹۰ ، معرفة علوم الحدیث للحاکم ص ۲۱۱_ (۳و۴)طبقات ابن سعدط لیڈن ، ج ۸ ، ص ۱۶_
نے حضرت علی عليهالسلام اور کسی اور کے درمیان مؤاخات کا سلسلہ قائم نہ فرمایا تو آپ عليهالسلام پر یہ بات گراں گزری اور آپ عليهالسلام مسجد کی طرف نکل گئے اور مٹی پر سوگئے_ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم آپ عليهالسلام کے پاس پہنچے تو انہیں '' ابوتراب'' کے خطاب سے مخاطب فرمایا_
لیکن یہ سب اقوال صحیح نہیں ہیں _کیونکہ اس بات سے قطع نظر کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم جیسی شخصیت نے میاں بیوی میں صلح کرانے کے لئے (نعوذ باللہ ) وہ مزعومہ بھونڈا طریقہ کیوں اختیار کیا اور اپنی بیٹی پر (نعوذ باللہ ) ظلم کرنے و الے کے مقابلے میں اپنی بیٹی کی حمایت اور طرفداری کی بجائے اسے ہی سرزنش کرنا کیوں شروع کردیا؟ اس کی وجوہات ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں ، لیکن پھر بھی ان باتوں سے قطع نظر ہمارے پاس گذشتہ بے بنیاد تہمتوں کے صحیح نہ ہونے کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں:
۱ _ حضرت بی بی فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کا مقام اور مرتبہ اس بات سے کہیں ارفع و اعلی ہے کہ حضرت علی عليهالسلام آپ عليهالسلام پر غضب ناک ہوں _ وہ صدیقہ طاہرہ ہیں _ قرآن کریم کی نص کے مطابق آپ عليهالسلام ہیں جن کو اللہ تعالی نے ہر طرح کے '' رجس'' سے پاک و پاکیزہ فرمایا اور ایسا پاک فرمایا جس طرح پاکیزہ رکھنے کا حق ہے _ قرآن حکیم کی یہ آیت مبارکہ آپ عليهالسلام کی شان میں نازل ہوئی:
( انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا ) (احزاب _۳۳)
اے اہل بیت بس اللہ کا ارادہ ہے کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جس طرح پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے_
اسی طرح حضرت علی عليهالسلام کی ذات و الا صفا ت بھی اس بات سے انتہائی بالاتر اور ارفع و اعلی تھی _کیونکہ آپ عليهالسلام کی شان میں بھی آیہ تطہیرنازل ہوئی_ اسی طرح قرآن پاک میں آپ عليهالسلام کی شان میں نازل ہونے والی دیگر آیات بھی ہیںجو آپ عليهالسلام کی سیرت کے بعض پہلوؤںکو واضح کرتی ہیں_
۲ _ حضرت علی علیہ الصلوة والسلام نے گویا پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ کینہ پرورلوگ آپ عليهالسلام پر جھوٹ
باندھیں گے اور تہمتیں لگائیں گے_اسی لئے آپ عليهالسلام نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ ''اللہ کی قسم میں اس ( حضرت فاطمہ عليهالسلام ) کے آخری دم تک نہ تو کبھی اس پر غضبناک ہوا اور نہ ہی اسے کسی کام پر مجبور کیا اور نہ فاطمہ عليهالسلام نے مجھے کبھی غضبناک کیا اور نہ ہی کبھی میری نافرمانی کی_ میںجب بھی فاطمہ عليهالسلام کی طرف دیکھتا تھا میرے سارے دکھ درد دور ہوجاتے تھے''_(۱) ۳_اپنی بیوی پر غصہ ہونے کی صورت میں اپنے سر پر مٹی ڈالنا حضرت امیرالمؤمنین عليهالسلام جیسے کسی عاقل، حکیم اور دانا انسان سے بہت بعید ہے کیونکہ یہ عمل تو بچوں کی کھیل کود سے زیادہ شباہت رکھتاہے _ ۴_ امیرالمومنین عليهالسلام وصی خاتم المرسلین کی ذات گرامی جو جنت و جہنم کو تقسیم کرنے والی ہے وہ کبھی بھی اللہ اور اسکے حبیب صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اذیت نہیں دے سکتی کیونکہ جو کوئی اللہ اور اس کے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اذیت دے یقیناً اس کی جزا جنت نہیں ہے اورادھر سے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا ارشاد پاک ہے کہ جس نے فاطمہ عليهالسلام کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس کسی نے فاطمہ عليهالسلام کو غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا(۲) _ نیز فرمایا کہ خدا بھی فاطمہ عليهالسلام کے غصہ پر غضبناک اور اس کے راضی ہونے پر خوش ہوتا ہے(۳) _ ۵_ حضرت علی عليهالسلام کا پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم سے خفا ہونے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو برا بھلا کہنے کا کوئی امکان ہی نہیںکیونکہ آپ عليهالسلام جانتے
____________________
۱)مناقب الخوارزمی ص ۲۵۶، کشف الغمة ج/ ۱ ص ۳۶۳، البحار ج/۴۳ ص ۱۳۴_ (۲)البخاری ط مشکول ج/۵ ص ۳۶، بحارالانوار ، ج ۲۸، ص ۷۶; احقاق الحق ، ج ۱۰ ، ص ۱۹۰; حلیة الاولیاء ، ج ۲ ، ص ۴۰ ; نیابیع المودة ص ۱۷۱و ۱۷۳ و۳۶۰;السنن الکبری ، ج ۱۰ ، ص ۶۴و ۲۰۱; مستدرک حاکم ج ۳ ، ص ۱۵۹ ; نیز اسی کے حاشیہ پر اسی کا خلاصہ ، اعلام النساء ، ج ۴ ، ص ۱۲۵; کنزالعمال ، ج ۱۳ ، ص ۹۳; الاصابہ، : ۴، ص ۳۷۸; تہذیب التہذیب ، ج ۱۲، ص ۴۴۱، نیز ابوجہل کی بیٹی سے حضرت علی عليهالسلام کی خواستگاری والے جعلی افسانے میں بھی بعض دیگر منابع ذکر ہوئے ہیں اس لئے ملاحظہ ہو : ذخائر العقبی ، ص ۳۷، ۳۸; کفایة الطالب ، ص ۳۶۵ ; مقتل الحسین خوارزمی ، ج ۱ ، ص ۵۳ ; نظم درر السمطین ، ص ۱۷۶، السیرة النبویہ دحلان (برحاشیہ حلبیہ) ، ج ۲ ، ص ۱۰; الخصائص نسائی ، ص ۱۲۰، صفة الصفوة ، ج ۲ ، ص ۱۳، الجامع الصحیح ، ج ۵ ، ص ۶۹۸ ; مسند احمد، ج ۴ ، ص ۳۲۸; البدایہ و النہایہ ، ج ۶ ، ص ۳۳۳ ; نیز الصواعق المحرقہ ، ص ۱۸۸_ (۳) ملاحظہ ہو : فرائد السمطین ، ج ۲ ، ص ۴۶ ، مجمع الزوائد ، ج ۹ ، ص ۲۰۳ ; مقتل الحسین خوارزمی ، ج ۱ ، ص ۵۲; کفایہ الطالب ، ص ۳۶۴، ذخائر العقبی ، ص ۳۹ ، اسدالغابہ ، ج ۵ ، ص ۵۲۲، تہذیب التہذیب ، ج ۱۲، ص ۴۴۲، ینابیع المودة ، ص ۱۷۳، ص ۱۷۴، ص ۱۷۹، ص ۱۹۸; نظم درر السمطین ، ص ۱۷۷ ; مستدرک حاکم، ج ۳، ص ۱۵۴، ۱۵۸; تلخیص مستدرک ذہبی (برحاشیئہ مستدرک ) ، کنز العمال ، ج ۱۳، ص ۹۶و ج ۶ ، ص ۲۱۹و ج ۷ ، ص ۱۱۱; الغدیر ، ج ۷ ، ص ۲۳۱تا ۲۳۶; احقاق الحق ، ج ۱۰، ص ۱۱۶، السنن الکبری ، ج ۷ ، ص ۶۴، الصواعق المحرقہ، ص ۱۸۶و سیر اعلام النبلاء ، ج ۲ ، ص ۱۳۲_
تھے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا کوئی عمل بھی ان کی ذات اقدس کی طرف سے نہیں بلکہ سب اللہ تعالی کی جانب سے ہوتاہے_ آپ عليهالسلام کی سیرت تو یہ تھی کہ اگر ایک حرف بھی پیامبراسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبان مبارک سے نکلتا تو آپ عليهالسلام اس پر مو بہ مو عمل فرماتے_حتی کہ جنگ خیبر کے موقع پر جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکم فرمایا کہ خیبر کی فتح کے لئے جاؤ اور پیچھے مڑکر نہ دیکھنا تو آپ عليهالسلام اللہ تبارک و تعالی کی ذات اقدس کے توکل پر چلے پھر توقف کیا اور اپنا رخ نہ موڑتے ہوئے عرض کیا : '' یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ...''(۱) _
۶_ حضرت فاطمہ عليهالسلام نے (بوقت شہادت) حضرت علی عليهالسلام سے کہا: '' آپ عليهالسلام نے کبھی بھی مجھے جھوٹا اور خائن نہیں پایا اور مشترکہ زندگی کی ابتدا سے اب تک میں نے کبھی بھی آپ عليهالسلام کی مخالفت نہیں کی '' _ اور حضرت علی عليهالسلام نے بھی ان کی اس بات کی تصدیق کی(۲)
۷_ اس پر مزید یہ کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم جب بھی جنگ بدر اور احد و غیرہ جیسے مختلف امور میں اپنے صحابیوں سے کوئی مشورہ لیتے تو ان کے جی میں جو بھی آتا کہہ دیتے لیکن حضرت علی عليهالسلام نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضور کبھی بھی اپنے خیالات کا اظہار نہیں کیا_ وہ تو رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا سے پہلے یا ان کی اجازت کے بغیر کوئی کام کرتے ہی نہیں تھے _ صرف ایک بار ام المؤمنین حضرت ماریہ پر کچھ افراد کے ناروا تہمت(۳) کے معاملے میں حضرت عليهالسلام نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو بی بی عائشہ کو طلاق دینے کا مشورہ دیا تا کہ اس سے شاید وہ ڈر ، سہم اور پچھتا کر اپنے خیالوں اور کرتوتوں سے باز آجائے اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ازدواج کو اذیت دینے سے دستبردار ہوجائے_ آپ عليهالسلام کیوں غضبناک ہوتے اوربرا بھلا کہتے ؟ کیا آپ عليهالسلام ہجرت سے قبل آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے برادر نہ تھے؟ اور اس کے بعد کے حالات جیسے بھی رہے آپ عليهالسلام کی یہ اخوت قائم و دائم رہی_
____________________
۱)انساب الاشراف با تحقیق محمودی ، ج ۲ ، ص ۹۳; زندگانی امام علی بن ابی طالب عليهالسلام از تاریخ ابن عساکر با تحقیق محمودی ، ج ۱ ، ص ۱۵۹ ، صحیح ابن حبان زندگانی حضرت علی عليهالسلام (قپو سرای لائبریری استانبول میں خطی نسخہ ) ، فضائل الخمسة من الصحاح الستہ ، ج ۱ ، ص ۲۰۰و الغدیر ، ج ۱۰ ، ص ۲۰۲_
۲) روضة الواعظین، ص ۱۵۱_ (۳) ام المؤمنین حضرت ماریہ قبطیہ چونکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے صاحب اولاد ہوئی تھیں جبکہ بی بی عائشہ اور حفصہ بانجھ ہونے کی وجہ سے صاحب اولاد نہیں ہو سکتی تھیں اس لئے حسد کے مارے انہوں نے بی بی ماریہ پر بدکاری کا بہت بڑا اور گھٹیا الزام لگایا جسے سن کر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کوبہت صدمہ ہوا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک انتہائی فیصلہ کیا_ یہاں پر حضرت علی عليهالسلام نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو کچھ مشورے دیئےس پر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے تمام معاملہ حضرت علی عليهالسلام کے سپرد کردیا اور انہوں نے اپنی درایت سے یہ گتھی سلجھادی_
بہر حال ہم ہرگز اللہ کے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم اور قرآن کریم کو نہ جھٹلائیں گے بلکہ ان کی تصدیق کریں گے _ ہم ان لوگوںکے باطل خیالات کو کینہ توزی پر مبنی سمجھتے ہیں جوہمیشہ حضرت علی عليهالسلام اور آپ عليهالسلام کے اہل بیت (صلوات اللہ و سلامہ علیھم اجمعین ) کے خلاف رہے _
یہ جعل سازیاں کیوں؟
ان باطل نظریات کا سبب شاید یہ تھا کہ لوگ یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ رسول خدا صلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھر کی طرح حضرت علی عليهالسلام کا گھر بھی جھگڑوںاور اختلافات کی آماجگاہ تھا_ اوررسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے گھر میں یہ حالات بی بی عائشہ اور حفصہ جیسی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی بعض ازواج نے پیدا کئے تھے_اس بات سے وہ غالباً یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ حالا ت تو فطری ،معمولی ، مطابق معمول اور ازدواجی زندگی کا حصہ ہیں_ لہذا اس سے کسی کی شخصیت کم نہیں ہوتی اورنہ ہی یہ بات کسی طرح کے اعتراض اور ملامت کا باعث بنتی ہے_ جیسے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ازواج جھگڑالو تھیں ویسی (نعوذ باللہ) آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیٹی بھی تھی _ جس طرح عائشہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو ناراض کرتی تھی اسی طرح حضرت فاطمہ عليهالسلام بھی حضرت علی عليهالسلام کو ناراض کیا کرتی تھیں، پس حساب برابر_
دوسری جہت یہ ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم
کا یہ قول کہ جس کسی نے فاطمہ عليهالسلام
کو غضبناک کیا پس اس نے مجھے غضبناک کیا ، یہ قول جس طرح فلاں فلاں پر صادق آتا ہے اسی طرح یہ قول خود علی عليهالسلام
پر بھی صادق آتا ہے_ یعنی جس طرح جناب ابوبکر اور عمر نے حضرت فاطمہ عليهالسلام
کو ناراض اور غضبناک کیا اسی طرح حضرت علی عليهالسلام
نے بھی انہیں غضبناک کیاپس یہ امر کسی دوسرے پر اعتراض کا باعث نہیں بنتا؟_بلکہ ان تہمتوں سے وہ حضرت علی عليهالسلام
کو ایک ایسے شخص کی صورت میں دکھا نا چاہتے ہیں کہ وہ حضرت فاطمہ عليهالسلام
زہرا کو ناپسند تھے اور بی بی کی ان سے شادی بی بی کی مرضی کے بغیر ہوئی تھی ، اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم
نے ان کے (نعوذ باللہ ) شر سے بچنے کے لئے ان کار شتہ منظور کیا تھا _ اور ان باتوں سے وہ حضرت علی عليهالسلام
سے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم
کی دامادی کی فضیلت اور شرف سلب کرنا چاہتے ہیں _
اس کنیت کی اہمیت :
حضرت ابن عباس نے حضرت علی عليهالسلام کی ابو تراب کی کنیت کی وجہ تسمیہ یہ بتائی ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد حضرت علی عليهالسلام ہی اس زمین کے مالک اور زمین والوں پر خدا کی حجت ہیں _ ان کے ذریعہ سے زمین کی بقاء اورٹھہراؤ ہے _ ان کے بقول : '' میں نے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم سے خود سنا ہے کہ قیامت کے دن جب کا فریہ دیکھے گا کہ خدا کے نزدیک شیعیان علی عليهالسلام کا کتنا مقام ، مرتبہ ، ثواب اور قدر و منزلت ہے تو حسرت کے ساتھ کہے گا کہ اے کاش میں بھی تراب ہوتا یعنی اے کاش میں بھی علی عليهالسلام کا شیعہ ہوتا'' _ اس کے علاوہ خود امام علی عليهالسلام جو اس کنیت پر فخر کیا کرتے تھے ہرگز دنیا کی خاطر اور دنیا کے راستے میں نہ جیئے اور نہ ہی دنیا آپ عليهالسلام کاہدف تھا_ البتہ ایک عظیم ترین اور افضل ترین ہدف کے حصول کی خاطر دنیا آپ عليهالسلام کی نظر میں ایک ذریعہ اور وسیلہ تھی ، جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے دیکھا کہ آپ عليهالسلام اپنے اہداف و نظریات پر سختی سے قائم ہیں تو پس اب آپ عليهالسلام یقینا مشکلات پر قابو پالیں گے اور ان کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے_ ایسے حالات و کیفیات میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات اقدس کا حضرت علی عليهالسلام کو ابوتراب کہنا گویا اس بات کا اعلان تھا کہ علی عليهالسلام ہمیشہ اپنے نظریات و اہداف پر انتہائی سختی سے قائم رہے گا اور ان کی حفاظت کرے گا _یہ دنیا کو اس کے مناسب مقام پر رکھے گا ، دنیا کی رنگینیاں اور حسن و زیبائی اسکو کبھی دھوکانہ دے سکیں گی _ دنیا اسکے نظریات و اہداف اور اعمال میں کبھی تناقض پیدا نہ کرسکے گی_اور نہ ہی وہ اپنے دعوے اور عمل میں کبھی تضاد کا شکار ہوں گے_ یہی سبب ہے کہ حضرت علی عليهالسلام کو یہ کنیت انتہائی پسند تھی_
لیکن بنی امیہ جو حضرت علی عليهالسلام کو اس کنیت کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بناتے تھے ،ان کے نظریات و اعمال بھی ایک دوسرے سے منسجم تھے کیونکہ ان کی اقدار، خواہشات اور اہداف کا محور دنیاتھی_ یہ لوگ انہی چیزوں کے ہونے یا نہ ہونے کے بنیاد پر شخصیات اور نظریات کی اہمیت کا اندازہ لگاتے ،اسی بنیاد پر ان کا احترام یا تحقیر کرتے _ حضرت علی عليهالسلام چونکہ ابوتراب تھے ، انکی نظر میں دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی اس دنیا سے صرف اتنا لیتے جس سے ان کی زندگی قائم رہ سکے او ر اپنے اعلی اہداف تک رسائی حاصل کرسکیںاس وجہ سے بنی امیہ والے ان
میں ایسے اہم عنصر کو مفقود پاتے تھے جو ان کی نظر میں عزت و عظمت اور شرافت و کرامت کا باعث تھا_ اسی سبب سے طبیعی طور پر وہ اس کنیت کا مذاق اڑاتے تھے _کیونکہ یہ عمل ان کے اہداف و خواہشات سے بالکل مطابقت رکھتا تھا لیکن دین ، قرآن ، عقل سلیم اور سالم فطرت کے بالکل مخالف تھا_
۲_ سرایا کا مقصد؟
بعض سرایا کا مقصد قریش کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا تھا_ اسی طرح بعض سرایا کا ہدف مدینہ والوں کے ریوڑ غارت کرنے والے دشمن کا پیچھا کرنا تھا_جیسے کرز بن جابر کا تعاقب کیا گیا _ ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ ان سرایا میں مسلمانوں کو جنگ کا سامنا نہ تھا اس سے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوگئے اورخود پر اعتماد بحال ہوگیا _ ان سرایا کے نتیجے میں مسلمانوں میں اتنی جرات پیدا ہوگئی کہ وہ تعداد اور وسائل کی کمی کے باوجود اسلحہ اور کیل کانٹوں سے لیس قریش کے ہزار بڑے بہادروں کا مقابلہ کرسکیں _اور یہ بات ان کے لئے کوئی خوفناک و ہولناک مسئلہ نہ رہے گر چہ ان کا ظاہری مقصد قریش کے قافلوں کے آگے رکاوٹ کھڑی کرنا تھا_
لیکن یہ تمام باتیں ہمارے لئے قانع کنندہ نہیں ہیں _ ہم ان واقعات کے اغراض و مقاصد جاننے کے لئے ان واقعات کانئے سرے سے جائزہ لینا چاہتے ہیں _ اس بناپر ہم ان کا مندرجہ ذیل دو عناوین سے جائزہ لیتے ہیں_
اول : صلح اور باہمی عہدو پیمان :
ان سرایا کا نتیجہ یہ نکلا کہ مدینہ میں رہنے والے قبیلوں کو مسلمانوں کی طاقت ، ان کے جوش و جذبے اور قریش جیسے مضبوط دشمن سے مقابلے کے پختہ ارادے کا ادراک ہواجس کے نتیجہ میں مسلمانوں اور ان قبائل کے در میان صلح کے معاہدے اور دشمن کے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد کے باہمی عہد و پیمان ہوئے _ اس کے نتیجے میں طبیعی طور پر مدینہ کے مضافات میں رہنے والے قبیلوں کے دلوں میں بھی مسلمانوں کا اتنا
رعب بیٹھ جانا تھا کہ انہیں مدینہ پر بذات خود یا اسلام دشمن طاقتوں کے ساتھ مل کر حملہ کرنے کے لئے کئی کئی بار غور سے سوچنا پڑتا _ کیونکہ وہ عملی طور پر یہ دیکھ رہے تھے کہ یہاں ایک ایسی زبردست طاقت موجود ہے جس کے ساتھ ایسے تعلقات بر قرار رکھنا ضروری ہیں جس سے مستقبل میں ان کے علاقائی مفادات کو کوئی نقصان نہ پہنچے _
ان حالات کی روشنی میں مدینے میں امن و استحکام کا یک گونہ احساس پیدا ہوا _ اسی سبب سے مسلمانوں میں قریش کی طرف سے ہونے والی سازشوں کازیادہ آزادی کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا _ یہی چیزیں جنگ بدر اور بعد کے حالات میں نظر آتی ہیں_
یہ معاہدے اور عہد و پیمان قریش کے لئے بہت بڑے نفسیاتی صدمے اور پریشانیوں کا باعث بلکہ ان کے منہ پر انتہائی زوردار طمانچے تھے_ کیونکہ وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ مسلمان اب ایک ایسی طاقت بن چکے ہیں کہ مقابل کے دلوں میں رعب اور دہشت طاری کردیتے ہیں اور دوسرے قبیلے خاص کر مکہ کے تجارتی رستے میں بسنے والے ایسے قبیلے بھی مسلمانوں کے ساتھ دفاعی معاہدے کر رہے ہیں جنہیں قریشی مشکلات اور خطرات کے وقت اپنا حامی اور مددگار سمجھتے تھے _ اس پر مزید یہ کہ قریشی پھر مدینہ پر دباؤ ڈالنے اور مدینہ والوں کو مجبور کرنے کے لئے مدینہ کے قریب رہنے والے ان قبائل سے کوئی معاہدہ نہیں کرسکے _
دوم: قریش کی پریشانی
ان سرایا کا مقصد قریش کا اقتصادی اور نفسیاتی محاصرہ تھا_ مراد یہ ہے کہ جب تک قریش ان مسلمانوں کو بے وطن کرتے رہیںگے ، انہیں تکلیف اور دکھ دیتے رہیں گے ، ان کے اموال کو چھینتے رہیں گے اور بعض کو قتل کرتے رہیں گے تو مسلمان بھی ان کو آزادانہ طور پر نہیں گھومنے دیں گے _ گذشتہ معاہدے میں ہم نے دیکھا تھا کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مشرکوں پر یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ دوسرے مشرکین کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کردیں _ یہاں پر قابل ملاحظہ بات یہ بھی ہے کہ ان سرایا کا مقصد قریش کو قتل کرنا یا ان سے جنگ کرنا نہ تھا_
یہی وجہ ہے کہ حضرت حمزہ نے جہنی کی وساطت اور ثالثی کو قبول کرلیا تھا_ اسی طرح عبیدہ بن الحارث نے بھی اس قافلے کا پیچھا نہ کیا جو اس سے آگے نکل گیا تھا نیز قریش کے تین اور قافلے بھی بڑے آسانی اور سلامتی سے گزرگئے تھے اور مسلمان مناسب وقت پر ان تک نہ پہنچ سکے تھے_ یہاں تک کہ جنگ بدر کے موقع پر بھی مسلمان قریش کے قافلے کوپہنچ نہیں پائے تھے لیکن اس کے باوجود قریش نے ہی مسلمانوں سے جنگ کرنے کی ٹھان لی _ انشاء اللہ اس پر بعد میں گفتگو کریں گے _
پس ان سرایا کا مقصد قریش کو یہ باور کرانا تھا کہ اس علاقے میں قریش اب آزادا نہ دندناتے نہیں پھر سکتے اور نہ اب ان کا قانون چلے گا اور آج کے بعد سے شام کی طرف جانے والے تجارتی قافلوں کی امنیت بھی خطرے میں ہے اور جب تک وہ عقل اور منطق سے کام نہیں لیتے، حکمت کی سیدھی راہ اختیار نہیں کرتے نیز ظلم و تکبر اور جور وستم کار استہ ترک نہیں کردیتے تب تک ان کے ساتھ ایسا ہوتا رہے گا _ اور اب انہیں اپنا مکمل محاسبہ کرنا ہوگا تا کہ انہیں یہ یقین ہوجائے کہ اب ان کے لئے طاقت کے ساتھ اس موقف کی سرکوبی نہایت مشکل ہوگئی ہے اور اب جلد یا بدیر ان کے لئے حقیقت کے اعتراف کرنے اور حقیقت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہے گا _ ور نہ دوسری صورت میں وہ خدا اور اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کو دعوت جنگ دیں گے جس کے نتیجے میں ان کا غرور اور تکبر سب کچھ خاک میں مل جائے گا _ اور ہوا بھی یہی _
بہر حال مسلمانوں نے قریش کے تجارتی قافلوں کو چھیڑنے پر اکتفا کیا اور قافلوں کو لوٹنے کی کوشش نہیں کی صرف اس لئے کہ قریش کے لئے سامنے کا ایک دروازہ کھلا رکھیں اور انہیں اس معاملے میں سوچ بچار کی مہلت دیں _ و گرنہ وہ قافلوں کو لوٹنے کا حق بھی رکھتے تھے _ کیونکہ یہ قریش سے عادلانہ اور منصفانہ بدلہ ہوتا جنہوں نے دشمنی کی ابتدا کی تھی اور ظلم اور زیادتی کی حدیں توڑدی تھیں _ بہر حال اگر مسلمانوں کو یہ لوٹنا مہنگانہ پڑتاتو اپنے حق کے حصول کی جد و جہد میں کوئی اور رکاوٹ نہیں تھی _ البتہ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ ان سرایا کا مقصد جنگ نہیں بلکہ کچھ اور تھا کیونکہ ان سرایا میں بھیجے جانے والے مسلمان جنگجوؤں کی تعداد کم
ہوتی تھی_ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ سرایا کے مقاصد کو سمجھنے کے لئے یہ دلیل کافی اور قانع کرنے والی نہیں ہے کیونکہ تجارتی قافلوں کو روکنے یاانہیں لوٹنے کے لئے کم افراد ہی کافی ہوتے ہیں اور اتنی تعداد میں جنگجوؤں کے شریک ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی _ہم یہاں صرف اس بات کا ذکر کریں گے کہ مسلمانوں کے ان قافلوں پر گھات لگانے اور چھیڑ چھاڑ کے بعد قریش نے جو سب سے بڑا تجارتی قافلہ بھیجا یہ وہی تھا جس کے نتیجے میں جنگ بدر واقع ہوئی (حالانکہ چھیڑچھاڑ طبعی طور پر محافظین کی تعدا بڑھانے کا باعث ہوئی تھی ) اس قافلے کی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی_ جبکہ اس قافلے کے ساتھ صرف بیس(۲۰) سے کچھ زیادہ افراد تھے حالانکہ یہ قافلے دوہزار سے بھی زیادہ اونٹوں پر مشتمل تھا اور اس میں قریش کا تجارتی سامان بھی موجود تھا _
۳_سپاہیوں کو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی نصیحتیں
سرایا کے لئے جانے والے سپاہیوں کو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی گذشتہ نصیحتوں کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقصد صر ف زمین کو آباد کرنا اور زمین سے فتنہ و فساد کا خاتمہ تھا ، منحرفوں اور ظالموں سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے جہاد کی نوعیت بھی ایسی ہی تھی بالفاظ دیگر یہ عمل کڑوی دوا کی طرح تھا_ پس جو عمل بھی اس ہدف سے دور ہوتاآنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی نظر میں انتہائی قابل نفرت اور قابل مذمت تھا _چاہے یہ عمل اصحاب نے یا کسی قریبی نے ہی انجام دیا ہو_ اس سلسلے میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی نصیحتوں کے گہرے مطالعہ کی ضرورت ہے تا کہ صاحب انصاف با ضمیر اور زندہ دل انسان بہت سے اہم حقائق کا ادراک کر کے اپنے گفتار اور کردار نیز نظریات اور اعمال میںان سے استفادہ کرے اور اس سے زندگی کا بہترین راستہ منتخب کرے _ حضرت علی علیہ السلام بھی اپنے فوجیوں کو نصیحت کرنے کے معاملے میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے نقش قدم پر چلے ہیں _ اس بارے میں مندرجہ ذیل منابع کا مطالعہ فرمائیں(۱) _
____________________
۱) تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۸۲ و ۱۸۳، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱ ص ۲۳ الفتوح ابن اکثم ج ۳ ص ۴۵ و ۱۳۵ و انساب الاشراف با تحقیق محمودی ج ۲ ص ۲۶۲ و ص ۲۴۰و ص ۳۰۲و ص ۳۳۱ و ص ۴۷۹_
۴_ صرف مہاجرین ہی کیوں ؟
یہ بات قابل غور ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم جنگ بدر سے پہلے کے غزوات اور سرایا میں صرف مہاجرین کو ہی بھیجتے تھے_اس لئے یہاںیہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبی اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم ایسا کیوں کرتے تھے؟اور اس امر میں کیا حکمت پوشیدہ تھی ؟
اس کا ایک جواب یہ دیا جاتاہے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم انصار کو سمجھانا چاہتے تھے کہ آ پ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے مقاصد کے حصول پر مصمم ہیں چاہے انصار مدد نہ بھی کریں اور انصار کہیں یہ تصور نہ کریں کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ،مہاجرین کا بچاؤ کر کے ہمیں اپنے اہداف کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں_اوراس گمان سے انصارکہیں مظلومیت اور کمزوری کا احساس نہ کریں_
ہمارے خیال میں بات اس سے کہیں زیادہ گہری ہے لہذا ہم مندرجہ ذیل عناوین سے اس کا جائزہ لیتے ہیں_
الف: انصار کا گمان
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلے انصار کا خیال تھاکہ نبی کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد و نصرت کا فریضہ فقط اپنے علاقے تک ہی محدود ہے_ اگر اچانک کوئی معاملہ پیش آگیا تو وہ اس سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت اسی طرح کریںگے جیسے وہ اپنی حفاظت کرتے ہیں لیکن اگر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم خود حملہ فرماتے ہیں یا کسی اور علاقے میں جنگ ہوتی ہے تو انصار آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد نہیں کریں گے_ اس بات پر غالباً بیعت عقبہ کے موقع پراتفاق ہوا تھا_ اس پر مؤرخین کی یہ بات بھی دلیل ہے جو انھوں نے جنگ بدر کے حالات میں نہایت واضح طور پر بیان کی ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ انصار آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مددنہیں کریں گے مگر یہ کہ مدینے میںآپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر اچانک کوئی افتاد آن پڑتی _ اس لئے انصار کا آ پ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ اس جنگ پر جانا ضروری نہیں تھا_ اس کی تفصیلات غزوہ بدر کے حالات میں آئیں گی_
انشاء اللہ تعالی
باء : جنگ اور امن کا مسئلہ
اہل مدینہ کے لئے جنگ کوئی آسان مسئلہ نہ تھا_کیونکہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ انہیں ہی جنگ کی نہایت اہم ذمہ داریوں کو قبول کرنا ہوگا_ اس راہ میں اپنی جان اور مال کی قربانی دینی ہوگی _ اور انہیں ہی اپنے وسیع معاشرتی، اقتصادی ، سیاسی اور دیگر تعلقات پر اس کے اثرات و نتائج کا سامنا کرنا ہوگا_ عربوں کے نزدیک یہ مسئلہ انتہائی اہم اورخطیر تھا کیونکہ یہ مسئلہ خون، انتقام، زندگی، موت، خوشبختی اور بدبختی کا مسئلہ تھا_
جب جنگ کا مطلب ہی یہی کچھ ہے تو پھر ان لوگوں میں اعلی سطح کے صبر، برداشت اور تحمل کے ہو نے کے علاوہ ان لوگوں کا اپنی مرضی سے ان جنگوں میں حصہ لینا نہایت ضروری تھا_ اگر ( آغاز ہی میں) ان پر جنگ کا فریضہ عائد کردیا جاتا تو ممکن تھا کہ اس کے نتائج بالکل برعکس ہوتے یا شاید انتہائی خطرناک ہوتے جن کے نتیجے میں اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل پر بہت زیادہ مشکلات اور مصیبتیںنازل ہوتیں جن کامداوا بھی مشکل ہوتا_ ان مشکلات سے اپنے عظیم اور اعلی ہدف کی کامیابی کے ساتھ اپنی مرضی اور عزت سے نکلنا ممکن نہ ہوتا _
یہی سبب ہے کہ رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جنگ بدر اور احد کے سلسلے میں اپنے اصحاب سے مشاورت فرمائی_ اس بات پر ہم انشاء اللہ بعد میں گفتگوکریں گے_
ج :انصار کے مخصوص حالات
انصار اپنے علاقے میں (اپنے رسوم و رواج اور طبعی سماجی تعلقات میں گھرے)امن و امان کی زندگی بسر کررہے تھے_ یہ لوگ اپنے ماحول سے بہت زیادہ مانوس تھے_ اپنے معاشی معاملات اور زراعت کے مسائل میں مصروف تھے اور اپنی زمینوں سے استفادہ کررہے تھے_ یہ لوگ اپنی خوشحال زندگی کے معاملات میں مگن تھے اور یہی چیز اس بات کا باعث تھی کہ وہ اپنی زندگی سے پیار کریں _ ان حالات میںکسی ایسے بہت ہی طاقتور عامل یا سبب کی ضرورت تھی جو انہیں ان حالات سے نکال کرحال اور مستقبل میں کٹھن مشکلات،
اور تکالیف میں گھرے نئے حالات میں لے جاتا_
اسی طرح کل کلاںانصار کو قریش سے جنگ بھی کرنا ہوگی_اور قریش ایک ایسا قبیلہ تھاجو عربوں میںبہت بڑاخطرناک ، با اثر اور بانفوذ بلکہ محترم قبیلہ تھا_ پس انصار کے لئے اہل مکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی کام کے اقدام سے پہلے اپنے آپ کو ذہنی ، عملی اور سماجی طور پر اس نئے معاشرے اور نئے حالات سے ہم آہنگ کرنا ضروری تھا_خصوصاً جبکہ مکہ والوں سے دشمنی مول لینے سے تمام عربوں کی طرف سے دشمنی کا خطرہ لاحق تھا _خاص طور پر ایسے حالات میں جبکہ دوسروں کی نظر میں اہل مدینہ قصور واربھی ہوں_ اور ایسا ہوا بھی ہے کیونکہ تاریخی دستاویزات میں ابی بن کعب کی یہ بات مذکور ہے کہ جب نبی کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اصحاب نے مدینہ ہجرت فرمائی اور انصار نے انہیں پناہ دی توسارا عرب ان کا دشمن بن گیااسکے بعد اہل مدینہ راتوں کو اسلحہ لے کر سوتے اور دن کو بھی اسلحہ سے لیس ہوتے تھے(۱) جس پر خدا نے دشمنوں کی سازشوں کا توڑ اور اپنا دفاع کرنے کے لئے انہیں جنگ اور جہاد کی اجازت دی کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے (اذن للذین یقاتلون بانھم ظلمواوان اللہ علی نصرہم قدیر)(۲)
لیکن دوسری طرف مہاجرین کے حالات اس لحاظ سے ان سے بالکل مختلف تھے_ ان کی قریش سے جنگ اور نبرد آزمائی سہل اور آسان تھی_ ان کی قریش کے خلاف معرکہ آرائی کی وجوہات واضح طور پربالکل ذاتی اور معاشرتی نوعیت کی تھیں_ کیونکہ سب کو معلوم تھا کہ قریش ہی وہ ظالم قوت تھی جس نے ان مہاجرین کی ا ہانت کی ، ان کواذیتوں سے دوچار کیا، ان کے گھر وں سے انہیں نکال باہر کیااور ان کے اموال چھین لئے تھے _ اور یہ دھتکارے ہوئے، مغلوب مہاجرین، قریش کے ظلم کومحسوس کر چکے تھے اور یہ جانتے تھے کہ قریش اخلاقیات کے حدوں کو پھلانگ چکے ہیں، معاشرتی رسم و رواج کی بیخ کنی کرچکے ہیں اور عقلی ، دینی اور فطری احکام کی بھی پرواہ نہیں کرتے ہیں_ پس ایسے مسلمان مہاجرین کا غصہ اور دفاع
____________________
۱)منتخب کنزالعمال ج/۱ص ۴۶۵دبر حاشیہ مسند احمد) از دلائل النبوة بیہقی ، ابن مردویہ ،ابن منذر،کنز العمال ج/۱ ص۲۹۵ از مذکورہ افراد و از ،طبرانی ، الحاکم، سعیدبن منصور، اور روح المعانی ج/۶ ص ۹۸ نیز ملاحظہ ہو : سیرہ حلبیہ ، ج ۲ ، ص ۱۲۳، بحارالانوار ، ج ۱۹، ص ۸، اعلام الوری ، ص ۵۵_
۲) حج ۶/۳۹_
فطری طور پر انتہائی عظیم اور شدید تھا_ اس وجہ سے قریش کے قافلوں کو تنگ کرناان کے لئے نہایت آسان تھا_ کیونکہ یہ تجارتی قافلے اس لٹے پٹے گروہ کے لئے دشمنیوں کا مجسم نمونہ تھے اس لئے کہ ان تجارتی قافلہ والوں کے پاس جو بھی مال تھا سب ان لٹے پٹے اور شہر بدر کئے گئے لوگوں کامال تھا _ خلاصہ یہ کہ مہاجرین کی ان جنگوں کو زیادتی اور دشمنی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ قریشیوں کے خلاف مہاجرین کی جنگ تو انتہائی عادلانہ اور حقوق کے حصول کے لئے تھی _ کیونکہ ان مہاجرین کے ساتھ قریش کا تو معاملہ ہی ایسا تھا اور مخالفین کے ساتھ ان کا سلوک بھی تو بہت برا تھا_ اور وہ مخالف تھے کون ؟ وہ تو باقی لوگوںکی نسبت ان کے سب سے زیادہ قریبی اور پیارے تھے_ پس یہیں سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ غیروں کے ساتھ ان کا کیا سلوک ہوگا جن کے ساتھ نہ توان کا کوئی قریبی رابطہ و تعلق تھا اور نہ ہی کوئی رشتہ داری بنتی تھی_
د: مہاجرین کی نفسیاتی کیفیت
گذشتہ عرائض کی روشنی میں معلوم ہو جاتا ہے کہ انصار کی بہ نسبت مہاجرین کے لئے جہاد نہایت آسان تھا _ کیونکہ یہ دشمنی اور چڑھائی شمار نہیں ہوتی تھی بلکہ دفاع شمار ہوتا تھا _ پس اس صورت میں اس جہاد کے لئے سیاسی اور اجتماعی بلکہ ایسے ذاتی اہداف اور مقاصد بھی پائے جاتے تھے کہ جن کا حصول بھی نہایت ضروری تھا اور جس کی وجہ سے انصار بھی اسلام کی مضبوط ڈھال اور کاٹ دار تلوار کی حیثیت سے اس جہاد میں شامل ہو جاتے _پس مہاجرین نے اپنی فعالیت شروع کردی اور اس فعالیت سے ان غریب الوطن مہاجرین کو ایک موقع ملا کہ وہ اس نئے علاقے کی جغرافیائی شناخت قائم کرسکیں ،چاہے محدود پیمانے پر ہی سہی _ کیونکہ نفسیانی طور پر مجروح یہ مہاجرین اس نئے علاقے سے اجنبیت کا شدید احساس رکھتے تھے_ انہیں ایک ایسے تحرک کی ضرورت تھی جس سے ان کی خود اعتمادی دوبارہ لوٹ سکے انہیں معنوی ترقی حاصل ہو اور ان میں قوت، استقلال اور آزادی کا احساس و شعوراجا گر ہو _ اب ان تحرکات سے ان میں یہ احساس پیدا ہوگیا تھا کہ ، اب وہ قریش کو تنگ کرنے اور ان پردباؤ ڈالنے کی طاقت رکھتے ہیں _ اب ان لوگوں میں خود اعتمادی
کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی تھی _
نیز اس علاقے میں رہنے والے دیگر قبائل کے ساتھ رسول عليهالسلام خدا کے صلح کے معاہدے نے بھی ان کی خود اعتمادی میں مزید اضافہ کردیا تھا _ لیکن انصار ان مذکورہ باتوںسے بالکل بے نیاز تھے_ پس وہ مہاجرین جن پر آزمائشےوں نے گہرے اثرات چھوڑے ہوں اور صدمات نے ان کے ایمان کو متزلزل کردیا ہو ان کا جہاد کرنا اور اس دین کی راہ میں قربانی دینا انہیں ( نفسانی کمزوری کے سبب) شیطان کے چنگل اور وسوسوں میں پھنسنے سے بچا سکتا ہے _ کوئی مسلمان جب خود کو دین اور عقیدے کی راہ میں مصروف عمل ، اس راہ میں قربانی دیتا ہوا اور اپنے اس عمل کو پر ثمر اوراس کا نتیجہ خوب سے خوب تر دیکھے گا تو اسے پھر سے ثبات ، استقلال اور اطمینان قلب حاصل ہوگا اور اس کی آزمائشےیں کم سے کمتر ہوں گی جن کا منفی رد عمل بھی نایاب ہوگا اور جس مقصد اور چیز کے لئے اس نے قربانیاں دی ہیں اور مشقتیںاٹھائی ہیں اس کے ساتھ اس کا تعلق مزید پختہ اور مضبوط ہوجائے گا _
عربوں میں خون کا معاملہ
عرب، خون کبھی معاف نہیں کرتے تھے اور کبھی بھی اس سے چشم پوشی نہیں کرتے تھے '' خون کا بدلہ خون'' کی بنیاد پر مختلف قبائل اور اقوام کے آپس میں سیاسی ، اقتصادی ، معاشرتی اور دیگر روابط قائم ہوتے تھے_ بعض اوقات تو خون کے انتقام کا یہ مسئلہ کئی نسلوں تک چلتا تھا_
اب جب ایک ایسے اسلامی معاشرے کی تشکیل کی ضرورت ہے جس میںہر کوئی ایک دوسرے کا ضامن ہو اور ایک جسم کی طرح سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہوں تو ایسے معاشرے کے لئے خون اور اس کے بدلے کا دائرہ ممکنہ حد تک تنگ کرنا ضروری تھا_تاکہ اس کینے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے جو روحوں میں سرایت کر چکا تھا اور اس کے اثرات آنے والی نسلوں پر کئی دہائیوں بلکہ صدیوں تک باقی رہتے تھے _
اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ اگر چہ جنگ بدر میں انصار کی تعداد مہاجرین کی نسبت چاریا پانچ گنا زیادہ تھی لیکن اکثر مشرکین کا قتل حضرت علی صلىاللهعليهوآلهوسلم اور حمزہ کے ہاتھوں ہو اجو مہاجر اور قریشی تھے _
بالکل اسی لئے نیز مقتولین کی تعداد کم کرنے کے لئے امیر المومنین عليهالسلام نے جنگ صفین میں قبیلہ ازداور قبیلہ خثم کو فرمایا کہ صرف اپنے ہم قبیلہ لوگوں کے ساتھ لڑو ، اسی طرح اہل عراق کے ہر قبیلہ کو فرمایا کہ وہ اہل شام کے اپنے ہم قبیلہ افراد کے مقابل ہو ں مگر یہ کہ اہل شام میںان کے ہم قبیلہ افراد نہ ہوں یا بہت کم ہوں مثلاً شامی فوج میں بجیلہ کے بہت کم لوگ تھے تو انہیں قبیلہ لخم کے مقابل قرار دیا(۱) یہی معاملہ جنگ جمل میں ہوا_ جنگ جمل میں حضرت علی عليهالسلام نے جناب عائشہ کی فوج میں ایک منادی کو یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا(۲) کہ مالک اشتر اور جندب بن زہیر کی تلوار سے بچو(۳) پھر آپ عليهالسلام نے ہی ان کی طرف صلح نامہ بھیج کر انہیں کتاب و سنت کے مطابق صلح کرنے کا کہا لیکن ا نہوں نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا قاصد ہی قتل کردیا _ یہ تو ان کوششوں کے علاوہ ہے جو آپ عليهالسلام نے طلحہ ، زبیر اور عائشہ کو جنگ سے روکنے کے لئے صرف کر دی تھیں _ اور آپ عليهالسلام نے ہی بی بی عائشہ کی ناقہ کی کونچیں کٹ جانے پر جنگ ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا اور مقتولین پر اظہار افسوس بھی کیا تھا _ اسی طرح جنگ صفین میں بھی آپ عليهالسلام نے معاویہ اور اس کے حلیفوں کو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے باز رہنے اور احکام خداوندی کو قبول کرنے کے لئے راضی کرنے کی کئی ہفتوں پر محیط بہت کوششیں کیں _
یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ حضرت علی عليهالسلام انسانوں کو قتل نہ کرنا چاہتے تھے بلکہ آپ عليهالسلام کا مقصد فقط امت محمدیہ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات اور زندہ دلی کے لئے کم سے کم نقصان میں فتنہ و فساد کا قلع قمع اور دین کا نفاذ تھا اس بات کی تاریخی گواہی یوں دی جاسکتی ہے کہ مختار ثقفی نے پہلے ابراہیم بن مالک اشتر سے کہا کہ وہ قبیلہ مضر یا اہل یمن کی طرف جائے لیکن پھر اس نے اپنا نظریہ بدل کر اس کے مضر کی طرف جانے کو ترجیح دی _طبری نے لکھا ہے''با
____________________
۱)وقعہ صفین نصر بن مزاحم ص ۲۲۹ ، انساب الاشراف ج/۲ ص ۳۰۵، الفتوح ابن اعثم ج ۳ ص ۱۴۱و ج ۲ ص ۲۹۹ ،۱ و تاریخ الامم و الملوک ج ۴ ص ۹ اور اس میں آیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے پہلے شامی قبائل کے متعلق جستجو اور پوچھ گچھ کی پھر مذکورہ فیصلہ کیا_
۲)الفتوح لابن اعثم ج/ ۲ ص ۲۹۹_ (۳)لباب الآداب ص ۱۸۷ ، الاصابة ج/ ۱ ص ۲۴۸ _الجمل شیخ مفید ص ۱۴۹_
بصیرت مختارنے سوچا کہ ابراہیم اگر اپنی قوم کی طرف جائے گا تو قتل و غارت بھی کم کرے گا_پس مختار نے یوں کہا کہ جاؤ مضر کی طرف جھاڑوپھیرو ''(۱) خلاصہ یہ کہ جب ایک ہی قبیلے کے بعض افراد یا بعض گروہوں کے درمیان جنگ ہو تو غالباً خون کم بہتا ہے ( جب کہ دو مختلف قبائل میں ایسا نہیں ہوتا) کیونکہ دونوںطرف نسلی ہمدردیاں اور قبائلی قرابت داری موجودہوتی ہے جس سے کینہ ختم کرنا آسان ہوتا ہے_ اس لئے کہ خلوص ، پیار اور محبت سے معمور زندگی کی طرف دوبارہ لوٹنے کے لئے حالات مساعد ہوتے ہیں _ ہماری اس بات کی دلیل یہ ہے کہ قریش ایک لمبی مدت تک انصار کے زخم نہ بھولے اور بد لہ لینے کی کوشش میں انہوں نے نہ ہی کھل کر غم منایا اور نہ ہی کوئی اور کسر چھوڑی_ بلکہ قریش تو (حضرت علی عليهالسلام کے انہیں ذلیل و خوار کرنے کی وجہ سے )پورے قبیلہ بنی ہاشم کے خلاف اپنے دلوں میں سخت کینہ رکھتے تھے _ خود رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی ان کینوں کے نیتجے میں اپنے اہل بیت عليهالسلام پر ہونے والے مظالم کے تصور سے گریہ فرمایا کرتے تھے(۲) _
گذشتہ تمام باتیں تو اس بات کے علاوہ ہیں کہ اپنوں کے خلاف اس جہاد میں ان کی آزمائشے بھی ہو رہی تھی ، کیونکہ اپنے رشتہ داروں کے قتل جیسی کٹھن ذمہ داری کو قبول کرنے کے لئے پختہ ایمان اور مکمل اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے _ خدا نے بنی اسرائیل کو بھی اسی طرح آزمایا تھا بلکہ خود حضرت اسماعیل عليهالسلام کے معاملے میں بھی حضرت ابراہیم عليهالسلام کا اسی طرح کا امتحان لیا تھا _
قریش اور انصار
انصار کے خلاف قریش کے جذبات اور عزائم کے مطالعے کے سلسلے میں سب سے پہلے جنگ بدر کے بعد کہے گئے ابوسفیان کے مندرجہ ذیل اشعار کا مطالعہ ضروری ہے _
____________________
۱)تاریخ طبری ط الاستقامة ج/۴ ص ۵۲۱_
۲) ملاحظہ ہو: امالی شیخ صدوق ص ۱۰۲، فرائد السمطین ج ۲ ص ۳۶، بحار الانوار ج ۲۸ ص ۳۷، ص ۳۸، ص ۴۱، ص ۵۱و ص ۸۱و ج ۴۳ ص ۱۷۲و ص ۱۵۶ ، العوالم ص ۲۱۶، ص ۲۱۷و ص ۲۱۸، کشف الغمہ اربلی ج ۲ ص ۳۶، انساب الاشراف بلاذری و مسند ابویعلی ج ۱ ص ۴۲۷، مجمع الزوائد ج ۹ ص ۱۱۸ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص ۱۳۹، المطالب العالیہ ج ۴ ص ۶۱ طبع دار المعرفہ_
آلیت لا اقرب النساء و لا
یمس راسی و جلدی الغسل
حتی تبیروا قبائل الاوس والخزرج
ان الفؤاد یشتعل
میں نے قسم کھالی ہے کہ جب تک اوس و خزرج کو نابودنہیں کردوں گا تب تک میں عورتوں کے قریب جاؤں گا نہ اپنے جسم کے کسی حصے کو دھوؤں گا_ کیونکہ دل مسلسل آگ میں جل رہاہے_
اس بات کو انصار بھی اچھی طرح جانتے تھے _اسی لئے جب پیامبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت ہوئی تو انصار نے بہت گریہ کیا کیونکہ انہیں معلوم نہ تھا کہ لوگ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے چلے جانے کے بعد ان کے ساتھ کیا کریں گے(۱) _
ان لوگوں نے سعد بن عبادہ کی بیعت بھی صرف اور صرف اسی خیال کے تحت کی _اس بات کو حباب بن منذر نے سقیفہ کے دن یوں بیان کیا:'' ہمیں تو اس بات کا ڈرہے کہ حکومت تمہارے بعد ان لوگوں کے ہاتھ آجائے گی جن کے آباء و اجداد ، بھائیوں اور بیٹوں کو ہم لوگ قتل کرچکے ہیں ''_(۲) حضرت علی عليهالسلام نے سعد بن عبادہ کے اپنے لئے بیعت طلب کرنے کی وجوہات بھی بیان کی ہیں _ آپ عليهالسلام نے اپنے اصحاب کو ایک خط میں لکھا : ''جب سعد نے دیکھا کہ لوگ ابوبکر کی بیعت کرنے لگے ہیں تو اس نے پکار کر کہا کہ لوگو خدا کی قسم جب میں نے دیکھا کہ تم لوگ حضرت علی عليهالسلام سے روگردانی کرچکے ہو تب میں نے یہ کام کیا _ او رجب تک علی عليهالسلام بیعت نہیں کرتے میں بھی تم سے بیعت نہیں لیتا _ اور علی عليهالسلام کی خاطر میں کچھ بھی نہیں کروں گا چاہے وہ بیعت کر بھی لیں ''_ نیز اسی خط میں ہی ایک جگہ تحریر ہے کہ انصار نے کہا : '' پس اگر تم حکومت علی عليهالسلام کے سپرد نہیں کرتے تو ہمارا سردار دیگر تمام لوگوں سے زیادہ اس کا حق دار ہے ''(۳) اس سے واضح ہوتا ہے کہ انصار نے یہ سب کچھ اس لئے کیا کہ انہیں یہ یقین ہوگیا تھا کہ عرب اور قریش مل کر علی عليهالسلام کو اقتدار نہیں دینا چاہتے، جبکہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کو سخت ،
____________________
۱) مسند احمد ج ۵ ص ۳۳۹ و مجمع الزوائد ج ۹ ص ۳۴ از مسند احمد _
۲) حیاة الصحابہ ج ۱ ص ۴۲۰_
۳) معادن الحکمة ص ۱۵۳ و ۱۵۴ ، نیز اسی کتاب کے ص ۴۷۰، تا ۴۷۳ کا حاشیہ بھی ملاحظہ فرمائیں تو اس میں کثیر منابع تحریر ہیں _
غلیظ اور( نعوذ باللہ ) توہین آمیز الفاظ میں تحریر لکھنے سے منع کئے جانے اور پھر اسامہ کے لشکر کی روانگی میں تاخیر اور دیگر واقعات و حالات سے ان کا یہ یقین مزید پختہ ہو گیا تھا _
آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعدوہی ہوا جس کاڈر تھا یعنی انصار کو مصیبتوں نے گھیر لیا ،ان پر مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، ساری قوتیں ، ترجیحات اور اہمیتیں مہاجرین کو حاصل ہوگئیں_ یہ اس بات کی تائید و تصدیق تھی جو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں بتایا تھا کہ میرے بعد تم لوگوں پر مصیبتیں آئیں گی_ پھر فرمایا تھا کہ تم لوگ صبر کرنا یہاں تک حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کرو_(۱)
مندرجہ ذیل امور اسکی دلیل ہیں_
۱ _ محمد بن مسلمہ نے جب قریش کو قیمتی پوشاکیں پہن کر تکبر کرتے ہوئے دیکھا تو مسجد میں آکر بلند آواز سے تکبیر بلند کی جس پر حضرت عمر نے اسے بلوا یا اور اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے تکبر و خودپسندی کے اس منظر کو بیان کیا پھر کہا : ''استغفر اللہ میں دوبارہ یہ کام نہیں کروں گا ''(۲) _ حالانکہ محمد بن مسلمہ حکمران طبقے کے قریبیوں اور انتہائی وفادار یا رو انصار میں سے تھا جس پر وہ اطمینان و اعتماد کا اظہار کیا کرتے تھے_
۲ _ حضرت عمر نے اپنی خلافت کے آخری ایا م میںمالداروں کا زائد مال لے کر مہاجرین کے فقیروں میں تقسیم کرنے کا ارادہ کیا(۳) _
۳_ حضرت عمر جمعہ کے دن دو اہم کام کیا کرتے ایک یہ کہ مہاجرین کے یتیموں کے اموال کی دیکھ بھال کرتے تھے اور دوسرا غلاموں کے حالات کا جائزہ لیتے(۴) _
____________________
۱) ملاحظہ ہو : حیاة الصحابہ ج ۱ ص ۴۰۹ و ص ۴۱۱ و ص ۴۱۴_
۲)حیاة الصحابہ ج/ ۱ ص ۴۱۳ ،کنز العمال ج/ ۱ ص ۳۲۹ ،از ابن عساکر _
۳)ہمارے مضمون '' ابوذر سو شلسٹ ، کیمونسٹ یا مسلمان''کا آخری حصہ ہماری کتاب ''دراسات و بحوث فی التاریخ والاسلام'' میں ملاحظہ کریں_
۴) المصنف ج/۲ ص ۳۴۹ اوراس کے حاشیہ ج/۱ص ۶۹ پر مالک سے _
۴ _ حضرت عمر انصار کی ضروریات اور درخواستوں کا کوئی خیال نہ رکھتے تھے البتہ ابن عباس اگر کبھی رابطہ کرتے تو کچھ کردیتے_(۱) _
۵ _ صرف بنی ہاشم ہی تھے جو انصار کا خیال رکھتے تھے حضرت عمر کے زمانے کے بعدتو انصار کے حالات مزید بگڑ گئے حتی کہ :
۶ _ یزید نے کعب بن جعیل کو بلایا اوراس سے انصار کی برائی بیان کرنے کا مطالبہ کیا _ کعب نے اس سے کہا: '' کیا تم مجھے دوبارہ شرک کی طرف پلٹاناچاہتے ہو_ کیا میں اس قوم کی برائی بیان کرو ں جس نے رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی نصرت کی اور انہیں پنا ہ دی ؟'' اس کے بعد کعب نے یزید کو اخطل نصرانی کے متعلق کہا جس نے یزید کی فرمائشے پر یہ شعر پڑھا_
ذهبت قریش بالسماحة والندی
واللؤم تحت عمائم الانصار(۲)
قریش نے بڑی سخاوت اور فیاضی کا مظاہرہ کیا لیکن انصار کے عماموں تلے کمینگی چھپی ہوئی ہے_
۷ _ اسکے بعد یزید نے'' حرہ '' کے واقعہ میں ظلم و جنایات کی حدیں توڑ کے رکھ دیں_ اس واقعہ میں انصار کے عزیزوں کو ذلیل کیا گیا ، ان کی ہتک حرمت کی گئی ، ان کی عزتوں کو لوٹا گیااور ان کے مردوں کو قتل کردیا گیا_ یہ واقعہ اموی حکمرانوں کے ننگ و عار کا منہ بولتا ثبوت ہے اور انکے ماتھے پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کلنک کاٹیکا بن کے رہ گیا _ امویوں نے پرانے بغض ،کینے اور دشمنی کی بناپر ذلت و عار کا ارتکاب کیالیکن یہ رسوائی ہمیشہ کے لئے کینہ پرور اموری حکمرانوں اور ان کے چاہنے والوں اور پیروکاروں کے دامن پر کبھی نہ مٹنے والا داغ بن گئی ہے _
____________________
۱) حیاة الصحابہ ج/ ۱ ص ۴۱۴ ، ۴۱۵، ۴۱۶_
۲)الشعر والشعراء لابن قتیبة ص ۳۰۲_
تاریخی دغابازی
مدائنی کہتاہے کہ مجھے ابن شہاب نے بتایا ،اس نے کہا کہ مجھے خالد بن عبداللہ القسری نے کہا کہ میرے لئے نسب نامہ لکھو _میں نے ''مضر'' کے نسب نامے سے شروع کیا _ ابھی اسے مکمل بھی نہ کیا تھا کہ اس نے کہا : ''اس کو کاٹ دو ، کاٹ دو _ اللہ ان کی جڑیں کاٹے ''_ پھر اس نے کہا :'' میرے لئے کوئی سیرت تحریر کرو'' _ میں نے کہا : '' اگر کہیں حضرت علی بن ابن طالب کی سیرت کا ذ کر آجائے تو کیا اسے بھی لکھوں ؟'' تو خالد نے کہا : ''نہیں ،لیکن صرف اس صورت میں کہ اسے جہنم کی اتھاہ گہرائیوں میں دکھاؤ'' (خدا خالد اور اسکے چاہنے والوں پر لعنت کرے اور امیر المؤمنین علی علیہ السلام پر اللہ کا درود و سلام ہو)(۱)
جب معاویہ کو حضرت علی علیہ السلام کا اپنے فضائل پر مشتمل خط ملا تو اس نے کہا : '' اس خط کو چھپا دو کہیں شامیوں کے ہتھے نہ چڑھ جائے و گرنہ وہ علی بن ابی طالب کے حامی بن جائیں گے''(۲) _ ہشام بن عبدالملک نے اعمش کو خط لکھ کر اس سے عثمان کے فضائل اور حضرت علی عليهالسلام کی برائیاں لکھنے کا مطالبہ کیا لیکن اس نے انکار کردیا(۳) _ شعبی کہتا ہے کہ اگر میں حضرت علی عليهالسلام پر جھوٹ گھڑ نے کے بدلے میں ان امویوں سے غلام بننے یا گھر سونے سے بھر دینے کا مطالبہ بھی کرتا تو وہ ایسا کر گذرتے(۴) _ ابو احمد عسکری کا کہنا ہے کہ اوزاعی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے (حدیث کساء کے علاوہ ) فضائل اہل بیت عليهالسلام کی کوئی روایت ذکر نہیں کی ، واللہ اعلم _ اسی طرح زہری نے بھی صرف ایک حدیث ذکر کی ہے _ یہ دونوں بنی امیہ کے مظالم سے ڈرتے تھے _(۵) ان مؤرخین کی اس تاریخی دغابازی پر یہی دلیل کافی ہے کہ مورخین کے اس دعوے کے باوجود کہ جنگ جمل میں سات سو مہاجر اور انصار ، ستر یا اسی بدری اور بیعت شجرہ میں شامل دو سو صحابی حضرت علی عليهالسلام کے ساتھ تھے(۶) (شعبی کے بقول ) دشمنان علی عليهالسلام اور تاریخی دھوکہ باز مؤرخین کی ڈھٹائی اس حد
____________________
۱)الاغانی ج/ ۱۹ ص ۵۹_ (۲) معجم الادباء ج ۵ ص ۲۶۶_ (۳) شدرات الذہب ج ۱ ص ۲۲۱_
۴) تاریخ واسط ص ۱۷۳_ (۵) اسعد الغابہ ج ۲ ص ۲۰_
۶) المعیار و الموازنہ ص ۲۲، مستدرک حاکم ج ۳ ص ۱۰۴، الغدیر ج ۱۰ص ۱۶۳ از صفین و ص ۲۶۶ تا ص ۲۶۸ و از شرح نہج البلاغہ ج ۱ ص ۴۸۳و جمہرة خطب العرب ج ۱ ص ۱۷۹و ص ۱۸۳ _
تک بڑھ گئی کہ وہ یہ کہنے لگے : '' جس کو یہ گمان ہو کہ جنگ جمل میں چار سے زیادہ بدری صحابی موجود تھے اسے جھٹلادو _ علی عليهالسلام اور عمار ایک طرف اور طلحہ اور زبیر بھی ایک طرف تھے''(۱) _ اسکافی کہتا ہے کہ معاویہ نے صحابہ اور تابعین کے ایک گروہ کو پر کشش تنخواہ اور مراعات پر صرف اس لئے ملازم رکھا ہوا تھا کہ وہ حضرت علی عليهالسلام کے خلاف ایسی گھٹیا حدیثیں گھڑیں جس سے لوگ حضرت علی عليهالسلام سے متنفر ہوجائیں اور آپ عليهالسلام پر انگلی اٹھانے لگیں _ اور انہوں نے بھی معاویہ کی من پسند حدیثیں گھڑیں _ ان صحابیوں میں ابوہریرہ ، عمروبن عاص اور مغیرہ بن شعبہ بھی تھے اور تابعیوں میں عروة بن زبیر نام آور ہے(۲) _ نیز معاویہ شامیوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ حضرت علی عليهالسلام اور آپ عليهالسلام کے ساتھی بے نمازی ہیں(۳) _
یہی معاملہ انصار کے ساتھ بھی تھا_ زبیر بن بکار کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ سلیمان بن عبدالملک جب ولی عہد تھا حج کرنے کے لئے نکلا اور مدینے سے گزرا تو ابان بن عثمان سے کہا کہ وہ پیامبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت اور غزوات کا حال تحریر کرے_ ابان نے کہا : '' صحیح سیرت کا ایک نسخہ میرے پاس ہے جسے میں نے بہت مؤثق آدمی سے لیا ہے'' _ سلیمان نے کہا: '' اس سے ایک نسخہ تیار کرو'' ابان نے نسخہ تیار کیا اور لے گیا _ جب سلیمان نے اس پر نگاہ دوڑائی تو دیکھا کہ عقبتین ( عقبہ اولی اور عقبہ ثانیہ کے معروف واقعے ) میںانصار کا ذکر ہے اورجنگ بدر میں بھی انصار کا ذکر ہے تو اس نے کہا کہ میں تو ان لوگوں کے لئے کسی ایسی فضیلت کا قائل نہیں _ اس واقعہ میں یا تو ہمارے خاندان کے متعلق جھوٹ لکھا گیا ہے یا پھر انصار ایسے نہیں تھے _
ابان نے کہا : ''اے امیر شہید مظلوم(۴) کے ساتھ ان کی ظلم و زیادتی ہمارے حق بات بیان کرنے سے مانع تو نہیں ہے _ وہ لوگ ایسے ہی تھے جیسے اس کتاب میں تحریر ہے '' _
سلیمان نے کہا :''جب تک میں امیر المؤمنین سے پوچھ نہ لوں مجھے اس نسخے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ
____________________
۱) العقد الفرید ابن عبدربہ ج ۴ ص ۳۲۸ _ (۲) شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۴ ص ۶۴_
۳)الغدیر ج ۹ ص ۱۲۲ از صفین منقری ص ۴۰۲ و تاریخ طبری ج ۶ ص ۲۳ و شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۲ ص ۲۷۸ و از الکامل فی التاریخ ج ۳ ص ۱۳۵_
۴) یہاں شاید مراد حضرت عثمان ہیں جنہیں اپنے محل میں قتل کردیا گیا تھا _ مترجم
ہوسکتاہے وہ مخالفت کریں'' پس اس نے اس کتاب کو جلانے کا حکم دیا _
جب سلیمان و اپس پہنچا اور اپنے باپ کو سب کچھ ذکر کیاتو عبدالملک نے کہا : ''ایسی کتاب کی تمہیں کیا ضرورت ہے جس میں ہماری فضیلت بیان نہ ہوئی ہو ؟ تم شامیوں کو وہ باتیں بتانا چاہتے ہو جسے ہم نہیں چاہتے کہ وہ جانیں '' _ اس نے جب اس نسخے کے پھاڑ نے(۱) کی اطلاع دی تو عبدالملک نے اس کے اس کام کو سراہا _
پھر یہ روایت ، سلیمان کے قبیصہ بن دؤیب کو سارا ماجرا بیان کرنے اور اس کے جواب کے بعد کہتی ہے کہ : پس سلیمان نے کہا :'' اے ابواسحاق کیا مجھے امیر المؤمنین اور انکے خاندان کی جانب سے انصار سے دشمنی اور انہیں اتنا پسماندہ رکھنے کی وجوہات کے متعلق نہیں بتا ئیں گے ؟''
اس نے جواب دیا: '' بھتیجے اس کا آغاز کرنے والا معاویہ بن ابی سفیان تھا _اس کے بعد عبدالملک کے والد اور پھر تمہارے والدنے یہ کام کیا '' _ سلیمان نے کہا: '' کس بنیاد پر ایسا ہوا ؟'' اس نے جواب دیا : ''خدا کی قسم میںابھی تمہیں بتانا ہی چاہتا تھا '' _ پھر کہا : ''' انصار نے بنی امیہ کے بہت سے لوگوں کو قتل کیا اور ان کی ایک رسوائی حضرت عثمان کا قتل بھی ہے _ اس وجہ سے بنی امیہ نے ان سے کینہ روا رکھااور ان سے غضبناک رہے اوریہ کینہ انہوں نے نسل در نسل پروان چڑھایا لیکن میں تو امیر المؤمنین کے متعلق پہلے یہ گمان کرتا تھا کا ان کہ انصار کے ساتھ رویہ دوسروں سے مختلف ہوگا اب تم یہ بات اس سے جاکر پوچھ سکتے ہو ''_
سلیمان کہنے لگا:'' اللہ کی قسم میں ایسا ہی کرونگا'' وہ بولتا رہا اور قبیصہ بھی وہاں موجود تھا _ اسی نے جاکر عبدالملک کو ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کی رو داد سنائی تو عبدالملک نے کہا :''اللہ کی قسم میں اس کے علاوہ کچھ کرہی نہیں سکتا _ان کا ذکر بھی اب چھوڑو _ ''
____________________
۱) چند سطر اوپر اس کتاب کے جلائے جانے کا ذکر ہے لیکن یہاں پھاڑنے اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا ذکر ہے _ بظاہر تو اس واقعہ میں تضاد پایا جاتا ہے لیکن دستاویز چونکہ عربی زبان میں ہے اور عربی میں جلانے کو (حرق) اور پھاڑنے کو ( خرق) کہتے ہیں اس لئے اس میں صرف ایک نکتہ کا فرق ہے جو شاید طباعت کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے بہر حال یہ فیصلہ یہاں مشکل ہے کہ '' حرق'' ہے یا '' خرق'' البتہ اصل منبع اور مآخذ سے معلوم ہوسکتا ہے _ مترجم
اسکے بعد سب لوگ خاموش ہوگئے(۱) لیکن قبیصہ کی یہ بات صحیح نہیں ہے کہ انصار کی محرومیوں کا دور معاویہ کے زمانے سے شروع ہوا _
انصار کی مایوسیوں کا دور تو حضرت عمر بلکہ حضرت ابوبکر کے زمانے سے شروع ہوا تا ہم یہاں تحقیق کا مقام نہیں_ بہر حال کسی انصاری نے یہ اشعار کہے ہیں_
ویل امها امة لو ان قائدها
یتلوا الکتاب و یخشی العار والنار
اما قریش فلم نسمع بمثلهم
غدراً و اقبح فی الاسلام آثارا
ضلوا سوی عصبة حاطوا نبیهم
بالعرف عرفا ً و بالانکار انکارا(۲)
کتنی اچھی ہے وہ قوم جس کا سردار جب بھی قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو گناہ اور جہنم کے تصور سے بھی ڈرتا ہے _لیکن قریش کی خیانت اور اسلام میں انکے انتہائی مکروہ اعمال کی مثال ہم نے کبھی نہ سنی _ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے سب سے قریبی رشتہ داروں کے علاوہ سب کے سب گمراہ ہیں _ بہرحال اچھائی کا بدلہ بھی اچھائی ہوتا ہے جبکہ برائی کا بدلہ برائی ہے _
ایک اور انصاری نے کہا ہے_
دعاها الی حرماننا و جفائنا
تذکر قتلی فی القلیب تکبکبوا
____________________
۱)اخبار الموفقیات ص ۳۳۲ _ ۳۳۴_
۲) الحور العین ص ۲۱۵_
فان یغضب الابناء من قتل من مضی
فو الله ما جئنا قبیحاً فتعتبوا(۱)
انہوں نے ہمیں محرومیاں دیںاور ہم پر ظلم کی داستان رقم کی _وہ جنگ بدر کے اپنے مقتولین کو یاد کر کے تڑپتے اور لوٹتے رہتے ہیں _ ماضی میں بڑوں کے قتل سے اگر ان کے بیٹے آج ہم پر غضبناک ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے کوئی برا کام نہیں کیا تھا جس پر وہ ہم پر غصہ ہو رہے ہیں_
ھ: انصار کے متعلق پیامبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کی تاکید:
امویوں کی انصار سے دشمنی اپنے مقتولین کی وجہ سے نہیں بلکہ در اصل اسلام سے دشمنی تھی اور اسی اسلام دشمنی کی وجہ سے وہ انصار کے بھی دشمن ہوگئے تھے کیونکہ انصار نے خدا اور اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کی تھی اور خدا نے ان کے ذریعہ سے شرک کو مٹایا تھا اور مشرکوں کو ذلت اور رسوائی سے دوچار کیا تھا _ یہی علت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بار بار تاکید فرمائی کہ انصار سے محبت کرواور ان کا احترام کرو کیونکہ انہوں نے ہی اس دین کو پناہ دی ، اس کی نصرت کی اور ان کے پاس جو کچھ بھی تھااسے اس دین کے لئے وقف کردیا _ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے انصار کی محبت کو ایمان اور ان سے نفرت کو نفاق شمار فرمایا(۲) اور فرمایا: '' جس نے انصار سے محبت کی اس نے میرا دل جیت لیا اور جس کسی نے انصار سے دشمنی اور نفرت کی اس نے میری دشمنی اور غضب کو للکارا''(۳) _
____________________
۱) الحورالعین ص ۲۱۵ از امیرنشوان حمیری _
۲)مسند احمد ج ۵ ص ۲۸۵و ج ۶ ص ۷، ج ۴ ص ۲۸۳و ص ۲۹۲و ج ۳ ص ۱۳۰ ، نیز انصار کے فضائل کے متعلق ملاحظہ ہو مسند احمد ج ۴ ص ۷۰ و ج ۶ ص ۳۸۲، مسند ابویعلی ج ۷ ص ۱۹۱ و ۲۸۵و ۲۸۵، منحة المعبود ج ۲ ص ۱۳۸و ۱۳۸، صحیح مسلم ج ۱ ص ۶۰ سنن ابن ماجہ ج ۱ ۵۷ ، ۵۸، ۱۴۰ ، صحیح بخاری ج ۲ ص ۱۹۸و ۱۹۹ و مجمع الزوائد ج ۱۰ ص ۳۹ ، ۴۰_
۳) مجمع الزوائد ج۹ ص ۳۷۶ عن الطبرانی فی الصغیر و الکبیر، البدایة والنہایة ج۳ ص ۲۰۳ ، فتح الباری ج۱ ص ۵۹ ، ۶۰ ، مجمع الزوائد باب حب الانصار ج۱۰ ص ۲۸ ، ۴۲ اس کے علاوہ کتب احادیث میں ایک باب انصار کے فضائل سے مخصوص ہے_
یہ زیادہ تر انصار ہی تھے جنہوں نے اکثر مہاجرین کے برخلاف اہل بیت عليهالسلام اور امیر المومنین عليهالسلام کی راہ میں قربانیاں دیں _اس کے برخلاف مہاجرین ایسے نہ تھے_ جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں انصار نے امیر المؤمنین عليهالسلام کا ساتھ دیا_انصار کے دلوں میں حضرت علی عليهالسلام کے مقام ، مرتبے اور احترام کی دلیل عمروبن عاص کی زبیر بن بکار کے ذریعہ بیان کردہ وہ روایت ہے جس میں آیا ہے کہ سعد بن عبادہ کے لئے بیعت لینے کی انصار کی ناکام کوششوں کے بعد مسجد نبوی میں عمرو بن عاص نے انصار کے خلاف بہت سخت اور غلیظ زبان استعمال کی _ زبیر کہتا ہے : '' پھر جب وہ متوجہ ہوا تو وہ عباس بن عبدالمطلب کے بیٹے فضل کو دیکھ کر اپنے کئے پر بہت نادم ہوا کیونکہ ایک تو جناب عبدالمطلب کی اولاد کی انصار کے ساتھ ننھیالی رشتہ داری تھی اور دوسرا انصار بھی اس وقت حضرت علی عليهالسلام کی بہت تعظیم کیا کرتے تھے اور ان کا دم بھرتے تھے '' پھر روایت یہ بتاتی ہے کہ کس طرح حضرت علی عليهالسلام نے مسجد میں آکر انصار کا دفاع کیا _ یہ واقعہ بہت طویل ہے(۱) _ بنی ہاشم نے انصار کا ساتھ ا س لئے دیا کہ ایک تو پیامبر گرامی اسلام کی وصیت تھی _اور دوسرا سقیفہ کے دن جب سعد بن عبادہ کی بیعت نہ ہوسکی تو انہوں نے کہا کہ ہم صرف علی عليهالسلام کی بیعت کریںگے(۲) یہ حضرت علی عليهالسلام ہی تھے جنہو ں نے قریش کے بڑے بڑے سور ماؤں اورمتکبروں کو ہلاک کیا تھا_
ان ساری باتوں کی وجہ غالباً یہ تھی کہ یہ لوگ صحیح معنوں میں با ایمان اور پکے دین دار تھے اور انہیں دین کا گہرا شعور حاصل تھا _یہاں تک کہ ان کی خواتین بھی ایسی ہی تھیں _یہاں یہ ذکر بھی کرتے چلیں کہ علماء کہتے ہیں کہ اصحاب رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کا سارا علم انصار کے پاس تھا(۳) نیز حضرت عائشہ انصار کی خواتین کے بارے میں فرماتی ہیں : '' اگر چہ قریش کی عورتوں کی فضیلت بہت زیادہ ہے لیکن خدا کی قسم میں نے انصار کی عورتوں سے زیادہ با فضیلت کسی کو نہیں دیکھا، اللہ کی کتاب کی تصدیق کرنے میں ان سے زیادہ قوی کوئی نہیں اور نہ ہی نزول قرآن پر ایمان میں ان سے کوئی آگے ہے''(۴) _
____________________
۱) الموفقیات ص ۵۹۵ و ۵۹۶و شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۶ ص ۳۳_
۲) تاریخ ابن اثیر ج ۲ ص ۳۲۵_ (۳) التراتیب الاداریہ ج ۲ ص ۳۲۵_
۴)الدرالمنثور ج/۵ ص۴۲ از ابن ابی حاتم، ابی داود،ابن مردویہ ، تفسیر ابن کثیر ج/۳ ص ۲۸۴، مسند ابوعوانہ ج ۱ ص ۳۱۷ و حیاة الصحابہ ج ۳ ص ۸۷_
حضرت عائشہ ہی سے روایت ہے :'' انصار کی خواتین سب سے بہترین خواتین ہیں وہ دین سیکھنے کے لئے بالکل بھی نہیں شرماتیں ''(۱) _
جنگ انصار پر معاف نہ تھی:
گذشتہ بحث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انصار کو جنگوں میں بالکل شرکت ہی نہیں کرنا چاہئے تھا _ کیونکہ اس مسئلے کا تعلق اسلام سے ہے اور اسلام تو ساری امتوں بلکہ تا ابد تمام بنی نوع بشر کے لئے ہے_
اس کی اہمیت اور اس کو در پیش خطرات بہرحال انصار کی اہمیت اور انہیں قریش کی طرف سے در پیش خطرات سے زیادہ ہیں خاص کر اس صورت میں جب اس قسم کی صورتحال کے رد عمل کے طور پر اسلام ، ان کی حفاظت کی ضروری ضمانت بھی فراہم کرتا ہے البتہ جو کچھ ہوا وہ امت کے اسلامی قوانین پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ تھا اور نہ ہی ان ضمانتوں کا خیال رکھا گیا _ اور یہ ایک علیحدہ بات ہے _
پس انصار کے لئے جنگ میں شرکت کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا البتہ یہ بھی ضروری تھا کہ قریش اور اسلام دشمنوں کے کینے کی شدت کم کرنے کے لئے کوئی عملی کام کیا جائے تا کہ مستقبل میں انصار کو در پیش مشکلات اور خطرات میں کچھ حد تک کمی کی جائے _ اور ہوا بھی اسی طرح_ انشاء اللہ جنگ بدر کی بحث میں قریش اور انصار کے مسائل پر مزید بات ہوگی_
____________________
۱)_ ملاحظہ ہو: صحیح بخاری ج۱ ص ۲۴ ، المصنف عبدالرزاق ج ۱ ص ۳۱۴،ا س کے حاشیہ میں ہے کہ یہ روایت بخاری ، مسلم اور ابن ابی شیبہ سے منقول ہے ، کنز العمال ج ۵ ح ۳۱۴۵ نیز خواتین انصار کی علم دین سیکھنے کی کوششوں سے متعلق ملاحظہ ہو: التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۳۲۱_
۲۲۹
چھٹا باب:
غزوہ بدر کا عظیم معرکہ
پہلی فصل : جنگ کی فضاؤں میں
دوسری فصل : جنگ کے نتائج
تیسری فصل : مال غنیمت اور جنگی قیدی
چوتھی فصل : سیرت سے مربوط کچھ ابحاث
پہلی فصل :
جنگ کی فضاؤں میں
قریش کی ناکام سازش
نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے مدینہ رہنے کے کچھ عرصہ بعد ،جنگ بدر کے واقعہ سے پہلے ،جن دنوں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ میں تشریف فرما تھے ، کفار قریش نے عبداللہ ابن ابی بن سلول اور اوس و خزرج کے بت پرستوں کو ایک دھمکی آمیز خط لکھا جس میں تحریر تھا :
'' مدینہ والوں نے ہمارے ایک مطلوبہ آدمی کو پناہ دے رکھی ہے ، حالانکہ مدینہ والوں میں تمہاری تعداد بہت زیادہ ہے یا تو تم لوگ اسے قتل کر ڈالو یا اسے نکال باہر کرو نہیں تو پھر ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یا تو پورے عرب کو تمہارے بائیکاٹ پر اکٹھا کرلیں گے یا پھر ہم سب مل کرتمہارے اوپر چڑھائی کردیں گے اور اس صورت میں تمہارے تمام جنگجوؤں کو تہہ تیغ اور تمہاری عورتوں کو اپنے لئے حلال کردیں گے '' _
جب یہ خط عبداللہ بن ابی اور اس کے بت پرست ساتھیوں تک پہنچا تو انہو ں نے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کر کے سب کو اکٹھا کیا اور سب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے قتل پر متفق ہوگئے _ جب یہ خبر نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب تک پہنچی تو انہوں نے ایک گروہ کی صورت میں ان لوگوں سے ملاقات کی اور کہا : '' قریش کی دھمکیوں سے تم بہت ہی زیادہ متاثر ہوگئے ہو _ وہ تمہارے خلاف اتنی بڑی چال نہیں چل سکتے جتنی بڑی تم خود اپنے خلاف چل رہے ہو _تم تو اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو قتل کرنا چاہتے ہو _'' پس جب انہوں نے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کی زبانی یہ الفاظ سنے تو منتشر ہوگئے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے قتل سے دستبردار ہوگئے _ اور جب یہ بات قریش تک پہنچی تو ( وہ بہت جزبز ہوئے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف جنگ کی ترکیبیں سوچنے لگے جس کے نتیجے میں ) جنگ بدر کا واقعہ رونما ہوا(۱) _
____________________
۱)المصنف صنعانی ج ۴ ص ۳۵۸ و ۳۵۹_
بدر کی جانب روانگی:
سترہ(۱۷) رمضان المبارک ۲ ہجری میں مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان بدر عظمی کی جنگ ہوئی _اور وہ اس طرح کہ غزوة العشیرہ میں مسلمانوں نے قریش کے جس قافلے کا پیچھا کیا تھا وہ ان سے بچ بچا کر شام نکل گیا تھا _آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم پھر بھی اس کی تاک میں تھے ، یہاں تک کہ اس کی واپسی کا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو علم ہوا _ یہ قافلہ ابو سفیان کی قیادت میں کم و بیش تیس(۳۰) یا چالیس(۴۰) یا زیادہ سے زیادہ سترہ(۷۰) سواروں پر مشتمل تھا جس میں قریش کا تجارتی سامان بھی موجود تھا_ اس کی مالیت کے بارے میں اتنا تک بھی کہا جاتا ہے کہ اس سامان کی مالیت پچاس(۵۰) ہزار دینار کے برابر تھی _ حالانکہ اس وقت پیسوں کی بہت زیادہ قیمت ہوتی تھی(۱) _
بہرحال جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس قافلے کی آمد کا علم ہوا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسلمانوں کو اس قافلے کی طرف جانے کا کہا تو لوگوں نے تردید کے ساتھ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی آواز پر لبیک کہا ، کیونکہ بعض تو فوراً آمادہ ہوگئے لیکن کچھ لوگوں نے پس و پیش کیا _ شاید وہ قریش کے انتقامی حملے سے ڈرتے تھے کیونکہ انہیں اس بات کا احساس تھا کہ قریش کے بنیادی مفادات کو نشانہ بنانا ان کے غضب اور انتقام کا باعث بن سکتا ہے _
اس کے متعلق کئی مؤرخین کہتے ہیں :'' نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کی حکم عدولی کرکے بہت سے صحابہ مدینہ میں رہ گئے اور ان لوگوں نے اس مشن پر جانا گوارا نہیں کیا _ اس مشن پر جانے کی بات پر بہت اختلاف اور لے دے ہوئی_ کئی صحابیوں کو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا اس مشن پر جانا بھی اچھا نہ لگا اور بعض صاحب رائے اور با بصیرت افراد بھی اس مشن پر نہیں گئے ، کیونکہ انہیں جنگ چھڑ جانے کا گمان بھی نہیں تھا ، وہ تو یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ لوگ مال غنیمت کے حصول کے لئے جا رہے ہیں_ اور اگر انہیں یہ گمان بھی ہوتا کہ وہاں جنگ بھی چھڑجائے گی تو وہ ہرگز پیچھے نہ رہتے بلکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ نکل پڑتے ''(۲) _
____________________
۱)اس کی مالیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جاسکتا ہے کہ وہ مال دو ہزار سے بھی زیادہ اونٹوں پر لدا ہوا تھا _ مترجم_
۲)ملاحظہ ہو ، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱۴ ص ۸۵ ، المغازی واقدی ج ۱ ص ۲۰ و ۱۲ ، بحار الانوار ج ۱۹ ص ۳۲۸ و سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۴۳_
جبکہ واقدی کہتا ہے :'' رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے کچھ صحابیوں نے بدر جانا گوارا نہیں کیا _ وہ کہنے لگے کہ ہم تعداد میں بہت کم ہیں ،حالانکہ یہ من پسند بات نہیں تھی _ بہر حال اس بات پر صحابیوں میں بہت زیادہ اختلاف پیدا ہوگیا''(۱) خدانے اس واقعہ کی حکایت یوں بیان کی ہے ( کما اخرجک ربک من بیتک بالحقّ و ان فریقاً من المؤمنین لکارهون _ یجادلونک فی الحق بعد ما تبيّن کانّما یساقون الی الموت و هم ینظرون ) (۲) _ ''خدا نے تمہیں (بدر کی طرف نکلنے کے لئے بالکل اسی طرح کہا ہے ) جس طرح گھر سے (ہجرت کے لئے) نکلنے کا کہا تھا _ لیکن اس کے باوجود مؤمنوں کا ایک ٹولہ اسے گوارا نہیں کرتا _ وہ حق کے واضح ہونے کے بعد بھی تمہارے ساتھ ایسے جھگڑتے اور بحث کرتے ہیں گویا کہ انہیں ان کے جانتے بوجھتے ہوئے موت کی طرف زبردستی لے جایا جارہا ہو ''_ جی ہاں وہ اس لئے جانا نہیں چاہتے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ قریش اتنی بڑی بات پر ہرگز چپ نہیں رہ سکتے_
یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مؤرخین کی یہ بات کہ مدینہ رہنے والے صحابیوں کو ہرگز یہ گمان بھی نہیں تھا کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو جنگ کا سامنا بھی کرنا پڑے گا(۳) _ نہ صرف بے جا ہے بلکہ یہ جنگ سے پیچھے رہ جانے والوں کے لئے ناکام اور نہایت نامعقول بہانہ تراشی ہے _ وگرنہ گذشتہ آیت ، مذکورہ نظریئے کے غلط ہونے پر بہترین دلیل ہے_
بہرحال ادھر سے مسلمان تجارتی قافلے کو روکنے کے ارادے سے نکلے تو ابوسفیان کو ادھر اس بات کا علم ہوگیا _ جس پر اس نے ایک قاصد مکہ بھیج کر قریش کو قافلہ بچانے کے لئے بلوایا_
لوگوں سے ڈرنے والے
یہاںیہ کہا جاتا ہے کہ عبدالرحمان بن عوف ، سعد بن ابی وقاص ، مقداد اور قدامہ بن مظعون کو جب مکہ
____________________
۱) المغازی واقدی ج ۱ ص ۱۳۱_
۲)انفال ، ۵،۶_
۳)الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۱۱۶_
میں اذیتیں دی جاتی تھیں تو وہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے مشرکین سے لڑنے کی اجازت مانگتے تھے جبکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم انہیں اس کی اجازت نہیں دیتے تھے _ لیکن پھر جب انہیں لڑائی اور بدر کی طرف جانے کا حکم ملا تو کچھ لوگوں پر یہ بات گراں گذری جس پر یہ آیت نازل ہوئی:
( الم تر الی الذین قیل لهم کفوا ایدیکم و اقیموا الصلوة و آتوا الزکوة اذا فریق منهم یخشون الناس کخشیة الله او اشد خشیة و قالوا ربنا لم کتبت علینا القتال لو لا اخرتنا الی اجل قریب قل متاع الدنیا قلیل و الآخرة خیر لمن اتقی ) (۱)
''ان لوگوں کی حالت تو دیکھو جنہیں یہ کہا گیا تھا کہ ابھی ( لڑائی سے) اپنے ہاتھ روک رکھو اور نماز قائم کرو اور زکات ادا کرو تو ( جب ان پر جنگ فرض کی گئی تو ) ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جس طرح خدا سے ڈراجاتا ہے بلکہ وہ تو اس سے بھی زیادہ ڈرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم پر جنگ کا فریضہ کیوں عائد کیا ہے ؟ تھوڑی دیر اور رک جاتے_ ( اے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم ) ان سے کہہ دو کہ دنیاوی ساز و سامان اور فائدہ بہت کم ہے اورپرہیزگاروں کے لئے آخرت سب سے بہتر ہے''_
لیکن ہم کہتے ہیں کہ مقداد کی شخصیت ، نفسیات اور چند صفحات بعد ذکر ہونے والے اس کے عظیم موقف کی روسے ایسا نہیں لگتا کہ اس پر جنگ کا فریضہ گراں گذرا ہو _ اس پر مزید یہ کہ گذشتہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مذکورہ افراد نے جنگ کے معاملے میں بزدلی دکھائی ہے _ اور ان کا لوگوں سے یہ ڈر اور خوف ، خوف خدا سے بھی بہت زیادہ تھا_ اور اس کی وجہ زندگی اور دنیا سے محبت تھی _ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ مقداد ہرگز بزدل نہیں تھا اور نہ ہی وہ دین اور اسلام کے ارشادات سے ہٹ کر دنیا سے محبت کرنے والا شخص
____________________
۱)بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۰۹ ، مجمع البیان ج ۳ ص ۷۷ و الدر المنثور ج ۲ ص ۱۸۴ از نسائی ، ابن جریر ابن ابی حات ، حاکم اور اس کے مطابق روایت صحیح ہے ، بیہقی در السنن ، عبد بن حمید و ابن منذر _
تھا اور اس کا طرز زندگی ہماری اس بات کی بہترین دلیل ہے_اسی طرح مذکورہ روایت اور آیت میں بھی آیا ہے کہ مذکورہ افراد میں سے بعض پر جنگ ناگوار گذری ہے ، سب پر نہیں _ البتہ مقداد کے علاوہ روایت میں مذکور دیگر افراد کے طرز زندگی اور مختلف موقعوں پر ان کے موقف اور نظریات سے ظاہر ہونے والی دنیا داری اور دنیا سے محبت سے لگتا ہے کہ ان پر جنگ کا فریضہ گراں گذرا ہوگا_
عبدالرحمن بن عوف کے متعلق تو بہر حال کوئی شک نہیں کہ اس نے یہ بات کی ہوگی _ کیونکہ بعض روایات سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے(۱) اور اس شخص نے مرتے وقت بہت مشہور و معروف تر کہ چھوڑا جس کی وجہ سے ابوذر ، عثمان اور کعب الاحبار کے درمیان جھگڑا ہوا(۲) مؤرخین و غیرہ صراحت کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف قریش کا سب سے مالدار شخص تھا(۳) _ شوری کے دن بھی اس کا موقف بہت مشہور ہے _ اسی نے حضرت علی عليهالسلام کے حق میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی تمام وصیتوں اور خدا کے احکام کو پس پشت ڈال دیا تھا _ وہ تو دنیا سے محبت اور دنیا کو اہمیت دینے کی وجہ سے خدا اور اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے احکام کی زیادہ پروا نہیں کیا کرتا تھا_ اور قدامہ کو شراب پینے پر حضرت عمر نے حد میں کوڑے مارے تھے اور اسی نے حضرت علی عليهالسلام کے بیعت سے انکار کیا تھا(۴) _ اور یہ سب کام اس نے دنیا طلبی اور نفسانی خواہشات کی پیروی میں کئے تھے_
اور سعد نے بھی حضرت علی علیہ السلام کی بیعت سے انکار کردیا تھا_ اور جنگوں میں بھی اس نے حق کا ساتھ دینے سے انکار کردیا تھا_ حضرت علی عليهالسلام نے بیت المال سے اس کا الاؤنس کاٹ دیا تھا ، عمار نے اس سے قطع تعلق کرکے بول چال بھی بند کردی تھی اور اسی نے کوفہ کے بیت المال کا کچھ مال غبن کر لیا تھا(۵) _
____________________
۱)در منثور کی روایتوں کے اطلاق سے مذکورہ بات سمجھ میں آتی ہے _ ملاحظہ فرمائیں_ (۲) ملاحظہ ہو : مروج الذہب ج ۲ ص ۳۴۰ ، مسند احمد ج ۱ ص ۶۳ ، حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۱۶۰، الغدیر ج ۸ ص ۳۵۱، انساب الاشراف ج ۵ ص ۵۲، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۳ ص ۵۴و ج ۸ص ۲۵۶ ، تفسیر المیزان ج ۹ ص ۲۵۱ ،۲۵۸ و تاریخ الامم و الملوک و دیگر کتب_ (۳)کشف الاستار عن مسند البزار ج ۳ ص۱۷۲ و مجمع الزوائد ج ۹ ص ۷۲_
۴)قاموس الرجال ج ۷ ص ۳۸۵ اور اس کی شراب خوری کی حد کے متعلق ملاحظہ ہو: الاصابہ ج ۳ ص ۲۲۸و ۲۲۹، الاستیعاب ج ۳ ص ۳۶۱ ، اسد الغابہ ج ۴ ص ۱۹۹ ، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲۰ ص ۲۳_ (۵)قاموس الرجال ج ۴ ص ۳۱۲ ، ۳۱۵_
اس کے علاوہ اور باتیں بھی ہیں جو اس کی دنیا طلبی اور خدا اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے احکام سے لا پروائی پر دلالت کرتی ہیں_ پس ہوسکتا ہے آیت اور روایت کا مدّ نظر یہی افراد ہوں لیکن اس وقت کی سیاست اور سیاست دانوں کے منظور نظر ہونے کی وجہ سے راویوں نے ان کا نام چھپا کر دوسرے افراد کے ساتھ ملا دیا ہو_ اور یہ بات بالکل واضح ہے_
عاتکہ کا خواب
مؤرخین کہتے ہیں کہ عبدالمطلب کی بیٹی عاتکہ نے ایک مرتبہ خواب میں دیکھا تھا کہ اونٹ پر سوار ایک شخص یہ آواز لگاتا آرہا ہے کہ اے آل غالب ( البتہ ایک روایت میں یا آل غُدُر '' اے کمینو'' آیا ہے ) کل صبح کو اپنی قبروں کی طرف نکل پڑو _ پھر ابو قبیس کے پہاڑ سے ایک بڑا پتھر لڑھکا اور مکہ کے تمام گھروں میں اس کا ایک ایک ٹکڑا گرا_
عاتکہ نے یہ خواب اپنے بھائی عباس کو سنا یا اور اس نے عتبہ بن ربیعہ کو یہ خواب سنا یا تو اس نے کہا : ''اس کا مطلب ہے کہ قریش پر مصیبت آنے والی ہے ''_ لیکن ابوجہل نے یہ سن کر کہا :'' لو اب عبدالمطلب کے خاندان میں دوسری نبیہ پیدا ہوگئی ہے_ لات و عُزّی کی قسم ہم تین دن تک صبر کریں گے _ اگر اس کا خواب سچا ہوا تو ٹھیک و گرنہ ہم اپنے درمیان یہ تحریر لکھ لیں گے کہ بنی ہاشم کا گھرانہ عرب کے تمام مردوں اور عورتوں سے زیادہ جھوٹا ہے''_پھر جب تیسرا دن ہوا تو ایک ایلچی یہ آواز لگاتا ہوا آیا :'' اے آل غالب اے غالب کی اولاد غضب ہوگیا ، غضب ہوگیا ''(۱) _
____________________
۱)ملاحظہ ہو : سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۴۳ و ۱۴۴، تاریخ الامم و الملوک ج ۲ ص ۱۳۶و ۱۳۷ ، الروض الانف ج ۳ ص ۴۳ ، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۶۹ از ابن اسحاق ، المغازی واقدی ج ۱ ص ۲۹ ، السیرة النبویہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۵۹ ، دلائل النبوة بیہقی مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج ۳ ص ۲۹ و ۳۰، الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۱۱۶ و ۱۱۷ ، تاریخ الاسلام ( مغازی ) ص ۵۳، بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۴۵ ، البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۳۵۷ و السیرة النبویة ابن کثیر ج ۲ ص ۳۸۲ _
قریش کی تیاری :
قریش کے تمام بڑوں اور سرداروں نے لشکر کی تیاری میں اپنا مال دیا _ اور انہوں نے یہ اعلان بھی کردیا کہ جو بھی اس جنگ پر نہیں جائے گا ہم اس کا گھر تباہ کر دیں گے_ اس لئے جو بھی اس جنگ پر خود نہ جاسکا اس نے اپنی جگہ پر کسی آدمی کو ضرور بھیجا(۱) _ ابولہب نے بھی اپنی جگہ پر عاصی بن ہشام کو ان چار ہزار درہم کے عوض بھیجا جو بقولے جوئے میں ہارنے کی وجہ سے اس کے ذمے واجب الادا تھے(۲) _
امیہ بن خلف کا موقف
امیہ بن خلف جنگ پر جانے میں پس و پیش کر رہا تھا _ کیونکہ کچھ عرصہ پہلے عمرہ کی غرض سے جب سعدبن معاذ مکہ آیا تھا تو دونوں کے درمیان دوستی کی وجہ سے وہ امیہ کے ہاں ٹھہرا _ ایک دن سعد ، امیہ کے ساتھ طواف کرنے نکلا تو راستے میں ابوجہل سے مڈ بھیڑ ہوگئی _ ابوجہل نے سعد سے کہا :'' تم دیکھ لو کہ یہاں کس طرح امن و امان اور اطمینان سے مکہ میں طواف میں مصروف ہو حالانکہ چند چھو کرے بھاگ کر تمہارے پاس آگئے ہیں اور تم یہ سمجھ رہے ہو کہ تم ان کی مدد کر رہے ہو اور انہیں پناہ دے رہے ہو؟ لیکن خدا کی قسم اگر تم ابوصفوان کے ساتھ نہیں ہوتے تو اپنے گھر تک صحیح سالم واپس نہیں جاسکتے تھے'' _ سعد نے اس سے اونچی آواز میں بات کرتے ہوئے کہا :'' اگر تم مجھے یہ دھمکی دے رہے ہو تو میں تمہیں اس سے بڑی اور سخت دھمکی دے سکتا ہوں _ تمہارا ( تجارتی ) راستہ مدینہ سے ہی گذرتا ہے''_امیہ نے اپنے گمان میں سردار مکہ کی آواز سے اپنی آواز اونچی کرنے پر سعد کو ٹوکا تو سعد نے کہا :'' چھوڑ دو مجھے ، خدا کی قسم میں نے خود رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا سے یہ بات سنی ہے کہ وہ تم لوگوں کو قتل کرنے والے ہیں'' _ جس پر امیہ نے کہا :'' کیا مکہ میں آکر؟'' _ تو سعد نے کہا : '' یہ میں نہیں جانتا '' _ امیہ نے کہا : '' خدا کی قسم محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا'' _ اور
____________________
۱)السیرة النبویہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۶۱_
۲) اسیرة الحلبیہ ج ۲ ص ۱۴۵، انساب الاشراف ج ۱ ص ۲۹۲، السیرة النبویة ابن ہشام ج۲ ص ۲۶۱، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۷۰ ، المغازی واقدی ج ۱ ص ۳۳، تاریخ الامم و الملوک ج ۲ ص ۱۳۷ و البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۵۸_
وہ بہت گھبرا گیا ( یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے اسی گھبرا ہٹ اور خوف میں اپنے کپڑے گیلے کردیئے اور مکہ سے کبھی نہ نکلنے کا تہیہ کرلیا _ اسی بنا پر وہ مکہ سے نکلنے سے ہچکچا رہا تھا _ پھر جنگ بدر کے موقع پر ابوجہل نے امیہ سے ساتھ جانے کے لئے بہت اصرار کیا _حتی کہ یہاں تک بھی کہا جاتا ہے کہ عقبہ بن ابی معیط اس کے پاس دھونی والی انگیٹھی لے آیا اور اس نے اس کے سامنے انگیٹھی رکھ کر کہا : '' لو عورتوں کی طرح بیٹھ کر دھونی دو کہ تم نامرد ہو'' _ جس پر اس کی غیرت کی رگ پھڑ کی اور جانے کا پکا ارادہ کرلیا حالانکہ اس کی بیوی نے یہ کہہ کر اسے روکنا بھی چاہا کہ دیکھ لو خدا کی قسم محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم جھوٹ نہیں بولتا لیکن وہ جانے پر مصمم ہی رہا اور بدر میں ماراگیا(۱) _
مذکورہ واقعہ پرچند نکات
یہاں مندرجہ ذیل تین نکات کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے:
۱_یہاں پر قابل ملاحظہ بات سعد کی ابوجہل کو ''مدینہ کے راستے میں اس پر ڈاکہ ڈالنے اور اس کا راستہ روکنے ''کی دھمکی ہے _ اور اس دھمکی پر عملدار آمد ابوجہل کی'' مدینہ والوں کو مکہ نہ آنے دینے ''کی دھمکی سے زیادہ سخت تھی اور ابوجہل پر یہ بات نہایت گراں گذری _ اور اس کا سبب بھی نہایت واضح ہے کیونکہ مکیوں کی اقتصادی زندگی تجارت سے وابستہ تھی _ اور ان کا اہم ترین تجارتی مرکز شام تھا_ اور اگر ان پر اتنا سخت اقتصادی دباؤ پڑتا کہ انہیں دوسروں کا محتاج ہونا پڑتا تو اس سے ان کی سیاسی ، معاشرتی اور اجتماعی حیثیت خطرے میں پڑجاتی اور دوسرے قبائل پر سے ان کا رعب ، نفوذ اور ان کی اہمیت جاتی رہتی _ پھر وہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم اور مسلمانوں سے کس بات پر اور کیوں جنگ کرتے ؟ کیا ان کی جنگ اس نفوذ اور سرداری کی بقاء کے لئے نہیں تھی جسے وہ ہر چیز سے بلند و بالا اور بڑھ کر سمجھتے تھے؟_ ہجرت کے متعلق گفتگو میں اس بارے میں بھی مختصراً گفتگو ہوئی ہے_
____________________
۱)سیرہ حلبیہ ج ۲ ص۱۴۵ نیز ملاحظہ ہو : صحیح بخاری کتاب المغازی ، باب غزوہ بدر و باب علامات النبوة و السیرة النبویہ ابن کثیر ج۲ ص ۸۳۴و ۸۳۵_
۲_یہاں ہم یہ مشاہدہ بھی کرتے ہیں کہ امیہ بن خلف کے نظریات ، گفتار اور کردار عقل اور ضمیر کے تابع نہیں ہیں _ کیونکہ وہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی سچائی کا قائل ہونے کے باوجود بھی جب جنگ پر نہ جانے کا ارادہ کرتا ہے تو صرف اپنی جان کے خوف سے ایسا کرتا ہے _ اور جنگ کا قصد بھی اس لئے نہیں کرتا کہ اس کا نظریہ بدل جاتا ہے بلکہ وہ غیرت ، جوش اور جاہلی غرور اور نخوت میں آکر جنگ کا فیصلہ کرتا ہے _ جس کی وجہ سے اسے دنیا اور آخرت دونوں میں ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا _ خدا نے اس جیسے افراد کی حالت واضح الفاظ کے ساتھ یوں بیاں کی ہے:
( و جحدوا بها و استقینتها انفسهم ظلما و علوا ً فانظر کیف کان عاقبة المفسدین ) (۱)
'' اورانہوں نے حقیقت کے قائل ہونے کے باوجود بھی تکبر اور دشمنی کی وجہ سے اس کا انکار کیا _ اب تم دیکھ لو ان فسادیوں کا کیا حشر ہوا''
۳_ اس واقعہ میں اس بات کی واضح دلالت بھی پائی جاتی ہے کہ تمام لوگوں کے دلوں میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی بہت زیادہ عظمت اور اونچی شان بیٹھی ہوئی تھی نیز وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنی باتوں میں بالکل سچا پاتے تھے اور وہ تہہ دل سے اس حد تک اس حقیقت کے قائل اور معترف تھے کہ وہ قسمیں اٹھا کر کہتے تھے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی باتوں میں بالکل سچے ہیں اور وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے _ لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود وہ مادی اور دنیاوی فوائد اور قبائلی اثر و رسوخ و غیرہ کی خاطر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے دشمنی کو ضروری سمجھتے تھے_
طالب بن ابی طالب کی جنگ سے واپسی
مشرکین کے ساتھ ساتھ بنی ہاشم کے بھی پانچ آدمی عباس ، عقیل ، نوفل بن حارث اور طالب بن ابی طالب بھی اس جنگ میں شریک ہوئے _ طالب کو تو زبردستی لے آیا گیا جس پر اس نے یہ رجز کہا :
____________________
۱)نمل ، ۱۴_
یا رب اما یغزون طالب
فی مقنب من هذه المقانب
فلیکن المسلوب غیر السالب
و لیکن المغلوب غیر الغالب
پالنے والے طالب ان لٹیروں کے ٹولے میں پھنس کر اس جنگ کے لئے آیا ہے _ میری خواہش ہے کہ یہ شکست کھا کر لٹ پٹ جائیں ، فتح کے نشے میں یہ لٹیرے لوٹ مارکریں گے_
اس رجز کے بعد قریشیوں کا طالب کے ساتھ جھگڑا ہوگیا _ جس میں انہوں نے کہا : '' خدا کی قسم ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ تمہارا دل محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ ہے'' _ اس لئے وہ دوسرے کئی لوگوں کے ساتھ واپس مکہ لوٹ آیا_ اسی وجہ سے نہ تو وہ بدر کے مقتولین میں نظر آیا ، نہ قیدیوں میں اور نہ ہی مکہ واپس جانے والوں میں نظر آیا(۱) ؟ _ بعض نے یہ دعوی بھی کیا ہے وہ جنگ بدر میں اس وقت ماراگیا جب مشرکوں نے اسے مسلمانوں سے لڑنے کے لئے بھیجا(۲) _
ہمارا نظریہ
الف: یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ( راستے میں پلٹ جانے کے باوجود بھی ) مکہ پہنچنے والے لوگوں میں نظر نہ آئے ہوں ، حالانکہ ابن ہشام نے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی مدح اور ( ابن ہشام کے بقول ) قلیب ( جنگ بدر)کے مقتولین کے مرثیہ میں اس کے اشعار نقل کئے ہیں جس میں وہ نوفل اور عبدشمس کے خاندان سے بنی ہاشم سے جنگ نہ کرنے کی اپیل کرتا ہے کیونکہ اس کا نتیجہ صرف دکھ، درد، تکلیفیں اور مصیبتیں ہی ہوں گی_
____________________
۱)ملاحظہ ہو : بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۹۴ و ۲۹۵ ، روضہ کافی ص ۳۷۵، تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۴۴، الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۱۲۱، سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۷۱، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۷۵، البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۶۶ ، انساب الاشراف ج ۲ ص ۴۱، البتہ اس میں صرف یہ آیا ہے کہ وہ مشرکین کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے_
۲)تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۱۶۳_
اس نظم کے چند اشعار یہ ہیں:
فما ان جنینا فی قریش عظیمة
سوی ان حمینا خیر من وطا التربا
اخاثقة فی النائبات مرزا
کریماً ثناه ، لا بخیلا و لا ذربا
یطیف به العافون یغشون بابه
یؤمّون نهراً لا نزوراً و لا ضرباً
فوالله لاتنکف عینی حزینة تململ
حتی تصدقوا الخزرح الضربا(۱)
قریش نے ہم بنی ہاشم کے ساتھ ایسی جانی دشمنی کیوں کرلی ہے ؟ حالانکہ ہم تو قریش کے خلاف کسی بھی زیادتی کے مرتکب نہیں ہوئے _ ہم نے تو صرف روئے زمین کی سب سے بہترین ، فیاض ، اور شریف شخصیت کی حمایت کی ہے جو سختیوں میں قابل اعتماد ساتھی ہے _ اس نے کبھی بخل اور ترشروئی نہیں کی ہے_ اچھائی کے متلاشی پروانوں کا اس کے گرد ایسے جم گھٹا لگا رہتا ہے جیسے لوگ کسی لبالب بھری نہر پر جمع ہوجاتے ہیں_ اس کی عطا نہ کم ہوتی ہے نہ کبھی ختم ہوتی ہے بلکہ یکساں طور پر سب کے لئے جاری ہے _ پس اب میں ہمیشہ گریاں اور نالاں رہوں گا یہاں تک کہ خزرج والوں کی جیت نہیں ہوتی_
اس کی یہ نظم اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جنگ بدر کے واقعہ کے بعد بھی زندہ رہا _ البتہ اس کا جنگ بدر کے مقتولین پر گریہ شاید قریش کا ساتھ دینے کی غرض سے ہوگا ( کیونکہ وہ خود کا فریا مشرک نہیں تھا) اس لئے کہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے متعلق اس کے مدحیہ اشعار اور نوفل اور عبد شمس کے خاندان سے اس کی بنی ہاشم کے خاندان سے نہ لڑنے کی التجا ہماری مذکورہ بات پر دلالت کرتی ہیں_ و گرنہ اس کے اس شعر کی کیا توجیہ کی جاسکتی ہے؟
____________________
۱) سیرہ ابن ہشام ج ۳ ص ۲۷ و ۲۸ و البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۳۴۰_
و لیکن المسلوب غیر السالب
و لیکن المغلوب غیر الغالب
ب: ایک مرسل روایت میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ طالب مسلمان ہوگیا تھا(۱) اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مندرجہ ذیل شعر بھی اسی کا ہے:
و خیر بنی هاشم احمد صلىاللهعليهوآلهوسلم
رسول الا له علی فترة(۲)
اور بنی ہاشم کے بھی بہترین فرد زمانہ جاہلیت میں مبعوث ہونے والے خدا کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت محمّد صلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں_
البتہ یہ بات بھی بعید نہیں ہے کہ قریش نے جنگ بدر و غیرہ میں ( حضرت علی عليهالسلام کے کارناموں کی وجہ سے ) مارے جانے والے اپنے ساتھیوں کا انتقام لینے کے لئے طالب سے چھٹکارے کی خاطر کوئی چال چل دی ہو جس کی وجہ سے آج تک طالب کا کوئی صحیح اتا پتا معلوم نہیں ہوسکا_
مجبور اور واپس پلٹ جانے والے
جب ابوسفیان اپنا تجارتی قافلہ بچا کر دوسرے راستے سے نکال کرلے گیا تو اس نے قریش سے اب واپس پلٹنے کو کہا لیکن ابوجہل بدر جاکر وہاں تین دن تک شراب و کباب کی محفل سجانے پر اس لئے مصر رہا کہ تمام عرب ان کے اس خروج اور اتنے بڑے مجمع کے متعلق سنیں گے تو ہمیشہ کے لئے ان سے ڈرتے رہیں گے_ لیکن اخنس بن شریق وہاں سے قبیلے بنی زہرہ کے افراد کو لے کر واپس پلٹ گیا_
البتہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس قبیلہ کے دو افراد جنگ بدر میں مارے گئے _ بلکہ تلمسانی نے تو'' الشفائ'' کی شرح میں یہاں تک بھی لکھا ہے کہ خود اخنس بھی جنگ بدر میں ماراگیا تھا البتہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ عمر کی خلافت کے دوران مراتھا_
____________________
۱) البحار ج/۱۹ ص ۲۹۴_
۲)شرح نہج البلاغہ ج ۱۴ ص ۷۸_
مؤرخین اخنس کی قبیلہ بنی زہرہ کے ساتھ واپسی کی وجوہات کے متعلق کہتے ہیں کہ اس نے چپکے سے ابوسفیان سے پوچھا کہ کیا محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم جھوٹ بولتا ہے؟ تو اس نے کہا کہ اس نے کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا _ ہم تو اسے ''امین'' کہا کرتے تھے، لیکن یہ تو دیکھو کہ عبدالمطلب والوں کے پاس اگرسقایت ( پانی پلانے) ، رفادت (مہمان داری) اور مشورت کے عہدوں کے ساتھ ساتھ نبوت بھی آجائے تو پھر ہمارے لئے کیا بچے گا؟ _ یہ بات سن کر اخنس پیچھے ہٹ گیا اور بنی زہرہ والوں کو لے کر واپس لوٹ آیا(۱) _
اسی طرح قبیلہ بنی عدی کا بھی کوئی فرد جنگ بدر میں شریک نہیں ہوا _ اور بنی ہاشم نے بھی واپس لوٹنے کا ارادہ کیا تو ابوجہل نے انہیں نہیں جانے دیا اور کہا : '' (حضرت محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ) یہ رشتہ دار تب تک ہمارا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے جب تک ہم صحیح سالم واپس نہیں لوٹ جاتے''(۲) _
مذکورہ افراد کے متعلق نبی کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم کا موقف
مکہ میں نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم اور مسلمانوں کے متعلق بنی ہاشم کے مؤقف اور ان کی حمایت کی وجہ سے نیز مذکورہ وجوہات کی بنا پر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جنگ بدر میں بنی ہاشم کے افراد کو قتل کرنے سے منع فرمایا _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسی طرح ابوالبختری ولید بن ہشام کو بھی قتل کرنے سے منع فرمایا کیونکہ یہ شخص بھی بائیکاٹ والی دستاویز کی مخالفت اور بائیکاٹ ختم کر نے میں پہل کرنے والوں میں شامل تھا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو نہ صرف خود اذیت نہیں دیتا تھا بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کام سے روکتا تھا_ لیکن بدر میں جب اس نے اپنے ساتھی کے بغیر قیدی بننا گوارا نہ کیا تو اسے اس کے ساتھی سمیت قتل کردیا گیا _ اسی طرح آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حارث بن نوفل کو بھی قتل کرنے سے اس لئے منع فرمایا کہ اسے جنگ کے لئے زبردستی لایا گیا تھا، لیکن اس سے ناآشنا ایک شخص نے اسے قتل کردیا_ اور زمعہ بن اسود کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا_
____________________
۱)ملاحظہ ہو ، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۵۳_
۲)ملاحظہ ہو : سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۷۱، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۵۴و ج ۱ ص ۲۹۱ و تاریخ الاسلام ذہبی ( حصہ مغازی) ص ۳۱و ۳۳_
آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مؤقف پر ایک سر سری نظر
گذشتہ واقعہ سے سبق لینے کے لئے مندرجہ ذیل نکات بیان کئے جاتے ہیں:
الف: مذکورہ افراد کے قطعی موقف کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا جنگ سے مقصد کامیابی ، غلبہ ، حکومت اور سلطنت کا حصول نہیں تھا اور نہ ہی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو خون بہانا، پسر مردہ ماؤں اور بیواؤں کو رلانا اور کشتوں کے پشتے لگانا پسند تھا_ بلکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقصد اور ہدف تو ان باتوں سے افضل اور اعلی تھا جس کا عام فائدہ تمام امت کو بلکہ کئی نسلوں کو پہنچتاا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ممکنہ حد تک انتہائی کم قربانیوں سے اپنے اصلی مقصد تک رسائی چاہتے تھے_
ب: آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم لوگوں کے موقف اور نظریات کی قیمت ان کے حسن خلق ، اچھی عادت اور فطرت ، بہادری اور نیک خصلتوں کی وجہ سے لگاتے تھے_ چاہے وہ شخص کوئی بھی ہوتا ، اس کی وابستگی جس کے ساتھ بھی ہوتی اور اس کا عقیدہ اور نظریہ جو بھی ہوتا اس سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، کیونکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ہی وہ کامل انسان اور انسانیت کے ایسے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم تھے جو ان اچھی صفات کو صحیح طریقے سے سمجھ سکتے تھے اور کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ ان کی قیمت لگا سکتے تھے_ اسی وجہ سے ان سب لوگوں کے ساتھ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا یکساں موقف رہا جنہوں نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھیوں کے ساتھ چاہے ایک بار ہی سہی حسن سلوک اور نیک رفتاری کا مظاہرہ کیا تھا_کیونکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ مذکورہ موقف صرف اپنے عزیزوں اور خاندان والوں کے ساتھ منحصر نہیں تھا _اس لئے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم رشتہ داریوں سے متاثر ہو کر کوئی موقف یا نظریہ اپنا نے والے نہیں تھے اور اس جیسا پرخطر موقف عقل سلیم کے لحاظ سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مصلحت میں تھا بھی نہیں_
ج: آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ان مشکل گھڑیوں کو بھی اچھی طرح سمجھ رہے تھے جن سے بعض لوگ گھبرائے ہوئے تھے_ ان لوگوں پر یہ گھڑی آئی ہوئی تھی کہ قریش نے انہیں ایسا مؤقف اپنا نے پر مجبور کردیا جو ان کے اغراض و مقاصد یا کم از کم ذاتی خواہشات اور رجحان کے برخلاف تھا_ اگر چہ کہ ایک لحاظ سے وہ قصور وار بھی تھے کیونکہ وہ حق کی مدد کرسکتے تھے اور عقل سلیم کے مطابق ایک صحیح موقف بھی اپنا سکتے تھے _ جس طرح کہ ان کے دیگر
مسلمان بھائیوں نے اس طرح کیا تھا اور اپنے آپ کو ہنسی خوشی مشقتوں اور تکلیفوں میں جھونک دیا تھا _ یہاں تک کہ خدا نے ان کی مدد کی اور حق کا بول بالا ہوا_
جنگ کے لئے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا مشورہ لینا
مسلمان جب بدر کے قریب پہنچے اور انہیں قریش کے اکٹھے ہونے اور جنگ کے لئے روانہ ہونے کی اطلاع ملی تو وہ اس بات سے بہت خوفزدہ ہوئے_ جس کی وجہ سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جنگ کرنے یا تجارتی قافلے کے پیچھے جانے کے متعلق اپنے اصحاب سے مشورہ لیا_
حضرت ابوبکر نے کھڑے ہوکر کہا : '' یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ یہ قریشی اپنے لشکر کے ساتھ غرور اور تکبر میں اور کیل کانٹوں سے مکمل طور پر لیس ہو کر آرہے ہیں_ یہ ہمیشہ سے بے ایمان کافر اور ناقابل شکست رہے ہیں_ جبکہ ہم جنگ کرنے کے لئے بھی نہیں نکلے''(۱) _ اس پر رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے اس سے فرمایا:'' بیٹھ جاؤ'' _ تو وہ بیٹھ گیا _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے پھر فرمایا :'' مجھے مشورہ دو '' _ تو عمر نے کھڑے ہوکر ابوبکر کی بات دہرائی _ اسے بھی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بیٹھ جانے کو کہا تو وہ بیٹھ گیا _ لیکن واقدی اور حلبی نے مذکورہ باتوں کو عمر سے منسوب کرتے ہوئے ابوبکر کے متعلق کہا کہ اس نے بہترین مشورہ دیا تھا(۲) _
پھر مقداد نے اٹھ کر کہا : '' یا رسول اللہ ٹھیک ہے کہ وہ مغرور قریشی ہیں اور ساتھ ہی ان کا لاؤ لشکر ہے ، لیکن ہم بھی تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایمان لانے والے ، تصدیق کرنے والے اور یہ گواہی دینے والے ہیں کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہیں_ خدا کی قسم اگر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ہمیں جھاؤ جیسے سخت درخت کے تنے کے گودے یا نوکیلی خاردار جھاڑیوں میں گھسنے ( دوسرے لفظوں میں گہرے کنویں میں کو دنے) کا حکم بھی دیں گے تو ہم بے چون و چرا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ ان میں گھس جائیں گے_ اور ہم آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو بنی اسرائیل کی وہ بات نہیں کریں گے
____________________
۱) البتہ جناب ابوبکر کے اور بھی الفاظ ہیں جن میں انہوں نے تجارتی قافلے کے لوٹ مارکی ترغیب دلائی تھی جو یہاں مذکور نہیں ہےں لیکن دیگر کتابوں میں مذکور ہےں_ مترجم_
۲)ملاحظہ ، مغازی واقدی ج ۱ ص ۴۸ ، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۵۰، در منثور ج ۳ ص ۱۶۶از دلائل النبوة بیہقی ، بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۴۷ و تفسیر قمی ج ۱ ص ۲۵۸_
جو انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام سے کی تھی کہ جاؤ تم اور تمہارا رب دونوں جاکر لڑو ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں(۱) _ بلکہ ہم تو یہ کہیں گے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا رب جاکر لڑیں ہم بھی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے شانہ بشانہ جنگ کریں گے_ خدا کی قسم ہم آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے دائیں ، بائیں ، آگے اور پیچھے چاروں طرف سے لڑیں گے ( اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کریں گے) اور اگر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سمندر میں بھی کو دجائیں گے اور برک الغماد(۲) تک بھی لے جائیں گے تو بھی ہم آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ ساتھ رہیں گے_
یہ بات سن کر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے چہرہ کھل اٹھا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے خوش ہو کر اسے دعا دی بلکہ مؤرخین کے مطابق آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کھکھلا کرہنسے تھے(۳) _
نوٹ : مذکورہ تمام باتیں مہاجرین کی تھیں اور ان کی باتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنگ نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ ہر قیمت پر اس ٹکراؤ سے بچنا چاہتے ہیں لیکن مقداد نے مہاجر ہونے کے با وجود شیخین کی مذکورہ باتوں کو ٹھکرادیا اور ان کے موقف کو رد کردیا_
پھر تاریخی دستاویزات کے مطابق آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے انصار کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا :'' مجھے مشورہ دو '' _ اس بات سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مراد انصار تھے، کیونکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی فوج کا بیشتر حصہ انصار پر مشتمل تھا_ نیز آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس بات کا خطرہ بھی تھا کہ ان کے ذہن میں یہ بات نہ ہو کہ ان پر صرف مدینہ میں ہی دشمن کے حملہ کے وقت آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کرنے کا فریضہ عائد ہوتا ہے مدینہ سے باہر نہیں_ پس سعد بن معاذ نے (البتہ سعد بن عبادہ کا نام بھی لیا گیا ہے لیکن یہ ایک خیال اور وہم سے زیادہ کچھ نہیں ، اس لئے کہ وہ تو بچھو و غیرہ کے ڈسنے کی وجہ سے چلنے پھر نے سے معذور تھا اس لئے وہ بدر نہیں جاسکتا تھا)(۴) کھڑے ہوکر کہا : '' یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ میرے ماں باپ بھی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر
____________________
۱)بنی اسرائیل کی مذکورہ بات سورہ مائدہ آیت ۲۴ میں مذکور ہے_ (۲) تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۷۳ کے مطابق برک الغماد حبشہ کا ایک شہر ہے جبکہ واقدی کی المغازی ج ۱ ص ۴۸ کے مطابق برک الغماد مکہ سے سمندر کی جانب پانچ دن کے فاصلے پر ساحل کے ساتھ ایک جگہ ہے جبکہ یہ جگہ مکہ سے یمن کے راستے میں آٹھ دن کے فاصلے پر ہے_ (۳) تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۷۳ ، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۵۰ ازالکشاف و المغازی و اقدی ج ۱ ص ۴۸ _ البتہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جس بات کو مؤرخین نے بہترین مشورہ قرار دیا وہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی ناراضگی موجب کیوں بنا؟ (۴) سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۵۰_
قربان شاید آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ہم سے مشورہ چاہتے ہیں؟'' _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' ہا ںبالکل'' _ اس نے کہا :'' شاید آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نکلے کسی اور کام سے ہیں اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو حکم کسی اور کام کاملا ہے؟ ''_ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' ایسا ہی ہے''_ تو اس نے کہا :'' یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ میرے ماں باپ بھی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر قربان ہم تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایمان لاچکے ہیں، آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی تصدیق کر چکے ہیں اور یہ گواہی بھی دے چکے ہیں کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہیں_ پس آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ہمیں جو چاہیں حکم دے سکتے ہیں'' یہاں تک کہ اس نے کہا :'' خدا کی قسم اگر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ہمیں یہ حکم دیں کہ اس سمندر میں کود پڑو تو ہم آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم پر کود پڑیں گے_ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کا نام لے کر ہمیں لے چلیں ، ہوسکتا ہے ہمارے کارناموں سے خدا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو راضی اور خوشنود کردے''_
اس بات سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نہایت خوش ہوئے اور انہیں آگے بڑھنے کا کہا اورانہیں یہ خوشخبری دی کہ خدا نے مجھ سے دوگروہوں ( تجارتی قافلے یا لشکر قریش) میں سے کسی ایک پر کامیابی کا وعدہ کیا ہے_ اور خدا کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا _ پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ پیشین گوئی بھی فرمائی کہ گویا میں ابوجہل بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ اور ہشام کی لاشیں دیکھ رہا ہوں _ پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم وہاں سے چلے اور بدر آکر پڑاؤکیا_
بعض روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکثر صحابہ تجارتی قافلے کا پیچھا کرنے کے خواہش مند تھے اور جنگ سے کترا رہے تھے(۱) _
خداوند عالم نے قرآن مجید میں مذکورہ بات کا تذکرہ اپنی اس آیت میں کیا ہے:
( واذ یعدکم الله احدی الطائفتین انها لکم وتودون ان غیر ذات الشوکة تکون لکم و یرید الله ان یحق الحق بکلماته ویقطع دابر الکافرین ) (۲)
____________________
۱)در منثور ج ۳ ص ۱۶۳و ۱۶۹ از ابن جریر ، ابوالشیخ ، ابن منذر ، ابن ابی حاتم ، ابن مردویہ ، کشاف ، بیہقی و عبد بن حمید و البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۶۳_
۲)انفال : ۷_
اور ( وہ قت یاد کرو) جب خدا نے تم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا ہی ہے لیکن تم یہ چاہتے تھے کہ بے وقعت چیز تمہارے ہاتھ لگے جبکہ اس بات سے خدا کاارادہ حق کابول بالا کرنے اور کافروں کی جڑیں کاٹنے کا تھا''_
بہرحال آگے بڑھنے سے قبل مندرجہ ذیل چھ نکات کی طرف اشارہ کرتے چلیں:
۱_ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا اپنے صحابہ سے مشورہ
اس بارے میں ہم پہلے بھی جنگوں میں مہاجرین کو بھیجنے کی وجوہات کے متعلق گفتگو کے دوران بات کرچکے ہیں اور بعد میں بھی غزوہ احد کے باب میں '' جنگ چھڑنے سے پہلے'' کی فصل میں اس بارے میں انشاء اللہ سیر حاصل گفتگو کریں گے_
لیکن یہاں اس اشارے پر اکتفا کرتے ہیں کہ بدر جیسی فیصلہ کن جنگ میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا اپنے صحابہ سے مشورہ لینا ضروری تھا کیونکہ اس علاقے میں کم از کم مستقبل قریب تک ایمان اور کفر کا انجام اس جنگ کے نتائج پر منحصر تھا_بلکہ یہ ہمیشہ کے لئے ایک فیصلہ کن جنگ تھی جس طرح کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی اس دعا '' خدا یا اگر تیرے یہ پیارے مارے گئے تو تیری عبادت کبھی نہیں ہوگی'' میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے_
البتہ یہ بات واضح ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو ان کے مشورے کی بذات خود کوئی ضرورت نہیں تھی _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے مشورہ اس لئے لیا کہ اس جنگ کا بوجھ بھی انہیں ہی اٹھا نا تھا اور نتائج بھی انہیں ہی بھگتنا تھے_ پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اس ذریعے سے ان کے اندر کا حال بھی جاننا چاہتے تھے جس سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم مؤمن کو منافق سے ، بہادر کو بزدل سے ، صحیح سمجھ دار کو کم سمجھ جاہل سے ، دوست کو دشمن سے ، طاقتور کو کمزور سے اور مفاد پر ست کو فریضے پر عمل کرنے والے اطاعت گذار سے جدا کرنا چاہتے تھے_ ہماری اس بات کی دلیل سعدبن معاذ کا آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے وہ سوال ہے جس میں اس نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے پوچھا کہ شاید آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نکلے کسی کام سے ہیں اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو
حکم کسی اور کام کا ملا ہے؟ جس پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جواب دیا تھا کہ ہاں ایسا ہی ہے_ اور یہ جملے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ جنگ کا فیصلہ پہلے سے ہوچکا تھا اور خدا کی طرف سے یہ حکم پہلے ہی آچکا تھا_ پس آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مشورے کی وجوہات وہی تھیں جو ہم ابھی کہہ چکے ہیں، پہلے بھی کہہ چکے تھے اور غزوہ احد میں بھی کہیں گے_
۲_ بہترین رائے ، قریش سے جنگ
یہ بات بھی واضح ہے کہ صحیح رائے قریش سے جنگ ہی تھی جس میں خدا اور اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مرضی بھی تھی_
کیونکہ مسلمان ایک دورا ہے پر کھڑے تھے:
یا تو تجارتی قافلے اور قریش کی فوج کا سامنا کئے بغیر مسلمان واپس پلٹ جاتے_ اور یہ بات مسلمانوں کی واضح روحی اور نفسیاتی شکست اور مشرکوں ، یہودیوں اور منافقوں کو اپنے اوپر جری کرنے کا باعث تھی_
یا پھر وہ تجارتی قافلے تک پہنچ کر کئی لوگوں کو قتل یا قید کرنے کے بعد اسے لوٹ لیتے _ اس صورت میں قریشی ہرگز خاموش نہ رہتے بلکہ وہ وسیع پیمانے پر اور مکمل طور پر لیس ہو کر مسلمانوں سے جنگ کرتے _ وہ تو اس صورتحال میں مسلمانوں کے واپس مدینہ پہنچنے سے بھی پہلے مدینہ پر چڑھائی کر کے مسلمانوں پر مہلک وار کرسکتے تھے_ کیونکہ اتنی بڑیتعد اد اور تیاری کے ساتھ قریشی اتنی بڑی بات پر چپ نہیں رہ سکتے تھے بلکہ وہ جلدی سے اپنی جاتی ہوئی حیثیت ، ہیبت ، رعب و دبدبے اور بزرگی کے اعادے کی کوشش کرتے_
پس مسلمانوں کے سامنے صرف ایک ہی راستہ باقی رہتا تھا_ اور وہ قریش (کو پہلے اپنا عادلانہ ،عاقلانہ اور قابل قبول چہرہ اور طاقت دکھانے نیز منصفانہ پیشکش سامنے رکھنے کے بعد اب ان )کے مقابل کھڑا ہونا تھا_ پس ان حالات میں قریش سے جنگ ہی بہترین اور بے مثال انتخاب تھا_ خاص طور پر جب وہ قریش کے تجارتی قافلے کے تعاقب میں نکل بھی چکے تھے اور اس کام سے ان کا پیچھے ہٹنا مسلمانوں کے لئے عدیم المثال پیچیدگیوں، مشکلات اور اعتراضات کا باعث بنتا_
ان تمام باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر مسلمان عزت اور وقار کی ایسی زندگی گذارنا چاہتے ہیں کہ ان کا کوئی بھی ہمسایہ ، مشرک ، یہودی ، منافق اور کوئی بھی دشمن ان کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھے تو انہیںجنگ کے لئے پیش قدمی کرنی ہوگی_ اس کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی چارہ بھی نہیں ہے_
۳_ نفسیاتی تربیت:
اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے چلیںکہ :
الف: اس جنگ میں پہلے پہل عام مسلمانوں کا مقصد مال کا حصول تھا_ لیکن خدا اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں اس دنیاوی مقصد سے کہیں بلند ، قیمتی اور بہترین ہدف کی طرف لے جانا چاہا و گرنہ قریشیوں کی اس لشکر کشی اور جنگ کے پیچھے بھی تو دنیاوی ، اقتصادی ، اجتماعی ( معاشرتی ) اور سیاسی مقاصد کار فرماتھے_پھر تو مسلمانوں اور مشرکوں میں کوئی فرق باقی نہ رہتا_
ب: جنگ بدر نے مسلمانوں کے اندر خود اعتمادی کی روح پھونکنے اور بھر پور قوت اور شجاعت کے ساتھ آئندہ کے خطرات کا سامنا کرنے کی جرات پیدا کرنے میں اپنا بہت بڑا اثر دکھا یا _ کیونکہ انہیں خدا کے ''ہوکر رہنے والے حتمی ''کام کی انجام دہی کے لئے قریش کے جابروں، متکبروں اور سرداروں کو قتل اور قید کرنا پڑا اور اس امتحان میں وہ سرخرو ہوگئے ہیں تواب انہیں عرب اور عجم سمیت پوری دنیا سے جنگ کی تیاری کرنی تھی _
۴_ جنگ سے متعلق مشوروں پر ایک سرسری نگاہ
یہ بات بھی قابل ملاحظہ ہے کہ اکثر مؤرخین نے اس مرحلے میں عمر اور ابوبکر کا کلام حذف کر کے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ ابوبکر نے کھڑے ہوکر اچھی رائے دی او رعمر نے بھی کھڑے ہوکر بہترین مشورہ دیا پھر
مقداد نے کھڑے ہوکر فلاں بات کی(۱) _ بلکہ ان میں سے کچھ لوگوں کی طرف ایسی باتیں بھی منسوب کرتے ہیں جن کا آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سوال سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا_(۲) بہرحال شیخین کی مذکورہ باتیں چونکہ اکثر مؤرخین کو اچھی نہیں لگیں اس لئے وہ مذکورہ طریقے سے اس سے کنی کتراگئے _ لیکن یہ واضح سی بات ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقداد کی باتوں پر خوش ہوکر اسے دعائیں دینا اس بات کی دلیل ہے کہ شیخین کی باتیں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مشاورتی مقاصد سے میل نہیں کھاتی تھیں بلکہ وہ تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اعلی مقاصد کے بالکل برخلاف تھیں_ وگر نہ اگر ان کی باتیں لائق ذکر ہوتیں تو ان کے چاہنے والے راوی اور مؤرخین ان کی باتوں کو ضرور بڑھا چڑھاکر پیش کرتے_ لیکن مقداد کا مشورہ چونکہ بالکل صحیح ، منطقی اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اعلی اہداف و مقاصد کے موافق نیز آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی توقعات کے عین مطابق تھا اس لئے مقداد آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعاؤں اور تعریفوں کا مستحق ٹھہرا_
بلکہ کتابوں میں یہاں تک بھی آیا ہے کہ جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو ابوسفیان کے تجارتی قافلے کی آمد کی اطلاع ملی تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے صحابیوں سے مشورہ لیا_ یہاں ابوبکر نے کوئی بات کی لیکن آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کی بات کو رد کردیا اور عمر نے بھی کوئی بات کی تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کی باتوں کو بھی ٹھکرا دیا(۳) _ پس آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا ان کی باتوں کو رد کردینا صرف اس وجہ سے نہیں تھا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم انصار کا جواب سننا چاہتے تھے بلکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رو گردانی ان دونوں کے قریش سے جنگ نہ کرنے پر اکسانے نیز ان الفاظ کے ساتھ قریش کی تعریف کرنے کی وجہ سے تھی کہ یہ ہمیشہ سے ناقابل شکست اور بے ایمان کا فرر ہے ہیں _ وگرنہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مقداد کی باتوں سے خوش ہوکر اسے دعائیں کیوں دی تھیں؟ حالانکہ وہ بھی تو ایک مہاجر تھا ؟حتی کہ ابن مسعود نے اس کے اس موقف کے متعلق کہا کہ اس کی ہم وزن کسی بھی چیز سے زیادہ مجھے اس کا ساتھی بننا بہت پسند تھا(۴) _ اور ابوایوب انصاری
____________________
۱) بطور مثال ملاحظہ ہو: البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۶۲ و الثقات ج ۱ ص ۱۵۷_
۲)وہ بات قریش کے تجارتی قافلے کو لوٹنے والی بات تھی (۳) صحیح مسلم باب غزوہ بدر ج ۵ ص ۱۷۰ مسند احمد ج ۳ ص ۲۱۹ دو اسناد کے ساتھ نیز از الجمع بین الصحیحین ، البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۶۳ و السیرة النبویہ ابن کثیر ج ۲ ص ۳۹۴_
۴) صحیح بخاری باب '' تستغیثون ربکم'' مطبوعہ المیمنیہ ، البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۶۲ _ ۲۶۳و سنن نسائی _
نے بھی اپنی باتوں کے دوران یہ اظہار کیا کہ ہم انصار جماعت کی یہ حسرت رہی کہ اے کاش اس دن ہم نے بھی مقداد کی طرح باتیں کہی ہوتیں ( اور پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعائیں سمیٹی ہوتیں) تو یہ چیز ہمیں بہت زیادہ مال سے بھی زیادہ پسند تھی _ جس پر خدا نے یہ آیت نازل کی تھی ( کما اخرجک ربّک من بیتک بالحق و ان فریقاًمن المؤمنین لکارهون ) (۱) _
گذشتہ تمام باتوں کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا کلام مہاجرین و انصار سب کے لئے دعوت عام تھا _ اسی طرح جنگ پر بیعت نہ کرنے کے لحاظ سے مہاجرین بھی انصار ہی کی طرح تھے_پس مؤرخین کی یہ بات کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مخاطب صرف انصار تھے صحیح نہیں ہے_
۵_ مقداد اور سعد کی باتوں پر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سرور کی وجوہات
مقداداور سعد بن معاذ کی باتوں میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو کوئی مشورہ نہیں دیا نہ جنگ کا اورنہ ہی صلح کا بلکہ انہوں نے تو صرف آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی بے چون و چرا اطاعت اور فرمانبرداری کا اظہار کیا تھا_ انہوں نے تو اپنی کسی رائے کا اظہار کیا نہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو کسی چیز کا مشورہ دیا _ اور یہ ایمان خلوص ، اطاعت ، فرض شناسی اور موقع شناسی کی انتہا ہے _
خدا کا فرمان ہے کہ ( و ما کان لمؤمن و لامؤمنة اذا قضی الله و رسوله امراً ان یکون لهم الخیرة من امرهم ) (۲) ترجمہ : '' جب خدا اور اس کا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کوئی فیصلہ کرلیں تو کسی بھی مؤمن مرد اور مؤمنہ عورت کو اپنی مرضی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے '' _ نیز ( یا ایها الذین آمنوا لاتقدموا بین یدی الله و رسوله و اتقو الله ان الله سمیع علیم ) (۳) ترجمہ : '' اے مؤمنوا خدا اور اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم سے کسی بھی چیز میں پیش قدمی نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرو کہ خدا خوب سننے اور جاننے والا ہے '' _ اور خدا کے ان
____________________
۱) البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۶۳ و ص ۲۶۴ از ابوحاتم و ابن مردویہ_
۲) احزاب /۳۶ _
۳) حجرات_
فرامین کی روشنی میں یہ دونوں شخصیات خدا اور اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے فیصلے کے سامنے اپنی کوئی حیثیت نہیں سمجھتے تھے اور اپنے لئے کسی بھی مرتبے کے قائل نہیں تھے اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خوشی اور سرور بھی ان کے اسی گہرے اور پختہ ایمان اور بے چون و چرا فرمانبرداری کی وجہ سے تھی _
۶_ حضرت علی علیہ السلام نے مشورہ کیوں نہیں دیا؟
یہاں قابل ملاحظہ بات یہ بھی ہے کہ اس موقع پر حضرت علی علیہ السلام نے عقلمندی اور دانائی کا سرچشمہ ہونے کے باوجود اپنی کسی رائے کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی اپنا موقف اور مشورہ سنانے کی انہیں کوئی جلدی تھی_ آپ لوگوں کے خیال میں اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟
اس سوال کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کا موقف بعینہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کاہی موقف تھا _ کیونکہ آیت مباہلہ میں خدا نے ان الفاظ میں حضرت علی علیہ السلام کو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات اور نفس قرار دیا :
( فقل: تعالوا ندع ابنائنا و ابنائکم ونسائنا و نسائکم و انفسناو انفسکم )
تو ( اے پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم اس صورت میں انہیں ) کہہ دو کہ پھر آؤ ہم اور تم اپنے اپنے سپوتوں ، عورتوں اور اپنی سب سے پیاری شخصیتوں کو بلالیں
مزید یہ کہ حضرت علی علیہ السلام خدا اور اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم سے کسی بھی معاملے میں پیش قدمی کرنے والے تھے ہی نہیں _ اور اس موقع پر وہ خدا اور اس کے رسول کے فیصلے کے سامنے خاموشی ، رضا اور سر تسلیم خم کرنے کو اپنے لئے ضروری سمجھتے تھے اور اس کام میں انہیں کوئی عار بھی محسوس نہیں ہوتا تھا _
'' حباب'' اچھی رائے والا
مؤرخین کے بقول جب رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے بدر کے مقام پرپانی کے کنویں کے قریب پڑاؤ کیا تو حباب بن
منذر نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ مشورہ دیا کہ دشمن کی فوج کی بہ نسبت آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پانی کے زیادہ قریب پڑاؤ کریں اور وہاں پانی کا ایک حوض بنائیں پھر دیگر تمام کنوؤں کا پانی نکال لیں_ اس سے مسلمان تو پانی استعمال کرسکیں گے لیکن مشرکین ایسا نہ کرسکیں گے _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایسا ہی کیا توحباب کے مشورہ کو درست پایا_ اس پر حباب کو '' حباب ذوالرا ی '' ( حباب بہترین رائے والا ) پکارا جانے لگا(۱) _
لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے _ کیونکہ :
ایک : پختہ دلیلوں سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم جو کچھ سوچتے یا کرتے تھے وہ سب صحیح اور بہترین ہوتا تھا _ اور یہ نظریہ کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم دنیاوی معاملات میں غلطی کرسکتے تھے ، ناقابل اعتبار ہے کیونکہ یہ بات عقل اور آیات و روایات کے بالکل بر خلاف ہے (البتہ خطا اور نسیان سے عصمت کے اختیاری ہونے کی گفتگو عنقریب ہوگی انشاء اللہ )
دو : '' عدوة القصوی '' جہاں مشرکوں نے پڑاؤ کیا تھا پانی بھی وہاں تھا اور وہ ایک بہترین زمین تھی جبکہ '' عدوة الدنیا '' میں کوئی پانی نہیں تھا ، جبکہ وہاں کی زمین اتنی نرم تھی کہ اس میں پاؤں دھنس جاتے تھے(۲)
تین : مسلمانوں سے پہلے مشرکوں نے بدر کے مقام پر آکر پڑاؤ کیا تھا _ اور یہ معقول ہی نہیں ہے کہ انہوں نے ایسی جگہ جا کر پڑاؤ کیا ہو جہاں کوئی پانی نہ ہو اور پانی والا حصہ اوروں کے لئے چھوڑدیا ہو_
چار : خود ابن اسحاق یہ بیان کرتا ہے کہ مشرکین حوض سے پانی لینے آئے تو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکم دیا کہ انہیں پانی بھرنے دیا جائے(۳) _ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے بھی جنگ صفین میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی پیروی میں اپنے سرکش دشمنوں کو بھی پانی لینے کی اجازت دے رکھی تھی_ حالانکہ انہوں نے پہلے آپ عليهالسلام کو اسی
____________________
۱) سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۷۲ ، تاریخ الخمیس ج ۱ص ۳۷۶، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۵۵، الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۱۲۲، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۲ ص ۴۰۳و ص ۴۰۲ و البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۲۶۷ و غیرہ _ (۲) ملاحظہ ہو : فتح القدیر ج ۲ ص ۲۹۱ از زجاج و ص ۳۱۱ و کشاف ج ۲ ص ۲۰۳ تا ۲۲۳ ، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۷۵ ، تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۲۹۲ از ابن عباس ، قتادہ ، سدی و ضحاک ، در منثور ج ۳ ص ۱۷۱ از ابن منذر ، ابوالشیخ ، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۵۴ ، سیرہ ابن کثیر ج ۲ ص ۴۰۰ ، کشاف ، انوار التنزیل و مدارک و غیرہ _ (۳) ملاحظہ ہو : الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۱۲۳_
پانی سے محروم کیا ہوا تھا(۱) اور یہ واضح سی بات ہے کہ دشمنوں کو پانی سے روکنا اور منع کرنا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اخلاقیات اور اسلام کی بنیادی تعلیمات سے سازگار نہیں ہے _
پس صحیح روایت یہ ہے کہ پہلے پہل مسلمانوں کے پاس پانی نہیں تھا _ لیکن ایک رات خدا نے موسلا دھار بارش برسائی تو وادی میں سیلاب سا آگیا اور مسلمان نے کئی حوض (گڑھے) بنالئے ، خود بھی پانی پیا اور جانوروں کو بھی پلایا ، نہایا دھویا بھی اور اپنی مشکیں بھی بھر لیں(۲) _ اس بات کی طرف یہ آیت اشارہ کررہی ہے _ ( اذ یغشیکم الناس امنة منہ و ینزل علیکم من السماء مائً لیطہرکم بہ و یذہب رجز الشیطان و لیربط علی قلوبکم و یثبت بہ الاقدام )(۳) پس حوض بنانے کے وجوہات وہ نہیں جو پہلے ذکر ہوئی ہیں بلکہ یہی ہےں جواب ذکر ہوئی ہےں_
مسلمانوں اور مشرکوں کی تعداد اور ساز و سامان
جناب طالوت کے ساتھیوں کی تعداد کے مطابق آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم بھی اس جنگ میں اپنے تین سو تیرہ صحابیوں کو لے کر نکلے ( البتہ کم یا زیادہ تعداد کے اقوال اور نظریات بھی ہیں لیکن مذکورہ قول اکثر بزرگان کا نظریہ ہے(۴) _ اور ان کے ساتھ ستر اونٹ تھے جن پر دود ویا تین تین آدمی باری باری سوار ہوتے تھے _ خود نبی کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم ، حضرت علی عليهالسلام اور مرثد بن ابی مرثد ( البتہ بعض مؤرخین کے مطابق تیسرا شخص زید بن حارثہ تھا ) ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے _ مؤرخین کا اس بات پر تو اتفاق ہے کہ اس لشکر میں ایک گھوڑا مقداد کا ضرور تھا لیکن باقی کے متعلق اختلاف ہے _ ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ فقط یہی ایک گھوڑا تھا(۵) اور یہ قول حضرت علی عليهالسلام سے بھی منقول ہے(۶) ایک نظریہ یہ ہے کہ ایک گھوڑا زبیر کا یا مرثد کا بھی تھا جبکہ یہ بھی کہا
____________________
۱) ملاحظہ ہو مصنف کی کتاب '' الاسلام و مبدا المقابلة بالمثل '' _ (۲) ملاحظہ ہو : کشاف ج ۲ ص ۲۰۳ وص ۲۰۴ و تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۲۹۲ البتہ اس میں حوض بنانے کا ذکر نہیں ہے _ (۳) انفال /۱۱_ (۴)سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۴۹_ (۵) تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۷۱ از کشاف ، مناقب ابن شہر آشوب ج ۱ ص ۱۸۷ ، بحار الانوار ج ۹ ۱ ص ۳۲۳ از تفسیر عیاشی ج ۲ ص ۲۵ و ۵۴ و حیاة الصحابہ ج ۱ ص ۴۹۳ از الترغیب ج ۱ ص ۱۳۱۶ از ابن خزیمہ نیز ملاحظہ ہو _ المغازی ذہبی ( تاریخ الاسلام ) ض ۵۶و ۵۹ ، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۴۹ ، دلائل النبوة بیہقی مطبوعہ مکتبة العلمیہ ج ۳ ص ۳۸ و ص ۳۹ و ۴۹ ، المغازی واقدی ج ۱ ص ۲۷ و تاریخ الام و الملوک ج ۲ ص ۳۵_ (۶) تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۳۵، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۴۹ و سیرہء نبویہ ابن کثیر ج ۲ ص ۳۸۸_
گیا ہے کہ دونوں کے گھوڑے تھے_ اسلحہ میں صرف چھے ڈھالیں اور آٹھ تلوار یں تھیں(۱)
ان تین سو تیرہ سپاہیوں میں سے مہاجرین کی تعداد کے متعلق مختلف اقوال ہیں_ چونسٹھ (۶۴) بھی کہا گیا ہے ستر (۷۰) بھی، چھیتر (۷۶) بھی ، ستتر (۷۷) اور اسی (۸۰) تک بھی کہا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو سو ستر (۲۷۰) انصاری تھے اور باقی دوسرے لوگ تھے _ اس کے علاوہ دیگر اقوال بھی ہیں(۲) _ اور انصارمیں سے کہا گیا ہے کہ ایک سو ستر (۱۷۰) خزرجی تھے البتہ اس تعداد میں بھی اختلاف پایا جاتاہے_ لیکن مشرکین نشے میں بد مست تھے اور اپنے ساتھ ڈفلی بجانے والی گلوکار ائیں بھی لائے تھے جنہیں انہوں نے راستے سے ہی واپس پلٹا دیا تھا_ ان کے ساتھ سات سو اونٹ تھے(۳) _ البتہ گھوڑوں کی تعداد میں اختلاف ہے _ چارسو بھی کہا گیا ہے(۴) ، دو سو بھی کہا گیا ہے اور ایک سو بھی(۵) نیز دیگر اقوال بھی ہیں_ اور ان سب کے پاس ڈھالیں تھیں اور ڈھال والی فوج کی کل تعداد چھ سو(۶۰۰) تھی(۶) _ پورے لشکر کے کھانے پینے کا بند و بست کرنے والے کل بارہ آدمی تھے جن میں عتبہ ، شیبہ ، عباس ، ابو جہل اور حکیم بن حزام بھی تھے _ البتہ مشہور یہ ہے کہ مؤخر الذکر بعد میں مؤلفة القلوب میں شمار ہونے لگا تھا _ بہرحال ان بارہ آدمیوں میں سے ہر ایک پورے لشکر کے ایک دن کا کھانا اپنے ذمہ لے لیتاتھا _ اور وہ ان کے لئے نو یاد س اونٹ ذبح کرتا تھا_
____________________
۱) ملاحظہ ہو :مناقب آل ابی طالب ابن شہر آشوب ج ۱ ص ۱۸۷، بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۰۶، مجمع البیان ج ۲ ص ۲۱۴ البتہ دار احیاء التراث کی طباعت کے مطابق ج ۱ ص ۴۱۵ و تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۷۱_
۲) ملاحظہ ہو : بحارالانوار ج ۱۹ ص ۳۲۳، دلائل النبوة بیہقی ج ۳ ص ۴۰، البدایة و النہایہ ج ۳ ص ۲۶۹، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۴۶، حیاة الصحابہ ج ۱ ص ۶۰۳ ، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۷۱، انساب الاشراف ج ۱ ص ۲۹۰، مجمع الزوائد ج ۶ ص ۹۳، الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۱۱۸ و دیگر کتب_
۳) ملاحظہ ہو گذشتہ چند حاشیوں میں مذکور منابع_
۴) تفسیر قمی ج ۱ ص ۲۶۲_ (۵) ملاحظہ ہو : مناقب آل ابی طالب ج ۱ ص ۱۸۷، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۴۶، بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۲۴ و ص ۲۰۶، الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۱۱۸ ، مجمع البیان و دیگر کتب نیز سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۲ ص ۳۸۷_
۶) التنبیہ و الاشراف ص۲۰۴ و سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۲ ص ۳۸۷_
مشرکوں کی ہٹ دھر می اور کینہ توزی
بدر کے کنویں پر مسلمانوں نے قریش کے چند ایک غلاموں کو پکڑ ان سے تجارتی قافلے کے متعلق پوچھ گچھ کی توانہوں نے اس سے لا علمی کا اظہار کیا جس پر مسلمانوں نے انہیں مارا پٹیا_ اس وقت آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نماز میں مصروف تھے ، آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جلدی جلدی نماز مکمل کی اور فرمایا:'' وہ تمہیں سچ سچ بتا رہے ہیں تو تم انہیں مار رہے ہو کیا جھوٹ بولنے پر انہیں چھوڑ وگے؟ '' _ پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے لشکر قریش کی تعداد کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس سے بھی لا علمی کا اظہار کیا _ جس پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے پوچھا : '' وہ ہر روز کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟'' _ انہوں نے کہا :'' نو سے دس تک ذبح کرتے ہیں'' _ اس پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : '' اس کا مطلب ہے وہ لوگ نو سو سے ایک ہزار تک کی تعداد میں ہیں''(۱) _ (البتہ اس سے زیادہ تعداد بھی بتائی گئی ہے حتی کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد تین ہزار تک تھی لیکن یہ صحیح نہیں ہے) _ پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان لوگوں کو قید کرنے کا حکم دیا تو انہیں قید کر لیا گیا _ جب مشرکین کو اس بات کا علم ہوا تو وہ اپنے بدر آنے پر بہت نادم اور پریشان ہوئے کیونکہ تجارتی قافلے کے صحیح سالم بچ نکلنے کی خبر سن کر بھی انہوں نے عربوں پر اپنی دہشت بٹھانے کے لئے بدر آنے پر بہت اصرار کیا تھا_ عتبہ بن ربیعہ ( جس کا بیٹا ابو حذیفہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے ساتھ تھا) نے بھی یہ اعتراف کیا تھا کہ تجارتی قافلے کی نجات کے بعد ان کا بدر آنا ہٹ دھرمی اور کینہ توزی پر مبنی تھا_ حالانکہ واپسی کا متفقہ فیصلہ کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں لیکن ابوجہل نے واپسی سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا : '' نہیں ، لات و عزّی کی قسم جب تک ان پر یثرب میں دھا و ابول کر انہیں قید کرکے ( ذلت اور خواری کے ساتھ) مکہ نہیں لے آئیں گے یہاں سے واپس نہیں پلٹیں گے _ تا کہ سارے عرب میں اس بات کا چرچا ہو اور آئندہ کوئی بھی ناپسندیدہ شخص ہمارے اور ہمارے تجارتی راستے کے درمیان رکاوٹ کھڑی کرنے کی کوشش نہ کرے''(۲) البتہ
____________________
۱) ملاحظہ ہو : سیرہ نبویہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۶۹ تا ص ۲۹۸ ، المغازی و اقدی ج ۱ ص ۵۳ ، البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۶۳تا ص ۲۶۴، دلائل النبوة بیہقی ج ۲ ص ۳۲۷ و ص ۳۲۸، السنن الکبری ج ۹ ص ۱۴۷ و ص ۱۴۸ ، زاد المعاد ج۳ ص ۱۷۵، صحیح مسلم ج ۵ ص ۱۷۰، کشف الاستار ج ۲ ص ۳۱۱ ، طبقات الکبری مطبوعہ صادر ج ۲ ص ۱۵، تاریخ الامم و الملوک ج ۲ ص ۱۳۲ تا ص ۱۳۴ و ص ۱۴۲ و سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۵۲_
۲) بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۵۰ از تفسیر قمی نیز ملاحظہ ہو : المغازی واقدی ج ۱ ص ۷۱_
جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے اخنس بن شریق کے ایماء پر بنی زہرہ کا قبیلہ وہیں سے واپس پلٹ گیا تھا_
دونوں فوجوں کا پڑاؤ
مشرکین، بدر کے مقام پر پہلے پہنچ گئے اور انہوں نے مکہ کے راستے پر پڑنے والی'' عدوة القصوی '' نامی وادی میں پڑاؤ کیا جہاں پانی موجود تھااور ان کے پڑاؤ کی جگہ سخت تھی_ قریش کا تجارتی قافلہ بھی مشرکین کی فوج کے پیچھے موجود تھا(۱) ارشاد خداوند ہے ( و الرکب اسفل منکم) _جبکہ مسلمانوں نے مدینہ کی جانب پڑنے والی '' عدوة الدنیا '' نامی وادی میں پڑاؤ کیا جہاں پانی بھی نہیں تھا اور زمین بھی ایسی نرم تھی کہ قدم بھی نہیں جم سکتے تھے _ جس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کی جگہ فوجی نقطہ نظر سے نہایت نامناسب تھی _ لیکن خدا نے دشمنوں کے مقابلے میں اپنے بندوں کی مدد اور حمایت کی اور راتوں رات مشرکوں کی جگہ پر بارش برسی تو ان کی جگہ کیچڑ میں تبدیل ہوگئی جبکہ اسی بارش نے مسلمانوں کی جگہ پر برس کر زمین کو سخت اور ٹھوس کردیا تھا اور مسلمانوں نے گڑھوں اور تالابوں میں پانی بھر لیا تھا(۲) _
مسلمانوں کی معنویات اور پروردگار کی عنایات
جب مسلمانوں تک مشرکوں کی کثرت کی خبر پہنچی تو وہ گھبراگئے اور خدا سے دعا اور زاری کرنے لگے_ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی روایت ہے کہ جب رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے مشرکوں کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت کو دیکھا تو قبلہ رو ہو کر یہ دعا مانگی :'' پروردگار اپنی مدد کا وعدہ پورا کر _ خدایا اگر تونے اپنے ان عزیزوں کو ماردیا تو پھر زمین پر کبھی تیری عبادت نہیں ہوگی''_
____________________
۱) البتہ عنقریب ذکر ہوگا کہ وہ تجارتی قافلہ صحیح سالم بچ کرنکل گیا تھا کیونکہ ابوسفیان اس قافلہ کو مدینہ اور مسلمانوں کے رستے سے دور ساحل سمندر کے راستے سے بچا کر لے گیا تھا_
۲) سیرہ نبویہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۷۱ و ص ۲۷۲ ، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۷۵ ، تاریخ الامم و الملوک مطبوعہ الاستقامہ ج ۲ ص ۱۴۴ ، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۵۴، الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۱۲۲، دلائل النبوة بیہقی مطبوعہ دار الکتاب العلمیہ ج ۳ ص ۳۵ و البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۶۶_
اس پر یہ آیت نازل ہوئی :
( اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملائکة مردفین و ما جعله الله الا بشری و لتطمئن به قلوبکم ) (۱۰)
'' (اور وہ وقت یا کرو ) جب تم اپنے پروردگار سے گڑ گڑا کر مدد مانگ رہے تھے تو خدا نے بھی تمہاری سن لی اور قطار اندر قطار ایک ہزار فرشتے بھیجے اور خدا نے انہیں صرف خوشخبری دے کر بھیجا تا کہ تمہارے دل مطمئن ہو جائیں''
پس کمزوری اور گھبرا ہٹ محسوس کرکے خدا سے امداد کی درخواست کرنے والے مسلمانوں کی مدد صرف ان کی تسکین خاطر اورروحانی تقویت نیز سرد پڑتے دلوں کو گرمانے کے لئے تھے _ پھر اس کے بعد خدا نے مسلمانوں پر نیند طاری کردی اور وہ سوگئے اور اس کے بعد خدا نے بارش بھیج دی _ اس کا ذکر خدا نے یوں کیاہے ( اذ یغشیکم النعاس امنة منه و ینزل علیکم من السماء ماء لیطهرکم به و یذهب عنکم رجز الشیطان و لیربط علی قلوبکم و یثبت به الاقدام ) (۲) _ ترجمہ '' ( یاد کرو اس وقت کو ) جب خدا کی طرف سے تمہیں پر امن نیند نے آلیا اور آسمان سے اس لئے مینہ برسا کہ تمہیں ( اور تمہارے دلوں کو ) صاف ستھرا کردے ، شیطان کے وسوسوں کو نکال باہر کرے ، تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور تمہیں ثابت قدم رکھے''_
جی ہاں اتنے ہولناک خطرے کا سامنا کرنے والے ایسے لوگوں کے لئے اونگھ اور ہلکی نیند بہت ضروری تھی جویہ جانتے تھے کہ ان کے پاس اس خطرے کا سامنا کرنے اور اسے ٹالنے کے لئے کوئی قابل ذکر مادی وسائل نہیں ہیں_ ہاں یہ نیند ان کے لئے ضروری تھی تا کہ ایسی خطرناک رات میں شیطانی وسوسے ان پر غلبہ نہ پالیں جس میں چھوٹی چیزیں بھی بڑی اور موٹی نظر آتی ہیں_ اور اگر وہ چیز خود طبیعی طور پر بڑی ہو تو پھر
____________________
۱) انفال : ۹و ۱۰_
۲) ص : ۱۱_
کیا حال ہوگا؟ _ یہ نیند اس لئے بھی ضروری تھی کہ انہیں اطمینان اور سکون کی ضرورت تھی '' امنة '' _ نیز اسی امن و سکون اور ایمان کے ذریعہ ان کے دلوں کو مضبوط کرنے کی بھی ضرورت تھی تا کہ خطرے کا سامنا کرتے وقت وہ کمزوری نہ دکھائیں اور کمزوری ، تاثیر پذیری اور گھبرا ہٹ کی بجائے عقل سے کام لیں اور غور و فکر کے ساتھ کوئی کام کریں اور موقف اپنائیں_ اسی نیند اور بارش کے ذریعہ سے خدا نے ان کے دلوں کو مضبوط اور طاقتور بنادیا _ حتی کہ وہ ان باتوں سے یہ جان کر مطمئن ہوگئے کہ ان پر خدا کی نظر کرم ہے اور خدا کی الطاف و عنایات ان کے شامل حال ہیں_ جس کے بعد انہیں کمر شکن حادثات اور دشمن کی صف شکن کثیر تعداد کی بھی کوئی پرواہ نہ رہی _ جبکہ اس کے بدلے میں خدا نے کافروں کے دلوں میں رعب اور خوف طاری کر دیا تھا_ اس کی طرف انشاء اللہ بعد میں اشارہ کریں گے_
یہاں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خدا نے سورہ '' محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم ''جیسی مکی سورتوں میں ، اپنے انبیاء کے خلاف گروہ بندی کر کے محاذ آرائی کرنے والوں اور ثمود اور فرعون کے ذکر کے بعد یہ خبر دے دی تھی اور پیشین گوئی کر دی تھی کہ مسلمانوں کے ساتھ بھی ایسے حادثات و واقعات پیش آئیں گے جو ان گروہوں کے ساتھ پیش آئے تھے_ بعض کے بقول آیت (جند ما ہنالک مہزوم من الاحزاب )(۱) _ترجمہ '' یہاں کئی ایسے لشکر بھی ہیں جو چھوٹے گروہوں سے شکست کھانے والے ہیں'' _ واقعہ بدر کے متعلق ہے_
اس جنگ کے مقاصد
یہاں پر سب سے اہم اور قابل ملاحظہ بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہاں خود صراحت کے ساتھ فرما رہے ہیں کہ یہ جنگ ایک فیصلہ کن جنگ ہے _ اور اس کا مقصد بھی خدا کی عبادت کے لئے آزادی کا حصول تھا _ اس جنگ سے نہ ذات کی پرستش مقصود تھی ، نہ مال ، نہ کوئی امتیاز ، نہ مقام ، نہ حکومت اور نہ ہی کوئی اور چیز _ یعنی خدا کی عبادت میں آزادی کے حصول کے علاوہ اس جنگ کا کوئی اور مقصد نہیں تھا _
____________________
۱) ص : ۱۱ _
خاص طور پر جب قریش کو یہ احساس بھی ہوگیا تھا کہ وہ اقتصادی اور نفسیاتی طور پر تنگی ، ذلت اور کمزوری کا شکار ہوگئے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوگیا تھا کہ شام اور دیگر علاقوں تک جانے والے ان کے تجارتی قافلوں کے راستے اتنے پر خطر ہوگئے ہیں کہ قریشیوں کے ارادے پست کر سکتے ہیں بلکہ ان کے وجود کو بھی متزلزل کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کمزور موقف اپنا نے پر بھی مجبور ہو جائیں گے _ ( اس صورت میں مسلمان ان اہداف کی خاطر بھی لڑسکتے تھے لیکن ان کا مقصد ان چھوٹی چیزوں سے کہیں بلند و بالا تھا)_ جبکہ مشرکوں نے بھی اپنا موقف واضح کردیا تھا _ اور یہ بتادیا تھا کہ اس جنگ سے ان کا مقصد عربوں پر اپنی دھاک بٹھانا اور اپنے اور تجارتی راستے کے درمیان کسی ناپسندیدہ شخص کو حائل ہونے سے روکنا تھا _ فریقین کے اہداف نیز ہر ایک کی بہ نسبت جنگ کے نتائج میں بھی زمین اور آسمان کا فرق تھا _ جس پر انشاء اللہ بعد میں گفتگو کریں گے_
صف آرائی
جب صبح ہوئی تو حضرت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے اپنے اصحاب کی صفوں کو منظم کیا _ اس دن آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم کا علم مبارک امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں میں تھا(۱) _ اور عنقریب غزوہ احد میں ہم یہ بھی انشاء اللہ ثابت کریں گے کہ جنگ بدر بلکہ ہر موقع پر حضرت علی علیہ السلام ہی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے علمدار تھے(۲) _ پس یہ جو کہا جاتا ہے کہ جنگ بدر میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ایک سے زیادہ علم تھے کہ مصعب بن عمیر یا حباب بن منذر کے پاس بھی ایک علم تھا ، یہ صحیح نہیں ہے _ مگر یہ کہا جائے کہ مہاجرین کا پرچم مصعب کے پاس اور انصار کا پرچم
____________________
۱) المناقب خوارزمی ص ۱۰۲، الآحاد و المثانی ابن ابی عاصم النبیل کو پلی لائبریری میں خطی نسخہ نمبر ۲۳۵ ، مسند الکلابی در انتہاء المناقب ابن مغازلی ص ۴۳۴ ، خود المناقب ابن مغازلی ص ۳۶۶، الاستیعاب بر حاشیہ الاصابہ ج ۳ ص ۳۳ و ص ۳۴ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص ۱۱ ، اس کے حاشیہ پر تلخیص مستدرک ذہبی ، مجمع الزوائد ج ۹ ص ۱۲۵ ، منقول از شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید طبع اولی ج ۲ ص ۱۰۲ ، جمہرة الخطب ج ۱ ص ۴۲۸، الاغانی مطبوعہ دار الکتب ج ۴ ص ۱۷۵ وتاریخ طبری مطبوعہ دار المعارف ج ۲ ص ۴۳۰_
۲) زندگانی امام امیر المؤمنین عليهالسلام از تاریخ ابن عسا کر با تحقیق محمودی ج ۱ ص ۱۴۵ ، ذخائر العقبی ص ۷۵ از احمددر المناقب ، طبقات ابن سعد ج ۳حصہ اول ص ۱۴ ، کفایت الطالب ص ۳۳۶ ، اسی کے حاشیہ میں از کنز العمال ج ۶ ص ۳۹۸ از طبرانی و الریاض النضرہ ج ۲ ص ۲۰۲ نیز اسی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بات کو نظام الملک نے اپنی کتاب امالی میں ذکر کیا ہے_
حباب کے پاس تھا یا اس طرح کی کوئی اور بات کہی جائے تو اور بات ہے وگرنہ اختلاف کو دور کرنے کی غرض سے پرچم (رایة ) اور علم ( لوائ) میں فرق بیان کرنے کی ان کی کوشش بھی ایک بے سود اور ناکام کوشش ہے _ کیونکہ دونوں چیزوں کے متعلق روایات ملتی ہیں کہ یہ دونوں چیزیں حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ خاص تھیں _ جس طرح کہ مندرجہ ذیل حاشیوں میں مذکور دستاویزات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے(۱) _ نیز مزید وضاحت انشاء اللہ واقعہ جنگ احد کے بیان میں ہوجائے گی_
مزید یہ کہ ابن سعد اور ابن اسحاق نے یہ ذکر کیا ہے کہ پرچم ( رایة) واقعہ بدر کے بعد اور جنگ خیبر کے دوران بنایا گیا(۲) _ یہ تو اس صورت میں ہے کہ ہم علم ( لوائ) اور پرچم ( رایة) کے درمیان کسی فرق کے قائل ہوں وگرنہ بعض اہل لغت کے مطابق یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کے مترادف ہیں(۳) _
طوفان سے قبل آرام
حضرت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے صحابہ کی صفین منظم کرنے کے بعد ان سے فرمایا ، '' نگاہیں نیچی کرلو ، لڑائی میں پہل مت کرو اور کسی سے بھی بات مت کرو ''(۴) _مسلمانوں نے بھی آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم کی تعمیل میں خاموشی اختیار کر لی اور نگاہیں نیچی کرلیں_ اس صورتحال نے قریشیوں پر اپنا واضح اثر دکھا یا حتی کہ جب ان کا ایک آدمی کسی گھات و غیرہ کی تلاش میں اپنے گھوڑے پر سوار مسلمانوں کے لشکر کا چکر لگا کر اپنی فوج کی طرف واپس پلٹا تو اس نے وہاں جاکر کہا : '' ان کے لشکر کے کسی بھی جگہ اور حصہ سے گھات یا کسی مدد و غیرہ کی کوئی امید نہیں ہے _ لیکن یثرب ( مدینہ ) کے جنگجو دردناک اور اچانک موت ساتھ لائے ہیں _ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ وہ ایسے گونگے ہوگئے ہیں کہ کچھ بھی نہیں بول رہے؟اور ادہوں کی طرح پھنکار رہے ہیں _ ان کی
____________________
۱) ملاحظہ ہوں پچھلے دو حاشیوں میں مذکور منابع_
۲) سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۴۷_
۳،۴) سیرہ حلبیہ ج ص ۱۴۷ و ص ۱۴۸_
پناہ گاہیں صرف ان کی تلواریں ہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ مارے جائیں گے اور کم از کم اپنی تعداد جتنا افراد مارکر ہی مریں گے''_ اس پر ابوجہل نے اسے برابھلا کہا کیونکہ وہ دیکھ رہا تھا کہ اس بات سے اس کے ساتھیوں میں خوف کی لہر دوڑ رہی تھی _
پھر ابوجہل نے مسلمانوں کی قلیل تعداد کو نشانہ بناتے ہوئے اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے کہا : '' وہ تو گنتی کے چند آدمی ہیں ، اگر ہم اپنے غلاموں کو ان کی طرف روانہ کردیں تو وہ بھی انہیں ہاتھ سے پکڑ کرلے آئیں گے_''
اس کے بعد آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مشرکین کی طرف اپنے ایک آدمی کے ذریعہ یہ پیغام بھیجا کہ'' اے قریشیو میں تم سے لڑنا نہیں چاہتا _ مجھے تم عربوں کے حوالے کر کے واپس چلے جاؤ_اگر میں سچا ہوا تو میری بڑائی اور بلندی تمہاری ہی بلندی اور عظمت ہے لیکن اگر میں جھوٹا ہوا تو عرب کے درندے میرا کام تمام کرکے تمہارا مقصد پورا کردیں گے _'' یہاں پر مؤرخین کے بقول عتبہ بن ربیعہ نے مشرکوں سے اس بات کو قبول کرنے پر زور اصرار کیا لیکن ابوجہل نے اس پر بزدلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ( حضرت ) محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے ساتھیوں کو دیکھ کر اس کا پتا پانی ہوگیا ہے _ اور اسے (حضرت) محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ شامل ہونے والے اپنے بیٹے ابوحذیفہ کی جان کا خطرہ لا حق ہوگیا ہے _ جب عتبہ تک ابوجہل کی یہ بات پہنچی تو وہ غصہ سے آگ بگولہ ہوگیا اورکہا : '' ابھی اس چوتیے(۱) کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کا پتا پانی ہوا ہے میرا یا اس کا ؟ '' _ اس بات سے اس کی غیرت کی رگ بھی پھڑکی اور اس نے اپنے بھائی شیبہ اور بیٹے ولید کے ساتھ زرہ پہنی اور وہ رن میں جاکر حریف طلب کرنے لگے_
یہاں پر ہم مندرجہ ذیل نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:_
____________________
۱) ان الفاظ سے لگتا یہی ہے کہ اس نے ابوجہل کو مفعول ہونے کی گالی دی تھی، کیونکہ انصار بھی اسے اسی نام سے پکارتے تھے_ ملاحظہ ہو: مجمع الامثال ج۱ ص ۲۵۱ ضرب المثل ''اخنث من مصفر استہ'' ، البرصان والعرجان ص ۱۰۲ و ص ۱۰۳ متن و حاشیہ ، الغدیر ج ۸ ص ۲۵۱ از الصواعق المحرقہ ابن حجر ص ۱۰۸ ازدمیری در حیاة الحیوان نیز الدرة الفاخرہ فی الامثال السائرہ ج۱ ص ۱۸۸_
الف: مشرکین کے خوف کی وجوہات:
مشرکین کو اس بات کا پورا پورا علم تھا کہ مسلمان جنگ کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں_ اور اپنے دین اور عقیدے کی راہ میں کم از کم اپنی تعداد جتنے آدمیوں کو قتل کرنے کے بعد سب کے سب مرنے کے لئے بالکل تیار ہیں_ اور اسی بات نے مشرکوں کے دل میں رن کی دھاک بٹھادی کیونکہ وہ تو اپنے خیال میں اس دنیا میں بقاء اور دنیاوی لذتوں اور فائدوں سے بہرہ مند ہونے کے لئے یہ جنگ لڑ رہے تھے_ اس صورتحال میں مسلمانوں کا غیض و غضب کی شدت سے سکوت بھی ان کے خوف کی فضا میں اضافے کا باعث بنا اور مشرکوں کے دلوں میں ان کا خوف اور رعب مزید بیٹھ گیا _ اور ابھی ان کی سرگردانی اور حیرت میں مزید اضافہ ہونا تھا کیونکہ کچھ دیر بعد شروع ہونے والی جنگ کی صورتحال اور مد مقابل کی چالوں سے وہ لا علم تھے اور انہیں کوئی ایسا اشارہ بھی نہیں مل رہا تھا جو انہیں جنگ کی صورتحال ، مد مقابل کی چالوں اور جنگ کے اثرات اور نتائج کی طرف رہنمائی کرتا_
اور مسلمانوں کے متعلق ابوجہل کا یہ کہنا کہ یہ تو گنتی کے چند آدمی ہیں، یہ مسلمانوں سے مشرکوں کے مرعوب نہ ہونے پر دلالت نہیں کرتا _ کیونکہ اس نے یہ بات صرف اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے کی تھی _ کیونکہ اس نے جنگ کے متعلق اپنے ساتھیوں کی تردید اور بزدلی کا خاص طور پر مشاہدہ کیا تھا_ یہاں یہ اضافہ بھی ضرور کرتے چلیں کہ خداوند عالم نے بھی جنگ کے بعض مراحل میں مسلمانوں کی نظر میں مشرکوں کو اور مشرکوں کی نظر میں مسلمانوں کو کم تعداد میں دکھلایا تا کہ وہ آپس میں ضرور لڑیں اور خدا کا فیصلہ پورا ہو کر رہے_ اس بارے میں مزید گفتگو اس فصل کے اواخر میں ہوگی_
ب : مشرکین کو نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کی پیشکش پر ایک نگاہ :
آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مشرکوں کے ساتھ ان کے نقطہ نظر ، طرز تفکر ، مفاد اور ان کی نفسیات کے مطابق بات کرنے کی کوشش کی _نیز آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ باتیں ان کے اس مفاد کے بھی مطابق تھیں جس کے تحفظ کے لئے (وہ
اپنے ہی دعوے کے مطابق) یہاں لڑنے آئے تھے_ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ جملہ '' اگر میں سچا ہوا تو میری وجہ سے تمہاری ہی شان بڑھے گی '' ان مشرکوں کی حب جاہ سے بالکل میل کھاتا ہے _ کیونکہ ان کی طاقت اور سرکشی کی وجہ سے ان کے اوپر سرداری اور حکومت کا بھوت اس حد تک سوار ہوگیا تھا کہ ان کے نسلی اور قبائلی تعلقات پر بھی اثر انداز ہوگیا تھا اور وہ اس کی خاطر اپنے باپ اور بیٹوں سے بھی لڑنے مرنے پر تیار ہوجاتے تھے_
پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا ان سے یہ فرمانا کہ '' اگر میں جھوٹا ہوا تو عرب کے درندے میرا کام تمام کرکے تمہارا مقصد پورا کردیں گے''_ یہ بات بھی ان کی زندگی کے ساتھ محبت اور مالی مفاد سے میل کھاتی ہے _ اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شان و شوکت کے اعتراف کے ساتھ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے جنگ کئے بنا ان کے واپس پلٹنے کا بھرم بھی رکھتی ہے اور اس بات سے وہ اپنی پسپائی کی تاویل اور توجیہ کرکے اپنی آبرو بھی بچا سکتے تھے_ لیکن قریش کی سرکشی اور تکبر اس بہترین ، منطقی اور قیمتی مشورے کو ماننے سے مانع ہوئی اور وہ اپنے جھوٹے تکبر اور احمقانہ اور بے باکانہ ڈینگوں کے سبب جنگ کرنے اور اس کے ہولناک نتائج بھگتنے پر بضد رہے_
ج: رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا جنگ کی ابتداء نہیں کرنا چاہتے_
یہاں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ خود رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا بھی جنگ کی ابتداء نہیں کرتے اور مسلمانوں کو بھی حکم دیتے ہیں کہ جنگ شروع نہ کریں بلکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم مقابل کو اس مخمصے سے آبرومندانہ طریقے سے نکلنے کا ایک موقع دینا چاہتے تھے _
لیکن اگر وہ اس پیشکش کو ٹھکرا دیتے اور اپنی ہٹ دھرمی اور سرکشی سے مسلمانوں پر چڑھائی پر بضد رہتے تو پھر مسلمان بھی اپنا دفاع کرنے اور حملہ آور کی چالوں کا جواب دینے کا حق رکھتے تھے ، چاہے وہ حملہ آور کوئی بھی ہو اور جیسا بھی ہو_
حضرت علی علیہ السلام کا بھی آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات طیبہ میں بلکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد بھی دشمنوں کے ساتھ یہی رویہ رہا_ بلکہ یہ تو( رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی اتباع کرنے والے ائمہ ہدی کی پیروی میں )شیعیان علی عليهالسلام کی رسم
اور ان کا خاصہ ہے _ اس پر مزید گفتگو جنگ بدر کی گفتگو کے بعد ''سیرت سے متعلق کچھ ابحاث '' کے فصل کے ذیل میں دیگر بحثوں کے ساتھ ساتھ انشاء اللہ شیعوں کی خصوصیات کی بحث میں ہوگی _ البتہ اس کے کئی اشارے ذکر بھی ہوچکے ہیں_
نبی کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم سائبان تلے؟
مؤرخین کے بقول بدر میں صحابہ نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے کھجور کی چھڑیوں سے ایک چھولدار ی تیار کی جس میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ صرف جناب ابوبکر تھے اور کوئی بھی نہیں تھا_ مؤرخین یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس بات سے بھی اتفاق کیا تھا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ چند تازہ دم اصیل گھوڑے تیار رہیںتا کہ اگر جنگ میں کامیابی ہوئی تو ٹھیک و گرنہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم گھوڑے پر سوار ہوکر مدینہ میں اپنے دیگر صحابیوںسے ملحق ہوجائیںگے(۱) _
لیکن یہ بات کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہے _ کیونکہ معتزلی کے بقول : '' وہ چھولداری کی بات تو نہایت حیرت انگیز ہے _ چھولداری بنانے کے لئے ان کے پاس کھجور کی چھڑیوں کی اتنی بڑی تعداد کہاں سے آگئی تھی ؟ حالانکہ بدر میں تو کھجور کے درخت نہیں تھے_ اور ان کے پاس جو تھوڑی بہت چھڑیاں تھیں بھی تو وہ ان کے لئے ہتھیاروں کا کام دے رہی تھیں_ کیونکہ منقول ہے کہ سات صحابیوں کے ہاتھ میں تلوار کی جگہ چھڑیاں تھیں جبکہ باقی صحابی تلواروں ، تیروں اور بھالوں سے مسلح تھے _ البتہ یہ نادر نظریہ ہے کیونکہ صحیح بات یہ ہے کہ تمام افراد ہتھیاروں سے مسلح تھے _ ہوسکتا ہے کہ چند چھڑیاں بھی ساتھ ہوں اور ان پر کوئی کپڑا و غیرہ ڈال کر کوئی سایہ بنایا گیا ہو و گرنہ یہاں کھجور کی چھڑیوں سے چھپر بنانے کی کوئی معقول وجہ نظر میں آتی ''(۲) لیکن ہم کہتے ہیں کہ :
الف : معتزلی کی یہ بات کہ تمام مہاجرین کے پاس اسلحہ تھا یہ ناقابل قبول ہے _ اس لئے کہ گذشتہ
____________________
۱) سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۲۲ و ص ۲۷۹ ، المغازی واقدی ج ۱ ص ۴۹ و ص ۵۵ ، الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۱۲۲ ،شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۴ ص ۱۱۸ ، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۵۵ _۱۵۶ و ص ۱۶۱ و دیگر کثیر مآخذ
۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی ج ۴ ص ۱۱۸
دستاویزات میں ان کے اسلحہ کی تعداد مذکور ہوچکی ہے اور ان میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو معتزلی کی بات کی تائید کرتی ہو _ بلکہ لگتا یہی ہے کہ تھوڑے افراد ایسے تھے جو تیرکمانوں سے مسلح تھے کیونکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے یہ فرمایا تھا کہ جب مشرکین نزدیک پہنچیں تب ان پر تیراندازی کرو _ شاید بعض کے پاس نیزے ، بعض کے پاس لاٹھیاں اور بعض کے پاس تلوار یا خنجر تھے اور کچھ لوگوں کے پاس کھجور کی خشک چھڑیاں بھی تھیں جن سے وہ اپنا بچاؤ کرتے تھے اور موقع پانے کی صورت میں دشمن پر حملہ بھی کر سکتے تھے _
ب: اس کا آخری نتیجہ بھی بے جاہے _ کیونکہ جن چھڑیوں پر کپڑا و غیرہ ڈال کرسائبان و غیرہ بنایا جاتا ہے انہیں خیمہ کہا جاتا ہے چھپر نہیں _ بلکہ بعض کی رائے میں تو اسے خیمہ بھی نہیں کہتے _ اسی طرح معتزلی کا ان لوگوں کی اور ان کے تلواروں کی تعداد کے متعلق نظریہ بھی گذشتہ باتوں کے سبب مشکوک ہوجاتا ہے _
البتہ بنیادی طور پر ہم بھی اس مزعومہ سائبان کے وجود اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس میں بیٹھنے اور شکست کی صورت میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرار کے انکاری ہیں لیکن ہمارے پاس مندرجہ ذیل دلائل ہیں :
ایک : نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم جنگ کے کٹھن لمحات میں فرار کرنے والے تھے ہی نہیں _
دو : مختلف مؤرخین سے منقول آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ دعا'' اللهم ان تهلک هذه العصابة لا تعبد '' ( خدایا اگر تو نے اپنے ان عزیزوں کو ماردیا تو پھر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا )
بھی اس دعوے کو جھٹلاتی ہے کہ اس جنگ میں مشرکوں کی کامیابی کی صورت میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر فرار کا ارادہ رکھتے تھے _ کیونکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مدینہ پلٹ جانے کی صورت میں بھی کرہ ارض پر خدا کی عبادت نہیں ہوسکتی تھی ( اس لئے کے بعد والی شق کے مطابق وہ آ پ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ماننے والوں کا پیچھا کرتے اور جان لئے بغیر دم نہ لیتے ) _ تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم یہ بات فرما کر پھر یہ کام کیوں کرتے ؟
تین : اگر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم جنگ بدر میں ( نعوذ با للہ ) شکست کھا جاتے توبھی مشرکین آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنی جان بچا کر کہیں جا کر پھر سے فوج اکٹھا کرنے کا موقع نہیں دیتے _ بلکہ وہ مدینہ پر ہی چڑھائی کر کے اس میں اپنے لئے مشکلات کھڑی کرنے والوں کو سرے سے ہی نابود کردیتے _ اس لئے کہ وہ اب مدینہ کے قریب بھی
آئے ہوئے تھے ، کامیابی و کامرانی کامزہ بھی چکھ چکے ہوتے تھے اور ان کے پاس تعداد اور تیاری کے لحاظ سے ایک آئیڈیل اور قابل رشک فوج بھی موجود تھی_
چار : آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم چھپر کے نیچے محافظ کے ساتھ کیسے جاکر بیٹھ سکتے تھے؟ حالانکہ انہی مؤرخین کے بقول آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جنگ بدر کے موقع پر خواب میں اپنے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو تلوار سونت کر یہ آیت پڑھتے ہوئے مشرکوں کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھا تھا (سیهزم الجمع و یولون الدبر ) ترجمہ : '' عنقریب ان کی فوج تتر بتر ہوکر پسپائی اختیار کرے گی ''(۱) _ وہ تویہ بھی کہتے ہیں کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بنفس نفیس جنگ بدر میں شرکت کرکے سخت لڑائی لڑی تھی(۲) اور یہ بات بھی جنگ میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شرکت پر دلالت کرتی ہے کہ کچھ لوگ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے شانہ بشانہ لڑ رہے تھے،ایک آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے دائیں ، ایک بائیں ، ایک آگے اور ایک پیچھے تھا(۳) _اور حضرت علی علیہ السلام کی زبانی بھی منقول ہے کہ '' جنگ بدر کے موقع پر ہم آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعہ مشرکین سے اپنا بچاؤ کرتے تھے _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سب سے زیادہ دلیر شخصیت تھے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ہی سب سے آگے آگے تھے''(۴)
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جناب ابوبکر اس وقت کہاں تھے؟ کیا رن میں رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے ساتھ تھے؟ یا پھر جا حظ کے عنقریب ذکر ہونے والے دعوے کے مطابق وہ قائد ، سردار اور رہنما کا کردار ادا کرنے کے لئے اکیلے چھو لداری میں بیٹھ گئے تھے؟ واقعہ بدرکے بعد ایک فصل میں جناب ابوبکر کی بہادری اور چھولداری میں اس کے بیٹھنے کا ذکر آئے گا _ انشاء اللہ تعالی _
پانچ : جب مسلمانوں کے پاس صرف مقداد کے گھوڑے کے سوا کوئی اور گھوڑا تھا ہی نہیں تو پھر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ( نعوذ باللہ) فرار کے لئے تیار کئی اصیل گھوڑے کہاں سے آگئے تھے؟ اور یہ گھوڑے دین اور مسلمانوں سے دفاع کے لئے جنگ میں کیوں کام نہ آئے؟ حالانکہ وہاں ان کی اشد ضرورت تھی_
____________________
۱) تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۷۲_ (۲) سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۲۳ و ص ۱۶۷ لیکن اس نے مذکورہ بات کی خلاف واقع توجیہ کی ہے کیونکہ اس نے کہا ہے کہ یہاں جہاد کا مطلب دعا ہے _ یہ سب باتیں چھپر والی حدیث کو صحیح ثابت کرنے کی کوششیں ہیں_
۳) المغازی واقدی ج ۱ ص ۷۸_
۴) ملاحظہ ہو : تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۳۵، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۲۳، البدایہ و النہایہ ج ۶ ص ۳۷ و حیاة الصحابہ ج ۲ ص ۶۷۷ از احمد و بیہقی_
نکتہ:
حضرت علی عليهالسلام سے منقول گذشتہ روایت کو اگر صحیح تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی اس کی یہ توجیہ کرنی ہوگی کہ آپ عليهالسلام اپنے بارے میں نہیں بلکہ دوسروں کے متعلق مذکورہ جملہ ارشاد فرما رہے ہیں(۱) کیونکہ حضرت علی علیہ السلام نہ مشرکوں سے ڈرنے والے تھے اور نہ ہی انہیں اپنی حفاظت کے لئے کسی پناہ گاہ کی ضرورت تھی _ انہیں جائے پناہ کی ضرورت کیونکر ہو سکتی تھی جبکہ بدر کے آدھے سے زیادہ مقتولین کو انہوں نے اکیلے ہی قتل کیا تھا اور باقی نصف کے قتل میں بھی شریک تھے _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مذکورہ بات کی مثال ایسے سے جیسے کوئی یہ کہے کہ ہمارے شہر میں یہ چیز کھائی جاتی ہے ، یہ پہنی جاتی ہے یا ہم اس شہر میں فلاں چیز بناتے ہیں_ حالانکہ ہو سکتا ہے اس شخص نے کبھی بھی وہ چیز نہ کھائی ہو ، و ہ لباس نہ پہنا ہو یا وہ چیز نہ بنائی ہو_
جنگ کی ابتدائ:
جنگ کی ابتداء عتبہ ، شیبہ اور ولید نے دوبدو لڑائی کے لئے حریف طلب کرنے کے ساتھ کی ، جن کے جواب میں ادھر سے تین انصاری نکلے، لیکن انہوں نے ان سے کہا کہ تم لوگ واپس چلے جاؤ، ہم تم سے لڑنے نہیں آئے ہم تو قریش سے اپنا ہم پلہ حریف طلب کر رہے ہیں_ ان کی اس بات پر رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے انہیں واپس بلا لیا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جنگ کی ابتداء اپنے رشتہ داروں سے کی کیونکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم انصار سے اس جنگ کا آغاز نہیں کرنا چاہتے تھے(۲) _اور یہ کہہ کر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی عليهالسلام ، حمزہ اور عبیدہ بن حارث کو پکارا:'' عبیدہ چچا جان علی عليهالسلام اٹھو اور ان سے اپنے اس حق کا مطالبہ کرو جسے خدا نے تمہارے لئے قرار دیا ہے ...''_
جب وہ رن میں گئے تو عتبہ نے ان سے حسب و نسب کے متعلق پوچھا تو سب نے اپنا تعارف کرایا اور شیبہ نے جناب حمزہ سے اس کا حسب نسب پوچھا تو اس نے کہا :'' میں عبدالمطلب کا سپوت اور خدا اور اس
____________________
۱) البتہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شجاعت اور بے جگری سے لڑائی کے بیان میں مبالغہ آرائی کی ہو کہ علی عليهالسلام جیسا نڈر شیر بھی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی پناہ ڈھونڈھ رہا تھا_ اس کی اردو میں مثال میرا نیس کا یہ مصرع ہے انگارے تھے حباب تو پانی شرر فشاں (بلکہ پوری نظم)_
۲) تفسیر قمی ج ۱ ص ۶۶۴، بحار الانور ج ۱۹ ص ۳۱۳ و ص ۳۵۳ و سعد السعود ص ۱۰۲ _
کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کا شیر حمزہ ہوں'' _ اس پر شیبہ نے کہا: '' اے خدا کے شیر اب تمہارا سامنا حلفاء(۱) کے شیر سے ہے اب دیکھتے ہیں تم میں کتنا دم خم ہے''_
بہرحال ،حضرت علی علیہ السلام جب ولید کو قتل کرکے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ جناب حمزہ اور شیبہ ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے ہیں اور دونوں کے ہاتھوں میں اپنی اپنی ٹوٹی ہوئی تلوار ہے _ یہ منظر دیکھ کر حضرت علی عليهالسلام نے جناب حمزہ سے فرمایا:'' چچا جان اپنا سر نیچے کیجئے '' _ اور چونکہ جناب حمزہ طویل القامت تھے اس لئے انہیں اپنا سر شیبہ کے سینے میں گھسانا پڑا ، تو حضرت علی عليهالسلام نے شیبہ کے سر پر تلوار کا ایسا زور دار وار کیا کہ اس کا آدھا حصہ ( بھیجا) اڑکر دور جاگرا _ ادھر عتبہ نے عبیدہ کی ٹانگ کاٹ دی تھی اور عبیدہ نے بھی اس کا سر پھوڑا ہوا تھا پھر حضرت علی عليهالسلام نے آکر اس کا کام بھی تمام کردیا _ یوں حضرت علی عليهالسلام تینوں کے قتل میں شریک ہوئے تھے_(۲) اور کتاب '' المقنع '' میں ہندہ جگر خوارہ کے مندرجہ ذیل اشعار بھی اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام تینوں کے قتل میں حصہ دار تھے:_
ما کان لی عن عتبة من صبر
ابی ، و عمی و شقیق صدری
اخی الذی کان کضوء البدر
بهم کسرت یا علی عليهالسلام ظهری(۳)
عتبہ کی جدائی پر مجھ سے صبر نہیں ہوسکتا _ اے علی عليهالسلام تونے میرے باپ، چچا اور میرے جگر کے ٹکڑے اور چاند سے بھائی کو مار کرمیری کمر توڑ دی ہے_
____________________
۱) یہ زمانہ جاہلیت کے اس عہد کی طرف اشارہ ہے جس میں قریش کے چند خاندانوں اور قبیلوں نے خون میں ہاتھ رنگ کر ایک دوسرے کی مدد اور حمایت کا اعلان اور عہد کیا تھا_ اسے حلف لعقة دم کہا جاتا تھا ، معاہدے کے فریقوں کو حلیف اور سب کو حلفاء یا احلاف کہا جاتا تھا _ حضرت علی عليهالسلام نے بھی نہج البلاغہ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے _مترجم_ (۲) ملاحظہ ہو : المناقب ج ۳ ص ۱۱۹ از الاغانی و غیرہ ..._
۳) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱۳ ص ۲۸۳ ب، العثمانیہ ، قسم نقوض الاسکا فی ص ۴۳۲ ، بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۹۲ و المناقب ابن شہر آشوب ج ۳ ص ۱۲۱_
اسی طرح سید حمیری مرحوم نے حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ثنامیں مندرجہ ذیل شعر کہے ہیں:_
و له ببدر وقعة مشهوره
کانت علی اهل الشقاء دماراً
فا ذاق شیبة و الولید منیة
اذ صبحاه جحفلاً جراراً
و اذاق عتبة مثلها اهوی لها
عضباً صقیلاً مرهفاً تیاراً(۱)
حضرت علی علیہ السلام نے بدر میں مشہور و معروف کارنامہ سرانجام دیا _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس دن ان بدبختوں کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا _ جب دن کو بہت بڑے لشکر سے آپ عليهالسلام کا سامنا ہوا تو آپ عليهالسلام نے شیبہ اور ولید اور اسی طرح عتبہ کو بھی اپنی تیز ، آبدار اور کاٹ دار تلوار سے موت کا جام پلایا_ نیز حسان بن ثابت کے اشعار کے جواب میں قبیلہ بنی عامرکے کسی شخص نے مندرجہ ذیل اشعار کہے جو ہمارے مدعا کی تائید کرتے ہیں:_
ببدر خرجتم للبراز فردکم
شیوخ قریش جهرة و تاخروا
فلما اتاهم حمزة و عبیدة
و جاء علی بالمهند یخطر
فقالوا نعم اکفاء صدق فاقبلوا
الیها سراعاً اذ بغوا و تجبروا
فجال علی جولة ها شمیة
فدمرهم لما بغو ا و تکبروا(۲)
بدر میں تم لوگ لڑنے نکلے تو قریش کے سرداروں نے کھلم کھلاتمہیں واپس پلٹا دیا اور تم سے جنگ گوارا نہیں کیا اور دوسرے جنگجوؤں کے منتظر ہوئے_ پھر جب حضرت علی عليهالسلام ، حمزہ اور عبیدہ
____________________
۱) دیوان سید حمیری ص ۲۱۵ و الماقب ابن شہر آشوب ج ۳ ص ۱۲۲_ (۲) المناقب ابن شہر آشوب ج ۳ ص ۱۱۹ و بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۹۱_
کاٹ کار تلواریں لہراتے ہوئے نکلے تو انہوں نے مطمئن ہو کر کہا کہ ہاں یہ بالکل ہمارے ہم پلّہ ہیں_ اور جب انہوں نے تکبّر کےساتھ انہیں للکارا تو وہ جلدی سے جنگ میں کود پڑے اور جب انہوں نے تکبر اور سرکشی دکھانی شروع کردی تو حضرت علی عليهالسلام کا ہاشمی خون جوش میں آیا اور انہوں نے اُن سب کونیست و نابود کر کے رکھ دیا_
اسی طرح حضرت علی علیہ السلام نے معاویہ کو ایک خط میں لکھا:''بالکل میں ہی ابوالحسن تمہارے دادا عتبہ ، چچا شیبہ ، ماموں ولید اور بھائی حنظلہ کا قاتل ہوں _ ان کا خون خدا نے ہی میرے ہاتھوں بہا یا تھا _ اب بھی میرے پاس وہی تلوار ہے اور میں نے اسی رعب و دبدبے اور جوش سے اپنے دشمنوں کو پچھاڑ اتھا''(۱) _
تینوں جنگجوؤں کے قتل کے بعد
اس کے بعد حضرت علی عليهالسلام اور حضرت حمزہ جناب عبیدہ بن حارث کو اٹھا کر رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی خدمت میں لے آئے تو اس نے آنسو بہاتے ہوئے کہا :'' یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کیا میں شہید نہیں ہوں؟'' _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ''بالکل تم تو میرے اہل بیت کے سب سے پہلے شہید ہو''_ ( یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عنقریب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت سے شہیدوں کا تانتا بندھ جائے گا _ اور ہوا بھی یہی) _ پھر اس نے کہا : '' اگر اس وقت آپ عليهالسلام کے چچا بزرگوار زندہ ہوتے اور اپنی آنکھوں سے یہ ماجرا دیکھتے تو یہ جان لیتے کہ ہم ان کی باتوں سے بہر حال بہترہیں''_
آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے پوچھا :'' تم کس چچا کی بات کر رہے ہو ؟ ''_ اس نے کہا :'' ابوطالب کی ، کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ :
کذبتم و بیت الله یبزی محمد
و لما نطا عن دونه و نناظل
و نسلمه حتی نصرع دونه
و نذهل عن ابنائنا و الحلائل
____________________
۱) الفتوح ابن اعثم ج ۲ ص ۴۳۵ ، شرح نہج البلاغہ محمد عبدہ ج ۳ ص ۱۳ و الغدیر ج ۱۰ ص ۱۵۱_
(قریشیو) خدا کی قسم تم یہ جھوٹ کہتے ہو کہ محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم ایک تر لقمہ ہے _ کیونکہ ہم اس کی حمایت میں تیروں تلواروں اور نیزوں سے تم سے سخت جنگ کریں گے اور اپنے بیوی ، بچوں کو بھی اس پر قربان کردیں گے اور تم ہماری لاشوں سے گذر کر ہی اس تک پہنچ سکوگے ( یعنی وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ حضرت ابوطالب نے صرف باتیں کی تھیں لیکن ہم عمل کرکے دکھا رہے ہیں _ از مترجم )''_ اس پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے فرمایا :'' کیاتم یہ نہیں دیکھ رہے کہ اس کا ایک بیٹا خدا اور اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کی آنکھوں کے سامنے بپھرے ہوئے شیر کی طرح چوکس کھڑا ہے اور دوسرا بیٹا حبشہ کی سرزمین میں خدا کی راہ میں جہاد میں مصروف ہے؟ '' _ اس نے عرض کیا :'' یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اس حالت میں بھی مجھے ڈانٹ رہے ہیں؟ '' _ تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :'' میں تم پر ناراض نہیں ہو الیکن تم نے میرے پیارے چچا کا نام لیا تو مجھے اس کی یاد ستانے لگی ''(۱) _
اس روایت کے آخری حصے کو چھوڑ کر بہت سے مؤرخین نے اس روایت کو نقل کیا ہے _ مؤرخین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ آیت ان چھ مذکورہ افراد کے بارے میں نازل ہوئی ( هذان خصمان اختصموا فی ربهم فالذین کفروا قطعت لهم ثیاب من نار ) ترجمہ : '' یہ دونوں متحارب (گروہ ) اپنے اپنے رب کی خاطر لڑ رہے تھے اور کافروں کے لئے جہنم کی آگ کے کپڑے تیار ہو چکے ہیں''_ اور بخاری میں مذکور ہے کہ ابوذر قسم اٹھا کر کہتا تھا کہ یہ آیت انہی مذکورہ افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے(۲) _نیز حضرت علی عليهالسلام ،جناب حمزہ اور عبیدہ کے بارے میں یہ آیت بھی نازل ہوئی ( من المومنین رجال صدقوا
____________________
۱) تفسیر قمی ج ۱ ص ۲۶۵، بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۵۵ البتہ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱۴ ص ۸۰ میں ہے کہ اس دن رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے عبیدہ اور ابوطالب عليهالسلام دونوں کے لئے مغفرت طلب فرمائی _ نیز الغدیر ج ۷ ص ۳۱۶ _ لیکن نسب قریش مصعب زبیری ص ۹۴ میں یوں آیا ہے کہ عبیدہ نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے عرض کیا : '' یا رسول اللہ کاش ابوطالب آج زندہ ہوتے تو اپنے ان اشعار کا مصداق اور تعبیر دیکھ لیتے ...''_ بسا اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ عبیدہ کے ادب اور اخلاص سے یہی بات زیادہ سازگار ہے _ لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ گذشتہ بات بھی اس کے ادب اور خلوص کے منافی نہیں ہے اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو دین کی راہ میں جان قربان کئے ہوئے دیکھ رہا تھا، اس بنا پر اس کی مذکورہ بات میں کوئی حرج نہیں تھا _(۲) بخاری مطبوعہ میمینہ ج ۳ ص ۴ ، المناقب ابن شہر آشوب ج ۳ ص ۱۱۸ از مسلم البتہ ابوذر کی قسم کے بغیر ، مستدرک حاکم ج ۲ ص ۳۸۶ اور اسی نے اور ذہبی نے اس کی تخلیص میں اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ، الغدیر ج ۷ ص ۲۰۲از تفسیر ابن کثیر ج۳ ص ۲۱۲ ، تفسیر ابن جزی ج ۳ ص ۳۸ ، تفسیر خازن ج ۳ ص ۶۹۸ ، تفسیر قرطبی ج ۲ ص ۲۵_ ۲۶ ، صحیح مسلم ج ۲ ص ۵۵۰ و طبقات ابن سعد ص ۵۱۸ اور ابن عباس ، ابن خیثم ، قیس بن عباد ، ثوری ، اعمش ، سعید بن جبیر اور عطاء سے بھی یہی منقول ہے_
ما عاهدوا الله علیه ) ترجمہ : '' مومنوں میں کئی ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے خدا سے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کر دکھایا(۱) _البتہ یہ بھی منقول ہے کہ یہ آیت فقط حضرت علی علیہ السلام کے حق میں اتری(۲) _ اس کے علاوہ جنگ بدر میں حضرت علی علیہ السلام کی تعریف میں کئی اور آیات بھی نازل ہوئیںجنہیں آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں(۳) _
اس واقعہ کی روشنی میں ہم مندرجہ ذیل چند عرائض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
الف: حضرت ابوطالب عليهالسلام کے حق میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا غصہ:
جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم اتنے مہذب اور محدود پیمانے پر اپنے چچا کے ناروا ذکر پر غصہ ہوسکتے ہیں تو خود ہی سوچئے کہ جناب ابوطالب پر کفر اور شرک کا ناروا الزام لگانے اور انہیں خدا کی بھڑکتی ہوئی آگ میں دردناک عذاب کے مستحق ٹھہرانے پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا کیا موقف اور ردّ عمل ہوگا؟ کیا آپ لوگوں کے خیال میں اس بات سے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم خوش ہوں گے؟ ہرگز نہیں_ حالانکہ یہ بے بنیاد باتیں سیاست کی ابجد سے بھی ناواقف افراد کی طرف سے صرف سیاسی مقاصد کے لئے گھڑی گئیں_
ب: اپنے رشتہ داروں سے آنحضرت عليهالسلام کی جنگ کی ابتدائ:
یہاں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہی انصار کے تین جنگجوؤں کو واپس بلا کر حضرت علی عليهالسلام ، حمزہ اور عبیدہ بن حارث کو رن میں جاکر سب سے پہلے دشمن کا سامنا کرنے کا حکم دیا(۴) _ اور یہ تینوں شخصیات
____________________
۱) الصواعق المحرقہ ص ۸۰_ (۲) المناقب خوارزمی ص ۱۸۸ و الکفایة خطیب ص ۱۲۲_
۳) المناقب ابن شہر آشوب ج ۳ ص ۱۱۸ و دیگر کتب_
۴) البتہ امالی سید مرتضی ج ۱ ص ۲۷۵ ، اعلام الوری ص ۳۰۸، بحار الانوارج ۴۸ ص ۱۴۴ اور المناقب ابن شہر آشوب ج ۴ ص ۳۱۶ میں ایک روایت مذکور ہے کہ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے نفیع انصار ی سے فرمایا :'' اور اگر تم عزت اور فخر میں مقابلہ کرنا چاہتے ہو تو یہ سن لو کہ خدا کی قسم ہمارے قبیلے کے مشرکوں نے تمہاری قوم کے مسلمانوں کو اپنا ہم پلّہ نہ سمجھتے ہوئے ان سے جنگ نہیں کیا بلکہ انہوں نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا کہ اے محمّد صلىاللهعليهوآلهوسلم قریش سے ہمارے ہم پلّہ جنگجوؤں کو ہمارے مقابلے میں بھیج'' _ لیکن میرے خیال میں دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ مشرکین بھی ان سے جنگ کے لئے راضی نہ ہوں اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا بھی انہیں رن میں بھیجنے کا دل نہ ہو_
آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے رشتہ دار ہیں _ اور حضرت علی علیہ السلام نے بھی حضرت نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے متعلق فرمایا: '' جب جنگ چھڑ جاتی تھی اور دوبدو لڑائی کے لئے حریف طلب کئے جاتے تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے رشتہ داروں کو آگے کر کے اپنے صحابہ کو بچالیتے تھے _ جس کی وجہ سے عبیدہ جنگ بدر میں ، حمزہ جنگ اُحد میں اور جعفر جنگ مؤتہ میں ماراگیا ...''(۱) _
یہاں ہم یہ کہنے ہیں حق بجانب ہیں کہ جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم جنگوں کی ابتداء اپنے رشتہ داروں سے کرتے ہیں تو اس بات سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم مہاجرین و انصار کونہ صرف زبانی کلامی بلکہ عملی طور پر یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم انہیں اپنے مقاصد تک پہنچنے اور اپنی ذات اور اپنے رشتہ داروں سے خطرات کوٹا لنے کا ذریعہ ( یعنی صرف قربانی کا بکرا) نہیں بناناچاہتے بلکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیش نظر ایسے اعلی مقاصد تھے جن کے حصول کے لئے سب کو شریک ہونا پڑے گا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم بھی خوشی ، غمی ، سختی ، آسانی ، دکھ اور سکھ تمام حالات میں ان کے ساتھ برابر کے شریک تھے_ اور دوسروں سے جان کی قربانی طلب کرنے سے پہلے خود قربانی پیش کرتے تھے بلکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم جتنا بھی ہوسکتا تھا دوسروں کو خطرات سے نکالنے کی کوشش کرتے تھے، چاہے اس کے بدلے میں اپنے ہی رشتہ داروں کو خطرات میں جھونک دینا پڑتا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم جھونک دیتے_
اور یہ ایسی بات ہے جسے ہر اعلی مقصد رکھنے والے شخص ، سیاست دان اور ہر لیڈر کے لئے بہترین نمونہ عمل ہونا چاہئے_ اسے چاہئے کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے سب سے پہلے خود قربانی پیش کرے ، پھر اگر اسے دوسروں کی قربانیوں کی ضرورت پڑی تو اس کے پاس قربانی طلب کرنے کا جواز ہوگا اور ہر کوئی یہ کہے گا کہ وہ اپنے مطالبے میں سچا اور حق بجانب ہے_ اور اسے عملی طور پر اپنے اغراض و مقاصد کی طرف بڑھنے کی بجائے مضبوط قلعوں میں بیٹھ کر صرف دوسروں کو زبانی کلامی احکام صادر کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے اور اپنے آپ کو اس ہدف کی طرف پیش قدمی کرنے والوں سے مستثنی سمجھ کر دوسروں پر صرف حکم
____________________
۱) انساب الاشراف ج ۲ ص ۸۱ ، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱۵ ص ۷۷ ، کتاب صفین مزاحم ص ۹۰ ، نہج البلاغہ حصہ خطوط خط نمبر ۹ ، العقد الفرید ج ۴ ص ۳۳۶، المناقب خوارزمی ص ۱۷۶ و نہج البلاغہ ج ۳ ص ۱۰ و ص ۱۱_
چلانے پر اسے اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ اسے بھی دوسروں کے شانہ بشانہ اپنے مقصد کی طرف بڑھنا چاہئے بلکہ اسے دوسروں سے آگے آگے ہونا چاہئے کیونکہ ہدف چاہے کتنا ہی بلند ، اعلی اور مقدس ہولیکن پھر بھی اس کی جانب پیش قدمی پر اکسا نے اور ابھارنے کے لئے صرف باتوں کا خاطر خواہ اثر نہیں ہوتا اور نہ ہی خاطر خواہ نتیجہ نکلتا ہے بلکہ اس کے ساتھ عمل کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے_
ج : شیبہ کا توہین آمیز رویہ:
ہم نے وہاں یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حضرت حمزہ کے اپنے آپ کو خدا اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے شیر کہنے پر شیبہ نے ان کا کس طرح مذاق اڑایا اور اپنے '' حلفائ''کے شیر ہونے پروہ کس طرح اکڑ رہا تھا _ حالانکہ انصاف کا تقاضا اور حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے_ ان حلفاء کے خاص مفاد اور قبائلی طرز تفکر پر مبنی حلف کے بعض پست اور بے وقعت اہداف و مقاصد پر ہم پہلے روشنی ڈال چکے ہیں_ انہی مقاصد کے حصول کے لئے وہ بدر جیسی جنگیں لڑ رہے تھے_ اور ہم سب کو معلوم ہے بلکہ ان مشرکوں کو بھی معلوم تھا کہ خدا ، رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا اور شیر خدا کے روئے زمین پر قربانی دینے کا مقصد صرف اور صرف دنیا اور آخرت میں انسانیت کی نجات ، بھلائی اور کامیابی ہے_
د: خدا کی طرف سے مسلمانوں کو ملنے والا حق:
یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ کو نسا حق تھا جس کی طرف آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم
نے حضرت علی عليهالسلام
، حضرت حمزہ اور جناب عبیدہ کو جنگ کا حکم دیتے ہوئے یوں اشارہ فرمایا تھا :'' ان سے اپنے اس حق کا مطالبہ کرو جسے خدا نے تمہارے لئے قرار دیا ہے''_ کیا یہ وہی عقیدے اور فکر کی آزادی کا حق نہیں تھا؟ اور کیا یہ مسلمانوں پر ظلم کرنے والے، انہیں اپنے ہی گھروں سے نکال باہر کرنے والے اور ان کا مال لوٹنے والے بلکہ کئی مسلمانوں کو قتل کرنے والے اور ان سب پربد ترین زیادتیوں کے مرتکب ہونے والے قریشیوں اور ان کے حملے کے مقابلے میں دین الہی اور اپنی ذات کے دفاع کا حق نہیں تھا؟
خلاصہ کلام : یہ کہ مسلمان آزاد زندگی گذارنا چاہتے تھے اور منحرفوں اور ظالموں کے مقابلے میںدین الہی کا دفاع کرنا چاہتے تھے _ اور مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اوپر ظلم اور زیادتی کرنے والے سے انصاف کا مطالبہ کرے_ خاص کر جب حضور صلىاللهعليهوآلهوسلم نبی کریم نے ان مشرکین کے سامنے وہ مذکورہ پیشکش رکھی تھی لیکن وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بھول کر بھی باز نہیں آئے بلکہ وہ پھونکوں سے چراغ الہی کو بجھانے ، مسلمانوں سے جنگ کرنے اور انہیں نیچاد کھانے پر بضدر ہے ، اسی لئے خداوند عالم کو یہ کہنا پڑا ( اذن للذین یقاتلون بانهم ظلموا و ا ن الله علی نصرهم لقدیر الذین اخرجوا من دیارهم بغیر حق الّا ان یقولوا ربنا الله ) (۱)
جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے
جب ابوجہل نے عتبہ ، شیبہ اور ولید کو قتل ہوتے دیکھا تو حالات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہنے لگا : '' ربیعہ کے بیٹوں کی طرح جلد بازی اور تکبر نہ کرو _ ایسا کرو کہ یثرب والوں ( یعنی انصاریوں ) پر حملہ کر کے ان سب کو گا جرمولی کی طرح کاٹ کر رکھ دو اور قریشیوں کو اچھی طرح کس کر قید کر لو تا کہ انہیں مکہ لے جا کر ان سے اچھی طرح پوچھ گچھ کریں کہ وہ کس گمراہی پر تھے ''_
اور ابن عباس اس آیت( و ما رمیت اذ رمیت و لکن الله رمی ) کے متعلق کہتا ہے کہ حضرت جبرائیل عليهالسلام کے کہنے پر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی عليهالسلام کو حکم دیا:'' مجھے مٹھی بھر کنکریاں اٹھا کردو '' _ حضرت علی عليهالسلام نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو مٹھی بھر چھوٹے سنگریزے اٹھا کردیئے ایک روایت کے مطابق وہ مٹی سے بھی اٹے ہوئے تھے ) _ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے وہ کنکریاں لے کر مشرکوں کے چہروںکی طرف (شاہت الوجوہ کہہ کر) پھینک دیں تو تمام مشرکوں کی آنکھیں کنکریوں سے بھرگئیں _ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ کنکریاں ان کی آنکھوں کے علاوہ ان کے منہ اور ناک کے نتھنوں میں بھی جا پڑیں _ پھر تو مسلمانوں نے انہیں یکے بعد دیگرے قتل یا قید کرنا شروع کردیا(۲) البتہ یہاں ابن عباس کا کام فقط مذکورہ آیت کو اس معجزاتی عمل سے مطابقت دینا تھا_
____________________
۱) حج / ۳۹و ۴۰_ (۲) بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۲۹ از تفسیر ثعلبی ، المناقب ابن شہر آشوب ج ۱ ص ۱۸۹ نیز ملاحظہ ہو سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۶۷_
جنگ بدر میں فرشتوں کا کردار
علماء کا اس بات میں اختلاف ہے کہ خدا نے جب فرشتوں کو مسلمانوں کی مدد کے لئے بھیجا توکیا وہ صرف مسلمانوں کی ڈھارس بندھانے اور بزدلی دور کرنے کے لئے آئے تھے یا انہوں نے خود بھی جنگ میں حصہ لیا تھا؟_ البتہ قرآن مجید کی یہ آیت اس دوسرے نظریئےو رد کرتی ہے ( وما جعله الّا بشری و لتطمئن به قلوبکم ) (۱) ترجمہ : '' اور خدا نے فرشتوں کو صرف کامیابی کی خوشخبری دے کر بھیجا تا کہ اس طریقے سے تمہارے دل مطمئن ہوں '' _ لیکن چند ایک دیگر آیتیں ان کے جنگ میں شریک ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں _ سورہ انفال کی یہ بار ہویں آیت بھی ان میں سے ہے _ ( اذ یوحی ربک الی الملائکه انی معکم فثبتو االذین آمنوا سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب ، فاضربوا فوق الاعناق و اضربوا منهم کل بنان ) ترجمہ : ( یاد کرو اس وقت کو ) جب تمہارے ربّ نے فرشتوں کو یہ وحی کی کہ (مسلمانوں کو جا کر خوشخبری دوکہ گھبراؤ نہیں) میں تمہارے ساتھ ہی ہوں اور مؤمنوں کو ثابت قدم رکھو _ میں عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوںگا _ تو جا کر ان کے پس گردن بلکہ ہر طرف سے وار کرو '' _ البتہ یہ اشارہ اس صورت میں قابل قبول ہوگا جب آیت میں (فاضربوا ...) کے مخاطب فرشتے ہوں ، جس طرح کہ آیت سے بھی بظاہر یہی لگتا ہے _ لیکن اگر اس آیت میں مخاطب مسلمان جنگجو ہوں تو پھر اس آیت میں بھی فرشتوں کے جنگ کرنے کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں ہوگا _
بہر حال صورتحال جو بھی ہو ، ایک بات مسلم ہے کہ تمام فرشتے حضرت علی علیہ السلام کی صورت میں ظاہر ہوئے تھے(۲) اور ہوسکتا ہے کہ وہ کافروں کی نظر میں مسلمانوں کی تعدا د زیادہ دکھانے کا سبب بنے ہوں
____________________
۱) انفال / ۱۵ _
۲) بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۸۵ از المناقب ، لیکن دیگر مؤرخین سے مروی ہے کہ وہ فرشتے زبیر کی شکل و صورت میں نازل ہوئے _ کیونکہ زبیر کے سر پر زرد عمامہ (پگڑی ) تھا اور ملائکہ بھی سر پر زرد عمامے باندھے ان پر نازل ہوئے _ اس بارے میں ملاحظہ ہو: مستدرک حاکم ج ۳ ص ۳۶۱ ، حیاة الصحابہ ج ۳ ص ۵۸۶ از مستدرک و کنز العمال ص ۲۶۸ از طبرانی و ابن عساکر و مجمع الزوائد ج ۶ ص ۸۴ لیکن مذکورہ بات کی نفی دلائل النبوہ ابو نعیم ص ۱۷۰ و حیاة الصحابہ ج ۳ ص ۵۸۶ میں مذکور وہ روایتیں کرتی ہیں جن میں آیا ہے کہ جنگ بدر کے دن ملائکہ سر پر سفید عمامہ باندھے نازل ہوئے تھے _
کیونکہ خداوند عالم کا ارشاد ہے ( و یکثر کم فی اعینهم ) '' اور خدا نے ان کی آنکھوں میں تمہیں کثیر جلوہ گر کیا ''_
جنگ جمل میں بی بی عائشہ کا کردار
اسی مناسبت سے ہم یہاں یہ ذکر بھی کرتے چلیں کہ ( آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی نقل کرتے ہوئے ) جنگ جمل میں بی بی عائشہ نے بھی کہا تھا کہ مجھے مٹھی بھر مٹی چاہئے _ جب اسے مٹی فراہم کی گئی تو بدروالوں کے ساتھ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے سلوک کی طرح اس نے بھی حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ساتھیوں کی طرف رخ کر کے اس پر پھونک مارتے ہوئے کہا : '' شاہت الوجوہ '' (چہرے بگڑ جائیں ) _ یہ منظر دیکھ کر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا : ( و ما رمیت از رمیت و لکن الشیطان رمی و لیعودن و بالک علیک ان شاء الله ) ( شیطان نے تمہارے ذریعہ یہ مٹی پھینکی ہے _ اس کا برا انجام بھی انشاء اللہ تمہاری ہی گردن پکڑے گا)(۱) _
اسی طرح جب بی بی عائشہ نے حضرت علی علیہ السلام کو جنگ جمل میں اپنی فوج کی صفوں میں ایسے چکر لگاتے ہوئے دیکھا جیسے جنگ بدر میں رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا اپنی فوج کی صفوں کی نگرانی کر رہے تھے ، تواس نے کہا : ''اسے دیکھو تو سہی مجھے تو لگتا ہے کہ وہ تم پر کامیابی کے لئے دوپہر کے وقت سورج کے زوال کا انتظار کر رہا ہے ''(۲) اور ہوا بھی ایسے ہی ، نیز اس موقع پر بھی امیرالمؤمنین حضرت علی عليهالسلام نے بالکل سچ فرمایا تھا_
شکست اور ذلت
بہر حال خدا نے مشرکین کو بہت بری طرح شکست سے دوچار کیا _ اس جنگ میں ابوجہل بھی ماراگیا _
____________________
۱) کتاب الجمل شیخ مفید ص ۱۸۶ و شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱ ص ۲۵۷ نیز ملاحظہ ہو الفتوح ابن اعثم ج ۲ ص ۳۲۵_
۲) الفتوح ابن اعثم ج ۲ ص ۲۱۴ _ یہاں بدر اور جمل کے واقعات اور شخصیتوں کے کردار و گفتار کی عینی یا عکسی مشابہت بھی نہایت حیرت انگیر ہے البتہ یہاں تفصیل کی گنجائشے بالکل نہیں ہے لیکن ذہین قارئین سے بھی پوشیدہ نہیں ہے _ مترجم
رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے اسے پہلے ہی پیشین گوئی کردی تھی کہ خدا اسے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سب سے کمزور صحابی کے ہاتھوں مارے گا _ بلکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے وقوعہ سے پہلے ہی اسے جنگ بدر کا سارا واقعہ بتا دیا تھا(۱) _ تو اسے ایک انصاری نے قتل کردیا تھا پھر ابن مسعود نے آکر اس کا سر کاٹ دیا تھا_ یہ بھی منقول ہے کہ ابن مسعودنے اسے آخری سانسوں میں پایا تو اس نے آکر اس کا کام تمام کردیا _ لیکن پہلی بات حقیقت سے قریب ترہے اس لئے کہ اس کا سامان ابن مسعود کے علاوہ کسی اور نے غنیمت کے طور پر لوٹا تھا _
جنگ بدر کا سب سے پہلا بھگوڑا ابلیس ملعون تھا _ کیونکہ روایات کے مطابق وہ مشرکین کو قبیلہ بنی کنانہ کے ایک بزرگ سراقہ بن مالک مدلجی کی شکل میں دکھائی دیتا تھا _ اور وہ اس لئے کہ قریش قبیلہ بنی بکر بن عبد مناف کو کسی خونی معاملے کی وجہ سے اپنے ساتھ ملانے سے ڈرتے تھے جس کی وجہ سے ابلیس قریشیوں کو سراقہ کی شکل میں نظر آیا اور انہیں مطلوبہ ضمانت فراہم کی اور وہ سب ساتھ ہولئے _ لیکن جب اس نے مشرکین کی حالت زار دیکھی اور مسلمانوں کی مدد کو آئے ہوئے ملائکہ کو بھی مشاہدہ کیا تو وہ اس کام سے پیچھے ہٹ گیا جس کی وجہ سے مشرکین شکست کھا گئے تو مکہ والے یہ کہنے لگے کہ سراقہ بھاگ گیا _ لیکن ( اصلی ) سراقہ نے کہا : '' مجھے تو تمہارے جانے کا بھی اس وقت پتہ چلا جب تمہاری شکست کی خبر مجھے ملی '' _ پھر انہیں مسلمان ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ تو شیطان تھا _
یہ بھی مروی ہے کہ جب ابوسفیان نے قافلہ کو مکہ پہنچادیا تو خود واپس پلٹ آیا اور قریش کی فوج کے ساتھ مل کر بدر کے میدان تک آیا _ اور اس جنگ میں اسے بھی کئی زخم لگے اور وہ واپس بھاگتے ہوئے گھوڑے سے گرپڑا اور پھر پیدل ہی مکہ جاپہنچا(۲) _
____________________
۱) بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۶۷ از الاحتجاج و حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے منسوب تفسیر ص ۱۱۸ و ص۱۱۹
۲) تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۷۵_
دوسری فصل:
جنگ کے نتائج
جنگ کے نتائج :
جنگ بدر میں مشرکین کے ستر آدمی مارے گئے اور اتنے ہی قید کرلئے گئے _ البتہ یہ بھی منقول ہے کہ پینتالیس آدمی قتل اور اتنے ہی قیدی ہوئے _ لیکن ہوسکتا ہے اس دوسرے نظریئےی بنیاد بعض مؤرخین کی یہ بات ہو کہ مذکورہ مقدار میں یا اس سے زیادہ مشرکین قتل ہوگئے _ جس سے انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ ان کے مقتولین اور قیدیوں کی آخری تعداد ہے _ لیکن مذکورہ بات اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ مقتول مشرکین کی کل تعداد اتنی تھی بلکہ صرف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ راوی کو اتنی تعداد کا علم ہوسکا ہے _
لیکن مسلمانوں کے شہدا کے متعلق مختلف نظریات ذکر ہوئے ہیں _ نو بھی مذکور ہے ، گیارہ بھی اور چودہ شہیدوں کا نظریہ بھی ہے کہ جس میں سے چھ مہاجر تھے اور آٹھ انصاری _ البتہ قید کوئی نہیں ہوا تھا _ جبکہ مال غنیمت میں مشرکین کے اڑھائی سو اونٹ ، دس گھوڑے ( البتہ ابن اثیر کے مطابق تیس گھوڑے ) اور بہت زیادہ ساز و سامان ، اسلحے ، چمڑے کے بچھونے ، کپڑے اور چمڑے مسلمانوں کے ہاتھ لگے تھے(۱) _
حضرت علی علیہ السلام کے کارنامے:
مشرکین کے اکثر مقتولین ، مہاجرین بالخصوص آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے رشتہ داروں اور خاص کر خود حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں واصل جہنم ہوئے تھے_ اور اس دن کافروں کو بہت بڑی مصیبت ، اور شکست دینے کی وجہ سے کافروں نے آپ عليهالسلام کو '' الموت الاحمر'' ( سرخ موت ) کا نام دیا(۲) _
____________________
۱) المغازی واقدی ج ۱ ص ۱۰۲ و ۱۰۳ ، الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۱۱۸ و سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۸۳_
۲) المناقب ابن شہر آشوب ج ۲ ص ۶۸_
اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ شبعی ہمیں یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ '' پورے عرب کو اس بات کا اعتراف ہے کہ علی عليهالسلام سب سے زیادہ بہادر شخصیت تھے''(۱) _ اور گذشتہ فصل میں '' جنگ کی ابتدا'' کے تحت عنوان حسان بن ثابت کے اشعار کے جواب میں قبیلہ بنی عامر کے ایک آدمی کے اشعار اور اپنے مقتولین کے مرثیہ میں ہندہ کے اشعار بھی اس بارے میں ذکر ہوچکے ہیں _
نیز مشرکین قریش کو حضرت علی علیہ السلام کے خلاف بھڑکاتے ہوئے اسید بن ابی ایاس نے مندرجہ ذیل اشعار کہے:
فی کل مجمع غایة اخزاکم
جذع ابرعلی المذاکی القرح
لله درکم المّا تنکروا
قد ینکر الحر الکریم و یستحی
هذا ابن فاطمة الذی افناکم
ذبحاً و قتلاً قعصة لم یذبح
اعطوه خرجاً و اتقوا تضریبه
فعل الذلیل وبیعة لم تربح
این الکهول و این کل دعامة
فی المعضلات و این زین الابطح
افناهم قعصاً و ضرباً یفتری
بالسیف یعمل حده لم یصفح(۲)
____________________
۱) نور القبس ص ۲۴۹_
۲) اسد الغابہ ج ۴ ص ۲۰ و ۲۱ ، زندگی امام علی عليهالسلام در تاریخ دمشق باتحقیق محمودی ج ۱ ص ۱۵ ، ارشادمفید ص ۴۷ ، المناقب ابن شہر آشوب ج ۳ ص ۱۲۱ ، بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۸۲ ، انساب الاشراف با تحقیق محمودی ج ۲ ص ۱۸۸ و تیسیر المطالب ص ۵۰ _
ہر ٹکراؤ پر آخر کار اس نے تمہیں خوار کیا _ سوئی کی طرح کا ایک لاغر آدمی اچھے بھلے شہ زوروں پر غالب آرہا ہے _ تمہیں خدا کا واسطہ بتاؤ کیا اب بھی تمہیں شرمندگی محسوس نہیں ہوئی؟ حالانکہ ان باتوں سے تو کسی بھی شریف آزاد خیال آدمی کو بھی شرمندگی اور پچھتا وا ہوسکتا ہے _ یہ فاطمہ ( بنت اسد ) کا چھوکرا تمہیں گا جرمولی کی طرح کاٹ کاٹ کر نیست و نابود کرتا جارہا ہے _ اس کے تند و تیز مہلک وار سے بچ بچا کر اسے اپنے اس پست کام اور بے فائدہ بیعت کا مزاچکھاؤ _ کہاں ہیں وہ بزرگ ، کہاں ہیں مشکلات میں وہ پناہ گا ہیں اور کہاں ہیں مکہ اور بطحاء کے سپوت _ علی عليهالسلام نے ہی انہیں فوری موت کا مزہ چکھایا ہے _ اس نے تلوار کے ایک ہی وار سے ان کا کام تمام کردیا ہے _ وہ اکیلے ہی یہ کام کررہا ہے اور کسی کو معاف بھی نہیں کر رہا _
وہ علی عليهالسلام کو سرخ موت کیوں نہ کہتے ؟ جبکہ بعض روایات کے مطابق جنگ بدر میں ہی جبرائیل عليهالسلام نے آسمان اور زمین کے درمیان آکر ندادی :
(لافتی الّا علی لا سیف الّا ذوالفقار )
( جوان ہے تو صرف علی عليهالسلام ہے اور تلوار بھی ہے تو صرف ذوالفقار ہی ہے )
البتہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جبرائیل نے یہ صدا جنگ احد میں لگائی تھی _ انشاء اللہ اس بارے میں مزید بات بعد میں ہوگی _ بہر حال مشرکین کے ستر مقتولین میں سے آدھے کو حضرت علی عليهالسلام نے بذات خود اکیلے ہی واصل جہنم کیا تھا اور باقی نصف کے قتل میں بھی شریک رہے تھے(۱) _ اور شیخ مفید نے تو حضرت علی عليهالسلام کے ہاتھوں قتل ہونے والے چھتیس مشرکین کا نام بھی ذکر کیا ہے(۲) _ ابن اسحاق کہتا ہے کہ جنگ بدر میںاکثرمشرکین کو حضرت علی علیہ السلام نے ہی قتل کیا تھا(۳) _ طبرسی اور قمی کہتے ہیں کہ آپ عليهالسلام نے ستائیس
____________________
۱) ملاحظہ ہو : دلائل الصدق ج ۲ ص ۳۵۳ کے ضمن میں نہج الحق _ اور اس بات پر فضل ابن روز بہان جیسے متعصب نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا _
۲) الارشاد ص ۴۳ و ۴۴ ، بحارالانوار ج ۱۹ ص ۲۷۷ و ۳۱۶از الارشاد و اعلام الوری ص ۷۷_
۳) المناقب ابن شہر آشوب ج ۳ ص ۱۲۰ و بحارالانوار ج ۱۹ص ۲۹۱
مشرکوں کو قتل کیا(۱) _ جبکہ اسامہ بن منقذ کہتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ مشرکوں کے قتل میں شریک ہونے کے علاوہ چوبیس کو آپ عليهالسلام نے بذات خود قتل کیا(۲) _ شبلنجی کہتا ہے کہ '' بعض مؤرخین کے بقول غزوہ نویسوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جنگ بدر میں کل ستر آدمی قتل ہوئے تھے اور راویوں کے متفقہ فیصلے کے مطابق ان میں سے اکیس آدمیوں کو صرف حضرت علی عليهالسلام نے قتل کیا اور چار کے قتل میں دوسروں کا ساتھ دیا البتہ آٹھ مقتولین کے قاتل کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے ''(۳) _ واقدی نے کل بائیس مقتولین کا نام لیا ہے جن میں سے اٹھارہ حضرت علی عليهالسلام کے ہاتھوں قتل ہوئے جبکہ چار کے متعلق اختلاف ہے(۴) اور معتزلی اور ابن ہشام نے ( بالترتیب) کہا ہے کہ حضرت علی عليهالسلام نے انتیس مشرکوں کو فی النار کیا یا کل باون مقتولین میں سے اتنے کے قتل میں دوسروں کا ساتھ دیا(۵) لیکن تعدا دمیں یہ اختلاف زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہے کیونکہ ان مقتولین کا نام ذکر کرنے والے مؤرخین نے تھوڑی کمی بیشی کے ساتھ پچاس کے لگ بھگ مقتولین کا نام ذکر کیا ہے(۶) _ ان میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے ان میں سے نصف یا اس سے بھی زیادہ تعداد کو قتل کیا اور اگر یہ لوگ باقی افراد کا نام بھی جان لیں تو یقینا ( دوسروں کے ساتھ مشرکین کے قتل میں شراکت کے علاوہ ) خود حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی تعداد ستر کے نصف بلکہ اس سے بھی زیادہ تک پہنچ جائے گی _ حقیقت تو بالکل یہی ہے لیکن ان مذکورہ مؤرخین کے بعد آنے والے مؤرخین نے ان پچاس افراد کو (جنہیں مذکورہ افراد نے پچاس کے ضمن میںنام کے ساتھ ذکر کیا ہے ) کل تعداد سمجھ لیا ہے حالانکہ یہ تعداد کل تعداد کا ایک حصہ ہے _ یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ بعض مؤرخین جن افراد کا نام ذکر کرتے ہیں ان
____________________
۱) ملاحظہ ہو ، تفسیر قمی ج ۱ ص ۲۷۱ و بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۴۰ از مجمع البیان
۲) لباب الآداب ص ۱۷۳ (۳) نور الابصار ص ۸۶ (۴) المغازی واقدی ج ۱ ص ۱۴۷ تا ص ۱۵۲
۵) ملاحظہ ہو : سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۳۶۵ تا ص ۳۷۲ و شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱۴ ص ۲۰۸ تا ۲۱۲
۶) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱۴ ص ۲۱۲ و ابن ہشام و واقدی و غیرہ
سے دیگر مؤرخین بالکل ناواقف ہیں اور اسی طرح معاملہ برعکس بھی ہے _ اور یہ چیزہماری اور شیخ مفید و غیرہ کی باتوں کی تائید اور تاکید کرتی ہے _
بہرحال ، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہونے والے لوگوں میں مندرجہ ذیل افراد بھی تھے _ طعیمہ بن عدی ، ابوحذیفہ بن ابوسفیان ، عاص بن سعید بن عاص( جس سے سب لوگ ڈرتے تھے) ، نوفل بن خویلد ( یہ قریش کا شریر ترین آدمی تھا ) اور عاص بن ہشام بن مغیرہ(۱) _
ایک اور جھوٹی روایت
بعض لوگوں کے گمان میں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو جناب عمر بن خطاب نے ہی ہلاک کیا تھا(۲) وہ روایت کرتے ہیں کہ عمر نے سعید بن عاص سے کہا : '' میں نے تمہارے باپ کو نہیں بلکہ اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا تھا ''(۳) _
لیکن یہ مشکوک بات ہے کیونکہ :
مذکورہ عاص ، عمر کا ماموں نہیں تھا _ اس لئے کہ عمرکی ماں حنتمہ ہشام بن مغیرہ کی نہیں بلکہ ہاشم بن مغیرہ کی بیٹی تھی _ اور جن علماء نے اسے ہشام کی بیٹی کہا ہے(۴) انہوں نے غلط کہا ہے _ ابن حزم کہتا ہے : '' ہاشم کا حنتمہ کے علاوہ اور کوئی وارث نہیں تھا ''(۵) اور ابن قتیہ نے کہا ہے : '' اور عمر بن خطاب کی ماں ہاشم بن مغیرہ کی بیٹی حنتمہ تھی جو عمر کے باپ کی چچا زاد تھی ''(۶) _
بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حنتمہ سعید بن مغیرہ کی بیٹی تھی(۷) _
____________________
۱) المنمق ص ۴۵۶ وا لاغانی مطبوعہ ساسی ج ۳ ص ۱۰۰_ (۲) سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۳۶۸ ، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۴۵ و نسب قریش مصعب زبیری ص ۳۰۱_ (۳) المغازی واقدی ج ۱ ص ۹۲ ، سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۸۹ ، نسب قریش مصعب زبیری ص ۱۷۶ ، البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۹۰ ، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۸۱ ، حیاة الصحابہ ج ۲ ص ۳۳۳ و الاصابہ و الاستیعاب _ (۴) تاریخ عمر بن خطاب ابن جوزی ص ۱۹_ (۵) جمہرة انساب العرب ص ۱۴۴_
۶) الشعر و الشعراء ص ۳۴۸_ (۷) تاریخ عمر بن الخطاب ابن جوزی ص ۲۰_
البتہ بعض نے یہ احتمال دیا ہے کہ اس نے اسے اپنا ماموں کہہ کر اس سے اپنا مادری قبلیہ مراد لیا ہے کیونکہ عرب لوگ اپنے مادری قبیلہ کے ہر فرد کو اپنا ماموں کہتے تھے جیسا کہ شاعر کا کہنا ہے :
ولو انی بلیت بهاشمی
خؤولته بنی عبدالمدان
اور چاہے میں اس ہاشمی کے چنگل میں پھنس جاؤں جن کے ماموں بنی عبدالمدان کا قبیلہ ہے_
لیکن یہ احتمال اس کی باتوں سے ناسازگار ہے کیونکہ '' خالی '' ( میر اماموں ) کے لفظ سے ذہن میں فوراً حقیقی اور سگے ماموں کا تصور بھر تا ہے _ اور لفظ'' اخوال'' ( میرے ماموں ) کے مادری قبیلے پر اطلاق کا یہ لازمہ نہیں ہے کہ یہ بات بھی صحیح سمجھی جائے کہ کوئی شخص '' خالی '' ( میرا ماموں ) کہہ کر مادری قبیلے کا ایک فرد مراد لے جبکہ وہ اس کا سگا ماموں ہو ہی نہ _ پس یہ کہنا تو صحیح ہے کہ '' بنو مخزوم اخوالنا '' (قبیلہ بنی مخزوم ہمارا مادری قبیلہ ہے ) لیکن '' فلان المخزوی خالی '' (قبیلہ بنی مخزوم کا فلاں شخص میرا ماموں ہے _ جبکہ وہ سگا نہ ہو یہ ) کہنا صحیح نہیں ہے _ اس لئے کہ دوسرے جملے سے حقیقی اور سگا ماموں مراد لیا جاتا ہے _
بلکہ بعض مؤرخین نے تو حنتمہ کو مخزومی ( قبیلہ بنی مخزوم کی عورت ) بھی ماننے سے سرے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہاشم نے اسے راستے میں پڑا ہوا دیکھا تو اسے اٹھا کر ساتھ لے آیا اور اسے پال پوس کر اس کی شادی خطاب سے کردی _ اس کی پرورش کرنے اور پالنے پوسنے کی وجہ سے عرب اپنی عادت کی بناپر حنتمہ کو ہاشم کی بیٹی کہا کرتے تھے(۱) _
تو پھر صحیح کیا ہے ؟
ہو سکتا ہے کہ ابن ابی الحدید معتزلی اور شیخ مفید کی بیان کی ہوئی مندرجہ ذیل روایت زیادہ معتبر ، حقیقت
____________________
۱) د لائل الصدق ج ۳ حصہ ۱ ص ۵۶_
سے قریب تر اور اس وقت کے سیاسی حالات اور سیاسی فضا کے مناسب تر ہو _اس روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ عثمان بن عفان اور سعید بن عاص حضرت عمر کی خلافت کے ایام میں اس کے پاس آئے _ عثمان تو اس محفل میں اپنی پسندیدہ جگہ پر آکر بیٹھ گیا لیکن سعید آکر ایک کونے میں بیٹھ گیا تو عمر نے اسے دیکھ کر کہا:'' تم مجھ سے کترا کیوں رہے ہو ؟ ایسے لگتا ہے جیسے میں نے ہی تمہارے باپ کو قتل کرڈالا ہو اسے میں نے نہیں ابوالحسن ( حضرت علی عليهالسلام ) نے قتل کیا ہے '' ( البتہ شیخ مفید کی روایت میں یوں آیا ہے کہ پھر عمر نے کہا : ''جب میں نے تمہارے باپ کو لڑائی کے لئے تیار دیکھا تو اس سے ڈرگیا اور اس سے ادھر ادھر ہونے لگا تو اس نے مجھ سے کہا کہ خطاب کے بیٹے کہاں بھاگے جا رہے ہو ؟ لیکن علی عليهالسلام اس کی طرف آیا اور اسے جالیا _ ابھی خدا کی قسم میںا پنی جگہ سے ہلا بھی نہیں تھا کہ اس نے اسے وہیں مارڈالا ) _ وہاں حضرت علی علیہ السلام بھی موجود تھے، انہوں نے کہا : '' خدایا معاف کرنا _ شرک اپنی تمام برائیوں سمیت مٹ گیا اور اسلام نے گذشتہ تمام نقوش مٹادیئےیں _ لیکن تم کیوں لوگوں کو میرے خلاف بھڑکا رہے ہو؟'' عمر اس بات کا جواب نہ دے پایا_ لیکن سعید نے جواب میں کہا : '' لیکن اگر میرے باپ کا قاتل اس کے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو پھر مجھے اس کا افسوس ہوتا ''(۲) _
پس اس روایت میں یہ بات تو ملتی ہے کہ حضرت امام علی علیہ السلام نے عمر کی جان بچائی لیکن یہ بات نہیں ملتی کہ عمر نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو قتل کیا ہو _ البتہ ( جس طرح پہلے بتا چکے ہیں) عاص ، عمر کا ماموں بھی نہیں تھا یا کم از کم اس کا عمر کا ماموں ہونا نہایت مشکوک ہے _ نیز اس روایت میں خاص کر سعید اور حضرت علی علیہ السلام کی باتوں میں کئی اور اشارے بھی ملتے ہیں _صاحبان فہم کو غور و فکر کی دعوت ہے_
نکتہ
جنگ بدر اور جنگ احد و غیرہ نے مشرکین کے دلوں پر حضرت علی علیہ السلام کی بہت زیادہ دھاک
____________________
۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۴ ۱ ص ۱۴۴ و ص ۱۴۵ و الارشاد ص ۴۶_
بٹھادی تھی _ حتی کہ یہ بھی منقول ہے کہ قریشی جب بھی حضرت علی علیہ السلام کو کسی لشکر یا گروہ میں دیکھ لیتے تو ایک دوسرے کو وصیتیں کرنے لگ جاتے تھے_
ایک مرتبہ جب آپ عليهالسلام نے دشمن کی فوج کو تتر بتر کردیا تو ایک شخص نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو دیکھ کر کہا:''مجھے ایسے لگا کہ ملک الموت(موت کا فرشتہ) بھی اسی طرف جاتا ہے جس طرف علی عليهالسلام جاتا ہے''(۱) _
مشرکین کے مقتولین ، کنوئیں میں:
جنگ ختم ہونے پر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے وہاں موجود ایک کنوئیں کو مٹی سے بند کراکے مشرکین کی لاشوں کو اس میں ڈالنے کا حکم دیا تو سب لاشیں اس میں ڈال دی گئیں، پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک ایک مقتول کا نام لے کر پکارتے ہوئے پوچھا _''کیا تم لوگوں نے اپنے خداؤں کے وعدہ کی حقیقت دیکھ لی ہے ؟ میں نے تو اپنے پروردگار کے وعدے کو سچا پایا ہے _ تم اپنے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کی بدترین قوم تھے _ تم نے مجھے جھٹلایا لیکن دوسرے لوگوں نے میری تصدیق کی ، تم نے مجھے در بدر کیا لیکن دوسرے لوگوں نے مجھے ٹھکانہ دیا اور تم نے مجھ سے جنگ کی جبکہ دوسروں نے میری مدد کی '' یہاں عمر نے کہا :'' یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کیا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم مرنے والوں سے باتیں کر رہے ہیں؟''_ تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' وہ میری باتیں تم لوگوں سے زیادہ سن اور اچھی طرح سمجھ رہے ہیں لیکن وہ میری باتوں کا جواب نہیں دے سکتے''(۲) _ لیکن بی بی عائشہ نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اس بات ''انہوں نے میری باتیں سن لی ہیں''کاانکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:''وہ میری باتیں پہلے سے ہی جان چکے تھے''_ اور اپنی مذکورہ بات کی دلیل کے طور پر یہ آیتیں پیش کی ہیں (انک لا تسمع الموتی)ترجمہ : '' آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم مردوں کو کوئی بات نہیں سنا سکتے'' _ اور (و ما انت بمسمع من فی القبور )(۳) ترجمہ : '' اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم قبر میں لیٹے مردوں کو کوئی بات نہیں
____________________
۱) محاضرات الادبا راغب اصفہانی ج ۲ ص ۱۳۸_ (۲) ملاحظہ ہو : فتح الباری ج ۷ ص ۲۳۴ و ص ۲۳۴ نیز اسی مقام پر حاشیے میں صحیح بخاری ، الکامل ابن اثیر ، ج ۲ ص ۲۹ ، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۸۶ ، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۸۲ و حیاة الصحابہ ج ۲ ص ۳۳۳ و ص ۳۳۴_
۳) سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۸۲ ، نیز ملاحظہ ہو : مسند احمد ج ۲ ص ۳۱ و ص ۳۸ و دیگر کتب _
سنا سکتے''_ لیکن بخاری میں قتادہ سے مروی ہے کہ خدا نے ان کی روحوں کو ان کے جسم میں واپس لوٹا دیا جس کی وجہ سے انہوں نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی باتیں سن لیں_ اور بیہقی نے بھی یہی جواب دیا(۱) _
لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر قتادہ کی بات صحیح ثابت ہوجائے تو یہ سردار انبیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ایک معجزہ ہوگا_
البتہ حلبی نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ مردوں کا حقیقت میں سننے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، کیونکہ جب ان کی روحوں کا ان کے جسموں سے مضبوط تعلق پیدا ہوجائے تو ان کے کانوں سے سننے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے _ اس لئے کہ سننے کی یہ حس ان کے اندر باقی رہتی ہے _ اور مذکورہ دو آیتوں میں جس سماع کی نفی کی گئی ہے وہ مشرکوں کو نفع پہنچانے والا سماع ہے _ اس کی طرف سیوطی نے بھی اپنے اشعار میں یوں اشارہ کیا ہے:
سماع موتی کلام الله قاطبة
جاء ت به عندنا الاثار فی الکتب
و آیة النفی معناها سماع هدی
لا یقبلون و لا یصغون للادب
تمام مردوں کے خدا کے کلام کو سننے کے متعلق ہماری کتابوں میں کئی روایتیں منقول ہیں _ اس لئے وہ قابل قبول ہے البتہ آیت میں جس سماع کی نفی کی گئی ہے اس سے مراد ہدایت قبول کرنے والا سماع ہے کیونکہ وہ اپنی بے ادبی کی وجہ سے ہدایت کی ان باتوں پر کان نہیں دھرتے_
اس لئے کہ خدا نے زندہ کافروں کو قبر میں پڑے مردوں سے اس وجہ سے تشبیہ دی ہے کہ وہ نفع بخش اسلام سے کوئی نفع حاصل ہی نہیں کرنا چاہتے(۲) _
____________________
۱) ملاحظہ ہو : بخاری باب غزوہ بدر نیز ملاحظہ ہو شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱۴ ص ۲۷۹ میں معتزلی کا بیان _
۲) ملاحظہ ہو : سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۸۲_
کیا '' مہجع'' سید الشہداء ہے؟
مؤرخین کہتے ہیں کہ جب جنگ بدر میں دونوں فوجوں کی صفیں منظم ہوگئیں تو سب سے پہلے ''مھجع'' ( عمر کا غلام ) جنگ کرنے نکلا اور مارا گیا _ بعض مشائخ کے بقول '' امت محمدیہ صلىاللهعليهوآلهوسلم میں اسے سب سے پہلا شہید کہا گیا'' _ اور اس کے متعلق رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے فرمایا کہ مھجع تمام شہیدوں کا سردار ہے(۱) _ لیکن یہ تمام باتیں مشکوک ہیں ، کیونکہ :
۱_ یہاں یہ سوال پیدا ہوتے ہیں کہ اس امت کا سب سے پہلا شہید مھجع کیوں کہلائے گا اور عمار کے والد جناب یا سریا ان کی والدہ جناب سمیہ اسلام کے پہلے شہید کیوں نہیں کہلائے جاسکتے ؟ حالانکہ یہ دونوں شخصیات جنگ بدر سے کئی برس پہلے شہید ہوئے_ نیز اسی جنگ بدر میں مھجع سے پہلے شہید ہونے والے عبیدہ بن حارث کو ہی اسلام کا سب سے پہلا شہید کیوں نہیں کہا جائے گا؟
۲_ ان کا یہ کہنا کہ صفوں کے منظم ہونے کے بعد وہ سب سے پہلے جنگ کرنے نکلا، ناقابل قبول ہے _ کیونکہ مسلمانوں سے سب سے پہلے حضرت علی عليهالسلام ، جناب حمزہ اور جناب عبیدہ بن حارث جنگ کے لئے نکلے تھے_
۳_ ''مھجع'' کے سید الشہداء ہونے والی بات کے ساتھ یہ روایت کیسے جڑے گی کہ '' حضرت حمزہ '' سیدالشہداء ہیں ؟(۲) _ اس بات کا ذکر انشاء اللہ غزوہ احد کی گفتگو میں ہوگا_ وہ حضرت علی عليهالسلام کا یہ شعر بھی خو دہی نقل کرتے ہیں کہ :
محمّد النبی اخی و صهری
و حمزة سیدالشهداء عمی(۳)
____________________
۱) سیرہ حلبیہ ۲ ص ۶۱ نیز ملاحظہ ہو : المصنف ج ۵ ص ۳۵۱_
۲) سیر اعلام النبلاء ج ۱ ص ۱۷۲ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص ۱۹۵و ص ۱۹۹ ، تلخیص ذہبی ( مطبوعہ بر حاشیہ مستدرک ) ، مجمع الزوائد ج ۹ ص ۲۶۸ ، حیاة الصحابہ ج ۱ ص ۵۷۱ و تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۱۶۴ و ص ۱۶۵_
۳) روضة الواعظین ص ۸۷ ، الصراط المستقیم بیاضی ج ۱ ص ۲۷۷ ، کنز الفوائد کراجکی مطبوعہ دار الاضواء ج ۱ ص ۲۶۶ و الغدیر ج ۶ ص ۲۵ تا ۳۳ از نہایت کثیر منابع _
نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے ( چچا زاد ) بھائی اور میرے سسر ہیں اور سیدالشہدا جناب حمزہ میرے چچا ہیں _
اسی طرح خود حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اور سیدالشہداء حمزہ بھی ہم میں سے ہی ہیں''(۱) _
۴_ ان کی یہ بات کہ'' مھجع مسلمانوں کاپہلا شہید ہے'' اس بات کے ساتھ کیسے جمع ہوسکتی ہے کہ مسلمانوں ''کے سب سے پہلے شہید عمیر بن حمام ہیں''(۲) ؟_
حلبی نے اس کی یہ راہ نکالنے کی کوشش کی ہے کہ عمیر انصاری مقتول تھا جبکہ اول الذکر مہاجر تھا _ لیکن پھر اس کا جواب یہ دیا ہے کہ سب سے پہلا انصاری شہید تو حارثہ بن قیس تھا _ لیکن اس جواب کو پھر خود اس نے ہی یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ حارثہ کسی نا معلوم تیر سے مارا گیا تھا اور اس کا قاتل نا معلوم تھا(۳) _
لیکن یہ واضح سی بات ہے کہ یہ صرف لفظوں کا کھیل ہے _ کیونکہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں اسلام کا سب سے پہلا شہید ہے یا بدر میں مسلمانوں کی طرف سے سب سے پہلا شہید ہے تو نہ ہی اس کے آلہ قتل کی کوئی بات ہوتی ہے نہ اس کے شہر یا علاقے کی اور نہ ہی اس کے قوم و قبیلہ کی _ و گرنہ بطور مثال یہ کہا جانا چاہئے تھا کہ فلاں مہاجرین کا سب سے پہلا شہید ہے اور فلاں انصار کا اولین شہید ہے_ یا فلاں سب سے پہلے تیر سے شہید ہوا یا نیزے سے شہید ہو ا یا اس طرح کی دیگر باتیں ہوتیں تو یہ اس کے مطلوب اور مقصود سے زیادہ سازگار ہوتا_ پھر بھی اگر حلبی کی بات صحیح مان لی جائے تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیدالشہداء کا لقب عمیر بن حمام ، عبیدہ یا حارثہ بن قیس کو چھوڑ کر صرف مھجع کو کیوں دیا گیا ؟ اور اسے ایسا لقب کس وجہ سے دیا گیا ؟ کیا اس وجہ سے کہ اس نے اسلام کی ایسی مدد اور حمایت کی تھی کہ دوسرے نہیں کر سکے تھے؟ یا یہ باقی دوسروں سے ذاتی اور اخلاقی فضائل کے لحاظ سے ممتاز حیثیت رکھتا تھا؟ یا صرف اس وجہ سے اسے سید الشہداء کا لقب ملا
____________________
۱) الاستیعاب بر حاشیہ الاصابہ ج ۱ ص ۲۷۳ و الاصابہ ج ۱ ص ۳۵۴ ، نیز ملاحظہ ہو : بحار الانوار ج ۴۴ ص ۱۴۰ و المسترشد ص ۵۷_
۲) الاصابہ ج ۳ ص ۳۱ و سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۶۱_
۳) سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۶۱_
کہ وہ عمر بن خطاب کا غلام تھا؟ پس اس وجہ سے اس کے پاس ایسی فضیلت ہونی چاہئے جو سیدا لشہداء حضرت حمزہ اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے علاوہ کسی اور میں نہیں پائی جاتی ؟ ہمیں تو نہیں معلوم شاید سمجھدار قاریوں کو اس کا علم ہو_
ذوالشمالین:
بدر میں ذوالشمالین بھی رتبہ شہادت پر فائز ہوا ( اسے ذوالشمالین اس لئے کہتے تھے کہ وہ ہر کام اپنے دونوں ہاتھوں سے کیا کرتا تھا ) _ اس کا اصل نام عمیر بن عبد عمر و بن نضلہ بن عمر و بن غبشان تھا(۱) _ البتہ یہاں ( نعوذ باللہ ) آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھول چو ک اور ذوالشمالین کے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر اعتراض کا ایک لمبا واقعہ مذکور ہے، لیکن چونکہ اسے '' سیرت سے متعلق چند ابحاث '' میں ذکر کریں گے اس لئے یہاں اس کے ذکر سے چشم پوشی کرتے ہیں _پس وہاں مراجعہ فرمائیں_
البتہ جنگ بدرسے متعلق دیگر حالات و واقعات کے بیان سے قبل درج ذیل نکات بیان کرتے چلیں:
الف : جنگ بدر میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کی خطیر مہم
امیر المؤمنین حضرت علی عليهالسلام فرماتے ہیں:'' جنگ بدر کے موقع پر میں کچھ دیر جنگ کرتا اور کچھ دیر جنگ کرنے کے بعد میں یہ دیکھنے کے لئے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آتا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا کیا حال ہے اور کیا کر رہے ہیں_ میں ایک مرتبہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس گیا تو دیکھا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سجدے کی حالت میں '' یا حی یا قیوم ''کا ورد کر رہے ہیں اور اس سے آگے کچھ نہیں فرما رہے ،میں پھر واپس لڑنے کے لئے چلا گیا _ پھر کچھ دیر لڑنے کے بعد واپس آیا تو دیکھا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ابھی تک اسی ورد میں مصروف ہیں اسی لئے میں پھر واپس جنگ کرنے چلاگیا اور اسی طرح بار بار وقفے وقفے سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خبرگیری کرتا رہا ، یہاں تک کہ خدا نے ہمیں فتح سے ہمکنار کیا''(۲)
____________________
۱) ملاحظہ ہو : سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۳۳۷ ، طبری اس کی تاریخ کے ذیل میں ص ۱۵۷، الاستیعاب بر حاشیہ الاصابہ ج ۱ ص ۴۹۱، نسب قریش مصعب زبیری ص ۳۹۴ ، الاصابہ ج ۱ ص ۴۸۶ و طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۱۹_
۲) البدایة و النہایہ ج ۳ ص ۲۷۵ و ص ۲۷۶ از بیہقی و نسائی در الیوم واللیلة ، حیاة الصحابہ ج ۱ ص ۵۰۲ از مذکورہ و از کنز العمال ج ۵ ص ۲۶۷ از حاکم، بزار ، ابو یعلی و فریابی_
البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سرے سے جنگ بدر میں شریک ہی نہیں ہوئے _ ہوسکتا ہے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم جنگ بدر کے شروع میں مسلمانوں کا دل بڑھانے کے لئے شریک ہوئے ہوں اور جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ مقصد حاصل ہوگیا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم میدان جنگ سے علیحدہ ہوکر دعاؤں اور راز و نیاز میں مصروف ہوگئے ہوں(۱) _
چند نکات:
۱_ حضرت علی علیہ السلام ان سخت حالات میں بھی آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مسلسل خبرگیری کرتے رہے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے ان جان لیوا گھڑیوں میں بھی ایک لحظہ اور ایک پل کے لئے بھی غافل نہیں ہوئے _ اسی طرح یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام دیگر مقامات اور حالات میں بھی آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خبرگیری کرتے تھے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت اور حمایت کو حضرت عليهالسلام نے اپنے ذمہ لے لیا تھا _ کیونکہ یحیی سے مروی ہے کہ ہمیں موسی بن سلمہ نے یہ بتایا ہے کہ میں نے جعفر بن عبداللہ بن حسین سے حضرت علی عليهالسلام ابن ابی طالب علیہما السلام کے (مسجد نبوی صلىاللهعليهوآلهوسلم میں) ستون کی بابت پوچھا تو اس نے کہا :'' باب رسول اللہ کی طرف یہاں ایک حفاظتی چوکی تھی اور حضرت علی علیہ السلام اس میں تربت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف رخ کرکے بیٹھتے تھے اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کیا کرتے تھے''(۲) _ سمہودی نے بھی اپنی کتاب میں اس ستون کا ذکر '' اسطوان المحرس '' ( حفاظتی چوکی والا ستون) کے نام سے کیا ہے(۳) _
۲_ ان سخت اور کٹھن گھڑیوں میں بھی آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا دعا اور مبداء اعلی یعنی پروردگا ریکتا سے رابطے کا اہتمام قابل ملاحظہ ہے _ کیونکہ وہی اصل طاقت اور کامیابی کا سرچشمہ ہے _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم مسلمانوں کو یقین اور صبر
____________________
۱) گذشتہ بات معقول اور مسلم نظر آتی ہے البتہ لگتا یہی ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کفار کے منہ میں خاک ڈال کر تھوڑی دیر جنگ میں مصروف رہے ہوں گے تا کہ مسلمانوں کی جنگ کے لئے حوصلہ افزائی ہو اور جب وہ جنگ میں مصروف ہوگئے ہوں گے تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم رن سے نکل کر مصلی میں مصروف دعا ہوگئے ہوں گے_ و اللہ العالم _ از مترجم _
۲) وفاء الوفاء ج ۲ ص ۴۴۸_
۳) ایضاً_
عطا کرنے اور انہیں خدا کے لطف و عنایات کے شامل حال کرنے کے لئے خدا سے براہ راست رابطہ کئے ہوئے تھے کیونکہ خدا کے لطف و کرم کے بغیر نہ ہی فتح اور کامیابی امکان ہے اور نہ ہی کامیابی ملنے کی صورت میں اس کی کوئی قدر و قیمت ہے_
۳_ اسی طرح اس جنگ میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھانے والے حضرت علی عليهالسلام کا خضوع و خشوع بھی لائق دید ہے_ انہوں نے پینتیس ۳۵ سے زیادہ آدمیوں کو بذات خود فی النار کیا تھا اور باقی پینتیس ۳۵ کے قتل میں بھی شریک ہوئے تھے ، لیکن ہم انہیں یہ کہتا ہوا دیکھتے ہیں کہ '' خدا نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعہ سے ہمیں فتح عنایت کی '' یعنی حضرت علی صلىاللهعليهوآلهوسلم اس کامیابی کو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے اسے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مرہون منت جانتے ہیں اور اس کامیابی میںاپنے سمیت کسی کا بھی کوئی قابل ذکر کردار نہیں سمجھتے تھے_
ب : جنگ فیصلہ کن تھی
یہ بات واضح ہے کہ اس جنگ کو فریقین اپنے لئے فیصلہ کن سمجھتے تھے _ مسلمان خاص کر حضرت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم یہ سوچ رہے تھے کہ اگر وہ خدا نخواستہ شکست کھا گئے تو پھر روئے زمین پر کبھی بھی خدا کی عبادت نہیں ہوگی _ جبکہ مشرکین بھی یہ چاہتے تھے کہ مہاجرین کو اچھی طرح کس کر انہیں اپنی گمراہی کا مزاچکھائیں اور انصاریوں کو بھی نیست و نابود کرکے رکھ دیں تا کہ بعد میں کوئی بھی ان کے دشمن کے ساتھ کبھی اتحاد نہ کر سکے اور نہ ہی کوئی کبھی ان کے تجارتی راستے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ ڈال سکے اور اس کے نتیجے میں پورے خطہ عرب پر ان کی دھاک بیٹھ جائے_ ہاں مال ، دنیا اور جاہ و حشم پر مرمٹنے والے لوگوں کے نزدیک یہ چیزیں نہایت اہم تھیں اور بالکل اسی لئے انہوں نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھیوں کو بہت تنگ کیا ، گھروں سے نکال باہر کیا اور ان سے جنگ کیا حالانکہ وہ ان کے اپنے فرزند ، بھائی ، بزرگ اور رشتہ دار تھے_ ان کے لئے سب کچھ دنیا ہی تھی اور نہ اس سے پہلے کوئی چیز تھی اور نہ بعد میں کچھ ہے_ اسی چیز نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی اور انہیں اپنے رشتہ داروں پر جرم و جنایت کے مرتکب ہونے پر اکسا یا جس کی وجہ سے انہوں
نے اپنوں کو مختلف قسم کے شکنجوں کا نشانہ بنایا، ان کا مذاق اڑایا ، پھر ان کا مال و اسباب لوٹا، انہیں اپنے گھروں سے نکال باہر کیا اور آخر کار انہیں جڑ سے اکھاڑنے اور نیست و نابود کرنے کے لئے ان کے خلاف سخت ترین جنگ لڑی_
ج: شکت ، طاقت کا عدم توازن اور فرشتوں کی امداد
کبھی ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ کوئی چھوٹا لشکر کسی بڑی فوج کو شکست دے دیتا ہے _ لیکن یہ اس صورت میں ہوتا ہے کہ اس چھوٹی فوج میں ایسے امتیازات اور ایڈ و انٹیج پائے جاتے ہیں جو بڑے لشکر میں نہیں ہوتے_ مثال کے طور پر اسلحہ با رود کی کثرت ، زیادہ نظم و ضبط ، زیادہ معلومات اور منصوبہ بندی اور کسی خاص معین جنگی علاقے یعنی جغرافیائی لحاظ سے اسٹرٹیجک جگہ پر قبضہ بھی انہی امتیازات میں سے ہیں_
لیکن مسلمانوں اور مشرکوں کا اس جنگ میں معاملہ بالکل ہی الٹ تھا _ کیونکہ جنگی تجربہ ، کثرت تعداد ، اسلحہ کی بھر مار اور جنگی تیاری اورسازو سامان و غیرہ سب کچھ مشرکین کے پاس تھا جبکہ مسلمانوں کے پاس کسی خاص حدود اربعہ میں معین کوئی خاص جنگی علاقہ بھی نہیں تھا_ بلکہ انہیں تو اس جنگ کا سامنا تھا جسے مشرکین نے اپنی مرضی کی جگہ اور وقت پر ان پر مسلط کر دیاتھا_ بلکہ اکثر مشرکین کو اس علاقے میں بھی امتیاز اور برتری حاصل تھی _ جنگی تکنیک اور اسلوب بھی و ہی پرانا تھا، یعنی فریقین کو وہی معروف اور رائج طریقہء کار اپنانا تھا_ اور اس میں بھی قریش کو برتری اس لحاظ سے حاصل تھی کہ اس کے پاس عرب کے ایسے مشہور شہسوار موجود تھے جو اپنے تجربے اور بڑی شہرت کے باعث ان تقلیدی جنگوں میں برتری کے حامل تھے _ پس جنگ کے متوقع نتائج مشرکین کے حق میں تھے_
لیکن جنگ کے حقیقی نتائج ان متوقع نتائج کے الٹ نکلے اور وہ اتنی بڑی تیاری اور کثیر تعداد والے ہر لحاظ سے برتری کے حامل فریق کے بالکل برخلاف تھے_ کیونکہ مشرکوں کو مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ خسارہ اٹھانا پڑا _ اس لئے کہ مسلمانوں کے آٹھ سے چودہ شہیدوں اور مشرکین کے ستر مقتولوں اور ستر قیدیوں کے
درمیان کونسی نسبت ہے؟ حالانکہ ہر لحاظ سے مشرکوں کاپلڑا مسلمانوں سے بہت بھاری تھا_ کیا آپ لوگ بتاسکتے ہیں کہ اس غیر متوقع نتیجہ کا کیا راز اور سبب ہے؟
اس کا جواب خود خدا نے قرآن مجید میں یوں دیا ہے
( اذ یریکهم الله فی منامک قلیلاً و لو اراکهم کثیراً لفشلتم و لتنازعتم فی الامر ، ولکن الله سلم انه علیم بذات الصدور و اذ یریکموهم اذ التقیتم فی اعینکم قلیلاً و یقللکم فی اعینهم لیقضی الله امراً کان مفعولاً )
'' ( اس وقت کو ) یاد کر و جب خدا نے خواب میں تمہیں ان کی کثیر تعداد کو کم جلوہ گر کیا اور اگر خدا ان کی تعداد زیادہ دکھاتا تو تم تو دل ہار بیٹھتے اور خود جنگ کے معاملے میں ہی آپس میں جھگڑنے لگتے لیکن خدا نے تمہیں اس سے محفوظ رکھا کیونکہ وہ دلوں کے راز بخوبی جانتا ہے_ اور جنگ کے وقت بھی خدا نے تمہاری آنکھوں میں ان کی تعداد گھٹا کر دکھائی نیز انہیں بھی تمہاری تعداد گھٹا کر دکھائی تا کہ خدا کا ہونے والا کام ہو کر رہے''(۱)
نیز ارشاد خداوندی ہے :
( و اذ زین لهم الشیطان اعمالهم لا غالب لکم الیوم من الناس و انی جار لکم ) (۲)
'' اور یاد کرو جب شیطان نے کافروں کے اس برے کام کو اچھا کردکھایا ...لیکن آج وہ لوگ تم پر غلبہ نہیں پا سکتے کیونکہ آج تم میری پناہ میں ہو''
____________________
۱) انفال /۴۳، ۴۴_
۲) انفال /۴۸_
اسی طرح یہ بھی فرماتا ہے :
( کما اخرجک ربک من بیتک بالحق و ان فریقاً من المؤمنین لکارهون ) (۱)
'' جس طرح خدا نے تمہیں اپنے گھر سے بر حق نکالا ہے لیکن مؤمنوں کے ایک گروہ کو یہ بات ناپسند تھی''
اسی طرح رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے بھی فرمایا ہے :'' رعب اور دبدبے سے میری مدد اور حمایت کی گئی ہے اور زمین کو بھی میرے لئے سجدہ گاہ اور باعث طہارت بنا یا گیا ہے''(۲)
اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمانوں اور مشرکوں کو آپس میں لڑانے کے لئے خدا ئی عنایت ، لطف بلکہ طاقت کار فرماتھی تا کہ بہت سے مسلمانوں کے دل سے مشرکوں کی ہیبت اور دہشت نکل جائے _ کیونکہ جب مسلمان قریش سے لڑلیں گے تو دوسروں سے لڑنے کیلئے وہ اور زیادہ جری اور طاقتور ہوں گے_ اور یہ خدائی مشن درجہ ذیل چیزوں میں خلاصہ ہوتا ہے:
۱_ آیتوں میں مذکور گھٹا نے بڑھا نے والے طریقے سے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی_
۲_ ملائکہ کے ساتھ مسلمانوں کی مدد_
۳_ اسلام دشمنوں کے دل میں رعب اور دہشت بٹھانا_
تشریح : فریقین کے جنگی اہداف ہی مادی اور انسانی خسارے بلکہ تاریخ کے دھارے کو کسی بھی طرف موڑنے کے لحاظ سے جنگ کے نتائج کی تعیین اور اس کا فیصلہ کرتے ہیں اور ہم پہلے بھی کئی بار یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ اس جنگ سے مشرکین کا مقصد مطلوبہ زندگی اور ان امتیازات اور خصوصیات کا حصول تھا جن
____________________
۱) انفال /۵_
۲) سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۳۳ ، بخاری ج ۱ ص ۴۶و ص ۵۷، ج ۲ ص ۱۰۷ و ج ۴ ص ۱۳۵ و ص ۱۶۳، سنن دارمی ج ۲ ص ۲۲۴ ، صحیح مسلم ج ۲ ص ۶۳ تا ص ۶۵ ، الجامع الصحیح ج ۴ ص ۱۲۳ ، کشف الاستار ج ۱ ص ۴۴ و ج ۳ ،ص ۱۴۷ ، سنن نسائی ج ۱ ص ۲۰۹و ص ۲۱۰و ج ۶ ص ۳ ، مسند احمد ج ۱ ص ۹۸ و ص ۳۰۱ و ج ۲ ص ۲۲۲ و ص ۲۶۴ ، ص ۲۶۸ ، ص ۳۱۴، ص ۳۶۶ ، ص ۴۱۲ ، ص ۴۵۵ و ص ۵۰۱ ، ج ۳ ص ۳۰۴ ، ج ۴ ص ۴۱۶و ج ۵ ص ۱۴۵ و ص ۱۴۸ و ص ۱۶۲ و ص ۲۴۸ و ص ۲۵۶ ، مجمع الزوائد ج ۶ ص ۶۵ و امالی طوسی ص ۵۶_
سے وہ اپنی آسودگی ، فرمانروائی اور سرداری کی لمبی لمبی آرزوؤں کی تکمیل کی توقع کر رہے تھے_ پس جب وہ لڑہی اس دنیاوی زندگی کے لئے رہے تھے تو اس مقصد کے لئے ان کا قربانی دنیا کیسے ممکن ہے؟ اس کا مطلب تو پھر ہدف کو کھونا اور مقصد کی مخالفت کرنا ہے_ مؤرخین کی مندرجہ ذیل روایت بھی ہمارے بیانات کی تصدیق کرتی ہے _ وہ کہتے ہیں کہ جب طلیحہ بن خویلد نے اپنے بہت سے ساتھیوں کو رن سے فرار کرتے ہوئے دیکھا تو پکارا'' منحوسو کیوں بھاگ رہے ہو؟''_ تو ان میں سے کسی نے کہا :'' میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ہم کیوں بھاگ رہے ہیں ہم اس لئے بھاگ رہے ہیں کہ ہم میں سے ہر شخص کی یہی خواہش ہے کہ اس سے پہلے اس کا ساتھی مرے ( یعنی وہ سب سے آخرمیں مرے) حالانکہ ایسے ایسے افراد سے ہمارا سامنا ہے جو اپنے ساتھیوں سے پہلے مرنا چاہتے ہیں''(۱) _ اسی طرح جب جنگ جمل میں زبیر کے پیٹھ دکھا کر بھاگنے کی خبر حضرت علی علیہ السلام تک پہنچی تو آپ عليهالسلام نے فرمایا : '' اگر صفیہ کے بیٹے کو معلوم ہوتا کہ وہ حق پر ہے تو وہ جنگ سے کبھی پیٹھ دکھا کر نہ بھاگتا ...''(۲) _ اور مامون کی فوج کا ایک بہت بڑا جرنیل حمید طوسی کہتا ہے : '' ہم آخرت سے تو مایوس ہوچکے ہیں اب صرف یہی ایک دنیاہی رہتی ہے ، اس لئے خدا کی قسم ہم کسی کو اپنی زندگی مکدّر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے''(۳) _
لیکن تمام مسلمانوں کابلکہ یوں کہنا بہتر ہوگا کہ قریش کی جڑیں کاٹنے والے حضرت علی عليهالسلام اور حمزہ جیسے ان بعض مسلمانوں کا مقصد اخروی کامیابی تھا جنہوں نے دشمنوں کو تہہ تیغ کرکے مسلمانوں کی کامیابی میں نہایت اہم کردار ادا کیا تھا_ وہ یہ جانتے تھے کہ انہیں دوبھلائیوں میں سے کوئی ایک ضرور ملے گی_ یا تو وہ جیت جائیں گے اور اس صورت میں انہیں دنیاوی اور اخروی کامیابی نصیب ہوگی یا پھر شہید ہوجائیں گے اور اس صورت میں بھی انہیں حتی کہ دنیاوی کامیابی بھی نصیب ہوگی اور آخرت تو ہے ہی _ اور ایسے لوگ جب موت
____________________
۱) سنن بیہقی ج ۸ ص ۱۷۶و حیاة الصحابہ ج ۳ ص ۷۷۰ از سنن بیہقی_
۲) المصنف عبدالرزاق ج ۱۱ ص ۲۴۱ اور اس روایت سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ وہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے قتل ہوا _ جیسا کہ بعض نے صراحتاً کہا بھی ہے_
۳) نشوار المحاضرات ج ۳ ص ۱۰۰_
کو فوجی اور ظاہری کامیابی کی طرح ایک کامیابی سمجھتے ہیں اور اپنی جان بچا کر فرار ہونے کو ( چاہے اس فرار سے ان کی جانیں بچ بھی جائیں اور وہ بڑی پرآسائشےں اور پر سکون زندگی اور دنیاوی نعمتوں سے بہرہ مند ہو بھی جائیں پھر بھی اسے) اپنے لئے ذلت ، رسوائی ، تباہی اور مرجانے کا باعث بلکہ مرجانے سے بھی بدتر سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس کے بعد انہیں اخروی تباہی اور دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہوگا_ (جب صورتحال یہ ہو ) تو یہ زندگی ان لوگوں کے لئے ناقابل قبول اور ناپسندیدہ بلکہ مکروہ ہوگی اور اس زندگی سے وہ ایسے بھاگیں گے جیسے مشرکین موت کے ڈر سے بھاگ رہے تھے_ اور طلیحہ بن خویلد کا جواب دینے والے شخص نے بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا جسے ہم بیان کرچکے ہیں_
جب عمیر بن حمام کو پتہ چلا کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا شہید ہونے والوں کو جنت کی خوشخبری دے رہے ہیں ( اس وقت عمیر کے ہاتھ میں چند کھجور تھے جنہیں وہ آہستہ آہستہ کھا رہا تھا) تو اس نے کہا :'' واہ بھئی واہ میرے اور جنت میں داخلے میں صرف ان کے قتل کرنے کا ہی فاصلہ ہے''_ یا یہ کہا :'' اگر زندہ رہا تو یہ کھجور آکر کھاؤں گا _ واہ وہ تو ایک لمبی زندگی ہے'' _ پھر وہ ہاتھ میں پکڑی ہوئی کھجوریں پھینک کر لڑنے چلا گیا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگیا(۱) _
(یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے جانثاروں کے لئے موت کیوں شہد سے بھی زیادہ میٹھی تھی )_بلکہ جب ماؤں کو پتہ چل جاتا کہ ان کے فرزند جنت میں ہیں تو انہیں اپنے فرزند کے بچھڑنے کا کوئی بھی دکھ نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ بسا اوقات خوش بھی ہوتی تھیں_ جب حارثہ بن سراقہ کسی نامعلوم تیر سے ماراگیا تو اس کی ماں نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا :'' یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ مجھے حارثہ کے متعلق بتائیں ، اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی وگرنہ اتنی آہ و زاری کروں گی کہ ساری خدائی دیکھے گی ''_ ( جبکہ ایک اور روایت کے مطابق اس نے یوں کہا:'' وگرنہ میں حد سے زیادہ گریہ کروں گی'' نیز دیگر روایت میں آیا
____________________
۱) ملاحظہ ہو : الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۱۲۶ ، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۸۰ ، سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۷۹ ، البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۲۷۷ از مسلم و احمد ، سنن بیہقی ج ۹ ص ۹۹ ، مستدرک حاکم ( با اختصار ) ج ۳ ص ۴۲۶ و حیاة الصحابہ ج ۱ ص ۴۲۴ از گذشتہ بعض منابع_
ہے'' تو روؤں گی پیٹوں گی نہیں لیکن اگر وہ دوزخ میں گیا ہے تو میں مرتے دم تک روتی رہوں گی '')_ اور ایک روایت میں ہے کہ جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے بتایا کہ اس کا بیٹا جنت میں ہے تو وہ ہنستے ہوئے واپس پلٹی اور کہنے لگی :'' مبارک ہو حارث مبارک ہو''(۱) _اسی طرح جنگ بدر میں شہید ہونے والے عمیر بن ابی وقاص کو جب رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے مدینہ میں ٹھہرانا چاہا تو وہ ( فرط جذبات اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد سے محرومی کے احساس سے ) روپڑا(۲) جس پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے ساتھ چلنے کی اجازت دے دی _ اور اس طرح کی مثالیں بہت زیادہ ہیں_جنہیں یہاں بیان کرنے گی گنجائشے نہیں ہے_
گذشتہ تمام باتوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں کو کتنی شدت سے مرجانے یا پھر کامیاب ہونے کا شوق تھا _ اور کافروں کو صحت و سلامتی کے ساتھ زندہ رہنے کی تمنا تھی _ کیونکہ مسلمان تو موت کو ایک پل اور شہادت کو عطیہ اور سعادت سمجھتے تھے لیکن وہ لوگ موت کو خسارہ ، فنا اور تباہی سمجھتے تھے_ ان کی مثال بھی بنی اسرائیل کی طرح تھی_
اور بنی اسرائیل دنیا اور دنیا داری کے لئے بہت زیادہ اہمیت کے قائل تھے اور ان کی سوچوں بلکہ عقیدے میں بھی آخرت کی کوئی جگہ نہیں تھی_ ان کی متعلق خدایوں فرماتا ہے:
( قل ان کانت لکم الدار الاخرة عند الله خالصة من دون الناس فتمنو الموت ان کنتم صادقین و لن یتمنوه ابداً بما قدمت ایدیهم و الله علیم بالظالمین و لتجدنهم احرص الناس علی حیاة و من الذین اشرکوا یود احدهم لو یعمر الف سنة و ما هو بمزحزحه من العذاب ان یعمر و الله بصیر بما یعملون ) (۳)
____________________
۱) ملاحظہ ہو : مستدرک حاکم ج ۳ ص ۲۰۸ ، البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۷۴ از شیخین ، سنن بیہقی ج ۹ ص ۱۶۷ ، حیاة الصحابہ ج ۲ ص ۶۵۲ تا ص ۶۵۳ از مذکورہ منابع و از کنز العمال ج ۵ ص ۲۷۳ و ۲۷۵ و ج ۷ ص ۷۶ و از ابن سعد ج ۳ ص ۶۸ _
۲) نسب قریش مصعب زبیری ص ۲۶۳ ، الاصابہ ج ۳ ص ۵ ۳،از حاکم ، بغوی ، ابن سعد و واقدی_
۳) بقرہ / ۹۴ تا ۹۶_
''( اے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم ) ان سے کہہ دیجئے کہ اگر آخرت کا مقام بھی خدا کے نزدیک صرف تمہارا ہی ہے تو ذرا مرنے کی خواہش تو کرو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو _ لیکن وہ اپنے کر تو توں کی وجہ سے ہرگزموت کی تمنا نہیں کرسکتے اور خدا ہی ظالموں کو سب سے بہتر جانتا ہے _ انہیں تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم زندہ رہنے کا سب سے زیادہ خواہشمند پائیں گے حتی کہ مشرکوں سے بھی _ان کا ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ کاش اسے ہزار سالہ زندگی مل جائے _ وہ جتنی بھی زندگی کرلیں وہ اسے عذاب سے چھٹکار انہیں دلا سکتی _ اور خدا ان کے کردار کو بخوبی جانتا ہے''_
اسی بنا پر جنگ بدر میں ضرورت اس بات کی تھی کہ ابتداء میں خدا مسلمانوں کو ان کی نظر میں گھٹا کر دکھاتا تا کہ وہ اپنی سلامتی اور بقاء کے زیادہ احتمال کی وجہ سے آسانی اور آسودہ خیالی سے اس جنگ میں کود پڑتے _ کم از کم وہ جنگ میں جم کر لڑتے اور فرار کا تصور بھی نہ کرسکتے تا کہ حضرت علی علیہ السلام قریش اور شرک کے بڑے بڑے فرعونوں ، سرپھروں، گروگنڈالوں اور سپاہیوں کو قتل اور قیدی کرلیں_ حضرت بی بی فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی ایک روایت بھی اسی کے مطابق ہے کہ '' جب جنگ کا شعلہ بھڑکا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہی اسے بجھایا ، گمراہی بڑھنے لگی یا مشرکوں کا جمگھٹا ہوا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے بھائی کو اس میں جھونک دیا اور وہ اسے اچھی طرح روند کر اور تلوار سے اس کے شعلے بجھا کر ہی وہاں سے واپس لوٹا _ وہ خدا کی ذات میں جذب ( فنا فی اللہ ) ہوچکا تھا ...''(۱) _
لیکن پھر جنگ چھڑنے کے بعد ضروری تھا کہ مشرکین مسلمانوں کی تعداد کی کثرت دیکھیں تا کہ وہ رعب اور دہشت کے مارے نہ لڑسکیں_یہاں خدا نے مسلمانوں کی فرشتوں کے ذریعہ مدد کی _اور ان کے ذریعہ سے ان کی تعداد بڑھائی اور فرشتوں کو یہ حکم دیا کہ وہ لڑیں اور مشرکین کا سر قلم کریں نیز ان کے دلوں میں رعب ، دہشت اور دھاک بٹھادیں _خدا نے بھی جنگ کے شروع ہونے کے بعد پیش آنے والے اس آخری مرحلہ کا ذکر اس آیت میں یوں کیا ہے:
( اذ یوحی ربک الی الملا ئکة انی معکم فثبتواالذین
____________________
۱) بلاغات النساء ص ۲۵ مطبوعہ النہضة الحدیثہ و اعلام النساء ج ۴ ص ۱۱۷_
آمنو سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب فاضربوا فوق الا عناق و اضربوا منهم کل بنان ) (۱)
''(وہ وقت یادکرو )جب تمہارے پروردگارنے فرشتوں سے کہا کہ میں تمہارا پشت پناہ ہوں (تم جاکر ) مؤمنوں کا دل بڑھا ؤ،میں بھی کافروں کے دل میں دہشت پیدا کردوں گا پھر تم انہیں ہر طرف سے مارکر ان کی گردن ہی ماردو''_
اور یہ بات واضح ہے کہ ڈرپوک اور بزدل دشمن پر چڑھائی چاہے وہ کتنا ہی طاقتور ہو اس کمزور دشمن پر حملہ سے زیادہ آسان ہے جو موت سے بے پروا ہو کر خود ہی حملہ آور ہو_پس یہ معرکہ جنگجوؤںکا سامنا کرنے سے کترانے والے مشرکوں کے حق میں نہیں بلکہ مسلمانوں کے حق میں تھا_ اس بنا پر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ خود مشرکین بھی مشرکین کے خلاف لٹررہے تھے اور یہ بات حضرت علی عليهالسلام کے اس فرمان کی تشریح اور تفسیر ہے کہ ''میرا سامنا جس سے بھی ہوا اس نے اپنے خلاف میری مددکی (اپنے آپ کو میرے حوالہ کردیا)''(۲) اور فرشتوں کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد کا ایک اور پہلو بھی تھا جس کا ملاحظہ بھی نہایت ضروری ہے _اور وہ یہ ہے کہ چونکہ یہ ممکن تھا کہ بعض مسلمانوں کے ایمان اور یقین کا درجہ بلند نہ ہوتا اور اس جنگ میں ان کا یقین اورمان ٹوٹ جاتا یا کم از کم ان کا ایمان کمزورہو جاتا اس لئے خدا نے مسلمانوں پر لطف و کرم کرتے ہوئے ان کی فرشتوں سے مدد کی تا کہ وہ انہیں جیت کی خوشخبری دیں ،ان کا دل بڑھائیں اور جنگ کے آغاز میں ان کی آنکھوں میں مشرکوںکو گھٹا کرد کھائیںجس سے وہ جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں _اس کے علاوہ خدا کے فضل سے فرشتوں کی مدد کے اور طریقے بھی تھے _ان باتوں سے اس بات کی وجہ بھی معلوم ہو جاتی ہے کہ کیوں مشرکین کے مقتولین کی تعداد شہداء اسلام سے کئی گنا زیادہ تھی اور ان کے ستر افراد بھی قید کر لئے گئے حالانکہ مسلمانوں کا کوئی بھی فردگرفتار نہیں ہوا_اور اس مدد کے نتائج صرف جنگ بدرتک ہی محدودنہیں تھے بلکہ ایمان اور کفر کے درمیان ہر جنگ میں ایسے نتائج ظاہر ہوئے اور واقعہ کربلا بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے _
____________________
۱)انفال/۱۲_
۲)نہج البلا غہ حکمت ۳۱۸_
د: انصار کے خلاف قریش کا کینہ
۱_ ابوجہل کی گذشتہ باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ قریش انصار کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا چاہتے تھے حتی کہ ابو جہل نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا تھا کہ انصار کو گا جر مولی کی طرح کاٹ کررکھ دو لیکن قریشیوں کی بہ نسبت ان کا موقف مختلف تھا _کیونکہ ابو جہل نے ان کے متعلق کہا تھاکہ ان کی مشکیں اچھی طرح کس کر انہیں مکہ لے جاؤتا کہ وہاںانہیں ان کی گمراہی کا مزہ چکھا یا جائے _شاید مشرکوں نے قریشیوں سے اپنے پرانے تعلقات بحال رکھنے کے لئے ان کے خلاف یہ موقف اپنا یا ہو کیونکہ ہر قریشی مسلمان کا مکہ میں کوئی نہ کوئی رشتہ دار موجود تھا _اور وہ اپنے رشتہ دار کے قتل پر راضی نہیں ہو سکتے تھے چاہے وہ ان کے عقیدے اور مذہب کے مخالف ہی کیوں نہ ہو _اور یہی قبائلی طرز فکرہی تو تھا جواتنے سخت اور مشکل حالات میں بھی مشرکین کی سوچوں پر حاوی اور ان کے تعلقات اور موقف پر حاکم تھا _
۲_ہم یہ تو جان چکے ہیں کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا اور مسلمانوں کو پناہ اور مدد دینے والے انصار کے خلاف قریش کا کینہ نہایت عروج پر تھا اور ان کے کینے کی دیگ بری طرح ابل رہی تھی _اس بات کا تذکرہ ابو جہل نے سعد بن معاذ سے کسی زمانے میں (شاید بیعت عقبہ یا سعد کے حج کرنے کے موقع پر_مترجم)کیا بھی تھا اور اب وہ یثرب والوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے آیاتھا _لیکن ہم یہ بھی ملاحظہ کرتے ہیں کہ ان کے دل میں یہ کینہ کئی دہائیوں تک رہا بلکہ سقیفہ کے غم ناک حادثے میں انصار کی خلافت کے معاملے میں قریش کی مخالفت اوردوسروں کی بہ نسبت حضرت علی علیہ السلام کی طرف انصار کے رجحان نے اس جلتی پر تیل کا کام کیا _اور یہ کینہ مزیدجڑپکڑگیا کیونکہ انہوں نے ہراس جنگ میں حضرت علی علیہ السلام کا ساتھ دیا جس میں قریشی آپ کے مد مقابل تھے(۱) حتی کہ جنگ صفین میں معاویہ کو نعمان بن بشیر اور مسلمہ بن مخلدسے کہنا پڑا:''اوس اور خزرج کی طرف سے پہنچنے والی زک سے مجھے بہت دکھ اور نقصان اٹھانا پڑاہے _وہ اپنی تلواریں گردن میں حمائل کرکے جنگ کا مطالبہ کرنے آکھڑے ہوتے ہیں _حتی کہ انہوں نے میرے شیر
____________________
۱)ملاحظہ ہو :المصنف ج۵ص۴۵۶وص۴۵۸ودیگر کتب_
کی طرح بہادر ساتھیوں کو بھی چو ہے کی طرح ڈرپوک بنا کرر کھ دیا ہے _حتی کہ خدا کی قسم میں اپنے جس شامی جنگجو کے متعلق بھی پوچھتا ہوں تو مجھے یہ کہا جاتا ہے اسے انصار نے قتل کردیا ہے_اب خدا کی قسم میں ان سے بھر پور جنگ کروں گا ''(۱) اسی طرح نعمان بن بشیر نے انصار کے ساتھ اپنی ایک گفتگو میں کہا ،''جب بھی (حضرت علی عليهالسلام پر)کوئی مشکل آن پڑی تم لوگوں نے ہی ان کی یہ مشکل آسان کی ہے''(۲) اسی طرح بنی امیہ کے بزرگ عثمان بن عفان کے خلاف انصار کے موقف اور اس کے خلاف چلائی جانے والی تحریک میں ان کے فعال اور مؤثر کردار نے قریش کے ان کے خلاف کینے کو مزید ہوادی _حتی کہ معاویہ نے اس کے غم میں مندرجہ ذیل شعر کہا :(گرچہ یہ واضح ہے کہ عثمان پراس کا رونا دھونا اس کے سیاسی مقاصد کے تحت تھا و گرنہ عثمان سے اسے کوئی بھی ہمدردی نہیں تھی ) _
لاتحسبوا اننی انسی مصیبته
و فی البلاد من الا نصار من احد(۳)
یہ کبھی مت سوچنا کہ روئے زمین پر کسی ایک انصار ی کے ہوتے ہوئے میں عثمان کا غم بھول جاؤ ں گا_
بہر حال معاویہ سے جتنا بھی ہو سکتا تھا اس نے انصار کے خلاف اپنے د ل کی بھڑ اس نکالی لیکن پھر اس کے بعداس نا بکار کے ناخلف یزید نے کربلا میں اہل بیت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کو شہید کرنے کے بعد ''واقعہ حرہ'' میںانصار سے نہایت برا اور شرمناک انتقام لیا تھا(۴)
احمد بن حنبل نے بھی ابن عمر کی ایک بات نقل کی ہے جس کے مطابق وہ اہل بدر کے مہاجرین کو ہر موقع پر اہل بدر کے انصار پر ترجیح دیا کرتاتھا البتہ اس بارے میں ''جنگ بدر سے پہلے کی لڑائیاں ''کی فصل میں
____________________
۱) شرح نہج البلا غہ ابن ابی الحدید ج۸ ص ۸۴و ص۸۵نیز ملاحظہ ہو ص ۴۴و ص۸۷)_
۲)شرح نہج البلاغہ ابن ابی ا لحدیدج ۸ص۸۸_
۳)شرح نہج البلا غہ ابن ابی الحدید ج ۸ ص ۴۴_
۴)ملاحظہ ہو تاریخ الامم و الملوک ، الکامل فی التاریخ اور دیگر کتابوں میں واقعہ حرہ _
''جنگ میں مہاجرین کو پہلے بھیجنے کی وجوہات ''میں یہ بحث ہو چکی ہے _اس موضوع کے سیر حاصل مطالعہ کے لئے وہاں مراجعہ فرمائیں_
۳_ایک اور پہلو سے اگر دیکھا جائے تو قریش اس جنگ میں انصار کو ایسا یادگار سابق سکھا نا چاہتے تھے کہ وہ پھر کبھی ان کے دشمنوں سے گٹھ جوڑکرنے کا ارادہ بھی نہ کر سکیںقریش کی نظر میں انصار کا یہی جرم ہی کافی تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کو اتنی طاقت اور قوت فراہم کردی تھی کہ وہ ان کے مقابلہ میں آنے کی جرات کربیٹھے_اسی لئے ابو جہل (جسے پہلے اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا )نے اپنے سپاہیوں کو انتہائی سخت حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مکیوں کے ہا تھ سے کوئی بھی (یثربی )انصاری نہ چھوٹنے پائے (اور سب کا قلع قمع کردیا جائے )_آخر میں یہ اضافہ بھی کرتے چلیں کہ مدینہ والے قحطانی نسل کے تھے جبکہ مکہ والے عدنانی نسل کے تھے (اور دیگر تعصبات کے علاوہ اس میں نسلی تعصب بھی شامل تھا )_
پہلے اہل بیت عليهالسلام کیوں ؟
اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ دیگر تمام لوگوں سے پہلے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم
کا اپنے اہل بیت عليهالسلام
کو جنگ میں بھیجنے کا راز ہماری گذشتہ تمام معروضات ہوسکتی ہیںتا کہ سب سے پہلے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم
اپنی اور اپنے اہل بیت عليهالسلام
کی قربانی پیش کریں _ اسی لئے تاریخ ،حضرت علی عليهالسلام
،حضرت حمزہ عليهالسلام
،حضرت جعفر عليهالسلام
اور اس دین سے نہایت مخلص آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم
کے دیگر بہترین صحابیوںکے کرداراور بہادر یوںکو ہرگز فراموش نہیں کر سکتی بلکہ یہ تا ابد یادگار رہیں گی_پس حضرت علی عليهالسلام
اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم
کا گھرانہ اسلام کی مضبوط ڈھال تھے اور خدا نے ان کے ذریعہ دین کو بھی بچایا اورانصار کے خلاف قریش (جن کی اکثریت اسلام دشمن تھی )کے کینے کی شدت کو بھی کم کیا _یہ سب کچھ انصار کا مستقبل محفوظ کرنے کے لئے تھا ،کیونکہ انصار اور اسلام کے خلاف قریش کے کینے نے مستقبل میں ان دونوں پر سخت ، گہرے اور برے اثرات مرتب کئے _
ھ:حضرت علی عليهالسلام اور ان کے گھرانے پر جنگ بدر کے اثرات :
ہم پہلے یہ بتا چکے ہیں کہ اکثر مشرکین ،مہاجرین خاص کر امیر المؤمنین حضرت علی عليهالسلام اور ان کے چچا حمزہ کے ہا تھوں واصل جہنم ہوئے _اور یہ بھی بتاچکے ہیں کہ حضرت علی عليهالسلام نے بذات خود پینتیس سے زیادہ مشرکوں کوفی النار کیا تھا اور باقیوںکو قتل کرنے میں بھی دوسروں کا ہا تھ بٹا یا تھا_
اس بات سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ قریش چاہے جتنا بھی اسلام کا مظاہرہ کرتے رہیں ،اسلام کے ذریعہ جتنا بھی مال و مقام حاصل کرتے رہیں اور چاہے حضرت علی عليهالسلام اور ان کے گھرانے سے محبت اور مودت کی جتنی بھی آیات اور نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم سے مروی روایات دیکھتے رہیںپھر بھی وہ حضرت علی عليهالسلام اور ان کے گھرانے سے کبھی بھی محبت نہیں کر سکتے تھے _
حاکم نے ایک حدیث بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ عباس غضبناک چہرے کے ساتھ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میںآیا تو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے پوچھا :''کیا بات ہے ؟''اس سوال پر اس نے کہا :''ہمارا قریش سے کوئی جھگڑاہے کیا؟''_آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :''تمہارا قریش سے جھگڑا؟''اس نے کہا :''ہاں جب وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو بڑے تپاک سے ملتے ہیں لیکن ہمیں بے دلی سے ملتے ہیں ''_یہ سن کر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اتنے سخت غضبناک ہوئے کہ غصہ سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی آنکھوں کے در میان والی رگ ابھر آئی _پھر جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا غصہ ٹھنڈاہوا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :''اس خدا کی قسم جس کے قبضہ میں (حضرت)محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم کی جان ہے، جب تک کوئی شخص خدا اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی خاطر تم لوگوں سے محبت نہیں کرے گا تب تک اس کے دل میں ایمان داخل ہوہی نہیں سکتا''(۱) اسی طرح حضرت علی عليهالسلام نے بھی قریش کا شکوہ کرتے ہوئے فرمایا تھا :''انہوں نے ہم سے قطع تعلق اور ہمارے دشمنوں سے گٹھ جوڑ کر لیا ہے ''(۲) انشاء اللہ جنگ احد کی گفتگو میں اس کی طرف بھی اشارہ کریں گے _
____________________
۱)مستدرک حاکم ج ۳ ص ۳۳۳ نیز تلخیص مستدرک ذہبی اسی صفحہ کے حاشیہ پر،مجمع الزوائد ج ۹ص ۲۶۹و حیاة الصحابہ ج ۲ص ۴۸۷و ص ۴۸۸ ازگذشتہ منابع _
۲)البتہ اگر یہ صدمے کسی معصوم رہنما کو سہنے پڑیں تو وہ اپنی تدبیر ،فراست اور خداداد علم ،عقل اور صبرسے انہیں برداشت کر لیتا ہے اور پائیداری دکھاتا ہے _دوسرے لوگ یہ تکلیفیں نہیں جھیل سکتے اور ان کے لئے انہیں جھیلنے اور ان سے سرخرو ہو کر باہر آنے کے لئے کوئی مناسب راہ حل نہیں ہوتا _اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ہر موقع پر رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا صرف حضرت علی عليهالسلام کوہی آگے کرتے اور انہیں قریش کا سامنا کرنے کی پر زور تاکید کرتے تھے_
ابن عباس سے مروی ہے کہ عثمان نے حضرت علی علیہ السلام سے کہا :''اگر قریشی تمہیں نا پسند کرتے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے ؟تمہی نے تو ان کے ستر جنگجو افراد کو تہہ تیغ کیا ہے جس کی وجہ سے اب ان کے چہرے (غصہ کی وجہ سے )دہکتے ہوئے انگاروں کی طرح ہو گئے ہیں ''(۱) اس کے علاوہ ،صاحبان احلاف (ابو سفیان پارٹی )بدر اور احد و غیرہ کے اپنے مقتولین کا بدلہ لینے کے لئے ہر وقت موقع اور فرصت کی تلاش میں رہتے تھے _وہ جنگ جمل اور صفین میں تو ناکام ہو گئے لیکن انہیں اپنے زعم باطل میں واقعہ کربلا میں اس کا اچھا موقع مل گیا تھا _پھر تو انہوں نے اہل بیت عليهالسلام اور ان کے شیعوں پر ظلم و ستم کی انتہا ہی کردی _وہاں ہم یہ بھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ اس موقع پر یزید نابکار اپنے کفر اور مذکورہ جذبات کو نہ چھپا سکا _کیونکہ اس نے یہ جنگ ،بدر کے اپنے بزرگ مقتولین کا بدلہ لینے کے لئے لڑی تھی اور اس میں وہ اپنی خام خیالی میں کامیاب ہوگیا تھا_ وہ اس کے بعد ابن زبعری کے کفریہ اشعار بھی پڑھتا تھا اور اس میں وحی و نبوت کے انکار پر مشتمل اپنے اشعار کا اضافہ بھی کرتا تھا _ وہ نا بکار ،جوانان جنت کے سردار اور نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کے نوا سے حضرت امام حسین علیہ السلام کے دندان مبارک پر چھڑی سے وار کرتے ہوئے یہ اشعار کہتا تھا :
لیت اشیاخی ببدر شهدوا
جزع الخزرج من وقع الا سل
لا هلو و استهلوا فرحاً
ثم قالوا یا یزید لا تشل
قد قتلنا القرم من اشیاخهم
و عدلنا ه ببدر فاعتدل
لعبت هاشم بالملک فلا
____________________
۱)معرفة الصحابہ ابو نعیم ورقہ ،۲۲مخطوط در کتابخانہ طوپ قپو سرای کتاب نمبر ۱/۴۹۷و شرح نہج البلا غہ ابن ابی الحدید ج ۹ ص ۲۲_
خبر جاء و لا وحی تزل
لست من خندف ان لم انتقم
من نبی احمد صلىاللهعليهوآلهوسلم ما کان فعل(۱)
کاش بدر میں مارے جانے والے میرے بزرگ آج زندہ ہوتے اور تلوار کی زد میں آنے والے خزرجیوں (انصاریوں )کی گھبرا ہٹ اور چیخ و پکار کا نظارہ کرتے تو فرط مسرت سے ان کے چہرے دمک اٹھتے اور وہ ہلّڑ بازی کرنے لگتے پھر مجھے مبارک باد دیتے ہوئے کہتے کہ یزید تمہارا بہت بہت شکریہ_ ہم نے ان لوگوں کے بڑے بڑوں کو آج قتل کرکے بدر کا بدلہ چکا دیا ہے _اب ہمارا حساب برابر ہوگیا ہے _بنی ہاشم نے حکومت کا کھیل کھیلاتھا و گرنہ نہ نبوت کی کوئی خبر آئی ہے اور نہ ہی کوئی وحی نازل ہوئی ہے_ اگر میں نے ( نعوذ باللہ ، حضرت) محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھرانے سے ان کے کئے کا بدلہ نہ لیا تو میں خندف کا بیٹا ہی نہیں ہوں _
اسی طرح بدر کے متعلق خالد قسری کے ساتھ قتادہ کی گفتگو بھی ملاحظہ ہو(۲) حالانکہ قتادہ ایک مشہور و معروف شخصیت اور اہل بصرہ کا بزرگ محدث تھا_
شہدائے انصار
اگر چہ جنگ بدر میں مسلمانوں مہاجرین کی تعداد لشکر اسلام کا چو تھا یا پا نچواں حصہ تھی ، لیکن ان کے شہید مختلف اقوال کی بنا پر شہدائے انصار کے تیسرے بلکہ نصف حصہ سے بھی زیادہ تھے _ حالانکہ اگر تعداد اور کمیت کو مد نظر رکھا جائے تو اس تناسب کو اس سے کم بلکہ بالکل ہی کم ہونا چاہئے تھا _ یعنی مہاجرین کی تعداد کل کا چوتھا یا پانچواں حصہ تھی_جبکہ شہدائے مہاجرین کی تعداد کل شہیدوں کا تیسرا بلکہ آدھا حصہ تھی_بطور مثال
____________________
۱)مقتل امام حسین عليهالسلام مقرم ص ۴۴۹و ص ۴۵۰و اللہوف ص ۷۵و ۷۶_
۲)بحار الانوار ج ۱۹ص ۲۹۸و ص ۳۰۰و روضہ کافی ص ۱۱۱تا ص ۱۱۳_
اگر کل تعداد ۱۰۰فرض کرلیں تو مہاجرین کی تعداد بیس۲۰سے پچیس ۲۵ تک ہو گی _جبکہ ہر تین بلکہ دو انصاری کے شہید ہونے کے ساتھ ایک مہاجر بھی شہید ہوا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بیس انصاری کے ساتھ ساتھ سات سے دس تک مہاجر بھی شہید ہوئے حالانکہ اس حساب سے ہر بیس انصاری کے مقابلے میں صرف چارسے پانچ مہاجرین کو جام شہادت نوش کرنا چاہئے تھا جبکہ لشکر اسلام ۳۱۳ مجاہدین پر مشتمل تھا، ان میںمہاجرین کی تعداد ۷۸ سے ۶۳ افراد بلکہ اس سے بھی کم تھی _ اور شہدائے اسلام کی کل تعداد زیادہ سے زیادہ چودہ بتائی گئی ہے _ جن میں کم از کم چھ مہاجر اور آٹھ انصاری تھے_ حالانکہ اپنی تعداد کے تناسب سے ان کے شہیدوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ تین سے چارتک ہونی چاہئے تھی بلکہ اگر انصار اور مہاجرین کے حالات کا موازنہ کیا جائے تو اس تعداد کو اس سے بھی کم ہونا چاہئے تھا_اس سے اس جنگ میں مہاجرین کے بھر پور کردار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے مترجم_
آیت تخفیف کے متعلق علامہ طباطبائی کا نظریہ :
یہاں علامہ طبا طبا ئی کی ایک بات ہماری گفتگو سے متعلق بھی ہے اس لئے اس کے خلاصے کا ذکر یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے _وہ کہتے ہیں کہ:
ارشاد ربّانی ہے:
( یا ایها النبی حرض المؤمنین علی القتال ان یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا مئتین و ا ن یکن منکم مئة یغلبوا الفاً من الذین کفروا بانهم قوم لا یفقهون _الآن خفف الله عنکم و علم ان فیکم ضعفاًفان یکن منکم مئة صابرة یغلبوا مئتین و ان یکن منکم الفاً یغلبوا الفین باذن الله و الله مع الصابرین _ ما کان لنبی
ان یکون له اسری حتی یثخن فی الا رض تریدون عرض الدنیا و الله یرید الا خرة و الله عزیز حکیم )
'' اے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم مؤمنوں کو جنگ کے لئے تیار کرو کہ تمہارے بیس بہادر افراد ان کے دوسو جنگجوؤں پر غلبہ پالیں گے ،اسی طرح تمہارے سو آدمی ان کے ایک ہزار جنگجوؤںپر بھی کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ وہ نا سمجھ لوگ ہیں لیکن اب خدا نے یہ جان کر کہ تم کمزور ہو گئے ہو تمہیں چھوٹ دے دی ہے _ پس اب تمہارے سو بہادر جنگجوان کے دوسو آدمیوں پر غلبہ پالیں گے اور خدا کے حکم سے تمہارے ایک ہزار آدمی ان کے دو ہزار سپاہیوں پر غالب آجائیں گے _ اور خدا پائیداری دکھانے والے بہادروں کے ساتھ ہے _اور مشرکوں کا اچھی طرح قلع و قمع کئے بغیر نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کا ہاتھ روک لینا مناسب نہیں ہے _ تم لوگ تو دنیا داری اور اس کے حصول کے لئے جنگ لڑنا چا ہتے ہو لیکن خدا تمہاری اخروی بھلائی چاہتا ہے اور خدا با عزت اور دانا ہے،،(۱)
پس خدانے یہاں بیس آدمیوں کے دو سو سپاہیوں پر غلبہ کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ وہ دو سو نا سمجھ ہیں لیکن یہ بیس آدمی سمجھ دار اور چالاک ہیں _ اور یہ اس لئے ہے کہ اس وقت مومنین خدا پر ایمان کے بل بوتے پر جنگ لڑتے تھے اور یہ ایمان ایسی بھر پور طاقت ہے جس کا مقابلہ کوئی بھی طاقت نہیں کر سکتی ، اس لئے کہ وہ اس صحیح سو چ اور عقیدے پر مبنی ہے جو شجاعت ، جرات ، ذکاوت ، استقامت ، وقار ، اطمینان اور خدا پر بھروسہ جیسے صفات حسنہ کے زیور سے انہیں آراستہ کرتا ہے _ نیز ان میں یہ یقین بھی پیدا کرتا ہے کہ وہ یقینا دومیں سے کوئی ایک اچھائی حاصل کر ہی لیں گے یعنی یا تو وہ کامیاب ہو جائیں گے یا پھر رتبہ شہادت پر فائز ہو جائیں گے _ اور یہ کہ موت کا مطلب فنا نہیں ہے جس طرح کافروں کی غلط سوچ ہے بلکہ موت تو سعادت اور دار بقاء (جنت) کی طرف منتقلی کا نام ہے_پس کفار ،شیطان کی گمراہیوں اور نفسانی خواہشات کے بھروسے پر آئے تھے اور بہت کم ہی ایسا ہو تا ہے کہ نفسانی خواہشات موت تک بھی ثابت رہیں_ اور نہ بدلیں ، کیونکہ جب
____________________
۱)انفال /۶۵تا ۶۷_
سب کچھ جان بچانے اور آسودہ رہنے کے لئے ہی ہے تو پھر جان کا نذرانہ کس لئے دیں؟
پس علم اور ایمان کے ساتھ ساتھ مومنوں کی سمجھ داری جنگ بدر میں ان کی کامیابی کی وجہ بنی جبکہ کافروں کے کفر اور نفسانی خواہشات کے علاوہ ان کی بے وقوفی اور جہالت ان کی شکست کا باعث بنی _لیکن اس کے بعد جب مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تو ان کی روحانی اور معنوی طاقت آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی اور وہ کمزور ہوتے گئے کیونکہ گذشتہ پہلی آیت یعنی ( ذلک بانهم قوم لا یفقهون ) میں مذکور ان کی سمجھ داری اور دوسری آیت یعنی ( والله مع الصابرین ) میں مذکور ان کی پائیداری ، صبر اور دلیری کم ہوگئی _ اور اس کمزوری کی ایک عام وجہ یہ ہے کہ ہر گروہ ،قوم یا جماعت اپنی بقاء اور اہداف زندگی کے حصول کی جد و جہد کرتی ہے _ اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اہداف دنیاوی ہیں یا دینی ہیں _ بہر حال یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ وہ لوگ چونکہ پہلے پہل اپنے اغراض و مقاصد کے حصول کی راہ میں کچھ رکاوٹیں پاتے ہیں اور بنیاد ہلا دینے والے خطرات کو محسوس کرتے ہیں تو وہ اپنے اہداف کے حصول ، رکاوٹوں کے خاتمے اور خطرات سے نبٹنے کے لئے سخت جد و جہد کرتے ہیں اور ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں _ نیز اس راہ میں اپنی جان کا نذرانہ تک دینے سے نہیں ہچکچا تے _ اورہنسی خوشی سب کچھ لٹا دیتے ہیں لیکن جب وہ اپنے اغراض و مقاصد کی راہ میں کچھ قربانی دے دیتے ہیں ، ان کے لئے راستہ تھوڑا سا ہموار ہوجاتا ہے اور فضا کچھ سازگار ہوجاتی_
نیز تعدا د بھی زیادہ ہو جاتی ہے تو وہ اپنی قربانیوں کے نتائج سے بہرہ مند ہونا شروع کردیتے ہیں اور نعمتوں اور آسائشےوں میں رہنا شروع کردیتے ہیں _
جس کے نتیجے میں ان کا جوش و جذبہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے _ اور یہ واضح سی بات ہے کہ کسی جماعت یا معاشرے کے افراد اگر کم ہیں تو بلا تردید وہ عام طور پر اپنے مقاصد اور اہداف کے حصول کے لحاظ سے یقین
اپنی ذہنی اور فکری سطح ، صفات اور اخلاقیات کے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں اور جیسے جیسے ان کی تعداد بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے ان میں ضعیف الاعتقاد ، منافق اور بیمار ذہن افراد کی تعد اد میں بھی اضافہ ہو تا رہتا ہے_ جس کے نتیجے میں اگر عام افراد کو بھی ساتھ مد نظر رکھیں تو مجموعی طور پر ان کی روحانی ، معنوی اور جذباتی طاقت کی سطح نیچے آ جاتی ہے _ اور تجربہ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کسی گروہ کے افراد جتنا کم ہوں گے ، ان کے دشمن جتنا زیادہ طاقتور ہوں گے اور مختلف تکلیفوں ، مصیبتوں اور پریشانیوں نے انہیں جتنا زیادہ گھیرا ہو گا وہ اتنا ہی مصمم ، تیز ، چالاک ، بہادر ، جنگجو اور چست ہوں گے _ اور جوں جوں ان کی تعداد بڑھتی جائے گی ان کے جذبات اتنے ہی ٹھنڈے پڑتے جائیں گے ، ذہنی بیداری کم ہوتی جائے گی اور دماغ خراب ہو تا جائے گا(۱) _
ہماری مذکورہ باتوں کی بہترین دلیل آنحضرت عليهالسلام کے غزوات ہیں_ قارئین جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد، تیاری ، حالات و واقعات اور نتائج کا احد، خندق ، خیبر اور حنین جیسی دیگر جنگوں میں مسلمانوں کی تعداد ، تیاری ، حالات و واقعات اور نتائج کا موازنہ اور تقابل کرکے دیکھ سکتے ہیں_ اور جنگ حنین کے نتائح تو اتنے ہولناک اور بھیانک تھے کہ خدا کو یہ فرمانا پڑا :
( و یوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم فلن تغن عنکم شیئاً وضاقت علکم الارض بما رحبت ثم ولیتم مدبرین ) (توبہ۲۵)
''اور جنگ حنین میں جب تمہاری کثرت تعداد نے تمہیں غرور میں مبتلا کردیا تو تمہیں کسی چیز نے فائدہ نہیں پہنچایا اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ دکھا کر الٹے پاؤں بھاگے''
____________________
۱) اس ساری بات کو دسیوں برس پہلے علامہ اقبال نے دو لفظوں میں یوں بیان کیا ہے:
میں تم کو بتا تا ہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول طاؤوس و رباب آخر
ہماری ان باتوں سے اب مذکورہ آیتوں کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے_ نیز ان باتوں پر وہ مذکورہ تیسری آیت بھی دلالت کرتی ہے جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ وہ لوگ دنیاوی مفاد کی خاطر جنگ سے ہاتھ روکنا چاہتے تھے_ اور چونکہ پہلی دو مذکورہ آیتیں دو مختلف زمانوں میں روحانی اور جذباتی طاقت کی طبیعت اور کیفیت بیان کر رہی ہیں اس لئے دو آیتوں کے بیک وقت نزول میں کوئی مانع نہیں ہے_ کیونکہ دو زمانوں میں دو مختلف احکام کی موجودگی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک حکم کو بیان کرنے والی ایک آیت ایک زمانے میں جبکہ دوسرے حکم کو بیان کرنے والی آیت دوسری موقع پر نازل ہو ، کیونکہ یہ آیتیں ایک طبیعی حکم کو بیان کررہی ہیں کسی شرعی حکم کو نہیں _علامہ طباطبائی پھر فرماتے ہیں کہ پہلی آیت میں فقہ (سمجھداری) اور دوسری آیت میں صبر کی تعلیل بظاہر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صبر (پائیداری) ایک شخص کا پلڑا روحانی طاقت کے لحاظ سے اپنے جیسے دو آدمیوں پر بھاری کرتی ہے جبکہ فقہ ایک شخص کا پلڑا اس جیسے پانچ آدمیوں پر بھاری کردیتی ہے_ پس اگر یہ دونوں چیزیں کسی ایک شخص میں جمع ہو جائیں تو اس کی روحانی طاقت کا پلڑا دس آدمیوں پر بھی بھاری ہو جاتاہے(۱) البتہ فقہ سے صبر جدا نہیں ہے گرچہ صبر سے فقہ جدا ہوسکتی ہے(۲) _
____________________
۱)بسا اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہونا چاہئے کہ اگر یہ دو صفات کسی شخص میں جمع ہو جائیں تو اس شخص کو اپنے جیسے سات آدمیوں جتنا طاقتور بنا دیتی ہیں _ لیکن ہم کہتے ہیں کہ ان کے کہنے کا مقصد یہ ہے ، کہ فقہ سے پیدا ہونے والی پانچ گنا طاقت کو صبر آکر دوگنا کردیتا ہے اور یہی بات ہی دونوں آیتوں کے مفہو م کے زیادہ مناسب ہے _ کیونکہ فقہ سے صبر اور دوسری صفات حمیدہ بھی حاصل ہوجاتی ہیں پھر صبر آکر اس کی موجودہ طاقت کو دوگنا کردیتا ہے _
۲) ملاحظہ ہو: المیزان علامہ طباطبائی ج ۹ ص ۱۲۲ تا ص ۱۲۵_
۳۱۹
تیسری فصل:
مال غنیمت اور جنگی قیدی
مال غنیمت کی تقسیم :
اس جنگ میں ڈیڑ ھ سو ۱۵۰ اونٹ ، دس گھوڑے ( جبکہ ابن اثیر کے مطابق تیس گھوڑے) اور بہت سا سازو سامان ، اسلحہ اور چمڑے و غیرہ کے بچھونے اور چیزیں مال غنیمت کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ لگے _ لیکن مسلمانوں میں اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ کیا یہ مال غنیمت صرف لڑنے والے جنگجوؤں کو ملنا چاہئے یا پھر ان سب کو بھی ملنا چاہئے جو اس لشکر میں پیچھے رہ کر ان کے دوسرے کاموں میں مصروف ہیں ؟ اس اختلاف اور جھگڑے کی وجہ سے مال غنیمت کی تقسیم کا عمل رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے سپرد کردیا گیا _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے تمام مال غنیمت اکٹھا کر اکے اسے عبداللہ بن کعب کے ذمہ لگا دیا اور باقی صحابہ کو بھی اس کے اٹھانے اور حفاظت میں اس کا ساتھ دینے کا حکم دیا _ بقولے مندرجہ ذیل آیت بھی اسی بارے میں نازل ہوئی :
( یسالونک عن الانفال قل الانفال لله و للرسول فاتقوا الله و اصلحوا ذات بینکم و اطیعو الله و رسوله ان کنتم مؤمنین ) (انفال/۱)
اے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم وہ لوگ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے انفال ( مال غنیمت) کے متعلق پوچھتے ہیں تو کہہ دیجی ے کہ انفال خدا اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کا ہے اور اگر تم مؤمن ہو تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح صفائی کرلو او ر خدا اور اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت کرو _
آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے وہ مال غنیمت وہاں نہیں بلکہ مدینہ واپس آتے ہوئے راستے میں تقسیم کیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے اصحاب کے درمیان اختلاف کی شدت کو ختم کرکے انہیں طبیعی حالت میں واپس لے آنا
چاہتے تھے تا کہ وہ اپنی دنیاوی خواہشات سے ہٹ کر اس بارے میں کچھ سوچیں_ تب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے وہ سارامال ان کے درمیان تقسیم کردیا اور اس سے خمس بھی نہیں نکالا _
رسول خدا صلىاللهعليهوآلهوسلم نے خمس کیوں نہیں لیا ؟
بہر حال رہا یہ سوال کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے جنگ بدر کے مال غنیمت میں سے خمس کا حصہ کیوں نہیں لیا ؟ تو اس کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاید آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم خداکے اذن سے اپنے اور ذوی القربی کے حقوق سے گذر تے ہوئے جنگجوؤں کا حوصلہ بڑ ھانے اور ان کا دل جیتنے کے لئے انہیں زیادہ حصہ دنیا چاہتے ہوں گے خاص کراس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ یہ مشرکین کے خلاف ان لوگوں کی پہلی زبر دست لڑائی ہے اور دوسرا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس موقع پر یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ انہیں حصول مال کی کتنی شدید خواہش اور لالچ ہے _اس کی مزید وضاحت قیدیوں سے متعلق گفتگو میں ہوگی _
اس کی مثال اس روایت میں بھی ملتی ہے کہ حضرات حسنین (حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین ) علیہما السلام نے حضرت علی علیہ السلام کے ایام خلافت میں اپنے والد سے خمس سے اپنا حصہ مانگا تو انہوں نے فرمایا: '' وہ تو تمہارا حق ہے مجھ سے طلب کر سکتے ہو لیکن میں ابھی معاویہ سے جنگ میں مصروف ہوں(جس کے لئے مجھے اخراجات کی اشد ضرورت رہتی ہے )اس لئے اگر تم چاہو تو اپنے اس حق سے گذر سکتے ہو ''(۱)
البتہ یہ بات بھی ممکن ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس وجہ سے وہاں خمس نہ لیا ہو کہ اس وقت تک خمس والی آیت نازل نہ ہوئی ہو_ جس کا مطلب یہ ہوگا کہ خمس کا حکم غزوہ بدر کے بعد آیاہوگا ،حتی کہ بعض اقوال یہ بھی ملتے ہیں کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے سب سے پہلا خمس غزوہ بنی قینقاع کے موقع پر نکالاتھا(۲) لیکن ہمیں اس بات کے صحیح ہونے میں شک ہے کیونکہ بعض دستاویزات کے مطابق آپ نے جنگ بدر سے کچھ ما ہ پہلے سریہ عبداللہ بن حجش میں
____________________
۱)السنن الکبری ج۶ص ۳۶۳)_
۲)الثقات ابن حبان ج ۱ص ۲۱۱_
سب سے پہلا خمس لیاتھا _بلکہ ہم یہاں تک بھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ حضرت علی عليهالسلام کی حدیث مناشدہ(۱) میں ابن عسا کرنے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے مشاورتی کو نسل کے افراد کو قسم دیتے ہوئے کہا تھا :''تمہیں خدا کی قسم کیا میرے اور حضرت فاطمہ عليهالسلام کے علاوہ تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے کسی قریبی کے ایمان لانے سے بھی پہلے خمس لیا ہو ؟'' سب نے کہا :'' نہیں بخدا ''(۲) _ اس دستاویز کی روسے خمس ،مکہ میں بعثت کے ابتدائی ایام میں حتی کہ آپکے گھرانے کے کسی فرد کے اسلام لانے سے بھی پہلے فرض ہو اتھا _ البتہ اس دستاویز پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت سے بھی پہلے بعثت کے چوتھے یا پانچویں سال تک حضرت جعفر ،حضرت حمزہ اور جناب ابو طالب مسلمان ہو گئے تھے _ (پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ دعوی کیسا کہ کسی قریبی کے مسلمان ہونے سے پہلے میں اور فاطمہ عليهالسلام خمس لیتے تھے ؟) _جبکہ اس کا جواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ: ( ایک ):_حضرت ابو طالب صلىاللهعليهوآلهوسلم ،رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدااور حضرت خدیجہ عليهالسلام کو کسی مال کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ یہ شخصیات شعب ابی طالب جیسے کٹھن حالات میں بھی اپنا ہی مال خرچ کرتے تھے _ اور یہ بات پہلے ذکر ہو چکی ہے _ اور حضرت جعفر عليهالسلام کے متعلق بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ خمس کے مستحق ہوں شاید وہ بھی مالدار آدمی تھے اسی طرح وہ اس وقت ملک حبشہ میں رہ رہے تھے اسی طرح حضرت حمزہ بھی شاید مالدار آدمی تھے _ ( دو):یہ بھی ممکن ہے کہ خمس کا حکم بعثت کے ابتدائی دنوں میں ہی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے دیگر رشتہ داروں کے مسلمان ہونے سے پہلے آیا ہو اور حضرت خدیجہ عليهالسلام نے خمس نکالا ہو اور اس سے حضرت علی عليهالسلام کو اپنا حصہ ملاہو لیکن حضرت فاطمہ زہرا عليهالسلام ولادت کے بعد حضرت علی عليهالسلام کی حصہ داربن گئی ہوں _ البتہ اس مذکورہ دستاویز کا مطلب یہ نہیں نکلتا کہ حضرت زہرا عليهالسلام بعثت کے اوائل میں پیدا ہوئیں _
____________________
۱) خلیفہ ثانی نے بوقت وفات گذشتہ رہنما ؤں کی مخالفت کرتے ہوئے نئے خلیفہ کی تعیین کے لئے ایک چھ رکنی کو نسل یا کمیٹی تشکیل دی تھی _تعیین خلیفہ کے وقت دھاندلی ہونے لگی تو حضرت علی علیہ السلام نے اس کمیٹی کے افراد کو قسمیں دے دے کران سے اپنے فضائل اور صفات منو ائے لیکن دھاند لی ہو کر رہی اور حضرت علی عليهالسلام کا حق غصب ہو گیا _ اس حدیث کو حدیث منا شدہ کہتے ہیں _مترجم
۲)زندگانی امام علی عليهالسلام
از تاریخ ابن عسا کر با تحقیق محمودی ج ۳ص ۹۰وص ۹۵،المناقب خوازرمی ص۲۲۵،فرائد السمطین ج۱ ص۳۲۲نیز زندگانی امام علی عليهالسلام
ج۳ص ۸۸و ص ۸۹کے حاشیہ میں حدیث منا شدہ کے کثیر منابع و مآخذ بھی مذکور ہیں نیز ملاحظہ ہو: الضعفاء الکبیر ج ۱ ص ۲۱۱_(البتہ اس میں ''آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم
کے دیگر رشتہ داروں کے ایمان لانے سے پہلے ''والا جملہ مذکور نہیں ہے ، ولئالی المصنوعہ ج ۱ص ۳۶۲)_
رسول خدا ایک بار پھر خمس اپنے اصحاب میں بانٹ دیتے ہیں
جس طرح آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جنگ بدر میں خمس نہیں لیا ،اسی طرح آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بعض دیگر مقاما ت پر بھی خمس نہیں لیا_مروی ہے کہ جنگ حنین کے واقعہ میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے حق یعنی خمس کو اپنے صحابیوں میں تقسیم کر دیاتھا _ حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو کچھ زمین اور ایک موٹا تازہ جوان اونٹ یا کوئی اور چیزملی تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : ''مجھے پروردگار کی قسمخدا نے تمہیں جو بھی مال غنیمت یا جو رزق دیا ہے اس میں سے صرف خمس ہی میرا حق بنتا ہے اور وہ بھی میں تمہیں لوٹا ئے دیتا ہوں ''(۱)
یہ تو ان لوگو ں کے ساتھ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کا سلوک تھا لیکن دوسروں کا سلوک کیسا تھا ؟ انہوں نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے خاص حق ''فئے''پر بھی قبضہ کر لیا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت عليهالسلام تک کو بھی اس سے محروم رکھا ،بلکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے تمام وارثوں کو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے تمام ترکہ سے ہی محروم کردیا اور یہ بات کسی بیان کی محتاج نہیں ہے_ البتہ ہم بھی '' سیرت سے متعلق چند باتیں'' کی فصل میں نفع اور تمام مال میں خمس کے فریضے پر گفتگو کریں کے_
حضرت علی عليهالسلام کے دور حک۳مت میں غربت کا خاتمہ :
ابو عبیدہ و غیرہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام سال میں تین مرتبہ لوگوں میں مال تقسیم کیا کرتے تھے ایک مرتبہ تین دفعہ بانٹنے کے بعد اصفہان سے کچھ مال آیا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکم دیا کہ چو تھی مرتبہ تقسیم کا بھی جلدی جلدی بند و بست کرو ، میں تمہارا کوئی خزانچی نہیں ہوں _ تو آپ عليهالسلام نے وہ طبق لوگوں میں تقسیم کرادیئےسے بعض نے تو لے لیا لیکن بعض نے واپس کردیا لیکن آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں اپنا حصہ لینے پر مجبور کردیا(۲) جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت علی عليهالسلام کے دور حکومت میں تمام لوگ اس حد تک خود کفیل اور بے نیاز ہو گئے تھے کہ حکومتی
____________________
۱)الموطاء ج ۲ص ۱۴مطبوعہ با تنویر الحوالک ،الا موال ابو عبید ص ۴۴۴و ۴۴۷،الفتوح ابن اعثم ج ۲ ص ۱۲۲،مسند احمد ج۵ ص ۳۱۶ ص ۳۱۹ ، ۳۲۶ و الثقات ج ۲ ص ۴۸)_ ( ۲)الاموال ابو عبید ص ۳۸۴،کنز العمال ج ۴ص ۳۷۸وص۳۱۸،حیاة الصحابہ ج ۲ص ۲۳۶،زندگانی امام علی عليهالسلام از تاریخ ابن عسا کر با تحقیق محمودی ج ۳ ص ۱۸۱و انساب الاشراف با تحقیق محمودی ج ۲ ص ۱۳۲_
تقسیم کو بھی واپس کرنے لگے تھے _ اور ایسا کیوںنہ ہو جبکہ حضرت علی عليهالسلام یہ فرمایا کرتے تھے کہ میں دنیا کو ہیچ سمجھتا ہوں(۱) اور بیت المال کے متعلق حضرت علی عليهالسلام کی سیرت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے_(۲)
جبکہ دوسروں کے دور حکومت میں ہم دیکھتے ہیں کہ بعض افراد کے پاس تن کو ڈھانپنے کے لئے صرف دوہی ٹکڑے ہوتے تھے جس سے وہ صرف اپنا آگا اور پیچھا ہی چھپا سکتے تھے _ اور کچھ بھی نہیں تھا ، اس لئے انہیں '' ذو الرقعتین'' کہتے تھے(۳)
اہم نوٹ : خمس اور اقربا پروری؟
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا یہ صحیح ہے کہ اہل بیت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے خمس کا مخصوص حکم ایک خاندان کو برتری دینے کے مترادف اور باعث ہے ؟ اور کیا یہ ذات پات کے فرق پر مبنی ہے ، جیسا کہ بعض لوگوں کو ایسی باتیں کرنا اچھا بھی لگتا ہے _ اور اس کا جواب یہ ہے کہ:
۱_ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خمس اللہ ، رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اور امام عليهالسلام کی ملکیت ہے _ اور آیت خمس میں مذکور باقی افراد خمس کے استعمال اور خرچ کرنے کے موارد ہیں _ اور در حقیقت خدا نے عترت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے فقیروں کو امام عليهالسلام کی زیر سرپرستی قرار دیا ہے _ اگر ان کا اپنا حصہ ان کے لئے کفایت نہ کرے اور ان کا فقر دور نہ کر سکے تو امام عليهالسلام اپنے حصہ سے اس کی کمی پوری کرتا ہے_ اور اگر ان کے حصہ سے کچھ بچ جائے تو وہ باقی حصہ امام عليهالسلام کا ہوگا_ ہوگا _ اور امام عليهالسلام اپنے اس حصہ کو ان شرعی امور میں خرچ کرے گا جو دین کی سربلندی ، حفاظت اور مسلمانوں کے حالات سدھرنے کا باعث ہوں _ اور وہ مال جو ان شخصیتوں ( سادات کے فقیروں ، مسکینوں اور مسافروں) کو دیا جائے گا وہ صرف ان کی ضرورتوں کے پورے ہونے کی حد تک ہو گا_ کیونکہ زکات ان پر حرام ہوچکی ہے _ اسی طرح زکات غیر سادات کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے فرض ہوئی ہے _ البتہ غیر
____________________
۱)البدایہ و النہایہ ج ۸ص ۵از بغوی و حیاةالصحابہ ج ۲ ص ۳۱۰_
۲)اور قائم آل محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت امام مہدی علیہ السلام کے دور حکومت کے متعلق بھی ملتا ہے کہ وہ دور ایسا خوشحال ہوگا کہ صدقہ دینے والے صدقہ دینے کے لئے ہر طرف پھر رہے ہوں گے لیکن لینے والا کہیں نہیں ملے گا_
۳)المصنف عبدالرزاق ج ۶ ص ۲۶۷ نیز ص ۲۶۸ و سنن بیہقی ج ۷ ص ۲۰۹ _
سادات میں سے کسی ایک کو دوسروں پر کوئی برتری اور امتیاز حاصل نہیں ہوگا _ جبکہ سادات کے فقیروں کو خمس دینا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کی تعظیم اور لوگوں کے دلوں میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شان اور منزلت کے اعتراف کے برابر ہے_ جبکہ اس سے کسی دوسرے کی حق تلفی یا کسرشان بھی نہیں ہوتی _ اور اس بات سے امت اسلامیہ عقیدے کے لحاظ سے بھی اور عملی طور پر بھی مضبوط اور با صلابت ہو جاتی ہے اور امت اسلامیہ کو اسی صلابت ہی کی اشد ضرورت ہے _
خداوند عالم نے قرآن مجید میں مذکورہ صورت کے علاوہ بھی نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے احترام اور تکریم کو بہت اہمیت دی ہے اور اس کے لئے بہت زیادہ اہتمام کیا ہے _ ارشاد خداوندی ہے
( یا ایها الذین آمنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی و لا تجهروا له بالقول کجهر بعضکم بعضا ) (۱)
اے مؤمنواتم نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کی آواز سے اپنی آواز زیادہ اونچی نہ کیا کرو بلکہ تمہاری آواز ان سے نیچی اور دھیمی ہونی چاہئے اور ان کو اونچی آواز سے اس طرح بھی مت پکارو جس طرح تم ایک دوسرے کو پکارتے ہو_
اسی طرح خدا نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود و سلام بھیجنے کا بھی حکم دیا ہے اور یہ سب صرف اس لئے ہے کہ خدا ان باتوںسے دین ، انسان اور انسانیت کی بھلائی چاہتا ہے _
اس کے ساتھ یہ بھی بتاتے چلیں کہ خمس کی یہ عطا اتنی بلا قید و شرط بھی نہیں ہے کہ سب مال کسی خاص قوم یا خاندان کے پاس جمع ہو جائے جبکہ دوسروں کو اس کی اشد ضرورت رہے _ بلکہ شرط یہ ہے کہ ہر سید کو اس کے سال بھر کے خرچہ کی مقدار جتنا دیا جائے گا جس سے اس کی ضروریات پوری ہوتی رہیں _ روایات اور مجتہدین کے فتو ے بھی اسی بات کی تائید کرتے ہیں _ اسی طرح سہم امام بلکہ بعض فتاوی کی بنا پر سہم سادات بھی امام عليهالسلام یا پھر مجتہد کے اختیار میں ہوتا ہے _
____________________
۱)حجرات /۲۲
لیکن زکات کے متعلق ایسا نہیں ہے بلکہ کوئی بھی کسی فقیر کو اتنی بہت زیادہ زکات بھی دے سکتا ہے کہ اس کی کا یا اچانک پلٹ جائے اور وہ فقیر سے امیر ہو جائے _
۲_ خمس نے تاریخ کے دورانیے میں دین کی حفاظت میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے _ اسی خمس نے مرجعیت کے ساتھ لوگوں کے تعلقات مضبوط رکھے اور دونوں کے اندر ایک دوسرے پر اعتماد پیدا کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا _ ظالم و جابر حکام کے ظلم و زیادتیوں نیز محرومیوں کے اثرات پر غلبہ پانے میں لوگوں کی مدد کی اور ان کی بہت سی ضروریات کو پورا کیا _ معاشر ے کی خدمت کرنے والے علمی اور رفاہی اداروں کی تشکیل میں بھی بہت زیادہ اور عظیم کردار ادا کیا اور معاشرے کی روحی ، مادی اور ذہنی سطح بلند کی _ اسی طرح خمس کے ساتھ ساتھ اس مذہبی موقف نے بھی مذہبی معاشرے کی روحی اور ذہنی سطح کے بلند کرنے میں اپنا کردار ادا کیا کہ کسی ظالم و جابر حاکم کے ساتھ کسی قسم کے تعلق کے بغیر یا اس کے سامنے جھکے بغیر انسان کو اپنے عقیدے اور عمل میں آزاد ہونا چاہئے_ اور اس ظالم حاکم کو اپنے اوپر ایسے کسی قسم کے دباؤ ڈالنے کا موقع نہ دیں کہ جس سے وہ انہیں غیر دینی راستوں پرلے جائے اور وہ انہیں اپنے اغراض و مقاصد کے حصول اور اہداف تک رسائی کا ذریعہ بنائے _پس ان کی شان ، عظمت ، سر بلندی اور اعتبار اس ظالم حاکم کے مرہون منت نہیںہے کہ جس کی وجہ سے ان پر اس ظالم حاکم کے ساتھ دینی اور عقائدی حدود کے باہر کسی قسم کا تعلق اور واسطہ رکھنا ضرور ی ہو_ اسی بات سے ہمیں آیت اللہ سید روح اللہ موسوی خمینی کی دینی قیادت اور رہبری میں ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی میں دیگر عوامل کے علاوہ خمس کے عظیم کردار کا بھی علم ہوتا ہے
۳_ چونکہ بعض لوگوں میں دین سے دفاع اور اس کی حفاظت کا ذاتی احساس اجاگر کرنے کے لئے خمس بھی اپنا حصہ ادا کرتا ہے اس لئے دین کو ہمیشہ خمس کی ضرورت رہتی ہے _ اور یہ طبیعی بات ہے کہ اس خطیر ذمہ داری کا ذاتی احساس اور جذبہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت عليهالسلام میں یعنی سادات میں سب سے زیادہ ہے _ اور خمس کو ان کے اور ان کے اہل و عیال کے لئے بطور ضمانت اور ضروریات زندگی فراہم کرنے کا ذریعہ قرار دینے
سے ان میں دین سے دفاع کا مذکورہ جذبہ مزید اجاگر ہوگا اور نکھرے گا نیز دین کی راہ میں جان دینے پر بھی زیادہ آمادہ کرے گا(۱)
یہیں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ فاسد عقیدوں اور مشکوک فرقوں حتی کہ وہابیت جیسے باطل اور گمراہ فرقے نے کس طرح اس جیسے تعصب اور اقربا پروری سے کام لے کر اپنے آپ کو زندہ رکھا ہوا ہے _ چونکہ آل سعود جیسے کچھ لوگ اپنا وجود وہابیت کے مرہون منت جانتے ہیں اس لئے وہ اس کی حفاظت ، پابندی اور ترویج کو اپنی ذات ، حکومت اور سلطنت کی بقاء کے لئے ضروری جانتے ہیں _اور ان تمام باتوں سے یہ چیز واضح ہو جاتی ہے کہ مذہب حقہ بھلائی اور حق کی حفاظت اور ترویج کے لئے اس عنصر سے استفادہ کرنے کاسب سے زیادہ حق دار ہے _
ہم یہ بھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ حکام جس مذہب سے بھی ناراض ہو جاتے اور اس پر اپنا غصہ نکالنا چاہتے تو وہ مذہب تھوڑی سی کوشش کے ساتھ ہی نیست و نابود ہوجاتا تھا _ کیونکہ اس کے بقاء اور اس پر پابند رہنے والے شخص کی حفاظت کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہوتی تھی _ لیکن خالص خدائی تعلیمات پر مشتمل مذہب اہل بیت عليهالسلام میں چونکہ بڑی بڑی کینہ پرور اور ظالم طاقتوں کے مقابلے میں بھی استمراراور بقاء کی بہت سی شرعی، عقلی اور عملی ضمانتیں موجود ہیں اور ان ضمانتوں کے سائے میں وہ کئی کئی صد یوں تک بھی اپنے اور اپنے پیروکاروں پر دباؤ نہ صرف برداشت کر سکتی ہے بلکہ کر بھی چکی ہے اور کربھی رہی ہے اس لئے وہ پائندہ اور تابندہ ہے _ البتہ یہ بات دین اسلام کی عظمت ، وسعت اور پاکیزگی کی صرف ایک دلیل ہے ، باقی بھی ہیں جو اپنے مقام پر ذکر ہو چکی ہیں اور ہوں گی _
____________________
۱) البتہ اسلام نے ان سادات کے لئے یہ شرط بھی رکھی ہے کہ وہ خمس و غیرہ کو گناہ کے کاموں میں خرچ نہ کرتا ہو_ بلکہ اس سید کو محتاج ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت نیک اور پرہیزگار ہونا چاہئے _ اور وہ جتنا نیک ہوگا اتنا ہی مستحق خمس ہوگا_
جنگ بدر میں شرکت نہ کرنے ولے بعض افراد کا مال غنیمت سے حصہ :
الف : طلحہ اور سعید بن زید:
مورخین یہاں کہتے ہیں کہ طلحہ اور سعید بن زید نے جنگ بدر میں شرکت نہیں کی تھی _ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں تجارتی قافلے کی تازہ ترین صورتحال معلوم کرنے کے لئے بھیجا تھا تو وہ بدر کی طرف آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی روانگی کے بعد مدینہ واپس لوٹے تھے _ وہ جنگ میں شرکت کے لئے گھر سے نکلے بھی لیکن راستے میں دیکھا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم جنگ سے فارغ ہو کر واپس تشریف بھی لارہے ہیں _ یہ صورتحال دیکھ کر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جنگ بدر کے مال غنیمت سے ان دونوں کو بھی ان کا حصہ دیا(۱) _
لیکن یہ بات مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر صحیح نہیں ہے :
۱_ ہمیں ایک اور دستاویز میں ملتا ہے کہ وہ شام تجارت کے لئے گئے ہوئے تھے اور وہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی جنگ بدر سے واپسی کے بعد لوٹے تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کی آمد پر ان دونوں کا حصہ نکال کر انہیں دیا(۲) _
البتہ اس دستاویز کی آخری شق صحیح نہیں ہے_ کیونکہ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے پیچھے رہ جانے والے دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر صرف ان دونوں کوہی مال غنیمت کا حصہ کیوں دیا ؟ اور کیاجنگ نہ کرنے والوں کا جنگ کرنے والوں کے مال غنیمت سے شرعی طور پر کوئی حق بنتا ہے ؟ پھر کسی مجبوری و غیرہ کے تحت جنگ سے پیچھے رہ جانے والے دیگر لوگوں کی بجائے صرف ان دونوں کو حصہ دینے پر وہ لوگ راضی کیسے ہو گئے؟ اور نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم اگر دیگر مسلمانوں کو مال عطا کرنا بھی چاہتے تھے تو انہیں اپنے حصہ سے عطا کرنا چاہئے تھا دوسروں کے مال سے نہیں ، جس طرح آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جنگ میں شریک افراد کے ساتھ یہ کام کیا تھا_
____________________
۱)ملاحظہ ہو: سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۴۷ و ص ۱۸۵ و غیرہ_ (۲)سیرہ ابن ہشام ج۲ ص ۳۳۹ و ۳۴۰ ، التنبیہ و الاشراف ص ۲۰۵ لیکن اس میں لفظ '' قیل'' ( منقول ہے) کے ساتھ ذکر ہوا ہے ، الاصابہ ج۲ ص ۲۲۹ و الاستیعاب بر حاشیہ الاصابہ ج ۲ ص ۲۱۹_
۲_ دیگر مورخین کی پیروی میں سیوطی نے بھی مذکورہ دونوں افراد کی اس فضیلت سے انکار کیا ہے بلکہ عثمان کے علاوہ اس نے ہر کسی کی اس فضیلت سے انکار کیا ہے _ وہ کہتا ہے : '' جنگ بدر کے موقع پر حضرت عثمان کا حصہ علیحدہ کر لیا گیا جبکہ اس کے علاوہ جنگ بدر سے غیر حاضر رہنے والے کسی شخص کے لئے بھی کوئی حصہ نہیں رکھا گیا_ اس روایت کو ابو داؤد نے ابن عمر سے نقل کیا ہے _ خطابی کہتا ہے کہ یہ فضیلت صرف حضرت عثمان کے ساتھ خاص ہے کیونکہ وہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی ( لے پالک) دختر کی تیمار داری میں مصروف تھا''(۱) البتہ ہم حضرت عثمان کے لئے بھی اس تخصیص کے قائل نہیں ہیں جسے انشاء اللہ آگے جا کر ثابت کریں گے _
۳_ شورا والوں سے ( جن میں طلحہ اور عثمان بھی شامل اور موجود تھے ) حضرت علی علیہ السلام کی حدیث مناشدہ میں آیا ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے پوچھا : '' کیا تم لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جسے جنگ میں شرکت کرنے پر بھی حصہ ملاہو اور شرکت نہ کرنے پر بھی حصہ ملا ہو؟'' تو سب نے نفی میں جواب دیا(۲) البتہ ہو سکتا ہے کہ جنگ میں شرکت نہ کرنے پر آپ عليهالسلام کو حصہ اس لئے دیا گیا ہو کہ آپ عليهالسلام بھی اس وقت کسی جنگی مہم میں مصروف ہوں یا آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے حصہ سے جس طرح دیگر جنگجوؤں کو دیا تھا اسی طرح آپ عليهالسلام کو بھی دیا ہو _ البتہ یہ بات بھی واضح کرتے چلیں کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات طیبہ میں حضرت علی عليهالسلام صرف جنگ تبوک سے ہی پیچھے رہے تھے اور شرکت نہ کر سکے تھے باقی تمام جنگوں میں آپ عليهالسلام آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے شانہ بشانہ رہے _ زمخشری نے فضائل العشرہ میں کہا ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم مسجد نبوی میں بیٹھے جنگ تبوک کا مال غنیمت تقسیم کررہے تھے _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ہر کسی کو ایک ایک حصہ دیتے جارہے تھے لیکن حضرت علی عليهالسلام کو دو حصے دیئے _ اس پر زائدہ بن اکوع نے اعتراض کیا تو نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم نے اسے یہ جواب دیا کہ (حضرت) علی عليهالسلام کی جگہ جبرائیل جنگ تبوک میں جنگ کررہا تھا اور اسی نے (حضرت)علی عليهالسلام کو دو حصے دینے کا حکم دیا ہے(۳)
نوٹ: حضرت علی علیہ السلام کی طرح آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی حضرت جعفر عليهالسلام کو بھی شرکت کرنے پر ایک حصہ اور نہ
____________________
۱)سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۸۵_ (۲)زندگانی امام علی عليهالسلام از تاریخ ابن عساکر با تحقیق محمودی ج ۳ ص ۹۳ ، اللئالی المصنوعہ ج۱ ص ۳۶۲ و الضعفاء الکبیر ج۱ ص ۲۱۱ و ص ۲۱۲_ (۳)ملاحظہ ہو:سیرہ حلبیہ ج ۳ ص ۱۴۲_
کرنے پر بھی ایک حصہ ملاتھا _ کیونکہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مردی ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ''جنگ بدر کے موقع پر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جناب جعفر عليهالسلام کا بھی حصہ علیحدہ کیا تھا(۱) لیکن یہ بات حضرت علی عليهالسلام کے مذکور ہ دعوے کے منافی نہیں ہے کیونکہ حضرت علی عليهالسلام نے جن لوگوں کو قسمیں دی تھیں ان میں حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور اس خصوصیت کا حامل تھاہی نہیں _ اور یہ بات حضرت جعفر عليهالسلام کے مذکورہ خصوصیت کے حامل ہونے سے مانع نہیں ہے کیونکہ وہ جنگ مؤتہ میں شہید ہو چکے تھے اور اس موقع پر موجودہی نہیں تھے_
ب:عثمان بن عفان
مؤرخین یہ بھی کہتے ہیں کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدانے جنگ بدر کے مال غنیمت سے عثمان بن عفان کا حصہ بھی علیحدہ کر لیا تھا کیونکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہی اسے اپنی زوجہ جناب رقیہ کی تیمار داری کے لئے وہیں رہنے کا حکم دیا تھا اس لئے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کا حصہ علیحدہ کر لیاتھا _ اسی وجہ سے مؤرخین نے جناب عثمان کو بدری صحابیوں سے شمار کیا ہے(۲) لیکن ہم مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر اسے صحیح نہیںسمجھتے :
۱_ حدیث منا شدہ میں شورا والوں کے سامنے حضرت علی علیہ السلام کا دعوی ذکر ہو چکا ہے اور اس میں خود عثمان بھی موجود تھا اور اس نے بھی اعتراف کیا تھا _
۲_کچھ دیگر روایتیں کہتی ہیں کہ وہ خود چیچک کی بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے جنگ بدر میں شرکت نہ کر سکا تھا(۳)
تو پھر ہم کس روایت کی تصدیق کریں ؟ اس کی یا اُس کی ؟
۳_ کسی مجبوری کی وجہ سے جنگ سے پیچھے رہ جانے والے دوسرے افراد کی بجائے صرف جناب عثمان کا حصہ کیوں علیحدہ کیا گیا؟اور اس بات پر پیچھے رہ جانے والے مسلمانوں نے اعتراض کرکے اپنے حق کا
____________________
۱)سیر اعلام النبلاء ج۱ ص ۲۱۶_ (۲)ملاحظہ ہو: سیرہ حلبیہ ج ۲ص ۱۴۶،ص۱۴۷و ۱۸۵اور تاریخ کی کوئی بھی دوسری کتاب _
۳)سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۴۶ و ص ۱۸۵_
مطالبہ کیوں نہیں کیا؟ پھراس بات پر جنگجو مسلمانوں نے بھی اعتراض کیوں نہیں کیا ؟ اور کیا کسی بیماری کی وجہ سے پیچھے رہ جانے والے شخص کو یہ حق حاصل ہو جاتاہے کہ وہ جس جنگ میں شریک نہیں ہوا اس جنگ سے حاصل ہونے والے مال غنیمت میں حصہ دار بن جائے ؟
۴_عثمان والی بعض روایات یہ کہتی ہیں کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جناب رقیہ کی تیمار داری کے لئے عثمان کے ساتھ اسامہ بن زید کو بھی ٹھہرایاتھا اور جنگ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی کی خبر پہنچے کے بعد اس بارے میں اس کا بھی یک گونہ کرداررہا تھا حالانکہ اس وقت اس کی عمر دس سال سے بھی کم تھی _لیکن اس کے با وجود عثمان کے حصہ کی طرح آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کا حصہ علیحدہ نہیں کیا ؟؟
۵_ تاریخ میں ملتا ہے کہ عبد الرحمن بن عوف ،عثمان کو جنگ بدر میں شرکت نہ کرنے کے طعنے دیا کرتا تھا ایک مرتبہ اس کی ملاقات ولید بن عقبہ سے ہوئی تو ولید نے اس سے کہا :''تم امیر المؤمنین عثمان کے حق میں جفا کیوں کرتے ہو ؟''_تو عبد الرحمن نے اس سے کہا :''اس سے کہہ دینا کہ میں نہ جنگ عینین (جبکہ بقول عاصم اس کی مراد جنگ احد ہے )سے بھا گاہوں اور نہ جنگ بدر سے پیچھے ہٹاہوں اور ہاں حضرت عمر کی سنت بھی میں نے نہیں چھوڑی ہے ''_ اور ولید نے جاکر عثمان کو عبد الرحمان کا یہ پیغام پہنچایا _یہاں مؤرخین کہتے ہیں کہ اس نے جنگ بدر میں شرکت نہ کرنے کی وجہ جناب رقیہ کی تیمار داری بتائی(۱) نیز بقول مؤرخین ابن عمر نے بھی جناب عثمان پر اعتراض کرنے والے ایک شخص کے جواب میں یہی عذر پیش کیا تھا(۲) _
لیکن ان کا یہ عذر صحیح نہیں ہے بلکہ صرف ایک بہانہ ہے _کیونکہ اس کی یہ مجبوری عبدالرحمن بن عوف جیسے بزرگ صحابی اور اس اعتراض کرنے والے شخص سے کیسے پوشیدہ تھی؟ حالانکہ اس وقت کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں رہ سکتی تھی _ اور اگر جناب عثمان کا اس سے کوئی حصہ علیحدہ کیا گیا تھا تو یہ اس کے لئے بہت بڑی فضیلت
____________________
۱)مسنداحمد ج۱ ص ۶۸وص۷۵،الا وائل ج۱ص۳۰۵وص ۳۰۶،محاضرات الادباء راغب اصفہانی ج ۲ ص ۱۸۴،الدر المنثور ج۲ص ۸۹از احمد و ابن منذر ،البدایہ و النہایہ ج ۷ص۲۰۷،شرح نہج البلا غہ ابن ابی الحدید ج ۵ ص ۲۱تا ص۲۲،المغازی واقدی ج۱ص ۲۷۸،الغدیر ج ۹ ص ۳۲۷و ج ۱۰ص ۷۲از احمد و ابن کثیر و از ریاض النضرہ ج ۲ ص ۹۷_ (۲)مستدرک حاکم ج ۳ ص ۹۸،الجامع الصحیح ترمذی ج ۵ ص ۶۲۵،مسند احمد بن حنبل ج ۲ ص ۱۰۱،البدایہ و النہایہ ج ۷ص ۲۰۷از بخاری و الغدیر ج ۱۰ص ۷۱از حاکم و ص۷۰از احمد و از صحیح بخاری ج ۶ص۱۲۲)_
کی بات تھی اور یہ بات جنگ بدر اور احد میں شرکت کرنے والے ،مؤاخات کے دن عثمان کا بھائی بننے والے ،اس کے لئے خلافت کی سیج تیار کرنے والے اور نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے بعد کائنات کی سب سے بہتر اور افضل شخصیت امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام پر اسے ترجیح دینے والے عبدالرحمن بن عوف سے ڈھکی چھپی نہیں رہ سکتی تھی _تو پھر عبد الرحمن بن عوف اسے فضیلت کی بات پر کیوں طعنے دیتا تھا ؟ یا پھر ایسی بات نہیں تھی وہ لوگ عثمان پر جھوٹا الزام لگاتے ہوئے اس کی قابل تعریف باتوں پر تعریف کی بجائے اس کی برائی کرتے تھے ؟
۶_ جب بن مسعود کوفہ سے مدینہ آیا تو وہ مدینہ میں ایسے وقت داخل ہواجس وقت عثمان بن عفان رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے منبر پر بیٹھ کرتقریر کررہا تھا _ جب اس کی نظر اس نو وارد پر پڑی تو اس نے دوران تقریر ہی کہہ دیا :''لوگوا تمہارے پاس ابھی ایک ایسا حقیر اور برا جانور آیا ہے جس کا کام صرف کھانے ،اگلنے اور نکالنے میں مصروف رہناہے ''_ اس پر ابن مسعود نے کہا : ''میں ایسا نہیں ہوں بلکہ میں تو جنگ بدر اور بیعت رضوان کے موقع پر رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کا ساتھی ہوں ''(۱) اور اس بات سے وہ دونوں مقامات پر عثمان کی عدم موجود گی کی وجہ سے اسے طعنہ دے رہا تھا _
۷_ اسی طرح سالم بن عبداللہ کے پاس بھی ایک آدمی نے آکر گذشتہ دوآمیوں کی طرح عثمان پر اعتراض کیا تھا(۲) پس یہ مزعومہ فضیلت ان سب لوگوں سے کیسے مخفی رہی ؟
۸_ آخر میں ہم جناب رقیہ کی تیمار داری کے لئے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے عثمان کو مدینہ میں رہ جانے کی رخصت دینے کو بھی بعید سمجھتے ہیں _ کیونکہ عثمان کے کردار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے جناب رقیہ کی حالت کی کچھ پروا نہیں تھی اور نہ ہی اسے اس کی بیماری سے کوئی غرض تھی کیونکہ ہم انشاء اللہ جناب رقیہ کی وفات کے متعلق گفتگو میں تفصیل سے بتائیں گے کہ اس نے جناب رقیہ کی وفات کی رات بھی اپنی کسی بیوی سے ہم بستری
____________________
۱)انساب الا شرف ج ۵ ص ۳۶،الغدیر ج۹ص۳از انساب الاشرف و ص ۴ از واقدی _
۲) الغدیر ج۱۰ص ۷۰از ریاض النضرہ ج۲ص ۹۴_
کی تھی جس کا مطلب ہے کہ اسے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی دامادی کے شرف سے محروم ہونے کا کوئی دکھ نہیں تھا اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے بھی اسے جناب رقیہ کی قبر میں اترنے اور اسے دفنانے سے منع کردیا تھا _ ہم اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ بعض دیگر لوگوں کی طرح اسے بھی جنگ بدر پر جانا گوارا نہیں تھا اس لئے وہ مدینہ میں رکارہا_(۱)
دوسروں کے فضائل پرڈاکہ
بعض روایتیں کہتی ہیں کہ ابو امامہ بن ثعلبہ نے ماں کے سخت بیمار ہونے کے با وجود بھی جنگ بدر پر جانے کی مکمل تیاری کرلی تھی لیکن رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے اسے اپنی ما ں کی خدمت اور تیمار داری کے لئے اسے وہیں رہنے کا حکم دیا اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جنگ بدر کے مال غنیمت سے اس کا حصہ بھی علیحدہ کرلیا البتہ جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم جنگ بدر سے واپس تشریف لائے تو اس کی ماں اس سے پہلے وفات پاچکی تھی اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کی قبر پر جاکر نماز پڑھی تھی(۲)
یہاں ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ اس روایت اور عثمان والی روایت میں کوئی فرق نہیں ہے (صرف شخصیات کا فرق ہے ) _ پس آپ ہی بتائیں کہ کس روایت کی دوسری روایت کے حق میں تحریف کی گئی اور کن شخصیات کو دوسری شخصیات کے حق میں بدل دیا گیا ہے ؟
اور چونکہ ہم عثمان والی روایت پر اپنے اعتراضات بیان کر چکے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ بنی امیہ کے اس بزرگ کے لئے پوری مشینری فضیلتیں گھڑنے میں مصروف تھی حتی کہ معاویہ نے اسلامی مملکت کے کونے کونے میں فضائل گھڑنے کا حکم نامہ بھجوا دیا تھا اس لئے ہماری نگاہ میں جعلسازوں نے ابو امامہ والی روایت کو نشانہ بنا کر اس پر تحریف اور جعلسازی کا ڈاکہ ڈالا تا کہ عثمان کی جنگ بدر میں شرکت والی فضیلت سے محرومی کا
____________________
۱)جناب عثمان کے ناز نخرے ،تعمیر مسجد کے وقت اس کے انداز نیز عادات و اطوار اور وقت سلطنت کردار سے یہ بات قرین قیاس لگتی ہے _
۲)سیرہ حلبیہ ج۲ص ۱۴۷،الا صابہ ج ۴ص ۹از ابو احمد الحاکم ، الا ستیعاب بر حاشیہ الا صابہ ج ۴ ص ۴ و اسد الغابہ ج۵ص ۱۳۹_
جبران کرکے اس کے بدلے میں اس کے لئے ایک اورفضیلت ثابت کرسکیں _نیز جناب رقیہ والے واقعہ میں اس کی بدنامی کا داغ بھی مٹا سکیںکیونکہ وہ عثمان کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کی شدت سے چل بسی تھیں لیکن اسی رات اس نے رنگ رلیاں منائیں اور نہ اس مرحومہ کا اور نہ اس کے پالنے اور پرورش کرنے والے ( حضرت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا)کے احترام کا کوئی لحاظ کیا _یوں انہوں نے ایک تیر سے دو بلکہ تین شکار کھیلے _
لیکن یہاں حضرت علی علیہ السلام کے اس دعوے والا اعتراض باقی رہتا ہے جس میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے دعوی کیا تھا کہ اس فضیلت میں آپ عليهالسلام ہی یکتا ئے روزگار ہیں _البتہ اس کا جواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ شاید آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جس طرح دوسروں کو اپنے خمس سے نوازاتھا ، اسی طرح اپنے حصہ سے اس کا حصہ بھی رکھا ہو_ یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے حاضرین کو (جن میں عثمان بھی موجود تھا) قسم دے کر ان سے مذکور ہ بات اگلوائی ہویوں حاضرین کی بہ نسبت توآپ عليهالسلام کی بات بالکل درست تھی لیکن حضرت جعفر عليهالسلام جیسے دوسرے لوگوں کی بہ نسبت آپ عليهالسلام کے کلام میں کوئی مثبت یا منفی بات نہیں پائی جاتی(۱)
دوقیدیوں کا قتل :
پہلے بھی بتاچکے ہیں کہ مشرکین کے ستر آدمی گرفتار کرلئے گئے تھے البتہ اکہتر آدمی بھی کہا گیا ہے(۲) انہیں قید کرکے مدینہ کی طرف واپسی شروع ہوگئی _ جب صفرا کے مقام پر پہنچے تو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے امیر المؤمنین حضرت علی عليهالسلام کو دو قیدیوں کا سر قلم کرنے کا حکم دیا _ان میں سے ایک عقبہ بن ابی معیط تھا جس کا مکہ میں مسلمانوں اور خود نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے ساتھ برا سلوک معروف ہے اور دوسرا نضربن حارث تھا(۳) جو مکہ میں مسلمانوں پر حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا اور انہیں شکنجہ کیا کرتا تھا _ بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے
____________________
۱)حدیث منا شدہ میں حضرت علی عليهالسلام کے الفاظ بھی اسی بات پر دلالت کرتے ہیں اس لئے دیگر احتمالات صرف تکلفات ہیں _
۲)العلل و معرفة الحدیث ج ۱ص ۴_ (۳)سیرہ ابن ھشام ج۲ص ۲۹۸میں زہری و غیرہ کی روایتوں میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ حضرت علی عليهالسلام نے ہی نضربن حارث کی گردن اڑائی تھی _ نیز ملاحظہ ہو الا غانی مطبوعہ ساسی ج۱ص ۱۰_
آپ عليهالسلام کو تین قیدیوں ،عقبہ، نضر اور مطعم بن عدی کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا(۱) اس پر عقبہ نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا :''یا محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم تجھے خدا اور رشتہ داری کا واسطہ مجھے قتل مت کرو''_ اس پر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے عقبہ سے فرمایا:''تم تو صفوریہ کے علاقے کے عجمی کافر ہو( تمہارے ساتھ میرا کیسا رشتہ اور واسطہ؟)''البتہ ایک اور دستاویز میں ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے فرمایا:''کیا تو قریشی ہے ؟ تم تو صفوریہ کے علاقے کے عجمی (یا یہودی ) کافر ہو_ عمر کے لحاظ سے تو تم اپنے اس باپ سے بڑے ہو جس کے تم بیٹے ہونے کا دعوی کرتے ہو_ جس کے نہیں ہو اس سے منسوب ہو_ علی عليهالسلام جاؤ اس کی گردن اڑادو ''_اور حضرت علی عليهالسلام نے جا کر اس کا سر قلم کردیا(۲) ایک اور روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ عقبہ نے پھر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا :''محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم میرے پسماندگان کی کفالت کون کرے گا ؟''آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :''آگ ان کی کفالت کرے گی ''(۳)
البتہ سہیلی کہتاہے کہ ''جس کے نہیں ہواس سے منسوب ہو''والا جملہ عمربن خطاب نے کہا تھا(۴)
یہ بھی بتاتے چلیں کہ ہجرت سے قبل اسی عقبہ نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو بہت اذیتیں دی تھیں اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف نہایت سخت موقف اپنا یا تھا _ جس کے نتیجے میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی اسے دھمکی دی تھی کہ اگر تو مجھے مکہ کی حدود سے باہر ملا تو تجھے قید کرکے تیری گردن ہی اڑادوں گا(۵) اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایسا ہی کیا _
البتہ یہاں چند نکات قابل ذکر ہیں :
____________________
۱)العلل و معرفة الحدیث ج۱ ص ۳_
۲)ملاحظہ ہو : الروض الانف ج ۳ ص ۶۵،سیرہ حلبیہ ج ۲ص ۱۸۷و ص ۱۸۶ ، بحار الانوار ج ۱۹ص ۲۶۰وص۳۴۷،المصنف عبد الرزاق ج ۵ص ۲۰۵،تفسیر قمی ج ۱ص ۲۶۹،و واقدی البتہ سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۹۸میں حضرت علی عليهالسلام کے اس کو قتل کرنے کی بات لفظ ''قیل''کے ساتھ ذکر گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ اس نے اسے کمزور اور ضعیف قول مانا ہے_
۳)المصنف عبد الرزاق ج۵ص۲۰۵وص۳۵۲وص ۳۵۶،ربیع الا برار ج ۱ ص ۱۸۷،الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۱۳۱،سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۹۸و الا غانی مطبوعہ ساسی ج ۱ ص ۱۰و ص ۱۱_ (۴)الروض الا نف ج ۳ ص ۶۵_ (۵)ملاحظہ ہو: الغدیر ج ۸ ص ۲۷۳و ص ۲۷۴از ابن مردویہ و ابو نعیم در الدلائل ان اسناد کے ساتھ جسے سیوطی نے صحیح جانا ہے _
الف: عقبہ کا نسب:
مؤرخین کے مطابق آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے عقبہ کو ''صفوریہ کے علاقے کے عجمی کافر '' کہنے کا سبب یہ ہے کہ اس کا پردادا ''امیہ'' جب صفوریہ میں تھاتو وہاں اس نے ایک شوہر دار یہودی لونڈی سے زنا کیا جس کے بعد ابو عمرو (یعنی ذکوان) اس یہودی کے گھر پیدا ہوا لیکن امیہ نے زمانہ جاہلیت کی رسومات کے مطابق اسے اپنا بیٹا مان لیا_یہ قول بھی ملتا ہے کہ ذکوان ،امیہ کا غلام تھا جسے اس نے اپنا بیٹا بنا یا ہوا تھا لیکن امیہ کے مرنے کے بعد ذکوان اس کی بیوی کا شوہربن گیا_جبکہ سہیلی کہتا ہے کہ امیہ نے کسی لونڈی کے ساتھ زبردستی یا اس کی مرضی سے زنا کیا تو وہ ابو عمرو سے حاملہ ہوئی جسے امیہ نے جاہلیت کی رسومات کے تحت اپنا بیٹا بنا لیا(۱) اسی طرح فضل بن عباس نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے اشعار کے جواب میں یہ اشعار کہے :
اتطلب ثاراً لست منه ولاله
و این ابن ذکوان الصفوری من عمرو
کما اتصلت بنت الحمار بامها
و تنسی اباها اذ تسامی اولی الفخر(۲)
کیا تو اس شخص کا بدلہ لے گا جس کا تجھ سے اور تیر ا اس سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے _اور ابن ذکوان صفوری کا عمرو سے کیا واسطہ؟ یہ تو ایسے ہو گیا ہے جیسے کوئی کھوتی اپنے باپ کو بھول کر اپنی ماں سے منسوب ہو جاتی ہے تب جاکر کہیں وہ با عزت سوسا ئٹی میں اترا سکتی ہے_
اور معاویہ نے بوڑھے نسب شناس دغفل سے اپنے دادا امیہ کے نسب کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا :''ہاں میں نے اسے دیکھا ہے وہ کمزور ،ناتوان ،بھینگا،بد صورت اور پستہ قد تھا جسے اس کا غلام ذکوان
____________________
۱) سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۸۷نیز ملاحظہ ہو: الروض الا نف ج ۳ص ۶۵_
۲)الغدیر ج ۹ ص ۱۵۵از طبری ج ۵ص ۱۵۱_
پکڑ کر کہیں لے جاتا تھا ''_معاویہ نے کہا :''نامراد بس کرو _ تم غلط کہہ رہے ہو وہ تو اس کا بیٹا تھا ''اس پراس نے کہا :''یہ بات تو تمہاری مشہور کی ہوئی ہے ''(۱)
لیکن تفسیر قمی میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے عقبہ سے کہے جانے والے اس قول ''عمر کے لحاظ سے توتم اپنے اس باپ سے بڑے لگتے ہو جس کے بیٹے ہونے کا تم دعوی کرتے ہو''کے ذیل میں ذکر ہونے والی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عقبہ ،صفوریہ کے علاقے کے رہنے والے کسی اور شخص کا بیج اور نطفہ تھا ،لیکن زبر دستی ابو معیط سے منسوب ہو گیا تھا _
حضرت امام حسن علیہ السلام نے بھی ولید بن عقبہ سے وہی الفاظ کہے تھے جیسے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کے باپ عقبہ بن ابو معیط سے کہے تھے(۲)
زمخشری کہتا ہے کہ خود ابو معیط اردن کے علاقے صفوریہ کارہا ئشےی تھا _جسے ابو عمر بن امیہ بن عبد شمس نے آکر بیٹا بنانے کا دعوی کیا تھا(۳)
عثمان کے دور حکومت میں جب حضرت علی علیہ السلام نے ولید کو شراب کی حد میںکوڑے مارنے چاہے تو ولید نے آپ عليهالسلام کو گالیاں دینی شروع کردیں ،جس پرآپ عليهالسلام کے بھائی جناب عقیل عليهالسلام نے اس سے کہا: ''اوفاسق تو خود جانتا بھی ہے کہ تو کون ہے ؟ کیا تو اردن میں عکااور لجون کے درمیان والی بستی صفوریہ کا عجمی کافر نہیں ہے؟ تیرا باپ وہاں کا ایک یہودی تھا ''(۴)
ب: پسماندگان کے لئے دوزخ کی بشارت
گذشتہ واقعہ میں ہم نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کے پسماندگان کو دوزخ کی پیشین گوئی کی تھی جن میں سے ایک فاسق ولید بن عقبہ بھی تھا جو عثمان کی طرف سے کوفہ کا گور نر تھا _ اس نے شراب پی کر
____________________
۱) الروض الا نف ج ۳ ص ۶۵و سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۸۷_
۲)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۶ص ۲۹۳از زبیر بن بکار در کتاب المفاخرات و مقتل الحسین خوازمی ج ۱ ص ۱۱۹_
۳)ربیع الابرار ج ۱ ص ۱۴۸_ (۴)تذکرہ الخواص ص ۲۰۶_
لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی تو نشے میں ٹن وہ زیادہ پڑھ گیا ،حالانکہ اس کا شمار صحابیوں میں ہوتا ہےاب تو بعض لوگوں کو تمام صحابیوں کے عادل ہونے والے اپنے نظریئےیںنظر ثانی کرنا چاہئے _البتہ اس موضوع پر ہم نے اپنی کتاب'' دراسات و بحوث فی التایخ و الا سلام ج ۲ ''میں مختصر گفتگو کی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں_
اور اس کے پسماندگان کے متعلق آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مذکورہ بات غیب کی خبر اور پیشین گوئی شمار ہوتی ہے جس پر خدا نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو مطلع کردیا تھا کیونکہ خدا جانتا تھا کہ اس کے پسماندگان میں کوئی بھی اس لائق ہے ہی نہیں جو رحمت اور نعمت کا مستحق ہو لیکن سیاست،نسلی تعصب اور رشتہ داری کے بل بوتے پراس دوزخی اولاد کو لوگوں کی جان ،مال اور عزت و آبرو پر مسلط کردیا گیا اور خلافت کے اصلی اور شرعی حق داروں سے چھینی جانے والی خلافت کا ایک حاکم اور سیاسی راہنما بنادیا گیا_ پھر تو ان لوگوںنے لوگوں کے عقائد میں اتنی جگہ بنالی کہ لوگوں پر ان جیسے نا پاکوں کو( چاہے وہ جتنے اور جس قسم کی بھی برائیوں کے مرتکب ہوں) عادل سمجھنا ضروری ہوگیا _
ج: عقبہ کو نسب کا طعنہ :
آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے عقبہ کو کہا کہ تو صفوریہ کا ایک عجمی کا فرہے یا اس جیسے دیگر جملے کہے _حالانکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ عادت تھی نہیں ،کیونکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نہ تو (نعوذ باللہ )گالیاں بکنے والے تھے اور نہ ہی بد خلق اور بد کلام تھے _ لیکن آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے یہ طعنے اس لئے دیئےہ لوگ جان لیں کہ ان کے بعد والے اسلام کے دعوے صحیح نہیں ہیں اور حکومتی مشینری کا اس کے بیٹوں کو اپنے ساتھ ملانا صرف ان کی ادعائی قرابت داری کی وجہ سے ہے و گرنہ ان لوگوں کا حکومت میں آنا کسی بھی لحاظ سے صحیح نہیں ہے اور یہ حکومت کے اہل ہی نہیں ہیں کیونکہ یہ لوگ خدا کے مال کو اپنا ذاتی اور وراثتی مال اور خدا کے بندوں کو اپنا غلام سمجھ لیں گے اور یہ لوگ بدبختیوں اور سازشوں کی آماجگاہ بن جائیں گے _جس طرح فاسق ولید اور حکومت کے دیگر قریبیوں اور گورنروں کی
حالت زار تھی جو دین اور اسلام کے نام پر حکومتی عہدوں پر فائز ہوئے تھے اور ان کے احکام کو اسلامی احکام سمجھا جاتا تھا حالانکہ ان کے احکام صرف قبائلی اور خاندانی تعصبات پر مبنی تھے بلکہ دقیق اور صحیح الفاظ میںیہ کہنا بہتر ہے کہ ان کے احکام زمانہ جاہلیت کے احکام تھے_
د:واقعہ بدر میںنضربن حارث کے قتل کا انکار :
ابن سلام کہتا ہے کہ ابن جعد بہ (جس نے ابو عزت جمحی کے حالت اسیری میںقتل کا انکار کیا ہے وہ بدر کے واقعہ میں حالت اسیری میں نضربن حارث کے قتل کا بھی منکر ہے )_وہ کہتا ہے :''وہ اس جنگ میںشدید زخمی ہو گیا تھا جس سے وہ لنگڑاکر چلتا تھا_ اور اسے علاج کی اشد ضرورت تھی لیکن اس نے کہا کہ جب تک میں ان لوگوںکے ہاتھ میں ہوں نہ کچھ کھاؤں گا اور نہ کچھ پئوں گا _اور وہ اپنی اس ضدر پر قائم رہا یہانتک کہ مرگیا''جب ابو سلام کو ابو عزت کے بارے میں ابن جعد بہ کا نظریہ بتایا گیا تو اس نے کہا:''یہ نظریہ بھی ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے عقبہ بن ابو معیط کو جنگ بدر کے واقعہ میں قید کی حالت میں قتل کرنے کے علاوہ اور کسی کو حالت اسیری میں قتل نہیں کیا''(۱) لیکن یہ نظریہ مؤرخین کے متفقہ قول کے مخالف ہے اور اس میں ہمیں جعلسازی کی کوئی وجوہات بھی نظر نہیں آتیں اس لئے ہم پختہ تاریخی دستاویزات کی بلاوجہ کوئی مخالفت نہیں کر سکتے البتہ نضر بن حارث کی بہن کا اپنے بھائی کے قتل کی مناسبت سے ایک مرثیہ بھی نقل ہوا ہے جس میں اس نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو مخاطب ہو کر کہا:
ما کان ضرک لو مننت و ربما
منّ الفتی و هوالمغیظ المحنق
اگر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم منت لگاکر اسے چھوڑ دیتے تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو کوئی بھی نقصان نہ ہوتا کیونکہ بسا اوقات شریف آدمی غصہ اور ناراضگی کی حالت میں بھی دوسروں پر احسان کیا کرتے ہیں_
____________________
۱)طبقات الشعراء ابن سلام ص ۶۴وص۶۵_
اس کی یہ باتیں سن کر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس پر ترس آگیا ،آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی آنکھیں بھر آئیںاور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جناب ابوبکر سے فرمایا:''اگر تو اس کے اشعار سن لیتا تو اسے کبھی قتل نہ کرتا''_لیکن اس کے بارے میں زبیر بن بکا رکہتا ہے کہ میں نے سنا ہے کہ بعض علماء اس روایت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ روایت جعلی ہے(۱) یہ بھی کہتے چلیں کہ اس روایت میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایک نا معقول بات منسوب کی گئی ہے _ کیونکہ یہ ہوہی نہیں سکتا کہ چند ایک اشعار آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے فیصلے کو بدل دیں اس لئے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ہر حال میں فقط احکام خداوندی پر عمل درآمد کیا کرتے اور صرف اپنے فریضے پر عمل کیا کرتے تھے_ البتہ اس بات کا مقصد شایدعقبہ کے قریبیوں کے ما حول میں کشیدگی اور تناؤ کو کم کرنا اور اس طریقے سے ان کی دلجوئی ہو سکتی ہے _
باقی قیدیوں کی صورتحال :
مؤرخین کے بقول جب انصار نے نضر اور عقبہ کا حال دیکھا تو انہیں تمام قیدیوں کے قتل ہونے کا خوف لا حق ہو گیا اور انہوں نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا : '' یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ہم نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ہی کے قبیلہ اور خاندان والوں کے ستر آدمی تہہ تیغ کئے ہیں، آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ان کی جڑیں ہی کاٹناچاہتے ہیں کیا ؟ یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم انہیں ہمیں بخش دیں اور ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں '' _ ابوبکر بھی فدیہ لینے پر زور دے کر کہہ رہا تھا : '' یہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا خاندان اور قبیلہ ہے _ انہیں ایک مہلت اور دیں اور فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں _ جس سے کفار کے مقابلے میں ہماری طاقت زیادہ ہو جائے گی '' _ یا یہ کہا : ''یہ لوگ ہمارے چچا زاد ، قبیلہ ، خاندان والے اور بھائی ہیں ''_ لیکن آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فدیہ والی بات کو اتنا سخت نا پسند کیا کہ سعد بن معاذ نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے جس پر اس نے کہا : '' یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ مشرکین سے ابھی ہماری پہلی جنگ ہے اور مشرکین کی خونریزی ہمیں ان کے چھوڑ دینے سے زیادہ پسند ہے '' _ اور عمر نے کہا : '' یا رسول اللہ انہوں نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو جھٹلایا اور در بدر کیا ، آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم حکم فرمائیں تو ان کا سر قلم کردیں _ حضرت علی عليهالسلام کو عقیل کا ، مجھے فلاں کا اور حمزہ کو عباس
____________________
۱)زہرالآداب ج ۱ص ۶۶_
کا سرقلم کرنے کا حکم دیں کیونکہ یہ کافروں کے راہنما ہیں ''_ اسی مناسبت سے یہ آیت اتری :
( ما کان لنبی ان یکون له اسری حتی یثخن فی الارض تریدون عرض الدنیا و الله یرید الآخرة و الله عزیز حکیم لو لا کتاب من الله سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم )
نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے مشرکوں کا اچھی طرح قلع قمع کئے بغیر انہیں قیدی رکھنا مناسب نہیں ہے_ تم لوگ تو عارضی دنیا چاہتے ہو لیکن خدا تمہاری آخرت اور عاقبت چاہتا ہے _ اورخدا با عزت اور دانا ہے _ اور اگر خدا پہلے تمہیں عذاب نہ کرنے کا وعدہ نہ کر چکا ہوتا تو تمہارے فدیہ لینے پر ضرور تمہیں بہت بڑے عذاب کا مزہ چکھا تا _
جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فدیہ لینے پر ان کا اصرار دیکھا تو انہیں یہ پیشین گوئی کی کہ فدیہ لینے کا انجام یہ ہوگا کہ جلد ہی ان قیدیوں کی مقدار میں مسلمان مار دیئےجائیں گے _ انہوں نے اس بات کو منظور کرلیا اور جنگ احد میں یہ پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی جس کا ہم بھی بعد میں جائزہ لیں گے _
ان دستاویزات کے متعلق مندرجہ ذیل مآخذ ملاحظہ فرمائیں _ اگر چہ کہ ان میں سے اکثر منابع یہ دعوی کرتے ہیں کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم ابوبکر والی بات کی طرف مائل ہوگئے تھے لیکن بعض منابع کہتے ہیں کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے قتل پر مصر رہے(۱) _
بہر حال معاملہ فدیہ لینے پر ٹھہرا اور ہر قیدی کے بدلے میں ایک سے چار ہزار دینار کا مطالبہ ہوا جسے قریش نے فورا یکے بعد دیگرے ادا کر کے اپنے قیدی چھڑا لئے _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہر قیدی کو اس کو قید کرنے والے کے سپرد کردیا تھا_ اور وہ بذات خود فدیہ لے لیتا تھا(۲) البتہ بعض دستاویزات میں آیا ہے کہ سہیل بن عمرو
____________________
۱)ملاحظہ ہو : تاریخ طبری ج۱ ص ۱۶۹ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۹۰ صحیح مسلم ج۵ ص ۱۵۷ ، بحارالانوار ج ۱۹ ، اسباب النزول واحدی ص ۱۳۷ ، حیاة الصحابہ ج۲ ص ۴۲ ، کنز العمال ج ۵ص ۲۶۵ از احمد ، مسلم ، ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ابی شیبہ ، ابو عوانہ ، ابن جریر ، ابن منذر، ابن ابی حاتم ، ابن حبان ، ابو شیخ ، ابن مردویہ، ابو نعیم و بیہقی ، در منثور ج ۳ ص ۲۰۱ تا ص ۲۰۳ ، مشکل الآثار ج ۴ ص ۲۹۱ و ص ۲۹۲ ، المغازی واقدی ج۱ ص ۱۰۷ و ص ۱۰۸ و الکامل ابن اثیر ج۲ ص ۱۳۶ _
۲) المصنف ج ۵ ص ۲۱۱ _
بدر کے قیدیوں کا فدیہ لے آیا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے پوچھا کہ قریش کاہم سے جنگ کا پھر کیا ارادہ ہے؟(۱)
ہمارے نزدیک صرف یہی قابل اطمینان تاریخی دستاویزات تھیں_
عذاب کے نزول کی صورت میں صرف عمر کی ہی جان بچتی ؟
لیکن ہمیں بعض ایسی روایات بھی ملتی ہیں جو مذکورہ بات کے بالکل ہی برعکس ہیں _ ان روایات میں آیا ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم ، ابوبکر کے ہم خیال ہو گئے بلکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے عمر کے مشورے کو سخت نا پسند کیا _ جس پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مخالفت اور عمر کی موافقت میں قرآن کی آیت نازل ہوئی_ دوسرے دن عمر جب صبح سویرے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے پاس آیا تو دیکھا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اور ابوبکر دونوں رورہے ہیں _ اس نے رونے کا سبب پوچھا تو رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے فرمایا: ''خطاب کے بیٹے کی مخالفت میں ہم پر بہت بڑا عذاب نازل ہونے والا تھا _ اگر عذاب نازل ہو بھی جاتا تو عمر کے سوا کوئی بھی نہ بچ پا تا''_نیز عبداللہ بن عمر کے ذریعہ ابن عباس سے مروی ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ''میں اس لئے رورہا ہوں کہ تمہارے ساتھیوں نے فدیہ لے کر مجھے بہت بڑی مصیبت میں مبتلا کردیا ہے _ ان کے عذاب کا مجھ پر نزول اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا _ کیونکہ خدا نے ( ما کا لنبی ان یکون له اسری حتی یثخن فی الارض ) والی آیت نازل کی ہے ''(۲) _
لیکن ہم مذکورہ باتوں کو صحیح نہیں سمجھتے اور ہمارے پاس اس کے بطلان کے لئے کافی سے زیادہ دلائل موجود ہیں _ اور یہ ہو سکتا ہے کہ اسلام کا اظہار کرنے والے بعض جا ہلوں ، الزام تراشوں، دھوکہ بازوں اور جھوٹوں نے یہ روایتیں اس لئے گھڑی ہوں کہ وہ یہ بتا سکیں کہ اس بارے میں رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے اپنے مؤقف میں غلطی کی ہے اور مذکورہ آیت آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی غلطی کی نشاندہی اور اس کی درستگی کے لئے نازل ہوئی ہے(۳)
____________________
۱) ایضا_
۲)ملاحظہ ہو: گذشتہ تمام منابع نیز فواتح الرحموت بر حاشیہ المستصفی غزالی ج۲ ص ۲۶۷ ، تاریخ الخمیس ج۱ص ۳۹۳ ، المستصفی غزالی ج ۲ ص ۳۵۶ و تاریخ الامم و الملوک ج ۲ ص ۱۶۹ )_
۳)قضایا فی التاریخ الاسلامی محمود اسماعیل ص ۲۰_
بہر حال مذکورہ نظریئےے جھوٹے ہونے پر ہمارے پاس مندرجہ ذیل دلائل ہیں :
۱_یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ عذاب سے صرف عمر ہی کیوں نجات پائے گا ؟ پھر عمر کی موافقت کرنے والے سعد بن معاذکا کیا قصور تھا کہ اس پر بھی عذا ب نازل ہوتا؟ کیا اکثر لوگوں کے بقول وہ عمر کے موافقین میں سے نہیں تھا؟ بلکہ معتزلی کے مطابق تو سب سے پہلے ایسا مشورہ دینے والا یہی شخص تھا(۱) نیز ابن رواحہ کا کیا قصور تھا ؟ آخر وہ بھی تو عمر کے نظر یہ کا موافق تھا ؟(۲) نیز یہ بھی معقول نہیں ہے کہ آیت میں ( تریدون عرض الدنیا ) نیز ( لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم ) جیسے الفاظ کے مخاطب بھی آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم ہوں_ کیونکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نہ تو دنیا طلب تھے اور نہ ہی اس عذاب عظیم کے مستحق تھے_ اس لئے کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالی نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو حکم کوئی دیا اور اس کی وضاحت بھی کردی لیکن اس کے باوجود آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے (نعوذ باللہ) احکام خداوندی کی مخالفت کی _ اور ایسا عقیدہ رکھنا بہت بڑا گناہ اور اس کی سزا بھی بہت سخت سزا ہوگی(۳) _ اور اس بات پر دلیل کہ خدا نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو قیدیوں کے قتل کا واضح حکم دیا تھا یہ ہے کہ فدیہ کے حلال ہونے کے حکم کا علم عبداللہ بن جحش والے واقعہ میں ہو چکا تھا جس میں ابن حضرمی ما را گیا _ کیونکہ اس میں عثمان بن مغیرہ اور حکم بن کیسان بھی قید کر لئے گئے تھے اور فدیہ لے کر انہیں آزاد کردیا گیا تھا اور خدا نے اس کی نفی اور تردید نہیں کی تھی _ اور یہ واقعہ جنگ بدر سے بھی ایک سال بلکہ اس سے بھی پہلے کا ہے(۴) جس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بدر کے قیدیوں کا کوئی خاص معاملہ اور ان کے لئے کچھ خصوصی احکام تھے جنہیں نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم نے اپنے اصحاب کو وضاحت کے ساتھ سمجھا بھی دیا تھا لیکن اصحاب اس حکم کی خلاف ورزی پر اصرار کرتے رہے جس کی وجہ سے وہ عذاب عظیم کے مستحق ٹھہرے لیکن پھر خدا نے لطف و کرم کرتے ہوئے انہیں معاف کردیا تھا_
____________________
۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱۴ ص ۱۷۵ و ص ۱۷۶ ، الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۱۲۶ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۹۲ ، سیرہ ابن ہشام ج۲ ص ۲۸۱ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۸۱ و المغازی واقدی ج۱ ص ۱۱۰ و ص ۱۰۶ _ (۲)البدایہ و النہایہ ج ۲ ص ۲۹۷ ، تاریخ الطبری ج۲ ص ۱۷۰ ، الروض الانف ج ۳ ص ۸۳ ، اسباب النزول واحدی ص ۱۳۷ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۹۳ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۹۲ و حیاة الصحابہ ج ۲ ص ۵۳ از حاکم جس نے اسے صحیح قرار دیا ہے ، ابن مردویہ ، ترمذی و احمد_ (۳)ملاحظہ ہو : دلائل الصدق ج ۳ حصہ ۱ ص ۵۹_ (۴)سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۹۲_
ہماری مذکورہ بات پر ایک اور دلیل بعض روایتوں میں مذکور یہ بات بھی ہے کہ واقعہ بدر میں حضرت جبرائیل عليهالسلام نازل ہوئے اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا :'' آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی امت کے قیدیوں کا فدیہ لینے کے اس کام کو خدا نے سخت ناپسند کیا ہے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو حکم دیا ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم انہیں یہ اختیار دے دیں کہ یا وہ سب قیدیوں کو تہہ تیغ کردیں یا پھر اس شرط پر ان سے فدیہ لیں کہ ان قیدیوں کی تعداد میں یہ لوگ بعد میں مارے جائیں گے'' _ جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے اصحاب کو یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا : '' یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ یہ ہمارا قوم و قبیلہ ہیں(۱) _ بلکہ ہم توان سے فدیہ لیں گے تا کہ اس طریقے سے ہمیں اپنے دشمنوں پر برتری حاصل ہو _ اور اس کے بدلے میں ہم اتنی تعداد میں اپنے آدمیوں کا شہید ہونا گوارا کرلیں گے''(۲)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ خود ہی فدیہ لینے پر مائل تھے اور اس پر بہت تاکید اور اصرار بھی کیا جس کے بعد جا کر انہیں فدیہ لینے کی اجازت ملی _ ان معروضات کے ساتھ ہم یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ بعض مورخین نے ذکر کیا ہے کہ خود رسو ل صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا انہیں قتل کرنا چاہتے تھے(۳)
نیز واقدی کہتا ہے کہ اس دن قیدیوں نے کہا : '' ہمیں ابوبکر کے حوالے کیا جائے کیونکہ قریش میں وہ ہمارا سب سے قریبی رشتہ دار اور صلہ رحمی کرنے والاہے اور (حضرت) محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک بھی سب سے زیادہ اثر ور سوخ والا ہے '' _ ( یعنی آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم اس کی بات ٹال نہیں سکیں گے)_مسلمانوں نے ابوبکر کو ان کے پاس بھیجا ، وہ ان کے پاس آیا اور کچھ گفتگو ہوئی جس کے بعد اس نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ ان کی بہتری اور مناسب راہ حل کے لئے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرے گا بلکہ ہر ممکن کوشش کرے گا _ اس کے بعد وہ نبی کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آکر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کاجوش اور غصہ ٹھنڈا کرنے لگا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو نرم ہونے کی تلقین کرنے کے ساتھ ساتھ قیدیوں کو فدیہ لےکر چھوڑ دینے کا کہتا رہا _ اس نے تین بار یہ عمل دہرا یا لیکن ہر مرتبہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے
____________________
۱)یہ لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مذکورہ بات کرنے والے مہاجرین تھے_
۲)تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۹۳ از فتح الباری از ترمذی ، نسائی ، ابن حبان و حاکم با روایت صحیح الاسناد ، المصنف عبدالرزاق ج ۵ ص ۲۱۰ ، البدایہ و النہایہ ابن کثیر ج ۳ ص ۲۹۸ و طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۱۴ حصہ ۱_ (۳)بطول مثال ملاحضہ ہو : الکامل ابن اثیر ج۲ ص ۱۳۶_
اس کو کوئی مثبت جواب نہیں دیا(۱)
گذشتہ معروضات کی روشنی میں کیا ان کا یہ کہنا پھر بھی صحیح مان لیا جائے گا کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم ابوبکر کے ساتھ بیٹھ کر ( نعوذ باللہ ) اپنے آپ پرور رہے تھے اور اگر عذاب نازل ہو جاتا تو عمر کے سوا سب ہلاک ہو جاتے (حتی کہ نعوذ باللہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا بھی)؟
۲_ اگر یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم شروع سے ہی ابوبکر کے نظریئےے موافق تھے اور خود ان کے بقول آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ابوبکر کے ساتھ بیٹھے اپنے اوپر رورہے تھے ، تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے عمر سے یہ کیوں کہا کہ '' ان لوگوں کے عذاب کا مجھ پر نزول اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا''؟ کیونکہ اگر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا نظریہ وہی ابوبکر والا تھا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے (نعوذ باللہ) مستحقین عذا ب سے اپنے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو علیحدہ کیوں کیا؟ پھر (اس صورت میں)یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم (نعوذ باللہ) ان لوگوں کی طرح مستحق عذاب نہ ہوں ؟ حالانکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم بھی تو ان کے ہم نوا تھے اور ان کے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے خیالات ایک ہی تھے؟؟_
۳_ ان مذکورہ باتوں کو ما ن لینے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم عملی طور پر :
( و ما ینطق عن الهوی ان هو الا وحی یوحی ) (۲)
آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں بولتے اور جو کچھ بھی بولتے ہیں وہ وحی ہی ہوتی ہے _
جیسی آیات کو جھٹلانے کے مرتکب ہوں _ اس صورتحال میں پھر تو اللہ تعالی کا ( اطیعوالله و اطیعو الرسول ) (۳) کہہ کر رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت کا حکم دینے کا کوئی معنی ہی نہیں رہتا کہ مسلمان تو خدا کا حکم بجا لاتے ہوئے اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کی پیروی کریں لیکن خدا اس کے بدلے میں انہیں جھڑک دے اور انہیں عذاب کی دھمکی دے _ اس صورت میں تو(نعوذ باللہ )خدا کو اپنے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کو جھڑک کر دھمکی دینی چاہئے تھی لیکن مسلمانوں کی تعریف و تمجید کرنی چاہئے تھی کیونکہ مسلمانوں نے تو رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی اطاعت کرکے اپنے فریضے پر عمل کیا تھا _
____________________
۱) المغازی واقدی ج۱ ص ۱۰۷ و ص۱۰۸ _ (۲)نجم /۳و۴_ (۳)نساء /۵۹_
۴_رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو فدیہ لینے کا صرف مشورہ دینے پر وہ لوگ عذاب اور سزاکے مستحق نہیںہو سکتے تھے کیونکہ اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کہ مسلمانوں نے اپنے لئے ایک نامناسب چیز کا انتخاب کیا تھا (اور ابھی فدیہ لیا تونہیں تھانہ ہی فی الحال کوئی بات پکی ہوئی تھی اور اظہار رائے کی تو ہر کسی کو آزادی ہونی چاہئے)یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاںضرور کوئی اور بات تھی کہ جس کی مخالفت پروہ مستحق عذاب ٹھہرے تھے _اور وہ بات یقیناًیہ تھی کہ انہوں نے فدیہ لینے پر اصرار کرکے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی تمام تر تصریحات اور واضح بیانات کے باوجود وہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی مخالفت اور ارادہ الہی کے برخلاف دنیاوی چیزوں کے حصول پر اصرار کے مرتکب ہوئے تھے_ کیونکہ ارشاد خداوند ی ہے: ( تریدون عرض الدنیا و الله یرید الآخرة ) نیز کسی چیز کو اچھے طریقے سے بیان کرنے سے پہلے اس کی مخالفت بھی موجب عذاب اور سزا نہیں ہوتی _
بہرحال خدانے ان پر لطف و کرم کرتے ہوئے ان کی اس مخالفت کو معاف فرما دیا اور ان کی دلجوئی کے لئے ان کے لئے فدیہ لینا جائز قرار دے دیا _حالانکہ اس کے نتائج بھی نہایت بھیانک رکھے لیکن وہ دنیا کی محبت میںاندھے ہوگئے اور اس کے بھیانک نتائج کو بھی ساتھ ہی قبول کرلیا_البتہ یہ بھی عین ممکن ہے کہ بعض مہاجرین کا فدیہ لینے پر اصرار صرف دنیا پرستی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہو کہ ان پر ''صنادید قریش''(قریش کے سرداروں)کا قتل نہایت شاق تھا _ کیونکہ قریش کے ساتھ ان کے دوستانہ ،مفاد پرستانہ اور رشتہ دار انہ تعلقات تھے اور ان کے اس موقف کو وہاںموجود مسلمانوں کی ایک سادہ لوح جماعت نے بھی بلاسوچے سمجھے اپنا لیا تھا _پس بعض لوگوں کی مشرکوںکے ساتھ مہربانی اور مال کمانے کے شوق نے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی مخالفت پرا کسانے کے ساتھ ساتھ انہیں عذاب خداوندی کا مستحق بھی ٹھہرایا_ اور یہ لوگ اپنی نیت میں فتور ،رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی مخالفت پر اصرار اور نظریات ،اقوال اور افعال میں منافقت کی وجہ سے عذاب خداوندی کے مستحق ٹھہرے_خاص کرجب یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ کچھ منافقین بنی ہاشم کے افراد کو قتل کرنے کا مشورہ دے رہے تھے جنہیں مشرکین زبر دستی اپنے ساتھ جنگ میں گھسیٹ لائے تھے اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا پہلے
ہی انہیں قتل نہ کرنے کا حکم دے چکے تھے _نیز یہ بھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایسا مشورہ دینے والے شخص کے قبیلے کا کوئی بھی فرد جنگ بدر میں شریک نہیں ہواتھا جس سے ہمیں ان کے دلی حالات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے ،لیکن اگر اظہار رائے میں صرف غلطی پائی جائے اور اس میں یہ مذکورہ خامیاں نہ ہوں تو یہ چیز انہیں عذاب کا مستحق نہیںٹھہراتی _یہاںاس بات کی تشریح میں کچھ اور باتیںبھی ذکر ہوئی ہیں(۱) جن کے پختہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم نے ان کو ذکر نہیں کیا_
۵_روایات میں ملتا ہے کہ جنگ بدر کے ختم ہونے کے بعد مسلمان جلدی جلدی مال غنیمت لوٹنے میں لگ گئے _جس پر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:''تم سے پہلے جس امت نے بھی سرداروں کو قتل کیا ہے اس کے لئے مال غنیمت لینا حرام تھا _ماضی میں ہرنبی اور اس کے ساتھیوںکو جو بھی مال غنیمت ملتا وہ اس کو اکٹھا کرکے ایک جگہ رکھ دیتے جس کے بعد آسمان سے اس پر آگ نازل ہوتی تھی اور سارے مال غنیمت کو جلا کر راکھ کردیتی تھی''_ جس پر خدا نے یہ آیت نازل کی :
( لولا کتاب من الله سبق لمسکم فیما اخذتکم عذاب عظیم فکلوا مما غنمتم حلالاً طیبا ) (۲)
اگر خدا پہلے (عذاب نہ کرنے کا ) وعدہ نہ کر چکا ہوتا تو تمہیں بہت بڑا عذاب جکڑ لیتا _ لیکن اب تم مال غنیمت کھا سکتے ہو تمہارے لئے حلال اور پاکیزہ ہے ''اور طحاوی نے اسی آیت کے شان نزول میں مذکورہ روایت کو زیادہ مناسب جانا ہے_
رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتے ہیں ؟
رسول کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم سے منسوب گذشتہ باتوں نیز اس دعوے کے بطلان کے بعد کہ گذشتہ آیت آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو سرزنش
____________________
۱)ملاحظہ ہو: دلائل الصدق ج۳حصہ ۱ص ۵۵و۶۰_
۲)مشکل الآثار ج۴ص۲۹۲وص۲۹۳_
کرنے کے لئے اتری ہے ،یہ بھی معلوم ہو جاتاہے کی نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم پر اجتہاد اور اس میں غلطی کے جواز کا بعض لوگوں کا دعوی اور اس دعوے پر مذکورہ آیت سے استدلال بھی صحیح نہیں ہے _کیونکہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم اپنی مرضی سے کچھ نہیں بولتے اور وحی کے نازل ہونے پر ہی بولتے ہیں_اس لئے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم سے منسوب گذشتہ باتیں بے بنیاد اور باطل ہیں_اس کے علاوہ ایسے قطعی دلائل بھی پائے جاتے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا ہر قول و فعل حق ہوتا ہے اور حقیقت ،شریعت اور خدا کے قطعی احکام کے عین مطابق ہوتا ہے _
سعد بن معاذ یا عمربن خطاب ؟
طبری نے محمد بن اسحاق کے ذریعہ روایت کی ہے کہ جب آیت (ما کان لنبی ان یکون لہ اسری) اتری تو رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے فرمایا:''اگر آسمان سے کوئی عذاب نازل ہو جاتا تو (اصحاب سے)صرف سعد بن معاذ ہی بچ سکتا تھا کیونکہ اس نے کہا تھا کہ یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ان لوگوں کو زندہ رکھنے سے مجھے ان کی خونریزی زیادہ پسند ہے'' _(۱) شاید یہی روایت ہی صحیح ہے لیکن کئی ایسے وجوہات کی بنا پر اسے خلیفہ ثانی کے حق میں بدل دیا گیا ہے جو کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں اور اسے بھی ہم نے صحیح اس لئے کہا ہے کہ یہ بہترین اور پختہ مشورہ اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مرضی کے بھی مطابق تھا _لیکن عمر اور دوسروں کے مشوروںپر گہری دقت اور بحث کی ضرورت ہے جس کے متعلق ہم بعد میں گفتگو کریں گے _کیونکہ یہ مشورے اچھی نیت سے نہیں دیئےئے تھے اور ہو سکتا ہے سب یا کچھ مشورے خود مشرکوں کے ایماء پر دیئےئے ہوں_جس طرح و اقدی نے اس بات کا تذکرہ کیا بھی ہے _اور ابوبکر اور دوسرے انصاریوںکے بارے میں بھی گذر چکا ہے کہ وہ حصول مال اور قریش کی دشمنی کی شدت کم کرنے کی خواہش میں فدیہ لینے پر اصرار کررہے تھے _نیز ان کا مدعا یہ بھی تھا کہ ان میں ہمارے بھائی ،رشتہ داراور خاندان والے بھی ہیں _ نیز ابو بکر نے مشرک قیدیوں سے یہ وعدہ کر رکھاتھا کہ وہ ان کے لئے اپنی سی کوشش ضرور کرے گا_ یہ بات بھی واقدی نے ہی بتائی ہے_
____________________
۱) تاریخ طبری ج۲ ص ۱۷۱و الثقات ج۱ص ۱۶۹_
یہ سب لوگ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو ہر ممکن طریقے سے اپنی بات کا قائل کرنے لگے اور اس کے لئے وہ جذباتی ہتھکنڈے استعمال کرنے پر بھی تل گئے اور یہ کہنا شروع کردیا کہ ''یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ وہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے خاندان ،رشتہ دار قوم اور قبیلہ ہیں کیا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ان کی جڑیں کاٹنا چاہتے ہیں ؟''_اورابو بکر نے تو اس بات کے لئے مصلحت پسندانہ دلیل قائم کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمان فدیہ لیں گے تو مشرکوں کے مقابلے میںطاقتور ہو جائیں گے _لیکن نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم ان کی باتیں ماننے سے انکار کرتے رہے کیونکہ ان کی باتیں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو قانع نہ کر سکیں _اس لئے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سعد بن معاذ کی رائے کو مناسب جانتے تھے البتہ اس بات کے لئے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مد نظر اور بھی باتیں تھیں جو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے بالکل عیاں تھیں_اس لئے مذکورہ آیت آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے موقف کی تائید میں نازل ہوئی لیکن انہیں بھی اس بھیانک نتیجے کے ساتھ فدیہ لینے کی اجازت دی گئی کہ ان قیدیوں کے بدلے میںاتنی تعداد میں مسلمان قتل ہوں گے _
قیدیوں کا قتل ہی زیادہ مناسب تھا:
اس بات میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ مشرک قیدیوں کا قتل ہی زیادہ مناسب اور صحیح تھا _ اور اس دعوی کے ہمارے پاس مندرجہ ذیل دلائل ہیں:
۱_ قیدیوں میں قریش کے کئی بڑے بڑے سردار بھی تھے اور بعض ایسے بھی تھے جو بالکل ہی خبیث افراد تھے انہوں نے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کے شعلے بھڑکائے تھے ،انہیں دربدر اور جلا وطن کیا تھا ، ان کی ہر طرح سے توہین کی تھی اور انہیں مختلف قسم کی اذیتیں اور تکلیفیں دی تھیں_ یہ ایسے متکبر لوگ تھے جو نہ تو اپنی زیادتیوں سے باز آنے والے تھے اور نہ اس دین کو قبول کرنے والے تھے _بلکہ وہ تو اسلام کی جڑیںکاٹنے کے درپے تھے اور کسی منطقی اور معقول پیشکش کو قبول کرنے پر تیار نہیں تھے _اور شکست اور قید کی ذلت اٹھانے کے بعد تو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کے دلوں میں کینہ مزید بڑھ گیا تھا_اور مسلمان (اگر زندہ رہتے تو) صرف دو طریقوں سے ہی ان سے چھٹکارا پا سکتے تھے جس کی طرف آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اشارہ فرما
دیا تھا _جہاں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسلمانوں کو یہ بتا دیا تھا کا اگر وہ فدیہ لیں گے تو انہیں ان کی تعداد کے برابر قتل ہونا پڑے گا _
۲_ اور گذستہ بات سچی بھی ثابت ہو گئی کیونکہ بعد میں جنگ احد و غیرہ میں نیز مختلف مراحل میں مسلمانوں کو مسلسل اذیتوں میں مبتلا کرنے میں انہی افراد کا زیادہ ہاتھ اور موثر کردار تھا_ اسی لئے تو سعد بن معاذ کی یہ بات نہایت ہی مناسب اور بہترین تھی کہ ''مشرکوں سے ہماری یہ پہلی جنگ ہے اور ان آدمیوں کو زندہ رکھنے سے زیادہ مجھے ان کی خونریزی پسند ہے '' _اور بعض کا نظریہ تو یہ ہے کہ خدانے تا کید کے ساتھ مشرکوں کو قتل کرنے کا حکم اس لئے دیا ہے کہ مسلمانوں کو یہ باور ہوجائے کہ حالات جیسے بھی ہوں ،مال کی طرف دیکھنا اور اس کی خواہش کرنا نہایت ناپسندہ عمل ہے _مگر یہ کہ وہ بہت بڑے ہدف یعنی دین کی خدمت کے لئے ہو_
۳_ اگر وہ اسلام قبول نہ کرتے تو ان کے کر توتوں کی سزامیں ان کا قتل بھی قریش پر ایک کامیابی اور ایک کاری فوجی اور روحی وار ہوتا اور اس سے عمومی لحاظ سے مشرکوں کا دبدبہ اور شان و شوکت بھی کم ہو جاتی اور ان کے حمایت کرنے والے یہودیوںاور غطفان ،ہوازن اور ثقیف و غیرہ کے عرب مشرکوں کو ایک دھمکی اور الٹی میٹم ہوتا جس سے وہ انہیں چھوڑ کر بھاگ جاتے _اس صورت میں مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا کہ وہ لوگ یہ سمجھ لیتے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم
نے جب اپنے عقیدے اور دین کی خاطر اپنے قبیلے اور قوم کا لحاظ نہیں کیا اور رسالت کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنے اور نور الہی کو بجھانے کی کوشش کرنے پر ان سب کوتہہ تیغ کردیا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم
نور خدا کو بجھانے اور اپنے دین اور دین کی تبلیغ کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرنے والے دوسرے لوگوں کا بھی کوئی لحاظ نہیں کریں گے_ اور یہ بات پورے جزیرة العرب کے مشرکوں ،یہودیوں اور قریشیوں کے دلوں میں ناامیدی پیدا کرنے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم
کی دھاک بٹھانے میں نہایت مؤثر ہوتی اور پھر دوسروں کو یہ کہنے میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم
کے لئے نہایت آسانی ہوتی کہ ''تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ تم اسلام سے دشمنی اور مخاصمت ترک کردو کیونکہ اس دین کے مقابلے میں آنے کا نتیجے صرف تمہاری تباہی اور بربادی کی صورت میں ہی نکلے گا ''_
۴_ ان لوگوں کے قتل سے انصار کو یہ اطمینان ہو جاتا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے قبیلے والے جب تک اپنے شرک پر ڈٹے ہوئے ہیںآپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کبھی بھی ان سے صلح نہیں کریں گے اور ان کا ساتھ نہیںدیں گے _ظاہر ہے اس کے نتیجے میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم انصار کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے کیونکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے دینی تعلیمات کی بنا پر دینی رابطوں کوسب تعلقات سے زیادہ محکم سمجھتے ہیں ، عقیدے کی قرابت داری کو ہی اصل قرابت سمجھتے ہیں اور اسلامی اور دینی رشتہ داری کو ہی اصل رشتہ داری جاننے ہیں اس بنا پر انصار کے دلوں میں کبھی بھی کسی قسم کے خدشے اور وسوسے جنم نہ لیتے _ جبکہ انہوں نے اسی بات کا اظہار بیت عقبہ اور پھر فتح مکہ کے موقع پر بھی کیا تھا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم شاید اپنی قوم سے مصالحت کرلیں گے یا اپنے رشتہ داروں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں
قیدیوں کے بارے میں عمر کا موقف:
اس واقعہ میں ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ :
۱_عمربن خطاب نے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا سے یہ خواہش کی تھی کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم حکم فرمائیں کہ علی عليهالسلام اپنے بھائی عقیل کی گردن اڑادے اورحمزہ اپنے بھائی عباس کاسر قلم کرے اور وہ ان لوگوں کو کافروں کا سردار بتارہا تھا _اور یہ نہایت ہی عجیب و غریب خواہش ہے البتہ قریش کے فرعونوں،متکبروںاور بڑے بڑے سرداروں کے متعلق اس کی خاموشی اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب اور معنی خیز ہے ؟_خاص کر جب یہ مشاہدہ کیا جائے کہ اس نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے سناتھا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے لشکر کو (اور یہ بھی تو اسی فوج میں شامل تھا ) بنی ہاشم خاص کر مذکورہ دونوں شخصیات اور چند دوسرے افراد کو قتل نہ کرنے کا حکم دیا تھا ،کیونکہ انہیں اس جنگ میں زبر دستی گھسیٹا گیا تھا_ اس کے علاوہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ انہوں نے مکہ میںآنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا بھر پور دفاع کیا تھا ،شعب ابی طالب میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ داخل ہوئے تھے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خاطر بہت تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کی تھیں _
۲_ جناب عمر کے قبیلے یعنی قبیلہ بنی عدی نے اس جنگ میں حصہ نہیں لیاتھا(۱)
____________________
۱)ملاحظہ ہو : تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۴۳، سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۷۱،المغازی واقدی ج ۱ ص ۴۵ ، الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۱۲۱ تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۳۱۴ و تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۷۵ اور تاریخ کی کوئی بھی کتاب جہاں جنگ بدر کے چھڑنے سے پہلے کچھ لوگوں کے پلٹنے کا ذکر ہوتا ہے_
پس اسے اس کی کیا پروا تھی؟ چاہے جس کے جگر پر بھی ضربت لگے _جب تک اس آدمی کے قوم ،قبیلہ اور رشتہ داروں کو کوئی گزند نہیں پہنچتی تب تک چاہے ساری دنیاہی قتل ہو جائے اس کے لئے کوئی اہمیت کی بات ہی نہیں ہے _یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر کی ''فلاںکو میرے حوالے کردیں'' والی بات کو ذکر کرتے وقت بعض لوگوں کا ''وہ عمر کے قریب تھا ''کے الفاظ کا اضافہ مضحکہ خیز اور نادرست ہے حالانکہ عمر کی بات تبانے والی صرف بعض روایتوں میں یہ الفاظ ذکر ہوئے ہیں _اس لئے کہ جنگ بدر میں عمر کا کوئی رشتہ دار تھاہی نہیں البتہ شاید اس کا کوئی سسرالی رشتہ دار موجود ہو لیکن اگر کوئی تھا بھی تو ان کے نزدیک یہ سسر الی رشتہ داری کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی _ بہر حال ان پہلوؤں پرہم سے پہلے جناب عباس بن عبد المطلب نے عمر پر ایسا برا گمان کیا ہے _
اور وہ یوں کہ فتح مکہ کے موقع پر جب جناب عمر ابوسفیان کے خلاف بڑھ چڑھ کر باتیں کررہا تھا اور اس کے قتل پر بار بار اصرار کررہا تھا تو عباس نے اس سے کہا : '' نہیں عمر ٹھہرو اگر وہ بنی عدی بن کعب کا آدمی ہوتا تو تم ایسا کبھی نہ کہتے _ لیکن تمہیں پتاہے کہ یہ بنی عبد مناف کا آدمی ہے''(۱)
۳_ اپنے قریبوں اور رشتہ داروں کا اپنے ہاتھوں سے قتل ایک ایسا قبیح فعل ہے جس سے ذہن متنفر ہوتاہے اور بسا اوقات لوگوں کی اسلام سے دوری کا باعث بھی بن سکتاہے بلکہ انہیں اس دین میں داخل ہونے کے متعلق سوچنے سے بھی منع کردیتاہے جس میں انہیں اپنے بھائیوں کو قتل کرنا پڑے _ بلکہ ضعیف الاعتقاد مسلمانوں کو مرتد ہونے پر بھی تیار کرسکتاہے، جب وہ یہ دیکھیں گے کہ دوسروں کے ہوتے ہوئے بھی انہیں ہی اپنے دوستوں ، بھائیوں ، پیاروں اور رشتہ داروں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے _
نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم بھا گ جانے والے قیدی کو قتل نہیں کرتے
واقدی کہتاہے کہ جب رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا جنگ بدر سے واپس ہوئے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس مشرکین کے قیدی بھی
____________________
۱)مجمع الزوائد ج۶ ص ۶۷از طبرانی اور اس کی سند کے سب راوی صحیح بخاری کے افراد ہیں و حیاة الصحابہ ج۱ ص ۱۵۴ _
تھے تو ان میں سہیل بن عمرو بھی آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اونٹنی کے ساتھ بندھا ہوا تھا_ مدینہ سے کچھ میل پہلے اس نے اپنے آپ کو کسی طرح کھینچا تو وہ آزاد ہوکر بھاگ نکلا_ جس پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: '' سہیل بن عمرو کو ڈھونڈ کر اسے قتل کردو'' لوگ اس کی تلاش میں بکھر گئے لیکن آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہی اسے ڈھونڈکر دو بارہ باندھ دیا لیکن اسے قتل نہیں کیا _
سید شریف رضی نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ کوئی حکم، حکم دینے والے کو شامل نہیں ہوتا _ کیونکہ رتبہ کے لحاظ سے حکم دینے والا، حکم بجالانے والے سے اونچا ہوتاہے اس لئے وہ اپنے سے تو بلند مرتبہ نہیں ہوسکتا(۱) _
لیکن ہم کہتے ہیں کہ انشاء(۲) کی حد تک تو سید رضی کی مذکورہ بات صحیح ہے لیکن یہاں ایک سوال باقی رہتا ہے کہ اگر قتل کا محرک اور وجوہات باقی تھیں تو پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے قتل کیوں نہیں کیا؟ چاہے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے کسی صحابی کو ہی اس کے قتل کا حکم دے دیتے اور خود قتل نہ کرتے_ کیونکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے دست مبارک سے کسی کو قتل نہیں کیا کرتے تھے_ اس کی طرف اسی کتاب کی اگلی جلد میں اشارہ ہوگا_ پس یہاں یہ کہنا پڑے کہ چونکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے خود ہی اسے ڈھونڈ نکالا تھا اس لئے اس آدمی کو قتل کرنا مناسب نہیں سمجھا_
قید میں عباس کے نالے
بہرحال ، ان قیدیوں میں عباس اور عقیل بھی شامل تھے_ ایک رات آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے جاگ کر گذاری_ ایک صحابی نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے پوچھا: '' یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ساری رات کیوں جاگتے رہے ؟'' آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: '' عباس کی آہ و فریاد نے مجھے سونے نہیں دیا'' _ یہ بات سن کر ایک صحابی نے اٹھ کر اس کی رسیاں ڈھیلی کردیں جس کی وجہ سے اس کی کراہیں بھی رک گئیں ، لیکن آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم صحابی کے اس عمل کو نہ دیکھ سکے ، جس کی وجہ سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم
____________________
۱)ملاحظہ: ہو حقائق التاویل ج۵ ص۱۱_
۲) انشاء خبر کے مقابلے میں ہے جہاں سچ یا جھوٹ کا شائبہ نہ ہو _ زیادہ تر جاری کرنے کا معنی دیتاہے مثلا ً حکم جاری کرنا _ تفصیل دیگر کتابوں میں_
نے پوچھا : '' اب عباس کی آواز کیوں نہیں آرہی ؟ '' تو اس صحابی نے کہا : '' میں نے اس کی رسیاں ڈھیلی کردی ہیں '' _ اس پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : '' پھر سب قیدیوں کی رسیاں کچھ ڈھیلی کردو''(۱)
اور یہ روایت ایک معقول روایت ہے جس میں نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کی عدالت، احکام الہی کی بجا آوری میں دقت نظر اور دین میں صلابت کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے اور یہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شان کے مناسب بھی ہے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اس مشہور بات کے مناسب بھی ہے کہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو راہ خدا سے نہیں ہٹاسکتی تھی _ نہ وہ روایتیں جن میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنے قریبوں کا دم بھرتے ہوئے دکھا یا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہی عباس کی رسیاں ڈھیلی کرنے کا حکم دیا تھا_ کیونکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کبھی ایسے نہیں تھے کہ اپنے قریبوں اور رشتہ داروں پر تو رعایت کریں لیکن دشمنوں پر سختی کریں_ اور ایسی روایتیں مکمل اور صحیح طور پر بیان نہیں ہوئیں_ مگر یہ کہا جائے کہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم جانتے تھے کہ اسے زبردستی لایا گیا ہے اس لئے اس کا گناہ دوسروں کے گناہ سے قدر ے چھوٹا اور ہلکا ہے اور اس کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی بھی یہی وجہ تھی _ لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر چہ حقیقت یہی ہے کہ وہ بامر مجبوری اس جنگ میں شریک ہوا تھا_ لیکن نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی عدالت کا یہ تقاضا تھا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اس کے ساتھ بھی دوسرے قیدیوں جیسا سلوک کرتے تا کہ کسی تنقید اور اعتراض کی کوئی گنجائشے ہی نہ رہے _ اسی لئے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جب عباس نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے یہ کہا کہ اسے زبردستی یہاں لایا گیا ہے تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے فرمایا : '' لیکن بظاہر تو تم ہمارے خلاف ہی تھے'' _ البتہ اس کی تفصیل آئی چاہتی ہے_
بظاہر عباس کی کراہوں سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی بے آرامی اس وجہ سے تھی کہ اس کی جگہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی جگہ کے نزدیک تھی ، یہ بات نہیں تھی کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے خاص طور پر دوسرے قیدیوں کے علاوہ صرف عباس پر رحم کھایا تھا_
____________________
۱)تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۹۰ و صفة الصفوة ج۱ ص ۵۱۰ البتہ عبدالرزاق ، المصنف ج ۵ ص ۳۵۳میں لکھتاہے کہ ایک انصاری نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا:''کیا میں اس کی رسی جاکر کچھ ڈھیلی نہ کردوں؟'' آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : '' اگر اپنی طرف سے یہ کام کرنا چاہتے ہو تو بے شک کرو'' _ تب اس انصاری نے جاکر اس کی رسی ڈھیلی کی جس کے بعد آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اطمینان سے سوئے _ نیز ملاحظہ ہو: دلائل النبوة بیہقی ج۲ ص ۴۱۰_
عباس کا فدیہ اور اس کا قبول اسلام
مسلمانوں نے عباس سے بیس سے چالیس اوقیہ سونا( ہر اوقیہ چالیس مثقال کا ہوتاہے یعنی آٹھ سو سے سولہ سو مثقال سونا) مال غنیمت لوٹا_ اس نے اسی لوٹے ہوئے سونے کو فدیہ کے طور پر شمار کرنے کا مطالبہ کیا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : '' تم جو چیز ہمارے خلاف استعمال کرنے لائے تھے ہم اسے تمہیں واپس نہیں کرسکتے''_مؤرخین کہتے ہیں کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ بات اس لئے کی کہ وہ مشرکوں کے کھانے پینے کا خرچہ برداشت کرنے کے لئے اپنے ساتھ یہ سونا لایا تھا(۱) بہر حال آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے اپنا اور اپنے دو بھتیجوں عقیل اور نوفل کا فدیہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا _ لیکن اس نے اپنے پاس کسی مال کی موجودگی کا انکار کیا _ جس پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے کہا : '' جو مال تم نے ام الفضل کے حوالے کرکے اس سے کہا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو اس مال کو اپنے اور بچوں پر خرچ کرنا ، وہ تو ہے اب اس مال سے اپنا فدیہ دو'' _ تب اس نے پوچھا کہ کس نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ بات بتائی ہے اور جب اسے پتا چلا کہ جبرائیل عليهالسلام نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو بتایا ہے تو اس نے کہا: '' قسم سے اس بات کا علم تو صرف یا مجھے تھا یا پھر اس کو ، میں گواہی دیتاہوں کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں ''_
پس عباس - ، عقیل اور نوفل کرم اللہ و جوھہم کے سوا باقی سب قیدی حالت شرک میں واپس پلٹے ، اور انہی تینوں کے بارے میں مندرجہ ذیل آیت اتری:
( قل لمن فی ایدیکم من الاسری ان یعلم الله فی قلوبکم خیراً یؤتکم خیرا مما اخذ منکم و یغفر لکم و الله غفور رحیم ) (۲)
اور اے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے پاس موجود قیدیوں سے کہہ دو کہ اگر خدا جان لے کہ تمہارے دل میں اچھائی ( یعنی اسلام کی حقیقت) سماگئی ہے تو تم سے لوٹی جانے والی چیزوں سے بہتر چیزتمہیں عطا کرے گا _ اور تمہیں معاف بھی کردے گا کہ خدا معاف کرنے والا اور مہربان ہے _
____________________
۱)اسباب النزول واحدی ص ۱۳۸ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۹۸_
۲)انفال / ۷۰ ، اس کی معتبر روایت تفسیر البرہان ج۲ ص ۹۴ میں ہے نیز ملاحظہ ہو تفسیر الکشاف ج۲ ص ۲۳۸ و دیگر کتب_
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے عباس سے فرمایا: '' عباس تم نے چونکہ خدا سے جنگ کی ہے اس لئے خدا نے بھی تم سے جنگ کی ہے''(۱) ایک اور روایت میں ہے کہ جب اس سے فدیہ طلب کیا جانے لگا تو اس نے کہا کہ میں پہلے سے اسلام لاچکا تھا لیکن ان لوگوں نے مجھے زبردستی جنگ میں دھکیلاہے _جس پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے فرمایا: '' خدا تمہارے اسلام سے بخوبی واقف ہے اگر تمہاری بات سچی ہے تو خدا تمہیں اس کا اجر دے گا ، لیکن بظاہر تو تم ہمارے خلاف ہی تھے''(۲) _ اور یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بعض کا یہ دعوی صحیح نہیں ہے کہ عباس جنگ بدر سے پہلے خفیہ طور پر اسلام لے آئے تھے(۳) مگر یہ کہ اس بارے میں خود عباس کے دعوی کو دلیل بنایا جائے جبکہ عباس کے اس دعوی کو خو رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے بھی قبول نہیں کیا _ جنگ بدر کے موقع پر عباس کے مسلمان نہ ہونے پر گذشتہ باتوں کے علاوہ یہ دلائل بھی ہیں کہ جنگ بدر کے موقع پر جب عباس گرفتار ہوا تو مسلمان اسے کافر ہونے اور قطع رحمی کرنے کی بناپر لعنت ملامت کرنے لگے _ اور حضرت علی عليهالسلام نے بھی اسے بہت سخت باتیں کہیں_ جس پر عباس نے کہا : '' تم ہماری برائیاں تو گنوارہے ہو ، ہماری اچھائیاں کیوں نہیں بتاتے؟'' _ حضرت علی عليهالسلام نے اسے کہا : '' کیا تمہاری اچھائیاں بھی ہیں ؟ ''_ اس نے کہا: '' ہاں ہم تو مسجد الحرام (خانہ کعبہ) کو آباد کرتے ہیں ، کعبہ کو زندہ کرتے ہیں ، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور قیدی آزاد کرتے ہیں '' جس پر یہ آیت نازل ہوئی:
( ما کان للمشرکین ان یعمروا مساجد الله شاهدین علی انفسهم بالکفر ) (۴)
مشرکوں کو ان کے کفر کی حالت میں خدا کی مسجدوں کو آباد کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا
____________________
۱)بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۵۸ و تفسیر قمی ج ۱ ص ۲۶۸ _
۲)گذشتہ دونوں منابع و تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۹۰ و سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۹۸
۳) ملاحظہ ہو البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۳۰۸ سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۸۸ و ۱۹۸ و طبقات ابن سعد ج۴ حصہ ۱ ص ۲۰_
۴)توبہ /۱۷ و حدیث: اسباب النزول واحدی ص ۱۳۹ درمنثور ج۳ ص ۲۱۹ از ابن جریر وابوشیخ از ضحاک لیکن یہ بات اگلی آیت سقایت الحاج والی آیت میں مذکور ہے_
ایک اور روایت میں ہے کہ اس نے کہا : '' اگر تم اسلام ، جہاد اور ہجرت میں ہم سے سبقت لے گئے ہو تو ہم بھی تو مسجد الحرام کو آباد کرتے آئے ہیں اور حاجیوں کو پانی پلاتے آئے ہیں '' اس پر یہ آیت نازل ہوئی :
( اجعلتم سقایة الحاج و عمارة المسجد الحرام کمن آمن بالله ) (۱)
کیا تم حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد الحرام کو آباد کرنے کا رتبہ خدا پر ایمان لانے والے شخص کے رتبہ کے برابر قرار دیتے ہو؟
لیکن مذکورہ دونوں آیتیں سورہ توبہ میں ہیں جو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات طیبہ کے تقریبا آخر میں یعنی جنگ بدر کے کئی سال بعد نازل ہوا _ اس لئے شاید روایت میں مذکور باتیں جنگ بدر کے موقع پر نہ کہی گئی ہوں بلکہ فتح مکہ کے موقع پر کہی گئی ہوں لیکن بدر سے ان کی تصریح راویوں کی غلطی اور ان کے اشتباہ کی وجہ سے ہو _ لیکن پھر بھی اس پر یہ اعتراض ہوتاہے کہ فتح مکہ کے موقع پر تو عباس اسیر ہی نہیں ہوا تھا پھر حضرت علی عليهالسلام نے اس سے سخت باتیں کیوں کیں ؟ البتہ اس کا جواب یوں دیا جاسکتاہے کہ یہ واقعہ ہوسکتاہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی عام معافی کے اعلان اور کسی کو کچھ کہنے سے منع کرنے سے پہلے پیش آیا ہو(لیکن اس صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ عباس جنگ بدر کے موقع پر نہیں بلکہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لایا تھا _ مترجم)
ایک اور دستاویز میں آیا ہے کہ انصاری، عباس کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے ان کے ہاتھ سے لے لیا او رجب وہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آگیا تو عمر نے اس سے کہا : '' مجھے (اپنے باپ ) خطاب کے اسلام لانے سے تیرا اسلام لانا زیادہ پسند ہے کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو تیرا اسلام لانا زیادہ پسند ہے ''(۲) بلکہ روایتوں میں آیا ہے کہ عباس کا اسلام فتح مکہ کے دن ہی سب پر ظاہر ہوا(۳)
____________________
۱)توبہ / ۱۹ و حدیث: اسباب النزول واحدی ص ۱۳۹ ، درمنثورج۳ ص ۲۱۸ از ابن جریر ، ابن منذر ، ابن ابی حاتم ، ابن مردویہ ، عبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ و ابوشیخ_
۲)البدایہ والنہایة ج۳ ص ۲۹۸ از حاکم و ابن مردویہ، حیاة الصحابہ ج۲ ص ۲۴۴ و ۲۴۵ از کنز العمال ج۷ ص ۶۹ از ابن عساکر_
۳)سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۹۹_
اور یہ بات حقیقت کے زیادہ قریب لگتی ہے _ کیونکہ اگر وہ جنگ بدر کے موقع پر اسلام لایا بھی تھا (جس طرح گذشتہ روایتیں خاص کر تفسیر البرہان کی معتبر روایت اس بات پر دلالت بھی کرتی ہیں) تو وہ خفیہ طور پر اسلام لایا ہوگا لیکن وہ اپنے مفادات،ا موال اور تعلقات کی حفاظت کے لئے مشرکین کے سامنے شرک اور ان کی مرضی کی باتوں کا اظہار کیا کرتا ہو گا _ کیونکہ قریش یہ برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایسی سخت جنگ میں بھی مصروف ہوں جس میں ان کے بھائی اور بیٹے قتل ہوتے رہیں، ان کا تجارتی راستہ بند ہوجائے اور انہیں عربوں میں ذلیل ہونا پڑے لیکن ان کے درمیان کئی سال تک ایک مسلمان آرام اور اطمینان سے رہے، خاص کر وہ مسلمان آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا چچا اور قریبی رشتہ دار بھی ہو_ اور ابوسفیان سے اس کی دوستی بھی اس کے مکہ میں رہنے کی ضمانت نہیں بن سکتی تھی ، کیونکہ قریشیوں نے تو اپنے پیارے رشتہ داروں کو بھی عبرتناک سزائیں دی تھیں پھر وہ اپنے دوستوں کو کیسے برداشت کرسکتے تھے اور صلح حدیبیہ میں رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم پر قریش کی شرطیں ، مذکورہ بات پر ان کی حساسیت، سختی اور شدت نیز کسی بھی صورت میں کسی کو کوئی چھوٹ نہ دینے کی بہترین دلیل ہیں _ہاں یہ بھی کہا جاتاہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے ان کے درمیان رہنے کا حکم دیا تھا تا کہ وہ ان کی خبریں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم تک پہنچا تارہے اورآپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے ان کی جاسوسی کرتاہے_ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو خط میں ان کی خبریں پہنچاتا رہتاتھے اور ایک گمان کے مطابق اس نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو جنگ احد کے بارے میں بھی بتادیا تھا_ لیکن یہ سب باتیں اس کے اسلام کی دلیل نہیں بن سکتیں_ یہ باتیں صرف آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو خبردار کرنے پر دلالت کرتی ہیں چاہے یہ کام رشتہ داری اور اس غیرت کی بناپر ہو کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کو بھی یہ سب جاننا چاہئے اور ان کی برابری کرنی چاہئے_
نکتہ :
جب عباس کے متعلق گفتگو کرہی رہے ہیں تو چند اور باتوں کی طرف اشارہ کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے _ کہا جاتاہے کہ جناب عباس مال دنیا کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے اور انہیں مال کے حصول کی
بڑی شدید خواہش ہوتی تھی_ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جنگ بدر میں اپنے اور عقیل کا فدیہ دینے کی وجہ سے بعد میں وہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے مال کا مطالبہ کرتا رہتا تھا_ روایتوں میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس بحرین سے کچھ مال آیا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اسے تقسیم کرنے لگے تو عباس نے آکر کہا : '' یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ میں نے جنگ بدر میں اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا تھا اور عقیل نادار آدمی تھا اس لئے یہ مال مجھے دیں ''_ اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی اسے وہ مال دے دیا(۱) _اور بعض روایات میں یہ بات بھی ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ہمیشہ اس کی آنکھیں پڑھ لیا کرتے تھے ( اور مانگنے سے بھی پہلے دے دیا کرتے تھے) اس لئے اس کی یہ لالچ ہم سے پوشیدہ رہتی اور اس پر نہایت تعجب ہوتا تھا(۲) _ لوگوں میں تقسیم کے بعد بچے کھچے مال کے حصول کا اس کا طریقہ بھی قابل ملاحظہ ہے _ ابن سعد کہتاہے کہ عہد عمر میں لوگوں میں مال تقسیم کرنے کے بعد بیت المال میں کچھ مال بچ گیا تو عباس نے عمر اور لوگوں سے کہا: '' مجھے بتاؤ اگر تم میں حضرت موسی عليهالسلام کے چچا موجود ہوتے تو کیا تم اس کی عزت افزائی کرتے ؟'' سب نے کہا : '' جی ہاں'' تب اس نے کہا : '' پھر تو میں اس کا زیادہ حق دار ہوں _ میں تو تمہارے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کا چچاہوں '' یہ بات سن کر عمر نے لوگوں سے بات چیت کی اور ان لوگوں نے وہ سارا بچا کھچا مال اسے عطا کردیا(۳) _ بہر حال اس نے اپنی آرزوئیں پالیں_ حتی کہ منقول ہے کہ جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے مال عطا کیا تو اس نے کہا : '' خدا نے جن دو چیزوں کا مجھ سے وعدہ کیا تھا ان میں سے ایک کو تو پورا کردیا ہے دوسرے کا نہیں پتا _ خدا نے اپنے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم سے فرمایا تھا کہ اپنے قیدیوں سے کہہ دو کہ اگر تمہارے دلوں میں اچھائی سمانے کا خدا کو پتا چل گیا تو تم سے لی جانے والی چیز سے بہتر چیز تمہیں عطا کرے گااور تمہیں معاف بھی کردے گا_ یہ مال اس مال سے کہیں بہتر اور زیادہ ہے جو مجھ سے لیا گیا تھا، لیکن یہ نہیں پتا کہ مغفرت کاکیا بنے گا ؟ ''(۴)
____________________
۱)صحیح بخاری ج۱ ص ۵۵ و ص ۵۶ و ج۲ ص ۱۳۰ ، مستدرک حاکم ج۳ ص ۳۲۹ و ص ۳۳۰ ، تلخیص مستدرک ذہبی اسی صفحہ کے حاشیہ پر اور اس نے اسے صحیح جاناہے ، طبقات ابن سعد ج۴ حصہ ۱ ص ۹ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۰۰ ، حیاة الصحابہ ج۲ ص ۲۲۵و التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۸۸ و ۸۹_
۲)صحیح بخاری ج۱ ص ۵۵ و ۵۶ و ج۲ ص ۱۳۰ والتراتیب الاداریہ ج۲ ص ۸۹ _ (۳)طبقات ابن سعد ج۴ حصہ اول ص ۲۰ ، حیاة الصحابہ ج۲ ص ۲۳۴و تہذیب تاریخ دمشق ج ۷ ص ۲۵۱_ (۳)مستدرک حاکم ج۳ ص ۳۲۹، تلخیص مستدرک ذہبی ( اس کے مطابق حدیث صحیح ہے) ، طبقات ابن سعد ج۴ حصہ ۱ ص ۹ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۲۰ و حیاة الصحابہ ج۲ ص ۲۲۵_
نبی کریم کو قتل کرنے کی سازش
اس جنگ میں عمیر بن وہب کا ایک بیٹا بھی گرفتار ہوا_ جس کا بدلہ لینے کے لئے عمیر نے صفوان کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر یہ سازش کی کہ عمیر مدینہ جاکر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اغوا کر کے لے آئے گا جس کے بدلے میں صفوان عمیر کے قرض چکائے گا_ اس سازش کو انہوں نے سب سے خفیہ رکھا اور عمیر نے اپنی تلوار کی دھار تیز کی اور اسے زہر آلود کیا اور مدینہ پہنچ گیا_ غرض آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی لیکن عمر کو اس سے خطرہ محسوس ہوا تو اس نے نیام سمیت اس سے اس کی تلوار لے لی، پھر اسے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے پاس لے گیا_ جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے دیکھا تو عمر سے کہا کہ اسے چھوڑ دو _ عمر نے اسے چھوڑ دیا تو وہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے قریب آیا_ پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے آنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا:'' میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس اس قیدی یعنی وہب کی سفارش کرنے آیا ہوں: اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں'' _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے پوچھا: '' پھر تلوار کیوں ساتھ لائے ہو؟''_ تو اس نے کہا :'' ان تلواروں کا ستیاناس ہو، کیا انہوں نے کبھی فائدہ پہنچا یا ہے؟''_
تب آنحضرت عليهالسلام نے بستی میں ہونے والا اس کا اور صفوان کا ماجرا اسے بتایا تو عمیر یہ سن کر مسلمان ہوگیا_ جس پر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسلمانوں سے فرمایا:'' اپنے اس بھائی کو دین کی باتیں سکھاؤ، قرآن پڑھاؤ اور اس کے قیدی کو بھی آزاد کردو'' _ اور مسلمانوں نے بھی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے احکام کی تعمیل میں ایسا ہی کیا _
پھر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اجازت سے عمیر مکہ جاکر تبلیغ کرنے لگا جس سے مشرکین کو تکلیف پہنچتی تھی بلکہ صفوان نے تو یہ قسم اٹھالی کہ وہ اس سے نہ کبھی گفتگو کرے گا اور نہ اس کے کسی کام آئے گا(۱)
زینب کے ہار اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کا موقف
اس موقع پر کہا جاتاہے کہ آنحضرت کی لے پالک بیٹی جناب زینب نے اپنے شوہر ابوالعاص بن ربیع کی رہائی کے لئے فدیہ کے طور پر کچھ چیزیں بھیجیں جن میں وہ ہار بھی شامل تھے جنہیں جناب خدیجہ عليهالسلام نے
____________________
۱)سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۳۱۷ و ۳۱۸_
زینب کو جہیز میں دیا تھا _ یہ ہار دیکھ کر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو جناب خدیجہ عليهالسلام کی بہت یاد آئی اور زینب کے ساتھ بہت زیادہ ہمدردی کا احساس ہوا اور اس پر رحم آگیا _ جس کی وجہ سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسلمانوں سے اس قیدی کو چھوڑنے کی خواہش کی اور انہوں نے بھی اسے چھوڑدیا _ لیکن آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے اس شرط پر آزاد کرکے جانے دیا کہ وہ جاتے ہی زینب کو ادھر بھیج دے گا _ اس نے بھی وعدہ وفائی کرتے ہوئے زینب کو مدینہ بھجوادیا تھا(۱) زینب کی ہجرت کا ماجرا بھی انشاء اللہ آئندہ آئے گا_
چند جواب طلب سوال
یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم واقعاً اتنے جذباتی تھے کہ ان کی ہمدردی اور رقت نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو ایک ایسے قیدی کی رہائی پر مجبور کردیا جس پر مسلمان بھاؤ تاؤ کرکے اس کے بدلے میں ایسی چیز یا اتنا مال حاصل کرسکتے تھے جو دشمن کے مقابلے میں انہیں طاقتور بناسکتی تھی؟ کیا صرف زینب کی پرورش ہی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس کے ساتھ امتیازی سلوک اختیار کرنے کے لئے کافی تھی؟ یا اور وجوہات بھی تھیں ؟ کیا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے رشتہ داروں کا دوسروں سے زیادہ اور خاص خیال رکھنا چاہتے تھے؟ اور کیا یہ بات آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رسالت ، صفات اور اخلاق کے مناسب بھی ہے ؟
ان سوالات کا جواب یہ ہے کہ اصل بات یہ نہیں تھی بلکہ اس موقف میں چند ایسی مصلحتیں پوشیدہ تھیں جو اسلام اور مسلمانوں کی نفع میں ہی تھیں وگرنہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا موقف کسی کے ساتھ بھی کبھی امتیازی نہیں رہا _ اور اس جیسے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا سلوک بھی ہمارے سامنے ہے_ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا اپنے چچا ابولہب ملعون اور عقیل کے ساتھ رویہ بھی ہمارے ذہن میں محفوظ ہے _ جبکہ ہم یہاں یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا مذکورہ عمل اس بات کی تاکیدی وضاحت کے لئے تھا کہ اسلام دوسروں کے (اسلام کی خاطر انجام دیئے
____________________
۱)سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۳۰۸ ، تاریخ الامم والملوک مطبوعہ الاستقامة ج۲ ص ۱۶۴ الکامل فی التاریخ ج۲ ص ۱۳۴ ، بحار الانوار ج ۱۹ ، ص ۲۴۱ ، دلائل النبوہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۳ ص ۱۵۴ و تاریخ الاسلام ذہبی ( حصہ مغازی) ص ۴۶ _
جانے والے) افعال اور خدمات کا احترام اور ان کی قدر کرتاہے اور جناب خدیجہ عليهالسلام بھی ان شخصیات میں سے ہیں جن کی خدمات قابل قدر ہیں _ اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم جناب خدیجہ عليهالسلام کی پیاری شخصیتوں کے ساتھ محبت آمیز اور بہترین سلوک کرکے ان قابل قدر خدمات کا صلہ دیتے تھے ، آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم جناب خدیجہ عليهالسلام کی سہیلیوں کا بہت زیادہ احترام کیا کرتے تھے اور وقتاً فوقتاً ان کو تحفے تحائف دیا کرتے تھے _ حتی کہ اس وجہ سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو بی بی عائشہ سے ناپسندیدہ الفاظ بھی سننے پڑے تھے(۱) اور اگر یہ خدمات جناب خدیجہ عليهالسلام کے علاوہ کسی اور شخصیت سے بھی انجام پاتیں تب بھی آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہی موقف ہوتا _ یعنی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم دین کی راہ میں انجام دی جانے والی خدمات کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے چاہے یہ خدمات جس کسی سے اور جس سطح پر انجام پائی ہوں_ اس پر مزید یہ کہ اس موقع سے اگر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ، مشرکین کے ظلم و ستم اور ان کے چنگل سے کسی کو (اور وہ بھی زینب جیسی شخصیت کو ) نجات دلاسکتے تھے تو پھر اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھاتے؟ اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابوالعاص کو فدیہ لئے بغیر بھی تو نہیں چھوڑا تھا کیونکہ زینب نے اس کا فدیہ بھجوا دیا تھا، پھر اب اس کو قید رکھنے کا کیا جواز رہ جاتا تھا؟
جناب زینب کا واقعہ اور ابن ابی الحدید
اس مقام پر ابن ابی الحدید آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رقت اور ہمدردی کے متعلق لکھتے ہیں کہ '' میں نے نقیب(۲) ابوجعفر یحیی بن ابوزید بصری ( اس کی شخصیت کی تعریف اور تعارف ابن ابی الحدید نے کئی دیگر مقامات پر کیا ہے)_(۳) کو یہ روایت پڑھ کر سنائی تو انہوں نے کہا :
____________________
۱)اس کے منابع و مآخذ '' بیعت عقبہ'' والی فصل میں '' بی بی عائشہ کی غیرت اور حسد'' کے متعلق گفتگو کے دوران ذکرہوچکے ہیں_
۲)کسی دور میں عالم عارف اور زاہد کامل کو نقیب کا لقب دیا جاتا تھا جس کا مطلب خدا کا یا دین اسلام کا نمائندہ اور تقوی کا عملی نمونہ ہوتا تھا_
۳) ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ ج ۱۲ میں ان الفاظ سے اس کا تعارف کرایا ہے کہ '' وہ نہ تو امامی مذہب ہے ، نہ کسی بزرگ صحابی سے بیزار اور نہ ہی کسی افراطی شیعہ کی بات سننے والا '' اور اسی کتاب کی ج ۹ ص ۲۴۸ میں اس کی تعریف یوں کی ہے کہ '' وہ منصف مزاج اور نہایت عقل مند ہے '' نیز بحار الانوار ج ۱۹ کے حاشیہ میں ابن ابی الحدید سے منقول ہے کہ اس نے اس کی تعریف دیانت داری ، امانت داری، خواہشات اور تعصبات سے دوری ، مناظروں میں انصاف پسندی، کثرت علم ، تیز فہمی اور عقل مندی جیسی صفات سے کی ہے _
'' کیا تمہارے خیال میں اس واقعہ میں ابوبکر اور عمر موجود نہیں تھے؟ کیا کرم اور احسان کا یہ تقاضا نہیں تھا کہ وہ فدک کو مسلمانوں کی طرف سے حضرت فاطمہ (علیہا السلام) کو دے کر ان کا دل خوش کرتے ؟ کیا کائنات کی عورتوں کی سردار اس بی بی کی شان اپنی بہن جناب زینب سے بھی کم تھی؟ یہ تو اس صورت میں ان کا حق بنتا تھا جب وراثت یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے عطیہ والا ان کا حق ثابت نہ ہوتا ( حالانکہ دونوں صورتوں میں ان کا ثابت ہوتاہے، لیکن برا ہوکر سی کا جو اپنے مد مقابل کو دبانے کے لئے ہر قسم کے انسانی اور غیر انسانی بلکہ شیطانی ہتھکنڈے استعمال کرنے پر مجبور کردیتی ہے )''(۱)
فدیہ اسیر، تعلیم تحریر
مقریزی کہتاہے:'' قیدیوں میں کئی ایسے بھی تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے جبکہ انصار میں کوئی بھی اچھی لکھائی والا نہیں تھا_ اوروہ قیدی نادار بھی تھے_ پس ان کے ساتھ یہ طے پایا کہ ہر قیدی دس لڑکوں کو لکھنا سکھائے گا تو اسے آزاد کردیا جائے گا _ انصار کے لڑکوں کے ساتھ زید بن ثابت نے بھی اسی عرصے میں لکھنا سیکھا تھا_ امام احمد نے عکرمہ کے ذریعہ ابن عباس کی روایت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بدر کے قیدیوں میں کچھ افراد ایسے بھی تھے جن کے پاس فدیہ دینے کو کچھ نہیں تھا_ تورسول خدا نے ان کا فدیہ یہ قرار دیا کہ وہ انصار کے لڑکوں کو لکھنا سکھائیں '' اس کے بعدمقریزی ایک ایسے شخص کا واقعہ نقل کرتا ہے جسے اس کے استاد نے مارا تھا_ پھر اس کے بعد کہتاہے : '' عامر الشعبی نے کہا ہے کہ جنگ بدر کے ہر قیدی کا فدیہ چالیس اوقیہ سونا تھا_ لیکن جس کے پاس یہ سب نہیں تھا تو اس پر دس مسلمانوں کو لکھائی سکھانا ضروری تھا_ اور زید بن ثابت بھی انہی افراد میں سے تھا جنہوں نے لکھناسیکھا تھا''(۲)
____________________
۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ۱ ص ۱۹۱_
۲) ملاحظہ ہو: التراتیب الاداریہ ج۱ ص ۴۸ و ۴۹ از المطالع النصریہ فی الاصول الخطیہ ابوالوفاء نصر الدین الہورینی واز سہیلی ، مسند احمد ج۱ ص ۲۴۷ ، الامتاع ص ۱۰۱ ، الروض الانف ج ۳ ص ۸۴ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۹۵ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۹۳ ، طبقات ابن سعد ج۲ حصہ ۱ ص ۱۴ و نظام الحکم فی الشریعة والتاریخ الاسلامی (الحیاة الدستوریہ ) ص ۴۸_
ہم بھی کہتے ہیں کہ دس مسلمان بچوں کو لکھائی کی تعلیم کو قیدیوں کا فدیہ قرار دینا تاریخ میں پہلی جہالت مکاؤ تحریک تھی جس میں اسلام تمام دیگر اقوام اور ادیان سے سبقت لے گیا _ یہ روایت بھی ملتی ہے کہ حکم بن سعید بن عاص نے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے پاس آکر اپنے نام کے متعلق پوچھا تو آپ نے اس کا نام بدل کر عبداللہ رکھا اور اسے حکم دیا کہ مدینہ جاکر لوگوں کو لکھنا سکھائے(۱) اور یہ بات ایسے زمانے میں اسلام میں علم کی اہمیت کی انتہا کو بیان کرتی ہے جب اس وقت کی ایران جیسی دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے درباری اور حکومتی افراد کے علاوہ ہر کسی کو بڑے زور و شور سے حصول علم سے منع کرتی تھیں _ حتی کہ اس زمانے کے ایک بہت بڑے تاجر نے قیصر روم سے انوشیروان کی جنگ کے تمام لازمی اخراجات اس شرط پر اپنے ذمہ لینے کی پیشکش کی کہ اس کے بیٹے کو حصول علم کی اجازت دی جائے(۲) _ بلکہ بعض عربی قبیلے تو لکھنے پڑھنے سے آشنائی کو اپنے لئے عیب سمجھتے تھے(۳) _اس کی طرف ہم نے اس سیرت کی بحث کے مقدمہ میں اشارہ کردیا تھا_ شائقین وہاں مراجعہ فرمائیں_
بہر حال اسلام ان نازک حالات اور مشکل لمحات میں بھی دس مسلمان بچوں کو تعلیم دینے کے بدلے میں اپنے سخت ترین دشمنوں کو بھی آزاد کرنے آیا _ حالانکہ وہ ان قیدیوں سے فدیہ بھی لے سکتا تھا یا خود ان سے مسلمانوں کے مشقت والے کام کرائے جاسکتے تھے بلکہ وہ انہیں قریش پر سیاسی دباؤ کا ذریعہ بھی بناسکتے تھے_ اور یہ کام اس نئے جنم لینے والے معاشرے کے لئے نہایت ضروری بھی تھے جسے دوسرے معاشرے دھتکارنے اور تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے تھے جبکہ اس نئے معاشرے کو اپنی زندگی ، بقائ، اسلامی حکومت کے قیام اور آسمانی تعلیمات کے نشر و اشاعت کے لئے جنگوں سے بھر پور ایک طویل اور پر مشقت راستہ طے کرنا تھا_
____________________
۱)نسب قریش مصعب زبیری ص ۱۷۴ و الاصابہ ج۱ ص ۳۴۴ از نسب قریش_
۲)خدمات متقابل اسلام و ایران ص ۲۸۳ ، ۲۸۴و ۳۱۴نیز ملاحظہ ہو ص ۳۱۰ از شاہنامہ فردوسی ج ۶ ص ۲۵۸ تا ۲۶۰_
۳)الشعر والشعراء ص ۳۳۴ والتراتیب الاداریہ ج۲ ص ۲۴۸_
قیدیوں سے سلوک
یہاں قابل ملاحظہ ہے کہ جن مسلمانوں نے کل مشرکوں سے سختیاں اور تلخیاں چکھی تھیں وہ آج اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کرچکے تھے اور جن لوگوں نے کل انہیں اذیتیں دی تھیں ، دربدر کیا تھا، تمام مال و اسباب چھین لیا تھا اور قطع رحمی کی تھی وہ آج انہی کے ہاتھوں ذلت اور رسوائی میں مبتلا ہوگئے تھے اور ان کی ہمدردی کے محتاج ہوگئے تھے، تو آپ لوگوں کے خیال میں وہ مسلمانوں سے کس قسم کے سلوک کی توقع رکھ سکتے تھے ؟ یا مسلمان ان سے کس قسم کا اور کس طرح کا بدلہ لیتے؟
توقعات اور خیالات تو ذہن میں بہت سے آسکتے ہیں لیکن مسلمانوں نے ان تمام توقعات کے برخلاف ان سے کسی قسم کا بدلہ لینے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس فرصت سے کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی _ بلکہ ان کے عظیم رہنما (حضرت محمد مصطفی صلىاللهعليهوآلهوسلم ) کی طرف سے صرف ایک جملہ صادر ہوا کہ قیدیوں سے ہر ممکن اچھا سلوک کرو_ اور مسلمانوں نے بھی اس حکم کی پیروی کی اور انہوں نے قیدیوں کو اپنے مال و اسباب تک میں شریک کرلیا_ حتی کہ بعض توایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا کھانا تک بھی قیدیوں کو کھلا دیتے تھے(۱)
سودہ کا آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف قیدیوں کو بھڑکانا
یہاں قابل تامل اور تعجب بات یہ ہے کہ ہے (آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی زوجہ) ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ مشرک قیدیوں کو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم اور مسلمانوں کی خلاف بھڑکاتی رہی_اور واقعہ کچھ یوں ہے کہ جب بدر کے قیدیوں کو مدینہ لایا گیا اور سودہ نے سہیل بن عمرو کورسی کے ساتھ پس گردن بندھے ہاتھوں سے گھر کے ایک کونے میں دیکھا تو کہتی ہے کہ '' بخدا جب میں نے ابویزید کو اس حالت میں دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں آپے سے باہر ہوکر کہنے لگی: ''او ابویزیدتم لوگوں نے اپنے ہاتھ ان کے آگے جوڑ دیئے؟کیا تم شرافت کی موت نہیں
____________________
۱)ملاحظہ ہو : طبری ج۲ ص ۱۵۹ ، الکامل ابن اثیر ج۲ ص ۱۳۱ ، سیرہ ابن ہشام ج۲ ص ۲۹۹ و ص ۳۰۰ المغازی واقدی ج۱ ص ۱۱۹ و تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۸۸_
مرسکتے تھے؟'' اور خدا کی قسم مجھے اس وقت ہوش آیا جب گھر کے اندر سے مجھے سول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی آواز سنائی دی_ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم فرمارہے تھے: '' سودہ کیا تو انہیں خدا اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے خلاف بھڑکانا چاہتی ہے ؟'' جس پر میں نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے عرض کیا : '' یا رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو برحق نبی بناکر بھیجنے والی ذات کی قسم جب میں نے ابویزید کو اس حالت میں دیکھا کہ اس کے ہاتھ پس گردن بندھے ہوئے ہیں تو مجھ سے رہا نہ گیا اور جو کچھ منہ میں آیا کہہ دیا ''(۱) _
اور بعض دستاویزات میں یہ اشارہ بھی ملتاہے کہ سودہ کا اپنی زندگی میں آنحضرت کے ساتھ رویہ اکثر و بیشتر منفی رہا ہے حتی کہ یہ بھی ملتاہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم اسے طلاق دینے پر بھی آمادہ ہوگئے لیکن اس نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو واسطہ دے دے کر دوبارہ رجوع کرنے پر راضی کیا اور اپنے حصے کے دن اور رات سے بھی عائشہ کے حق میں دست بردار ہوگئی کیونکہ عائشہ ہر وقت اس کی تعریف کیا کرتی تھی_ حتی کہ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ سودہ سے زیادہ مجھے کوئی بھی شخص زیادہ عزیز نہیں ہے _ میرا تو دل کرتاہے کہ سودہ کے جسم ( روایت میں کینچلی کا لفظ آیا ہے ) میں میری روح سماجاتی(۲)
____________________
۱) البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۳۰۷_
۲) الاصابہ ج۴ ص ۳۳۸ و دیگر کثیر منابع_
۳۶۹
چوتھی فصل:
جنگ بدر کا اختتام
اہل بدر بخشے ہوئے ہیں
مؤرخین کہتے ہیں کہ جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم فتح مکہ کے لئے تیاریوں میں مصروف تھے تو حاطب ابن ابی بلتعہ نے ایک خط میں مکہ والوں کو اس بات سے خبردار کرنا چاہا_ اس نے وہ خط ایک عورت کو دیا تا کہ وہ اسے ان تک پہنچادے_ لیکن جبرائیل عليهالسلام نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ بات بتادی اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی عليهالسلام کو ایک اور آدمی کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان '' روضہ خاخ ( باغ خاخ)نامی ایک جگہ بھیجا تا کہ وہ اس عورت سے وہ خط لے آئیں _ انہوں اسی جگہ پر اس عورت کو جالیا اور اس کے سامان کی تلاشی لی تو اس کے سامان سے کچھ بھی برآمد نہ ہوا جس کی وجہ سے وہ واپس جانے لگے تو حضرت علی عليهالسلام نے کہا: '' بخدا ہم لوگوں نے کبھی جھوٹ بولا ہے نہ ہمیں کبھی کوئی جھوٹی بات بتائی گئی ہے'' آپ عليهالسلام نے نیام سے تلوار نکال کر لہراتے ہوئے اس عورت سے کہا : '' وہ خط نکالو وگرنہ بخدا میں تمہاری گردن اڑادوں گا'' جب اس نے آپ عليهالسلام کی از حد سنجیدگی کا مشاہدہ کیا تو اپنی چوٹی سے وہ خط نکال کر آپ عليهالسلام کو دے دیا_
حضرت علی عليهالسلام نے وہ خط لے کر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں جاکر پیش کیا _ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی حضرت علی عليهالسلام کو حاطب کی طرف بھیجا اور اس سے اس خط کی بابت پوچھا تو اس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا : '' میرے رشتہ دار مکہ میں رہتے ہیں اور مجھے مشرکوں سے ان کی جان کا خطرہ لاحق ہوا تو میں نے یہ کام کرکے مشرکوں کو اس کام سے روکنا چاہا تھا'' اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے اس کا عذر قبول کرلیا_
لیکن عمر بن خطاب نے دل میں سوچا کہ حاطب نے خدا اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ خیانت کی ہے اس لئے اس نے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا سے اس کی گردن مارنے کا مطالبہ کیا _ جسے سن کر آنحضرت نے اس سے فرمایا: '' کیا وہ بدری صحابی نہیں ہے؟ شاید(یا یقینا) خدا بدریوں کے دلی حالات بخوبی جانتاہے'' پھر آپ نے بدریوں سے مخاطب ہوکر فرمایا :'' جوجی میں آئے کرو کہ جنت تمہارے اوپر واجب ہوچکی ہے
(یا تمہیں بخش دیا گیا ہے)(۱) حلبی اس بارے میں کہتاہے:'' اس جملے سے معلوم ہوتاہے کہ اگر اہل بدر سے کوئی کبیرہ گناہ بھی ہو جائے تو انہیں اس کے لئے کسی توبہ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ جب بھی مریں گے بخشے ہوئے اس دنیا سے جائیں گے اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا فعل ماضی میں یہ خبر دینا اس کے تحقق میں مبالغہ کی علامت ہے( یعنی وہ یقینا ہر صورت میں بخشے ہوئے مریں گے)البتہ یہ معاملہ صرف ان کے آخرت کی بہ نسبت ہے ، ان کی دنیا کی بہ نسبت ایسا نہیں ہے دنیا میں انہیں سزائیں ملیں گی ، اسی لئے جب عہد عمر میں قدامہ بن مظعون نے شراب پی تو اس پر حد جاری کیا گیا(۲)
____________________
۱) ملاحظہ ہو : بخاری مطبوعہ ۱۳۰۹ ج۲ ص ۱۱۰ و ج ۳ ص ۳۹ و ص ۱۲۹ و طبع مشکول کتاب المغازی غزوہ بدر و ج۹ ص ۲۳ ،فتح الباری ج۶ ص ۱۰۰ ، ج۸ ص ۴۸۶و ج۷ ص ۲۳۷ از احمد ، ابوداؤد و ابن ابی شیبہ ، البدایہ والنہایہ ج۴ ص ۲۸۴ و ج۳ ص ۳۲۸ از تمام صحاح سوائے ابن ماجہ ، مجمع الزوائد ج ۸ ص ۳۰۳ ، ج۹ ص ۳۰۳ و ۳۰۴ و ج۶ ص ۱۶۲ و ۱۶۳ از احمد ، ابویعلی و بزار ، حیاة الصحابہ ج۲ ص ۴۶۳ و ۳۶۴ از گذشتہ بعض ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۰۳ و ۱۹۲ ، مجمع البیان ج ۹ ص ۲۶۹ و ۲۷۰ ، تفسیر قمی ج ۲ ص ۳۶۱، الارشاد مفید ص ۳۳ ، ۳۴ و ۶۹، صحیح مسلم ج ۴ ص ۱۹۴۱ ، مطبوعہ دار احیا التراث العربی، المغازی ج۲ ص ۷۹۷ و ۷۹۸ اسباب النزول ص ۲۳۹ ، تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۴۷ ، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۶ ص ۵۸ و ج۱۷ ص ۲۶۶ ، سنن ابوداؤد ج۳ ص ۴۴ و ۴۵و ۴۸ ، التبیان شیخ طوسی ج ۹ ص ۲۹۶ ، اسد الغابہ ج۱ ص ۳۶۱ درالمنثور سیوطی ج ۶ ص ۲۰۳، تاریخ اسلام ذہبی (حصہ مغازی) ص ۹۳ ، ۴۳۹ و ۴۴۰ السنن الکبری ج۹ ص ۱۴۶ ، سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۴ ص ۳۹ وص ۴۱ ، دلائل النبوہ بیہقی ج ۲ ص ۴۲۱ و ۴۲۲ الجامع الصحیح ج۵ ص ۴۰۹ و ص ۴۱۰ ، مسند شافعی ۳۱۶ ، الطبقات الکبری ج۲ ص ۹۷ ، تفسیر فرات الکوفی ص ۱۸۳ ص ۱۸۴ ، لسان العرب ج۴ ص ۵۵۷ ، المبسوط شیخ طوسی ج۲ ص ۱۵ ، تاریخ الامم والملوک ج۳ ص ۴۸ و ۴۹، المناقب ابن شہر آشوب ج۲ ص ۱۴۳ و ۱۴۴، کنز العمال ج ۱۷ ص ۵۹، تہذیب تاریخ دمشق ج۶ ص ۳۷۱ ، بحارالانوار مطبوعہ بیروت ج۷۲ ص ۳۸۸ و ج۲۱ ص ۱۲۵ ، ۱۱۹ ، ۱۲۰، ۱۳۶، ۱۳۷و طبع سنگی ج ۸ ص ۶۴۳ ازالارشاد شیخ مفید، اعلام الوری، تفسیر قمی و تفسیر فرات الکوفی، عون المعبود ج۷ ص ۳۱۰ ، ۳۱۳ الدرجات الرفیعہ ص ۳۳۶ ، زاد المعاد ابن قیم ج ۳ص ۱۱۵ ، عمدة القاری ج ۱۴ ص ۲۵۴، تاریخ الخمیس ج۲ ص ۷۹ ، ترتیب مسند شافعی ج ۱ ص ۱۹۷ ، المحلی ج ۷ ص ۳۳۳ ، الجامع لاحکام القرآن ج۱۸ ص ۵۰ و ص ۵۱ ،احکام القرآن جصاص ج ۵ ص۳۲۵ ، جامع البیان ج ۲۸ ص ۳۸ تا ص ۴۰ ، الکامل فی التاریخ ج۲ ص ۲۴۲ ، کشف الغمہ اربلی ج ۱ ص ۱۸۰ الاصابہ ج ۱ ص ۳۰۰ ، البرہان فی تفسیر القرآن ج۴ ص ۳۲۳، الاعتصام بحبل اللہ المتین ج ۵ ص ۵۰۰ و ص ۵۰۱ ، تفسیر الصافی ج ۵ ص ۱۶۱ ، نہج السعادة ج ۴ ص ۲۸ ، معجم البلدان ج۲ ص ۳۳۵، المواہب اللدنیہ ج۱ ص ۱۴۹ ، بہجة المحافل ج۱ ص ۱۸۸ و ۴۰۰ المصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۵ ص ۶۹ ، تفسیر ثعالبی ج۴ ص ۲۹۸ و منہاج البراعہ ج ۵ ص ۱۰۶(مؤخر الذکر کتاب کا اردو ترجمہ بھی میرے والد محترم کے قلم سے منظر عام پر آ رہا ہے_مترجم)_ (۲) حد ایک فقہی اور شرعی اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ (قتل کے علاوہ) ایسا جرم جس کی سزا کی حد شریعت میں مقرر کی گئی ہو مقرر نہ ہو تو تعزیرات جبکہ قتل یا اس جیسے معاملے میں بدلے کو قصاص اور اس کی قیمت کو دیت کہتے ہیں _
حالانکہ وہ بھی بدری صحابی تھا'' حلبی نے یہ بھی کہا ہے: '' کتاب خصائص الصغری میں شرح جمع الجوامع سے منقول ہے کہ دوسروں کے فسق کا موجب بننے والے افعال کے ارتکاب سے کوئی بھی صحابی فاسق نہیں ہوگا ''(۱) _
اسی طرح آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ جنگ بدر میں شرکت کرنے والا کوئی بھی شخص ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا(۲) _
لیکن ہم کہتے ہیں کہ :
اس صورت میں تو اگر کوئی بدری (بلکہ کوئی بھی )صحابی شراب پیتا رہے ، کسی سے بلکہ محارم سے زنا بھی کرتارہے نماز ترک کردے، کسی بھی واجب پر عمل نہ کرے اور کسی بے گناہ کو قتل کردے ( جیسا کہ جنگ جمل اور جنگ صفین میں انہوں نے ہزاروں بے گناہوں کو قتل کیا تھا نیز دسیوں بے گناہوں کو چوری چھپے، دن دیہاڑے، دھوکے سے یا قید کرکے قتل کیا گیا تھا)_ غرض کوئی بھی کبیرہ گناہ ان سے نہ چھوٹنے پائے تب بھی انہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا _ وہ ان کے فاسق ہونے کا باعث نہیں ہوں گے_ وہ نہ تو کسی سزا کے مستحق ہوسکتے ہیں اور نہ انہیں ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کرنے کی کوئی ضرورت ہے _
یہ بھی کہتے چلیں کہ اس صورت میں عبداللہ بن ابی کو بھی بخشا ہوا ہونا چاہئے _ کیونکہ بعض روایتوں کے مطابق اس نے جنگ بدر میں حصہ لیا تھا(۳) _
اور اگر اہل بدر کے بارے میں یہ باتیں صحیح ہوں تو پھر بدریوں پر کسی فریضے کی پابندی اور احکام شریعت کے وجوب کا پھر کوئی معنی نہیں رہتا _ تو پھر وہ اپنے آپ کو مشقتوں میں ڈال کر کیوں تھکائیں ؟ جبکہ انہیںجنت کی ضمانت دی گئی ہے بلکہ وہ حاصل ہوچکی ہے _ اب انہیں دنیاوی زندگی اور اس کی لذتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے چاہے وہ حلال ہوں یا حرام پھر اس میں کوئی فرق نہیں رہے گا_
____________________
۱)سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۲۰۳ و ۲۰۴ نیز ملاحظہ : ہو فتح الباری ج ۷ ص ۲۳۷ و ۲۳۸_
۲) فتح الباری ج۷ص ۲۳۷ اور اس کی سند مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے _
۳)سیرہ حلبیہ ج۱ ص ۳۳۵ _
لیکن حق سے دفاع میں ناکثین ، قاسطین اور مارقین کے باطل اور گمراہ فرقوں سے حضرت علی عليهالسلام کی جنگ کے متعلق رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے برحق فرامین اور پیشین گوئیوں کو ان لوگوں نے جان بوجھ کر طاق نسیان کے سپرد کردیا اور یہ کہنے لگے کہ حضرت علی عليهالسلام کی ان سے جنگ اور ان کا قتل ، خونریزی میں ان کی جرات ، بے باکی اور جسارت کی وجہ سے تھا اور اس کا اصلی سبب یہ تھا کہ انہوں نے یہ سن رکھا تھا کہ خدا نے اہل بدر کو کھلی چھوٹ دے دی ہے کہ وہ جو چاہیں کریں انہیں کوئی سزا نہیں ملے گی(۱) ؟
لیکن پھر ہماری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ بدریوں کو دنیا میں کیوں سزا ملے گی ؟ جبکہ خود رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے عمر بن خطاب کو مشرکوں پر مسلمانوں کا راز برملا کرنے کی کوشش کرکے خدا اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم سے خیانت کے مرتکب ہونے والے حاطب کو یہ کہہ کر سزا دینے سے منع کردیا تھا کہ یہ اہل بدر سے ہے ؟_ جب خدا نے بدریوں کو ہر چیز سے معاف کررکھا ہے تو انہیں دنیا میں کیوں سزا ملے گی ؟ کیا اس صورت میں انہیں سزا دینا بلا سبب نہیں ہوگا؟ جب وہ کسی گناہ یا غلطی کے مرتکب ہوتے ہی نہیں تو پھر انہیں سزا کیسی؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب حلبی نے دیکھا کہ عمر ، قدامہ پر حد جاری کررہے ہیں تو وہ یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ بدریوں کو دنیاوی سزا معاف نہیں ہوئی _ اور اگر عمرکا یہ واقعہ نہ ہوتا تو ہم یہ بھی مشاہدہ کرتے کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے حاطب کی سزا معاف کرنے کو دلیل بناکر ان کی دنیاوی سزا بھی معاف کردی جاتی اور چونکہ انکی فقہ اور شریعت کے احکام کا دارومدار جناب عمر کی ذات ہے اس لئے ضروری تھا کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے قول ، فعل اور تقریر(۲) یعنی سنت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کو نظر انداز کرکے جناب عمر کے افعال و اقوال پر احکام شریعت کی بنیاد رکھی جاتی ( اور اس کے مطابق سنت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کی توجیہ کی جاتی) حلبی نے یہ سارے احکام آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اس حدیث شریف سے اخذ کئے ہیں جس میں '' شاید'' کا لفظ آیا ہے _ کاش کسی طریقے سے مجھے یہ معلوم ہوجاتا کہ اگر اسے ایسی حدیث مل جاتی جس میں قطعیت کے ساتھ ان کی مغفرت کا ذکر ہوا ہے تووہ اس سے کتنے احکام استنباط کرتا؟
____________________
۱) ملاحظہ ہو : صحیح بخاری ج۹ ص ۲۳ طبع مشکول ، فتح الباری ج۷ ص ۲۳۸، الغارات ج۲ ص ۵۶۸ و ۵۶۹ و شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص ۱۰۰_ اور چاہے وہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اپنی دختر کو اذیت بھی کرتے رہیں انہیں کچھ نہیں ہوگا_ (۲)تقریر کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے کوئی فعل انجام د ے یا کوئی بات کرے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے اور کوئی رکاوٹیں بھی نہ ہوں اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اسے منع نہ فرمائیں تو اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتاہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اس عمل پر راضی ہیں اور یوں وہ عمل ایک شرعی حکم کی حیثیت حاصل کرجاتاہے_
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اہل بدر کے لئے مغفرت والی حدیث میں( اگر صحیح بھی مان لیں تو) یقینا ''اعملوا ماشئتم '' (جو جی میں آئے کرو) کا جملہ ہرگز نہیں ہے _ بلکہ ان کی بخشش ان کے سابقہ گناہوں کی بہ نسبت ہوگی _ اور اگر اس میں یہ فقرہ ہوگا بھی تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ '' اپنے اعمال کا از سر نوجائزہ لو کہ تمہاری سزا و جزا کا دارومدار تمہارے آئندہ کے اعمال ہوں گے'' یہ مطلب نہیں ہوگا کہ ان کے آئندہ کے بھی تمام گناہ بخش دیئے گئے ہیں_ لیکن اگر اس حدیث میں'' اعملوا ما شئتم'' کا فقرہ موجود ہوتا اور اس کا مطلب یہ ہوتا کہ تمہارے آئندہ کے بھی تمام گناہ بخش دیئے گئے ہیں تو اس حدیث اور اس بات کو دلیل بناکر قدامہ عمر پر اعتراض کرسکتا تھا تا کہ اس حد سے چھٹکارا پاسکے _ نیز وہ حاطب کے ساتھ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے موقف کو بھی بطور دلیل پیش کرسکتا تھا_ بلکہ خود عمر پر بھی اتنے واضح اور مشہور نبوی صلىاللهعليهوآلهوسلم حکم کی مخالفت بھی نہایت دشوار ہوتی(۱) اس کے علاوہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم سے مذکورہ فقرہ منسوب کرکے اس کی نشر و اشاعت زیادہ تر سیاسی مفادات کے پیش نظر کی گئی _ اس لئے پختہ احتمال یہی ہے کہ اس حدیث کو مذکورہ معنی میں پھیلانے میں سیاست کا ہاتھ تھا_
اہل بدر سے بھی افضل لوگ ؟
تاریخ میں ملتاہے کہ سعد بن ابی وقاص جنگ مدائن میں اپنے لشکر کو اہل بدر سے افضل قرار دیتے ہوئے کہتاہے: '' بخدا یہ لشکر امین ہے _ اور اگر اہل بدر کے متعلق انتہائی باتیں نہ ہوچکی ہوتیں تو خدا کی قسم میں یہ کہتا کہ یہ لشکر اہل بدر سے بھی بافضیلت ہے کیونکہ بدریوں سے ناقابل بیان کرتوت سرزد ہوئے لیکن میں نے اس لشکر سے کوئی ایسی ویسی بات نہیں سنی اور نہ ہی میرے خیال میں آئندہ کوئی بات ہوگی ''(۲) _ بلکہ کعب بن مالک تو بیعت عقبہ کی رات کو جنگ بدر اور بدریوں سے زیادہ بافضیلت قرار دیتاہے گرچہ واقعہ بدر لوگوں میں بیعت عقبہ سے زیادہ مشہور ہے(۳)
____________________
۱) عدالت صحابہ کے نظریئےے متعلق ملاحظہ ہو ہماری کتاب ''دراسات و بحوث فی التاریخ والاسلام '' ج۲_
۲)حیاة الصحابہ ج۳ ص ۷۵۸ از تاریخ طبری ج۳ ص ۱۳۸_
۳)البدایہ والنہایہ ج۵ ص ۲۳ از بخاری ، ابوداؤد نسائی و غیرہ ، ٹکڑے ٹکڑے اور اختصار کے ساتھ ، ترمذی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، بیہقی ج۹ ص ۳۳ ، حیاة الصحابہ ج۱ ص ۴۷۵ از گذشتہ منابع واز الترغیب والترہیب ج۴ ص ۳۶۶_
یہ تو ان کے نزدیک جنگ بدر کی شان اور وقعت ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے بدریوں کے علاوہ کسی اور کے لئے جنت واجب نہیں کی ہے _ کیونکہ دوسرے لوگوں میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جسے بخشوانے اور جنت پہنچانے کی وہ کوشش کرتے یا اس دور کی سیاست اس کے اسلام ، قرآن اور انسانیت مخالف اعمال اور کردار کی توجیہ اور پردہ پوشی کرنے کی کوشش کرتی_ حالانکہ سعد بن ابی وقاص کی مذکورہ روایت کے مطابق اہل بدر میں سے بعض ایسے بھی تھے جن سے ایسے ایسے ناقابل بیان برے کرتوت سرزد ہوئے جن کی وجہ سے ان کی شان اور قدر گھٹ گئی تھی اور اعمال کا پلڑا ہلکا ہوگیاتھا_ اور سعد بن ابی وقاص اس بات میں سچا بھی ہے کیونکہ اکثر بدریوں سے ایسے ایسے عجیب و غریب کرتوت سرزد ہوئے جو ناقابل بیان بھی ہیں اور یہاں ان کے بیان کی گنجائشے بھی نہیں ہے_
ابن جوزی اور بدریوں کے مغفرت والی حدیث
بدریوں کے مغفرت والی حدیث پر ابن جوزی نے جو حاشیہ لکھا ہے وہ بھی نہایت تعجب خیز ہے _ وہ لکھتاہے : '' اس غلط فہمی سے اور وہ بھی علم کا دعوی کرنے والے افراد کی طرف سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں _ احمد نے اپنی کتاب مسند میں روایت کی ہے کہ ابوعبدالرحمن سلمی اور حیان بن عبداللہ کا آپس میں جھگڑا ہوگیا تو ابوعبدالرحمن نے حیان سے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ کس بات نے تمہارے بزرگ ( یعنی حضرت علی عليهالسلام ) کو اس جنگ پر تیار کیا ہے _حیان نے پوچھا کہ وہ کونسی بات ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ وہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کا یہ فرمان ہے کہ '' شاید خدا اہل بدر ( کے دلوں کے حال ) سے واقف ہے _ جو جی میں آئے کرو کہ تمہیں بخش دیا گیا ہے'' _ اور یہ غلط فہمی ابوعبدالرحمن کی تھی کیونکہ وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ حضرت علی عليهالسلام صرف اس لئے لڑرہے تھے اور لوگوں کو قتل کررہے تھے کہ اس مذکورہ حدیث کی وجہ سے انہیں اپنے بخشے جانے کا یقین تھا_ سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہئے کہ حدیث کا اصل معنی یہ ہے کہ '' تمہارے گذشتہ اعمال جو بھی تھے ، اب انہیں بخش دیا گیا ہے '' لیکن آئندہ کے اعمال کی بخشش کا اس حدیث میں کوئی تذکرہ نہیں ہے_ بہر حال بدری اصحاب معصوم تو پھر
بھی نہیں ہیں _ بالفرض نعوذ باللہ اگر کوئی بدری مشرک ہوجائے تو کیا اس کا مؤاخذہ (پکڑ) نہیں ہوگا؟ دوسرے گناہ بھی اسی طرح ہیں ، ان کی بھی پکڑ ہوگی _ پھر اگر یہ کہیں کہ اس حدیث میں آئندہ کے گناہوں کی بخشش بھی شامل ہے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ آخر کار ان کا انجام بخشش کے ساتھ ہوگا ( یعنی انہیں توبہ کی توفیق نصیب ہوگی)_
پھر اگر حدیث کے معنی کو چھوڑ کر اس واقعہ کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا پڑے گا کہ کوئی مسلمان حضرت علی عليهالسلام کے حق میں یہ کیسے سوچ سکتاہے کہ وہ اس یقین کے ساتھ کوئی ناجائز کام کریں گے کہ وہ بخش دیئے جائیں گے ؟ معاذاللہ_ بلکہ حضرت علی عليهالسلام نے دلائل کے ساتھ مجبورا جنگ کی تھی_ پس حضرت علی عليهالسلام حق پر تھے _ اور سب علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت علی عليهالسلام نے جس شخص کے ساتھ بھی جنگ کی ہے حق کی بنیاد پر کی ہے اور حق حضرت علی عليهالسلام کے ساتھ تھا_ مذکورہ بات حضرت علی عليهالسلام سے کیسے منسوب کی جاسکتی ہے جبکہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے ان کے متعلق فرمایا تھا: '' خدایا حق کو بھی ادھر ہی لے جا جہاں جہاں علی عليهالسلام جائے''_
ابوعبدالرحمن نے نہایت غلط او ربری بات کہی ہے _ اور اس نے یہ بات حضرت علی عليهالسلام کے دشمن اور عثمانی مذہب ہونے کی وجہ سے بھڑک کرکہی ہے''(۱)
ناکام واپسی
بہر حال ، مشرکوں کا لشکر لٹاپٹا اور نہایت بری حالت میں مکہ واپس پہنچا _ وہ غیظ و غضب کی وجہ سے سخت بپھرے ہوئے تھے لیکن ابوسفیان نے انہیں اپنے مقتولین پر گریہ و زاری کرنے اور شاعروں کو بھی مرثیہ کہنے سے روک دیا تا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا غصہ ٹھنڈا ہوکر جھاگ کی طرح بیٹھ جائے،مسلمانوں کے خلاف ان کا کینہ کم ہوجائے اور ان کے غم و اندوہ کی خبر مسلمانوں تک پہنچ جائے جس کی وجہ سے وہ انہیں برا بھلا کہہ سکیں اور ان پر ہنس سکیں_ اور ابوسفیان نے اپنے اوپر رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا حضرت محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم سے دوبارہ بھرپور جنگ کرنے
____________________
۱)صید الخاطر ص ۳۸۵_
تک خوشبو اور عورتوں کے ساتھ قربت حرام کررکھی تھی_ اور اس کی بیوی ہندہ نے بھی یہی کام کیا _ اس نے بھی اپنا بستر علیحدہ کرلیا تھا اور خوشبوؤں سے دوری اختیار کرلی تھی_ اور جب مشرکین اس جنگ سے بے نیل و مرام لوٹے تو انہوں نے قافلہ والوں سے یہ مطالبہ کیا کہ انہیں بھی اس مال میں حصہ دار کیا جائے اور اس سے ان کی مدد کی جائے _ جس پر یہ آیت نازل ہوئی:
( ان الذین کفروا ینفقون اموالهم لیصدوا عن سبیل الله فسینفقونها ثم تکون علیهم حسرة )
کافر لوگ خدا کے راستے (دین) سے لوگوں کو روکنے کے لئے مال خر چ کرتے ہیں _ وہ عنقریب پھر بھی مال خرچ کریں گے لیکن انہیں پھر بھی حسرت کا سامنا کرنا پڑے گا _
البتہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت جنگ بدر میں لشکریوں کو کھانا کھلانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اونٹ نحر کیا کرتے تھے جن کاتذکرہ پہلے گذر چکاہے _ اور شاید یہ بات آیت کے مفہوم کے زیادہ مناسب ہو_
کامیاب واپسی
ادھر رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم - خدا نے اپنی واپسی سے پہلے آگے آگے ایک شخص کو مدینہ بھیجا تا کہ وہ مدینہ والوں کو مسلمانوں کی واضح کامیابی کی خوشخبری سنائے _ پہلے پہل تو کچھ لوگوں نے اس پر یقین نہ کیا لیکن جب ان کے لئے بھی ثابت ہوگیا کہ یہ بات بالکل سچی ہے تو مؤمنین بہت خوش ہوئے اور خوش دلی اور خوشحالی سے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کا استقبال کیا _ مورخین کہتے ہیں کہ وہ خوشخبری دینے والا زید بن حارثہ تھا_ لیکن لوگوں نے اس کی باتوں پریقین نہیں کیا بلکہ اس کے بیٹے اسامہ سے علیحدگی میں پوچھا تو تب انہیں اس بات کا یقین ہوا_لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے کیونکہ اس وقت اسامہ ایک بچہ تھا جس کی عمر اس وقت دس برس سے زیادہ نہیں تھی_
مدینہ کے رستے میں رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کہیں مسلمانوں کی آنکھوں سے اوجھل ہوگئے تو مسلمان وہیں رک گئے ، تھوڑی دیر بعد آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت علی عليهالسلام کے ساتھ وہیں تشریف لائے _ مسلمانوں نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے پوچھا: '' یا رسول اللہ صلىاللهعليهوآلهوسلم کہیں تشریف لے گئے تھے؟'' تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : '' راستے میں علی عليهالسلام کے پیٹ میں درد ہوگیا تھا، اس
کی وجہ سے میں پیچھے رہ گیا تھا''(۱) _ یہ بھی کہا جاتاہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ اس وقت پہنچنے جب لوگ جناب عثمان کی زوجہ کی تدفین میں مصروف تھے البتہ اس بارے میں گفتگو انشاء اللہ بعد میں '' بدر اور احد کے درمیانی زمانے میں واقعات '' کی فصل میں ہو گی_
اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مدینہ پہنچنے کے ایک دن بعد قیدی بھی مدینہ پہنچے جنہیں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا اور انہیں یہ سفارش کی کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو یہانتک کہ مکہ والے ان کا فدیہ دے کر انہیں اپنے ساتھ لے جائیں _ پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے نجد کی طرف والے مدینہ کے بالائی حصے کی طرف عبداللہ بن رواحہ کو اور تہامہ کی طرف والے زیریں حصے والوں کی طرف زید بن حارثہ کو بھیجا جو انہیں جاکر واضح کامیابی کی خوشخبری سنائیں _ مدینہ کے بالائی حصے میں بنی عمرو بن عوف ، خطمہ اور وائل و غیرہ کے قبیلے بستے تھے(۱) _
جنگ بدر کے بعض نتائج
اتنی ڈھیر ساری باتوں میں جنگ کے کچھ نتائج بیان ہوچکے ہیں _ اس لئے ہم یہاں کسی طویل گفتگو کے خواہاں نہیں ہیں_ صرف مندرجہ ذیل چندنکات کی صورت میں ایک سرسری نگاہ پر اکتفا کرتے ہیں :
۱ _ زندگی سے پیار کرنے والے مشرکوں پر جنگ بدر میں روحانی لحاظ سے حقیقتا کاری ضرب لگی _ اور وہ حد سے زیادہ ڈرپوک ہوگئے _ اب مشرکین یہ دیکھ رہے تھے کہ ان مسلمانوں کے ساتھ ان کی زندگی بالکل خطرے میں پڑچکی ہے_ اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی بعد والی جنگوں پر اس خوف اور ڈر کا ایک ناقابل انکار اثر پڑا_ کیونکہ طبیعتاً ہٹ دھرم بزدل آدمی اپنی جان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے حد سے زیادہ احتیاط کا قائل ہوتاہے_ اسی بناپر قریش اپنی بعد والی جنگوں میں بہت زیادہ احتیاط، دقت ، تمرکز، تعداد اور تیاری کے ساتھ میدان میں اترتے تھے تا کہ وہ اس تحریک کو ہی نیست و نابود کرکے
____________________
۱) سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۸۸_
۲)ملاحظہ ہو: التراتیب الاداریہ ج۱ ص ۳۸۲_
رکھ دیں جو ان کے مفادات اور علاقے میں ان کے معاشرتی ، اجتماعی، سیاسی، اقتصادی اور دیگر امتیازات کے لئے خطرہ بنی ہوئی تھی_
۲_ دوسری طرف اس جنگ سے مسلمان ذہنی لحاظ سے طاقتور ہوگئے _ اور ان کی ظاہری خود اعتمادی دوبارہ لوٹ آئی اور اس غیر متوقع کامیابی نے اس چیز (یعنی جنگ ) کا سامنا کرنے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کی جس کے خیال اور تصور سے بھی کل تک وہ لوگ کانپتے تھے یہ کامیابی تو اتنی بڑی تھی کہ بعض انصاریوں کے لئے اس کی تصدیق تک بھی بہت مشکل تھی _ ہاں اس کامیابی نے مسلمانوں کے ایمان ، یقین اپنے دین اور نبی پر اعتماد میں اضافہ کیا ، خاص طور پر جب مسلمانوں نے مشرکوں کو پہنچنے والے خسارے کا مشاہدہ کیا تو ان کا یقین اور اعتماد مزید بڑھ گیا _
۳ _ اس جنگ سے ملنے والے مال غنیمت نے ان کے بہت سے گہرے مالی مشکلات حل کردیئے اس کے ساتھ ساتھ بہت سے لالچیوںکو بھی جنگوں میں حصہ لینے پر اکسایا بلکہ اب تو وہ اس طرح کے دوسرے موقع کے انتظار میں رہنے لگے تھے تا کہ زیادہ سے زیادہ مال غنیمت ہتھیاسکیں_
۴_ اس جنگ نے دوسروں کی نگاہ میں مسلمانوں کی ایسی دھاک بٹھادی کہ ان کے ذہنوں میں یہ بات نقش ہوگئی کہ مسلمان ایک پر اثر اور فعال کردار ادا کرنے والی طاقت ہیں جن کا لحاظ کرنا ضروری تھا_ دوسرے قبیلے مسلمانوں سے ڈرنے لگے تھے اور ان کی دوستی کے خواہشمند نظر آنے لگے تھے_ اب ان کے لئے مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کا توڑنا نہایت مشکل نظر آرہا تھا_ بلکہ یہ کامیابی تو ان کے لئے دوسری کامیابیوں کی توقعات بھی ساتھ لائی تھی _ حتی کہ یعقوبی جنگ بدر کے صرف چار ماہ بعد پیش آنے والے جنگ ذی قار کے بارے میں لکھتاہے:
'' اور خدا نے اپنے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کو عزت بخشی اور قریش کے کئی آدمی مارے گئے اور عربوں نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف اپنے وفود بھیجے اور کسری کی فوج کے ساتھ بھی ان کی ٹکر ہوگئی اور یہ واقعہ ذی قارمیں پیش آیا تو انہوں نے کہا کہ تمہیں تہامی (انصاریوں) کا نعرہ لگانا چاہئے جس پر انہوں نے '' یا محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم ، یا محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم '' پکارنا شروع کردیا اور
کسری کی فوج کو شکست دے دی''(۱) جس کے بعد طبیعی تھا کہ یہ بات قریش کی مسلمانوں کے خلاف دوسرے قبیلوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوششوں پر اپنا اثر دکھاتی _ اور اس سے بہت سے قبیلوں کو مسلمانوں کے خلا ف اپنا ہم نوا بنانا اب تقریبا ناممکن ہوگیا تھا_
جنگ بدر کے نتائج سے نجاشی کی خوشی
جب جنگ بدر میں خدا نے مشرکوں کو شکست دی اور ان کے بڑوں اور سرداروں کو موت کے گھاٹ اتارا تو نجاشی کو بھی اپنے جاسوس کے ذریعے اس کا علم ہوگیا اور یہ خبر سننے کے بعد نجاشی بہت زیادہ خوش ہوگیا اور خدا کے اس شکرانے کی ادائیگی کے لئے وہ نیچے خاک پر بیٹھا اور بوسیدہ کپڑے پہنے اور مسلمانوں کو بھی اس کا میابی پر مبارک باد دی(۲)
آخری بات:
یہاں ہم یہ اشارہ بھی کرتے چلیں کہ یہ بھی اسلام کا ایک معجزہ ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ملے جلے اور ناتجربہ کار لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ سب سے بڑی اور سرکش طاقت سے ٹکرلے کر اس پر کامیابی حاصل کی تھی_ اور ان لوگوں کو دینی رابطے کے علاوہ اور کوئی رابطہ اور تعلق یکجا نہیں کرسکتا تھا جبکہ ان کے سامنے ایک ایسی منسجم طاقت تھی جسے رشتہ داری، تعلق داری، مختلف معاہدوں اور مشترکہ مفادات نے اکٹھا کیا ہوا تھا_ اور یہ بات غیر طبیعی ہوتی ہے کہ چند مختلف اناڑی لوگوں کی ایک جماعت اس طاقت پر غلبہ پالے اور کامیاب ہوجائے جس کی حالت ان لوگوں کے بالکل برعکس ہو_ اسی لئے صلح حدیبیہ کے موقع پر عروہ بن مسعود ثقفی نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا : '' اگر دوسری صورت ( یعنی جنگ) کی خواہش کرتے تو میں ایسے چہرے اور چند اناڑی اور ناتجربہ کار لوگ دیکھ رہا ہوں کہ جو تمہیں چھوڑ کر بھا گ نکلتے(۳) ا ور ان جیسے لوگوں کے
____________________
۱)تاریخ یعقوبی مطبوعہ صادر ج۲ ص ۴۶_
۱)سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۲ ص ۴۷۶ و ۴۷۷_
۲)المصنف ج۵ ص ۳۳۵_
متعلق ہی حضرت علی عليهالسلام نے فرمایا تھا کہ یہ لوگ شور شرابا کرنے والے اور فسادی ہوتے ہیں ، یہ لوگ جب اکٹھے ہوتے ہیں تو نقصان پہنچاتے ہیں اور جب الگ ہوجائیں تب نفع پہنچاتے ہیں(۱)
اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ان چند اناڑی اور عام لوگوں کے ساتھ بہت بڑی طاقت سے جنگ صرف ایک دفعہ نہیں ہوئی تھی کہ یہ کہا جاتا کہ یہ محض اتفاقیہ کامیابی تھی جو بعض استثنائی حالات اور عوامل کے تحت حاصل ہوئی تھی بلکہ یہ صورت حال تو کئی سال تک رہی تھی اور شاید مندرجہ ذیل آیت بھی اسی بات کی طرف اشارہ کررہی ہے_
( و الف بین قلوبهم لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبهم و لکن الله الف بینهم ) (۲)
اور خدا نے ان کے دلوں میںا لفت ڈال دی اگر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم دنیا کا سارا مال بھی خرچ کردیتے تب بھی ان کے دلوں کو نہیں جوڑ سکتے تھے لیکن خدا نے ان میں محبت پیدا کردی _
اہل بدر کے بارے میں معاویہ کا موقف
آخر میں یہ بھی کہتے چلیں کہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ اہل بدر کے بارے میں معاویہ نے سیاسی موقف اپنایا تھا_ اور یہ جنگ صفین میں واقعہ تحکیم کے وقت ہوا تھا_ جب اس نے ایک بدری صحابی کو حکم ( تام الاختیار نمائندہ) ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا: '' میں اہل بدر کے کسی شخص کو حکم نہیں مانتا''(۳) اور شاید یہ انکار اس وجہ سے ہوکہ وہ یہ جانتا تھا کہ اہل بدر کی اکثریت شرعی احکام کی پابند ہے ، وہ خدا کی راہ میں پختہ ہیں اور دین میں کسی معاملے اور دھوکہ بازی کو قبول نہیں کریں گے _
اور بدر اور احد کے درمیانی زمانے کے واقعات پر گفتگو سے پہلے ان بعض موضوعات کے تذکرہ میں بھی کوئی حرج نہیں ہے جو کسی نہ کسی لحاظ سے گذشتہ باتوں سے متعلق ہیں _ اور یہ گفتگو اگلی فصل میں ہوگی_
____________________
۱)نہج البلاغہ حصہ حکمت ص ۱۹۹_
۲)انفال / ۶۳_
۳)-انساب الاشراف ج۳ ص ۲۳_
پانچویں فصل:
سیرت سے متعلق چند باتیں
تمہید:
ہم نے قارئین سے پہلے وعدہ کیا تھا کہ گذشتہ واقعات سے کسی نہ کسی لحاظ سے متعلق بعض ابحاث کا بعد میں ذکر کریں گے _ اور اب ایفائے عہد کا وقت آگیا ہے _ البتہ یہ ابحاث قارئین کی سرگرمی کے لئے پیش خدمت ہیں اور چاہے تھوڑا سا ہی سہی قارئین کو سیرت کی فضا اور سیرت کے بعد والے مختلف قسم کے واقعات سے دور لے جائیں گے تا کہ وہ ان ابحاث کا دقت سے مطالعہ کرے اور بسا اوقات یہ بھی ہوتاہے کہ کوئی قاری ان ابحاث کا تفصیلی مطالعہ کرنا چاہتاہے اس لئے ہم یہاں مندرجہ ذیل چار عناوین کا تفصیلی جائزہ لیںگے _
۱ _ شیعوں کی بعض خصوصیات_
۲ _ جناب ابوبکر کی شجاعت_
۳ _ ذو الشمالین کا قصہ اور نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے سہو، خطا، نسیان اور گناہ سے اختیاری طور پر معصوم ہونے پر
دلائل_
۴ _ خمس کے شرعی حکم کا سیاست سے تعلق_
پہلا عنوان
شیعیان علی عليهالسلام کی بعض خصوصیات
غزوہ بدر میں ہم نے کہا تھا کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے صحابیوں سے فرمایا تھا کہ مشرکین سے جنگ میں پہل نہ کریں _ اور ہم نے وہاں یہ بھی کہا تھا کہ امیر المؤمنین حضرت علی عليهالسلام بھی اپنے اصحاب کو کسی جنگ میں پہل نہ کرنے کی تاکید کیا کرتے تھے_ مروی ہے کہ جنگ جمل کے دن حضرت علی عليهالسلام نے اپنے صحابیوں میں یہ اعلان کیا تھا کہ کوئی شخص ابھی نہ تیر پھینکے گا ، نہ نیزے سے وار کرے گا اور نہ تلوار چلائے گا _ ان لوگوں سے جنگ کی ابتدا نہیں کرو بلکہ ان کے ساتھ نہایت نرمی کے ساتھ بات چیت کرو _ سعید کہتاہے : '' دوپہر تک یہی صورتحال رہی _ یہانتک کہ دشمنوں نے یکبارگی '' یا ثارات عثمان'' کا نعرہ لگاکر یلغار کردی ...'' اور حضرت علی عليهالسلام نے جنگ صفین میں بھی یہی سفارش کی تھی(۱)
جی ہاں یہ حقیقت ہے کہ :
۱ _ یہ بات شیعوں کی علامت بن گئی _ کیونکہ وہ بھی کبھی دشمنوں سے جنگ کی ابتدا ء نہیں کرتے تھے _ جاحظ بائیں ہتھ کٹے کردو یہ کے متعلق ( جو ایک بہادر اورماہر لوہا ر تھا اور جس پر بھی کوئی وار کرتا تھا اس کا کام ہی تمام کردیتا تھا)کہتاہے: '' کردویہ اپنی معذوری اور دلیری کے باوجود شیعوں والا کام کیا کرتا تھا_ کیونکہ وہ
____________________
۱)سنن بیہقی ج۸ ص ۸۰ ۱ ، حیاة الصحابہ ج۲ ص ۵۰۳ از سنن بیہقی ، تذکرہ الخواص ص ۷۲ و ص ۹۱ ، الفتوح ابن اعثم ج۳ ص ۴۵ و ج ۲ ص ۴۹۰، انساب الاشراف با تحقیق محمودی ج۲ ص ۲۴۰ والمناقب خوارزمی ص ۱۸۳_
خودکبھی بھی لڑائی شروع نہیں کرتا تھا بلکہ پہلے اس پروار کیا جاتا تھا''(۱)
۲ _ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم نے جنگ بدر میں ابوعزت جحمی کو قید کیا لیکن پھر اس کی بیٹیوں کی وجہ سے اس پر احسان کرتے ہوئے اسے خمس دیا اور اس سے یہ وعدہ لے کر اسے آزاد کردیا کہ وہ نہ تو دوبارہ مسلمانوں سے جنگ کرے گا اور نہ ہی مسلمانوں کے خلاف کسی کی مدد اور حمایت کرے گا_ لیکن اس نے وہ عہد توڑ کر جنگ احد کے لئے دوسرے قبیلوں کو بھی اکٹھا کیا اور خود بھی شریک ہوا _ آخر کا رجب وہ گرفتار ہو اور معافی کا خواستگار ہوا تو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کی بات سنی ان سنی کردی اور کوئی توجہ نہیں دی تا کہ کل مکہ میں وہ یہ کہتے ہوئے فخر اور غرور سے اچھل کود نہ کرے کہ اس نے (نعوذ باللہ) محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم کو دو مرتبہ دھوکا دیا اور مسخرہ کیا _ اس کی تفصیل غزوہ حمراء الاسد میں بیان ہوگی _ انشاء اللہ
بہر حال اس بات سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے بیدار اور چالاک مؤمن کے لیے ایک بہترین مثال پیش کی کہ وہ نہ تو دھوکا کھائیں، نہ فریب اور نہ ہی ان کا کبھی مذاق اڑایا جائے_ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا ایک مشہور و معروف فرمان ہے کہ ''مؤمن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا''(۲) اسی طرح معاویہ نے حضرت امام حسین عليهالسلام اور ان کے محترم والدکے بارے میں بھی یہ گواہی دی ہے کہ یہ دونوں دھوکا نہیں کھاتے _ اس نے اس بات کا اعتراف عبید اللہ بن عمر کے سامنے ان الفاظ میں کیا تھا: ''(حضرت) حسین عليهالسلام بن علی عليهالسلام ہرگز دھوکا نہیں کھاتے اور وہ اپنے باپ کے سپوت ہیں ( یعنی بالکل اپنے باپ پر گئے ہیں )''(۳) اور شیعیان علی عليهالسلام (۴) نے اس خصوصیت اور صفت کو اپنے آقا و مولا سے وراثت میں پائی ہے اور انہوں نے بھی اپنے سرپرست اور مربی حضرت ختمی مرتبت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا حضرت محمد مصطفی سے
____________________
۱)البرصان والعرجان والعمیان والحولان جاحظ ص ۳۳۳_ (۲)مسند احمد ج۲ ص۱۱۵ و ۳۷۳ و فیض الباری ج۴ ص ۳۹۶_
۳)ملاحظہ ہو: الفتوح ابن اعثم ج۳ ص ۵۷_ (۴) اس بات سے معلوم ہوتاہے کہ شیعیان علی عليهالسلام یا شیعیان حیدر عليهالسلام کرار کی اصطلاح صدر اسلام سی ہی معروف تھی بلکہ شیعہ علی کے ساتھ ساتھ شیعہ معاویہ اور شیعہ عثمان و غیرہ کی اصطلاحیں بھی مشہور تھیں لیکن رفتہ رفتہ وہ اصطلاحیں معدوم ہوتی گئیں لیکن شیعیان حیدر کرار نے اپنے امام سے دلی لگاؤ کی وجہ سے اس نام کو محفوظ رکھا _ اس بناپر مولانا شرف الدین موسوی جیسے بعض لوگوں کا شیعوں کی حیدر عليهالسلام کرار اور اثنا عشری یا دوازدہ امامی میں تقسیم اور ان کی اچھی بری صفات سب غلط ہیں اس کی تفصیل کسی اور مقام پر آئے گی_
وراثت میں پائی تھی _ اس لئے انہیں دوسری نادر اور بلند صفات کے ساتھ ساتھ دور اندیشی اور ذہنی بیداری کے ساتھ بھی پہچانا جاتا تھا_ اپنی اس بات پر دلیل کے لئے ہم تنوخی کی یہ بات ذکر کرتے ہیں کہ کوئی شخص حسن بن لو لو کو دھوکہ دینا چاہتا تھا اور اس کے ساتھ مکاری کرنا چاہتا تھا تو اس نے اس سے کہا : ''کیا مجھ بغدادی ، باب طاقی، پڑھے لکھے، صاحب حدیث ، شیعی، چالاک اور سخت دشمن کو دھوکہ دینا چاہتاہے ؟''(۱)
۳_ شیعہ اپنے دینی امور میں باریک بینی اور پابندی میں بھی بہت مشہور ہیں _ اسد بن عمرو '' واسط'' کا قاضی (جج) تھا _ وہ کہتاہے: '' مجھے واسط کا قبلہ بہت ٹیٹرھا محسوس ہوا اور تحقیقات سے مجھ پر واضح بھی ہوگیا تو میں نے اسے موڑ دیا اور صحیح کردیا _ تو کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ رافضی ہے _ لیکن ان سے کسی نے کہا کہ نامرادو یہ تو ابوحنیفہ کا پیروکار ہے ، یہ رافضی کیسے ہوگیا ؟ ''(۲) _ اسی کتاب کی پہلی جلد میں بتاچکے ہیں کہ جاحظ نے کہا تھا کہ بنی امیہ نے واسط کا قبلہ تبدیل کردیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ میرے خیال میں قبلہ کی تبدیلی ان کی بہت بڑی غلطی تھی(۳) _
اور ہم نے وہاں یہ بھی کہا تھا کہ بنی امیہ نے بظاہر قبلہ کا رخ بیت المقدس کی طرف موڑدیا تھا_ کیونکہ عبدالملک نے ''صخرہ'' پر ایک قبہ (گنبد) تعمیر کیا تھا اور لوگوں کو اس کے حج کا حکم دیا تھا نیز اس کے گرد طواف ، سعی ، نحر اور حج کے دیگر مناسک کا بھی حکم دیا تھا_ اور ہم نے وہاں یہ بھی کہا تھا کہ صرف عراقیوں کے لئے قبلہ (خانہ کعبہ) سے تھوڑا سا بائیں موڑنے کا استحباب بھی اسی وجہ سے ہونا اور اس حکم کا وقتی ہونا زیادہ قرین قیاس لگتاہے _ تا کہ اس ظالم و جابر اور غاصب حکومت کے مقابلے میں مومنین زیادہ تکلیف میں مبتلا نہ ہوں_
۴ _ شیعہ اپنی عورتوں کے معاملے میں بہت زیادہ غیرت(۴) کے لحاظ سے بھی مشہور تھے_
اسی لئے زکریا قزوینی مدائن والوں کے بارے میں یہ کہتاہوا نظر آتاہے : '' مدائن کے لوگ کاشتکار اور
____________________
۱) نشوار المحاظرات ج ۵ص ۱۳ و ص ۱۴ والمنتظم ابن جوزی ج۷ ص ۱۴۰_ (۲)تاریخ بغداد ج ۷ ص ۱۶ و نشوار المحاضرات ج ۶ ص ۳۶_
۳)رسائل الجاحظ ج ۲ ص ۱۶ نیز ملاحظہ ہو اسی کتاب کی پہلی جلد_
۴)البتہ اس غیرت میں طالبانی تشدد کا عنصر نہیں ہوتا تھا، بلکہ صحیح مذہبی شیعہ عورتوں کی ذہنیت ہی یہی ہوتی ہے_
شیعہ امامیہ ہیں اور ان لوگوں کی ایک عادت یہ ہے کہ ان کی عورتیں دن میں کبھی باہر نہیں نکلتیں ''(۱)
اور یہ صفت آج بھی ایران کے بعض شہروں میں موجود ہے _ بعض اہل علم حضرات نے مجھے کہا ہے کہ تبریز شہر کے ذیلی قصبہ خسرو شاہ میں دن میں کبھی کوئی عورت نہیں دکھائی دے گی شاید اکاد کا کوئی نظر آجائے تو آجائے وگرنہ نہیں ہے _ اور یہ کام وہ اپنی آقازادی حضرت بی بی فاطمة الزہرا (س) کی پیروی میں کرتے ہیں _ کیونکہ وہ بھی کسی دینی سیاسی معاملے اور حق کے اثبات جیسے کسی نہایت ضروری کام کے علاوہ دن کو باہر بالکل نکلتی ہی نہیں تھیں_(۲)
۵ _ حضرت حجر بن عدی اور ان کے ساتھی اس بات میں مشہور تھے کہ وہ حاکموں اور دولت مندوں پر کڑی تنقید کیا کرتے تھے اور ان پر چڑھائی کردیا کرتے تھے اور اس بات کو وہ بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے(۳) _ اور یہی تو شیعہ مذہب کی صفت اور شیعوں کا عقیدہ ہے جبکہ دوسرے اس معاملے میں خاموشی اور اطاعت کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں _
۶ _ حضرت حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کی ایک صفت یہ بھی تھی کہ وہ صحیح معنوں میں کٹر مذہبی افراد تھے(۴) یعنی دین کے معاملے میں ہ بہت سخت تھے _ حتی کہ یہی بات ان پر تنقید کا باعث بنتی تھی_
۷ _ شیعوں پر حکام کے ظلم و جبر اور استبداد کے باوجود بھی بغداد میں شیعہ خوشحال تھے(۵) _بظاہر ان کی خوشحالی اس وجہ سے تھی کہ وہ حکام کے استبداد اور غصب کے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے_ پس وہ ایک دوسرے کی ضرورتیں پوری کیا کرتے تھے، مشکلات حل کیا کرتے تھے اور معاملات نبٹا دیا کرتے تھے_
____________________
۱)آثار البلادو اخبار العباد ص ۴۵۳_
۲)اور آج کل ایران کی صورتحال تو نہیںمعلوملیکن بر صغیر پاک و ہند کی صحیح معنوں میں مذہبی اور دین دار خواتین آج بھی کسی ضروری کام کے بغیر گھر سے باہر قدم نہیں رکھتیں_
۳)البدایہ والنہایہ ج۸ ص ۵۴ از ابن جریر و غیرہ _
۴)ایضا_
۵)احسن التقاسیم ص ۴۱_
۸_ اچھی شہرت بھی شیعوں کی ایک خصوصیت تھی(۱) جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا سلوک نہایت بہترین نیز کردار اور تعلقات و غیرہ بھی اسلامی تقاضوں کے عین مطابق معتدل تھے_
۹_ شیعوں کی ایک خصوصیت نماز کی اول وقت میں پابندی بھی ہے _ اور اس بات پر مامون کا یحیی بن اکثم کے ساتھ ایک واقعہ بھی دلالت کرتاہے جس کے آخر میں مامون نے یحیی بن اکثم سے کہا تھا: '' شیعہ تو مرجئہ سے بھی زیادہ نماز کو اول وقت میں پڑھنے کے پابند ہیں ''(۲) لیکن دوسرے لوگوں کے بارے میں امام مالک ،قاسم بن محمد کا یہ قول روایت کرتاہے کہ میں نے ان لوگوں کو ہمیشہ ظہر کی نماز مغرب کے نزدیک نزدیک پڑھتے ہوئے دیکھا ہے(۳) اور جاحظ کہتاہے: '' او ر بنی ہاشم کو بنی امیہ پر یہ فخر حاصل ہے کہ انہوں نے خانہ کعبہ کو تباہ نہیں کیا قبلہ تبدیل نہیں کیا ، رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کو خلیفہ سے کم تر نہیں سمجھا، اصحاب کو قتل نہیں کیا اور نماز کے اوقات اور تعداد میں تبدیلی بھی نہیں کی ''(۴)
۱۰_ علم اور فقہ بھی شیعوں کی خصوصیات میں سے ہیں_
۱۱_ مہربانی اور سخاوت بھی شیعوں کی ایک خصوصیت ہے _ اس بارے میں ایک واقعہ ذکر ہوا ہے کہ جن دنوں عبداللہ بن زبیر مکہ میں تھا ان دنوں عبداللہ بن صفوان نے عبداللہ بن زبیر کے پاس آکر کہا: '' میری حالت اس شعر کی طرح ہورہی ہے :
فان تصبک من الایام جائحة
لا ابک منک علی دنیاولا دین
اگر کبھی تم پر زمانے کی مصیبتیں ٹوٹ پڑیں تو دین اور دنیا پر تم سے زیادہ رونے والا کوئی اور نہیں ہوگا_
____________________
۱)ایضا _
۲)الموفقیات زبیر بن بکار ص ۱۳۴ و ملاحظہ ہو : عصر المامون ج۱ ص ۴۴۵_
۳)مؤطا امام مالک (مطبوعہ با تنویر الحوالک) ج۱ ص ۲۷_
۴)آثار الجاحظ ص ۳۰۵ ،اس بات سے یہ بھی معلوم ہوجاتاہے کہ لوگ اپنے اموی بادشاہوں سے کتنے متاثر تھے_
تو اس نے کہا : '' ہوا کیا ہے لنگڑے بتاؤتو؟ '' اس پر اس نے کہا : '' یہ عبداللہ بن عباس لوگوں کو علم فقہ کی تعلیم دے رہا ہے اور اس کا بھائی عبیداللہ بھوکوں کو کھانا کھلارہا ہے_ دونوں کام تو وہ کررہے ہیں _ تمہارے لئے اب کیا رہ گیا ہے ؟ '' _اس نے یہ بات ذہن نشین کرلی اور اپنی پولیس کے ایک سپاہی عبداللہ بن مطیع کو یہ کہہ دونوں بھائیوں کے پاس بھیجا کہ عباس کے دونوں بیٹوں کے پاس جاکر ان سے کہو : '' جس ترابی (شیعیت کے ) جھنڈے کو خدا نے سرنگوں کردیا تھا اسے پھر تم لوگ دوبارہ لہرانے پر لگے ہو؟ اپنا یہ مجمع متفرق کرو اور بوریا بستر سمیٹو وگرنہ میں تمہارے ساتھ ایسا سلوک کروں گا کہ یادگار رہے گا'' اس نے جب یہ پیغام جاکر پہنچایا تو ابن عباس نے کہا : '' تیری ماں تیرے غم میں روئے بخدا ہمارے پاس صرف دو قسم کے لوگ آتے ہیں یا تو طالب علم و فقہ ہوتے ہیں یا پھر طالب فضل و بخشش _ تو کسے ہمارے یہاں آنے سے روکنا چاہتا ہے ؟'' تو اس موقع پر ابوطفیل نے کہا :
لا درّ درّ اللیالی کیف تضحکنا ---- منها خطوب اعاجیب و تبکینا
و مثل ما تحدث الایام من غیر ---- یا ابن الزبیر عن الدنیا تسلینا
کنا نجی ابن عباس فیقبسنا ---- علماً و یکسبنا اجرا و یهدینا
جفانه مطعما ضیفا و مسکینا ---- فالبر والدین و الدنیا بدارهما
و لا یزال عبید الله مترعه ---- ننال منها الذی نبغی اذا شین
ان النبی هو النور الذی کشفتبه ---- عما یات باقینا و ما ضینا
و رهطه عصمة فی دیننا و لهم ---- فضل علینا و حق واجب فینا
و لست فاعلمه اولی منهم رحماً ---- یا ابن الزبیر و لا اولی به دینا
ففیم تمنعهم عنا و تمنعنا
عنهم و تؤذیهم فینا و تؤذینا
لن یؤتی الله من اخزی ببغضهم
فی الدین عزاوفی الارض تمکینا(۱)
____________________
۱) الاغانی طبع ساسی ج ۱۳ ص ۱۶۸ نیز انساب الاشراف ج ۳ ص ۳۲_
اے ابن زبیر تمہارا برا ہوا اور کبھی چین سے رات نہ گذرے تمہارے عجیب و غریب مطالبے ہمیں ہنساتے بھی ہیں اور رلاتے بھی ہیں _ کبھی تمہیں بھی یہ دن دیکھنے پڑیں گے جس طرح روزگار نے ہمارے ساتھ ستم کیا ہے اور ہماری تسلی کا سامان بھی فراہم نہیں کیا _ ہم عبداللہ ابن عباس کے پاس کسب علم کے لئے جایا کرتے تھے اور وہ بھی ہمارے لئے علم کی شمع جلاتے تھے، ہمیں ثواب کمانے کا موقع دیتے تھے اور ہماری ہدایت کرتے تھے_ اور مہمانوں اور مسکینوں کو کھلانے پلانے کے لئے عبیداللہ کے برتن ہر وقت بھرے ہوئے اور تیار رہتے تھے _ اس بناپر احسان، دین اور دنیا سب کچھ ان دونوں کے گھروں میں جمع ہوگیاتھا اور ہم جب بھی جتنا بھی اور جو کچھ چاہتے تھے ہمیں یہیں سے مل جایا کرتا تھا _ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم ایسا نور ہیں جن کے ذریعہ ہمارے اگلوں پچھلوں کی آنکھیں منور ہوگئیں_ اور اس کا خاندان ہمارے دین کو بچانے والے ہیں اس لئے وہ ہم پر فضیلت رکھتے ہیں اور ہماری گردن پر ان کا حق ہے _ اے زبیر کے بیٹے تو نہ تو رشتہ داری کے لحاظ سے ان سے بہتر ہے اور نہ دین داری کے لحاظ سے _ پھر تو کس برتے پر ہمیں ان سے اور انہیں ہم سے ملنے سے روک کر انہیں ہماری بارے میں اور ہمیں ان کے متعلق پریشان کررہاہے_ جو لوگ اپنے بغض اور کینے کی وجہ سے رسوا ہوچکے ہیں خدا انہیں دین میں عزت اور زمین میں دلوں پر حکومت اور سکون کبھی نہیں دیتا_ پس عبداللہ بن زبیر علم اور سخاوت کے جھنڈوں کو ترابی ( شیعیت کا ) جھنڈا سمجھتا ہے جس کے علمبردار شیعیان ابوتراب حضرت علی عليهالسلام ہیں اور انہوں نے یہ فیض آپ عليهالسلام سے ہی حاصل کیا ہے _
۱۲ _ ہر قسم کے تعصبات سے دوری بھی شیعوں کی ایک خصوصیت ہے_ اس لئے کہ جب واقعہ عقر میں ''آل مھلب'' (خاندان مہلب) کو قتل کیا گیا تو کثیرعزت نے کہا : '' کیا بری صورتحال ہوگئی ہے_ خاندان ابوسفیان نے واقعہ کربلا میں دین کو ذبح کردیا اور مروان کی اولاد نے واقعہ عقر میں کرم اور مرد انگی کا خون کردیا''_ پھر یہ کہہ کرو ہ رو پڑا _ جب یہ بات یزید بن عبدالملک تک پہنچی تو اس نے اسے بلوایا _ جب وہ اس کے پاس آیا تو اس نے کہا: '' خدا کی پھٹکار ہو تم پر کیا ترابی ہوکر بھی تعصب برت رہے ہو؟'' ؟(۱) قبائلی اور ہر قسم کے دیگر تعصبات کے بارے میں اہل بیت عليهالسلام عصمت و طہارت عليهالسلام کا موقف واضح اور مشہور رہا ہے _
____________________
۱)الاغانی ج۸ ص ۶_
جبکہ دوسروں کاموقف بھی نہایت واضح ہے _ اور یہ ایک لمبی گفتگو ہے _ اس لئے اس پر مزید گفتگو مجبوراً کسی اور مقام کے لئے چھوڑتے ہیں(۱)
۱۳ _ شراب سے دوری بھی شیعوں کی ایک خصوصیت ہے _ مذکور ہے کہ بغداد میں شاعروں کا ایک گروہ شراب کی ایک محفل پر اکٹھا ہوا _ ان میں منصور نمری بھی تھا اور اس نے ان کے ساتھ شراب پینے سے انکار کردیا جس پر انہوں نے اس سے کہا : '' تجھے شراب سے اس لئے چڑ ہے کہ تو رافضی ہے ''(۲) اور جاحظ کہتاہے: '' ہر گروہ کی اپنی ایک خاص عادت اور علامت ہوتی ہے خصی کی پہچان روم کی طرف جانا ہے خراسانی کی پہچان حج کو جاناہے اور رافضیوں (شیعوں) کی پہچان شراب نہ پینا اور بارگاہوں (ائمہ علیہم السلام کے روضہ ہائے اقدس) کی زیارت ہے ''(۳)
۱۴_ زمخشری کہتاہے: '' شیعوں کے نزدیک عید غدیر کی شب نہایت باعظمت ہے _ ساری رات وہ جاگتے اور شب بیداری کرتے ہیں _ یہ اس دن کی شب ہے جس دن غدیر خم کے مقام پر رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے حضرت علی عليهالسلام کو پالانوں کے منبر پر بلاکر اپنے خطبہ میں ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ جس جس کا میں مولا ہوں علی عليهالسلام بھی اس کا مولا ہے ''(۴) _
۱۵_ ادب اور شاعری میں مہارت بھی شیعوں کی ایک خصوصیت ہے _
۱۶_ امت میں تبدیلی لانے کا جوش، جذبہ، تحرک اور نشاط بھی شیعوں کی ایک خصوصیت ہے اور ان تمام باتوں پر ابوفرج شیبانی کی تعریف میں کہے گئے ابن ہانی اندلسی کے یہ اشعار بھی دلالت کرتے ہیں :
''شیعی املاک بکران هم انتسبوا ---- و لست تلقی ادیبا غیر شیعی
من انهض المغرب الا قصی بلا ادب ---- سوی التشیع والدین الحنیفی(۵)
____________________
۱)ملاحظہ ہو ہماری کتاب : ''سلمان الفارسی فی مواجھة التحدی''_
۲)الاغانی ج ۱۲ ص ۲۳_ (۳)محاضرات الراغب ج ۴ ص ۴۱۸_ (۴)ربیع الابرار ج ۱ ص ۸۴ و ص ۸۵_
۵)ملاحظہ ہو : دیوان ابن ہانی ایڈیشن اول لیکن ۱۴۰۵ ہجری قمری مطبوعہ دار بیروت کے اڈیشن میں ''سکھائے'' کی جگہ '' اصلاح کرے'' ہے_
بکر کے قبیلہ والے اگر اپنا نسب بیان کریں تو ابوفرج شیبانی بھی بکر کے پادشاہ اور شیعہ ہیں_ اور آپ لوگوں کو شیعوں کے سوا کوئی ادیب نہیں ملے گا _ اور شیعوں کے علاوہ کون ہے جو بے ادب مغرب بعید ( ہسپانیہ) کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سکھائے اور یہی تو دین حنیف ہے_
۱۷_ فصاحت و بلاغت ، سالم گفتگو اور صحیح لہجہ بھی شیعوں کی ایک خصوصیت ہے _ حتی کہ اگر وہ عربی ضاد کا تلفظ بھی ادا کریں گے تو وہ واضح، مشہور اور الگ ہوگا(۱)
۱۸_ کثرت عبادت اور نماز بھی شیعوں کی ایک خصوصیت ہے _ یہاں یہ بات ذکر کرتے چلیں کہ جب عبیداللہ بن زیاد نے معقل کو حضرت مسلم عليهالسلام بن عقیل کا پتا لگانے کے لئے بھیجا تو وہ چلتے چلتے مسجد اعظم پہنچا لیکن اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کس طرح معاملہ آگے بڑھائے _ پھر اس نے دیکھا کہ مسجد کے ایک ستون کے پاس ایک آدمی کثرت سے نماز پڑھنے میں مصروف تھا_ اس نے اپنے دل میں کہا : '' یہ شیعہ لوگ کثرت سے نماز پڑھتے ہیں _ مجھے لگتاہے کہ یہ بھی انہی میں سے ہے '' _پھر اس میں مذکور ہے کہ اس نے کیسے کیسے حیلے بہانے اور کیسی سازشیں کیں یہاں تک کہ اسے حضرت مسلم عليهالسلام کا پتا چل گیا(۲) _
۱۹_ جمع بین الصلاتین ( یعنی ظہر اور عصر کی نمازوں کو اکٹھا پڑھنا اور پھر مغرب اور عشاء کی نمازوں کو اکٹھا پڑھنا _ خود اہل سنت کی بنیادی کتب میں بھی اس کے دلائل ملتے ہیں) بھی شیعوں کی ایک خصوصیت ہے اور وہ اس طرح کہ عصر کی نماز زوال کے کچھ دیر بعد ( البتہ نماز ظہر کے بعد) ادا ہوجاتی ہے(۳) _
۲۰_ ابراہیم بن ہانی کہتاہے: '' شیعوں کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ فربہ، بہت بالوں والے اور بازیگند پوش ہوتے ہیں ''(۴) _
۲۱_ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : '' میرے محترم والد صاحب نے مجھے بتایا کہ
____________________
۱)روضات الجنات ج۱ ص ۲۴۴_ (۱) اخبار الطوال ص ۲۳۵_ (۲)مقاتل الطالبیین ص ۴۶۷_
۳)بازیکند ایک قسم کا لباس ہوتاہے_
ہم اہل بیت عليهالسلام کے پیروکار بہت نیک اور بہترین لوگ ہوتے ہیں _ اگر کوئی عالم اور فقیہ ہوگا تو وہ انہی میں سے ہوگا، اگر کوئی مؤذن ہوگا تو بھی انہی میں سے ہوگا، رہنما اور قائد ہوگا تو بھی انہی میں سے ہوگا، دیانت دار ہوگا تو بھی انہی میں سے ہوگا اور امانت دار ہوگا تو بھی انہیں میں سے ہوگا_ اور انہیں ایسے ہی ہونا چاہئے_ لوگوں میں ہمیں محبوب بناؤ ، انہیں ہم سے متنفر نہیں کراؤ''(۱) _
۲۲_معتزلی امیرالمؤمنین حضرت علی عليهالسلام کی خندہ پیشانی ، حسن اخلاق، تبسم اور کشادہ روئی جیسی صفات حسنہ بیان کرتے ہوئے کہتاہے: '' اور یہ صفات حسنہ آج تک بھی آپ عليهالسلام کے محبوں اور پیروکاروں میں نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آئی ہے _ اسی طرح ان کے دشمنوں میں بھی ظلم و جفا، تنگ نظری، سنگ دلی اور سختی بھی منتقل ہوتی چلی آئی ہے _ جسے لوگوں کے اخلاق و کردار کے متعلق تھوڑی سی بھی سوجھ بوجھ ہے اسے اس چیز کا بالکل علم ہے ''(۲) _
۲۳_ حضرت امام جعفر صادق عليهالسلام نے فرمایا: '' کسی قبیلہ میں اگر ایک آدمی بھی شیعہ ہوتا تھا تو وہ اس قبیلہ کی زینت اور ان کے لئے باعث فخر ہوتا تھا ، کیونکہ وہ ان سب سے زیادہ امانت دار، حقوق و فرائض کا پاسدار، سچا اور لوگوں کی سفارشوں اور امانتوں کا مرکز ہوتا تھا اور جب بھی اس کے خاندان اور رشتہ داروں سے اس کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ جواب دیتے کہ اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں لاکھوں میں چراغ لے کر ڈھونڈو تب بھی نہ ملے _کیونکہ وہ ہم سب لوگوں سے زیادہ امانت دار اور سچا شخص ہے ''(۳) _
۲۴ _ حضرت امام صادق عليهالسلام نے ( جس طرح مردمی ہے کہ ) اپنے شیعوں سے فرمایا: '' نماز میں صرف ایک بار رفع یدین ( ہاتھوں کو کانوں تک اوپر) کیا کرو اور وہ بھی جب تم نماز شروع کرنے لگو اور بس_ کیونکہ لوگوں نے تمہیں اس صفت کے ساتھ پہچاننا شروع کردیا ہے ''(۴) _
____________________
۱)بحارالانوار ج ۷۴ ص ۱۶۲ و ۱۶۳ و صفات الشیعہ شیخ صدوق ص ۲۸_ (۲)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی ج۱ ص ۲۶_
۳)الکافی طبع قدیم ج ۸ ص ۶۷۸_
۴)بحارالانوار ج۷۵ ص ۲۱۵ والکافی ج۸ ص۷_
۲۵_ حضرت امام جعفر صادق عليهالسلام ہی فرماتے ہیں : '' شیعیان علی عليهالسلام ہر قبیلہ کے منظور نظر افراد ہوتے تھے_ وہ دیانت دار، ہرد لعزیز ، راتوں کو جاگ جاگ کر عبادت کرنے والے اور دن کے بھی چراغ ہوتے تھے ''(۱)
۲۶_ اندلس ( ہسپانیہ) کے گورنر منصور بن ابی عامر نے ایک مرتبہ ابومروان الجزیری اور اس کے علم و ادب کی تعریف کرتے ہوئے خود اسی سے کہا : '' ہم نے تمہارا تقابل عراقیوں سے بھی کیا تو تم ان سے بھی زیادہ بافضیلت نظر آئے اب تمہیں خدا کا واسطہ تم خود ہی بتادو کہ تمہارا تقابل کس سے کریں ''(۲) _
۲۷_ شیعوں کی ایک پہچان دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا بھی ہے کیونکہ اسماعیل بروسوی نے عقد الدرر میں کہا ہے : '' سنت در اصل دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنناہی ہے لیکن چونکہ یہ ظالم بدعتیوں ( اس لفظ سے اس ملعون کی مراد شیعہ ہیں) کی پہچان بن گئی ہے تواب ہمارے زمانے میں بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا سنت بن گیا ہے(۳) _
اور راغب یہ کہنے کے بعد کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے اور سب سے پہلے معاویہ نے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی ، یہ اشعار کہتاہے:
قالوا : تختم فی الیمین و انما ---- مارست ذاک تشبها بالصادق
و تقرب منی لال محمد ---- و تباعدا منی لکل منافق
الماسحین فروجهم بخواتم ---- اسم النبی بهن واسم الخالق ''(۴)
وہ لوگ کہتے ہیں کہ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرو_ اور میں نے یہ کام آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے مشابہت کے لئے کیا ہے ( کیونکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں ) اور اس لئے بھی کہ میں
____________________
۱)بحارالانوار ج۶۵ ص ۱۸۰ مطبوعہ مؤسسہ الوفاء نیز اس کے حاشیہ میں از مشکاة الانوار ص ۶۲ و ص ۶۳_
۲) بدائع البدائہ ص ۳۵۶ و نفخ الطیب ج۳ ص ۹۵ یہ ذہن نشین بھی رہے کہ ہسپانیہ کو آجکل سپین بھی کہتے ہیں _ اس میں بنی امیہ کی حکومت تھی_ لیکن کیا یہ کسی کو معلوم ہے کہ یہ علاقہ مسلمانوں کے ہاتھ سے کیسے نکلا؟ او ر ان میں غدار کون لوگ تھے اور ان کا مذہب کیا تھا؟_
۳ ) الغدیر ج ۱۰ ص ۲۱۱ از روح البیان ج۴ ص ۱۴۲_ (۴)محاضرات الراغب ج ۴ ص ۴۷۳ و ۴۷۴_
اہل بیت عليهالسلام رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کی قربت حاصل کر سکوں اور ان تمام منافقوں سے بھی بیزاری کا اظہار کرسکوں جو بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہن کر ( کم از کم طہارت کرتے وقت ) اپنی شرمگاہوں سے اسے مس (ٹچ) کرتے ہیں جن پر خدا اور اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کا نامی نامی لکھا ہوتا تھا_
۲۸_ وہ خود ہی کہتے ہیں کہ سنت اصل میں قبروں کو برابر کرنا ہے لیکن چونکہ یہ عمل رافضیوں کی پہچان بن چکا ہے اس لئے اب سنت یہ ہے کہ قبروں کو کوہان نمابنایاجائے(۱) _
۲۹_ زرقانی کہتاہے کہ بعض علما عمامے کا شملہ ( تحت الحنک) آگے سے بائیں جانب سے لٹکاتے تھے_ اور میں نے دائیں جانب سے شملہ لٹکانے کی کوئی حدیث نہیں دیکھی _ صرف ایک ضعیف حدیث ہے اور وہ بھی طبرانی سے _ لیکن چونکہ یہ شیعہ امامیہ کی پہچان بن چکاہے اس لئے ان سے مشابہت سے بچنے کے لئے بائیں جانب سے تحت الحنک لٹکانے کو ترک کردینا چاہئے(۲) _
۳۰_ زمخشری نے اہل بیت عليهالسلام پر علیحدہ سے درود اور سلام بھیجنے کو مکروہ جانا ہے _ کیونکہ اس سے رافضی ہونے کی تہمت لگ سکتی ہے(۳) _
۳۱ _ عسقلانی کہتاہے: '' تمام علماء کا اس بات پر تو اتفاق ہے کہ زندہ لوگوں کو سلام کرنا صحیح ہے لیکن انبیاء کے علاوہ دیگر وفات پاجانے والے افراد کے متعلق علماء کا آپس میں اختلاف ہے _ بعض کہتے ہیں کہ ہر صورت میں جائز ہے جبکہ بعض کہتے ہیں کہ انبیاء پر درود اور سلام کے ذیل میں صحیح ہے علیحدہ نہیں _ لیکن ہر مردہ پر علیحدہ علیحدہ درود نہیں بھیجا جائے گا _ کیونکہ یہ رافضیوں کی علامت بن چکی ہے(۴)
۳۲_ اور حسن ختام کے طور پر ہم یہ کہتے چلیں کہ راغب کہتاہے: '' اگر کہیں صرف لفظ ''امیرالمؤمنین ''
____________________
۱)رحمة الامة باختلاف الائمة ( مطبوعہ بر حاشیہ المیزان شعرانی) ج۱ص ۸۸ ، المغنی ابن قدامہ ج ۲ ص ۵۰۵ ، مقتل الحسین مقرم حاشیہ ص ۴۶۴ از مذکورہ دونوں کتب و از المہذب ابواسحاق شیرازی ج۱ ص۱۳۷ ، الو جیزغزالی ج ۱ ص ۴۷ ، المنہاج نووی ص ۲۵ ، شرح تحفہ المحتاج ابن حجر ج ۱ ص ۵۶۰ ، عمدة القاری ج ۴ ص ۲۴۸ والفروع ابن مفلح ج۱ ص ۴۸۱_
۲)مقتل الحسین مقرم حاشیہ ص ۲۶۵ ۴ز شرح مواہب ج ۵ ص ۱۳_ (۳)الکشاف ج ۳ ص ۵۵۸_ (۴)فتح الباری ج۱۱ ص ۱۴۶_
اکیلا بولا جائے تو اس سے مراد امیر المؤمنین حضرت علی عليهالسلام ہیں ''(۱)
اس موضوع سے متعلق ہمارے ذہن میں ابھی صرف یہی چند باتیں موجود تھیں _ البتہ ہم محترم قارئین سے اس توفیق کے خواہاں ہیں کہ وہ مزید صفات حسنہ کو خود تلاش کریں گے اور اپنائیں گے_
____________________
۱)محاضرات الادباء ج ۳ ص ۳۴۱_
۴۰۱
دوسرا عنوان
جناب ابوبکر کی شجاعت اور سائبان میں ان کی موجودگی_
مورخین اہل سنت کہتے ہیں کہ حضرت علی عليهالسلام نے سب سے بہادر ترین شخص کے بارے میںلوگوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا : '' آپ عليهالسلام ہیں '' لیکن آپ عليهالسلام نے اس کی نفی کی _ اور خود ہی اقرار کرتے ہوئے فرمایا: ''جنگ بدر کے موقع پر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے ایک سائبان بنانے کے بعد یہ پوچھا گیا کہ اس سائبان میں رسول خدا صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ کون رہے گا تا کہ مشرکین آپ پر حملہ نہ کرسکیں اور حملہ کی صورت میں وہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا بچاؤ کرسکے؟_ خدا کی قسم اس خطیر ذمہ داری کو نبھانے کے لئے ہم میں سے صرف ابوبکر ہی آگے بڑھا_ وہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سر پر تلوار لہرا رہا تھا تا کہ اگر کوئی مشرک آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر حملہ کرنے کی کوشش کر ے بھی تو وہ اس پر حملہ میںپہل کردے _ اس لئے وہی سب سے زیادہ بہادر شخص ہے ''(۱)
حلبی شافعی کہتا ہے :'' اس روایت سے شیعوں اور رافضیوں کی یہ بات بھی رد ہوجاتی ہے کہ خلافت کے مستحق صرف حضرت علی علیہ السلام ہی ہیں کیونکہ وہ سب سے زیادہ بہادر شخصیت ہیں '' پھر حلبی اور دحلان نے ابوبکر کے سب سے زیادہ شجاع ہونے پر یہ دلیل پیش کی ہے کہ '' نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم نے حضرت علی علیہ السلام کو یہ پیشین گوئی کردی تھی کہ وہ ابن ملجم ملعون کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمائیں گے پس وہ جب بھی جنگ
____________________
۱)تاریخ الخلفاء سیوطی ص ۳۶و ص ۳۷، مجمع الزوائد ج ۹ص ۴۷البتہ اس نے کہا ہے کہ اس کی سند میں چند ایسے راوی ہیں جنہیں میں نہیں جانتا ، البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۲۷۱، ص ۲۷۲از بزار ، حیاة الصحابہ ج ۱ ص ۲۶۱از گذشتہ دونوں منابع، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۵۶، الفتح المبین دحلان ( بر حاشیہ سیرہ نبویہ) ج ۱ ص ۱۲۲ ، از الریاض النضرہ ج ۱ ص ۹۲_
میں شرکت کرتے اور کسی دشمن کا سامنا ہوتا تو انہیں یہ پتا ہوتا تھا کہ وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا _ اس کے سامنے وہ اس طرح تھے جیسے اس کے ساتھ ایک بستر پر لیٹے ہوں _ لیکن ابوبکر کو اس کے قاتل کے بارے میں کوئی پیشین گوئی نہیں کی گئی تھی _ اس لئے جنگ میں حصہ لیتے ہوئے وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ پہلے مارے گا یا ماراجائے گا _ اس حالت میں جتنی تکلیفیں وہ برداشت کرسکتے تھے کوئی اور نہیںکر سکتا تھا _
اور عمر کے منع کرنے کے باوجود بھی زکات نہ دینے والوں سے اس کی جنگ بھی ابوبکر کی شجاعت اور بہادری پر دلالت کرتی ہے _ اور جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات حسرت آیت ہوئی تو تمام لوگوں کی عقلیں زائل ہوگئیں اور حضرت علی صلىاللهعليهوآلهوسلم بھی شدت غم سے بیٹھ سے گئے ، عثمان کی زبان بھی بندہوگئی اور وہ بولنے سے رہے لیکن اس سخت موقع پر بھی ابوبکر ثابت قدم رہا _ لیکن جنگوں میں وہ حضرت علی عليهالسلام کی طرح اس لئے مشہور نہیں ہوا کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے بہادروں سے لڑنے سے منع کردیا تھا''(۱) _
دحلان کہتا ہے :'' امامت اور رہبری سنبھالنے کے لئے شجاعت اور ثابت قدمی دو لازمی عنصر ہیں _ خاص کر جب مرتدوں و غیرہ سے جنگ کے لئے ان چیزوں کی اشد ضرورت ہو ''(۲) _
وہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں :'' جنگ بدر کے موقع پر ابوبکر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ تخت پر بیٹھا ہوا تھا _ اس لئے اس کا مرتبہ رئیسوں اور سرداروں والا تھا _ اور سردار کی شکست سے لشکر بھی شکست کھا جاتا ہے جبکہ حضرت علی علیہ السلام کا مرتبہ ایک سپاہی کا ساتھا اور سپاہی کے قتل سے کوئی لشکر کبھی شکست نہیں کھاتا''(۳) ان لوگوں کے پاس یہی وہ سارے دلائل ہیں جن کو انہوں نے جناب ابوبکر کے دیگر تمام صحابہ حتی کہ حضرت علی عليهالسلام سے بھی زیادہ بہادر اور شجاع ہونے پر پیش کیا ہے_
____________________
۱)گذشتہ تما م باتوں کے لئے ملاحظہ ہو الفتح المبین دحلان ( بر حاشیہ سیرہ نبویہ) ج ۱ ص ۱۲۳تا ص ۱۲۵، سیرہ حلبی ج ۲ ص ۱۵۶و از تفسیر قرطبی ج ۴ ص ۲۲۲_
۲)الفتح المبین دحلان ( بر حاشیہ سیرہ نبویہ )ج ۱ ص ۱۲۴تا ص ۱۲۶_
۳)تاریخ بغداد خطیب ج ۸ ص ۲۱، المنتظم ابن جوزی ج ۶ ص ۳۲۷ و العثمانیہ جا حظ ص ۱۰_
مذکورہ باتیں نادرست ہیں
ہمیں یقین سے کہ مذکورہ باتیں یا تو نادرست ہیں یا پھر بلا دلیل ہیں _ سائبان کی بات ہی سرے سے غلط ہونے کے دلائل تو پہلے ذکر ہوچکے ہیں _ بقیہ باتوں کے غلط ہونے کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں :
الف : کئی مقامات پر ابوبکر کا فرار
دحلان نے یہ تو اقرار کرلیا کہ امر امامت کے لئے شجاعت اور ثابت قدمی نہایت لازمی عناصر ہیں _ لیکن ہمیں ابوبکر کئی مقامات پر بھاگتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں _ جنگ خیبر ، حنین اور احد میں اس کا فرار بہت مشہور و معروف ہے _ ان جنگوں کی گفتگو کے دوران اس کے منابع بھی بیان ہوں گے _ اور ابوبکر کی خلافت کے معترف ابن ابی الحدید نے جنگ خیبر(۱) _ میں ابوبکر اور عمر کے فرار کے متعلق کہا ہے:
و ما انس لا انس الذین تقدما
و فرهما و الفر قد علما حوب
و للرایة العظمی و قد ذهبا بها
ملابس ذل فوقها و جلابیب
میں ان دونوں آگے بڑھ جانے والوں کے جنگ سے فرار کو کبھی نہیں بھلا سکتا _ حالانکہ وہ یہ جانتے بھی تھے کہ جنگ سے فرار ایک بہت بڑا گناہ ہے_ وہ دشمن کے پاس لشکر اسلام کا عظیم جھنڈا لے کر گئے لیکن اسے وہیں گر ا کر اپنے ساتھ ذلت اور خواری کی چادریں لے آلئے_
____________________
۱) غزوہ احد میں ان کے فرار کی بات کثیر منابع کے ساتھ اس کتاب کی چوتھی جلد میں آئے گی ، غزوہ حنین میں ان کے فرار کی بات بھی اس غزوہ کی بحث میں آئے گی اور غزوہ خیبر میں ان کے فرار کی بات کثیر منابع کے ساتھ عنقریب آئے گی _ اس روایت کو بزار نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے اسی طرح اس روایت کو طبرانی ، ایجی ، بیضاوی اور ابن عساکر نے بھی بیان کیا ہے _ اس لئے ملاحظہ ہو : مجمع الزوائد ج ۹ ص ۱۲۴، المواقف (جیسا کہ اس کی شرح میں آیا ہے ) ج ۳ ص ۲۷۶ اور اس کے شارحین نے بھی اس کے صحیح ہونے کا اقرار کیا ہے ، المطالع ص ۴۸۳ از بیضاوی در طوالع الانوار ، زندگانی حضرت علی عليهالسلام بن ابی طالب از تاریخ ابن عساکر با تحقیق محمودی ج ۱ ص ۸۲ و الغدیر ج ۷ ص ۲۰۴، مزید منابع کا ذکر آگے نے گا انشاء اللہ _
پھر یہ بھی کہا:
احضرهما ام حضر اخرج خاضب
وذان هما ام ناعم الخذ مخضوب
عذرتکما ان الحمام لمبغض
و ان بقاء النفس للنفس مطلوب
لیکره طعم الموت و الموت طالب
فکیف یلذ الموت و الموت مطلوب
بھاگتے وقت وہ ایسے دوڑے جیسے باغ میں چرنے والا شتر مرغ ڈر کے مارے لمبے لمبے ڈگ بھر تا ہوا بھاگتا ہے_ اور اپنے پیچھے بھی نہیں دیکھتا_ کیا یہ دونوں جنگجو ہیں یا آرام و آسائشے میں پلنے والے اور نرم گالوں والے ہیں جنہوں نے ہاتھوں پر مہندی لگائی ہوئی ہو (دوسرے لفظوں میں ہاتھوں میں چوڑیاں پہنی ہوئی ہوں) _ جس صورت میں موت ہمارے پیچھے لگی ہوتی ہے وہ کتنی ناپسندیدہ لگتی ہے تو اس وقت ان کی کیا صورتحال ہوگی جب وہ مرنے چلے ہوں؟ نیز یہ شعر بھی کہا:
و لیس بنکر فی حنین فراره
ففی احد قد فرقدما و خیبراً
حنین میں ان کا فرار بھی ناقابل انکار ہے اور احد اور خیبر میں تو وہ پہلے فرار کر ہی چکے تھے_
لیکن ہم ان ابی الحدید سے کہتے ہیں کہ جس شخص کو خدا کی عظمت اور قدرت نیز خدا کے( اپنے نیک بندوں ، مجاہدوں اور دین کی حمایت کرنے والوں کو دیئےوئے) وعدوں پر گہرا یقین اور ان تمام چیزوں کی معرفت ہو اسے موت بہت پیاری ہوتی ہے _ جنگ و جہاد کے موقع پر موت کے بارے میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ارشادات اس بات کی بہترین دلیل ہیں _
ابوبکر تو احد میں بھی جنگ سے پیٹھ دکھا کر بھاگ گیا تھا _ اسکافی کہتا ہے : '' اس وقت آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ موت پر بیعت کرنے والے صرف چار افراد کے علاوہ کوئی اور نہ رہا تھا _ حالانکہ ان میں ابوبکر کا کوئی ذکر نہیں ہے '''(۱)
____________________
۱)الغدیر ج ۷ ص ۲۰۶از سیرہ حلبیہ ج ۳ ص ۱۲۳_
بہرحال اس بات کا ذکر غزوہ احد کی گفتگو میں کثیر منابع کے ساتھ آئے گا ، انشاء اللہ _ وہ غزوہ خندق میں بھی عمرو بن عبدود کے مقابلے میں جانے سے بھی بزدلی دکھاتے ہوئے کنی کترا گیا _ جنگ حنین میں بھی وہ بھاگ گیا تھا ، کیونکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس اس مشکل گھڑی میں حضرت علی عليهالسلام ، عباس ، ابوسفیان بن حارث اور ابن مسعود کے سوا اور کوئی بھی نہ رہا(۱)
خلاصہ یہ کہ ابوبکر نے شرکت تو تمام جنگوں میں کی لیکن ان تمام جنگوں میں نہ صرف اس سے غلطی سے بھی ایسا کوئی فعل سرزد نہیںہواجو اس کی بہادری اور شجاعت پر دلالت کرتا( اس نے نہ تو جنگوں میں عملی حصہ لیا نہ کسی کو قتل کیا حتی کہ کسی کو زخمی تک بھی نہیں کیا )بلکہ اس سے تو ان تمام چیزوں کے بالکل برعکس افعال سرزد ہوئے اور وہ اکثر جنگوں میں اس کا فرار کرجانا ہے _ بلکہ وہ تو ہمیشہ لوگوں کو بھی بزدلی دکھانے پر اکساتا اور انہیں رن چھوڑ کر بھاگ جانے کا مشورہ دیتا رہتا تھا _ پھر اس جیسی صفات کے حامل شخص کو بہادر کیسے کہا جائے گا ؟ اگر جنگ بدر میں حصہ نہ لینے کا اس کے پاس ایک بہانہ تھا کہ مؤرخین نے اسے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ اس جھوٹے تخت پر بٹھایا ہوا تھا جنہیں چھوڑ کر وہ کہیں نہیں جاسکتا تھا تو جنگ احد ، حنین اور خیبر و غیرہ میں تو یہ چیزیں نہیں تھیں ؟ اس وقت وہ کہاں تھا؟ جب رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو مشرکین نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا اور وہ نور الہی کو ہمیشہ کے لئے بجھاناچاہتے تھے_ کیا اس وقت بھی ا بوبکر تخت سرداری پر بر اجمان تھے ؟ اور حضرت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی حیثیت ( نعوذ باللہ) ایک لڑنے والے عام سپاہی کی سی تھی جو اپنے سردار ابوبکر کی جان کی حفاظت کے لئے بے جگری سے لڑرہے تھے ؟ کیونکہ ابوبکر کے قتل یا شکست سے لشکر ہی شکست کھاجاتا ؟ پھر وہ خیبر میں علم پھینک کر کہاں بھاگ گیا تھا جب ایک یہودی ''یا سر'' مسلمانوں کی صفوں کو چیرتا ہوا آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم تک آپہنچا تھا اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو بنفس نفیس اس سے جنگ لڑنی پڑی تھی اور اس وقت آشوب چشم کی بیماری میں مبتلا مدینہ رہ جانے والے حضرت علی عليهالسلام (۲) کو بلوانا پڑاتھا اور انہوں نے ہی آکر مرحب کو پچھاڑ کر
____________________
۱)شرح نہج البلاغہ ابی ابن الحدید ج ۱۳ ص ۲۹۳_
۲) البتہ بعض روایتوں میں ملتا ہے کہ حضرت علی عليهالسلام لشکر کے ساتھ ہی تھے لیکن آشوب چشم کی وجہ سے اپنے خیمے میں آرام کر رہے تھے اور اگر یہاں کوئی معجزہ در کار نہ ہو تو یہی روایت قرین قیاس لگتی ہے _
قتل کیا تھا اور خدا نے حضرت علی عليهالسلام کے ہاتھوں قلعہ خیبر فتح کرایا تھا اور یہ واقعہ اتنا مشہور و معروف ہے کہ بچے بچے کو بھی اس کا علم ہے _ اور جنگ احد میں بھی اسی نے بھاگ کر دشمنوں کو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم تک پہنچنے کا موقع فراہم کیا تھا _ جن میں سے کسی نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے رخ انور پر پر پتھر دے مارا تھا جس سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا چہرہ زخمی ہوگیا تھا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو بہت تکلیف ہوئی تھی _ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں قابل ذکر ہیں_
بہرحال ان کے یہ کہنے کاکیا مطلب ہوسکتا ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم اسے لڑنے سے منع فرمایا کرتے تھے ؟ تو کیا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے جنگ احد ، حنین ، خیبر اور دیگر جنگوں میں بھی لڑنے سے منع فرمایا تھا ؟ اور کیا آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم اسے لڑنے سے منع کر کے خود جنگ میں کود پڑتے تھے ؟ حتی کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا جسم شریف زخمی بھی ہوجایا کرتا تھا؟ کیا یہ سب کچھ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے سردار ابوبکر بن قحافہ کے دفاع کے لئے کیا کرتے تھے؟ بہرحال اسکافی تو کہتا ہے کہ ابوبکر نے نہ کبھی کوئی تیز پھینکا ہے نہ تلوار چلائی ہے اور نہ جنگوں میں کوئی خون بہایا ہے وہ توصرف لشکر کی سیاہی ہوا کرتا تھا _ نہ مشہور تھا نہ معروف ، نہ اس سے کسی کو کوئی کام ہوتا تھا اور نہ اسے کسی سے کوئی کام ہوتا تھا _
اسکافی کے طویل کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ابوبکر کا آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے تقابل ممکن ہی نہیں ہے اور نہ اسے ایسا سردار قرار دیا جاسکتا ہے جس کی ہلاکت سے لشکر کے تباہ و برباد ہونے کا خدشہ ہو کیونکہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم ہی سردار لشکر اور اس نئے دین کے بانی تھے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ہی اپنے دوست اور دشمن کی خوب پہچان رکھتے تھے اور سب دوست و دشمن صرف آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو ہی سید اور سردار جانتے اور مانتے تھے _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہی قریش اور پورے عرب کو اپنے نئے دین سے سخت غضبناک کیا ہوا تھا _ اور پھر ان کے بڑے بڑوں کو قتل کر کے انہیں گھبرا ہٹ اور پریشانی میں مبتلا کیا ہوا تھا _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ہی وہ شخصیت تھے جس پر اس امت بلکہ جنگجوؤں کا دار و مدار تھا _ لیکن ابوبکر کسی بھی چیز پر کسی بھی لحاظ سے اثر انداز نہیں تھا _ ابوبکر بھی عبدالرحمن بن عوف اور عثمان و غیرہ جیسے دیگر مہاجرین کی طرح تھا _ بلکہ عثمان تو اس سے زیادہ مشہور اور مالدار تھا _ پس مذکورہ جنگوں میں سے کسی بھی معرکہ میں اس کے قتل سے اسلام کبھی کمزور نہیں ہوسکتا تھا ، نہ ہی کبھی مٹ سکتا تھا _ پس اسے کیسے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی طرح قرار دیا جاسکتا ہے ؟ جبکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا کہیں ٹھہرنا بھی کسی مصلحت اور تدبیر اور حمایت کے تحت ہوتا تھا _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے اصحاب کی نگرانی کیا
کرتے تھے ،حکمت عملی مرتب فرماتے تھے ، ان کا موقف اور کردار معین کرتے تھے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی صحت و سلامتی صحابہ کے لئے باعث اطمینان ہوتی تھی _ اور اگر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم لشکر کے ہر اول دستے میںہوتے تو تما م صحابہ کا ذہن آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی چال اور رستے میں مصروف ہوجاتا اور وہ یکسوئی کے ساتھ دشمن کے ساتھ نہ لڑپاتے _ اور صحابہ کے پاس ایسی کوئی اور شخصیت بھی نہیں تھی جو ان کا ملجاء و ما وی ہوتی ، ان کی قوت اور طاقت بنتی ، انہیں ان کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتی اور مناسب موقع پر بذات خود کسی مہم میں حصہ لیتی _
ہاں اگر ابوبکر ( نعوذ باللہ ) نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے ساتھ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی نبوت میں شریک ہوتا اور عرب کو بھی وہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرح مطلوب ہوتا تو ان لوگوں کی بات صحیح ہوتی _ لیکن وہ تو اعتقاد کے لحاظ سے سب مسلمانوں سے کمزور اور عربوں کا سب سے بے ضرر شخص تھا _ اس نے کبھی لڑائی نہیں کی تھی بلکہ وہ توصرف لشکر کی سیاہی تھا_ پھر اسے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خد اکے مقام و مرتبے کے برابر کیسے قرار دیا جاسکتا ہے ؟ اس کے بعد اسکافی نے جنگ احد میں اس کے اپنے بیٹے عبدالرحمن کے ساتھ لڑائی کا ماجرا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کا ابوبکر کو یہ کہنا کہ جنگ سے رک جاؤ اور ہمیں اپنے وجود سے نفع اٹھانے دو _ اس وجہ سے تھا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم جانتے تھے کہ یہ شخص لڑنے اور بہادروں کا سامنا کرنے والانہیںہے اور اگر یہ لڑنے چلا بھی گیا تو مارا جائے گا _ پھر اسکافی نے آیت (فضل اللہ المجاہدین علی القاعدین اجرا عظیماً) اور دیگر آیتیں ذکرکیں اور مزید یہ بھی کہا کہ اگر بزدل اور کمزور لوگ جنگ میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے سرداری کے لائق بن سکتے ہیں تو حسان بن ثابت میں یہ قابلیت سب سے زیادہ پائی جاتی تھی_
حالانکہ قریشی سب سے پہلے تو رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو قتل کرنا چاہتے تھے اور اس کے بعد وہ حضرت علی علیہ السلام کی جان کے پیچھے پڑے ہوئے تھے _ کیونکہ وہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سب سے زیادہ قریب، مشابہ اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سب سے سرسخت حامی اور مدافع تھے ، اور حضرت علی عليهالسلام کا قتل آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو بہت کمزور کر سکتا تھا اور (نعوذ باللہ ) آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی کمر توڑکر رکھ سکتا تھا _ جبکہ جبیر بن مطعم نے اپنے غلام وحشی کو حضرت محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم ، علی عليهالسلام یا حمزہ کو قتل کرنے کی صورت میں آزادی کا وعدہ دیا تھا_اور اس میں بھی ابوبکر کا کوئی ذکر نہیں _ اور حضرت علی علیہ السلام کے حالات کی
رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے حالات سے وابستگی کی وجہ سے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو ہر وقت حضرت علی عليهالسلام کی جان کا خطرہ لاحق رہتا تھا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اس کی سلامتی اور حفاظت کی دعائیں مانگا کرتے تھے _ اسکافی کی باتوں کا خلاصہ اختتام کو پہنچا(۱) _
لیکن اسکافی نے ابوبکر کی وہ حالت ذکر نہیں کی جب اس نے سراقہ کو نیزہ سنبھالے ہوئے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تھا _ جبکہ سراقہ ایک ایسا آدمی ہے جس کی بہادری کاکوئی قصہ بھی نہیں ملتا(۲) _
ب: ابوبکر کے ذریعہ بنی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کی حفاظت
اور یہ روایت کہ ابوبکر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ تلوار سونتے کھڑا تھا تا کہ اگر کوئی مشرک آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر حملہ کرنا چاہے تو وہ آگے بڑھ کر پہلے اس کا کام تمام کردے _ یہ بھی مندرجہ ذیل دلائل کی روسے صحیح نہیں ہے _
۱_ ایک تو اس روایت کی اسناد ضعیف ہیں(۳) _
اس کے علاوہ ان کا یہ مشہور قول بھی اس کی نفی کرتا ہے کہ سعد بن معاذ ، انصار کے ایک گروہ کے ساتھ سائبان میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کی ذمہ داری نبھا رہا تھا اور بعض نے اس تعداد میں حضرت علی عليهالسلام کا بھی اضافہ کیا ہے(۴) _
شاید انہوں نے حضرت علی عليهالسلام کا اضافہ اس مذکورہ عمل کے سبب کیا ہے کہ حضرت علی عليهالسلام تھوڑی تھوڑی دیر لڑکر پھر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی خیریت دریافت کرنے آجاتے تھے _ پس جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اور ابوبکر سائبان کے اندر تھے اور وہ انصاری سعد بن معاذ کے ساتھ اس سائبان کے باہر کھڑے پہرہ دے رہے تھے تو پھر مشرکین آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم تک کیسے پہنچ سکتے تھے؟ کہ اگر حملہ ہوتا تو ابوبکر پہل کر کے اس حملہ آور کا کام تمام کردیتا ؟ پھر کیا ان پہرے
____________________
۱)ملاحظہ ہو : شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱۳ ص ۲۷۸ تا ص ۲۸۴_
۲)تقویہ الایمان ص ۴۲_ (۳)اس کی اسناد کو ہیثمی نے مجمع الزوائد ج۹ ص ۴۶۱ میں ضعیف قرا ر دیا ہے _
۴) البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۷۱ و سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۵۶و ص ۱۶۱_
داروں کے حالات ابوبکر کے حالات سے زیادہ سخت نہیں تھے؟ کیونکہ اس کا دفاع اور اس کی حفاظت کرنے والے لوگ باہر موجود تھے اور وہ اندر اطمینان اور آرام سے بیٹھا ہوا تھا _ لیکن ان لوگوںکی حفاظت کرنے والا کوئی نہ تھا ؟
۲_ علامہ امینی فرماتے ہیں :'' اس پر مزید یہ کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کی خطیر ذمہ داری صرف ابوبکر یا سعد بن معاذ کے ساتھ خاص نہیں تھی _ کیونکہ دوسرے لوگوں نے بھی دیگر مقامات پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کا بیڑہ اٹھایا تھا _ بطور مثال : بلال ، ذکوان اور سعد بن ابی وقاص نے وادی القری میں ، ابن ابی مرثدنے جنگ حنین کی رات ، زبیر نے جنگ خندق کے دن، محمد بن مسلمہ نے جنگ احد میں ، مغیرہ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر اور ابوایوب انصاری نے خیبر کے رستے میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا تھا _ اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ حفاظت حجة الوداع کے موقع پر اس آیت ( و اللہ یعصمک من الناس ) ترجمہ : '' اور خدا تمہیں لوگوں کے شر سے بچائے گا ''_کے نزول تک جاری رہی _ پھر اس آیت کے نزول کے بعد حفاظتی مہم ختم کردی گئی _ یہ تمام باتیں تو اس صورت میں ہیں جب ابوبکر کی حفاظت والی جعلی بات کو صحیح تسلیم کرلیا جائے''(۱) _
گذشتہ باتوں میں اگر چہ اعتراض کی گنجائشے بھی موجود ہے لیکن سمہودی '' اسطوان المحرس '' (حفاظتی ستون ) کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یحیی کہتا ہے کہ مجھے موسی بن سلمہ نے خود بتایا کہ میں نے جعفر بن عبداللہ بن حسین سے حضرت علی صلىاللهعليهوآلهوسلم بن ابی طالب کے ستون کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا : '' یہ حفاظتی چوکی تھی ، جس کے روضہ اطہر کی طرف والے حصے کے سامنے حضرت علی عليهالسلام بیٹھ کر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاطت کیا کرتے تھے ''(۲) _
۳_ علامہ امینی ہی فرماتے ہیں : '' اگر رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کے لئے ابوبکر کے تلوار سونتنے والی حدیث صحیح ہوتی تو وہ حضرت علی عليهالسلام ، حمزہ اور عبیدہ و غیرہ سے زیادہ ان آیتوں کے اپنی شان میں نزول کا حق دارتھا (ہذان
____________________
۱) الغدیر ج ۷ ص ۲۰۲ نیز مذکورہ باتیں منقول از عیون الاثر ج ۲ ص ۳۱۶، المواہب اللدنیہ ج ۱ ص ۳۸۳ ، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۳۳۴، شرح المواہب زرقانی ج ۳ ص ۲۰۴_
۲) وفاء الوفاء ج ۱ ص ۴۴۷_
خصمان اختصموا فی ربہم )اور ( من المومنین رجال صدقوا ما عاہدوا اللہ علیہ ) لیکن یہ آیتیں اس کے باے میں نہیں بلکہ مذکورہ شخصیتوں کے بارے میں نازل ہوئیں _ اسی طرح وہ حضرت علی عليهالسلام سے بھی زیادہ اس آیت کے نزول کا حق دار ہوتا ( هوالذی ايّدک بنصره و بالمؤمنین ) اس کے علاوہ دیگر آیتوں کا بھی مصداق ٹھہرتا لیکن ایسا نہیں ہوا _ اسی طرح''لا سیف الا ذوالفقار و لافتی الّا علی '' کی ندا دینے والے رضوان پر ضروری ہوتا کہ وہ اپنی اس ندا میں حضرت علی عليهالسلام کے نام کی جگہ ابوبکر کا نام لیتا اور ذوالفقار کی جگہ اس کی تلوار کا ذکر کرتا _ کیونکہ مذکورہ جعلی روایت کی روسے اس خطیر ذمہ داری کابیڑہ اس کے علاوہ کوئی اور اٹھانے کی بھی جرات نہیں کرسکا تھا اور اس شخص کے ذریعہ سے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا اور دین کی حفاظت ہوئی تھی''(۱) _
ج : ابوبکر میدان جنگ میں
ابوبکر کے سائبان میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کرنے والی بات کی مندرجہ ذیل باتیں نفی کرتی ہیں:
۱_ وہ خود کہتے ہیں کہ جنگ بدر کے موقع پر ابوبکر میمنہ ( لشکر کے دائیں حصہ ) کا سردار یا اس حصہ میں شامل تھا(۲) _
۲_ وہ خود ہی کہتے ہیں کہ اس کے بیٹے عبدالرحمن نے اپنے باپ سے کہا : '' بابا آپ نے جنگ بدر میں مجھے کئی مرتبہ نشانہ بنانا چاہا لیکن میں آپ سے چوک گیا ''(۳) _
۳_ یہ بھی وہ خود ہی کہتے ہیں کہ جب جنگ بدر میں عبدالرحمن نے اپنا حریف طلب کیا تواس کا باپ اس کے مقابلے کے لئے نکلا جس پر رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے اسے روکتے ہوئے فرمایا : '' اپنے وجود سے ہمیں فائدہ اٹھانے دو''(۴) _
____________________
۱)ملاحظہ ہو: الغدیر ج ۲ ص ۴۶ تا ص ۵۱، ج ۷ ص ۲۰۲، ص ۲۰۳تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ_
۲) المغازی واقدی ج ۱ ص ۵۸ و البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۲۷۵_
۳) الروض الانف ج ۳ ص ۶۴اور مستدرک حاکم ج ۳ ص ۴۷۵ اور حیاة الصحابہ ج ۲ ص ۳۳۲، ص ۳۳۳از کنز ج ۵ ص ۳۷۴میں آیا ہے کہ یہ واقعہ جنگ بدر میں پیش آیا_
۴) سنن بیہقی ج ۸ ص ۱۸۶، حیاة الصحابہ ج ۲ ص ۳۳۲و ص ۳۳۳از حاکم ازواقدی _
البتہ اس واقعہ پر اسکافی کا حاشیہ بھی گذر چکا ہے اور مزید باتیں جنگ احد کے موقع پر بھی ہوں گی _ انشاء اللہ _
د: حضرت علی عليهالسلام کی ناکثین اور قاسطین سے جنگ
رہا ان لوگوں کا حضرت علی عليهالسلام کے متعلق آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اس پیشین گوئی کا ذکر کہ حضرت علی علیہ السلام ناکثین اور قاسطین سے جنگ کریں گے اور ابن ملجم کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمائیں گے اور اس طرح ان کے دعوے کے مطابق وہ دشمن کا سامنا کرتے وقت ایسے ہوتے تھے جیسے اپنے بستر پر سوئے ہوئے ہوں تو ان باتوں سے ابوبکر کی شجاعت اور افضلیت بھی ثابت نہیں ہوتی _ اس بارے میں ہم مندرجہ ذیل نکات کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں :
۱_ اسکافی کہتا ہے : '' آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی عليهالسلام کو قاسطین اور ناکثین سے جنگ کرنے کی پیشین گوئی اس وقت کی تھی جب جنگوں کا موسم گذر چکا تھا ، لوگ دین الہی میں جوق در جوق داخل ہو رہے تھے ، جزیہ ادا کیا جارہا تھا اور سارا عرب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے جھک گیا تھا''(۱)
۲_ اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی عليهالسلام کو ابن ملجم کے ہاتھوں شہید ہونے کی پیشین گوئی غزوہ العشیرہ میں کی تھی _ جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو ابوتراب عليهالسلام کی کنیت سے نوازاتے ہوئے فرمایا تھا : '' کائنات کا بدبخت ترین شخص تمہاری ڈاڑھی کو تمہارے سر کے خون سے رنگے گا '' _ لیکن اس میں بھی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی عليهالسلام کی شہادت کا وقت معین نہیں فرمایا تھا _ ہوسکتا تھا ایک ما ہ بعدیہ سانحہ ہوجائے اور ہوسکتا تھا کئی سال تک بھی نہ ہو _
۳_ اس بارے میں بداء بھی واقع ہوسکتا تھا _ اور وہ اس طرح کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی پیشین گوئی اس لحاظ سے تھی کہ اگر کوئی رکاوٹ آڑے نہ آئی تو اس فعل کا مقتضی موجود ہے _
____________________
۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱۳ص ۲۸۷_
۴_ اگر ہم اس پیشین گوئی کو اس وقت مان بھی لیں تب بھی وہ اپنے بستر پر آرام سے سوئے ہوئے شخص کی طرح کیسے ہوگئے ؟ حالانکہ یہ بھی ممکن تھا بلکہ ہوا بھی ہے کہ آپ عليهالسلام جنگ احد وغیرہ میں حد سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے _ نیز یہ بھی ممکن تھا کہ آپ عليهالسلام کی کوئی ہڈی و غیر ٹوٹ جاتی یا آپ عليهالسلام کا کوئی عضو کٹ سکتا تھا _ کیا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی مذکورہ پیشین گوئی سے ان کے لئے یہ بھی ثابت ہوگیا تھا کہ حضرت علی عليهالسلام ان تمام چیزوں سے بھی در امان ہیں؟ کہ ان کے نزدیک آپ عليهالسلام اپنے بستر پر سوئے ہوئے شخص کی طرح قرار پائے ؟ پھر مسلمان حضرت علی عليهالسلام کی بہادریوں کی تعریف کیوں کرتے تھے؟ نیز خیبر، احد اور بدر و غیرہ جیسے کئی مقامات پر خدا اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے آپ عليهالسلام کی مدح سرائی کیوں کی ؟ پھر وہ اسے آپ عليهالسلام کے امتیاز فضیلت اور عظمت کی وجہ کیوں سمجھتے تھے؟ پس اگر یہ بات صحیح تھی تو پھر تو سب لوگ حتی کہ عورتیں بھی حضرت علی عليهالسلام سے زیادہ بہادر ہوئیں(۱) _
۵_ وہ لوگ خود ہی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم نے زبیر کو یہ پیشین گوئی کردی تھی کہ وہ حضرت علی عليهالسلام سے لڑے گا جبکہ وہ آپ عليهالسلام کے حق میں ظلم کر رہا ہوگا اور طلحہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :
( ما کان لکم ان تؤذوا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم الله و لا ان تنکحوا ازواجه من بعده )
تمہارے لئے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو تکلیف پہنچانا اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے بعد ان کی ازواج سے شادی رچانا مناسب نہیں ہے_ اور وہ '' احجار الخلافة'' ( خلافت کے پتھروں) والی حدیث بھی خود ہی روایت کرتے ہیں جس میں ان کے دعوی کے مطابق ابوبکر آگے آگے تھے ( جبکہ یہ یقینی بات ہے کہ یہ واقعہ تمام جنگوں سے پہلے پیش آیا ہے ) _ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے اصحاب کے حق میں نہایت زیادہ احادیث موجود ہیں _ اسی طرح خود رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا بھی یہ جانتے تھے کہ یہ دین عنقریب سب پر غالب آئے گا اور کامیابی اور کامرانی کے ساتھ دوبارہ مکہ
____________________
۱)یہاں اس بات کا ذکر بھی فائدے سے خالی نہیں ہے کہ ابوبکر کو بھی اس نئے دین کی سرداری اور حکومت کی پیشین گوئی کی گئی تھی_ اور یہ پیشین گوئی حضرت علی عليهالسلام کے متعلق پیشین گوئی سے زیادہ واضح اور حتمی تھی _ وہ اس بناپر کہ ابوبکر جب تک اس امت کا حاکم نہیں بنتا اسے کچھ نہیں ہوگا اور دوسرا یہ کہ وہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے بعد بھی کچھ عرصہ زندہ رہے گا تا کہ اس امت پر حکومت کرے _ لیکن ہم یہ دیکھتے ہیںکہ وہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے دور کی جنگوں میں ہی مشکل مرحلے میں جان بچا کر بھاگ جاتا ہے _ اس کی مزید تفصیل کسی اور موقع پر آئے گی _ انشاء اللہ _
میں داخل ہوں گے _ اور مسلمانوں کے ہاتھ قیصر و کسری ( روم اور ایران ) کے خزانے لگیں گے _ اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سی پیشین گوئیاں ہیں جن کی جستجو اور ذکر کی یہاں گنجایش نہیںہے تو کیا ان پیشین گوئیوں کی وجہ سے ان کا جہاد اکارت گیا؟ ان کی فضیلتیں ختم ہوگئیں ؟ اور بہادری بزدلی میں تبدیلی ہوگئی؟
ہ: زکات نہ دینے والوں سے جنگ
اور رہی زکات نہ دینے والوں سے ابوبکر کی جنگ، تو اس نے یہ جنگ بذات خود نہیں لڑی تھی _ بلکہ اس کی حکومت اور مقام کے تحفظ کے لئے اس کی فوج نے لڑی تھی _ کیونکہ وہ لوگ اسے خلافت کا اہل نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ یہ جانتے تھے کہ وہ ان سے ناحق زکات لے رہا ہے _ اور بعینہ یہی صورتحال ان لوگوں سے جنگ میں بھی تھی جنہیں وہ '' اہل الردہ '' ( مرتد لوگ) کہتے تھے(۱)
اور یہ بات واضح ہے کہ فیصلہ میں ہٹ دھرمی اور اڑے رہنا جنگ میں شجاعت کی دلیل نہیں ہے کیونکہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص یہ دیکھ رہا ہوکہ میرے فیصلے دوسرے لوگ نافذ کریں گے تو اس موقع پر کوئی بزدل شخص ایک بہادر شخص سے بھی زیادہ اپنے فیصلے پر ڈٹارہتا ہے _
و: وفات رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے وقت اس کی ثابت قدمی
اور وفات رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے وقت اس کی ثابت قدمی کے متعلق مندرجہ ذیل بیانات کافی ہیں :
۱_ علامہ امینی فرماتے ہیں : '' اگر شجاعت کا معیار کسی کی وفات پر آنسو نہ بہانا ہے تو اس صورت میں تو ابوبکر خود آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے بھی زیادہ بہادرہوجائے گا _ کیونکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم تو عام لوگوں کی وفات پر بھی ان کے
____________________
۱) حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آپ عليهالسلام کے بعد حضرت علی عليهالسلام کے علاوہ کوئی اور حاکم اور خلیفہ بنے گا _ وہ لوگ حضرت علی عليهالسلام کو ہی حق دار سمجھتے تھے _ مدینہ والے تو اسی دن یا چند دنوں میں دباؤ یا لالچ میں آگئے تھے لیکن دوسرے شہروں کا معاملہ مختلف تھا _ حتی کہ اسامہ بھی جب تک مدینہ سے باہر رہا اس نے ان لوگوں کی بات قبول نہیں کی تھی _ اوروہ لوگ زکات و غیرہ صرف حق دار کوہی دینا چاہتے تھے اسے لئے انہیںنہیں دی تھی لیکن انہوں نے اپنی حکومت بچانے کے لئے ان پر مرتد و غیرہ کا لیبل لگا کر ان سے جنگ شروع کردی حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا _
بقول ثابت قدم نہیں رہے _ اس لئے کے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے عثمان بن مظعون کو بوسہ دیا ، اس کے لئے بلند آواز سے گریہ کیا اور آنسو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے رخسار پر رواں تھے(۱) نیز اس لحاظ سے تو عثمان بن عفان بھی نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم سے زیادہ بہادر ہوجائے گا کیونکہ اس کی بیوی کی موت بھی شب وفات اسے عورتوں سے ہم بستری سے نہ روک سکی لیکن آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی لے پالک بیٹی کی وفات پر آنسو بہاتے رہے_(۲) _
۲_ عمر کے جنون ، عثمان کے گونگے پن اور حضرت علی عليهالسلام کی غم و اندوہ سے بے حالی کا جو حال انہوں نے ذکر کیا ہے اگر صحیح ہوتا ا ور دحلان کے دعوے کے مطابق خلافت کے حصول سے مانع ہوتا ( کیونکہ امر امامت اورخلافت کے لئے شجاعت اور ثابت قدمی دو اہم عناصر ہیں اور مذکورہ افراد کے مذکورہ عمل کی وجہ سے ان میں یہ صفات مفقود ہوگئی تھیں)تو ان لوگوں نے بعد میں ان کی خلافت کیسے قبول کرلی ؟ حالانکہ اس وقت بھی تو امر امامت کے لئے ضروری اہم چیزوں سے وہ محروم تھے؟ جبکہ حضرت علی عليهالسلام کے عاجز ہونے کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ وہ عاجز کیسے ہوگئے ؟ حالانکہ آنحضرت نے آپ عليهالسلام کی گود میں وفات پائی تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی تغسیل ، تجہیز اور تکفین کی ساری ذمہ داری نبھائی _ یہاں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات نے حضرت علی عليهالسلام پر گہرا اثر تو چھوڑا لیکن وہ اپنی مصروفیات سے عاجز نہیں آئے لیکن دوسرے لوگو ں کو تو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کا ذرا بھی صدمہ نہیں ہوا اور وہ لوگ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی تجہیز و تکفین کے اہم کام کو نظر انداز کر کے حاکم بننے یا چننے نکل کھڑے ہوئے _
۳_ انہوں نے ابوبکر کی ثابت قدمی کا جو تذکرہ کیا ہے تو یہ ثابت قدمی (اگر اسے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کا صدمہ ہوا تھا تو) صرف اس بات پردلالت کرتی ہے کہ اس نے یہ صدمہ برداشت کرلیا اور بس _ جبکہ ہم حضرت علی علیہ السلام کو دیکھتے ہیں کہ آپ عليهالسلام حقیقت میں اس صدمہ کا سامنا کر رہے ہیں _ جبکہ وہ آپ کی
____________________
۱)الغدیر ج ۷ ص ۲۱۴، از سنن بیہقی ج ۳ ص ۴۰۶، حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۱۰۵، الاستیعاب ج ۲ ص ۴۹۵، اسد الغایہ ج ۳ ص ۳۸۷، الاصابہ ج ۲ ص ۴۶۴، سنن ابوداؤد ج ۲ ص ۵۸ ، سنن ابن ماجہ ج ۱ ص ۴۸۱و بعض دیگر منابع جنہیں علامہ احمدی نے اپنی کتاب التبرک ص ۳۵۵ میں ذکر کیا ہے پس وہاں ملاحظہ فرمائیں _ (۲)الغدیر ج ۲ ص۲۱۴، ج ۳ ص ۲۴از الروض الانف ج ۳ ص ۲۴، مستدرک حاکم ج ۴ ص ۴۷، الاستیعاب ج ۲ ص ۷۸ ،اس نے اسے صحیح جانناہے و الاصابہ ج ۴ ص ۳۰۴، ص ۴۸۹_
وفات سے فکرمند نہیںہوا تھا _ یہانتک کہ لوگوں کے سامنے اسے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم پر اپنے غم کی دلیل پیش کرنا پڑی(۱)
بہرحال ابوبکر کی شجاعت اور بہادری کے اثبات میں ان کے دلائل نادرست ، ناکافی اور بے فائدہ ہیں_
____________________
۱)حیاة الصحابہ ج ۲ ص ۸۴و کنزالعمال ج ۷ ص ۱۵۹ از ابن سعد _
تیسرا عنوان
ذوالشمالین کا قصہ اور نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کا سہو
ہم پہلے یہ بتاچکے ہیں کہ ذوالشمالین جنگ بدر میں شہید ہوگیا تھا لیکن کچھ روایتیں اس کی نفی کرتی ہیں _ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ ابوہریرہ یہ دعوی کرتا ہے میں نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے ساتھ ظہریا عصر کی نماز پڑھ رہا تھا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے دور کعتوں کے بعد سلام پھیر کر نماز تمام کردی جس پر بنی زہرہ کے حلیف ذوالشمالین بن عبد عمرو نے کہا : ''کیا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے نماز میں تخفیف کردی ہے ( یعنی نماز قصر پڑھی ہے ) یا پھر بھول گئے ہیں ؟ '' جس پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : '' یہ دوہاتھوں والا کیا کہتا ہے ؟'' تو صحابیوں نے کہا :'' یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ وہ سچ کہتا ہے '' _ جس پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ناقص رہ جانے والی دو رکعتیں پوری کردیں_ اور اس روایت کے متعلق مختلف قسم کی کئی دستاویزات ہیں جن میں سے بعض میں آیا ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ذوالشمالین کو یہ جواب دیا : '' ایسی کوئی بات نہیں ہے''' جبکہ بعض میں آیا ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے غضبناک حالت میں مسجد کی ایک لکڑی سے ٹیک لگایا اور کچھ لوگ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو نماز میں کمی کے متعلق بتانے کے لئے جلدی سے صفوں سے باہر نکلے _ اور بعض دستاویزات میں آیا ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم جانے لگے تو پیچھے سے ابوبکر ، عمر اور ذوالشمالین آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے آملے(۱)
____________________
۱)صحیح بخاری باب سوم از ابواب'' ما جاء فی السہو فی الصلاة'' ، صحیح مسلم ابواب سہو ، فتح الباری ج ۳ ص ۷۷تا ص ۸۳ نیز اس کے حاشیہ پر بخاری، المصنف حافظ عبدالرزاق ج ۲ ص ۲۹۶، ص ۲۹۷، ص ۲۹۹ ، مسند احمد ج ۲ ص ۲۷۱، ص ۲۸۴، ص ۲۳۴، مؤطا مالک ج ۱ ص ۱۱۵ منقول از کنز العمال ج ۴ ص ۲۱۵ و ص ۲۱۴از عبدالرزاق و ابن ابی شیبہ ، تہذیب الاسماء و اللغات ج ۱ ص ۱۸۶، الاستیعاب بر حاشیہ الاصابہ ج ۱ ص ۴۹۱ و ص ۴۹۲ ، الاصابہ ج۱ ص ۴۸۹ ، اسد الغابہ ج ۲ ص ۱۴۶، سنن بیہقی ج ۲ ص ۲۳۱، سنن نسائی باب '' ما یفعل من سلم من الرکعتین ناسیاً و تکلم '' و دیگر ابواب و کتب_
البتہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے صبح کی نماز دو رکعت کی بجائے ایک رکعت پڑھی _ جب ذوالشمالین نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس کے متعلق بتایا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے صفوں میں پھراتے ہوئے لوگوں سے اس بارے میں پوچھا _ پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے لوگوں کے ساتھ مزید ایک رکعت پڑھی اور دو سجدہ سہو ادا کیا پھرسلام پھیر کر نماز تمام کی _ صحیحین ( بخاری و مسلم ) میں ہے کہ جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے نماز ظہر یا عصر ادھوری پڑھی اور خرباق نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر اعتراض کیا اور بعض صحابیوں نے بھی اس کے اعتراض کے صحیح ہونے کی گواہی دی تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم غضبناک حالت میں کھڑے ہوئے اور اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے اپنے حجرے (گھر) میں چلے گئے پھر دوبارہ ان کے پاس باہر آکر باقی دو رکعتیں ادا کیں اور سہو کے دو سجدے بھی ادا کئے _
جبکہ بزار کے مطابق ، جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے نماز پڑھ لی اور اپنی کسی زوجہ کے پاس گئے تو پیچھے سے ذوالشمالین نے آکر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے پوچھا کہ نماز قصر ہوگئی ہے کیا؟ جس پر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر لوگوں میں پھر ایااور ان سے اس بارے میں پوچھا تو انھو ں نے بھی آپ کو گذشتہ کی طرح جواب دیا _
البتہ اس طرح کی روایتیں شیعہ کتابوں میں بھی صحیح اسناد کے ساتھ ذکر ہوئی ہیں_جنہیں سماعہ بن مہران ، حسن بن صدقہ ، سعید اعرج،جمیل بن دراج،ابوبصیر ،زید شحام، ابو سعیدقماط، ابوبکر حضرمی اور حرث بن مغیرہ نے روایت کی ہے_لیکن ہم کہتے ہیں کہ:
۱_ روایات کے الفاظ مختلف، مضطرب اور ایک دوسرے سے ناموافق ہیں_اور روایات کے منابع کی طرف رجوع کر کے ان کے تقابل سے اچھی طرح معلوم ہوجائے گا_جس کا مطلب یہ ہے کہ سب روایتوں کا صحیح ہونا ناممکن ہے_
۲_اس طرح کی بعض حدیثوں کو ذکر کر نے کے بعد نووی کہتا ہے:''ان حدیثوں میں اس طرح کے الفاظ بہت ہیں جن میں بحالت اسلام ابو ہریرہ کی موجود گی کی تصریح کی گئی ہے_حالانکہ مؤ رخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ابو ہریرہ ساتویںہجری کو جنگ خیبر کے سال یعنی جنگ بدر کے سات برس بعد مسلمان ہواتھا_جبکہ زہری کے بقول ذوالشمالین جنگ بدر میں شہید ہو گیا تھا اور نماز کا اس کا مذکورہ واقعہ جنگ بدر
سے پہلے کا ہے ...''(۱) _یہ بھی اضافہ کرتے چلیں کہ شعیب بن مطیر نے اپنے والد کا واقعہ سناتے ہوئے کہاہے کہ وہ ذوالیدین سے ملا اور اس نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی نماز کا مذکورہ واقعہ اسے بتایا_حالانکہ مطیر بہت متاخر ہے اور اس نے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کا زمانہ نہیں دیکھا تھا(۲) اور حضرت امام جعفر صادق عليهالسلام سے منقول روایت میں بتایا گیا ہے کہ ذوالیدین ہی ذوالشمالین ہے(۳) اسی طرح دیگر منابع میں بھی آیا ہے(۴)
اسی طرح بعض دیگر روایتوں میں یہ دونوںالقاب یکجا بیان ہوئے ہیں(۵) پس وہاں مراجعہ فرمائیں_پس صاحب استیعاب و غیرہ کا ابو ہریرہ کی گذشتہ روایت کے بل بوتے پر دونوں(ذوالیدین اور ذوالشمالین) کے ایک شخص ہونے والے قول کو غلط کہنا(۶) نہ صرف بے جا ہے بلکہ صحیح بات اس کے بر عکس ہے یعنی بظاہر ابو ہریرہ نے ان حدیثوں میں گڑبڑکر کے اس واقعہ میںموجود نمازیوں میں اپنی جگہ بنالی ہے_ بہرحال عمران بن حصین کی وہ روایت جس میں ذوالیدین کو خرباق کے نام سے یاد کیا گیا ہے وہ بھی ہماری مذکورہ بات کی نفی نہیں کرتی _ کیونکہ خرباق بھی ذوالشمالین کا لقب ہوسکتا ہے_ اور خرباق کی '' سُلَمی '' کے نام کے ساتھ توصیف بھی ہمارے لئے نقصان دہ نہیں ہے کیونکہ سُلَیم ، ذوالیدین یا ذوالشمالین کے اجدادی سلسلے میں کسی ایک جد کا نام تھا(۷) اور اسی نسبت سے اسے سلمی کہا جاتا ہوگا_
____________________
۱)تہذیب الاسماء واللغات ج۱ص۱۸۶،نیز ملاحظہ ہو:در منثور عاملی ج۱ص۱۰۹ ،نیز ذوالشمالین کے بدر میں قتل ہونے کے بارے میں ملاحظہ ہو:طبقات ابن سعدج۳ص۱۱۹_ (۲)ملاحظہ ہو:تہذیب الاسماء ج۱حاشیہ ص۱۸۶_ (۳)الکافی کلینی ج۳ص۳۵۷،وسائل الشیعہ ج۵ص۳۱۱،ودر منثور عاملی ج۱ص۱۰۹و۱۱۰_
۴)ملاحظہ ہو:طبقات ابن سعد ج۳حصہ۱ص۱۱۸و التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۳۸۵_
۵)وہ روایتیںمسند احمد،کنز العمال از عبد الرزاق و ابن ابی شیبہ،المصنف عبد الرزاق ج۲ص۲۹۶،ص۲۷۱،ص۲۷۴،ص۲۹۷،ص۲۹۹کی ہیں_نیز ملاحظہ ہو:ارشاد الساری ج۳ص۲۶۷،جوہری نے دونوں ناموں کے ایک شخص کے ہونے کے متعلق استیعاب میں ''ذوالیدین''کی تعریف میں گفتگو کی ہے_اسی طرح طبری،شرح مؤطا مالک سیوطی نیز تہذیب الاسماء و اللغات ج۱ص۱۸۶،وغیرہ میںبھی یہ بات بیان ہوئی ہے_
۶) الاستیعاب بر حاشیہ الاصابہ ج۱ص۴۹۱،اسدالغابہ ج۲ ص۱۴۲وص۱۴۵وص۱۴۶ ، التراتیب الاداریہ ج۲ص۳۸۵،از شروحات بخاری_
۷) ملاحظہ ہو : طبقات ابن سعد ج ۳ حصہ ۱ ص ۱۱۸ ، الاصابہ ج ۱ ص ۴۸۹ و اسد الغابہ ج ۲ ص ۱۴۱ و ص ۱۴۵_
اور ابن قتیبہ نے بھی اس کے ایک ہی شخصیت ہونے کی تصریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض اوقات یہ بھی کہاجاتا ہے کہ اس کا نام خرباق تھا _ اور قاموس میں بھی '' ذوالیدین خرباق '' آیا ہے(۱) _
۳_ ہمارے پاس موجود رواتیں بنی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے ایسے افعال اور اعمال کا تذکرہ کرتی ہیں جن کی وجہ سے نماز کی شکل و صورت ہی محو ہوجاتی ہے _ اور یہ یقینی بات ہے کہ نماز کی صورت کا ختم ہونا اس کے باطل ہونے کا باعث ہے _ خاص کر جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم ( بعض روایتوں کے مطابق) قبلہ سے رخ پھیر کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوں _ کیونکہ قبلہ کی طرف پیٹھ کرنا چاہے بھول کرہی کیا جائے نماز کو باطل کرنے کا باعث ہے _ لیکن کلینی کی روایت میں یہ وضاحت موجود ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی جگہ پر بیٹھے رہے تھے _(۲) یہ سب تو اس صورت میں ہے جب ہم کہیں کہ نماز کی خاطر کی ہوئی کوئی بات نماز کو باطل نہیں کرتی_
۴_آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ کیسے کہہ دیا کہ ایسی کوئی بات ہی نہیں ہے ؟ کیونکہ اگر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے لئے کسی بھول چوک کو ممکن قرار دیتے تھے تو بہتر تھا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم یوں فرماتے :'' میرے خیال میں یہ بات نہیں ہے '' _ مگر یہ کہا جائے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنا نظریہ بیان کیا ہوگا _ کیونکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو یقین تھا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے کوئی بھول چوک نہیں ہوئی _ اور ذوالیدین کی بات بھی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم میں کسی قسم کا شک و شبہہ پیدا نہ کرسکی بلکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے مؤقف پرڈٹے رہے لیکن جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ذوالیدین کا اصرار دیکھا تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے دل میں شک پیدا ہوا _
۵_ پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم غضبناک ہوکر اپنی عبا گھسیٹ گھسیٹ کر کیوں چل دیئےکیا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو ذوالیدین کی باتوں پر غصہ آگیا تھا؟ اگر یہ غصہ اس بات پر تھا کہ انہوں نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو حقیقت سے آگاہ کیا تھا؟ تو یہ بات کسی بھی لحاظ سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے شایان شان نہیں ہے _ اور اگر یہ غصہ اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر الزام لگایا تھا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو جھٹلانے پر ایکا کرلیا تھا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایسی بات منسوب کی تھی جو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے شایان شان نہیں تھی _ تو پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے پلٹ کر ان کے ساتھ نماز مکمل کیوں کی تھی ؟ اور سہو کے دو سجدے کیوں کئے تھے؟
____________________
۱)ملاحظہ ہو: التراتیب الاداریہ ج ۲ ص ۳۸۵_
۲) الکافی ج ۳ ص ۳۵۶_
۶_ یہ نہیں معلوم کہ وہ نماز کیسے صحیح ہوسکتی ہے جس کے درمیان میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اٹھ کر حجرے میں چلے گئے تھے پھر واپس آکر نماز مکمل کی تھی _ اور بھی اسی طرح کی دیگر باتیں ہیں جو قابل ملاحظہ ہیں_
شیعوں کے نزدیک سہو کی روایات
بہر حال اہل بیت عليهالسلام سے بھی اس بارے میں روایتیں ذکر ہوئی ہیں جن میں سے پانچ سند کے لحاظ سے معتبر احادیث بھی ہیں لیکن کسی میں بھی کوئی ایسی بات نظر نہیںآتی جس کی رو سے ان پر مذکورہ اعتراضات ہوسکیں_ تستری نے اس موضوع پر ایک الگ مقالہ لکھا ہے جو قاموس الرجال کی گیا رہویں جلد کے آخر میں چھپا ہے _ شائقین وہاں مراجعہ فرمائیں _ لیکن شیخ نے التہذیب میں زرارہ کی ایک روایت بیان کی ہے _وہ کہتا ہے :'' میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے بھی کبھی سجدہ سہو کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں انہیں کوئی فقیہ بھی ادا نہیں کرتا '' _ پھر چند ایک ایسی حدیثیں بھی بیان کی ہیں جن میں رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے سہو کی باتیں بیان ہوئی تھیں پھر کہا :'' لیکن میں اس روایت کے مطابق فتوی دیتا ہوں کیونکہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے سہو کو بیان کرنے والی حدیثیں عامہ اہل سنت کے نظریہ کے مطابق ہیں ''(۱)
اس نے روایتوں پر یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ یہ روایتیں خبر واحد ہیں جنہیں ناصبیوں اور سادہ لوح شیعوں نے روایت کیا ہے _ اس لئے نظریاتی لحاظ سے ان پر اعتبار کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں یہ گمان کی پیروی کے مترادف ہوجائے گا(۲) _
یہ ماجرا کس لئے ؟
ممکن ہے بعض ا فراد سہو النبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ توجیہ کریں کہ خدا نے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنی عظمت اور شان کے باوجود مندرجہ ذیل مصلحتوں کے پیش نظر سہو اور نسیان میں مبتلا کردیا تھا کہ :
____________________
۱)الدار المنثور عاملی ج ۱ ص ۱۰۷ _
۲)الدار المنثور عاملی ج ۱ ص ۱۱۳_
۱_ لوگ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے متعلق غلّو کرتے ہوئے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو خدا نہ سمجھ بیٹھیں یا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے بعض ایسی صفات ثابت نہ کر بیٹھیں جو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم میں ہیں ہی نہیں_
۲_ خدا مسلمانوں کو علم فقہ سمجھانا چاہتا تھا _ جس طرح یہ بات حسن بن صدقہ کی اس روایت میں موجود ہے جسے کلینی نے ذکر کیا ہے _(۱)
اور خدا انہیں یہ بھی بتانا چاہتا تھا کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم بھی ان ہی کی طرح کے ایک انسان ہیں _ پس آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ایسی کوئی بھی توصیف جو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو انسانیت سے خارج کردے وہ بے جا اور ناقابل قبول ہے _
۳_ خدا نے ہی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو امّت پر رحمت کے نزول کے لئے نسیان اور سہو میں مبتلا کردیا _ کیونکہ پہلے جو شخص بھول جاتا تھا تو کیا آپ لوگوں نے مشاہدہ کیا کہ اسے لعنت ملامت کی جاتی او رکہا جاتا کہ تمہاری نماز قبول نہیں ہوئی؟ لیکن اگر آج کوئی شخص نماز میں کوئی چیز بھول جاتا ہے تو کہتا ہے کہ کوئی بات نہیں رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا بھی بھول گئے تھے _اوریوں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ عمل سب کے لئے اسوہ بن گیا(۲) _
اس طرح کی باتیں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سفر میں نماز صبح کے وقت سوتے رہنے کے متعلق ( روایت کے صحیح ہونے کی صورت میں ) بھی ہوئی ہیں _لیکن ہماری نظر میں یہ سب نادرست ہیں _ اسے آئندہ ثابت کریں گے _ انشاء اللہ
ان توجیہات کے نقائص
لیکن یہ توجیہات ناکافی اور نادرست ہیں _ کیونکہ بھولنے پر کسی کی لعنت ملامت اس وقت صحیح ہے جب اس کی بھولنے کی عادت ہی نہ ہو _ جبکہ انسانوں کی عادت ہی بھولنا ہے _ اور جو شخص دوسروں کی طرح بھولتا ہو وہ دوسروں کو لعنت ملامت کیسے کرسکتا ہے ؟
____________________
۱) الکافی ج ۳ ص ۳۵۶_
۲) الکافی ج ۳ ص ۳۵۷_
اور رہی رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے بارے میں غلّو کی بات تو غلّو کا شائبہ دور کرنے کے اور بھی طریقے ہوسکتے تھے جن سے کوئی اور مشکل بھی پیش نہ آتی _ اسی طرح سہو اور نسیان کے احکام بھی دوسرے بہت سے احکام کی مانند بنی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کو اس میں مبتلا کئے بغیر بتائے جاسکتے تھے _
اس کے علاوہ اس سہو میں ایک بہت بڑا مفسدہ ( عیب) بھی پایا جاتا ہے اور وہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی تمام تعلیمات اور ارشادات پر عدم اطمینان ہے _
ایک اعتراض اور اس کا جواب
اس آخری اعتراض کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کا ہر قول ، فعل اور تقریر(۱) حجت اور قابل عمل ہے _ اور سہو کا واقعہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے افعال و اقوال کی حجیت کے مسلمانوں کے متفقہ فیصلے کے منافی ہے _ اور یہ چیز آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر اعتماد اور اطمینان کے اٹھ جانے کا باعث بنتی ہے نیز لوگوں کا عدم اطمینان آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی نبوت اور رسالت کی حکمت کے بھی منافی ہے(۲) _
البتہ اس اعتراض کا یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ یہ سہو اس وقت آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے قول و فعل کی حجیت کے منافی ہوتا جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی اس بھول پر باقی رہتے اور لوگ اس سے ایک غلط حکم اخذ کرلیتے لیکن جب خدا نے فوراً ہی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو یاد دلایا بلکہ کسی نہ کسی طریقے سے اس کا حکم بھی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اور لوگوں کے لئے واضح کردیا تو اس میں عقلی اور شرعی لحاظ سے کوئی مانع نہیں ہے(۳) _
خلاصہ یہ کہ خدا کا کسی مصلحت کے پیش نظر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو سہو میں مبتلا کرنا ان کے اس مقولے سے متصادم ہے کہ اس نسیان کا مطلب کسی نامعلوم چیز کے حوالے ہونا ہے _ (یعنی نسیان کا مطلب نامعلوم چیز کا ارتکاب
____________________
۱)تقریر کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے کوئی بات کرے یا کوئی کام کرے اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے سے روکنے ٹوکنے میںبھی کوئی مانع نہ ہو اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اس شخص کی تائید کریں یا کم از کم نہ ٹوکیںتووہ بات یا فعل بھی قابل عمل اور جائز ہوجائے گا _
۲)ملاحظہ ہو : دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۸۴ تا ص ۳۸۶_
۳)ملاحظہ ہو : فتح الباری ج ۳ ص ۸۱_
ہے دوسرے لفظوں میں بھولنا ہے _ جبکہ اگر مصلحت مقصود تھی تو اس کا مطلب ہے بھول چوک نہیں تھی) _
اور بھول پر باقی نہ رہنے کا جو دعوی کیا گیا ہے وہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شان اور کرامت کی حفاظت اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرامین پر اطمینان کیلئے نا کافی ہے ( کیونکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم بھولے تو پھر بھی ہیں _ خدا نے اس مسئلے کو جلدی یاد دلادیا _ اور وہ بھی کسی اور شخص کے ذریعہ دیگر معاملات میں کیا ضمانت ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نہیں بھولیں گے ؟ اور اگر نعوذ باللہ بھول بھی گئے تو خدا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو فوراً یاد دلادے گا ؟ اگر جلدی بھی یاد دلادی ، اس سے کوئی نیا حکم اخذ نہیں ہوگا ؟ اور پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے حافظے پر کتنا اعتبار رہ جائے گا؟ اور ...) اسی طرح یہ سہو اور بھول لوگوں کی نظر میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی قداست پر بھی برا اثر ڈالتی ہے اور یہ بات نہایت ہی واضح ہے _
اسی مناسبت سے یہاں سہو ، نسیان اور خطا سے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی عصمت اور پھر گناہوں سے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی عصمت اور ان کے جبری یا اختیاری ہونے پر بحث میں کوئی مضائقہ نہیں ہے _پس گفتگو دو حصوں میںہوگی_ پہلا حصہ سہو ، نسیان اور خطا سے عصمت سے بحث سے متعلق ہے اوردوسرا حصہ گناہوں سے عصمت سے متعلق ہے _
سہو ، خطا اور نسیان سے بچنا اپنے اختیارمیں ہے
بظاہر بھول چوک اور خطاؤں سے بچنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے _ اور نماز میں پیش آنے والے واقعہ کو اگر صحیح تسلیم کرلیاجائے تو یہی کہا جائے گا کہ یہ خدا کی طرف سے کسی مصلحت کے پیش نظر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو سہو میں مبتلا کرنا تھاوگرنہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم خود نہیں بھولے تھے_ اس بات کا اثبات مندرجہ ذیل نکات کے بیان میں پوشیدہ ہے _
۱_ کوئی شخص اگر اپنے آپ کو نہ بھولنے ، حفظ کرنے اور دقت کرنے کی مشق کرائے تو وہ یاد رکھنے اور نہ بھولنے پر زیادہ قادر ہوجائے گا _اور اس شخص کی خطا کی نسبت اس دوسرے شخص سے بالکل کم ہوگی جسے کسی چیز کی پروا نہیں ہوتی کہ اسے کوئی چیز بھول جائے یا یاد رہ جائے ، کسی چیز کا اضافہ ہو یا پھر حافظہ میں کمی ہو _ پس اگر وہ اس کام پر خصوصی توجہ دے گا تو اس میں نسیان اور خطا کا احتمال بھی کم ہوجائے گا _ اور جتنا جتنا اس
کام کو وہ اہمیت دے گا اتنا اتنا اس کے خطا اور نسیان کا احتمال بھی کم ہوتا جائے گا _ اور یہ چیز محسوس اور تجربے سے معلوم کی جاسکتی ہے _ اور عام انسان کی بہ نسبت یہ بات صادق ہے _ اور کسی کے ادراکات ، ذہنی اور فکری قوتیں جتنی زیادہ اور طاقتور ہوں گی اسے اپنے حافظے اور دماغ پر زیادہ قابو ہوگا اور خطا، نسیان اور سہو کا احتمال اتنا ہی کم ہوگا _ جس طرح دودھ پلانے والی ماں کے لئے اپنے دودھ پیتے بچے سے غفلت عام طور پر ناممکن ہوتا ہے _ اور ہمارے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم تو ہر کمال اور فضیلت کی چوٹی پر فائز ہیں _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم وہ اولین انسان ہیں جو روئے زمین پر خلافت الہی کا حقیقی نمونہ ہیں _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم وہ انسان ہیں جو خدا کی ذات میں فنا ہیں یعنی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا ہدف اور مقصد خدا کی خوشنودی کا حصول اور اہداف خداوندی کا تحقق تھا _ پس طبیعی بات تھی کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی گرد پاتک بھی کوئی نہ پہنچ پاتا اور کوئی بھی بشر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے حافظے کا مقابلہ نہ کرپاتا _ خاص کر ان امور میں جو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اعلی مقاصد ، اپنے رب کی عبادت اور اطاعت سے متعلق تھے _ اور خصوصاً جب آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو حقیقتاً ہر موقع پر حاضر اور ناظر جانتے تھے _ اور یہ بات اتنی واضح ہے کہ مزید کسی وضاحت کی کوئی ضرورت نہیںہے _
مزید یہ کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے دین اور احکام دین کی حفاظت کے لئے جتنی کوشش اور جد و جہد فرمائی وہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم پر خدا کے الطاف و احسانات کا باعث بنی اور ( والذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا) اور (ولینصرن اللہ من ینصرہ ) نیز ( ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا) کے مصداق آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی بھلائیوں اور تائیدات ایزدی میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سب راستے صاف ہوتے چلے گئے _
۲_بعض چیزیں ایسی ہیں جونسیان کا باعث بنتی ہیں _اور ہر شخص ان چیزوں سے پرہیز کرسکتا ہے _ اس بناپر وہ ان چیزوں سے پرہیز کر کے ان کے اثرات یعنی سہو اور نسیان سے بھی بچ سکتا ہے _ روایات میں بھی ان میں سے بعض چیزوں کا ذکر آیا ہے _ بطور مثال جو چیزیں نسیان کا باعث بنتی ہیں ان میں سے ایک پنیر ( cheese ) کھانا، قبروں کے کتبے پڑھنا ، ہرادھنیا کھانا ، بہت زیادہ پانی پینا ، جسم کے بعض حصوں کے ساتھ بے فائدہ چھیڑ چھاڑ کرنا ، زیادہ پریشان ہونا جو اکثر وبیشتر گناہوں کی کثرت کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے_ اور ان جیسے اور کام کرنا ہیں _
جبکہ بعض چیزیں ایسی بھی ہیں جو حافظے کو زیادہ کرتی ہیں _ بطور مثال کثرت سے یاد دہانی ، کشمش کھانا ، قرآن مجید کی تلاوت کرنا ، خدا کا ذکر کرنا اورنیکی کے کا م کرنا ہیں اور بھی کئی چیزیں ہیں جن کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں ہے _ واضح ہے اسباب اور وسائل پر قدرت رکھنے کا مطلب اس امر یعنی مسبب پر قدرت رکھنے کی طرح ہے ( یعنی اگر آپ اپنے آپ کو خود ہپنا ٹائز کرسکتے ہیں ، کشمش و غیرہ کھا سکتے ہیں اور قرآن مجید کی تلاوت کرسکتے ہیں اور اس طرح کے حافظے بڑھانے والے دیگر کام کرسکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنا حافظہ بڑھا سکتے ہیں ) _ پس انسان اپنے آپ کو فلاں چیز کے نہ بھلانے پر مکلف اور مامور کرسکتا ہے یا اپنے حافظے بڑھانے والے کام کرسکتا ہے کیونکہ اسے اس کے اسباب فراہم کرنے کی قدرت حاصل ہے _ اور ایسے مسبب( امور) کا فریضہ شریعت میں بھی زیادہ ہے جسے انسان صرف اس کے اسباب ( مقدمات و غیرہ) کے اوپر قدرت رکھنے اور انہیں فراہم کرنے سے ہی انجام دے سکتا ہے_
۳_ بہت سی آیتیں ایسی ہیں جو نسیان کی مذمت کرتی ہیں _ بلکہ بعض آیتوں میں تو نسیان پر فوری سزا دینے یا دنیا میں ہونے والے نسیان کی وجہ سے آخرت میں عذاب دینے کی دھمکی بھی دی گئی ہے _ نمونے کے لئے ہم مندرجہ ذیل آیات پیش کرتے ہیں :
( و من اظلم ممن ذكّر بآیات ربه فاعرض عنها و نسی ما قدمت یداه ) (۱)
اور اس شخص سے زیادہ ظالم اور کون ہوسکتا ہے جسے اپنے پروردگار کی نشانیاں یاد دلائی جائیں لیکن وہ ان سے روگردان ہوجائے اور اپنے کرتوتوں کو بھی بھول جائے_
یہاں پر آیت کے سیاق اور لفظ ''ذكّر '' کی موجود گی کی وجہ سے لفظ '' نسی '' سے تجاہل عارفانہ مراد نہیں لیا جاسکتا _ حالانکہ بعض مفسرین نے یہی کہنا چا ہا ہے _ یہی صورتحال مندرجہ ذیل آیتوں کی بھی ہے _
پس ان آیتوں میں لفظ نسیان کا مطلب تجاہل عارفانہ نہیں بلکہ حافظے سے ہٹ جانا یعنی سستی ، روگردانی
____________________
۱)کہف /۵۷_
اور اہمیت نہ دینے کی وجہ سے بھول جانا ہے _
( یحرفون الکلم عن مواضعه و نسو ا حظاً مما ذكّروا به )
'' الفاظ کو اپنی جگہ سے بدل کر تحریف کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس ( عذاب ) سے اپنا حصہ بھول جاتے ہیں جس کی انہیں یاد دہانی کرائی گئی تھی ''(۱)
( فالیوم ننساهم کما نسوا لقاء یومهم هذا )
'' پس قیامت کے دن ہم بھی انہیں اس طرح خود سے بے خبر کردیں گے جس طرح انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا ''(۲)
( و لا تکونوا کالذین نسوا الله فانساهم انفسهم )
'' اور ان لوگوں جیسے مت بنو جنہوں نے خدا کو بھلادیا تھا جس کے نتیجے میں خدا نے بھی انہیں خود سے بے خبر کردیا تھا ''(۳)
( نسوالله فنسیهم )
''' انہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے بھی انہیں اپنے حال پر چھوڑدیا ''(۴)
( اتامرون الناس بالبر و تنسون انفسکم )
'' کیا تم لوگ دوسروں کو تو نیکیوں کا حکم دیتے ہو لیکن اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ؟''(۵)
( فذوقوا بما نسیتم لقاء یومکم هذا )
'' پس اس دن کی ملاقات کو فراموش کرنے پر عذاب کا مزہ چکھو''(۶)
____________________
۱)مائدہ /۱۳_ (۲)اعراف /۱۰_
۳)حشر /۹_
۴)توبہ /۶۷_
۵)بقرہ/۴_
۶) حم سجدہ/۱۴_
( ربّنا لا تؤاخذنا ان نسینا او اخطانا ) (۱)
'' پروردگار گر ہم بھول جائیں یا ہم سے کوئی خطا سر زد ہوجائے تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا ''
اور خدا سے ایسی خواہش تب صحیح اور جائز ہوسکتی سے جب نسیان پر مؤاخذہ اورگرفت بھی صحیح اور جائز ہو_ اور اس بارے میں آیات بہت زیادہ ہیں جن کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں ہے _
اسی طرح بعض آیتیں ایسی بھی ہیں جو نسیان سے منع کرتی ہیں _ اور لازمی بات ہے کہ نہی اور ممانعت کسی اختیاری اور مقدور کام سے ہوسکتی ہے _ جو چیز بس میں نہ ہو اس سے ممانعت عبث ہے اور خدا سے یہ کام محال ہے _ ارشاد ربانی ہے :
( و لا تنس نصیبک من الدنیا ) (۲)
'' اور دنیا سے اپنے حصے کو فراموش مت کر''
( و لاتنسوا الفضل بینکم ) (۳)
'' اور ایک دوسرے سے بھلائی کو فراموش مت کرو ''
اور مذکورہ آیتوں میں نسیان سے مراد'' ترک ''لینا بھی ہمارے مدعا کی نفی نہیں کرتا کیونکہ اس ترک سے مراد سستی اور اہمیت نہ دینے سے پیدا ہونے والے نسیان کی وجہ سے ترک کرنا ہے _ اس علم کے ساتھ کہ مکلف ( انسان ) کے امکان اور بس میں ان چیزوں کا نہ بھولنا اور یاد رکھنا بھی ہے _ کیونکہ سبب پر قدرت رکھنا مسبب پر قدرت رکھنے کے مترادف ہے _ پس اس صورت میں نسیان اور فراموشی پر عذاب عقلی لحاظ سے قبیح نہیں ہوگا(۴)
____________________
۱)بقرہ /۲۸۶_
۲)قصص/۷۷_
۳)بقرہ /۲۳۷_
۴)ملاحظہ ہو : اوثق الوسائل ص ۲۶۲_
پختہ ارادہ
ہم مندرجہ ذیل آیت میں مشاہدہ کرتے ہےں کہ خدا نے نسیان کے اختیاری ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے_ ارشاد الہی ہے:
( ولقد عهدنا الی آدم من قبل فنسی و لم نجد له عزماً )
'' اور ہم نے اس سے پہلے آدم عليهالسلام سے عہد لے لیا تھا لیکن وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی پختگی نہیں دیکھی '' _
پس یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر آدم عليهالسلام میں طاقت ، تحمل اور پختہ ارادہ ہوتا تو وہ ایسا کام کبھی نہ کرتا_ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا نسیان، صبر و تحمل پر قدرت نہ رکھنے کی وجہ سے تھا ( یعنی بے صبری کی وجہ سے وہ عہد خداوندی کو بھول گیا ) _ اور نسیان بھی بے صبری کی پیدا وار ہے _ پس انسان کی قدرت ، ارادے کی پختگی ، تحمل اور طاقت جتنی بڑھتی جائے گی اس آیت کی روسے اس کا نسیان اتنا ہی کم ہوتا جائے گا _ اور نسیان کے اختیاری ہونے کی ایک اور دلیل آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ ارشاد بھی ہے کہ '' رفع عن امتی النسیان '' (میری امت سے نسیان پر مؤاخذہ اٹھا لیا گیا ہے ) اور یہ مؤاخذہ خدا کے لطف و کرم سے مسلمانوں کی آسانی کے لئے اٹھایا گیا ہے(۱) _
اور اٹھائی وہ چیز جاتی ہے جسے رکھا اور وضع کیا جائے اور وہ یہاں مؤاخذہ ہے _ اور مؤاخذہ صرف اختیاری امور پر ہوتا ہے چاہے اس پر اختیار اس کے سبب پر اختیار کے ذریعہ سے ہی ہو _ کیونکہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ سبب پر قدرت مسبب پر قدرت کے برابر ہے _
تبلیغ و غیرہ میں عصمت
گذشتہ باتوں کے بعد ہم یہ کہتے ہیں کہ جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے سہو ، نسیان اور خطا سے عصمت ثابت
____________________
۱)اس کا مطلب ہے کہ گذشتہ امتوں کا نسیان کی وجہ سے مؤاخذہ ہوتا تھا _
ہوگئی ہے تو یہ عصمت بلا قید و شرط ہوگی _ یہ نہیں ہوگا کہ ایک مقام کے لئے تو ثابت ہولیکن دوسرے کے لئے نہیں _ کیونکہ ملکہ ہمیشہ ناقابل تبعیض اور ناقابل تجزیہ ہوتا ہے پس اس بنا پر بعض افراد کا یہ نظریہ صحیح نہیں ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم صرف تبلیغ دین میں معصوم ہیں _ بلکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ہر وقت اور ہرجگہ معصوم ہیں اور یہ بات بھی بالکل واضح ہے _
گناہوں سے عصمت بھی اختیاری ہے :
ایک جواب طلب سوال
تمام مسلمانوں کا عام اعتقاد یہ ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام ہر لحاظ سے معصوم ہیں(۱) اور شیعیان اہل بیت عليهالسلام عصمت و طہارت تمام انبیاء کے علاوہ بارہ اماموں کو بھی معصوم جانتے ہیں _ اور وہ اس لئے کہ ان کی اطاعت اور پیروی سب پر واجب ہے _ اور اگر (نعوذ باللہ ) ان سے گناہ سرزد ہوتے ہوںتو پھر ان کی اطاعت کا جواز ہی معقول نہیں ہے چہ جائیکہ ان کی اطاعت واجب ہو _ اس لئے کہ اس کا مطلب خود گناہوں کے ارتکاب کو جائز قرار دینا ہے اور یہ بات نامعقول ہے _ کیونکہ ایک تو اس صورت میں گناہ اپنے گناہ ہونے سے خارج ہو کر ایک جائز فعل کی صورت اختیارکرلیں گے اور دوسرا یہ کہ یہ بات انبیاء کی بعثت اور نبوت کی حکمت اور فلسفے کے بھی خلاف ہوگا _ البتہ ہم یہاں ان باتوں کی مکمل تفصیلات اور مختلف اقوال پر تفصیلی بحث کے در پے نہیں ہیں _ یہاں ہم فقط اس سوال کا جواب دینا چاہتے ہیں کہ کیا انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کی عصمت کا مطلب یہ ہے کہ ان میں گناہ کرنے کی سکت اور استطاعت ہی نہیں ہے اور وہ اطاعت کے علاوہ کسی اور کام کی قدرت ہی نہیں رکھتے؟ دوسرے لفظوں میں کیا وہ اطاعت کرنے اور گناہوں سے
____________________
۱)گرچہ بعض افراد کو تمام انبیاء عليهالسلام کے عمومی عصمت پراعتراض ہے لیکن شیعیان اہل بیت عليهالسلام اس بات کے قائل ہیں کہ تمام انبیائ عليهالسلام اپنی ولادت سے رحلت تک معصوم اور خدا کی حمایت اور رہنمائی کے زیر سایہ ہوتے ہیں _ اور ان کی عصمت صرف ان کے دور نبوت کے ساتھ خاص نہیںہے _
دوری اختیار کرنے پر مجبور ہیں؟ اگر وہ ان باتوں پر مجبور ہیں تو پھر وہ کس بات پر افضل ہیں ؟ ان پر یہ فضل و کرم کیوں کیا گیا ؟ ہم ان کی طرح اس بات پر مجبور کیوں نہیں ہوئے ؟ خدا کس لئے ہمیں ناپسندیدہ کاموں کے انجام کے لئے کھلا چھوڑ دیتا ہے پھر ہمیں جہنم میں عذاب اور جنت سے محروم کر کے ہمیں سزا کیوں دے گا ؟ پھر مجبور ہو کر اطاعت کرنے او رگناہوں سے دوری اختیار کرنے والے شخص کو جنت دینا اور جہنم سے دور رکھنا کیا صحیح اور مناسب ہے ؟
جواب :
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ گناہوں کے ارتکاب سے بچاؤ اختیار ی ہے _ اس بات کی تفصیل کے لئے قدرے تفصیل کی ضرورت ہے _ پس ہم مندرجہ ذیل نکات میں اس کی وضاحت کرتے ہیں :
اسلام اور فطرت
جو شخص بھی اسلام کی آسمانی تعلیمات کا مطالعہ اور ان میں غور و فکر کرے گا تو اسے اس قطعی حقیقت کا ادراک ہوگا کہ یہ تعلیمات انسانی فطرت اور طبیعت کے ساتھ بالکل سازگار ہیں البتہ اگر اس خالص فطرت پر غیر متعلقہ بیرونی عوامل یکبار گی دباؤ ڈال کرا سے دبا نہ دیں(۱) _
حتی کہ آپ زمانہ جاہلیت کے بعض افراد کو مشاہدہ کریں گے کہ انہوں نے جھوٹ بولنے ، شراب پینے ، زنا کرنے اور بتوں کی پوجا کرنے کو اپنے اوپر حرام کیا ہوا تھا او رکتاب '' امالی '' کے مطابق جناب جعفر بن ابی طالب اور چند دوسرے لوگ بھی انہی افراد میں سے تھے(۲) _
اسی طرح قیس بن اسلت نے بتوں سے دوری اختیار کر لی تھی، وہ جنابت کا غسل کیا کرتا تھا ، حیض
____________________
۱)اس بارے میں ماہنامہ المنتظر فروری۱۹۹۹ کے صفحہ ۲۸ پر مترجم کا چھپنے والا مضمون '' انسان میں دینی فطرت کا وجود'' بھی قابل ملاحظہ ہے_
۲)''شخصیات اور واقعات '' کی فصل میں تحریم خمر کی گفتگو کے دوران ان افراد کا ذکر بھی آئے گا جنہوں نے اپنے او پر شراب حرام کر رکھی تھی _
والی عورتوں کو صاف ستھری ہونے نیز سب کو صلہ رحمی کا بھی حکم دیتا تھا(۱) _
جناب عبدالمطلب بھی اپنی اولاد کو ظلم اور زیادتی نہ کرنے کا حکم دیتے تھے اور انہیں اخلاق حسنہ پر اکساتے تھے ، پست کاموں سے روکتے تھے ، آخرت پر یقین رکھتے تھے، بتوں کی پوجا نہیں کرتے تھے اور خدا کی وحدانیت کے قائل تھے _ اور اس نے ایسے رسوم کی بنیاد رکھی جن کی اکثریت کی قرآن نے تائید کی ہے اور وہ سنت قرار پائے ہیں _ جن میں سے ایک نذر کی ادائیگی ، دوسری ،محرموں سے نکاح کی حرمت ، تیسری چور کے ہاتھ کاٹنا ، چوتھی ،لڑکیوں کو زندہ در گور کرنے کی ممانعت ، پانچویں ،شراب کی حرمت ، چھٹی ، زنا کی حرمت اور ساتویں ،ننگے بدن بیت اللہ کے طواف سے ممانعت ہے(۲) _
اور قرآن نے نہ صرف یہ تصریح کی ہے بلکہ وعدہ بھی کیا ہے اور اپنے اوپر لازم بھی قرار دیا ہے کہ یہ نیادین ، دین فطرت ہوگا _ اس لحاظ سے کہ اگر اس کی تعلیمات میں سے کوئی حکم بھی خلاف فطرت ثابت ہوجائے تو اسے ٹھکرایا جاسکتا ہے اور اسے جعلی ، عجیب و غریب اور غیر آسمانی قرار دیا جاسکتا ہے _ ارشاد خداوندی ہے:
( فاقم وجهک للدین حنیفاً فطرة الله التی فطرالناس علیها لا تبدیل لخلق الله ذالک الدین القیم و لکن اکثر الناس لا یعلمون ) (۳) _
'' پس اپنا رخ اس پائندہ اور سیدھے دین کے مطابق کرلو کہ یہ ایسی خدائی فطرت کے مطابق ہے جس پر اس نے لوگوں کو خلق کیا _ اور خلق خدا کے لئے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی _ یہ ایک سیدھا دین ہے لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ اس سے بے خبر ہیں ''
اور علّامہ طباطبائی کے بقول '' یہ اس وجہ سے ہے کہ انسان ایسی فطرت پر پیدا ہوا ہے جو اسے اپنے
____________________
۱)سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۲ ص ۱۹۰و ص ۱۹۱_
۲)سیرہ حلبیہ ج ۱ ص ۴ و سیرہ نبویہ دحلان ( مطبوعہ بر حاشیہ سیرہ حلبیہ ) ج ۱ ص ۲۱_
۳)روم /۳۰_
نقائص دور کرنے اور ضروریات پوری کرنے کی طرف راہنمائی کرتی ہے او راس کو زندگی میں فائدہ مند اور نقصان وہ چیزوں سے مطلع کرتی ہے _ ارشاد پروردگار ہے :
( و نفس و ماسوّاها فالهمها فجورها و تقواها ) (۱)
'' نفس (روح) کی اور اس کوہموار کر کے اسے اچھائیوں اور برائیوں کے الہام کرنے والے کی قسم ''
پس دین اسلام ایک ایسا نظام اور دستور ہے جو انسان کی ہدایت کرتا ہے ، اچھائیوں اور بھلائیوں کی طرف اس کی راہنمائی کرتا ہے اور اسے برائیوں اور بدبختیوں سے روکتا ہے_ اور یہ نظام ،نفس انسانی کو کئے جانے والے ان خدائی الہامات کے بالکل مطابق ہے جن کی خدا نے اسے پہچان کرادی تھی _ اسی طرح عقل بھی اس کی پرورش اور حفاظت کرتی ہے اور اسے راستہ دکھا کر اسے ڈگمگانے یا اپنے خواہشات کی سرکشی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اپنے من پسند ادراکات اور احکام کی طرف جھکاؤ سے روکتی ہے اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ عقل اندرونی شریعت ہے اور شریعت بیرونی عقل ہے _ اس بناپر ہم دیکھتے ہیں کہ ہدایت کی پیروی نہ کرنے والے اور سیدھے راستے پر نہ چلنے والے کو قرآن مجید ان الفاظ سے یاد کرتا ہے:
( ارایت من اتخذ الهه هواه افانت تکون علیه وکیلاً ام تحسب ان اکثرهم یسعمون او یعقلون ان هم الّا کالانعام بل هم اضل سبیلا ) (۲)
'' کیا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس شخص کی حالت دیکھی ہے جس نے اپنی خواہشات کو اپنا خدا بنایا ہوا ہے ا ور اس کی پیروی میں لگا ہوا ہے ؟ کیا پھر بھی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اس پر اعتبار کرتے ہیں؟ یا یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اکثریت سنتی اور سمجھتی ہے ؟ ( ایسا نہیں ) بلکہ وہ تو جانوروں کی طرح بلکہ ان سے بھی بدتر لوگ ہیں ''
____________________
۱)فرقان /۴۴_
۲)شمس/۸_
نیز یہ بھی کہتا ہے :
( و لقد ذرانا لجنهم کثیراً من الجن و الانس لهم قلوب لا یفقهون بها و لم اعین لا یبصرون بها و لهم اذان لا یسمعون بها اولئک کالانعام بل هم اضل و اولئک هم الغافلون ) (۱)
'' اور ہم نے تو بہت سے جنوں اور انسانوں کو جہنم کے لئے تیار کیا ہوا ہے کیونکہ ( قصور ان کا اپنا ہے) ان کے دل و دماغ توہیں لیکن وہ ان سے سوچتے سمجھتے نہیں ، آنکھیں تو ہیںلیکن وہ ان سے حقیقت کو دیکھتے نہیں اور دماغ توہیں لیکن وہ ان سے ہدایت کی باتیں سنتے نہیں_ یہ لوگ تو جانوروں کی طرح بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں اور یہی لوگ غافل ہیں ''
پس قرآن مجید ایسے لوگوں کو جانور کی طرح سمجھتا ہے جو اپنی خواہشات نفسانی کی اطاعت و پیروی کرتے ہیں، عقل کی ہدایت اور کہنے پر عمل نہیں کرے اور اسی عقل سے سازگار امر و نہی الہی پر کان نہیں دھرتے _ یہ لوگ ان جانوروں کی طرح ہیں جو اپنی مرضی اور خواہش پر کسی بھی طرف کو نکل پڑتے ہیں اور ان کے پاس عقل نام کی کوئی ایسی چیز نہیںہوتی جس سے وہ روشنی اور ہدایت حاصل کرتے اورنہ ہی وہ ایسے راستے ( شریعت ) پر چلتے ہیں جو انہیں عقل کے احکام کی طرف راہنمائی کرتا _ بلکہ قرآن تو ان لوگوں کو جانوروں سے بھی بدتر سمجھتا ہے _ کیونکہ اگر جانور اقتضائے عقل بشری کے خلاف کوئی کام کریں _ بطور مثال درندگی کریں ، خرابی مچائیں یا کوئی چیز تلف کردیں تو نہ تو انہیں کوئی ملامت کی جائے گی اور نہ ہی ان سے کوئی حساب کتاب ہوگا _ کیونکہ انہوں نے اپنی عادت اور غریزے کے مطابق کام کیا ہے _ اس لئے کہ یہ غریزے اور خواہشات ہی ہیں جو انہیں چلاتے ہیں اور ان کے رفتار اور سلوک پر حاکم ہوتے ہیں اور ان کے پاس تو عقل ہی نہیں ہوتی کہ جس سے وہ ہدایت حاصل کرتے _ لیکن اگر یہی جانور عقل مندی کا کوئی کام کرنے لگیں ، بطور مثال
____________________
۱) اعراف / ۱۷۹_
اگر ہم یہ دیکھ لیں کہ کوئی بھیڑیا کسی بھیڑ پر حملہ نہیں کر رہا یا کوئی بلی کسی چو ہے کا پیچھا نہیں کر رہی تو ان کے اس فعل سے ہم تعجب کرنے لگیں گے اور وہ ہماری محفلوں کا موضوع گفتگو بن جائیں گے _ کیونکہ یہ چیز ان کے متوقعہ فطرت اور جبلت کے برخلاف ہے چاہے ان کا یہ کام سوجھ بوجھ کے ساتھ نہ بھی ہو ، کیونکہ ان کی عقل ہی نہیں ہوتی بلکہ وہ یہ کام سدھائے جانے ، عادت بنانے اور مانوس ہونے کے نتیجے میں کرتے ہیں ( جس طرح سرکسوں میں جانوروں کے کئی کر تب دکھائے جاتے ہیں) _
لیکن انسان اگر ظلم کرنے لگے ، جھوٹ بولنے لگے ، غیبت کرنے لگے، بر باد ی کرنے لگے یا اپنی بہتری ، دین یا عقل کے خلاف کوئی اور کام کرنے لگے تو وہ اپنی فطرت اور جبلّت کے تقاضوں کے خلاف کام کرے گا ، اپنے راستے سے منحرف ہوجائے گا اور انسانیت سے خارج ہوجائے گا اور اس صورت میں وہ جانوروں سے بھی بدتر ہوگا _ ( کیونکہ وہ اپنی بے عقلی اور بے شعوری کے باوجود محیر العقول کام کرجاتے ہیں جبکہ مذکورہ افراد عقل و شعور رکھنے کے با وجود نامعقول کام کرتے ہیں ) مزید یہ کہ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جانور اپنے لئے مضر کسی کام کا ارتکاب نہیں کرتے لیکن انسان اپنی نفسانی خواہشات اور شہوات اور غریزوں کے پیچھے لگ کر اپنے لئے مضر کاموں کا ارتکاب کر جاتے ہیں اور اپنی سعادت اور خوشبختی کو تباہ کر ڈالتے تو ہمیں یہ کہنا ہی پڑے گا کہ بے شک جانور اس انسان سے زیادہ ہدایت یافتہ اور عقلمند ہیں _
پس گذشتہ تمام باتوں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ انسان اپنے لئے فائدہ مند چیزوں کے حصول اور مضر چیزوں سے دوری کی کوششوں پر پیدا کیا گیا ہے _ اور اسلامی احکام انسانی فطرت اور طبیعت کے مطابق ہیں_ اور انسان کی اپنے لئے مضر چیزوں سے دوری اور باعث سعادت اور راحت چیزوں کے حصول کی کوششیں اس میں ایسی فطری خصوصیات ہیں جن سے دوری ، اختلاف اور چھٹکارا ممکن نہیں ہے _ اسی بناپر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عقل مند انسان ( چا ہے وہ مؤمن نہ بھی ہو ) فطری طور پر ایسے کام نہیں کرتا جن کے مضر اور برے ہونے پر اسے پختہ یقین ہو _ بطور مثال وہ اپنے ارادے اور اختیار سے زہر نہیں کھائے گا _بلکہ وہ کسی ایسی جگہ پر بھٹکے گا بھی نہیں جہاں کے متعلق اسے یہ یقین ہو کہ اس کی وہاں موجود گی سے اسے
کسی بھی قسم کا نقصان پہنچ سکتا ہے _ اسی طرح وہ اپنی اولاد و غیرہ کو کبھی قتل نہیں کرے گا ، مگر یہ کہ اس پر خواہشات یا نیند یا غصہ و غیرہ جیسے عقل کو زائل کرنے والی ان چیزوں کا غلبہ ہوجائے جو اس موقع پر عقل کے تسلط اور مناسب کار کردگی سے مانع ہوتی ہیں _ بلکہ ہم ایک بچے کو بھی دیکھتے ہیں کہ وہ پہلے آگ کو ہاتھ لگانے کی جرات تو کر بیٹھتا ہے لیکن جب آگ اسے تکلیف پہنچاتی ہے اور اسے بھی اس بات کا یقین ہوجاتا ہے کہ آگ تکلیف دیتی ہے تو پھر وہ اپنے ارادے اور اختیار سے آگ کے قریب بھی نہیں بھٹکتا مگر اس پر نیند جیسی کوئی زبردست قوت غالب آجائے جو اس کے اس شعور پر غلبہ پالے_
پس عقل مند لوگ( چاہے وہ مومن نہ بھی ہوں بلکہ بچے تک بھی ) زہر کھانے ، اپنے آپ کو آگ میں جلانے اورہر اس چیز کے ارتکاب سے معصوم ہیں جن کے مضر اور برے ہونے کا انہیں یقین ہو _
مگر یہ کہ یہاں کوئی ایسی زبردست طاقت ان کے ارادوں اور ان کے عقل پر غلبہ پا کر ا نہیںذہن پر تسلط سے منع کردے اور کام کرنے سے روک دے اور ان کے سامنے مضر خواہشات کو صحیح اور فائدہ مند جلوہ نما کر کے انہیں دھوکے میں مبتلا کردے _
عصمت کے لئے ضروری عناصر
گذشتہ معروضات میں دقت کرنے سے یہ واضح ہوجائے گا کہ بچے کا آگ سے بچنا اور عقل مندوں کا زہر کھانے سے پرہیز کرنا مندرجہ ذیل امور سے متعلق اور انہی کے نتیجے میں ہے :
۱_ انسان اپنی آسودگی ، سعادت اور تکامل میں مدد کرنے والی چیزوں کے حصول اور اپنے لئے مضر ، بری اور باعث بدبختی چیزوں سے دوری اختیار کرنے کی کوششوں کی فطرت پر پیدا ہوا ہے _ یعنی انسان کی ارتقاء پسند فطرت _
۲_ کسی خاص حقیقت کا ادارک پھر مذکورہ کسوٹی پر اس حقیقت کی پر کھ اور جانچ پڑتال_
۳_ عقل کی قوت اور ایسے موقعوں پر اس کا تسلط اور تمام نفسانی اور شہوانی طاقتوں پر اس کا غلبہ اور ان
خواہشات اور طاقتوں کو ان رستوں پر ڈالنا جن میں انسان کی بھلائی ، آسودگی اور سعادت ہو _
۴_انسان کا اختیار اور ارادہ اور اس کا ان نفسانی خواہشات سے بچاؤ جو اس سے ارادے اور اختیار کو سلب کرلیتی ہیں _
پس جب یہ چار چیزیں مکمل ہوں تو انسان ان چیزوں کے ارتکاب سے معصوم ہوجائے گا جنہیں وہ یقینی طور پر اپنے لئے مضر سمجھے گا _ او راپنے آپ کو ان کاموں کی انجام دہی کا پابند سمجھے گا جنہیں وہ اپنی ترقی ، ارتقاء اور انسانیت کی بھلائی کے لئے مفید سمجھے گا _ اور مذکورہ عناصر کی تکمیل کے بعد ہم انسان کو صرف سیدھے رستے پر چلتا ہوا ہی دیکھیں گے جو اپنی بھلائی اور بہتری کے کام انجام دے گا اور اپنے لئے مضر اور نقصان دہ کاموں سے پرہیز کرے گا _ اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ شخص کون ہے اور کس وقت کیا کررہا ہے _
اور جب وسعت اور گہرائی کے لحاظ سے لوگ اپنے ادراک کے درجات ، ذہنی اور فکر ی سطح ، نفسانی اور شہوانی خواہشات جیسے دوسرسے باطنی طاقتوں پر عقل کے تسلط کے قوت اور ضعف اور ادراکات کی نوعیت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو طبیعی بات ہے کہ ان کی عصمت کے درجات اور مقامات بھی مختلف ہوں گے _ یہ اختلاف ان کے ادراکات ، بصیرتوں ، اعتدال اور باطنی قوتوں کے اختلاف کی وجہ سے ہوتا ہے _ اسی لئے اکثر اوقات علماء کو دیگر لوگوں سے زیادہ مذکورہ امور کا پابند دیکھا جائے گا بلکہ بسا اوقات ان سے کسی بھی غلطی کا ارتکاب مشاہدہ نہیں ہوگا _ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ ان کا ادراک وسیع اور زیادہ ہے نیز دوسروں کی بہ نسبت ان کے ادراک کی نوعیت ، کیفیت اور گہرائی بہت فرق کرتی ہے _ بلکہ اس صورت میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ خدا نے تمام انسانوں کے لئے یہ واجب قرار دیا ہے کہ سب معصوم ہوں_ اور وہ اس طرح کہ خدا نے تمام انسانوں پر اپنی اطاعت والے تمام کاموں ( واجبات) پر عمل در آمد اور تمام برائیوں اور نافرمانی والے کاموں ( گناہوں) سے اجتناب کو ضروری قرار دیا ہے _ اور یہ فریضے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ہر مکلّف (انسان) میں یہ طاقت پائی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی گناہ کا مرتکب نہ ہو کیونکہ
تکلیف اور فریضہ کے صحیح ہونے کی ایک شرط اس کی انجام دہی پر قدرت اور طاقت رکھنا بھی ہے ( یعنی جب کسی میں کسی کام کی قدرت ہی نہیں ہے تو اس کو اس کام کا پابند کرنا معقول نہیں ہے اور خدا کبھی کوئی نامعقول کام نہیں کرتا ) _ وگرنہ خدا کو یہ استثناء بیان کرتے ہوئے بطور مثال یہ کہنا چاہئے تھا کہ ایک دو گناہوں کے علاوہ باقی سب گناہوں سے بچوکیونکہ تم سب سے پرہیز نہیں کرسکتے _ بلکہ یہ استثناء تو اس فعل کو سرے سے گناہ ہونے سے ہی خارج کردیتی ہے ( یعنی وہ فعل جائز ہوجاتا ہے جبکہ گناہ کا مطلب اس کا عدم جواز ہے _ اس صورت میں گناہوں اور ناقابل ارتکاب افعال کا دائرہ محدود ہوجاتا ہے _ بہرحال چونکہ لوگ ان گناہوں سے بچ سکتے ہیں اس لئے خدا نے ان سے بچنے کا حکم دیا ہے وگرنہ خدا ایسا نہ کرتا ) _ اس لحاظ سے سلمان فارسی ، ابوذر ، مقداد ، عمار اور شیخ مفید و غیرہ جیسے لوگوں کو بھی بطور مثال کسی بھی گناہ اور نافرمانی کے عمدی ارتکاب سے معصوم کہا جاسکتا ہے _ البتہ ان لوگوں میں اور نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم اور امام عليهالسلام میں یہ فرق ہے کہ نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم اور امام صلىاللهعليهوآلهوسلم گناہوں کا تصور بھی نہیں کرسکتے اور نہ ہی انہیں گناہوں کے ارتکاب کی کوئی رغبت ہوتی ہے کیونکہ انہیں حقیقت حال کا علم ہوتا ہے اور ان کاموں کی برائیوں اور بھلائیوں کا عین الیقین ہوتا ہے _ اس کے علاوہ انہیں خدا کی جلال اور عظمت کی وسیع اور گہری معرفت ہوتی ہے اور خدا کے حاضر ہونے کا شدت سے احساس ہوتا ہے _ جبکہ دوسرے لوگوں کو انبیاء اور ائمہ کی معرفت کی طرح اکثر احکام کی صحیح علّت اور خدا کی عظمت ،جلال اورملکوت کا صحیح علم اور ادراک نہیں ہوتا _ اس لئے وہ بعض گناہوں میں رغبت تو رکھتے ہیں لیکن وہ صرف خدا کی اطاعت میں اور خدا کا حکم مانتے ہوئے ان گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں _
خلاصہ یہ کہ لوگوں کی ( ذہنی ، عملی اور ہر قسم کی ) سطح مختلف ہوتی ہے جس کی وجہ سے فرائض پر پابندی کے لحاظ سے ان کے درجات بھی مختلف ہوتے ہیں اور عام طور پر علماء فرائض کے زیادہ پابند ہوتے ہیں _ اگر چہ کہ ان میں بھی بعض ایسے افراد مل جاتے ہیں جن کی نفسانی خواہشات کے مقابلے میں ان کی عقل کمزور پڑجاتی ہے _ جس کی وجہ سے فرائض پر ان کی پابندی میں بھی ضعف اور فرق آجاتا ہے جس کی وجہ سے دوسرے علماء کی بہ نسبت ان کی معصومیت کا مرتبہ کم ہوجاتا ہے _ البتہ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں بلکہ حقیقی علماء میں ایسے لوگ ہوتے ہی نہیں ہیں _ اسی لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ خدا حقیقی علماء کی تعریف کرتے
ہوئے کہتا ہے :
( انما یخشی الله من عباده العلمائ )
'' خدا سے توصرف علماء ہی ڈرتے ہیں ''(۱)
توضیح اور تطبیق:
انبیاء اور ائمہ کو توفیقات اور عنایات الہی اور ان سے بڑھ کر وحی اور خدا سے رابطے نیز شریف اور عظیم پشتوں سے پاکیزہ رحموں میں منتقل ہونے کی وجہ سے صرف صفات حسنہ اور انحصاری کمالات ہی حاصل ہوئے ہیں _ انہی وجوہات کی بناپر وہ وسعت ادراک اور مثالی انسانی سلوک کی چوٹی ہیں _ نیز حقائق اور مستقبل قریب اور بعید میں ان کے مثبت اور منفی اثرات اور نتائج سے بھی وہ بلا شک صحیح معنوں میں واقف تھے اور ان کی واقفیت اور ادراک میں کسی شک وشبہ کی بھی گنجائشے نہیں تھی _ وہ خوبیوں ، ذہنی اور صحیح نفسانی اور نفسیاتی طاقتوں کے بھی درجہ کمال پر فائز تھے _ وہ سب لوگوں سے زیادہ دانا ، تمام عقلمندوں سے بھی زیادہ عاقل ، ہر بہادر سے بھی زیادہ بہادر اور تمام نیک اور اچھی صفات کے حامل ہونے کے لحاظ سے وہ سب مخلوقات سے زیادہ کامل اور افضل تھے _ کیونکہ وہ انسانی طبعی اور فطری تقاضوں سے ذرہ برابر بھی ادھر ادھر نہیں ہوسکتے تھے _ اور ان کی عقل اتنی پختہ اور طاقتور تھی کہ نفسانی اور شہوانی خواہشات جیسی دیگر باطنی طاقتیں انہیں نہ تو دھوکہ دے سکتی تھیں اور نہ ان پر غلبہ پاسکتی تھیں_ بلکہ ان کی عقل ہی ہمیشہ ان پر غالب رہتی ، ان پر حکومت کرتی ، انہیں منظم کرتی ، انہیں چلاتی اور ان پر نگرانی کرتی تھی _
بلاشک وہ انہی صفات اور خصوصیات کی وجہ سے فطری طور پر کسی گناہ اور ناپسندیدہ عمل کے ارتکاب سے اس طرح معصوم تھے جس طرح کوئی بچہ آگ کو چھیڑنے سے بچتا ہے اور عقلاء زہر کھانے سے کتراتے ہیں اورہر اس چیز کے ارتکاب سے بچتے ہیں جوان کے وجود ، شخصیت ، مستقبل اور موقف کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے _
____________________
۱)فاطر /۲۸_
پس گذشتہ باتوں کے علاوہ ، عقل کا نقصان دہ اور فائدہ مند نیز اچھی اور بری چیزوں کا صحیح معنوں میں ادراک ، نیز خدا اور خدا کی عظمت ، جلالت ، احاطہ ، قدرت ، حکمت اور تدبیر کی کمال معرفت اور امر و نہی کے مقام صدور کی پہچان اور قیامت ، ثواب اور سزا پر اس کا پختہ ایمان ، یہ سب چیزیں مل کر اس شخص کے لئے برائیوں اور گناہوں کے ارتکاب کے تصور کو بھی ناممکن اور نا قابل قبول بنا دیتی ہیں کیونکہ عقل اور گناہ ایک دوسرے کے متضاد اور مخالف ہیں _ یہی وجہ ہے کہ جب ہم کسی شخص سے ملتے ہیں اور اس کے تمام حالات ، عادات ، خصوصیات ، ترجیحات اور افکار سے واقف ہوتے ہیں تو اس سے منسوب ایسی ساری باتیں جھٹلانے پر مجبور ہوجاتے ہیں جو اس کی شخصیت کے مناسب نہیں ہوتیں _ اور جتنا جتنا ہمارے لئے ثابت ہوتا جائے گا کہ اس کی مذکورہ صلاحیتیں پختہ اور راسخ ہیں اتنا ہی ہمارے لئے اس سے منسوب باتوں کا قبول سخت اور دشوار ہوتا جائے گا _ اور گذشتہ باتوں کی روسے جو شخص برائیوں سے دور اور اچھائیوں پر پابند رہنے کی کوشش کرے گا تو توفیقات الہی بھی اس کے شامل حال ہوتی جائیں گی کیونکہ ( ولینصرن الله من ینصره ) ، ( و من یتق الله یجعل له فرقاناً ) اور ( والذین اهتدوا زاد هم هدی و آتا هم تقوا هم )
پھر خدا نیک لوگوں کی اس جماعت میں سے اس شخص کو چن لیتا ہے جس کی عقل ان لوگوں میں سب سے کامل اور شخصیت سب سے افضل اور خیر اور کمال کی صفات کی جامع ہوتی ہے _ لیکن یہ واضح ہے کہ ان لوگوں کے متعلق خدا کے علم اور چناؤ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ کسی قول یا فعل پر مجبور ہیں _ اسی بناپر عصمت سے کوئی جبر اور زبردستی لازم نہیں آتی کہ یہ کہا جائے کہ معصوم تکوینی ( پیدائشےی ) طور پر سرے سے گناہوں کے ارتکاب کی طاقت نہیں رکھتا _ بلکہ عصمت ان معنوں میں ہوتی ہے کہ ان سے یہ افعال سرزد نہیں ہوتے _ اور علمی الفاظ میں یوں کہا جائے گا کہ معصوم میں گناہوں کا مقتضی ہی موجود نہیں ہوتا (اس کے دل میں گناہ کی طرف رغبت ہی نہیں ہوتی) اور نہ ہی اس میں گناہوں کے ارتکاب کے لئے علّت مؤثرہ پائی جاتی ہے (اسے گناہوں کے ارتکاب پر کوئی چیز نہیں ابھار سکتی ) _ بلکہ اس کے دل میں ارتکاب گناہ کا تصور بھی نہیں ابھرتا _ پس ان معنوں میں کہاجاسکتا ہے کہ ان سے گناہوں کا سرزد ہونا محال ہے _ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح
ہم یہ کہیں کہ بچے کا اپنے آپ کوآگ میں گرانا محال ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کام اس کے لئے مقدورہی نہیں ہے _ بدیہی اور واضح سی بات ہے کہ یہ کام اس کے لئے مقدور تو ہے لیکن ہمارے اس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ کام کرے گا ہی نہیں _ اس طرح جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا کا ظلم کرنا محال ہے اور خدا کبھی ظلم نہیں کرسکتا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ خدا ظلم کرنے پر قادر نہیں ہے _ کیونکہ بلاشک وہ اپنے سب سے زیادہ فرمانبردار بندے کو بھی عذاب میں مبتلا کرسکتا ہے _ لیکن ہمارے کہنے کا یہ مقصد ہوتا ہے کہ خدا ایسا کام نہیں کرے گا کیونکہ یہ کام حکمت خداوندی کے منافی ہے اور خدا کی شان اور عظمت کے بھی خلاف ہے_
پس گذشتہ تمام باتوں کی روسے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ خدا کا اپنے بعض بندوں کو چن کر ان کے ہاتھ سے معجزہ دکھلانا اس بندے کے کامل اور معصوم ہونے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ جس طرح پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں یہ معقول ہی نہیں ہے کہ خدا لوگوں کی ہدایت اور قیادت کے لئے اس شخص کا انتخاب کرے جو خود گناہگار اور نافرمان ہو _
حضرت محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم افضل ترین مخلوق
گذشتہ باتوں کی رو سے اب ہمارے لئے سمجھنا آسان ہوگیا ہے کہ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کیوں تمام مخلوقات حتی کہ دیگر تمام انبیاء ومرسلین سے بھی افضل ہیں _ تو اس کا جواب یہ ہے کہ گرچہ تمام انبیاء معصوم ہیں اور سب کو گناہوں کے ا ثرات اور نتائج کابخوبی علم تھا اور وہ سب خدا کی عظمت اور جلالت اور ملکوت کی معرفت بھی رکھتے تھے بلکہ دوسرے لوگوں سے زیادہ معرفت رکھتے تھے، لیکن ہمارے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کو ان اثرات اور ان کے پہلوؤں اور ہر نسل کے مختلف جوانب پر اس کے انعکاس کا اور اسی طرح خدا کے لامتناہی جلال اور بے اندازہ عظمت کا زیادہ گہرا اور حقیقی ادراک اور علم تھا _ کیونکہ عقل ، حکمت ، دانائی ، گہرے ادراک ، شجاعت ، کرم اور حلم میں بلکہ ، مثالی اور نمونہ عمل انسان کی تمام صفات حمیدہ اور اخلاق حسنہ
میں بلکہ تمام چیزوں میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سب سے کامل ، افضل اور اولین شخصیت ہیں _ پس اس لئے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سب سے افضل ہیں کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی عصمت سب سے زیادہ عمیق ، پائیدار ، زیادہ پر اثر اور وسیع تھی _ اسی بناپر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی عبادتوں میں خدا سے سب سے زیادہ راز و نیاز کرنے والے اور سب سے زیادہ ڈرنے والے تھے _
حدیث ''علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل '' کا صحیح مطلب
اسی طرح جب ہم اس حدیث کو مشاہدہ کرتے ہیں جس میں آیا ہے کہ '' علماء امتی کا نبیاء بنی اسرائیل ''(۱) _(میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی مانند ہیں ) تو اپنے آس پاس موجود ان علماء کو دیکھتے ہوئے اس حدیث کا صحیح مطلب نہیں سمجھ سکتے جن سے بعض لا یعنی باتوں اور صغیرہ گناہوں کے سرزد ہونے کا احتمال رہتا ہے _کیونکہ یہ معقول نہیں ہے کہ یہ شخص جس سے گناہوں کے ارتکاب کا اندیشہ رہتا ہے اس معصوم کی طرح ہوجائے جس کے متعلق نہ یہ اندیشہ رہا ہو ، نہ اس سے سرزد ہوا ہو اور نہ اس کے دل میں گناہ کا خیال تک آیا ہو _ اس لئے اس کی یہ توجیہ کی جاتی ہے کہ یہ علماء معرفت ، علم اور بصیرت کے لحاظ سے ان انبیاء کی مانند ہیں کیونکہ یہ علماء دینی ، تاریخی اور دیگر معارف میں ان حقائق سے مطلع ہوئے جن کا علم گذشتہ انبیاء کو نہیں تھا _ لیکن یہ توجیہ قرآنی منطق سے میل نہیں کھاتی_ کیونکہ قرآن مجید ، تقابل اور افضیلت کا معیار تقوی اور اعمال صالحہ کو قرار دیتا ہے _ ارشاد خداوندی ہے( ان اکرمکم عند الله اتقاکم ) ترجمہ: '' خدا کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ باعزت سب سے زیادہ متقی شخص ہے ''(۲)
اور حدیث قدسی میں بھی آیا ہے : '' میں جنت میں اس شخص کولے جاؤں گا جو میری اطاعت کرے گا چاہے وہ حبشی غلام ہی ہو اور دوزخ میں اسے لے جاؤں گا جو میری نافرمانی کرے گا چاہے وہ قریشی سردار ہی ہو '' _
____________________
۱)بحار الانوار ج ۲ ص ۲۲ از غوالی اللئالی _
۲)حجرات /۱۳_
پس لازمی ہے کہ بنی اسرائیل کے انبیاء سے افضل علماء سے مراد نہ صرف ان انبیاء کی طرح معصوم شخصیات ہوں بلکہ انہیں ان انبیاء سے یہ امتیاز بھی حاصل ہو کہ ان کا ادراک ان سے زیادہ بھی ہو اور اس امت بلکہ نسلوں پر ہر فعل کے اثرات کاانہیںعین الیقین بھی ہو _ بلکہ گذشتہ عہد کے لوگوں کی تاریخ ، عقائد اور تبدیلیوں کا بھی مشاہدہ کرچکے ہوں اور ان سے مطلع ہوں اور خود بھی ان سے زیادہ زمانے اور صعوبتیں دیکھ چکے ہوں اور بنی اسرائیل کے انبیاء بھی انہیں پہچانتے ہوں _ مزید یہ کہ ان کے پاس ان تمام معلومات اور واقعات اور ان کے تمام جوانب اور مستقبل قریب یا بعید میں ان کے تمام پوشیدہ اور ظاہر اثرات کے ادراکات کے تحمل اور ان سے نتیجہ گیری کرنے کے لئے بہت زیادہ طاقت اور قدرت بھی ہونی چاہئے تا کہ جس طرح ہم نے پہلے بھی تفصیل سے بتایا ہے ان کی عصمت ان سے زیادہ دقیق ، عمیق ، پائیدار ، پر اثر اور وسیع ہو_ اور ہمیں تاریخ میں بارہ اماموں کے علاوہ ایسی خصوصیات کامالک کوئی اور شخص نہیں ملتا _ اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے بھی انہیں ثقلین کا ایک حصہ اور کتاب خدا کا ہم پلّہ قرار دیا تھا اور امت پر ان سے تمسک ، ان سے ہدایت کے حصول اور ان کے اوامر اورنواہی کی پیروی کو واجب قرار دیا تھا جن میں سے پہلی شخصیت حضرت علی عليهالسلام اور آخری حضرت مہدی عليهالسلام ہیں _
۴۴۵
چوتھا عنوان
خمس کا شرعی حکم اورسیاست
محترم قارئین سے ہم نے وعدہ کیا تھا کہ عہد نبوی صلىاللهعليهوآلهوسلم میں لاگو ہونے والے خمس کے حکم کی مختصر وضاحت کریں گے _ اور چونکہ علّامہ علی احمدی نے اس موضوع پر نہایت مفید گفتگو کی ہے اس لئے ہم بھی کچھ اضافات کے ساتھ حتی الامکان انہی کی باتوں سے استفادہ کریں گے _
ارشاد خداوندی ہے :
( و اعلموا انّما غنمتم من شی فان لله خمسه و للرسول و لذی القربی و الیتامی و المساکین و ابن السبیل )
''او رجان لو کہ تمہیں جس چیز سے غنیمت ( نفع) حاصل ہو تو اس میں سے پانچواں حصہ خدا ، رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم ، رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے قریبیوں (ذوالقربی) ، یتیموں ، مسکینوںاور ( بے پناہ ) مسافروں کا ہے''(۱)
غنیمت کا معنی
بعض مسلمان فرقوں کے علماء کا نظریہ ہے کہ '' غنیمت وہ مال ہے جو میدان جنگ میں کفار سے حاصل
____________________
۱)انفال /۴۱_
ہو''_ جبکہ شیعوں کا اپنے ائمہ کی پیروی میں ( لغویوں کی تشریح کے مطابق) یہ نظریہ ہے کہ '' غنیمت ہر وہ مال ہے جو کسی بدلے اور معاوضہ کے بغیر ( یعنی مفت ) حاصل ہو '' _ لغوی کہتے ہیں : '' غُنم : مشقت کے بغیر کسی چیز کو پانا ، مفت حاصل کرنا '' ، '' اغتنام : فرصت کو ( یا کسی چیز کو)غنیمت سمجھنا '' اور '' غنم الشیی غنما : کسی چیز کا بلا مشقت حصول اور بدلے کے بغیر ہاتھ لگنا '' _ راغب کہتا ہے : '' غنم کا اصل مطلب کسی چیز کو اچانک پانا اور اسے حاصل کرنا ہے لیکن پھر ہر اس چیز کو ''غنم '' کہا جانے لگا جسے غلبہ پاکر حاصل کیاجائے ''(۱) یہ تو ہوئی لغویوں کی بات _ پھر جب ہم احادیث اور خطبوں میں کلمہ '' غنم '' کے استعمال کو دیکھتے ہیں تووہاں بھی ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ لفظ کا استعمال ہر چیز کے ہمہ قسم حصول پر ہوتا ہے یعنی ہر قسم کے نفع پر اس کا اطلاق ہوتا ہے _ ہمارے اس مدعا پر دلیل کے لئے حضرت علی عليهالسلام کے یہ فرامین بھی کافی ہیں :
(من اخذ بها لحق و غنم )(۲)
'' جو دین کی شاخوں کو پکڑ لے گا وہ اس کی حقیقت تک پہنچ جائے گا اور فائدہ مند ر ہے گا ''
( ویری الغنم مغرماً و الغرم مغنماً )(۳)
'' وہ نفع کو نقصان سمجھتا ہے اور گھاٹے کو فائدہ ''
(و اغتنم من استقرضک )(۴)
'' ا ور تم اس شخص کو غنیمت سمجھو جو تم سے کوئی چیز ادھا رمانگے ''
(الطاعة غنیمة الاکیاس )(۵)
'' اطاعت عقلمندوں کے لئے فائدہ مند اور غنیمت ہے ''
____________________
۱)ملاحظہ ہو: لسان العرب ، اقرب الموارد ، مفردات راغب ، قاموس النہایہ ابن اثیر ، معجم مقایس اللغہ ، تفسیر رازی ، مصاحبہ اللغات و لغت کی دیگر کتب _
۲)نہج البلاغہ خطبہ ۱۱۸ ( بعض میں ۱۲۰ ہے ) _ ( ۳)نہج البلاغہ کلمات قصار حکمت ۱۵۰_ ( ۴) نہج البلاغہ خط نمبر ۳۱_
۵)نہج البلاغہ کلمات قصار حکمت نمبر ۳۳۱_
اس کے علاوہ حدیث میں بھی ہے کہ :
(الرهن لمن رهنه له غنمه و علیه غرمه )(۱)
'' رہن کا مال گروی رکھنے والے شخص کی ملکیت ہے اس کا نفع بھی اسی کا ہوگا اور نقصان بھی ''
(الصوم فی الشتاء الغنیمة الباردة )(۲)
'' سردیوں کا روزہ بلا مشقت ( مفت ) کی کمائی ہے ''
اسی طرح ارشاد خداوندی ہے :
(عندالله مغانم کثیره )(۳)
'' خدا کے پاس تو بہت سارے خزانے ( اور فائدے ) ہیں ''
اسی طرح جب آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کو کوئی زکات دی جاتی تو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم یہ دعا فرماتے:
(اللّهم اجعلها مغنماً ولا تجعلها مغرماً )(۴)
'' خدایا اسے فائدہ مند ( اور با برکت ) بنا گھاٹا ( اور تاوان ) مت بنا ''
نیز فرمایا:
(غنمیة مجالس الذکر الجنة )(۵)
'' وعظ و نصیحت کی محفلوں کا فائدہ جنت ہے ''
نیز روزے کی تعریف میں فرمایا :
(هو غنم المؤمن )(۶)
'' یہ مومن کے لئے غنیمت اور مفت کی کمائی ہے ''
____________________
۱)النہایة ابن اثیر مادہ '' غنم''_ (۲)النہایة ابن اثیر مادہ ' ' غنم '' _ (۳)نساء /۹۴_ (۴)سنن ابن ماجہ (کتاب الزکات ) حدیث نمبر ۱۷۹۷_
۵)مسند احمد ج ۲ ص ۱۷۷_ (۶) ملاحظہ ہو : مقدمہ مرآة العقول ج ۱ ص ۸۴و ص ۸۵_
اس کے علاوہ بھی کثیر احادیث اور روایات ہیں _
پس اس بنا پر لغت میں '' غنم '' کا معنی ہے ''ہر وہ چیز جو کسی بھی طرح سے حاصل ہو '' _ لیکن بعض لوگوں کی طرف سے '' بلا مشقت '' کا اضافہ اس کے گذشتہ استعمال کے برخلاف ہے _ اور اس سے مجازی معنی مراد لینے کا مطلب یہ ہوگا کہ اکثر مقامات پر اس لفظ کا مجازی معنی میں استعمال ہونے کا عقیدہ رکھا جائے _ جبکہ قرآن مجید میں ہی خود آیت خمس کا اطلاق ہر اس مال پر ہوتا ہے جس سے فائدہ حاصل ہو _ اور ان میں وہ مال غنیمت بھی ہے جو جنگ میں بڑی مشقت کے بعد حاصل ہوتا ہے _ اور بعض شخصیات(۱) کا یہ کہنا بھی کہ '' اس لفظ کا اصل معنی پہلے ہر قسم کا نفع اور فائدہ تھا لیکن بعد میں صرف مال غنیمت کے ساتھ خاص ہوگیا '' صحیح نہیں ہے کیونکہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ حدیث شریف میں یہ الفاظ صرف ان معنوں میں ہی استعمال نہیں ہوئے بلکہ اصل معنوں میں اس سے زیادہ استعمال ہوئے ہیں _ پھر اگر یہ شک بھی پیدا ہوجائے کہ یہ لفظ اپنے اصلی معنی میں استعمال ہوا ہے یا نہیں تو اس صورت میں اس لفظ کا اصلی لغوی معنی مراد لیا جائے گا _ پس آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر اس چیز پر خمس واجب ہے جو انسان کو حاصل ہو چاہے وہ کافروں سے جنگ کے میدان سے بھی نہ ہو _ اور اس چیز کا اعتراف قرطبی نے بھی کرتے ہوئے کہا ہے : '' لغت کے لحاظ سے تو آیت میں منافع کو جنگ کے مال غنیمت سے مخصوص نہیں کیا جاسکتا '' لیکن اس بارے میں وہ کہتا ہے : '' لیکن علماء نے اس تخصیص پر اتفاق کرلیاہے '' ( ۲)اور اس کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ علمائے اہل سنت نے آیت کے ظاہری مفہوم اورمتبا در معنی کے خلاف اتفاق کرلیا ہے _
آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطوط میں خمس کا تذکرہ
اسی طرح آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطوط بھی اس بات کی تاکید اور تائید کرتے ہیں کہ خمس جس طرح جنگ کے مال غنیمت پر واجب ہے اسی طرح جنگ کے علاوہ دیگر منافع میں بھی واجب ہے _ اور غنیمت سے اس کا
____________________
۱)اس سے مراد علّامہ بزرگوار جناب سید مرتضی عسکر ی صاحب ہیں جنہوں نے یہ بات مرآة العقول کے مقدمہ میں لکھی ہے _
۲) تفسیر قرطبی ج ۸ ص ۱ _
عام معنی مراد ہے(۱) پس مندرجہ ذیل باتیں ملاحظہ ہوں _
۱_ قبیلہ بنی عبدالقیس نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا ، '' ہم پورے سال میں صرف حرام مہینوں میں ہی آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آسکتے ہیں کیونکہ ہمارے رستے میں قبیلہ مضر کے کافروں کی ایک شاخ پڑتی ہے _ اس لئے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ہمیں ایسے قطعی احکام بیان فرمادیں جنہیں ہم واپس جا کر قبیلہ والوں کو بھی بتائیں اور جن پر عملدار آمد سے ہم جنت بھی جاسکیں '' اور انہوں نے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے کھانے پینے کے مسائل بھی پوچھے _ اس پر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں چار چیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے روکا _ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں خدائے واحد پر ایمان لانے کا حکم دیا _ پھر پوچھا : '' جانتے ہو خدائے واحد پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے ؟ '' انہوں نے کہا '' خدا اور اس کا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم بہتر جانتے ہیں '' _ پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : '' اس کا مطلب یہ گواہی دینا ہے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ، ( حضرت ) محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں ، نماز قائم کرنا ہے ، زکات ادا کرنا ہے ، ماہ رمضان کے روزے رکھنا ہے اور ہر بچت اور نفع سے خمس ادا کرنا ہے ...''(۲) _ یہاں یہ بات واضح ہے کہ بنی عبدالقیس کا قبیلہ بہت کمزور قبیلہ تھا جو صرف حرام مہینوں میں ( جن میں جنگ حرام تھی اور کسی کو کسی سے کوئی سر و کار نہیں ہوتا تھا ) ہی اپنے گھروں سے باہر نکل سکتے تھے اور ان میں لڑنے جھگڑنے کی کوئی سکت ہی نہیں تھی ( لیکن آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے پھر بھی انہیں خمس ادا کرنے کا حکم دیا) نیز ہمارے مدعا کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ جنگ کے مال غنیمت کا اختیار قائد اور سردار لشکر کے پاس ہوتا ہے اور وہی اس کا ذمہ دار ہوتا ہے ، وہ اس سے خمس نکال کر باقی واپس کردیتا ہے جسے سپاہیوں میں آپس میں بانٹ دیا جاتا ہے اور اس میں قائد کو خود افراد سے کوئی غرض نہیں ہوتی جبکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اوامر سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں ایسے احکام کے بجالانے کا حکم دیا جن کا تعلق صرف افراد کے ساتھ تھا یعنی وہ انفرادی احکام تھے اور وہ ہر فرد کا فریضہ تھے جن کو اسے کیفیت یا کمیت میں اضافے کے ساتھے بجالاتے رہنا چاہئے
____________________
۱)مولانا محمد حسین نجفی صاحب کے لئے خاص طور پر قابل ملاحظہ ہے _ (۲)بخاری طبع مشکول ج ۱ ص ۲۲ و ص ۳۲ و ص ۱۳۹ ، ج ۲ ص ۱۳۱ و ج ۵ ص ۲۱۳، ج ۹ ص ۱۱۲ ، صحیح مسلم ج ۱ ص ۳۶، سنن نسائی ج ۲ ص ۳۳۳ و مسند احمد ج ۱ ص ۲۲۸ و ص ۳۶۱، ج ۳ ص ۳۱۸ و ج ۵ص ۳۶ ، الاموال ابو عبید ص ۲۰ ، ترمذی باب الایمان ، سنن ابو داؤد ج ۳ ص ۳۳۰ و،ج ۴ ص ۲۱۹ ، فتح الباری ج ۱ ص ۱۲۰ و کنز العمال ج ۱ ص ۲۰ و ص ۱۹ حدیث نمبر ۴_
تھا جس طرح ایمان ، نماز اور زکات ہے _ اسی طرح خمس بھی زکات و غیرہ کی طرح ہے اور یہ ان سے کوئی مختلف نہیں ہے ۲_ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے عمرو بن حزم کو یمن بھیجتے ہوئے اسے ایک لمبا دستور نامہ بھی ساتھ لکھ کردیا تھا جس میں آیا ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے اضافی اور بچت کے مال سے خدا کا حصہ خمس وصول کرنے کا حکم دیا تھا(۱) اور اس جملے کا معاملہ بھی گذشتہ جملے کی طرح ہے _
۳_ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے یمینوں کے قبیلہ بنی عبد کلال کو شکریے کا ایک خط لکھا جس میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے عمروبن حزم کے ذریعہ بیان ہونے والے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے گذشتہ احکام کی تعمیل کرنے پر خود عمروبن حزم اور قبیلہ بنی عبدکلال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا : '' تمہارا نمائندہ ملا اور میں تصدیق کرتا ہوں کہ تم نے اپنے اضافی مال سے خدا کا خمس ادا کردیا ہے ''(۲) _
یہاں یہ بھی وضاحت کردیں کہ ہم تاریخ میں بعد از اسلام اس قبیلے کی کسی سے کسی جنگ کا مشاہدہ نہیں کرتے کہ انہوں نے اس جنگ سے مال غنیمت لوٹا ہو اور اسے عمروبن حزم کے ہمراہ بھیجا ہو _
۴_ آنحضرت نے قبیلہ قضاعہ کی شاخ قبیلہ سعد ہذیم اور جذام کو ایک خط لکھا جس میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ خمس اور صدقات کو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے دو نمائندے ابّی اور عنبسہ کے یا جس کو آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم بھیجیں، اس کے حوالے کریں(۳) حالانکہ یہ قبیلے تازہ اسلام لائے تھے اور ان کی کسی سے جنگ بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس سے مراد مال غنیمت کا خمس لیا جاتا_
____________________
۱)تاریخ ابن خلدون ج ۲ ، تنویر الحوالک ج ۱ ص ۱۵۷ ، البدایہ و النہایہ ج ۵ ص ۷۶ ، سیرہ ابن ہشام ج ۴ ص ۲۴۲ ، کنز العمال ج ۳ ص ۱۸۶ ، الاستیعاب بر حاشیہ الاصابہ ج ۲ ص ۵۱۷، الخراج ابو یوسف ص ۷۷، مسند احمد بن حنبل ج ۲ ص ۱۴ و ص ۱۵ ، سنن ابن ماجہ ج ۱ ص ۵۷۳ص ۵۷۵و ص ۵۷۷ سنن دارمی ج ۱ ص ۲۸۱ و ص ۳۸۵ و ج ۲ ۱ص۱۶تا ص ۱۹۵ ، الاصابہ ج۲ ص ۵۳۲، سنن ابو داؤد ج ۲ ص ۹۸وص ۹۹ ، الدر المنثور ج ۲ ص ۲۵۳ ، التراتیب الاداریہ ج ۱ ص ۲۴۸ و ص ۲۴۹ و سنن ترمذی ج ۳ ص ۱۷ ، نیز از رسالات نبویہ ۲۰۴ ، طبری ج ۲ ص ۳۸۸ ، فتوح البلدان بلاذری ص ۸۰ ، اعلام السائلین ص ۴۵ ، مجموعة الوثائق السیاسیة ص ۱۷۵ ، فریدون ج ۱ص ۳۴ ، اھدلی ص ۶۸ و الامتاع مقریزی ص ۱۳۹_
۲)الاموال ابوعبید ص ۲۱ ، سنن بیہقی ج ۴ ص ۸۹ ، کنز العمال ج ۳ ص ۱۸۶ و ص ۲۵۲و ص ۲۵۳ از طبرانی و غیرہ ، مستدرک حاکم ج ۱ ص ۳۹۵ ، الدر المنثور ج ۱ص ۳۴۳، مجمع الزوائد ج ۳ نیز ازتہذیب ابن عساکر ج ۶ ص ۲۷۳ و ص ۲۷۴ ، جمہرة رسائل العرب ج ۱ ص ۸۹ ، مجموعة الوثائق السیاسیہ ص ۱۸۵ از اھدلی ص ۶۷ و ۶۸ از ابن حبان و المبعث ص ۱۴۱ _
۳)طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ ۲ ص ۲۳ و ص ۲۴ ، مجموعة الوثائق السیاسیہ ص ۲۲۴ و مقدمہ مرآہ العقول ج ۱ ص ۱۰۲و ص ۱۰۳_
۵_ اسی طرح مختلف قبیلوں اور ان کے سرداروں کو بھیجے گئے سولہ سے بھی زیادہ دیگر خطوط میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان پر خمس واجب قرار دیا تھا _ اور وہ قبائل اور شخصیات درج ذیل ہیں : قبیلہ بکائ، بنی زہیر ، حدس، لخم ، بنی جدیس،لاسبذیین ، بنی معاویہ ، بنی حرقہ، بنی قیل ، بنی قیس ، بنی جرمز، اجنادہ اور اس کا قوم و قبیلہ ، قیس اور اس کا قبیلہ ، مالک بن احمر، بنی ثعلبہ کے بزرگ صیفی بن عامر ، فجیع اور اس کے ساتھی ، قبیلہ بنی عامر کے سردار نہشل بن مالک اور جہینہ بن زید ، نیز یمنیوں ، بادشاہان حمیر اور بادشاہان عمان کو خطوط میں بھی اس بات کی تاکید کی تھی ان خطوط اور دستاویزات کو مندرجہ ذیل منابع میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے(۱)
ان خطوط پر ایک نظر
یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان خطوط میں ذکر ہونے والے الفاظ '' مغنم ،غنائم اور مغانم '' سے مراد صرف جنگ سے حاصل ہونے والا مال غنیمت ہے _ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہوگی ، کیونکہ : ۱_ اس موقع پر جنگوں کا اعلان ، ان کی قیادت اور ان کا نظم و انتظام خود رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے یا آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے قیادت کے لئے منصوب کسی شخص کے ذمہ ہوتا تھا _ پھر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد آنے والے خلفاء یا ان کی طرف سے منصوب افراد کی یہ ذمہ داری ہوتی تھی _ اور کسی قبیلے کو بھی اپنی طرف سے جنگ چھیڑنے یا جنگ کی ٹھاننے کا کوئی اختیار اور حق نہیں ہوتا تھا _ اور تاریخ میں بھی ہمیں کسی ایسی جنگ کا تذکرہ نہیں ملتا جس میں
____________________
۱)اسعد الغابہ ج ۴ ص ۱۷۵ و ص ۲۷۱ و ص ۳۲۸ و ج ۵ ص ۴۰ و ص ۳۸۹ و ج ۱ ص ۳۰۰ و الاصابہ ج ۳ ص ۳۳۸ و ص ۱۹۹ و ص ۵۷۳ ، ج ۱ ص ۵۳و ص ۲۴۷ و ص ۲۷۸ و ج ۲ ص ۱۹۷ ، طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۲۷۴ ، ص ۲۷۹ ، ص ۶۶ ، ص ۲۶۹ ص ۲۷۱، ص ۲۶۸ ، ص ۲۷۰ ، ص ۲۸۴، ج ۷ حصہ ۱ ص ۲۶ و ج ۵ ص ۳۸۵، رسالات نبویہ ص ۲۳۷ ، ص ۱۰۲، ص ۱۰۳، ص ۱۳۱، ص ۲۵۳، ص ۱۳۸، ص ۱۸۸ ، ص ۱۳۴ ، مجموعہ الوثائق السیاسیہ ص ۱۲۱ ، ص ۲۶۴ و ص ۲۷۳از اعلام السائلین ، ص ۹۸، ص ۹۹ و ص ۲۵۲، ص ۲۵۰، ص ۲۱۶، ص ۱۹۶، ص ۱۳۸، ص ۲۳۲، ص ۲۴۵، ص ۱۸۰ ، کنز العمال ج ۲ ص ۲۷۱ج ۵ ص ۳۲۰، ج ۷ ص ۶۴از رویانی ، ابن عساکر ، ابوداؤد ، کتاب الخراج و طبقات الشعراء جحمی ص ۳۸، سنن بیہقی ج ۶ ص ۳۰۳ ، ج ۷ ، ص ۵۸ و ج ۹ ص ۱۳، مسند احمد ج ۴ ص ۷۷، ص ۷۸ و ص ۳۶۳ ، سنن نسائی ج ۷ ص ۱۳۴، الاموال ابوعبید ص ۱۲، ص ۱۹، ص ۲۰ ، ص ۳۰ ، الاستیعاب تعارف عمر بن تولب و ج ۳ ص ۳۸۱،جمہرة رسائل العرب ج ۱ ص ۵۵ و ص ۶۸از شرح المواہب زرقانی ج ۳ ص ۳۸۲ ، صبح الاعشی ج ۱۳ ص ۳۲۹ نیز مجموعة الوثائق السیاسیہ از اعلام السائلین ، نصب الرایہ ، المغازی ابن اسحاق ، المصنف ابن ابی شیبہ ، معجم الصحابہ المنتقی ، میزان الاعتدال ، لسان المیزان ، تاریخ یعقوبی ، صبح الاعشی و الاموال ابن زنجویہ ، تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۶۴، البدایہ و النہایہ ج ۵ ص ۴۶ و ص ۷۵و ج ۲ ص ۳۵۱از ابونعیم ، تاریخ طبری ج ۲ ص ۳۸۴، فتوح البدان بلاذری ص ۸۲ ، سیرہ حلبیہ ج ۳ ص ۲۵۸ ، سیرہ ابن ہشام ج ۴ ص ۲۴۸ و ص ۲۶۰ ، سیرہ زینی دحلان ج ۳ ص ۳۰ ، المصنف ج ۴ ص ۳۰۰ ، طبقات الشعراء ابن سلام ص ۳۸ و مجمع الزوائد ج ۸ ص ۲۴۴_
انہوں نے مستقل طور پر کوئی جنگ کی ہو _ اور اگر ایسا ہوتا بھی تو اس صورت میں مناسب یہ تھا کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے قائدین اور جرنیلوں کو خط لکھتے کیونکہ مال غنیمت کا خمس نکال کر آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو بھیجنے اور باقی کو جنگجوؤں میں تقسیم کرنے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی تھی _
۲_ یہ مذکورہ قبیلے حجاز، شام ، بحرین اور عمان میں بستے تھے اور اکثر قبیلے اتنے چھوٹے اور کمزور تھے کہ ان میں جنگ کرنے کی طاقت ہی نہیں تھی کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم ان سے جنگ کے مال غنیمت کا مطالبہ کرتے _
۳_ اگر ان الفاظ سے مراد صرف جنگ کا مال غنیمت ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ ہر کسی کو ہر جگہ اور ہر وقت دشمن پر چڑھائی کرنے کی کھلی چھٹی دے دی جاتی جس سے انار کی پھیل جاتی اور اسلامی حکومت کے لئے بہت زیادہ اور مہلک ، خطرات کا باعث بنتی اور کسی عاقل ، سمجھدار اور با تدبیر شخصیت سے کوئی ایسا حکم جاری نہیں ہوسکتا _ نیز ہم نے تاریخ میں بھی کوئی ایسا حکم اور اس حکم پر عمل در آمد سے پھیلنے والی انار کی کی کوئی مثال نہیں دیکھی _
۴_پہلے بھی بتاچکے ہیں کہ ان خطوط میں خدا اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایمان اور خمس اور زکات کی ادائیگی جیسے کچھ انفرادی احکام کا بیان تھا _ جو ہمیں اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ ماہیت کے لحاظ سے خمس بھی ان احکام سے کوئی مختلف نہیں ہے _ اور یہ کوئی نادر حکم نہیں تھا کہ ان کی عملی زندگی سے غیر متعلق ہوتا اور کئی دہائیوں بلکہ صدیوں تک انہیں اس پر عمل کرنے کا موقع نہ ملتا بلکہ یہ تو ان کی روزمرہ زندگی کا ایک عمومی حکم تھا _
وافر مال پر خمس واجب ہے
آنحضرت نے وائل بن حجر کو بھی ایک خط لکھا جس میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : '' سُیوب پر بھی خمس واجب ہے''(۱)
____________________
۱) اسد الغابہ ج ۳ ص ۳۸، الاصابہ ج ۲ ص ۲۰۸ و ج ۳ ص ۴۱۳ ، بحارا لانوار ج ۶ ۹ص ۸۳و ص ۱۹۰ ، الاستیعاب ( برحاشیہ الاصابہ ) ج ۳ ص ۶۴۳ ، جامع احادیث الشیعہ ج ۸ ص ۷۳ ، العقد الفرید ج ۱ باب الوفود ، البیان و التبیین ، وسائل الشیعہ کتاب الزکاة باب تقدیر نصاب الغنم ، معانی الاخبار ص ۲۷۵، شرح ا لشفاء قاری ج ۱ ص ۱۸، تاریخ ابن خلدون ج ۲ ، سیرہ نبویہ دحلان ( بر حاشیہ سیرہ حلبیہ ج ۳ ص ۴۹، الشفاء قاری ج۱ ص ۱۴ نیز از المعجم الصغیر ص ۲۴۳ ، رسالات نبویہ ص ۶۷ و ص ۲۹۷از المواہب اللدنیہ ، زرقانی نیز نہایہ ابن اثیر، لسان العرب ، تاج العروس ، نہایة الارب و غریب الحدیث ابوعبید میں ذیل لفظ ''سیب '' اور''قیل''و طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۲۸۷_
زیلعی کہتا ہے : '' سَیب یعنی عطاء کسی اور چیز کا یونہی مل جانا اور سُیوب یعنی زمین میں چھپا ہوا خزانہ ''(۱)
جبکہ لغت کی اکثر کتابوں میں '' سُیوب '' کی وضاحت بھی '' عطا '' یعنی و افر مال سے کی گئی ہے _ اس بناپر ہم یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے سُیوب کو صرف چھپے ہوئے خزانے سے کیوں مخصوص کیا ہے جبکہ چھپے ہوئے خزانے تو سُیوب کا ایک حصہ اور فرد ہیں اور سیوب کا لفظ عام اور مطلق ہے ( جس کا اطلاق ہر وافر مال پر ہوتا ہے ) کیا یہ خمس کے حکم کو ہر اضافی مال سے مستثنی کرنے کے لئے لغت میں ان کا اجتہاد اور جھوٹی اور باطل تاویل نہیں ہے؟
بلکہ انہوں نے تو اسے زمانہ جاہلیت میں مدفون خزانوں سے مخصوص کردیا ہے _
اور ہماری سمجھ میں تو اس کی وجہ بالکل بھی نہیں آئی کیونکہ لفظ '' سیوب '' ان شرطوں کے ساتھ بالکل بھی مخصوص نہیں ہے کیونکہ ہر اضافی مال اور ہرچھپے ہوئے خزانے کو سیوب کہا جاتا ہے _ نیز یہ لفظ تو زمانہ جاہلیت میں بھی استعمال ہوا کرتا تھا اور یہ معقول ہی نہیں ہے کہ خود زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی سیوب کے متعلق یہ کہیں کہ اس سے مراد زمانہ جاہلیت میں مدفون خزانہ ہے
لگتا یہی ہے کہ اس بات سے ہمیں انہوں نے یہ سمجھا نے کی کوشش کی ہے کہ اس طرح وہ مال ان کافروں سے لوٹا ہوا مال غنیمت بن جائے گا جن سے جنگ واجب ہے _ تا کہ یہ بات ان کے مذہب کے موافق ہوجائے _ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ لغت کی کتابیں کہتی ہیں کہ سیب کا اصل معنی مہمل ، فاضل اور چھوڑی ہوئی چیز ہے اور '' سائبہ '' سے مراد ہر وہ جانور ہے جس کا کوئی مالک اور نگران نہ ہو اور زمانہ جاہلیت میں بھی جس اونٹنی کو آزاد اور بلا مالک اور نگران چھوڑ دیا جاتا اسے '' سائبہ'' کہا جاتا تھا _ اور حدیث میں بھی ہے کہ '' کل عتیق سائبة '' ( ہر پرانی چیز کسی کی چھوڑی ہوئی ہوتی ہے ) _ ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ احادیث میںبھی '' سیوب'' سے مراد ہر متروک اور چھوڑی ہوئی اور ایسی فاضل چیز ہے جس کی انسان کو روزمرہ میں ضرورت نہ ہو اس لئے اس پر خمس واجب ہوجاتا ہے _
____________________
۱)تبیین الحقائق ج ۱ ص ۲۸۸_
مزید دلائل
آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے عرب کے بعض قبیلوں کو لکھا کہ زمین کی وادیاں ، میدان ، ٹیلے ، اوپر اور نیچے سب تمہارے لئے ہے تا کہ تم اس کے نباتات اور سبزیوں سے استفادہ کرو اور پانی پئو اور اس کا خمس بھی ادا کرو(۱) اس کلام کا سیاق و سباق ہمیں واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ یہاں مراد جنگ کے مال غنیمت کا خمس نہیں ہے، کیونکہ جنگ کے مال غنیمت کا زمین کی وادیوں ، ٹیلوں ، میدانوں اور ان کے ظاہر اور باطن سے استفادہ کرنے اور اس کے- نباتات اور پانی سے استفادہ کرنے کا آپس میں اور پھر ان کا اور ( ان کے نظریئےے مطابق)خمس کا آپس میں کوئی تعلق ہی نہیں بنتا اور نہ ہی اس جملے کی کوئی تک بنتی ہے _ مگر اس صورت میں کہ زمین سے حاصل ہونے والی ہر چیز پر خمس کے وجوب کا بھی قائل ہوا جائے _ اس بات کی تاکید اور تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے خمس کے ذکر کے بعد بھیڑ بکریوں کی زکات کا تذکرہ بھی کیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ کاشتکاری کریں گے تو ان سے بھیڑ بکریوں کی زکات معاف ہوگی _البتہ بظاہر یہ بات انہیں زراعت کی ترغیب دینے کے لئے کی گئی تھی _
معدنیات اور مدفون خزانوں پر بھی خمس ہے
اہل سنت کے نزدیک بھی معدنیات اور مدفون خزانوں پر خمس کا حکم ثابت ہے(۲)
____________________
۱) طبقات ابن سعد ج ۴ حصہ ۲ ص ۱۶۷ نیز از مجموعة الوثائق السیاسیہ ص ۲۱۹ ، رسالات نبویہ ص ۲۲۸ ، کنز العمال ج ۷ ص ۶۵و جمع الجوامع مسند عمروبن مرّہ اور اسے مرآة العقول ج ۱ میں النہایہ ابن اثیر اور لسان العرب لفظ '' صرم '' سے نقل کیا گیا ہے _
۲)الاموال ابوعبید ج ۳۳ ص ۳۳۷، ص ۴۷۳، ص ۴۷۷، ص ۴۷۶، ص ۴۶۸، ص ۴۶۷، نصب الرایہ ج ۲ ص ۳۸۲، ص ۳۸۱ و ص ۳۸۰، مسند احمد ج ۲ ص ۲۲۸ ، ص ۲۳۹، ص ۲۵۴، ص ۲۷۴، ص ۳۱۴، ص ۱۸۶، ص ۲۰۲، ص ۲۸۴، ص ۲۸۵، ص ۳۱۹، ص ۳۸۲ ، ص ۳۸۶، ص ۴۰۶، ص ۴۱۱، ص ۴۱۵، ص ۴۵۴،ص ۴۵۶،ص ۴۶۷، ص ۴۷۵، ص ۴۸۲، ص ۴۹۳، ص ۴۹۵، ص ۴۹۹، ص۱ ۵۰و ص ۵۰۷، ج ۳ ص ۳۵۴، ص ۳۵۳،ص ۳۳۶، ص ۳۵۶، ص۳۳۵، ص ۱۲۸و ج ۵ ص ۳۲۶، کنز العمال ج ۴ ص ۲۲۷و ص ۲۲۸، ج ۱۹ ص ۸و ص ۹و ج ۵ص ۳۱۱ ، مستدرک حاکم ج ۲ ص ۵۶، مجمع الزوائد ج ۳ ص ۷۷ و ص ۷۸و از طبرانی در الکبیر و الاوسط و از احمدو بزار ، المصنف عبدالزراق ج ۱۰ ص ۱۲۸ و ص ۶۶، ج ۴ ص ۱۱۷ ، ص ۶۴ص ۶۵، ص ۱۱۶ و ص ۳۰۰ و ج ۶ ص ۹۸ از خمس العنبر، مقدمہ مرآة العقول ج ۱ ص ۹۷ و ص ۹۶،المغازی واقدی ص ۶۸۲، سنن بیہقی ج ۴ ص ۱۵۷، ص ۱۵۶و ص ۱۵۵ و ج ۸ ص ۱۱۰ ، المعجم الصغیر ج۱ ص ۱۲۰، ص ۱۲۱و ص ۱۵۳ ، الطحاوی ج ۱ ص ۱۸۰، سنن نسائی ج ۵ ص ۴۴و ص ۴۵،بخاری طبع مشکول ج ۲ ص ۱۵۹ ، ص و ۱۶۰ در باب'' فی اکاز الخمس'' نیز درباب ( ...بقیہ اگلے صفحہ پر ...)
اصطخری کہتا ہے : '' حکام معدنیات کا خمس بھی لیا کرتے تھے ''(۱) _
اور مالک اور مدینہ والوں کے علاوہ اہل سنت کے باقی مکاتب فکر نے زمین میں چھپی ہوئی چیزوں میں سے معدنیات پر خمس کو واجب قرار دیا ہے اور اسے مال غنیمت کی طرح جانا ہے(۲) _ لیکن ابوعبید کہتا ہے کہ یہ مدفون خزانے کے زیادہ مشابہ ہے(۳) _
اسی طرح عمر بن عبدالعزیز نے عروہ کو خط لکھ کر اس سے خمس کے متعلق بزرگان کا نظریہ پوچھا تو عروہ نے جواب میں لکھا کہ عنبر بھی مال غنیمت کی طرح ہے اس کا خمس لینا واجب ہے(۴) _ شیبانی کہتا ہے کہ معدنیات اور مدفون خزانوں پر بھی خمس واجب ہے اوریہ بھی اضافی چیزوں میں سے ہیں(۵) _ نیز حضرت علی علیہ السلام نے بھی یمن میں مدفون خزانے کا خمس نکالاتھا _ البتہ اس بارے میں بعد میں گفتگو کریںگے_ اسی طرح جابر سے بھی مروی ہے کہ '' جو بھی اضافی مال حاصل ہو اس پر خمس واجب ہے'' _ نیز اسی طرح کی ایک اور روایت ابن جریح سے بھی مروی ہے(۶) _ نیز روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ جو شخص بھی دشمن سے کوئی زمین لے اور اسے سونے یا چاندی و غیرہ کے بدلے میں بیچے تو اس کا خمس بھی نکالنا ضروری ہے(۷) _
____________________
'' من حفربئراً فی ملکہ '' نیز مطبوعہ ۱۳۰۹ ھ ج ۴ ص ۱۲۴ ، الہدایہ شرح البدایہ ج۱، ص ۱۰۸، خراج ابویوسف ص ۲۶سنن ابن ماجہ ج ۲ ص ۸۳۹ و ص ۸۰۳ ، سنن ابو داؤد ج ۳ ص ۱۸۱و ج ۴ ص ۱۹، شرح الموطا زرقانی ج ۲ ص ۳۲۱، کتاب الاصل شیبانی ج ۲ ص ۱۳۸، سنن دارمی ج ۱ ص۳۹۳ و ج ۲ ص ۱۹۶، نیل الاوطارج ۴ص ۲۱۰، موطا ج ۱ ص ۲۴۴ و ج ۳ ص ۷۱( مطبوعہ با تنویر الحوالک ) ، منحة المعبود ج ۱ص ۱۷۵، ترمذی ج ۱ ص ۲۱۹و ج ۳ ص ۱۳۸ ، صحیح مسلم ج ۵ ص ۱۲۷، ص ۱۱و ص ۲۲۵، العقد الغرید ، نہایة الارب، الاستیعاب ، تہذیب تاریخ دمشق ج ۶ ص ۲۰۷ ، تاریخ بغداد ج ۵ ص ۵۳ و ص ۵۴، مصابیح السنہ طبع دار المعرفہ ج ۲ ص ۱۷ ، المسند حمیدی ج ۲ ص ۴۶۲ و مسند ابویعلی ج ۱۰ ص ۴۳۷، ص ۴۶۱و ص ۴۵۹و ج ۱۱ص ۲۰۲نیز اس کے حاشیہ میں ملاحظہ ہوں کثیر منابع _
۱)مسالک الممالک ص ۱۵۸_ (۲) ملاحظہ ہو : الاموال ابوعبید ص ۴۷۲_ (۳)الاموال ص ۴۷۴_
۴)المصنف عبدالرزاق ج ۴ ص ۶۴و ص ۶۵_ (۵)کتاب الاصل شیبانی ج ۲ ص ۱۳۸_ (۶) المصنف عبدالرزاق ج ۴ ص ۱۱۶_
۷)المصنف عبدالرزاق ج ۵ ص ۱۷۹و ص ۱۸۰و ص ۱۸۱و ج ۹ ص ۶۷ و تحف العقول ص ۲۶۰_
بہرحال یہ باتیں تو ہر کسی کے سمجھ میں آنے والی ہیں کہ گذشتہ تمام چیزوں کا شمار جنگ کے مال غنیمت سے نہیں ہوتا لیکن ان پر بھی خمس کا حکم لگایا گیا ہے تو پھر خمس والی آیت کو جنگ کے مال غنیمت سے مخصوص کرنے کا کیا معنی رہ جاتا ہے ؟ بہرحال اتنا ہی کافی ہے کیونکہ ہدایت کے متلاشیوں کے لئے اس میں کافی قانع کنندہ دلائل موجود ہیں _
لطیفہ
یہاں مزے کی ایک یہ بات بھی ذکر کی جاتی ہے کہ حضرت ابوبکر نے بھی اپنے مال کا خمس نکالنے کی وصیت کرتے ہوئے کہا : '' میں اس چیز کی سفارش کر رہا ہوں جسے خدا نے اپنے لئے پسند فرمایا ہے '' پھر اس آیت کی تلاوت کی :( و اعلموا انما غنمتم من شیی فان للہ خمسہ و للرسول )(۱)
خمس لینے والے نمائندے
ایسا لگتا ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے صدقات لینے والے نمائندوں کی طرح خمس لینے والے نمائندے بھی تھے کیونکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے عمرو بن حزم کو یمنی قبیلے بنی عبد کلال سے خمس لینے کا حکم دے کریمن بھیجا تھا اور اس کے خمس بھیجنے پر ان کا شکر یہ بھی ادا کیاتھا _ اور حضرت علی علیہ السلام کو خالدبن ولید سے مال غنیمت کا خمس وصول کرنے کے لئے بھیجا تھا(۲) _
بلکہ ابن قیم کہتا ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کو خمس لینے اور قضاوت کے لئے یمن بھیجا(۳)
____________________
۱)المصنف عبدلرزاق ج ۹ ص ۶۶_
۲) نصب الرایہ ج ۲ ص ۳۸۲، المصنف عبدالرزاق ج ۴ ص۱۱۶ ، مجمع الزوائد ج ۳ ص ۷۸ نیز ملاحظہ ہو: بحارالانوار ج ۲۱ ص ۳۶۰ از اعلام الوری _
۳)-البدایہ و النہایہ _
اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ یمنیوں نے بخوشی اسلام قبول کیا تھا اور مسلمانوں اور یمنیوں کے در میان کسی قسم کی کوئی لڑائی نہیں ہوئی تھی _ اور حضرت علی صلىاللهعليهوآلهوسلم نے یمن میں مدفون خزانے پر خمس نکالاتھا(۱)
نیز محمیہ بن جزء قبیلہ بنی زبید کا ایک فرد تھا ، آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے خمس وصول کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی(۲) _
اور حضرت علی عليهالسلام کو خمس کی وصولی کیلئے بھیجنے والی بات کی یہ تاویل بھی نادرست ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں صدقات کی وصولی کے لئے بھیجا تھا _ کیونکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کسی ہاشمی کو صدقات کی وصولی کا کام نہیں سونپتے تھے اور اس بارے میں عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس کا واقعہ بھی بہت مشہور ہے(۳)
بلکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے غلاموں کو بھی ایسا کام نہیں سونپتے تھے کیونکہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابو رافع کو بھی اس کام سے منع کرتے ہوئے اس سے فرمایا تھا : '' کسی قوم اور گروہ کا غلام بھی انہی کی طرح ہوتا ہے اور ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ''(۴)
کتاب اور سنت میں خمس کے استعمال کے مقامات
قرآن مجید میں خمس کی آیت اس بات پر تصریح کرتی ہے کہ خمس خدا ، اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم ، رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے قریبیوں ، یتیموں، مسکینوں اور غریب مسافروں کے لئے ہے _ اور آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی رحلت تک اپنے قریبیوں کو خمس کا حصہ دیا کرتے تھے(۵)
____________________
۱)زاد المعاد ج ۱ ص ۳۲ نیز ملاحظہ ہو : سنن ابوداؤد ج ۳ ص ۱۲۷ باب کیف القضائ_
۲) الاموال ابوعبید ص ۴۶۱_
۳)مجمع الزوائد ج ۳ ص ۹۱ ، اسد الغابہ تعارف عبدالمطلب بن ربیعہ ، نوفل بن حارث و محمیہ ، صحیح مسلم ج ۳ ص ۱۱۸ باب تحریم الزکاة علی آل النبی صلىاللهعليهوآلهوسلم ، سنن نسائی ج ۱ ص ۳۶۵، سنن ابو داؤد ، الاموال ابوعبید ص ۳۲۹، المغازی واقدی ص ۶۹۶، ص ۶۹۷، تفسیر عیاشی ج ۲ ص ۹۳_
۴)سنن ابوداؤد کتاب الزکاة ج ۲ ص ۲۱۲، ترمذی کتاب الزکاة ج ۳ ص ۱۵۹، نسائی کتاب الزکاة ج ۱ص ۳۶۶ ، مجمع الزوائد ج ۳ ص ۹۰و ص ۹۱، کنز العمال ج ۶ص ۲۵۲تا ص ۲۵۶، امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۱۷، بحار الانوار ج ۹۶ص ۵۷ ، سنن بیہقی ج ۷ ص ۳۲_
۵)ملاحظہ ہو : تفسیر طبری ج ۱۵ ص ۵۰۴و ص ۵۰۶نیز اس کے حاشیہ پر تفسیر نیشابوری ج ۱۵، احکام القرآن جصاص ج ۳ ص ۶۵و ص ۶۱و الاموال ابوعبید ص ۲۲و ص ۴۴۷، ص ۴۵۳و ص ۴۵۴_
رہے یتیم اور مسکین ، تو اس بارے میں حضرت امام زین العابدین عليهالسلام سے جب مذکورہ آیت میں (والیتامی و المساکین) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : '' اس سے مراد ہمارے یتیم اور مسکین ہیں''(۱) _
اہل بیت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی روایات میں خمس
ائمہ اہل بیت کی روایتوں کے مطابق اللہ ، رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اور ذوی القربی کا حصہ امام صلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے ہے جبکہ یتیموں ، مسکینوں اور ابن السبیل ( مسافروں) کا حصہ سادات بنی ہاشم کے لئے ہے(۲) _
اور بنی ہاشم میں بھی خاندان بنی عبدالمطلب کے لئے ہے(۳) _
اور خمس میں مرد اور عورت مشترک ہیں پس خمس کا آدھا حصہ ان تینوں قسم کے افراد میں ان کے مستحق ہونے کی صورت میں(۴) ( ان کی رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے ساتھ قرابت داری اور غربت کی وجہ سے ) تقسیم کیا جائے گا _ اور جناب عبدالمطلب کے ساتھ ان کی مادری نسبت کافی نہیں لیکن اگر صرف پدری نسبت بھی ہو تب کفایت کرتی ہے_
اہل سنت کی روایتوں میں خمس
کتب صحاح میں ایک ایسی روایت مذکور ہے جو عہد نبوی صلىاللهعليهوآلهوسلم میں خمس کے استعمال کو بیان کرتی ہے _ جبیر بن مطعم کہتا ہے کہ جنگ خیبر ( ا لبتہ ایک روایت میں جنگ حنین آیا ہے ) کے موقع پر رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے ذوی القربی کے حصہ میں سے بنی ہاشم اور بنی مطلب کا حصہ نکالا جبکہ بنی نوفل اور بنی عبدشمس کا حصہ نہیں نکالا تو میں
____________________
۱)تفسیر نیشابوری بر حاشیہ تفسیر طبری و تفسیر طبری ج ۱۵ ص ۷_
۲)ملاحظہ ہو : وسائل الشیعہ ج ۹ ص ۳۵۶، ص ۳۵۸، ص ۳۵۹، ص ۳۶۱، ص ۳۶۲_
۳)وسائل الشیعہ ج ۹ ص ۳۵۸ ، ص ۳۵۹ و مقدمہ مرآة العقول مرتضی عسکری ج ۱ ص ۱۱۶و ص ۱۱۷_
۴)یعنی اگر سادات مستحق نہ ہوں تو خمس نہیں لے سکتے _ اور بڑی بڑی کوٹھیوں اور بنگلوں والے نیز نئی ماڈل کی گاڑیوں والے تو کسی صورت میں مستحق نہیں ہیں _ اور اگر ثروت مند ہونے کے باوجود خمس لیتے ہیںتو دوسرے مستحقین کا حق غصب کرتے ہیں جو سراسر ناجائز ہے_
اور عثمان بن عفان آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس گئے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم سے عرض کیا : '' یا رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ہم بنی ہاشم کی فضیلت کے منکر نہیںہیں کیونکہ خدا نے ان کی مدد اور حمایت کی وجہ سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ مقام اور مرتبہ دیا ہے _ لیکن بنی مطلب میں ایسی کیا بات ہے کہ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں حصہ عطا کیا لیکن ہمیں چھوڑ دیا حالانکہ ہماری رشتہ داری تو یکساں ہے ؟'' تو رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدانے فرمایا :'' زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں میں ہم اوربنی مطلب ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئے ( البتہ نسائی کی روایت میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے یہ الفاظ آئے ہیں کہ انہوں نے ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا) پس ہماری اور ان کی بات ایک ہی ہے'' اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے دونوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائیں(۱) گذشتہ معروضات کے بعد یہاں ہم بعض علماء(۲) کی فرمائشےات کے خلاصے کو کچھ کمی بیشی کے ساتھ نقل کرنا چاہتے ہیں اور وہ مندرجہ ذیل ہے:
عہد نبوی صلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد خمس کا استعمال
آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد خمس بہت سی تبدیلیوں کا شکار ہوا جس کا ذکر ذیل میں آئے گا _
خلیفہ اوّل کے دور میںاگر ہم جناب ابوبکر کے اور اس دور کے حالات کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اس وقت حکومت کی ساری توجہ اس نئی حکومت کے مخالف گروہوں اور ابوبکر کی بیعت نہ کرنے والوں کی
____________________
۱)صحیح بخاری باب غزوة خبیر ج ۳ ص ۳۶مطبوعہ ۱۳۱۱ ، ج ۴ ص ۱۱۱ و ج ۶ ص ۱۷۴، سنن ابو داؤد ج ۳ ص ۱۴۵و ص ۱۴۶، تفسیر طبری ج ۱۵ ص ۵، مسند احمد ج ۴ ص ۸۱، ص ۸۵و ص ۸۳، سنن نسائی ج ۷ص ۱۳۰و ص ۱۳۱، سنن ابن ماجہ ص ۹۶۱، المغازی واقدی ج ۲ ص ۶۹۶، الاموال ابوعبید ص ۴۶۱و ص ۴۶۲، سنن بیہقی ج ۶ ص ۳۴۰تا ص ۳۴۲، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۲۰۹، المحلی ج ۷ ص ۳۲۸، البدایہ و النہایہ ج ۴ ص۰ ۲۰ ، شرح نہج البلاغہ ج ۱۵ص ۲۸۴، مجمع الزوائد ج ۵ص ۳۴۱و نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۲۸از برقانی و بخاری و غیرہ ، الاصابہ ج ۱ ص ۲۲۶و بدایة المجتہد ج ۱ ص ۴۰۲، الخراج ابو یوسف ص ۲۱و تشیید المطاعن ج ۲ ص ۸۱۸و ص ۸۱۹ از زاد المعاد، الدر المنثور ج ۳ ص ۱۸۶از ابن ابی شیبہ ، البحرالرائق ج ۵ ص ۹۸و تبیین الحقائق ج ۳ ص ۲۵۷و نصب الرایہ ج ۳ ص ۴۲۵و ص ۴۲۶ ، مصابیح السنہ ج۲ ص ۷۰، تفسیر القرآن العظیم ج ۲ ص۳۱۲ ، فتح القدیر ج ۲ س ۳۱۰، لباب التاویل ج ۲ ص ۱۸۵، مدارک التنزیل ( مطبوعہ بر حاشیہ خازن ) ج ۲ ص ۱۸۶و الکشاف ج ۲ ص ۲۲۱_نیز مذکورہ بات مندرجہ ذیل منابع سے بھی منقول ہے : الجامع لاحکام القرآن ج ۷ ص ۱۲، فتح الباری ج ۷ ص ۱۷۴ وج ۶ ص ۱۵۰ ، تفسیر المنار ج ۱۰ ص ۷ ، ترتیب مسند الشافعی ج ۲ ص ۱۲۵و ص ۱۲۶و ارشاد الساری ج ۵ ص ۲۰۲_ (۲) اس سے مراد علامہ بزرگوار جناب سید مرتضی عسکری صاحب ہیں_
سرکوبی کے لئے لشکر کی فراہمی اور ترسیل پر تھی _ اس لئے اس وقت خمس اور خاص کر ذوالقربی کے حصہ کو اسلحہ اور سواریوں کے بندو بست میں خرچ کیا _ اسی بناپر مؤلفین نے ذکر کیا ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے بعد صحابیوں میں خمس کے متعلق اختلاف پیدا ہوگیا _ ایک گروہ نے کہا کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کا حصہ ان کی رحلت کے بعد خلیفہ کے لئے ہے _ دوسرے گروہ نے کہا کہ ذوی القربی کا حصہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے قریبیوں کے لئے ہے ، جبکہ ایک اور گروہ نے کہا کہ ذوی القربی کا حصہ خلیفہ کے قرابت داروں کے لئے ہے _ جس پر آخر میں سب نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اور ذوی القربی کے حصول کو لشکر کی تجہیز اور تیاری میں خرچ کردیا جائے _
سنن نسائی اور الاموال ابوعبید میں آیا ہے کہ یہ صورتحال ابوبکر اور عمر دونوں کی خلافت کے دور میں رہی _ البتہ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد ابوبکر نے قریبیوں کے حصے کو مسلمانوں میں تقسیم کر کے اسے '' فی سبیل اللہ '' کا حصہ قرار دیا _ قریب قریب ایسی ہی ایک اور روایت ذکر ہوئی ہے جس میں ابوبکر کے ساتھ عمر کا ذکر بھی ہے _ اور اس کے علاوہ بھی کئی روایات ہیں(۱) _
ان تمام باتوں کی وضاحت جبیر بن مطعم کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا بنی ہاشم اور بنی مطلب کا حصہ تو خمس سے نکالتے تھے لیکن بنی عبد شمس اور بنی نوفل کا حصہ بالکل نہیں نکالتے تھے _ اور ابوبکر بھی جناب رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی طرح خمس کو تقسیم کیا کرتا تھا لیکن جس طرح رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا اپنے قریبیوں کو حصہ دیا کرے تھے ابوبکر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے قریبیوں کو وہ حصہ نہیں دیتا تھا(۲) _
خلیفہ ثانی کے دور میں
خلیفہ ثانی کے دور میں فتوحات زیادہ ہوگئیں اور مال زیادہ ہوگیا تو خمس کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا گیا _
____________________
۱) ان تمام باتوں اور اس سے متعلق دیگر باتوں کے لئے ملاحظہ ہو : سنن نسائی ج ۲ ص ۱۷۹، کتاب الخراج ص ۲۴و ص ۲۵، الاموال ابوعبید ص ۴۶۳ ، جامع البیان طبری ج ۱۵ ص ۶ ، احکام القرآن جصاص ج ۳ ص ۶۲ و ص ۶۰، سنن بیہقی ج ۶ ص ۳۴۲و ص ۳۴۳، سنن ابو داؤد بیان مواضع الخمس ، مسند احمد ج ۴ ص ۸۳ و مجمع الزوائد ج ۵ ص ۳۴۱_
اور عمر نے بنی ہاشم کو کچھ حصہ دینا چاہا تو انہوں نے اپنے پورے حصے کا مطالبہ کیا اور کچھ حصہ لینے سے انکار کردیا _ تو اس نے بھی انہیں پورا حصہ دینے سے انکار کرتے ہوئے انہیں اپنے حصے سے ہی محروم کردیا _ یہ بات ابن عباس کی ایک روایت میں بھی آئی ہے _ جب نجدہ حروری نے ابن عباس سے پوچھا کہ ذوی القربی کا حصہ کس کا ہے تو اس نے جواب دیا : ''وہ ہم اہل بیت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا حصہ ہے ، عمر نے بھی اس حصہ سے ہمارے غیر شادی شدہ افراد کی شادی کرانے ، ہمارے شادی شدہ افراد کی خدمت کرنے اور ہمارے قرضے چکانے کی پیشکش بھی کی لیکن ہم نے اس سے اپنے پورے حصہ کا مطالبہ کیا اور اسی پر اکتفا نہیں کیا تو اس نے بھی ہمیں پورا حصہ دینے سے انکار کردیا اور ہمیں اپنے حال پر چھوڑدیا اس وجہ سے ہم نے بھی اسے اپنے حال پر چھوڑدیا '' _ اس طرح کی ایک روایت حضرت علی علیہ السلام سے بھی مروی ہے کہ عمر نے انہیں بھی کچھ حصہ دینے کی کوشش کی تھی اور یہ کہا تھا کہ اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اگر حصہ زیادہ ہوجائے تب بھی انہیں پورا حصہ ملے گا لیکن انہوں نے پورا حصہ لینے کے بغیر کچھ بھی لینے سے انکار کردیا(۱)
خلیفہ سوم کے دور میں
عثمان نے افریقہ کی پہلی فتوحات سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کا خمس عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو دیا(۲) حالانکہ یہ شخص مرتد تھا_اور دوسری مرتبہ کی فتوحات کا خمس مروان بن حکم کو عطا کیا _ اس بارے میں اسلم
____________________
۱)حدیث ملاحظہ ہو در : الخرا ج ابو یوسف ص ۲۱، ص ۲۲، ص ۲۳، ص ۲۴ ، المغازی واقدی ص ۶۹۷، الاموال ابوعبید ص ۴۶۵ ، ص ۴۶۶، ص ۴۶۷، سنن نسائی ج ۲ ص ۱۷۸، ص ۱۷۷، ج ۷ ص ۱۲۹، ص ۱۲۸ ، شرح معانی الآثار ج ۳ ص ۳۳۵و ص ۲۲۰، مسند حمیدی حدیث نمبر ۵۳۲، الجامع الصحیح ( السیر) حدیث نمبر ۱۵۵۶، احکام القرآن جصاص ج ۳ ص ۶۳، لسان المیزان ج ۶ص ۱۴۸، صحیح مسلم ج ۵ ص ۱۹۸باب ''النساء الغازیات یر ضخ لہن '' ، مسند احمد ج ۱۰ ص ۲۲۵و ج ۱ ص ۳۲۰،ص ۳۰۸، ص۲۴۸، ص ۲۴۹، ص ۲۲۴، مشکل الآثار ج ۲ ص ۱۳۶، ص ۱۷۹و مسند شافعی ص ۱۸۳، ص ۱۸۷، حلیة ابونعیم ج ۳ ص ۲۰۵و تفسیر طبری ج ۱۰ ص ۵ ، سنن ابوداؤد ج ۳ ص ۱۴۶کتاب الخراج ، سنن بیہقی ج ۶ص ۳۴۴، ص ۳۴۵، ص ۳۳۲،کنز العمال ج ۲ ص۳۰۵، المصنف ج ۵ ص ۲۲۸ نیز ملاحظہ ہو ص ۲۳۸، المحاسن و المساوی ج ۱ ص ۲۶۴، وفاء الوفاء ص ۹۹۵ ، الروض الانف ج ۳ ص ۸۰ ، مسند ابویعلی ج ۴ ص ۴۲۴و ج ۵ ص ۴۱ ، ص ۴۲_
۲) ملاحظہ ہو : تاریخ الاسلام ذہبی ج ۲ ص ۷۹، ص ۸۰، تاریخ ابن اثیر مطبوعہ یورپ ج ۳ ص ۷۱ و شرح نہج البلاغہ ج ۱ ص ۶۷_
بن اوس ساعدی نے ( جس نے عثمان کی بقیع میں تدفین سے ممانعت کی تھی ) یہ شعر کہا :
و اعطیت مروان خمس العباد
ظلمالهم و حمیت الحمی(۱)
اور تم نے حق داروں سے ظلم کے ساتھ ان کا حق چھین کر رشتہ داری کی بناپر مروان کوخمس دیا اور اچھی طرح لوٹ مارکی _
اور لوگوں نے اس بات پر دو وجوہات کی بناپر عثمان پر ناراضگی کا اظہار کیا _
۱_ گذشتہ دونوں خلیفوں نے اگر چہ مستحقوں سے ان کا حق چھین لیا تھا لیکن انہوں نے خمس کو رفاہ عامہ میں خرچ کیا لیکن عثمان نے اسے اپنے گمراہ اور ذلیل رشتہ داروں کے ساتھ خاص کردیا _
۲_ عثمان نے جن لوگوں کو ناحق اتنا کثیر مال بخش دیا تھا ان کا کردار بھی صحیح نہیں تھا بلکہ بہت ہی برا کردار تھا اور وہ ہر لحاظ سے انحراف اور کجروی میں مشہور و معروف تھے _
خمس کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام کی سیرت
جب حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ جب حضرت علی علیہ السلام مسند اقتدار پر فائز ہوئے تو ذوی القربی کے حصہ کا کیا کیا ؟ تو انہوں نے جواب دیا : '' انہوں نے ابوبکر اور عمر کا طریقہ اپنا یا '' پوچھا گیا : '' وہ کیسے؟ جبکہ آپ حضرات کا اس بارے میں اپنا الگ نظریہ ہے ؟ '' انہوں نے فرمایا : '' ان کا نظریہ ذاتی نہیں ہوتا بلکہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا اور خدا کا نظریہ ہوتا ہے ''' پوچھا گیا : '' تو پھر رکاوٹ کیا تھی؟ '' فرمایا : ''خدا کی قسم انہیں یہ بات ناپسند تھی کہ ان پر ابوبکر اور عمر کی مخالفت کا الزام لگایا جائے( اور اس الزام کے بہانے ان پر خواہ مخواہ چڑھائی کردی جائے) ''(۲)
____________________
۱) ملاحظہ ہو : الکامل ج ۳ ص ۷۱، طبری مطبوعہ یورپ حصہ ۱ ص ۲۸۱۸، ابن کثیر ج ۷ ص ۱۵۲، فتوح افریقیاابن عبدالحکم ص ۵۸و ص ۶۰ ، بلاذری ج ۵ ص ۲۵، ص ۲۷، ص ۲۸، تاریخ الخلفاء سیوطی ص ۱۵۶، الاغانی ج ۶ص ۵۷_
۲) الاموال ابوعبید ص ۴۶۳، الخراج ص ۲۳، احکام القرآن جصاص ج ۳ ص ۶۳، سنن بیہقی ج ۶ ص ۳۲۳، انساب الاشراف ج ۱ ص ۵۱۷ ، تاریخ المدینہ ابن شبہ ج ۱ ص ۲۱۷ ، کنز العمال ج ۴ ص ۳۳۰از ابوعبید و از ابن انباری در المصاحف_
سنن بیہقی میں آیا ہے کہ حضرت امام حسن عليهالسلام ، حضرت امام حسین عليهالسلام ، ابن عباس اور عبداللہ بن جعفر نے حضرت علی عليهالسلام سے خمس میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے ان سے فرمایا : '' وہ تو آپ لوگوں کا حق ہے لیکن میں آجکل معاویہ سے جنگ میں مصروف ہوں اس لئے اگر تم چاہو تو فی الحال اپنے حق سے چشم پوشی کرسکتے ہو ''(۱) پس ان احادیث اور روایات کی روسے حضرت علی عليهالسلام نے خمس میں لائی ہوئی ابوبکر اور عمر کی تبدیلیوں کو بالکل بھی نہیں چھیڑا کیونکہ یہ کام لوگوں کو آپ عليهالسلام کے خلاف ابھارتا اور لوگ آپ عليهالسلام پر ابوبکر اور عمر کی مخالفت کا الزام لگاتے_ اورچونکہ معاویہ سے بر سر پیکار تھے تو اس لازمی کام کو دیگر تمام کاموں پر فوقیت اور ترجیح دینا اور اس مہم کو کسی ایسے مناسب وقت کے لئے چھوڑ رکھنا ضروری تھا جس وقت اتنی زیادہ اور خطرناک مشکلات در پیش نہ ہوں_
معاویہ کے دور میں
بنی ہاشم کو گذشتہ خلفاء کے دور میں تمام مسلمانوں کے حصے سے ہی سہی کچھ نہ کچھ ملتا رہتا تھا _ لیکن معاویہ کے دور میں تو وہ سرے سے خمس سے محروم ہی ہوگئے ، اس نے سب مال اپنے لئے خاص کردیا _ اور مسلمانوں میں خمس کا ایک پیسہ بھی نہیں بانٹا تھا _ علی بن عبداللہ بن عباس اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا : ''معاویہ کے دور سے لے کر اب تک ہمیں خمس کا کوئی حصہ نہیں ملا ''(۲)
اور جب عمر بن عبدالعزیز نے بنی ہاشم کو خمس کا کچھ حصہ دینے کا حکم دیا تو کچھ ہاشمیوں نے اکٹھے ہو کر اسے شکریہ نامہ لکھا جس میں اس کی صلہ رحمی پر اس کا شکریہ ادا کیا گیا اور اس خط میں آیا ہے کہ '' ان پر معاویہ کے دور سے ہمیشہ ظلم اور جفا ہوتا آیا ہے ''(۳) اسی طرح زیاد نے خراسان کے اپنے گور نر حکم بن عمرو غفاری کو بہت زیادہ مال غنیمت ملنے پر اسے اسی
____________________
۱) سنن بیہقی ج۶ ص ۳۶۳_
۲) طبقات ابن سعد مطبوعہ یورپ ج ۵ ص ۲۸۸_
۳)ایضاً_
طرح خط لکھا :'' امّا بعد ، امیرالمؤمنین ( یعنی معاویہ) نے حکم دیا ہے کہ سب سونا چاندی اسی کے لئے علیحدہ کیا جائے اور مسلمانوں میں ایک پیسہ بھی تقسیم نہ کیا جائے '' _ اور طبری نے سونے چاندی پر چوپاؤں کا بھی اضافہ کیا ہے(۱) _ لیکن حکم نے اس کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے مال غنیمت کو مسلمانوں میں بانٹ دیا _ جس پر معاویہ نے اسے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا_ اور وہ وہیں قید میں ہی مرگیا اور وہیں دفن ہوا اور معاویہ نے کہا:'' میں بہت انتقامی ہوں''(۲) _
عمر بن عبدالعزیز کے دور تک
عمر بن عبدالعزیز کے دور تک خمس امویوں کے ہاتھ میں رہا اور انہوں نے اسے اپنے باپ کا مال سمجھ کر استعمال کیا ،لیکن اس نے بعض مصلحتوں کے پیش نظر بنی ہاشم کو ان کے کچھ حقوق دینے کی کوشش کی اور اس نے کچھ حقوق ادا بھی کئے اور ان سے یہ وعدہ بھی کیا کہ اگر ان کا کوئی حق رہ گیا ہو تو وہ سب ادا کردے گا(۳)
لیکن خود عمر بن عبدالعزیز کے دور کی طرح اس کی یہ کوششیں بھی جلد ہی دم توڑ گئیں ، کام دھرے رہ گئے اور وعدے ناتمام رہ گئے _ اور تما م امور پھر اسی ڈگر پر چلنے لگے جس پر دشمنان اہل بیت عليهالسلام نے چلایا تھا _ اور یہ بات تاریخ اور سیرت کی کتابوں کے قلیل سے مطالعے سے بھی معلوم ہوسکتی ہے _
خمس کے متعلق علمائے اہل سنت کے نظریات
خلفاء اور حکام کے کرتوتوں کے نتیجے میں اور ان کرتو توںپر پردہ پوشی کے لئے علمائے اہل سنت کے خمس کے متعلق نظریات بھی ایک دوسرے سے متضاد ہیں _ اس بارے میں ابن رشد کہتا ہے : '' خمس کے متعلق بھی
____________________
۱)مستدرک حاکم و تلخیص مستدرک ذہبی بر حاشیہ مستدرک ج ۳ ص ۴۴۲، طبقات ابن سعد مطبوعہ یورپ ج ۷ ص ۱۸، الاستیعاب ج ۱ ص ۱۱۸، اسد الغابہ ج ۲ ص ۳۶، طبری مطبوعہ یورپ ج ۲ ص ۱۱۱، ابن اثیر مطبوعہ یورپ ج ۳ ص ۳۹۱، ذہبی ج ۲ ص ۲۲۰، ابن کثیر ج ۸ ص ۴۷_
۲)تہذیب التہذیب ج ۲ ص ۴۳۷و مستدرک حاکم ج ۳ ص ۴۴۲_
۳)ملاحظہ ہو : طبقات ابن سعد ج ۵ ص ۲۸۱، ص ۲۸۵، ص ۲۸۷،ص ۲۸۹ ، الخراج ص ۲۵، و سنن نسائی باب قسم الفیء ج ۲ ص ۱۷۸_
چاروں مشہور مذاہب کا آپس میں اختلاف پایا جاتا ہے _ ان میں سے ایک نظریہ یہ ہے کہ خمس کو آیت کی تصریح کے مطابق پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا _ اور یہ شافعیوں کا نظریہ ہے _ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ اسے چار حصوں میں تقسیم کیا جائے گا _ تیسرا نظریہ یہ ہے کہ آجکل صرف تین قسموں میں تقسیم کیا جائے گا کیونکہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا اور ذوی القربی کا حصہ ساقط ہوگیا ہے _اور چوتھا قول یہ ہے کہ خمس فی ء (یعنی مال غنیمت ) کی طرح ہے جو ہر امیر اور غریب میں برابر تقسیم کیا جائے گا _ جو لوگ خمس کی چار یا پانچ حصوں میں تقسیم کے قائل ہوئے ہیں ان کا آپس میں اس بات پر اختلاف ہے کہ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے قریبیوں کے حصہ کاکیا کیا جائے گا _ ایک گروہ کہتا ہے کہ ان کے حصے کوخمس کے دیگر تمام حصہ داروں میں برابر تقسیم کردیا جائے گا _ جبکہ دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ اسے باقی سپاہیوں میں بانٹ دیا جائے گا _ حالانکہ ایک اورگروہ کا کہنا ہے کہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کا حصہ امام ( حاکم ) کو اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے قریبیوں کا حصہ امام کے رشتہ داروں کو دیا جائے گا _ لیکن چوتھے گروہ کا کہنا ہے کہ اسے اسلحہ وغیرہ اور لشکر کی تیاری کے لئے مخصوص کیا جائے گا _ نیز ان لوگوں کا اس بات پر بھی اختلاف ہے کہ قرابت داروں سے مراد کون لوگ ہیں؟(۱) _
جبکہ ابن قدامہ کہتا ہے : '' ابوبکر نے خمس کوتین حصوں میں تقسیم کیا اور یہ نظریہ اصحاب قیاس یعنی ابوحنیفہ اور اس کی جماعت کا بھی ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ خمس کو ''یتامی '' ، '' مساکین ''اور '' ابن السبیل '' کے تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا _ اور انہوں نے آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کی وجہ سے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے قریبیوں کا حصہ ختم کردیا _ اور مالک کہتا ہے کہ خمس اور فی دونوں ایک ہی چیز ہیں انہیں بیت المال میں جمع کردیا جائے گا'' ابن قدامہ اس کے آگے کہتا ہے :'' اور ابوحنیفہ کا نظریہ آیت کے مفہوم کے مخالف ہے کیونکہ خدا نے اپنے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اور اس کے قریبیوں کے لئے ایک حصہ رکھا ہے اور خمس میں ان دونوں کا حق بھی اسی طرح دائمی رکھا ہے جس طرح باقی تین قسم کے افراد کا حصہ رکھا ہے ، پس جس نے اس کی مخالفت کی اس نے آیت کی
____________________
۱) بدایة المجتہد حکم الخمس ج ۱ ص ۴۰۱_
تصریح کی مخالفت کی لیکن ابوبکر اور عمر کا '' ذوی القربی'' کے حصہ کو '' فی سبیل اللہ '' میں قرار دینے کے متعلق جب احمد کو بتایاگیا تو اس نے خاموشی اختیار کر لی اور اپنا سر ہلادیا لیکن اس نظریئےوقبول نہیں کیا _ اور اس نے ابن عباس اور اس کے ہم خیالوں کے نظریئےو کتاب اللہ اور سنت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ موافقت اور مطاقبت کی وجہ سے بہتر جانا ہے ''(۱)
اور ابویعلی اور ماوردی کا نظریہ ہے کہ خمس کے استعمال کی تعیین خلفاء (حکام) کی مرضی پر منحصر ہے(۲)
خمس کے متعلق اہل بیت عليهالسلام اور ان کے پیروکاروں کا نظریہ
اہل بیت عليهالسلام اور شیعیان اہل بیت عليهالسلام کے نزدیک خمس کے چھ حصے ہوں گے _ ان میں سے تین حصے خدا ، اس کے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اور آنحضرت کے قریبیوں کے ہےں جنہیں اپنی حیات طیبہ میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم خود لیں گے اور آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد یہ معاملہ بارہ اماموں کے سپرد ہوگا _ اور باقی تین حصے بنی ہاشم کے یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کا ہے البتہ اگر وہ سب غریب اور محتاج ہوں _
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر اس مال کا خمس نکالنا واجب ہے جو کسی مسلمان کو حاصل ہوچاہے وہ دشمنوں سے حاصل ہو یا کہیں اور سے وہ صرف اپنے دعوے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اپنے مدعا پر ائمہ اہل بیت عليهالسلام سے مروی ان بہت سی حدیثوں سے استدلال کرتے ہیں جو خمس کے متعلق ہیں _ کیونکہ ائمہ اہل بیت عليهالسلام ثقلین کا ایک حصہ ہیں جن سے تمسک کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اور وہ نوح عليهالسلام کی کشتی اور مغفرت کا دروازہ ہیں _ خدا ہم سب کو ان سے زیادہ سے زیادہ محبت ، ان سے تمسک اور ان کے رفتار اور گفتار کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے _
آمین ثم آمین
____________________
۱)المغنی ابن قدامہ ج ۷ ص ۳۵۱باب قسمة الفی والغنیمہ_
۲)احکام السلطانیہ ماوردی باب قسم الفی ص ۱۲۶، احکا السلطانیہ ابویعلی ص ۱۲۵_
فہرست
مقدمہ: ۵
پانچواں باب ۷
ہجرت سے بدر تک ۷
پہلی فصل : ۹
رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ میں ۹
رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدینہ میں تشریف آوری : ۱۰
رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کا مدینہ میں قیام : ۱۲
ابن سلام کا قبول اسلام : ۱۳
دو اہم نکات: ۱۹
پہلا اہم نکتہ: ۱۹
دوسرا اہم نکتہ : ۲۰
دوسری فصل : ۲۲
غیر جنگی حوادث و واقعات ۲۲
حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے بعض مہاجرین کی واپسی : ۲۳
حضرت عائشہ نبی اکرم صلىاللهعليهوآله کے گھر میں : ۲۴
رخصتی کی رسم ۲۴
انوکھا استدلال : ۲۵
ایک نئے دور کی ابتداء ۲۶
مومنین کے درمیان صلح والی آیت: ۲۶
سلمان محمدی صلىاللهعليهوآلهوسلم کاقبول اسلام : ۲۹
ایک اہم بات : ۳۰
رومہ کا کنواں حضرت عثمان کے صدقات میں : ۳۱
'' اریس'' کا کنواں ۳۵
مسئلے کی حقیقت ۳۵
کھجور کی پیوندکاری ۳۶
تیسری فصل : ۳۹
ابتدائے ہجرت میں بعض اساسی کام ۳۹
تمہید: ۴۰
۱_ ہجری تاریخ کی ابتداء کے متعلق تحقیق ۴۱
کس شخص نے سب سے پہلے ہجرت نبویہ کے ساتھ تاریخ لکھی ؟ ۴۱
تمہید: ۴۱
تاریخ گذاری کی حکایت مؤرخین کی زبانی: ۴۲
بہترین نظریہ ۴۴
محرم کا مشورہ کس نے دیا ؟ ۴۵
اس نظریہ کے حامی حضرات : ۴۷
سہیلی کی بات: ۴۸
خلاصہ بحث: ۶۶
پھر عیسوی تاریخ کیوں؟ ۶۸
نکتہ: ۶۹
مخلصانہ اپیل ۷۰
۲_ مدینہ میں مسجد کی تعمیر : ۷۱
الف: حضرت ابوبکر اوردس دینار: ۷۳
ب: پتھراور خلافت ۷۴
ج: حضرت عثمان اور حضرت عمار: ۷۶
کیا حضرت عثمان حبشہ میں نہ تھے؟ ۷۸
پہلے مسجد کی تعمیر کیوں؟ ۸۲
مسجد کو بنانے میں نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شرکت: ۸۶
مسجد کی تعمیر میں خواتین کا کردار: ۸۷
صرف عورتوں کیلئے نماز جماعت: ۸۷
مؤاخات کرنے والوں کی تعداد: ۹۰
ہر ایک کا اس جیسے کے ساتھ بھائی چارہ ۹۱
علی عليهالسلام کے ساتھ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مؤاخات : ۹۲
حدیث مؤاخات کا تواتر: ۹۴
حضرت علی علیہ السلام کو ابوتراب کی کنیت ملنا : ۹۵
علی عليهالسلام کے ساتھ نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی مؤاخات کے منکرین: ۹۵
کچھ مواخات کے متعلق : ۹۹
الف : بہترین متبادل ۹۹
ب: انسانی روابط کا ارتقائ ۹۹
ج: نئے معاشرے کی تشکیل میں مؤاخات کا کردار: ۱۰۰
یہ مواخات دو بنیادوں پر قائم تھی:_ ۱۰۱
اوّل : حق : _ ۱۰۱
دوم : باہمی تعاون:_ ۱۰۲
حضرت ابوبکر کے خلیل: ۱۰۲
سلمان کی دوستی ، کس کے ساتھ؟ ۱۰۳
حدیث مواخات کاانکار اور اس کا جواب : ۱۰۳
ابوذر ،سلمان کی مخالفت نہ کرے ۱۰۷
۴_ جدید معاشرے میں تعلقات کی بنیاد: ۱۰۹
سند کا متن ۱۱۰
معاہدہ یا معاہدے؟ ۱۱۴
معاہدے پر سرسری نگاہ : ۱۱۶
۵_ یہودیوں سے صلح : ۱۲۴
چوتھی فصل: شرعی احکام ۱۲۵
اذان کی تشریع : ۱۲۶
اذان کی روایات پر بحث: ۱۲۷
آخری بات ۱۳۵
اذان میں حی علی خیر العمل: ۱۳۷
عبداللہ بن عمر سے روایات: ۱۳۹
امام زین العابدین عليهالسلام سے روایات ۱۴۰
سہل بن حنیف سے روایات: ۱۴۱
حضرت بلال سے روایات: ۱۴۱
بے جا اعتراضات : ۱۴۷
'' حی علی خیر العمل '' ، نعرہ بھی اور موقف بھی ۱۴۸
اس عبارت کے حذف ہونے کا سبب : ۱۵۱
اس رائے پہ تبصرہ: ۱۵۲
نماز میں اضافہ: ۱۵۲
نماز کے فرض ہونے میں ایک اور نظریہ: ۱۵۳
زکوة کا فریضہ: ۱۵۴
ماسبق سے متعارض روایت ۱۵۷
زکات فطرہ کا فرض ہونا ۱۵۸
روزے کا فرض ہونا: ۱۵۸
ایک اعتراض اور اس کا جواب ۱۵۹
روز عاشور کا روزہ : ۱۶۰
ان روایات کا جھوٹ: ۱۶۱
روز عاشورا کے دیگر فضائل: ۱۶۴
یوم عزاء یا عیدکا دن ؟ ۱۶۵
جعلی احادیث: ۱۶۶
عاشوراکی یادمٹا نے کے مختلف طریقے: ۱۶۷
پانچویں فصل: ۱۷۰
اسلام میں جہاد کی اہمیت ۱۷۰
اسلام اور تلوار ۱۷۱
۱: اسلام اور دیگر ادیان میں جنگ کے خد و خال ۱۷۲
ایک اشارہ ۱۷۳
۲ : جب جنگ ناگزیرہو ۱۷۴
کیا اسلام تلوار سے پھیلا؟ ۱۸۲
چھٹی فصل: ۱۸۴
جنگ بدر سے پہلے کی لڑائیاں ۱۸۴
رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے غزوات اور سرایا: ۱۸۵
ایک : معرکہ سے فرار ۱۸۵
دو: سرایا کے لئے نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کی وصیت : ۱۸۶
اس کتاب میں ہمارا مطمح نظر: ۱۸۷
ابتدائی جنگیں : ۱۸۸
۱ _ حضرت علی عليهالسلام کی کنیت ابوتراب قرار دینا: ۱۹۱
دغابازی اور جھوٹ: ۱۹۳
یہ جعل سازیاں کیوں؟ ۱۹۸
اس کنیت کی اہمیت : ۱۹۹
۲_ سرایا کا مقصد؟ ۲۰۰
اول : صلح اور باہمی عہدو پیمان : ۲۰۰
دوم: قریش کی پریشانی ۲۰۱
۳_سپاہیوں کو آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی نصیحتیں ۲۰۳
۴_ صرف مہاجرین ہی کیوں ؟ ۲۰۴
الف: انصار کا گمان ۲۰۴
باء : جنگ اور امن کا مسئلہ ۲۰۵
ج :انصار کے مخصوص حالات ۲۰۵
د: مہاجرین کی نفسیاتی کیفیت ۲۰۷
عربوں میں خون کا معاملہ ۲۰۸
قریش اور انصار ۲۱۰
تاریخی دغابازی ۲۱۴
ھ: انصار کے متعلق پیامبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کی تاکید: ۲۱۸
جنگ انصار پر معاف نہ تھی: ۲۲۰
چھٹا باب: ۲۲۱
غزوہ بدر کا عظیم معرکہ ۲۲۱
پہلی فصل : ۲۲۳
جنگ کی فضاؤں میں ۲۲۳
قریش کی ناکام سازش ۲۲۴
بدر کی جانب روانگی: ۲۲۵
لوگوں سے ڈرنے والے ۲۲۶
عاتکہ کا خواب ۲۲۹
قریش کی تیاری : ۲۳۰
امیہ بن خلف کا موقف ۲۳۰
مذکورہ واقعہ پرچند نکات ۲۳۱
طالب بن ابی طالب کی جنگ سے واپسی ۲۳۲
ہمارا نظریہ ۲۳۳
مجبور اور واپس پلٹ جانے والے ۲۳۵
مذکورہ افراد کے متعلق نبی کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم کا موقف ۲۳۶
آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے مؤقف پر ایک سر سری نظر ۲۳۷
جنگ کے لئے آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا مشورہ لینا ۲۳۸
۱_ آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا اپنے صحابہ سے مشورہ ۲۴۱
۲_ بہترین رائے ، قریش سے جنگ ۲۴۲
۳_ نفسیاتی تربیت: ۲۴۳
۴_ جنگ سے متعلق مشوروں پر ایک سرسری نگاہ ۲۴۳
۵_ مقداد اور سعد کی باتوں پر آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے سرور کی وجوہات ۲۴۵
۶_ حضرت علی علیہ السلام نے مشورہ کیوں نہیں دیا؟ ۲۴۶
'' حباب'' اچھی رائے والا ۲۴۶
مسلمانوں اور مشرکوں کی تعداد اور ساز و سامان ۲۴۸
مشرکوں کی ہٹ دھر می اور کینہ توزی ۲۵۰
دونوں فوجوں کا پڑاؤ ۲۵۱
مسلمانوں کی معنویات اور پروردگار کی عنایات ۲۵۱
اس جنگ کے مقاصد ۲۵۳
صف آرائی ۲۵۴
طوفان سے قبل آرام ۲۵۵
الف: مشرکین کے خوف کی وجوہات: ۲۵۷
ب : مشرکین کو نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کی پیشکش پر ایک نگاہ : ۲۵۷
ج: رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا جنگ کی ابتداء نہیں کرنا چاہتے_ ۲۵۸
نبی کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم سائبان تلے؟ ۲۵۹
نکتہ: ۲۶۲
جنگ کی ابتدائ: ۲۶۲
تینوں جنگجوؤں کے قتل کے بعد ۲۶۵
الف: حضرت ابوطالب عليهالسلام کے حق میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا غصہ: ۲۶۷
ب: اپنے رشتہ داروں سے آنحضرت عليهالسلام کی جنگ کی ابتدائ: ۲۶۷
ج : شیبہ کا توہین آمیز رویہ: ۲۶۹
د: خدا کی طرف سے مسلمانوں کو ملنے والا حق: ۲۶۹
جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ۲۷۰
جنگ بدر میں فرشتوں کا کردار ۲۷۱
جنگ جمل میں بی بی عائشہ کا کردار ۲۷۲
شکست اور ذلت ۲۷۲
دوسری فصل: ۲۷۴
جنگ کے نتائج ۲۷۴
جنگ کے نتائج : ۲۷۵
حضرت علی علیہ السلام کے کارنامے: ۲۷۵
ایک اور جھوٹی روایت ۲۷۹
تو پھر صحیح کیا ہے ؟ ۲۸۰
نکتہ ۲۸۱
مشرکین کے مقتولین ، کنوئیں میں: ۲۸۲
ذوالشمالین: ۲۸۶
الف : جنگ بدر میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کی خطیر مہم ۲۸۶
چند نکات: ۲۸۷
ب : جنگ فیصلہ کن تھی ۲۸۸
ج: شکت ، طاقت کا عدم توازن اور فرشتوں کی امداد ۲۸۹
د: انصار کے خلاف قریش کا کینہ ۲۹۷
پہلے اہل بیت عليهالسلام کیوں ؟ ۲۹۹
ھ:حضرت علی عليهالسلام اور ان کے گھرانے پر جنگ بدر کے اثرات : ۳۰۰
شہدائے انصار ۳۰۲
آیت تخفیف کے متعلق علامہ طباطبائی کا نظریہ : ۳۰۳
تیسری فصل: ۳۰۸
مال غنیمت اور جنگی قیدی ۳۰۸
مال غنیمت کی تقسیم : ۳۰۹
رسول خدا صلىاللهعليهوآلهوسلم نے خمس کیوں نہیں لیا ؟ ۳۱۰
رسول خدا ایک بار پھر خمس اپنے اصحاب میں بانٹ دیتے ہیں ۳۱۲
حضرت علی عليهالسلام کے دور حک۳مت میں غربت کا خاتمہ : ۳۱۲
اہم نوٹ : خمس اور اقربا پروری؟ ۳۱۳
الف : طلحہ اور سعید بن زید: ۳۱۷
ب:عثمان بن عفان ۳۱۹
دوسروں کے فضائل پرڈاکہ ۳۲۲
دوقیدیوں کا قتل : ۳۲۳
ب: پسماندگان کے لئے دوزخ کی بشارت ۳۲۶
ج: عقبہ کو نسب کا طعنہ : ۳۲۷
د:واقعہ بدر میںنضربن حارث کے قتل کا انکار : ۳۲۸
باقی قیدیوں کی صورتحال : ۳۲۹
عذاب کے نزول کی صورت میں صرف عمر کی ہی جان بچتی ؟ ۳۳۱
رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتے ہیں ؟ ۳۳۶
سعد بن معاذ یا عمربن خطاب ؟ ۳۳۷
قیدیوں کا قتل ہی زیادہ مناسب تھا: ۳۳۸
قیدیوں کے بارے میں عمر کا موقف: ۳۴۰
نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم بھا گ جانے والے قیدی کو قتل نہیں کرتے ۳۴۱
قید میں عباس کے نالے ۳۴۲
عباس کا فدیہ اور اس کا قبول اسلام ۳۴۴
نکتہ : ۳۴۷
نبی کریم کو قتل کرنے کی سازش ۳۴۹
زینب کے ہار اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کا موقف ۳۴۹
چند جواب طلب سوال ۳۵۰
جناب زینب کا واقعہ اور ابن ابی الحدید ۳۵۱
فدیہ اسیر، تعلیم تحریر ۳۵۲
قیدیوں سے سلوک ۳۵۴
سودہ کا آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف قیدیوں کو بھڑکانا ۳۵۴
چوتھی فصل: ۳۵۶
جنگ بدر کا اختتام ۳۵۶
اہل بدر بخشے ہوئے ہیں ۳۵۷
اہل بدر سے بھی افضل لوگ ؟ ۳۶۱
ابن جوزی اور بدریوں کے مغفرت والی حدیث ۳۶۲
ناکام واپسی ۳۶۳
کامیاب واپسی ۳۶۴
جنگ بدر کے بعض نتائج ۳۶۵
جنگ بدر کے نتائج سے نجاشی کی خوشی ۳۶۷
آخری بات: ۳۶۷
اہل بدر کے بارے میں معاویہ کا موقف ۳۶۸
پانچویں فصل: ۳۶۹
سیرت سے متعلق چند باتیں ۳۶۹
تمہید: ۳۷۰
پہلا عنوان ۳۷۱
شیعیان علی عليهالسلام کی بعض خصوصیات ۳۷۱
دوسرا عنوان ۳۸۴
جناب ابوبکر کی شجاعت اور سائبان میں ان کی موجودگی_ ۳۸۴
مذکورہ باتیں نادرست ہیں ۳۸۶
الف : کئی مقامات پر ابوبکر کا فرار ۳۸۶
ب: ابوبکر کے ذریعہ بنی صلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کی حفاظت ۳۹۱
ج : ابوبکر میدان جنگ میں ۳۹۳
د: حضرت علی عليهالسلام کی ناکثین اور قاسطین سے جنگ ۳۹۴
ہ: زکات نہ دینے والوں سے جنگ ۳۹۶
و: وفات رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے وقت اس کی ثابت قدمی ۳۹۶
تیسرا عنوان ۳۹۹
ذوالشمالین کا قصہ اور نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کا سہو ۳۹۹
شیعوں کے نزدیک سہو کی روایات ۴۰۳
یہ ماجرا کس لئے ؟ ۴۰۳
ان توجیہات کے نقائص ۴۰۴
ایک اعتراض اور اس کا جواب ۴۰۵
سہو ، خطا اور نسیان سے بچنا اپنے اختیارمیں ہے ۴۰۶
پختہ ارادہ ۴۱۱
تبلیغ و غیرہ میں عصمت ۴۱۱
ایک جواب طلب سوال ۴۱۲
اسلام اور فطرت ۴۱۳
عصمت کے لئے ضروری عناصر ۴۱۸
توضیح اور تطبیق: ۴۲۱
حضرت محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم افضل ترین مخلوق ۴۲۳
حدیث ''علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل '' کا صحیح مطلب ۴۲۴
چوتھا عنوان ۴۲۶
خمس کا شرعی حکم اورسیاست ۴۲۶
غنیمت کا معنی ۴۲۶
آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطوط میں خمس کا تذکرہ ۴۲۹
ان خطوط پر ایک نظر ۴۳۲
وافر مال پر خمس واجب ہے ۴۳۳
مزید دلائل ۴۳۵
معدنیات اور مدفون خزانوں پر بھی خمس ہے ۴۳۵
لطیفہ ۴۳۷
خمس لینے والے نمائندے ۴۳۷
کتاب اور سنت میں خمس کے استعمال کے مقامات ۴۳۸
اہل بیت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی روایات میں خمس ۴۳۹
اہل سنت کی روایتوں میں خمس ۴۳۹
عہد نبوی صلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد خمس کا استعمال ۴۴۰
خلیفہ ثانی کے دور میں ۴۴۱
خلیفہ سوم کے دور میں ۴۴۲
خمس کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام کی سیرت ۴۴۳
معاویہ کے دور میں ۴۴۴
عمر بن عبدالعزیز کے دور تک ۴۴۵
خمس کے متعلق علمائے اہل سنت کے نظریات ۴۴۵
خمس کے متعلق اہل بیت عليهالسلام اور ان کے پیروکاروں کا نظریہ ۴۴۷