یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
مھدی منتظر اور اسلامی فکر
مصنف: سید محمد نقوی
امام مہدی علیہ السلام کے نسب کے بارے میں احادیث
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سلسلہ نسب کے بارے میں جو احادیث واردہوئی ہیں وہ سب کی سب ایک ہی نسب کوبیان کرتی ہیں ۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کنانی ،قریشی اورہاشمی ہیں
مقدسی شافعی نے ’عقدالدرر میں حاکم نے "مستدرک "میں ایک حدیث نقل کی ہے جوحضرت امام مہدی علیہ السلام کے نسب کوکنانہ تک پھرقریش تک اور بنی ہاشم تک پہنچاتی ہے یہ قتادہ کی روایت ہے جسے اس نے سعید بن مسیب سے روایت کیاہے قتادہ کہتا ہے میں نے سعید بن مسیب سے کہا کیا (وجود)حضرت امام مہدی علیہ السلام حق ہے ؟۔
اس نے جواب دیاحق ہے ۔
میں نے کہا:وہ کس کی اولادسے ہوں گے ؟
اس نے جواب دیاکہ !کنانہ کی اولادسے۔
میں نے کہا:اس کے بعدکس سے؟۔
کہتا ہے :قریش سے
میں نے کہا:پھرکس سے ؟۔
کہتا ہے !بنی ہاشم سے شافعی لکھتے ہی اسے امام ابوعمر عثمان بن سعید مقری نے اپنی سنن میں ذکرہے اوراس کوذکرکے تھوڑے سے اختلاف سے قتادہ سے اورانہوں نے سعیدبن مسیب سے نقل کیاہے ۔
اس کے بعدتحریرکرتے ہیں کہ خوداسے امام ابوالحسین احمدبن جعفرمناوی اورامام عبداللہ نعیم بن حمادنے بھی ذکرکیاہے(عقدالددر۴۲۔۴۴ باب اول ،مستدرک حاکم ۴:۵۵۳مجمع الزوید ۷:۱۱۵)
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خود حدیث میں تضادہے کیونکہ ایک مرتبہ ا س حدیث میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کا سلسلہ نسب کنانہ بتایاگیا ہے ،دوسری مرتبہ قریش اورتیسری مرتبہ بنی ہاشم۔
ہاشمی قریشی ہیں اورہرقریشی کنانہ کی اولادسے ہے کیونکہ علماء انساب کا اتفاق ہے کہ قریش کنانہ کے بیٹے نضرکا لقب ہے
حدیث کی روشنی میں حضرت امام مہدی (عج)کا حضرت عبدالمطلب کی اولادسے ہونا
اس حدیث کو ابن ماجہ وغیرہ نے انس بن مالک سے روایت کیا ہے کہتے ہیں پیغمبر اسلام نے فرمایا:۔
نحن ولد عبدالمطلب سادةااهل الجنة :انا وحمزه وعلی وجعفر ،والحسن،والحسین ،والمهدی
ہم اولادعبدالمطلب اہل بہشت کے سردارہیں "حمزہ ،علی جعفر،حسن ،حسین اورمہدی"(سنن ابن ماجہ۲:۱۳۶۸،باب خروج المہدی ،مستدرک حاکم ۳:۲۱۱، شیخ طوسی کی کتاب الغیبة :۱۱۳،سیوطی کی جمع الجوامع۱:۸۵۱)
اور عقد الدرر میں اسے ا ن الفاظ کے ساتھ ذکرکیاہے۔
"نحن سبعة بنو ابو مطلب سادات اهل الجنة :انا واخی علی وعمی حمزه وجعفر ،والحسن،،والحسین ،والمهدی
عبدالمطلب کے ہم سات بیٹے اہل بہشت کیاسردارہیں "میں ۔میرا بھائی علی ۔میراچچا حمزہ ۔جعفر ۔حسن ۔حسین اورمہدی اس کے بعد وہ لکھتا ہے کہ محدثین کی جماعت نے اسے اپنی اپنی کتابو ں میں ذکرکیا ہے "۔
ان میں سے چندہیں امام ابوعبداللہ محمدبن یزیدبن ماجہ قزوینی نے اپنی سنن میں ابو القاسم طبرانی نے اپنی معجم میں حفاظ ابونعیم اصفہانی وغیرہ ۔
یہ حدیث پہلی حدیث کے ساتھ تضادنہیں رکھتی (عقدالدرر:۱۹۵باب ہفتم۔)کیونکہ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت ابومطلب حضرت محمدکے داداہیں وہ ہاشم کے بیٹے ہیں پس عبدالمطلب کے بیٹے حتمی طورپرہاشمی ہیں لہذاحضرت امام مہدی علیہ السلام عبدالمطلب بن ہاشم قریشی کنانی کی اولا دمیں سے ہیں۔
حدیث کی روشنی میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کاحضرت ابو طالب کی اولادسے ہونا
اس حدیث کوشیخ مفیدنے ارشادمیں اورمقدسی شافعی نے عقدالدررمیں نقل کیا ہے اورلکھاہے کہ نعیم بن حمادنے کتاب الفتن میں اسے ذکرکیاہے۔
اوریہ حدیث سیف بن عمیرہ سے مروی ہے کہتے ہیں میں ابوجعفرکے پاس بیٹھاتھاکہ اس نے مجھے سے کہاکہ اے سیف بن عمیرہ آسمان سے ایک منادی اولادابو طالب میں سے ایک مردکا نام لیکرندادے گا۔
میں نے کہا آپ پرفداہوجاوں اے امیرالمومنین آپ یہ کیسی روایت سنارہے ہیں۔انہوں نے کہا ہاں اس ذات کی قسم جس کے قبضے قدرت میں میری جاں ہے اس لیے کہ میرے کانوں نے اسے سناہے۔
میں نے کہااے امیرالمومنین میں نے یہ حدیث اس سے پہلے نہیں سنی تھی۔
انہوں نے کہااے سیف بن عمیرہ یہ حق ہے اورجب یہ ہوگاہو سب سے پہلے میں اس پرلبیک کہوں گابیشک یہ ندا ہمارے چچا کی اولاد میں سے ایک مردکے لیے ہوگی میں نے کہاوہ اولادفاطمہ سلام اللہ علیھا سے ہوگا۔
انہوں نے جواب دیا!ہاں اے سیف اگراس میں نے اسے ابوجعفرمحمدبن علی سے نہ سنا ہوتاتوسارے اہل علم زمین مجھے یہ حدیث سناتے توبھی قبول نہ کرتالیکن کیا کروں یہ محمدبن علی نے مجھے سنائی ہے (ارشادشیخ مفید۲:۳۷۰۔۳۷۱،عقدالدرر:۱۴۹باب چہارم)
یہ حدیث بھی پہلی حدیث کے ساتھ تضادنہیں رکھتی کیونکہ جوابوطالب کی اولادمیں سے ہے وہ حتما آپ کے والدعبدالمطلب کی اولادمیں سے ہے
اوراس حدیث میں بیان ہواہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اولادفاطمہ سلام اللہ علیھاسے ہوں گے لیکن اس سے ہم بعدمیں بحث کریں گے۔
لہذااب تک کی بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ آخری زمانے میں جس امام مہدی علیہ السلام کے ظہورکی بشارت دی گئی اورابوطالب بن عبدالمطلب ہاشم قریشی کنانی کی اولادمیں سے ہوں گے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اولادعباس سے ہونے والی احادیث
اس میں شک نہیں کہ ایسی احادیث حضرت امام مہدی علیہ السلام کے نسب کوابہام میں ڈال دیں گی کیونکہ عباس کی اولادابوطالب کی اولادنہیں ہے۔
اس لئے ایسی احادیث پرغورکرناضروری ہے تاکہ ابہام رفع ہوجائے۔اس سلسلہ میں واردہونے والی احادیث دوطرح کی ہیں۔
مجمل احادیث
یہ فقط جھنڈوں سے متعلق احادیث ہیں ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جسے احمدنے اپنی مسندمیں ثوبان سے روایت کیا ہے کہ پیغمبراکرم نے فرمایا:۔
"اذارایتم الرایات السودقداقبلت من خراسان فاتوها ولو حبوا علی الثلج فان فیها خلیفة الله المهدی "
جب دیکھوکہ سیاہ جھنڈے خراسان کی طرف سے آرہے ہیں توان کے پاس آوچا ہے برف پرہی گھسٹ کرہی نہ آنا پڑے اس لئے کہ ان میں اللہ کا خلیفہ مہدی ہوگا(مسنداحمد۵:۲۷۷)اسی سے ملتی جلتی وہ حدیث ہے جسے ابن ماجہ نے اپنی سنن میں ذکرکیا ہے(سنن ابن ماجہ ۲:۱۳۳۶۔۴۰۸۲)
اسی طرح ترمذی نے ابو ھریرہ سے روایت کی ہے کہ پیغمبراکرم نے فرمایا
تخرج من خراسان رایات سود ،فلایررها شی حتی تنصب بايلیاء "
"خراسان سے سیاہ جھنڈے نکلیں گے انہیں کوئی شئی نہیں روک سکے گی حتی کہ انہیں ایلیا میں گاڑھ دیا جائے گا(سنن ترمذی ۴:۵۳۱۔۲۲۶۹)
ان احادیث میں اگرچہ واضح طور پر نہیں کہاگیاکہ حضرت مہدی علیہ السلام ،عباس کی اولادمیں سے ہیں لیکن بعض لوگوں نے اس کایہی معنی کیا ہے وہ یوں کہ یہ سیای جھنڈے ہوسکتا ہے وہ ہوں جنہیں ابو مسلم خراسان سے لے کرنکلا تھااوراس نے بنی عباس کی حکومت کو مضبوط کیا تھا لہذاان احادیث سے مرادمہدی عباسی ہے۔
مذکورہ مجمل احادیث پرایک نظر
مسنداحمدابن حنبل اورسنن ابن ماجہ کی حدیثوں کو کئی علماء نے ضعیف قراردیاہے ۔
ابن قیم المسنادالنیف میں لکھتے ہیں کہ "یہ (یعنی ابن ماجہ کی )حدیث اوراس سے پہلے والی حدیث میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو اس پردلالت کرتی ہو کہ مہدی عباسی ہی وہی مہدی ہے جوآخری زمانے میں ظہورکریں (المنازالنیف ابن قیم ۱۳۷۔۱۳۸۔۳۳۸ اور۳۳۹ نمبر حدیثوں کے ذیل میں )ان کی دلیل یہ ہے کہ مہدی عباسی کا ۱۶۹ئھ میں انتقال ہواتھااوراس کازمانہ ایسا تھا کہ عورتیں بھی امرمملکت میں مداخلت کرتی تھیں
چنانچہ طبری نے بیان کیاہے کہ خلیفہ مہدی عباسی کی بیوی خیزران امورحکومت میں مداخلت کرتی تھی حتی کہ اس کے بیٹے ھادی کے زمانے میں تویہ امورمملکت پر قابض ہوگئی تھی "(تاریخ طبری ۳:۴۶۶)اور جس کا یہ حال ہووہ کیسے زمین پرخداکاخلیفہ ہوسکتاہے۔
مزید یہ کہ مہدی عباسی بلکہ تمام خلفا ء آخری زمانے میں نہیں تھے نہ ان میں سے کسی کے ہاتھ کثیرمال لگا تھا اورنہ انہوں نے رکن ومقام کے درمیان لوگوں سے بیعت لی تھی اورنہ ہی دجال کو قتل کی تھا اورنہ ہی عیسی نے نازل ہوکران کے پیچھے نمازپڑھی تھی اورنہ ہی ان کے زمانے میں بیدانامی جگہ دھنسی تھی ۔
بلکہ ان کے پورے دورمیں ظہورحضرت مہدی علیہ السلام کی کوئی چھوٹی سی علامت بھی ظاہرنہ ہوئی
رہی ترمذی کی حدیث تواس کے بارے میں ابن کثیراس حدیث غریب قراردینے کے بعدکہتے ہیں :۔
یہ سیاہ جھنڈے وہ نہیں ہیں جنہیں ابومسلم خراسانی لے کرنکلا تھا اوراس نے ۱۳۲ئھ میں بنی امیہ سے حکومت چھین لی تھی بلکہ یہ سیاہ جھنڈے اورہیں جوحضرت امام مہدی علیہ السلام کے ہمراہ آئیں گے۔
مقصود یہ ہے کہ جس مہدی کے آخری زمانے میں ظہورکاوعدہ کیاگیا ہے اس کا خروج اورظہورومشرق کی طرف سے ہوگا(النہایة فی الفتن والملاحم ابن کثیر ا:۵۵)معیارصحیح قراردیاہے(مستدرک الحاکم ۴:۵۰۲)
واضح احادیث
۱۔یہ حدیث کہ (المهدی من ولد العباس عمی )
(کہ مہدی میرے چچا عباس کی اولادسے ہیں )کو سیوطی نے الجامع الصیغیر میں ذکرکیا ہے یہ ضعیف ہے(الجامع الصیغر ۲:۶۷۲۔۹۲۴۲)
مناوی شافعی فیض التقدیرمیں تحریرکرتے ہیں کہ اسے دارقطنی نے الافراد میں روایت کیا ہے اورابن جوزی کہتے ہیں اس کی سندمیں محمدبن ولیدمقری ہے کہ جس کے بارے میں ابن عدی کا کہنا ہے ۔
یہ احادیث گھڑتاتھااوران کے متون اسانیدتبدیل کرتاتھا۔اور ابن ابی معشرکہتا ہے کہ یہ بڑاجھوٹ شخص تھا
سمہودی کاکہنا ہے کہ اس سے پہلی اورباروالی حدیثیں اس سے زیادہ صحیح ہیں لیکن خوداس میں محمدبن ولیدہے وہ خوداحادیث وضع کرتاتھا"(فیض القدیرشرح الجامع الصغیر۶:۲۷۸۔۹۲۴۲)
اورسیوطی نے الحاوی میں ابن حجرنے صواعق محرقہ میں صبان بے اسعاف میں وہ ابوالفیض نے انرازالوھم المکنون میں اسے ضعیف قراردیاہے اس کے جعلی ہونے کے بورے میں بہت سارے اقوال نقل کئے ہیں(الحاوی للفتاوی ۲:۸۵،صواعق محرقہ :۱۶۶،اسعاف الراغبین: ۵۱ابوابر ازالوھم المکنون :۵۶۳۔)
۱۔ ابن عمرکی حدیث ہے کہ "رجل یخرج من ولدالعباس "
"عباس کی اولادمیں سے ایک شخص خروج کرے گا۔اسے خریدة العائب میں ابن عمرسے مرسل طورروایت کیاہے اوریہ حدیث ابن ابوموقوفہ ہے ()خریدة العجائب ابن وردی :۱۹۹)اس حدیث میں جومرسل ہونے کی وجہ دلیل نہیں بن سکتی مہدی کی وضاحت نہیں کی گئی ۔
پس بہتریہ ہے کہ اسے پہلی قسم یعنی مجمل احادیث میں شامل کی جائے اگرچہ اس میں عباس کانام ہے۔
۳۔ ابن عباس نے پیغمبراکرم سے روایت کی ہے کہ آپ نے اپنے چچا عباس سے فرمایا
ان الله ابتداء بی الاسلام وسیختمه بغلام من ولدک وهو الذی یتقدم عیسی بن مریم
بیشک اللہ تعالی نے میرے ذریعے اس کا اختتام کرے گا اوریہ وہی ہے جوعیسی بن مریم کے آگے ہوگا۔
اسے خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں روایت کیا ہے اوراس کی سندمیں محمدبن مخلدہے(تاریخ بغداد۳:۳۲۳،۴:۱۱۷) کہ جسے ذھبی نے ضعیف قراردیاہے اوراس کے ساتھ اس بات پرتعجب کا اظہارکیاہے کہ خطیب بغدادی نے اسے ضعیف کیوں نہیں دیا ! لکھتے ہیں :۔
اے محمد بن مخلدعطارسے روایت کیا ہے اورتعجب ہے کہ خطیب نے اسے اپنی تاریخ میں ذکرکیا ہے لیکن اسے ضعیف قرارنہیں دیاشایداسے اہمیت نہ دیتے ہوئے خاموشی اختیارکی ہو(میزان الاعتدال ۱:۸۹۔۳۲۸)
۴۔ام فضل نے پیغمبر اسلام سے توایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:۔
یا عباس اذا کانت سنة خمس وثلاثین ومائة فهی لک ولو لدک ،منهم السفاح ،ومنهم المنصور ،ومنهم المهدی "
اے عباس ۱۳۵ئھ تمہارااورتمہاری اولادکا سال ہے ان میں سفاح ، منصور اورمہدی ہوں گے
اس حدیث کوخطیب اورابن عسا کرنے ام فضل سے نقل کیا ہے ()تاریخ بغداد۱:۶۳،تاریخ دمشق ۴:۱۷۸ اس کے متعلق ذھبی تحریرکرتے ہیں :۔
اس کی سندمیں احمدبن راشدہلالی ہے اس نے سعیدبن خیشم سے بنی عباس کے بارے میں ایک باطل حدیث کی روایت کی ہے احمدبن راشدکے بارے میں ذھبی کانظریہ یہ ہے کہ اس نے جہالت کی وجہ سے اس حدیث کوگھڑاہے()میزان الاعتدال ا:۹۷
میں کہتا ہوں کہ :۔ ذھبی نے حدیچ کے گھڑنے میں احمدبن راشدکی جہالت کاحوالہ دیاہے جبکہ اس بات پراتفاق ہے کہ عباسیوں کی حکومت کاآغاز ۱۳۵ئھ میں نہیں بلکہ ۱۳۲ء ھ میں ہوااوراس سے پتہ چلتاہے کہ حدیث گھڑنے والے کوبنی عباس کی حکومت کے آغازکا بھی علم نہیں تھا۔
۵ اسی سے ملتی جلتی حدیث سیوطی نے ابن عباس سے اپنی کتاب " اللآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ"میں نقل کی ہے اور کہا ہے یہ حدیث جعلی ہے اور اس کا گھڑنے والاشایدغلابی ہے( " اللآلی المصنوعة۱:۴۳۴۔۴۲۵)
اسے ابن کثیر نے "البدایة والنھایة" میں ضحاک کی ابن عباس سے روایت کی صورت میں نقل کیا ہے اورکہا ہے یہ سندضعیف ہے اورصحیح یہ ہے کہ ضحاک نے ابن عباس سے کچھ نہیں سنا پس یہ منطقع ہے۔(البدایہ والنہایة ۶:۲۴۶)
اور حاکم نے اسے ایک اورسند کے ساتھ ذکرکیا ہے جس میں اسماعیل بن ابراھیم مہاجرہے(مستدرک الحاکم ۴:۵۱۴)ہے اورابوالفیض الغماری الشافعی نے ذھبی سے نقل کیا ہے کہ اسماعیل کے ضعیف ہونے پراجماع ہے جبکہ اس کاباپ ایسانہیں ہے۔(ابرازالوھم المکنون:۵۴۳)
یہی احادیث ہیں جن سے بعض سے لوگ دھوکہ کھاتے ہیں اورحضرت امام مہدی علیہ السلام کے نسب کو پہچاننے میں انہیں مانع تصورکرتے ہیں لہذا حضرت مہدی علیہ السلام کا اولادابوطالب سے ہوناجعلی ہیں اورجھنڈوں والی احادیث بھی اس نتیجے کے خلاف دلالت نہیں کرتیں۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام سے متعلق دیگراحادیث پرنظرڈالنے سے آپ کومزیدیقین ہوجائے گاکہ آپ اولادعباس سے نہیں ہیں ۔
چونکہ حضرت ابو طالب کی اولاد زیادہ تھی اس لئے احادیث نے معین کردیاکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام ابوطالب کے فرزند حضرت علی کی اولادسے ہوں گے چنانچہ اس سلسلے میں کثیرروایات واردہوئیں ہیں ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
"هورجل منی "مہدی مجھ سے ہیں(نعیم بن حماد کی "الفتن "۱:۳۶۹۔۱۰۸۴،سید ابن طاوس کی التشریف بالنن"۱۷۶۔۲۳۸ با ب ۱۹
یہ بات واضح ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی اولادزیادہ ہے لیکن بہت ساری صحیح بلکہ متواترروایات میں ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اہلبیت علھیم السلام سے ہیں یا عترت سے ہے یا پیغمبرسے ہیں ۔
لہذا اس سلسلے میں کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ اہل بیت علیھم السلام ،عترت اوراولادنبی علی کی اولاد میں سے صرف ان کوکہا جاتا ہے جن کا سلسلہ فاطمہ زھرااسلام علیھا سے ہوابطورنمونہ چنداحادیث پیش کی جارہی ہیں۔
حدیث:۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام اہل بیت علیھم السلام سے ہیں
۱۔لا تنفضی الایام ،ولایذهب الدهر ،حتی یملک العرب رجل من اهل بیتی اسمه یواطی اسمی
اس وقت تک ایام ختم نہیں ہوں گے اورزمانہ گزرے گا نہیں جب تک میرے اہلبیت میں سے ایک شخص عرب کا بادشاہ نہ بن جائے گا اوروہ میرا اہم نام ہوگا"۔اس حدیث کو احمدنے اپنی مسندمیں ابن مسعودسے کئی طرق سے نقل کیا ہے اورابن داودنے اپنی سنن میں طبرانی نے اپنی معجم کبیرمیں اسے ذکرکیا ہے اورترمزی ارع کنجی شافعی نے اسے صحیح قراردیاہے اوربغوی نے اسے حسن بتایاہے (مسنداحمد۱:۳۷۶۔۳۷۷۔۴۳۰، سنن ابی داود۴:۱۰۷۔۴۲۸۳)
۲۔لو لم یبق من الدهر الایوم لبعث الله رجلا من اهل البیت یملئو عد لاکما ملئت جورا "
"اگر حیات دنیامین سے صرف ایک دن باقی رہ جائے تب بھی خدامیری اہل بیت میں سے ایک مردکو بھیجے گا جوزمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم جوسے بھری ہوئی ہوگی۔
اس حدیث کوحضرت علی علیہ السلام نے پیغمبراکرم سے روایت کیا ہے اوراحمدنے اسے اپنی مسندمیں نقل کیا ہے نیزاسے ابن ابی شبیہ ابوداؤداوعربیقہی نے بھی ذکرکیا ہے اورطبری نے مجمع البیان میں کہا ہے "شیعہ اورسنی علماء نے متفقہ طورپرنقل کیاہے (مسنداحمد۱:۹۹ ابن ابی شیبہ کی المصنف ۱۵:۱۹۸۔ ۱۹۴۹۴، سنن ابی داود۴:۱۰۷۔ ۴۲۸۳ بیہقی کی الاعتقاد: ۱۷۳مجمع البیان ۷:۶۷)
ابوفیض الفیض غماری نے اس حدیث کے متعلق کہا ہے "یہ حدیث بلا شک وشبہ صحیح ہے(بواز الوھم المکنون:۴۹۵)
۳۔لا تقوم الساعة حتی یلی رجل من اهل بیتی یواطی اسمه اسمی
"قیامت اس وقت تک نہیں آسکتی جب تک میرے لیے اہل بیت علیھم السلام کاایک مردحکومت نہ سنبھال لے کہ جو میرا ہم نام ہوگا "اس حدیث کومسعود نے پیغمبراسلام سے نقل کیا ہے۔
اورابن مسعودسے احمدبن حنبل ،ترمذی، کنجی اورطبرانی نے کئی طرق سے نقل کیا ہے اوراسے صحیح قراردیاہے۔
اورشیخ طوسی نے بھی اسے ذکرکیاہے اورابویعلی موصلی نے اسے ابوھریرہ سے اپنی مسندمیں بیان کیا ہے(مسنداحمد:۳۷۶،سنن ترمذی۴:۵۰۵۔۳۲۳۱،طبرانی کی المعجم الکبیرا :۱۶۵۔۱۰۲۲۰ وا:۱۰۱۶۷۔کنجی کی البیان :۴۸۱،شیخ طوسی کی کتاب الغیبة :۱۱۳، مسندابی یعلی موصلی ۱۲:۱۹۔۶۶۶۵)اوردرمنشور میں کہاہے کہ"اسے ترمذی نے ابوھریرہ سے روایت کیاہے اورصحیح قراردیاہے"(ادرالمنشور ۶:۵۸)
۴۔ "المهدی منااهل البیت اشم الانف ،اجلی الجبهة ،یملا الارض قسطا وعد لاکما ملئت جورا وظلما "
"مہدی ہم اھل بیت سے ہیں ناک ابھری ہوئی اورجبین کشادہ ہے وہ زمین کواسی طرح عدل وانصاف سے بھردیں گے جس طرح ظلم وجور سے بھری ہوگی"اس حدیث کو ابوسعیدخدری نے پیغمبراسلام سے نقل کیا ہے اوران سے عبدالرزاق نے ذکرکیا ہے اورحاکم نے اسے مسلم کی شرط پرصحیح قراردیا ہے اورابلی نے اسے کشف الغمہ میں بیان کیاہے (عبدالرزاق کی المصنف ۱۱:۳۷۲۔۲۰۷۷۳،مستدرک حاکم ۴:۵۵۷، کشف الغمہ ۳:۲۵۹)
حدیث: حضرت امام مہدی(عج)عترت سے ہیں
اس سلسلہ میں بہت زیادہ احادیث وارد ہوئی ہیں ہم صرف ایک حدیث کے ذکرپراکتفاء کریں گے۔
ابوسعیدخدری نے پیغمبراکرم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:۔
"لا تقوم الساعة حتی تملاالارض ظلما وعدوانا ،ثم یخرج رجل من عترتی اومن اهل بیتی التردید من الراوی یملئو ها قسطا وعدلا کما ملئت ظلما وعدوانا "
"قیامت سے پہلے زمین ظلم وجور سے بھر جائے گی پھرمیری عترت یا میرے اھل بیت (روای کو شک ہوا ہے)سے ایک مردخروج کرے گا جواسے عدل وانصاف سے اسی طرح بھردے گاجس طرح یہ ظلم وجورسے بھری ہوگی"
اس حدیث کو احمدبن حنبل ، ابن حبان اورحاکم نے بیان کیاہے اوربخاری ومسلم کے معیارپراسے صحیح قراردیا ہے اورصافی نے اسے "منتخب الاثر"میں نقل کیاہے (مسند احمد۳:۳۶، صحیح ابن صبان۸:۲۹۰۔۶۲۸۴، مستدرک حاکم ۴:۵۵۷، منتخب الاثر۱۹:۱۴۸)
ابوالفیض غماری شافعی اس کے طرق اورروایوں کے حالات کا بغورمطالعہ کرنے کے بعدلکھتے ہیں"یہ حدیث بخاری اورمسلم کے معیارپرصحیح ہے جیسا کہ حاکم نے کہا ہے "(ابرازالوھمالمکنون :۵۱۵)
احادیث۔ حضرت امام مہدی (عج)پیغمبر اکرم کی اولاد میں سے ہیں
۱۔ابوسعیدخدری نے پیغمبراسلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:۔
"المهدی منی اجلنی الجبهة ،اقنی الانف ،یملوالارض قسطا وعد لا کما ملت ظلما وجورایملک سبع سنین "
مہدی مجھ سے ہیں وہ کشادہ جبین اورابھری ناک والے ہوں گے زمین کوعدل وانصاف سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح ظلم وجورسے بھری ہوگی اورسات سال تک حکومت کریں گے"۔
اس حدیث کو حاکم نے مسلم کی شرط پرصحیح قرار دیا ہے نیزکنجی شافعی ، سیوطی ، شیخ منصورعلی ناصف نے "التاج الجامع الاصول "،میں اورابوفیض نے اسے صحیح قرار ہے (مستدرک حاکم ۴:۵۵۷،کنجی کی البیان :۵۰۰، الجامع الصیغر۲:۶۷۲ ۔۹۲۴۴، التاج الجامع للاصول ۵:۳۴۳، ابرازالوھم :۵۰۸)
بغوی نے اسے حسن شمارکیا ہے ابن قیم نے اس کی سندکوجیدکہا ہے (مصابیح السنة ۳:۴۹۲۔۴۲۱۲، ابن قیم کی المنارالنیف:۱۴۴۔۳۳۰)
اوراس کو ابوسعیدسے ابوداؤد،عبدالرزاق اورخطابی نے معالم السنن میں ذکرکیاہے اور شیعوں میں سے اسے ابن طاؤس اورابن بطریق نے نقل کیا ہے(سنن ابی داؤد ۴:۱۰۷۔۴۳۸۵،التشریف بالنن :۱۵۳۔۱۸۹و۱۹۰ باب ۱۵۰ ابن حمادسے"فتن"میں۱:۳۶۴۔۱۰۶۳ور ۱۰۶۴،اورابن بطریق حلی کی العمدہ:۴۳۳۔۹۱۰)
۲۔ امیر المومنین علیہ السلام پیغمبراکرم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:۔
"المهدی من ولدی تکون له غیبة و حیرة تضل فیها الامم ،یاتی بذخیرة الانبیاء فیملوها عدلا وقسطا کما ملئت جوراوظلما "
"مہدی میری اولادسے ہیں انہیں غیبت کا سامنا ہوگا جس میں اقوام گمراہ ہوجائیں گی آپ انبیائکا خزانہ لے کے آئیں گے پس زمین کواس طرح عدل وانصاف سے بھردیں گے جس طرح ظلم وجورسے بھری ہوگی"۔
اس حدیث کوشیخ صدوق نے کمال الدین میں ذکرکیا ہے اورجوینی شافعی نے فرائد السمطین میں اورقندوزی حنفی نے ینابیعالمودة میں اس سے استد لال کیا ہے(کمال الدین ۱:۲۸۷۔۲۵فرائد السمطین ۲:۳۲۵۔ ۵۸۷ ینابیع المودة :۳باب نمبر ۹۴)
اب تک جن احادیث کوہم نے ذکر کیا ہے اب سے واضح ہوگیا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام حضرت علی علیہ السلام کی اس اولادسے ہوں گے جس کاسلسلہ حضرت فاطمہ زھرااسلام علیھا سے چلا ہے جیسا کہ اس کی وضاحت خودحدیث نے کی ہے۔
حدیث:۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کی اولادسے ہیں
ام سلمہ اسلام سے روایت کرتی ہیں کہ :۔
"المهدی حق و هو من ولد فاطمة "
"مہدی حق ہے اوروہ اولادفاطمہ میں سے ہے"۔
اس حدیث کو ام سلمہ سے ابوداؤد ابن ماجہ ،طبرانی اورحاکم نے دوطریق سے نقل کیا ہے اوراہل سنت کے چارعلماء نے اسے صحیح مسلم سے نقل کیاہے (سنن ابی داؤد۴:۱۰۷۔ ۴۲۸۴، سنن ابن ماجہ ۲:۱۳۶۸۔۴۰۸۶ طبرانی کی المعجم الکبیر۲۳:۲۶۷۔۵۶۶، مستدرک حاکم ۴:۵۵۷۔
اورمندرجہ ذیل چار علما اہلسنت نے اسے صحیح مسلم سے نقل کیا ہے جو اسبات کی دلیل ہے کہ یہ حدیث صحیح مسلم میں تھی لیکن اب اس میں نہیں ہے۔
ابن حجرھیتمی نے صواعق محرقہ میں :۱۶۳ باب نمبر۱۱ فصل اول۔
متقی ہندی نے کنزالعمال میں ۱۴:۲۶۴۔۳۸۶۶۲
شیخ محمد بن علی صبان نے اسعاف الراغبین میں صفحہ ۱۴۵۔
شیخ حسن عمودی حمزاوی مالکی بنے مشاق الانوارمیں صفحہ ۱۱۲۔
)اوردوسرے نے اس کے صحیح اورسندکے سندہونے کا اعتراف کیا ہے بلکہ بعض نے اسے متواترقراردیا ہے (کنجی نے البیان میں اسے صحیح قراردیا : ۴۸۶باب نمبر ۲ نیزسیوطی نے جامع الصیغر میں ۲:۶۷۲۔ ۹۲۴۱، اسی طرح التاج الجامع للاصول کے ہاشے پر۵:۳۴۳، بغوی نے اسے حسن قراردیا ہے مصابیح السنة ۳:۴۹۲۔۴۲۱۱، ابو الفیض نے ابرازالوھم :۵۰۰ میں حدیث کی سندکی تحقیق کرکے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اوراس کے سارے راوی عادل ہیں۔
البانی نے اس کی سندکو عمدہ قراردیا ہے جیسا کہ"عقیدہ اہل السنة "اور محسن بن حمدحمادکی "الاثرفی المہدی المنتظر "صفحہ ۱۸، پراورقرطبی وغیرہ کے تواترکا قول ہم پہلے ذکرکرچکے ہیں ۔
نعیم بن حماد نے اپنی سندکے ساتھ حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:۔
"المهدی رجل منا من ولد فاطمة "
"مہدی ہم میں سے ہے اوراولادفاطمہ میں سے ہے"
(نعیم بن حمادکی الفتن ۱:۳۷۵۔۱۱۱۷ ،اسی سے کنزاالعمال میں نقل ہواہے۱۴:۵۹۱۔۳۹۶۷۵)
نیزھری سے نقل کیا ہے کہ :۔
"المهدی من ولد فاطمة "
"مہدی اولافاطمہ میں سے ہے"
(۱)نعیم بن حمادکی الفتن ۱:۳۷۵۔۱۱۱۴ ،اوراسی سے تشریف بالنن میں نقل ہوا ہے :۱۷۶۔۲۳۷ باب نمبر۱۶۳۔
اسی طرح کعب سے بھی واردہوئی ہے
(۲)نعیم بن حمادکی الفتن ۱:۳۷۴ سے۲ااا،اوراسی سے تشریف بالنن میں نقل ہواہے :۱۵۷۔۲۰۲باب نمبر۱۶۳۔
جوان ساری گزشتہ احادیث کی جامع ہے قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے سعیدسے کہاکیامہدی حق ہے َ
انہوں نے کہا حق ہے ۔ میں نے کہاکس کی نسل سے ہی؟انہوں نے کہاقریش کی نسل سے۔ میں نے کہا کون سے قریش کی نسل سے ؟
کہا :ہاشم کی میں نے کہاہاشم کے کس بیٹے سے؟ انہوں کہا:عبدالمطلب کی اولادسے ۔ میں نے پوچھا میں نے پوچھا : عبدالمطلب کے کس بیٹے سے ؟ توانہوں نے جواب دیا:اولادفاطمہ سے"(۱)عقدالدرر:۴۴ باب اول ، نعیم بن حمادکی الفتن ۳۶۸۱ ۔۳۶۹۔۱۰۸۲، اوراسی سے سید ابن طاوس نے التشریف بالنن میں بالنن میں نقل کیا ہے :۱۵۷۔۲۰۱ باب نمبر۱۶۳
لیکن احادیث میں پہلے دواحتمالوں کی تائیدسے تیسرااحتمال باطل ہوجاتاہے۔
رہا چوتھا احتمال کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام حضرت امام حسن علیہ السلام وحضرت امام حسین علیہ السلام کے علاوہ کسی دوسرے کی اولاد سے ہیں تویہ واضح طورپرباطل اورغیرمعقول ہے۔
کیونکہ صحیح بلکہ متواتراحادیث سے ثابت ہوچکا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اہل بیت علیھم السلام اورحضرت فاطمہ زھر اسلام اللہ علیھا کی اولاد سے ہیں۔لہذا پہلے دواحتمالوں کو ثابت کرنے والی احادیث میں غورکرنے کی ضرورت ہے اگرپہلے احتمال کو ثابت کرنے والی احادیث جھوٹی ثابت ہوجائیں تو دوسرے احتمال کوثابت کرنے والی احادیث میں غورکرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اوروہی یقینی اورصحیح ہوگا کیونکہ دونوں احتمالوں کا جھوٹاہونامحال ہے
حدیث:۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام پیغمبر کے نواسے حضرت امام حسن علیہ السلام کی اولادسے ہیں۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حضرت حسن علیہ السلام کی اولادسے ہونے کے بارے میں کتب اہل سنت میں صر ف ایک حدیث بلکہ عالم اسلام کی کتابوں میں اس کے علاوہ کوئی دوسری حدیث نہیں ہے۔
اوراس حدیث کوابو داودسجستانی نے اپنی سنن میں ذکرکیاہے وہ کہتے ہیں میرے لیے ہارون بن مغیرہ سے نقل کیا گیا کہ اس نے عمربن ابوقیس سے اوراس نے شعیب بن خالدسے اوراس نے ابواسحاق سے روایت کی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت امام حسن علیہ السلام کودیکھ کرفرمایا:۔
"ان ابنی هذا سید کما سماه النبی صلی علیه وآله وسلم وسیخرج من صلبه رجل یسمی باسم نبیکم ،یشبههه فی الخلق ولایشبهه فی الخلق "
"میرا یہ بیٹاسردارہے جیسا کہ نبی اکرم نے اسے یہ نام دیاہے اوراس کی صلب سے ایک مولودہوگا جو تمہارے نبی کا ہمنام ہوگا وہ خلق (اخلاق)میں نبی کا مشابہ ہوگا نہ خلقت میں"
اس کے بعدیہ جملہ فرمایا کہ وہ زمین کو عدل سے پرکردے گا(سنن ابوداود ۴:۱۰۸۔۴۲۹۰، اسی سے جامع الاصول میں نقل ہوا ہے ۱۱:۴۹۔۵۰۔ ۷۸۱۴، کنزالعمال ۱۳:۲۵۷۔۳۷۶۳۶،نعیم بن حمادنے اسے الفتن میں ذکرکیاہے۱:۳۷۴۔۱۱۱۳)
حدیث کے باطل ہونے پرسات دلیلیں نعیم بن حمادکی الفتن ۱:۳۷۵ ،اوراسی سے تشریف بالنن میں نقل ہوا ہے :۱۷۶۔۲۳۷ باب نمبر۶۳
حدیث کے باطل ہونے پر سات دلیلیں
اس حدیث کی سند اورمتن میں غور کرنے اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حضرت امام حسین علیہ السلام کی اولادسے ہونے والی احادیث کے ساتھ اگرموازنہ کرنے سے بخوبی معلوم ہوجائے گا کہ یہ حدیث جعلی ہے۔
پہلی دلیل:
۔یہی حدیث ابوداؤدسے مختلف طریقوں سے نقل ہوئی ہے چنانچہ جزری شافعی (متوفی ۸۳۳ہجری)نے اس حدیث کو اپنی سندکے ساتھ خودابوداؤد سے نقل کیا ہے اوراس حدیث کو سندکے ساتھ خودابوداؤد سے نقل کیا ہے اوراس میں حضرت امام حسن علیہ السلام کی بجائے حضرت امام حسین کا نام لکھتے ہیں:۔
"صحیح یہ ہے کہ حضرت امام مہدی حسین ابن علی علیھما السلام کی اولادسے ہیں کیونکہ اس بات کی خود حضرت علی علیہ السلام نے وضاحت فرمائی ہی"۔
جیسا کہ شیخ عمربن حسن رقی نے مجھے یہ خبردی ہے انہوں نیابوالحسن بخاری سے ، اس عمربن محمدقزی سے اس ابوبدرکرخی سے اس بے ابوبکرخطیب سے ، اس نے ابوعمرہاشمہ سے اس نیابوعلی لولوئی سے اوراس نے حافظ ابوداودسے وہ لکھتے ہیں مجھے ہارون بن مغیرہ سے نقل کیا گیااس نے عمربن ابوقیس سے اس نے شعیب بن خالدسے اوراس نے ابواسحاق سے روایت کی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت امام حسین علیہ السلام کی طرف دیکھ کرفرمایا:۔
"ان ابنی هذا سید کما سماه النبی صلی الله علیه وآله وسلم ،وسیخرج من صلبه رجل یسمی باسم نبیکم ، یشبهه فی الخلق ،ولا یشبهه فی الخلق "
"میرا یہ بیٹاسیدہے جیساکہ پیغمبراکرم نے اس کانام رکھاہے اوراس کے صلب سے ایک مولودہوگا جوتمہارے نبی کا ہمنام ہوگا وہ ان کے خلق (اخلاق )میں مشابہ ہوگا نہ کہ خلقت میں "۔
پھر یہ جملہ ارشادفرمایاکہ وہ زمین کوعدل سے پرکردے گا۔
ابوداؤدنے اسے اپنی سنن میں اسی طرح روایت کیا ہے اوراس پرکوئی تبصرہ نہیں کیا(اسمی الماقب فی تھذیب اسنی المطالب ، علامہ جزری دمشقی شافعی :۱۶۵۔۱۶۸۔۶۱)ہم نے بعینہ اصلی الفاظ کونقل کیا ہے
مقدسی شافعی نے عقدالدررصفحہ۴۵باب اول پراسے ذکرکیاہے اس میں حضرت امام حسن علیہ السلام کانام ہے اوراس کی تحقیق کرنے والے نے حاشیے پرلکھا ہے کہ ایک دوسرے نسخے میں حضرت امام حسین علیہ السلام کانام ہے
اس نسخہ کی تائیدیوں ہوتی ہے کہ سیدصدرالدین نے اس نسخے سے نقل کیاہے کیونکہ انہوں نے عقد االدررسے حدیث نقل کی ہے اوراس میں حضرت امام حسین علیہ السلام کانام ہے (المہدی سید صدرالدین صدر:۶۸)
دوسری دلیل
حدیث منقطع ہے کیونکہ اسے حضرت علی علیہ السلام سے ابواسحاق سبعجی نے روایت کیا ہے اوراس کے متعلق ثابت نہیں ہے کہ اس نے حضرت علی علیہ اسلام سے ایک بھی حدیث سنی ہو جیسا کہ منزری نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہا ہے(مختصرسنن ابی منزری ۶:منزری ۶:۱۶۲۔۴۱۲۱)
کیونکہ امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت کے وقت اس کی عمرسات برس تھی کیونکہ ابن حجرکے قول کے مطابق خلافت عثمان کے ختم ہونے سے دوسال پہلے پیدا ہوئے تھا(تہذیب التہذیب ۸:۵۶۔۱۰۰)
تیسری دلیل
اس کی سند مجہول ہے کیونکہ داودکا کہنا ہے کہ مجھے ہارون بن مغیرہ سے نقل کیاگیا معلوم نہیں نقل کرنے والا کون ہے اوربالاتفاق مجہول حدیث ہراعتمادنہیں کیاجاسکتا۔
چھوتھی دلیل
مذکورہ حدیث کو اہل سنت بزرگ عالم دین ابوصالح سلیلی نے اپنی سندکے ساتھ حضرت امام موسی بن جعفر علیہ السلام سے انہوں نے اپنے باپ داداحضرت امام جعفرابن محمدصادق علیھما السلام سے ، انہوں نے اپنے جدحضرت علی ابن ابیطالب علیھما السلام سے روایت کیا ہے اوراس میں حضرت امام حسین علیہ السلام کانام ہے نہ حضرت امام حسن علیہ السلام کا(سید ابن طاوس کی التشریف بالنن :۲۸۵۔۴۱۳باب نمبر ۷۶،انہون نے اسے فتن سلیلی سے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے۔)
"لولم یبق من الدنیا الا یوم واحد ،لطول الله عزوجل ذلک الیوم حتی یبعث فیه رجلا من ولدی اسمه اسمی "
"دنیااگر کا ایک دن باقی ہو تواس دن کوبھی اللہ تعالی اس قدرطول دے گا کہ اس میں میری اولادمیں سے ایک مرد کو بھیجے گا جومیراہمنام ہوگا"۔
سلمان فارسی نے کھڑے ہوکردریافت کیا یارسول اللہ آپ کے کون سے بیٹے سے ؟
فرمایا :۔من ولدی هذا " میرے اس بیٹے سے اوراپنا ہاتھ حضرت امام حسین علیہ السلام پررکھا"
(ابن قیم نے المنارالنیف :۱۴۸۔۳۲۹ فصل نمبر۵۰ ،میں طبرانی کی کتاب الاوسط سے نقل کیاہے عقدالدرر :۴۵ باب اول(اوراس میں ہے کی اسے حافظ ابو نعین نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حالات میں ذکرکیا ہے )محب طبری کی ذخائز العقبی :۱۳۶(اوراس میں کہا ہے کہ گزشتہ سب حدیثو ں کو اس مقید پر حمل کیا جائے گا)فرائد السمطین ۲:۳۲۵۔۵۷۵باب ۶۱ابن حجر کی القول المختصر۷:۳۷ باب اول ،فرائد فوائد الفکر ۲:باب ۱، السیرة الحلبیہ۱: ۱۹۳،ینابیع المودة ۳:۶۳باب نمبر ۹۴
اسی طرح کی مندرجہ ذیل کتابوں میں احادیث ہیں۔
خوارزمی حنفی کی مقتل الحسین ۱:۱۹۶،فرائد السمطین ۲:۳۱۰۔ ۳۱۵ الاحادیث :۵۶۱،ینابیع المودة ۳:۱۷۰۔۲۱۲ باب نمبر ۹۳، ۹۴
شیعہ کتب میں ملالحظہ ہوں۔
کشف الغمہ۳:۲۵۹، کشف الیقین:۱۱۷، اثبات الھداة ۳:۶۱۷۔۱۷۴باب ۳۲،حلیةالابرار۲:۷۰۱۔۵۴ باب نمبر۴۱،غایہ المرام:۶۹۴۔۱۷ باب۱۴۱ اور "منتخب الاثر"میں اس سلسلے میں طرفین کی ذکرکردہ بہت ساری احادیث نقل کی ہیں
چھٹی دلیل
ابو داؤدکی حدیث میں کتابت کی غلطی کا احتمال بھی بعید نہیں ہے کہ حسین کی جگہ حسن لکھ دیاہوکیونکہ اس کی نقل میں اختلاف ہے رہا یہ احتمال کہ حسن کی جگہ حسین ہو گیاہوتویہ خبرواحد ہے جو متواتر کا مقابلہ نہیں کرسکتی جیسا کہ اس کی تفصیل ہم ذکرکریں گے۔
ساتویں دلیل
گزشتہ وجوہات کی بنا پریہ احتمال قوی ہے کہ یہ حدیث جعلی ہواس احتمال کی تائیداس بات سے ہوتی ہے کہ حسنین اوران کے پیروکاروں اورمددگاروں کاخیال یہ ہے کہ محمد بن عبداللہ بن الحسن المثنی بن امام حسین علیہ السلام ہی امام مہدی ہیں کہ جنہیں ۱۴۵ئھ میں منصورعباسی کے زمانے میں قتل کردیاگیا۔
جیساکہ اس کے بعد عباسیوں اورا ن کے پیروکاروں نے کہا کہ انہوں نے عباسی خلیفہ محمد بن عبداللہ منصور جس کالقب مہدی تھا کے امام مہدی ہونے کا دعوی کیااوراس کے ذریعے وہ اپنے بڑے بڑے سیاسی مقاصدمیں پہنچنا چاہتے تھے جن تک اس مختصرراستے کے بغیرپہنچنا ممکن نہیں تھا۔
مذکورہ حدیث ان حدیثوں کے ساتھ تعارض نہیں رکھتی جو دلالت کرتی ہیں
کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام حضرت امام حسین کی اولادمیں سے ہیں
گزشتہ سب اشکالات سے اگر صرف نظرکرکے ہم اس حدیث کو صحیح مان لیں توبھی ان احادیث کے ساتھ تضادنہیں رکھتی جوواضح طورپرکہتی ہیں کہ حضرت امام مہدی منتظرعلیہ السلا م حضرت امام حسین علیہ السلام کی اولادمیں سے ہیں اوران کے درمیان جمع کرناممکن ہے۔
ا س طرح کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام باپ کی طرف سے حسینی اورماں کی طرف سے حسنی ہوں کیونکہ چوتھے امام زین العابدین کی بیوی اورحضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی ماں حسن مجتبٰی علیہ السلام کی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیھا ہیں۔
پس حضرت امام باقرعلیہ السلام باپ کیطرف سے حسینی اورماں کی طرف سے حسنی ہیں تودرحقیقت آپ کی اولا دونوں نواسوں کی اولادسے ہوئی۔
اسی جمع کی قرآن مجید بھی تائیدکرتا ہے چنانچہ ارشاد ہے۔
"( ووهبنا له اسحاق کلا هدینا ونوحا هدینا من قبل ومن زریته داودو سلیمان ) ۔۔۔( وعیسیٰ والیاس کل من الصالحین ) "انعام ۶:۸۴۔۸۰
اورہم نے ابراہیم کو اسحاق ویعقوب عطا کیے ہم نے سب کی ہدایت کی اوران سے پہلے نوح کی (بھی )ہم نے ہدایت کی اوران ہی کی اولادسے داؤد سلیمان ۔۔۔۔اورعیسیٰ والیاس (سب کی ہدایت کی)یہ سب خدا کے نیک بندوں میں سے ہیں۔
اس آیت میں جناب عیسیٰ کو جناب مریم کی وجہ سے انبیاء کی اولادشمارکیاگیاہے لہذااگرحضرت امام محمدباقر علیہ السلام کی اولادکوماں کی وجہ سے حضرت امام حسن علیہ السلام کی اولادشمارکرلیاجائے تواس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔
یہ اس صورت میں ہے کہ داودکی حدیث مان لیں ورنہ مذکورہ ادلہ کی روشنی میں حدیث صحیح ہی نہیں ہے
یہاں تک یہ بات واضح ہوگئی کہ دوسر احتمال (یعنی حضرت امام مہدی علیہ السلام کا حضرت امام حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہونا)صرف احتمال نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے چاہے ہم حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حضرت امام حسن علیہ السلام کی اولادسے ہونے والی حدیث کوصحیح سمجھیں یانہ ۔
اگر صحیح سمجھیں تو یہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حضرت امام حسین کی اولادسے ہونے والی احادیت کی مویدبن جائے گی۔
اوراگر اس حدیث کو صحیح نہ مانیں جیسا کہ ہم سات دلیلوں سے ثابت کرچکے ہیں پھرحقیقت کو جاننے کے لیے کسی اورچیزکی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم بتاچکے ہیں کہ دونوں احتمال باطل نہیں ہوسکتے لہذا ایک کا بطلان خودبخود دوسرے احتمال کو ثابت کردیتا ہے۔
کیونکہ یہ تویقینی ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام جناب زھراسلام اللہ علیھا کی اولادسے ہیں۔
وہ حدیثیں جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے امام حسین علیہ السلام کی اولادہونے کے ساتھ تضادرکھتی ہیں
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سلسلہ نسب کے بارے میں جوبحث کی ہے اس سے واضح ہوگیاہے کہ آپ امام حسین علیہ السلام کی اولادہیں۔
اورشیعوں کے اس عقیدے کو کہ حضرت امام مہدی امام حسین کے نویں فرزندہیں اورآپ پیداہوچکے ہیں اورآپ کے والدگرامی امام حسن عسکری ہیں ثابت کرنے والی احادیث کوذکرکرنے سے پہلت کچھ ان روایات کے بارے میں بحث کرنا ضروری ہے جوان کے معارض ہیں۔
یہ اہل سنت کی وہ روایات ہیں جو حضرت امام مہدی کے والد کا نام عبداللہ بتاتی ہیں اس وجہ سے بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ مہدی عبداللہ کافرزندمحمدہے جو ابھی تک پیدانہیں ہوااورآخری زمانے میں ااپنے ظہورسے کچھ عرصہ قبل پیداہوگا۔
اورچونکہ تواترسے یہ ثابت ہے کہ مہدی ایک ہی ہے لہذافریقین میں سے ایک یقینافرضی مہدی کا منتظرہے فرزندہرفریق کواپنے نظرئیے کی ادلہ میں غور کرناچاہیے مبادہ وہ صحیح نہ ہوں اوردوسرے کی ادلہ میں بھی غورکرنا چاہیے مبادہ وہ صحیح ہوں۔
یہ کام اگرچہ مشکل ہے لیکن اس پر عمل کرنے والا یقینا منزل تک پہنچ جائے گا اوریہ جاننے کے لیے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے والد کانام عبداللہ ہے یا حسن چندباتیں قابل ذکرہیں۔
احادیث :"اسم ابیہ اسم ابی (عبداللہ )
ان احادیث کی تحقیق سے پہلے اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ بعض شیعہ علماء نے ان احادیث کو دیانت داری کی وجہ سے صرف نقل کیا ہے ان پران کا اعتقاد نہیں ہے کیونکہ یہ ان کے بنیادی عقائد کے خلاف ہیں یا اس امیدپرکہ ان کی تاوئل کرکے انہیں اپنے بنیادی عقائد سیکار سازبنایا جاسکتا ہے اور یا بعینہ نقل کرکے مسلمانوں کو ان پرجرح و بحث کی دعوت دی ہے وہ احادیث مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔ ابن ابی شیبہ،طبرانی اورحاکم سب نے عاصم بن ابی نجودسے اس نے زربن حبیش سے اس نے عبداللہ بن مسعود سے اورانہوں نے پیغمبراکرم سے روایت کی ہے
کہ آپ نے فرمایا :۔
"لا تذهب الدنیا حتی یبعث الله رجلا یواطی اسمه اسمی‘واسم ابیه اسم ابی "
"دنیا اسوقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک اللہ کے ایسے بندے کو نہ بھیج دے جومیراہمنام ہوگا اوراس کا والد میرے والد کے ہمنام ہوگا"(ابن ابی شیبہ کی المصنف۱۵:۱۹۸۔۱۹۴۹۳‘طبرانی کی المعجم الکبیر ۱۰: ۱۶۳۔۱۰۶۱۳،اور۱۰:۱۶۶۔ ۱۰۲۲۲، مستدرک حاکم ۴:۴۴۶، شیعوں میں سے اسے قتل کیاہے مجلسی نے بحارالانوار میں ۵۱:۸۶۔۲۱، اردبیلی کی کشف الغمہ سے ۳:۲۶۱،اوراردبیلی نے اسے ابو نعیم کی کتاب الاربعین سے نقل کیا ہے۔)
۲۔ ابو عمر ودانی اوعرخطیب بغدادی دونوں نے عاصم بن ابی نجودسے اس نے زربن حبیش سے اس نے عبداللہ بن مسعود سے اورانہوں نے حضرت پیغمبر اسلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:۔
"لا تقوم الساعة حتی یملک الناس رجل من اهل بیتی ،یواطی اسمه اسمی واسم ابیه اسم ابی "
اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک میرے اہل بیت کاایک شخص لوگوں کا حاکم نہ بن جائے جو میرا ہمنام ہوگااوراس کا باپ میرے باپ کا ہمنام ہوگا"(سنن ابوعمر ودانی :۹۴۔۹۵ ،تاریخ بغدارا:۳۷۰،اوراس کی روایت کوکسی شیعہ نے نقل نہیں کیا ہے۔)
۳۔ نعیم بن حماد،خطیب اورا بن حجر سب نے عاصم سے اوراس نے زرسے اوراس نے ابن مسعودسے اورانہوں نے پیغمبر سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:المهدی یواطی اسمه اسمی واسم ابیه اسم ابی "
"مہدی میراہمنام ہے اوراس کا والدمیرے والدکاہم نام ہے"(تاریخ بغداد ۵:۳۹۱، نعیم بن حماد کی کتاب الفتن ۱:۳۶۷ ۔۱۰۷۶،۱۰۷۷، اس میں ابن حمادکابیان ہے "میں نے یہ حدیث کئی دفعہ سنی ہے اوراس میں ان کے والدکانام نہیں تھا" کنزالعمال ۱۴:۳۸۶۷۸،پرابن عسا کرسے نقل کیا ہے اورسیدابن طاوس نے اسے التشریف بالنن :۱۵۶۔۱۹۶۔۱۹۷ باب ۱۶۳، میں ابن حمادکی الفتن سے نقل کیاہے اورا بن حجرنے اسے القول المختصرمیں بطورمرسل نقل کیا ہے:۴۰۔۴)
۴۔ نعیم بن حمادنے اپنی سندکے ساتھ ابوالطفیل سے نقل کیا ہے کہ پیغمبراکرم نے فرمایا:۔
المهدی اسمه اسمی واسم ابیه اسم ابی "
"مہدی کا وہی نام ہے اوراس کے باپ کا وہی نام ہے جومیرے باپ کانام ہے(نعیم بن حمادکی الفتن ۱:۳۶۷ ۔۱۰۸۰ اوراسی سے سیدابن طاوس نے التشریف بالنن :۲۵۷۔ ۲۰۰ پرنقل کیا ہے)
اس تعارض کی حقیقت اور اس کی علمی حیثیت
یہی وہ احادیث ہیں کہ جنہوں نے بعض لوگوں کے لئے محمدبن عبداللہ کومہدی آخرالزمان ماننے کا جوازفراہم کیا۔
لیکن یہ ان کے لیے دلیل نہیں بن سکتیں کیونکہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ پہلی تینوں روایات عاصم بن ابوالبخود کے سلسلے سے ابن مسعودتک پہنچتی ہیں اوراس سلسلے کی حقیقت عنقریب واضح ہو جائے گی۔
رہی چوتھی حدیث تواس کی سند بالا تفاق ضعیف ہے کیونکہ اس کی سندمیں رشدین بن سعدمھری ہے کہ جس کے ضعیف ہونے پر اہل سنت کے علماء کااتفاق ہے۔
چنانچہ رشدین کے متعلق احمد بن حنبل سے منقول ہے ۔
وہ پروا نہیں کرتاتھاکہ کس سے روایت نقل کررہا ہے "۔اورحرب بن اسماعیل کا کہنا ہے کہ :۔
"میں نے اس کے متعلق احمدبن حنبل سے سوال کیا توانہوں نے اسے ضیعف قراردیا"۔
یحیی بن معین سے منقول ہے کہ اس کی حدیث لکھی نہیں جاتی ابوذرعہ سے منقول ہے کہ یہ ضعیف ہے اورحاتم کا کہنا ہے کہ اس کی حدیچ قابل قبول نہیں ہے۔
جوزجانی کا بیان ہے کہ اس کے ہاں بہت ساری معضل اورنا قابل قبول روایات ہیں اورنسائی کا کہنا ہے اسکی احادیث قابل قبول نہیں ہیں اوروہ لکھی نہیں جاتی تھیں خلاصہ میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے اسے موثق قراردیاہو۔
ہاں فقط ھیثم بن ناجة نے احمدبن حنبل کی موجودگی میں اسے موثق قراردیاہے تواحمدہنسنے لگا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے ضعیف ہونے پرسب کااتفاق ہے (تہذیب الکمال ۹:۱۹۱ ۔۱۹۱۱ اورتہذیب التھذیب ۳:۲۴۰ ان دونو ں کتابوں میں رشد ین ابی رشدین کے بارے میں سب کچھ موجودہے)
لہذا اتنے اہم مسئلہ کے متعلق رشدین ابن رشدین جیسے غیرمعتبرشخص کی بات نہیں مانی جاسکتی۔
اوررہا مسئلہ پہلی تین احادیث کا تووہ بھی کسی طرح سے دلیل نہیں بن سکتیں کیونکہ ان کی عبارت "اسم ابیہ اسم ابی"کو کسی بڑے محدث اورحافظ نے روایت نہیں کیا بلکہ ان سے فقط یہ عبارت اسمہ اسمی اس کا نام میرانام ہے ثابت ہے کہ جیسا کہ ہم عنقریب اس کودلیل سے ثابت کریں گے ۔
اس کے علاوہ بہت سارے علماء اہل سنت نے عاصم بن ابی النجودکے سلسلہ روایت میں تحقیق کرکے وضاحت کی ہے کہ اس میں یہ اضافہ ہے اس کی تفصیل آگے آئے گی
نیز ان تینوں حدیثوں کی سندابن مسعود تک پہنچتی ہے اورخود ابن مسعودسے اسمہ اسمی وہ میراہمنام ہوگامروی ہے جیسا کہ مسند احمد میں کئی مقامات پریہ عبارت موجود ہے(مسنداحمد۱:۳۷۶۔۳۷۷۔۴۳۰۔۴۴۸)
اسی طرح ترمذی نے بھی اس حدیث کواس اضافے کے بغیرروایت کیاہے اورساتھ ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام ابوسعیدخدری ام سلمہ ابوھریرہ سے "اسمه اسمی "(وہ میرا ہمنام ہوگا)مروی ہے۔
پھراسی عبارت کیساتھ ابوسعیدسے حدیث کو روایت کرنے کے بعدکہتاہے اس باب میں حضرت علی ابوسعید خرری ام سلمہ اورابوھریرہ سے بھی روایات ہیں اوریہ حدیث ھسن صحیح ہے(سنن ترمذی ۴:۵۰۵۔۲۲۳۰)
اکثر حفاظ نے ایسا ہی نقل کیا ہے مثال کے طورہے طبرانی نے اسی حدیث کوخودابن مسعودسے کئی دوسرے سلسلوں سے روایت کیاہے کہ جن کی عبارت "اسمہ اسمی "(میرا ہمنام )ہے اس کی المعجم الکبیرکی مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
:۱۰۲۰۴۔۱۰۲۱۵۔۱۰۲۱۶۔۱۰۲۱۷۔۱۰۲۱۸۔۱۰۲۱۹۔۱۰۲۲۰۔۱۰۲۲۱۔۱۰۲۲۳۔۱۰۲۲۵۔۱۰۲۲۶۔۱۰۲۲۷۔۱۰۲۲۹۔۱۰۲۳۰۔
اسی طرح حاکم نے مستدرک میں اس حدیث کوابن مسعودسے فقط ان الفاظ کے ساتھ روایت کیاہے "اسمه اسمی "ا سکا نام میرا نام ہے "اس کے بعدلکھتے ہیں "یہ حدیث بخاری اورمسلم کے معیارکے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ذکرنہیں کیا"(مستدرک حاکم ۴:۴۴۲)
ذھبی نے بھی اس بات میں حاکم کی پیروی کی ہے اسی طرح بغوی نے بھی اس حدیث کوابن مسعودسے اس اضافے کے بغیرروایت کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے(مصباح السنة :۴۹۲۔۴۲۱۰)
مقدسی شافعی نے واضح طورپرلکھا ہے کہ اس اضافے کو آئمہ حدیث نے روایت نہیں کیا اوراس حدیث کواس اضافے کے بغیرابن مسعود سے ذکرکرنے کے بعدلکھا ہے کہ :۔
"آئمہ حدیث کی ایک جماعت نے اسے اپنی اپنی کتابوں میں ذکرکیاہے جیسے امام ابوعیسی ترمذی نے اپنی جامع میں امام ابوداود نے اپنی سنن میں اورحافظ ابوبکر بیہقی اورشیخ ابوعمرودانی نے"
لیکن سب نے اس اضافے کے بغیرنقل کیا ہے(عقدالدرر :۵۱باب نمبر ۲)
یعنی اس میں یہ نہیں کہا کہ :۔اسم ابیه اسم ابی "
"اس کا باپ میرے باپ کاہمنام ہے"
پھراس کی تائیدکرنے والی دوسری بہت سے روایات ذکرکی ہیں اوراس کیساتھ ہی اشارہ کیا ہے کہ ان حفاظ :طبرانی ۔احمد حنبل ۔ترمذی ۔ابوداؤد ۔حافظ ابوداؤد اوربیہقی نے اسے عبداللہ بن مسعود عبداللہ بن عمراورحذیفہ سے روایت کیا ہے(عقدالدرر :۵۱۔۵۲ باب نمبر۲)
اوراس سے پہلے ہم بتا چکے ہیں کہ ترمذی نے ان روایات کو حضرت علی ابوسعیدخدری ۔ام سلمہ اورابوھریرہ سے روایت کیا ہے اورسب میں فقط یہی تھا"اسمه اسمی "وہ میرا ہمنام ہے"۔
اوریہ ممکن نہیں ہے کہ اتنے سارے حفاظ اس میں اس اضافے "اسم ابیه اسم ابی "
(اس کے باپ کا نام میرے باپ کانام ہے)کو حذف کریں یہ واقعا ابن مسعود سے مروی ہوتاتوکبھی بھی اس کے حذف ہونے پراس قدراتفاق نہ ہوتا بلکہ ان کے اس اضافے کو ساقط کرنے کاتصورہی محال ہے کیونکہ مخالفین کے لیے تویہ بہت بڑاہتھیار تھا۔
یہی واضح ہوجاتا ہے کہ یہ جملہ ابن مسعود کی عاصم سے روایت میں بڑھایاگیاہے اس کی وجہ یاتوحسنیوں اوران کے طرفداروں کی طرف سے محمد بن عبداللہ حسن المثنی کی مہدویت کی ترویج کرنا تھا یا عباسیوں اوران کے پیروکاروں کی طرف سے منصورعباسی کی مہدویت کوثابت کرناتھا
اس حدیث کے جعلی ہونے کی ،مزتائیداس بات سے ہوتی ہے کہ ان میں سے سے پہلے کی زبان چونکہ تتلی تھی اس لئے اس کے پیروکاابو ھریرہ کیطرف غلط نسبت دینے پرمجبرہوئے کاابو ھریرہ نے کہا "بیشک مہدی کا نام محمدبن عبداللہ ہے اوراس کی زبان تتلی ہے"(یہ جعلی حدیث معجم احادیث الامام المہدی میں مقاتل الطالبین سے نقل کی گئی ہے:۱۶۳۔۱۶۴)
چونکہ پہلی تینوں احادیث جوعاصم بن ابوالنجودنے زر بن حبیش سے اوراس نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہیں ان دوسری احادیث کے مخالف ہیں کہ جو علماء حدیث نے عاصم سے روایت کی ہیں
لہذا حافظ ابونعیم اصفہانی (متوفی ۴۳۰ہجری)نے اپنی کتاب "مناقب المہدی "میں عاصم کی اس حدیث کے طرق کی تحقیق کرکے انہیں اکتیس تک شمارکیاہے ورکسی ایک میں بھی یہ عبارت نہیں ہے
"اسم ابیه اسم ابی "
(اس کے والدکانام میرے والد کانام ہے)
بلکہ سب کے سب اسی جملہ پرمتفق ہیں کہ "اسمہ اسمی"وہ میراہمنام ہوگاان کی عبارت کوکنجی شافعی (متوفی ۶۳۸ہجری)نے نقل کرنے کے بعدکہاہے کہ
اس حدیث کو زرسے عاصم کے علاوہ عمرو بن حرة نے بھی روایت کیاہے ان سب نے یہی روایت کی ہے "اسمہ اسمی"اس کانام میرا نام ہے سوائے عبیداللہ بن موسی کے اس نے زائدہ سے اوراس نے عاصم سے روایت کی ہے "اسم ابیہ اسم ابی"اس کے والد کا نام میرے والدکانام ہے
لیکن کسی ذی شعور کی نظرمیں اس اضافے کی کوئی اہمیت نہیں ہوسکتی کیونکہ محدثین نے اسے قبول نہیں کیا۔
مزیدکہتا ہے اس سلسلے میں فیصلہ کن بات یہ ہے کہ امام احمدنے جواحادیث کے سلسلے میں انتہائی دقیق ہیں اس حدیث کو اپنی مسندمیں کئی مقامات پرنقل کیا ہے
اوران سب میں فقط یہ ہے "اسمہ اسمی"اسکانام میرانام ہے(البیان فی اخبار صاحب الزمان کنجی شافعی:۴۸۲۔
لہذا ان ساری باتوں سے ی معلوم ہوتا ہے کہ حدیث "اسم ابیه اسم ابی "اس کے والدکا نام میرے والدکانام ہے اس قددضعیف ہے کہ حضرت امام مہدی کے والد کے نام کے تعین میں اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
لہذا جوشخص محمدبن عبداللہ نامی مہدی کامنتظرہے وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق درحقیقت اس سراب کاانتظارکررہا ہے جسے پیاساپانی کاسمجھتاہے۔
اس سلسلے میں ازھر یونیورسٹی کے پروفیسرسعدمحمدحسن واضح طورپرکہتے ہیں یہ احادیث "اسم ابیه اسم ابی "اس کے والدکا نام میرے والدکا نام ہے جعلی ہے لیکن تعجب اس پرہے کہ انہوں نے ان جعلی احادیث کوشیعوں کی طرف منسوب کیاجاتاہے تاکہ اس کے ذریعے اپنے نقطہ نظرکی تائیدکی جاسکیں (المہدیة فی الاسلام استادسعدمحمد حسن:۶۹)
پس نسب حضرت امام مہدی حضرت امام حسین کی اولادمیں سے ہیں کیونکہ باقی اس کے خلاف سب احادیث ضعیف ہیں اورکوئی قرینہ ان کی صحت کی تائیدنہیں کرتا بلکہ اس کے برخلاف سارے قرائن ان کے جعلی ہونے کوثابت کرتے ہیں اورمتواتر روایات اسی کی تائیدکرتی ہیں
حضرت امام مہدی کے حضرت امام حسین کی اولادسےہونے کی تائیدکرنے والی احادیث
شیعوں کی کتابوں میں کثیرتعدادمیں ایسی روایات موجودہیں کہ جن میں بارہ اماموں کے نام ذکرکیے گئے ہیں اوران کی ابتداء حضرت علی سے اوران کی انتہا حضرت امام مہدی پرہوتی ہے نیزایسی احادیث کہ جن میں پہلے امام نے بعدوالے امام کو معین کیا ہے
خوداہل سنت کی صحاح میں ایسی متعدد روایات ہیں جو آئمہ کی تعداد بیان کرتی ہیں اور ان کی مناقب وغیرہ کی کتابوں میں ایسی احادیث ہیں جو ان کے نام بھی بتاتی ہیں۔
نیز کئی ایسی احادیث ہیں جن کی صحت پراتفاق ہے اوروہ اس بات کوبیان کرتی ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اس وقت تک زندہ ہیں جب تک دنیا میں دوانسان ہیں اوریہ اس صورت میں ہی ہوسکتاہے کہ جب حضرت امام مہدی حضرت امام حسین کے نویں فرزند ہوں یہاں ہم ان میں سے صر ف ان احادیث کو ذکر کریں گے جنکے ذریعے فریقین کی کتابوں میں استدلال کیاگیاہے۔
حدیث ثقلین
اس میں شک نہیں کہ جب پیغمبراسلام کا انتقال ہو تواس وقت تک آپ کی احادیث کی مکمل طورپرتدوین نہیں ہوئی تھی جبکہ آپ نے قیامت تک باقی رہنے والی اپنی رسالت میں کوئی کوتاہی نہیں کی تھی۔
نیزاپنی امت پرشفیق اورمہربان ہونے کی وجہ سے اسے شتربے مہارکی طرح نہیں چھوڑدیاتھاتوپھرکس طرح انہیں تنہاقرآن کے سپردکردیتے کہ جس میں محکم ،متشابہ ،مجمل ومفصل اورناسخ ومنسوخ آیتیں موجود ہیں۔
اس کے علادہ اس کی آیا ت میں کئی کئی احتمالات پائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سارے اسلامی فرقے اورمذاہب اپنی اپنی متضادآرا کوثابت کرنے کے لیے انہیں دلیل کے طورپرپیش کرتے ہیں
بالخصوص اس تناظرمیں کہ آپ کو علم تھا کہ جب آپ کی زندگی میں آپ پرجھوٹ بولا گیاتوپھرآپ کی وفات کے بعدکیاہوگا
اس کے ثبوت میں حضرت کی یہ حدیث ہے جسے عل، درایت کی کتابوں میں تواترلفظی کی مثال کے طور پر پیش کیاجاتاہے کہ آپ نے فرمایا:۔
"من کذب علی متعمد افلیتبوامقعده من النار "
لہذا معقول نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم اپنی شریعت کودوسرے لوگوں کے اجتہادکے رحم وکرم پرچھوڑجائیں اوراس کے لیے کوئی ایسا راہمنا اورجامع اصول معین نہ کریں جوپورے قرآن کا حقیقی علم رکھتا ہواورسنت کواس کی پوری تفاصیل کے ساتھ جانتاہو۔
پس رسالت کو بچانے اس کی حفاظت کرنے ،اسکی راہ کودوام بخشنے اورتمام عالم بشریت تک پہنچانے کے لیے ایک ہدایت گراورراہنما کاہونا بہت ضروری ہے یہیں سے حدیث ثقلین (قرآن وعترت )اور امت کے دین حق حاصل کرنے کے لیے ان کی طرف رجوع کرنے کی اہمیت واضح ہو
جاتی ہے۔
نیزواضح ہوجاتا ہے کہ آنحضرت غدیرخم جیسے مختلف مواقع اورمقامات پراورآخرمیں اپنی بیماری کی حالت کیوں اس پرزوردیتے رہے زیدبن اسلم پیغمبر سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:۔
"کا ننی قد دعیت فاجیب ،انی تارک فیکم الثقلین احد هما اکبرمن الآخر:کتاب الله،وعترتی اهل بیتی فانظرواکیف تخلفونی فیهما ،فانهمالن یفتر قا حتی یردا علی العوض ،ان الله مولایی ،ولیی کل مومنمن کنت مولاه فعلی مولاه اللهم وال من والاه وعار من عاداه "
"گویا مجھے نداآچکی ہے اورمیں نے اس پرلبیک کہہ دیا ہے میں تم میں دوگراں قدرچیزیں چھوڑکے جارہاہوں ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہیں۔اللہ کی کتاب اورمیری عترت اھل بیت دیکھنا میرے بعدتم ان دوکے بارے میں کیا روش اپناوگے یہ آپس میں ہرگزجدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثرپرمیرے پاس پہنچ جائیں گی۔
بیشک اللہ میرامولیٰ ہے اورمیں ہرمومن کا مولیٰ ہوں اورجس کا میں مولاہوں اسکے علی مولی ٰ ہیں اے اللہ اس کو دوست رکھ جوعلی کودوست رکھے اوراس کودشمن رکھ جو علی کودشمن رکھے"(مستدرک حاکم ۳:۱۰۹۔)
ابوسعید خدری پیغمبراکرم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:۔
"انی تارک فیکم الثقلین ما ان تمسکتم به لن تضلو ابعدی ،احدهما اعظم من الآخر:کتاب الله حبل ممدود من السماء الارض ،وعترتی اهل بیتی ،واهل لن یفترقا حتی یردا علی العوض ،فانظرواکیف تخلفونی فیهما "
"میں تم میں چھوڑکے جارہا ہوں جب تک تم اس سے تمسک رکھوگے میرے بعدہرگزگمراہ نہیں ہوگے ان میں سے ایک دوسری سے زیادہ عظیم ہے اللہ کی کتاب جو آسمان سے زمین تک درازہی ہے اورمیری عترت اھل بیت کہ دودونوں حوض کوثرپرمیرے پاس آنے تک آپس میں ہرگزجدانہیں ہوں گے پس دیکھنامیرے بعدتم ان دوکے بارے میں کیا روش اپناتے ہو(سنن ترمذی ۵:۶۶۲۔۳۷۸۶، اورحدیث ثقلین تیس سے زیادہ صحابہ سے مروی ہے اوربعدوالی میں اس کے راوی سینکڑوں کی تعدادمیں ہیں)
چنانچہ کبھی اہل بیت کو کشتی نجات کہا کبھی امت کے لیے امان اورکبھی باب حطہ سے تعبیرکیا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ صحابہ کو پیغمبر سے سوال کرنے کی ضرورت نہیں پڑی کہ اہل بیت سے مراد کون لوگ ہیں کیونکہ انہوں نے دیکھا تھا کہ مباہلہ میں صرف وہی افراد آپ کے ہمراہ تھے جو اہل کساتھے اورآپ فرما رہے تھے:
"اللهم هو ء اهل بیتی " "خدایا یہ میرے اھل بیت ہیں "اورصحابہ اس کلام کی خصوصیات کوسب سے زیادہ جانتے تھے ۔
اوراس میں جو حصراوراختصاص ہے اس سے وہ اچھی طرح واقف تھے اورابن عباس کا کہنا ہے کہ نوماہ تک پیغمبر ہر صبح جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا کے دروازے پر کھڑے ہوکراس آیت کی تلاوت کرتے تھے۔(سید علی حسینی میلانی کی کتاب "حدیث الثقلین تواترہ فقہہ ")
( انمایریدالله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهرکم تطهیرا ) (الاحذب ۳۳:۳۳)پیغمبر اسلام کی در فاطمہ سلام اللہ علیھا پر کھڑے ہوکرآیت کریمہ کی تلاوت کرنے کے واقعے کے لئے ملاحظہ ہوطبری ۶:۲۲
اورپیغمبراکرم کا یہ عمل لوگوں کے اہل بیت علیھم السلام کو پہچاننے کے لیے کافی تھا
لہذا پیغمبر اسلام سے سوال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ امت قرآن کے ہمراہ کن لوگوں کے ساتھ تسمک کرکے گمراہی سے بچ سکتی ہے
اورامت (اورصحابہ)کو ان میں صرف پہلے شخص کوجاننے کی ضرورت تھی تاکہ پیغمبرکے بعدوہ دینی امورمیں اس کیطرف رجوع کریں اوروہ ان کوگمراہی سے بچا سکے۔پھروہ ہے کہ اپنے بعدایک شخص کومعین کرے جوامت کوگمراہیوں سے بچانے والا ہو اور یونہی اس کاسلسلہ چلتارہے یہاں رک کہ امر کو گمراہی سے بچانے والا آخری محافظ قرآن کے ہمراہ حوض کوثرپیغمبرکے پاس پہنچ جائے ۔
اور جب واضح ہے کہ حضرت علی بے شمار حدیثوں کی رو سے پیغمبراکرم کی طرف سے معین کیے گئے ہیں کہ ان میں سے ایک یہی حدیث ثقلین ہے توپیغمبر کے لیے ضروری نہیں تھا کہ ہرزمانے میں امت کوگمراہی سے بچانے والے ک نام لیں یہ مصلحت کاتقاضاہو
لحاظ ہرزمانے کے امام کی معرفت کا معیا ریاتو یہ ہے کہ سارے اماموں کوایک ہی دفعہ معین کردیا جائے یایہ کہ امام بعدوالے کو معین کرے اوروہ ا پنے بعد والے کو یہی وہ طبعی روش ہے جسے انبیاء اوراوصیا نے اپنایاتھا اورابتداء سے لے کرآج تک اس سے سبھی واقف ہیں۔
اہلبیت کی ماام پرطرفین سے بہت زیادہ حدیثیں ہیں اوراگرتاریخ کا مطالعہ کیاجائے تومعلوم ہوجائے گا کہ آئمہ علیھم السلام نے حکومت وقت کے سامنے اپنی امامت کا دعوی کیااوراپنے آپ کوکوامام قائدبارکرایااورآپ کے لاکھوں پیروکارآپ کوامام وقائدتسلیم کرتے تھے۔
اورہر امام اپنے پیروکار کو اپنے بعد والے امام کا نام بتارہاتھا اسی وجہ سے وہ ہمیشہ حکومت کی قیدوبند کی مصیبتیں جھیلتے رہے اورحکام کے ہاتھوں کبھی زہر سے اورکبھی میدان جنگ میں شہید کئے گئے۔
اوراگرایک امام نے اپنے بعدکسی امام کومعین نہ کیاجبکہ حدیث کی روسے معین کرناضروری تھاتواس کا مطلب یہ ہوگاکہ یہ امام ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قرآن کے ساتھ رہے گا کیونکہ یہ حدیث ہرگزایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثرپرمیرے پاس پہنچ جائیں گے
واضح طورپردلالت کررہی ہے کہ ہرزمانے میں قرآن کے ساتھ عترت میں سے ایک امام ہوگااسی لئے ابن حجرکانظریہ ہے کہ جواحادیث اہل بیت کیساتھ تمسک کرنے کا حکم دیتی ہیں ان میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قیامت تک کوئی نہ کوئی فردہوگاجواسی تمسک کا اسی طرح اہل ہو گاجس طرح قرآن ہے۔
اس لیے وہ اہل زمین کے لیے امان ہیں اوریہ حدیث بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ میری امت کی ہرقوم میں میری اہلبیت کے عادل لوگ ہیں(صواعق محرقہ :۱۴۹)
حدیث:من مات ولم یعرف امام زمانہ
"جوشخص مرجائے اوراپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے"
یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ شیعہ سنی دونوں فرقوں کی اہم کتابوں میں موجود ہے اورا ن سب کی بازگشت ایک معنی اور ایک مقصد کی طرف ہے
اس کی صحت کے لیے کافی ہے کہ اسے اہل سنت میں سے بخاری اورمسلم نے(صحیح بخاری ۵:۱۳ باب الفتن ،صحیح مسلم ۶:۲۱۔۲۲۔۱۸۴۹
)اورشیعوں میں سے کلینی ،صدوق ان کے والد ، حمیری اورصفار نے روایت کیا ہے(اصول کافی ۱:۳۰۳۔۵،۱:۳۰۸۔۱،۲۔۳۷۸۔۲روضہ کافی ۸:۱۲۹۔۱۲۳، کمال الدین ۲:۴۱۲۔۴۱۳ ۔و۱۰،و۱۱،و۱۲،و۱۵)باب ۳۹، الامامة والبتصرة :۲۱۹۔۶۹،و۷۰و۷۱،قریب الاسناد:۳۵۱۔۱۲۶۰بصائر الدرجات :۲۵۹و۵۰۹و۵۱۰)
اوربہت سارے علماء نے اسے اتنے زیادہ طرق کے ساتھ ذکر کیا ہے جن کا شمار کرنا ممکن نہیں ہے(مسند احمد ۲:۸۳ ،۳:۴۴۶،۴:۹۶م ،مسند ابوداؤد طیالسی :۲۵۹طبرانی کی معجم کبیر۱۰:۳۵۰۔۱۰۶۸۷،مستدرک حاکم ۱:۷۷، حلیة الاولیاء ۳:۲۲۴، الکنی والاسماء ۲:۳، سنن بیہقی ۸:۱۵۲،۱۵۷، جامع الاصول ۴:۷۰نووی کی شرح مسلم ۱۲:۴۴۰ ،ذھبی کی تلخیص المستدرک ۱:۷۷و۷۷ا، ھیثمی کی مجمع الزوائد ۵:۲۱۸،۲۱۹،۲۱۳،۲۱۵،۳۱۲،تفسیر ابن کثیر ۱:۵۱۷، جیسا کہ کشی نے اس کو اپنے رجال :۲۳۵۔۴۲۸ میں سالم بن ابی حفصہ کے حالات میں ذکر کیاہے)
لہذاکو یہ اس کی سندمیں نقص نہیں کرسکتا اگرچہ ابن زھرہ نے یہ توہم کیا ہے کہ یہ روایت فقط کافی ہے(الامام الصادق ابوزھرہ :۱۹۴)
جبکہ بعیدنہیں ہے کہ یہ حدیث متواترہو اوراس میں کسی قسم کی تاویل کی گنجائش نہیں ہے اوروہ شخص یہ کہتاہے کہ امام جس کی معرفت کے مرنے والا جاہل کی موت مرتا ہے اس سے مراد بادشاہ اورحاکم ہے چاہئے ظالم اورفاسق ہی ہو !تواس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے دلیل سے یہ ثابت کرے کہ ظالم وفاسق کی معرفت دین کاجزہے
اورپھر یہ کہ عقلا ء کے لیے فاسق اورظالم کی معرفت کے فوائد ہیں کہ اگر اس کی معرفت کے بغیرمرجائے تووہ جاہلیت کی موت مرا
بہرحال حدیث واضح طور پر دلالت کرتی ہے کہ ہرزمانے میں امام حق موجود ہے اوریہ بات تب ہی صحیح ہوسکتی ہے جب ہم حضرت امام مہد ی کے کو تسلیم کریں جو اولاد فاطمہ سلام اللہ علیھا سے ہے جیسا کہ ہم ثابت کرچکے ہیں
حدیث :ان الارض لاتخلومن قائم لله بحجة
"زمین حجت خدا سے خالی نہیں ہوسکتی"
اس حدیث سے بھی طرفین نے استدلال کیا ہے اورانہوں نے اسے کئی طریقوں سے نقل کیا ہے
(اس حدیث کو اسکافی معتزلی نے المعیار والموازنہ میں ذکر کیا ہے :۸۱ابن قتیبہ نے عیون اخبار میں :۷،یعقوبی نے اپنی تاریخ میں ۲:۴۰۰، ابن عبدربہ نے العقد الفرید میں ۱:۲۶۵، ابو طالب مکی نے قوت القلوب فی معاملة المحبوب")میں ۱:۲۲۷، بیہقی نے المحاسن والمساوی میں :۴۰ خطیب نے اپنی تاریخ میں ۶:۴۷۹، اسحاق نخعی کے حالات میں ، خوارزمی حنفی نے مناقب میں :۱۳رازی نے مفاتیں الخیب میں ۲:۱۹۲، ابن ابی الحدید نے نہج البلاغہ کی شرح میں جیسا کہ آیا ہے ابن عبدالبر نے المختصر میں :۱۲تفازانی نے شرح مقاصد میں ۵:۲۴۱ابن حجر نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ۶:۳۸۵اورکلینی نے اسے کئی طرق کے ساتھ طرق کے ساتھ حضرت علی سے اصول کافی میں ذکر کیا ے ۱:۱۳۲۔۷،۱:۲۷۰،۳،۱۔۲۷۴،۳،صدوق نے کمال الدین میں بہت سارے طرق سے ۱:۲۸۷۔۴باب ۵۲
اور۲۸۹۱ ۔۲۹۴۔۲باب ۲۶ اور۱:۱۰۳۰۲ باب ۲۶)
اوراسے حضرت علی کے جلیل القدر صحابی کمیل بن زیاد نخفی نے آپ سے روایت کیا ہے جیسا کہ نہج البلاغہ میں ہے چنانچہ آپ ایک طویل کلام کے بعد فرماتے ہیں
"اللهم بلیٰ! لاتخلوالارض من قائم الله بحجة "
"اے خدایقینا ! زمین حجت خدا سے خالی نہیں ہوسکتی"
اورزمین کا حجت خدا سے خالی ہونا اس وقت ہو سکتا ہے جب حضرت امام مہدی پیدا ہو چکے ہوں اورابن ابی حدید نے اسے درک کر لیا تھا چنانچہ مذکورہ جملے کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں
"تاکہ زمانہ ایسے شخص سے خالی نہ ہوجائے جواللہ تعالی کی طرف سے لوگوں پرنگران اورمحافظ ہوتا ہے اورعین ممکن ہے کہ یہ (جملہ)مذہب شیعہ کے عقائد کو بیان کررہاہولیکن ہمارے علماء ابدال مراد لیتے ہیں"(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ۱۸:۳۵۱)
اورابن حجرعسقلانی نے بھی بھانپ لیا تھا کہ یہ حضرت امام مہدی کی طرف اشارہ ہے چنانچہ کہتے ہیں" آخری زمانہ میں اورقیامت کے نزدیک حضرت عیسی ٰ کا اس امت کے ایک فردکے پیچھے نماز پڑھنا اس بات کے صحیح ہونے پردلالت کرتاہے کہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں ہوسکتی(فتح الباری شرح صحیح بخاری ۶:۳۸۵)
نہج البلاغہ کی اس سے پہلی والی عبارت کودیکھ کریہ مطلب مزیدواضح ہوجاتا ہے فرماتے ہیں:۔
"یا کمیل بن زیاد،ان هذه القلوب اوعیة فخیرهااوعاها ،فاحفظ عنی مااقول لک ثلاثة : فعالم ربانی ،ومتعلم علی سبیل النجاة وهمج دعاع اتباع کل ناعق یمیلون مع کل ریح لم یستضیوا بنور العلم ولم یلجاوالی رکن وثیق "
"اے کمیل بن زیاد! بیشک دل برتنوں کی مانندہیں پس بہترین دل وہ ہے جوزیادہ حفاظت کرنے والا ہے پس جوکچھ بھی کہہ رہا ہوں اسے خوبی یاد کرلو!
لوگ تین قسم کے ہیں عالم ربانی ،اوروہ متعلم جو نجات کے راستے پرگامزن ہے اورتیسرے وہ لوگ جوہرآوازدینے والے کے پیچھے چل پڑتے ہیں اورہوا کے جھونکوں کے ساتھ مڑجاتے ہیں انہوں نے نورعلم سے روشنی حاصل نہیں کی اورکسی مضبوط پہاڑکی پناہ نہیں لی"
مزیدفرماتے ہیں:۔
اللهم بلیٰ لا تخلو الارض من قائم بحجة اما ظهر امشهورا، واما خائفا مغمورا، لئلا تبطل حجج الله و بیناته "
"خدایا ہاں ! زمین حجت خدا سے خالی نہیں ہوتی یا وہ ظاہراورمشہور ہے یاخوف زدہ اورگمنام ہے تاکہ اللہ تعالی کی واضح نشانیاں اوراحکام اورحجتیں معطل نہ ہوجائیں (نہج البلاغہ شرح شیخ محمد عبدہ ۴:۲۹۱۔۸۵،شرح ابن ابی الحدید ۱۸:۳۵۱)
اسی لیے حسین بن ابی علاء خفاف کی حدیث صحیح میں ہے کہتا ہے میں نے حضرت امام جعفر صادق سے کہاکیایہ ممکن ہے کہ زمین پرکوئی امام نہ ہوتوانہوں نے ارشاد فرمایا :۔ نہیں(اصول کافی ۱:۱۳۶۔ ۱ باب ان الارض لاتخلو عن حجة اوراس کی سند یوں ہے ہمارے کئی علماء نے احمد بن محمد عیسیٰ سے انہوں نے محمد بن ابی عمیر سے انہوں نے حسین بن ابوالعلاء سے اورانہوں نے حضرت امام جعفر صادق سے روایت کی ہے)
اوراگرحدیث ثقلین اورحدیث "من مات "اورحدیث الخلفاء اثناعشر"جس کا ذکرکے بعدمیں آئے گاکو مذکورہ بیان سے ملائیں تو معلوم ہوجائے گاکہ حضرت امام مہدی اگرواقعا پیدا نہیں ہوئے توحتما آپ سے پہلے والے امام زندہ ہوں گے لیکن کسی مسلمان کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اہل بیت علیھم السلام کے ان بارہ اماموں میں سے حضرت امام مہدی کے علاوہ کوئی اورامام زندہ ہے
بخاری نے اپنی سند کے ساتھ جابر بن سمرہ سے روایت کی ہے وہ کہتا ہے میں نے پیغمبر کو یہ فرماتے ہوئے سنا
یکون اثناعشر امیرا
بارہ امیر ہوں گے
پھر کوئی بات کہی جوسنائی نہ دی لیکن میرے والد نے مجھے بتایا کہ آپ نے فرمایاتھا:۔
"کلهم من قریش "
"وہ سب کے سب قریش میں سے ہوں گے"(صحیح بخاری ۴:۱۶۴، کتاب الا حکام باب الاستخلاف اورصدوق نے اسے جابر بن سمرہ سے کمال الدین ۱:۲۷۲۔۱۹میں اورخصال ۲:۴۶۹۔۴۷۵ میں ذکر کیا ہے)
اورصحیح مسلم میں ہے کہ :۔
"ولایزال الدین قائما حتی تقوم الساعة او یکون علیکم اثنا عشر خلیفه کلهم من قریش "
"قیامت تک دین قائم رہے گایابارہ خلفا ء آجائیں جو سب کے سب قریش سے ہوں گے"(صحیح مسلم ۲:۱۱۹ کتاب الامارہ باب الناس تبع لقریش میں اسے نو طرق سے ذکر کیا ہے)
اوراحمد نے اپنی مسند میں مسروق سے روایت کی ہے وہ کہتا ہے "ہم عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اوروہ قرآن پڑھ رہے تھے کہ انہیں ایک شخص نے کہا اے عبداللہ کیا تم لوگوں نے کبھی پیغمبر اسلام سے پوچھا تھا کہ اس امت کے کتنے خلیفے ہوں گے؟
انہوں نے کہا جب سے میں عراق میں آیا ہوں تجھ سے پہلے مجھ سے کسی نے یہ سوال نہیں کای پھر کہا ہا ہم نے پیغمبر سے سوال کیا تھا اورآپ نے فرمایا تھا
اثنی عشره کعدة نقبای بنی اسرائیل
"بنی اسرائیل کے سرداروں کی تعداد کے مطابق بارہ خلیفہ ہوں گے (مسند احمد ۵:۹۰،۹۳۔۹۷،۱۰۰ ،۱۰۶،۱۰۷اورصدوق نے اسے کمال الدین ۱:۲۷۰۔۱۶ میں ابن مسعود سے نقل کیا ہے)
ان احادیث سے مندرج ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں
۱۔ خلفاء کی تعداد بارہ سے زیادہ نہیں ہو گی اوروہ سب کے سب قریش سے ہوں گے اوریہ شیعہ عقیدے کے مطابق ہیں
بعض لوگ کہتے ہیں کہ آئمہ کو خلفاء نہیں کہا جاسکتا لیکن اس کا جواب بہت واضح ہے کیونکہ پیغمبر کی مراد امارت اورخلافت کے مستحق ہیں ۔
خدانخواستہ کبھی بھی آپ کی مراد معاویہ ،یزید اورمروان جیسے لوگ نہیں ہوسکتے کہ جو اپنی خواہشات کیمطابق امت مسلمہ کی تقدیر سے کھیلتے رہے۔
بلکہ خلیفہ سے مراد وہ ہے جسے یہ منصب خدا کی طرف سے ملے یہ اوربات ہے کہ دوسرے لوگوں حکومت پر قبضہ کرلیں
اسی لیے "عون المعبود فی شرح سنن ابی داود میں ہے"توربشتی کہتے ہیں کہ یہ حدیث اوراس جیسی دیگر احادیث کا حل یہ ہے کہ ان سے مراد عدل قائم کرنے والے خلفاء ہوں کیونکہ درحقیقت وہی خلیفہ کے نام کے مستحق ہیں۔
اورضروری نہیں ہے کہ حکومت بھی ان کے ہاتھ میں ہو اور بطور فرض اس سے مراد حکومت کے زمامدار لوگ ہیں توانہیں خلیفہ کہنا مجاز ہوگا۔
جیسا کہ مرقات میں بھی اسی بات کہی گئی ہے (عون المعبود ۱۱:۶۲۶، حدیث ۴۲۵۹کی شرح)
۲۔ نبی اسرائیل کے سرداروں کے ساتھ تشبیہ دینے کا مطلب بھی یہ ہے کہ مراد یہی بارہ ہوں جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے
( ولقد اخذ الله میثاق نبی اسرائیل وبعثنا منهم اثنا عشر نقینا)
اوراللہ تعالی نے بنی اسرائیل سے عہد وپیمان لیا اوران میں بارہ سردار معین کئے(مائدہ ۵:۱۲)
۳۔ یہ ممکن نہیں کہ بارہ میں سے کوئی بھی خلیفہ روئے زمین پر نہ ہوبلکہ قیامت تک ان میں سے ایک کا وجود ضروری ہے چنانچہ مسلم نے اپنی صحیح کے اسی باب میں ایک حدیث ذکر کی ہے جو اس بات کی تائید کرتی ہے
"لا یزال هذا الامرفی قریش مابقی من الناس اثنان "
"قریش میں یہ سلسلہ چلتا رہے گا اگرچہ دنیا میں دوشخص ہی باقی ہوں
اوریہ چیز بالکل شیعوں کے عقیدے کے مطابق ہے کہ بارہویں امام حضرت امام مہدی منتظر دوسرے زندہ لوگوں کی طرح زندہ ہیں اوروہ آخری زمانے میں ظاہر ہو کردنیا کو عدل وانصاف سے اس طرح پر کردیں گے جس طرح وہ ظلم وجور سے پر ہوچکی ہوگی۔
جیساکہ ااپ کی جد امجد حضرت محمد نے اس کے متعلق خوشخبری دی ہے اوریہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہے کہ اہل سنت کبھی بھی بارہ خلفاء کے ناموں پر متفق نہیں ہوسکے حتی کہ بعض کو مجبور ہو کر یزید بن معاویہ ،مروان ،عبدالمالک اوردوسروں کو خلفاء کی صفت میں داخل کردیا اوراس سلسلہ عبدالعزیز تک پہنچادیا تاکہ بارہ کا عد د پورا ہوسکے(ان کے اقوال معلوم کرنے کے لئے ملاحظہ ہو مقریزی کی کتاب "السلوک لمعرفةدول الملوک ۱:۱۳۔۱۵،حصہ اول، تفسیر ابن کثیر ۲:۳۴سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۱۲ ، کی تفسیر میں شرح العقیدہ الطعاویة ۲:۷۳۶، سنن ابی داؤد پر حافظ ابن قیم کی شرح ۱۱:۲۶۳،شرح حدیث۴۲۵۹ ، الحاوی الفتاوی ۲:۸۵)
لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ اس کا لازمہ یہ ہے کہ عمرابن عبدا لعزیز کے بعد سب زمانے خلیفہ سے خالی ہوں جبکہ حدیث یہ کہتی ہے کہ قیامت تک ان کے وجود کے صدقے میں قائم رہے گا۔
بیشک ان احادیث کا اگر یہ معنی نہیں ہے توپھر ان کا کوئی صحیح معنی ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ واضح ہے کہ ظاہری حکومت جن لوگوں کے ہاتھوں میں رہی ان کی تعداد ان سے کئی گنازیادہ ہے جو احادیث میں آئی ہے
نیزوہ سب کے سب ختم ہوچکے ہیں اورمسلمانوں کا اتفاق ہے کہ ان میں سے کسی پر نص بھی نہیں آئی وہ اموی ہوں یا عباسی۔چنانچہ قندوزی حنفی لکھتے ہیں کہ پیغمبراورحدیث ثقلین بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ پیغمبر اکرم کی مراد بارہ امام ہیں (ینا بیع المودة ۳:۱۰۵باب ۷۷"بعدی اثنا عشر خلیفہ"میرے بعد بارہ خلفا ہوں گے والی حدیث کی تحقیق)
یہ بات واضح ہے "یہ حدیث کے خلفاء بارہ ہوں گے بارہ اماموں کے تاریخی تسلسل سے پہلے کی ہے اورآئمہ کے دورکے مکمل ہونے سے پہلے یہ صحاح وغیرہ میں لکھی جاچکی تھی ۔پس یہ ایک محض خبر نہیں ہے بلکہ ایک ربانی حقیقت ہے جواس شخص کی زبان سے جاری ہوئی جو وحی الہی کے بغیربولتا نہیں تھا اس نے فرمایامیرے بعد بارہ خلیفے ہوں گے تاکہ یہ اس واقعی حقیقت کی گواہ ہو اوراس کی تصدیق کرے کہ جس کی ابتداامیرالمومنین حضرت علی سے ہوئی اورجس کی انتا حضرت امام مہدی پر ہو گی اوراس حدیث کی یہی معقول تفسیر ہو سکتی ہے(بحث حول المہدی شہید محمد باقر الصدر :۵۴۔۵۵)
اوراس حدیث کو غیب کی سچی خبر ہونے کی بنا پر نبوت کی دلیل بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔
رہا حدیث کو ان عباسی اوراموی خلفاء پر منطبق کرنا کہ جن کی منافقت جرائم اورقتل وغارفت کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہے بلکہ پیغمبر اسلام کی شان کے بھی خلاف ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے عمر ابن عبدالعزیز کے زمانے تک دین کے باقی رہنے کی خبر دی ہے نہ قیامت تک۔
دلیل کہ بارہ خلفاء سے مراد بارہ امام ہیں
یہاں ان دلیلوں کو ذکر کریں گے جو بارہ خلفاء والی حدیث کی وضاحت کرتی ہیں اورحضرت امام مہدی کو نام اورحسب ونسب کے ساتھ بیان کرتی ہیں ۔
لیکن اس سے پہلے ایک ایسی اہم بات کی طرف توجہ مبذول کرانا ضروری ہے کہ اگر ایک منصف مزاج شخص اس میں غور کرے اوراس کی تہہ میں جائے توسارے حقائق اس کے سامنے آجائیں گے اوراس کے لیے ذکر شدہ وہی معیار کافی ہوں گے جو پیغمبر اکرم نے ہر زمانے کے امام کی شناخت کے لیے بیان فرمائے ہیں اوران کے علاوہ کسی اوردلیل کی ضرورت نہیں ہوگی ۔
اس سے ہماری مراد وہ اسلامی تاریخ ہے جس پر یکے بعد دیگرے ایسے نظام مسلط ہوتے رہے جنہوں نے آل رسول کوحکومت سے پوری طرح دور رکھا
بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ اموی اورعباسی خلفاء نے پیغمبر اسلام کی عترت طاہرہ پر ہر قسم کے مظالم روا رکھے ۔
اورمنطقی سے بات ہے کہ ان حکام کے اشارے پر اور ان کے زیر سایہ لکھی گئی کتابیں کہ جہنوں نے آل رسول کو قتل کیا اورکربلا کی تپتی ہوئی ریت کو اصحاب کساء کے پانچویں گوہرتابناک کے خون سے رنگین کرکے اولاد بتول کو ختم کرنے کی کوشش کی ان میں بارہ اماموں پر نصوص اورواضح احادیث بہت کم ہوں گی
کیونکہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ظالم اپنے آپ کو ذلیل اورپست کرکے اس روایت کی اجازت دے حضرت امام مہدی علیہ السلام کو حضرت امام حسین کانواں فرزند بتا رہی یا یہ کہ بارہ خلفاء سے مراد شیعوں کے بارہ امام ہیں۔
سوائے اس روایت کے جو اس کی نگرانی سے باہر ہو اورجس کی خبراس کے کانوں تک پہنچے لیکن ان ساری سختیوں اورپابندیوں کے باوجود وہ حدیثیں سورج کی روشنی کیطرح پھیل گئیں ۔
اب ہم اختصار کے ساتھ ان میں سے بعض کو ذکر کررہے ہیں کہ جو "الخلفاء اثنا عشر " "خلفاء بارہ ہیں" کی وضحت کرتی ہیں ۔
۱۔قندوزی حنفی نے ینا بیع المودة: میں خوارزمی حنفی کی کتاب المناقب سے نقل کیا ہے انہوں نے اپنی سند کے ساتھ حضرت امام رضا سے انہوں نے اپنے آباء واجداد سے اورپھر پیغمبر سے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں علی سے لیکر مہدی ک بارہ اماموں کے نام واضح طور پر موجود ہیں۔
قندوزی اس روایت کے بعد لکھتے ہیں کہ اسے حموینی نے بھی ذکر کیا ہے (ینا بیع المودت ۳:۱۶۱باب ۹۳)یعنی کتاب فرائد السمطین کے مولف جو ینی حموینی شافعی نے ۔
۲۔ نیز ینا بیع میں اس عنوان"بارہ اماموں کا بیان ان کے ناموں کے ساتھ "کے تحت فرائد السمطین سے اس نے اپنی سند کے ساتھ ابن عباس سے اورانہوں نے پیغمبر سے ایسی دوحدیثیں نقل کی ہیں جن میں آئمہ کا ذکر ان کے ناموں کے ساتھ ہے ان میں سے پہلے علی اورآخری مہدی (ہنابیع المودة ۳:۹۹)
اوربالکل یہی چیز اس باب میں بھی ذکر خلیفہ النبی مع اوصیاء (ینابیع المودت ۳:۲۱۲باب ۹۳)کہتے ہیں پیغمبر اسلام نے فرمایا
"یا جابر ان اوصیائی وائمه المسلمین من بعد ی ،اولهم علی ثم الحسن ، ثم الحسین ۔۔۔"
"اے جابر میرے اوصیاء اورمیرے بعد مسلمانوں کے اماموں میں سے پہلے علی پھر حسن پھر حسین ۔۔۔"
پھر حضرت امام حسین کی اولاد میں سے نواماموں کا ذکر فرماتے ہیں کہ ان میں سے پہلے حضرت زین العابدین اورآخری حضرت امام مہدی بن حضرت امام حسن عسکری علیھما السلام ہیں (ینابیع المودت ۳:۱۷۰ باب ۹۴)
۴۔ کمال الدین میں ہے "ہمیں بیان کیا حسین بن احمد بن ادریس نے انہوں نے اپنے باپ سے اس نے احمد بن محمد بن عیسی ٰ سے اورابراہیم بن ہاشم سے ان دونوں نے حسن بن محبوب سے انہوں نے ابوالجارور سے انہوں نے حضرت امام محمد باقر سے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں میں کہ
"حضرت فاطمہ کے پاس آیا توآپ کے سامنے ایک تختی تھی جس میں اوصیاء کے نام تھے میں نے شمار کیے تووہ بارہ تھے آخری مہدی تھے تین محمد اورچار علی علیھم السلام تھے(کمال الدین ۱:۳۱۳۔۴باب ۲۸)
اوراپنے طرق سے بھی ذکر کیا ہے احمد بن محمد بن یحییٰ عطار نے اپنے باپ سے انہوں نے محمد بن حسین بن ابو الخطاب سے انہوں نے حسن بن محبوب سے اس کے بعد وہی سابقہ سلسلہ سند ہے۔بعض لوگوں کا کہتے ہیں یہ روایت دووجہ سے صحیح نہیں ہے
اول:۔ پہلی سند میں حسین بن احمد بن ادریس ہے اوردوسری میں احمد بن محمد یحییٰ عطار ہے اوردونوں موثق نہیں ہیں۔
لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں مشایخ اجازہ ہیں اورصدوق نے اپنی جس کتاب میں بھی ان کا ذکر کیا ہے ساتھ "رضی اللہ عنہ کہا ہے اورواضح ہے کہ یہ جملہ ایک فاسق شخص کے لیے نہیں کہا جاتا بلکہ کسی بزرگ شخص کے لیے کہا جاتا ہے اوراگر ہم تسلیم کرلیں کہ یہ جملہ وثاقت پر دلالت نہیں کرتا توبھی بہت بعید ہے کہ دونوں شخص اپنے باپ پر جھوٹ بولیں کیونکہ دونوں نے یہ حدیث اپنے اپنے باپ سے روایت کی ہے
ان کے صدق کی یہ بھی دلیل ہے کہ کلینی نے صحیح سند کے ساتھ ابوالجارود سے حدیث ذکر کی ہے اور سند کی ابتداء شیخ صدوق کے والد محمد بن یحییٰ عطار سے کی ہے انہوں نے محمد بن حسین سے انہوں نے ابن محبوب سے انہوں نے ابی الجارود سے انہوں نے حضرت امام محمد باقر سے اورانہوں نے عبداللہ انصاری سے(اصول کافی ۱:۵۳۲حدیث۹باب ۱۲۶)
الخلفاء اثناعشر
خلفاء بارہ ہیں
ابو الجارود مطعون ہے پس سند حجتہ نہیں ہے
اس کا جواب یہ ہے کہ ابوالجارود ایک تابعی ہے اور تابعی کو کہاں معلوم ہوسکتا ہے کہ اوصیاکے ناموں میں تین کا نام محمد اورچارکا نام علی ہے؟جب کہ یہ واقع کے مطابق ہے اورابو الجارود اس سلسلے کے مکمل ہونے سے دسیوں سال پہلے انتقال کرچکے تھے۔
علاوہ ازیں شیخ مفید نے اپنے رسالہ عددیہ میں انہیں موثق قرارد یا ہے( سلسلہ مولفات شیخ مفید (الرسالة الددیہ )جوابات اہل الموصل فی العددو الرویة طبع بیروت ۹:۲۵، اس میں انہیں حضرت امام محمد باقر کے صحابی فقہا میں شمار کیا ہے۔
اوران اعلام میں سے کہ جن سے حلا ل وحرام فتوے اوراحکام حاصل کئے جاتے ہیں اوران پر کسی قسم کی تنقید نہیں کی جاسکتی اوران میں کسی کی کوئی مذمت نہیں کی جاسکتی)
اورپھر صدوق نے تختی والی حدیث کو باب کے اول میں اس کے ساتھ ذکر کیا ہے مجھے بیان کیا میرے باپ ااورمحمد بن حسن رضی اللہ عنہما)انہوں نے کہا ہمیں بیان کیا سعد بن عبداللہ بن جعفر حمریی نے انہوں نے ابو الحسن صالح بن حماد اورحسن بن طریف سے انہوں نے بکر بن صالح سے اوردوسری سند یہ ہے :۔
ہمیں بیان کیا مریے باپ محمد بن موسی متوکل ، محمد بن علی ماجیلویہ ، احمد بن ابراہیم ۔ حسن بن ابراہیم ناتانہ اوراحمد بن زیاد ہمدانی نے (رضی اللہ عنھم)انہوں نے کہا ہم نے بیان کیا علی بن ابراہیم نے اپنے باپ ابراہیم بن ہاشم سے انہوں نے بکر بن صالح سے انہوں نے عبدالرحمن بن سالم سے انہوں نے ابو بصیر سے اورانہوں نے ابو عبداللہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں سند یں بکر بن صالح تک صحیح ہیں لیکن بکر بن صالح کو ضعیف قرارد یا گیا ہے اوراس کا ضعیف ہونا یہاں مضر نہیں ہے کیونکہ معقول نہیں ہے کہ ایک ضعیف شخص ایک شئی کے بارے میں اس وقت سے پہلے خبر دے پھر وہ شئی اس کی خبر مطابق واقع ہوجائے اورپھر مخبر کو اس کے بعد سچا شمار نہ کیا جائے
چنانچہ وہ شخص حضرت امام موسی کاظم سے روایت کرتا ہے اسے مہدی تک ان کی اولاد کا علم کیسے ہوسکتا ہے؟
جبکہ ان کے طبقے سے ظاہرہوتا ہے کہ انہوں نے (حضرت امام ہادی علیہ السلام حضرت امام عسکری اورحضرت امام مہدی )کو نہیں پایا اوراس کی یہ مزید وضاحت اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ پہلی سند میں بکر بن صالح سے روایت کرنے والے حسن بن ظریف کے مشایخ بن ابی عمیر (متوفی ۲۱۷ہجری)اوران کے طبقے والے لوگ ہیں ۔
۵۔ کفایہ الاثر فی النص علی الآئمہ الاثنی عشر"میں اس کے مصنف خزازنے کہ جو چوتھی صدی ہجری کے جید علماء میں سے ہے صرف وہ احادیث لکھی ہیں جو بارہ اماموں کے بارے میں ان کے نام کے ساتھ وارد ہوئی ہیں ان سب روایات کو توذکر کرنا ممکن نہیں ہے۔
لیکن کتاب کے مقدے میں جو کچھ ہے اسے ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے وہ کہتے ہیں "میں نے سب سے پہلے آئمہ علیھم السلام کو معین کرنے والی ان نصوص کو ذکر کیا ہے جن کی روایت پیغمبر اسلام کے مشہور صحابہ نے کی ہے جیسے عبداللہ بن عباس ، عبداللہ بن مسعود ، ابو سعید خدری ، ابوذرغفاری ، سلمان فارسی ۔ جابر بن سمرہ ، جابر بن عبداللہ ، انس بن مالک ، ابوہریرہ ، ایوب انصاری عمار بن یاسر ،حذیغہ بن اسید، عمران بن حصین ،سعد بن مالک ، حذیفہ بن یمان ،ابو قتادہ انصاری ، علی بن ابوطالب اورآپ کے دوفرزند حضرت امام حسن اورحضرت امام حسین ۔
پھر آئمہ علیھم السلام سے وارد ہونے والی ایسی ہی روایات کو ذکر کیا ہے اور ہر امام کی بعد والے امام پر نص کو ذکر کیا ہے تاکہ انصاف پسند لوگ جان لیں اوراس پر ایمان لے آئیں اوراس طرح نہ ہو جیسے اللہ تعالی فرماتا ہے:۔
( فما الختلفو الا من بعد ما جائهم العلم بغیابینهم)
ان لوگوں نے علم آجانے کے بعد آپ میں ضد کی بنا پر ایک دوسرے سے اختلاف کیا(کفایہ الاثر خزاز :۸۔۹مقدمہ)
۶۔ اورکمال الدین "میں محمد بن علی بن ماجیلویہ اورمحمد بن موسی بن متوکل سے انہوں نے محمد بن یحییٰ عطار سے انہوں نے محمد بن حسن صفار سے اورمحمد بن احمد بن ولید سے انہوں نے ابو طالب عبداللہ بن صلت قمی سے انہوں نے عثمان بن عیسی سے انہوں نے سماعة بن مہران سے ذکرکیا ہے کہتے ہیں عمران مکہ میں ایک گھر میں تھے
محمد بن عمران نے کہا میں نے حضرت امام صادق سے سنا تھا وہ فرمارہے تھے "ہم بارہ ہدایت یافتہ ہیں"۔
ابو بصیر نے ان سے کہا :قسم تونے یہ حضرت امام صادق سے سنا ہے ؟ تو انہوں نے ایک یا دومرتبہ قسم اٹھاکر کہا میں نے ان سے سنا ہے توابوبصیر نے کہا میں نے تویہ حضرت امام محمد باقر سے سنا تھا(کمال الدین ۲:۳۳۵۔۶، اس کے ذیل میں بھی یہی ذکر ہے۔)
کلینی نے اسے محمد بن یحییٰ سے انہو ں نے احمد بن محمد سے انہوں نے محمد بن الحسین سے انہوں نے ابو طالب سے انہوں نے عثمان بن عیسی ٰ سے انہوں نے سماعة بن مہران سے انہی الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے(اصول کافی ۱:۵۳۴۔۵۳۵۔۲۰باب ۱۲۶، اورمجلسی نے مرةآة العقول ۶:۲۳۵میں اسے حدیث مجہول شمار کیا ہے لیکن یہ قطعی اشتباہ ہے کیونکہ کافی والی سند کے تمام راویوں کو شیخ نجاشی اوران کے بعد والے سارے علماء نے ثقہ قرار دیا ہے اورظاہر ابو جعفر کے غلام محمد بن عمران کی وجہ سے غلط فہمی ہوئی ہے کہ جس کی وثاقت پر کوئی نص وارد نہیں ہوئی لیکن اس کا وجود مضر نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے ساتھ ایک ثقہ موجود ہے اورابو بصیر کی طرف سے حضرت امام محمد باقر سے حدیث کا سننا معلوم ہے توکیا عجب یہی حدیث امام صادق سے بھی سنی گئی ہو)
اورجیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اس کی سند میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے موثق ہونے میں شک وتردید کیا جائے اوراگر صدوق کی سند میں ممدوح ہے تواس کے پہلو میں ثقہ مامون بھی ہے جو بارہ خلفا والی حدیث کی وضاحت کرتی ہے کہ اس سے مراد کون ہیں
۷۔کافی میں انتہائی صحیح سند کے ساتھ مذکورہے :ہمارے کئی علما نے احمد بن محمد برقی سے انہوں ابو ہاشم داود بن قاسم جعفری سے انہوں نے ابوجعفر ثانی سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں امیرالمومنین آئے اورحسن بن علی آپ کے ہمراہ تھے آپ سلیمان کے بازو کا سہاری لئے ہوئے تھے اوراس روایت میں سب بارہ اماموں یعنی علی سے لیکر مہدی بن حسن عسکری تک کا ذکر ہے(اصول کافی ۱:۵۲۵۔۱باب ۱۲۶)
ابو ہاشم سے بالکل اس طرح کی روایت کی ہے محمد بن یحییٰ کہتے ہیں میں نے محمد بن حسن سے کہا اے ابو جعفر اچھا یہ ہوتا کہ یہ خبر احمد بن ابو عبداللہ کے بغیر آئی ہوتی توانہوں نے کہا مجھے اس نے حیرة سے دس سال پہلے بیان کی تھی(اصول کافی ۱: ۵۲۶۔۲باب۱۲۶))
اورحیرة سے یہاں مراد امام مہدی کی ۲۶۰ئھ میں غیبت ہے،اوریہ وہی سال ہے جس میں امام عسکری نے وفات پائی اورمحمد بن یحییٰ نے جو کچھ کہا ہے یہ احمد بن ابی عبداللہ برقی پر تنقید نہیں کیونکہ یہ بالا تفاق ثقہ ہے
دراصل محمد یحیٰی کا خیال تھا کہ ان کے شیخ صفار کو جنہوں نے حدیث بیان کی ہے وہ امام عسکری یا امام ہادی کے زمانے میں فوت ہو چکے تھے اوروہ برقی نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ ۲۷۴ھئیا ۹۰ ۲ئتک زندہ رہے۔
کیونکہ ایک شئی نے واقع ہونے سے پہلے اس بارے میں خبر دینا پھر اس خبر کے مطابق شئی کا موجود ہوجانا یہ ایسا اعجاز ہے کہ جو اپنے ثبوت کے لیے اس کا محتاج نہیں ہے کہ اس کی روایت مشہور ہو اورراوی زیادہ ہوں کیونکہ اسے کسی بھی صورت میں جھٹلایا نہیں جا سکتا اگرچہ صرف ایک سند کے ساتھ دوسری ہو۔
پس صفار نے جوا ب دیا کہ جلیل القدر اورموثق روای برقی اسے غیبت سے دس سال پہلے حدیث بیان کی تھی۔
اورکسی پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ ایک غیر موثق شخص جو کسی شئی کے واقع ہونے کے بارے میں خبر دے رہا ہے تواس کی بات قبول کرنے کے لیے زیادہ وہی شرائط ہیں جو ایک خبر ضعیف کو قبول کرنے کیلئے ہوتی ہیں یا اس شئی کا خبر کے مطابق وقوع پذیر ہوجانا یہ بھی اس کے صدوق کی علامت ہے اگرچہ کتب رجال نے اسے ثقہ قرار نہ دیا ہو(اوراگر مخبر موثق ہو تو پھر بالاتفاق یہ شرط نہیں ہے کیونکہ فرض یہ ہے کہ وہ سچا ہے اورصدق کے بعد یہی ہوتا ہے کہ خبر واقع کے مطابق ہوجیسے عیسیٰ کے نازل ہو نے والا مسئلہ ، مہدی کا ظاہر ہونا ، دجال ک افتنہ وغیرہ اگرچہ ابھی تک ان میں کوئی رونما نہیں ہوا )
اسی طرح کلینی اورصدوق نے صحیح سند کے ساتھ ابان بن عیاش سے انہوں نے سلیم بن قیس ہلالی سے انہوں نے عبداللہ بن جعفرطیار سے انہوں نے پیغمبر سے ایک حدیث روایت کی ہے جس میں علی کے امام ہونے پر نص ہیان کے بعد ان کے فرزند حسن بھی آپ کے فرزند حسین پھر علی بن حسین پھر محمد باقر پھراس نے کہا کہ بارہ امام مکمل کیے ہیں اوران میں نوامام حسین کی اولاد میں سے ہیں(اصول کافی۱۔۵۶۹:۴باب ۱۲۵، کمال الدین ۱۔۲۷۰:۱۵باب ۲۴خصال ۴۷۷باب ۴۱ازابواب اثنی عشر)
اوران میں عبان بن عیاش کے ضعیف ہونے سے کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکی اس نے ایسی شئی کے بارے میں خبر دی ہے جو اس وفات کے کئی سال بعد اس کی خبر کے مطابق وقوع پذیر ہوئی اورشیخ صدوق نے کمال الدین میں ایسی بہت سے روایات ذکر کی ہیں
لیکن غیر محقق لوگ کہتے ہیں کہ یہ احادیث معتبر نہیں ہیں کیونکہ ان کی سندضعیف ہے حالانکہ یہ ضعف ان راویوں میں ہے جو بارہ اماموں کے تاریخی تسلسل کے مکمل ہونے سے سالہا سال پہلے فوت ہو چکے ہیں ۔
اوریہ اعجاز امام زمانہ کے متعلق کثیر روایات میں ہے جیسا کہ شیخ صدوق نے لکھا ہے کہ آئمہ نے ا ن کی غیبت کی خبر دی ہے اوراسے اپنے شیعوں کو بتایا ہے اوریہ ساری باتیں ان رسالوں اورکتابوں میں محفوظ ہیں جو غیبت سے دوسو سال یا س سے کم وبیش پہلے لکھی گئی ہیں ۔
حضرت آئمة علیھم السلام کا کوئی ایسا پیروکا رنہیں ہے جس نے انہیں اپنی کتابوں اورتصنیفات میں ذکر نہ کیا ہو اوریہ کتابیں جنہیں اصول کے نام سے پہچانا جاتاہے یہ شیعوں کے یہاں غیب سے پہلے لکھی گئی ہیں ۔
جیساکہ میں نے اوپرذکر کیا ہے اورمجھے غیبت سے متعلق جو راویا ت ملی ہیں انہیں میں نے اس کتاب میں ذکر کردیا ہے۔
لہذاآئمة علیھم السلام کے یہ پیروکار جنہوں نے کتابیں لکھی ہیں یا توانہیں غیبت کے متعلق علم غیب تھا جسے انہوں نے اپنی کتابوں میں لکھ دیا ہے تویہ اہل عقل وعلم کے یہاں محال ہے یا انہوں نے اپنے کتابوں میں جھوٹ لکھا ہے۔
لیکن اتفاقا جو انہوں نے کہا تھا ویسا ہی ہو گیا اوران کی گھڑی ہوئی بات واقعیت اختیار کرگئی جب کہ ان کے نظریات مختلف اوران کے علاقے دور دور تھے یہ بھی محال ہے
پس یہی احتمال بچتا ہے کہ انہوں نے آئمہ علیھم السلام سے سن کے یاد کیا تھا جنہوں نے پیغمبر اکرم کی فرمائشات کی حفاظت کی تھی کہ جن میں انہوں نے غیبت اوراس کے بعد کے واقعات کا ذکر کیا تھا اوروہ ان کی کتابوں اوران کے اصول میں موجود ہیں ان ہی جیسی چیزوں سے حق غالب ہو گیا اورباطل شکت کھا گیا بیشک باطل شکست کھانے والا ہے (کمال الدین ۱۹:۱مصنف کا مقدمہ۔)
یہ بات پوشیدہ نہ رہے کہ جن اصول کی طرف شیخ صدوق نے اشارہ کیا ہے ان کی نسبت ان کے مصنفین کی طرف شیخ صدوق کی نظر میں متواتر ہے جیسا کہ ہمارے لئے کمال الدین کی نسبت شیخ صدوق کی طرف متواتر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اخبار غیبت میں اگر پہلے ضعف تھا بھی تووہ ان کی صحت کیلئے مضر نہیں ہے کیونکہ یہ بلاواسطہ طور پر ان کتابوں سے نقل کی گئی ہیں۔
بہر حال ہمیں شیعہ روایات میں وہ چاہئے کہ جس کی سند امام تک پوری صحیح ہے یااس تک کہ جس نے امامت والے تسلسل کے مکمل ہونے سے پہلے اس کی خبر دی ہے چاہے خود اس کی وثاقت معلوم نہ بھی ہو۔
امام مہدی امام حسین کی اولاد میں سے ہیں اورآپ کے نویں فرزند ہیں
یہ بات اگرچہ گذشتہ بحث میں ثابت ہو چکی ہے لیکن بات کو محکم کرنے کے لیے مزید اس بحث کی ضرورت ہے۔
چنانچہ پہلے ہم بعض ان واضح روایات کو ذکر کررہے ہیں جن کے ذریعے علماء اہل سنت نے استدلال کیا ہے اورپھر اختصار کی خاطر شیعوں کی نظر میں صحیح روایات میں کچھ نقل کریں گے
۱۔یہ حدیث سلیمان فارسی ، ابو سعید خدری ، ابو ایوب انصاری ، ابن عباس اورعلی ہلالی سے مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہے کہ پیغمبر نے فرمایا:۔
"اے فاطمہ ہم اہل بیت کو وہ چھ خصوصیات دی گئی ہیں جو نہ پہلے لوگوں میں سے کسی کو دی گئی ہیں اورنہ آخری (زمانہ کے)لوگوں میں سے کوئی انہیں درک کرپائے گا (ان میں سے ایک یہ ہے )کہ ہم میں سے امت کا وہ مہدی ہے جس کے پیچھے عیسی ٰ نماز پڑھیں گے پھر امام حسین کے شانے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا یا امت کا مہدی اس سے ہو گا(اسے دارقطنی نے ذکر کیا ہے جیسا کہ کنجی شافعی کی "البیان فی اخبار صاحب الزمان میں ہے ۵۰۲۔۵۰۱باب ۹ ، ابن صبان مالکی کی الفصول المہمة ۲۹۵۔۲۹۶فصل ۱۲۰۔سمعانی کی فضائل الصحابہ جیسا کہ ینا بیعالمودت میں ہے ۴۹باب ۹۴ اورمعجم احادیث الامام المہدی ۷۷۔۱۴۶:۱ میں واضھ ہے اس کے طرق اتنے زیادہ ہیں کہ اگریہ سب کو ذکر کیا جائے توتقریباً ایک جلد بن جائے)
۲۔ مقدسی شافعی نے عقد الدرر میفں علی سے روایت کی ہے جس میں آپ نے فرمایا "بیشک امام مہدی امام حسین کی اولاد سے ہیں اورجو اس کے غیر کو ولی مانے اس پر اللہ کی لعنت ہے۔(عقدالدرر ۱۳۲باب ۴، فصل ۲)
مقدسی نے اسے دلیل کے طور پر ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ :۔
"ہم اس فصل کا اختتام بڑے بڑے سورماؤں کی شکست دینے والے علی کے ایسے فرمان سے کر رہے ہیں جوسخت ہو لناک اوردشوار امور اوراس امام مہدی کے خروج پر مشتمل ہے جو دکھوں کو دور کرنے والے اورلشکروں کو متفرق کرنے والے ہیں پھر اس حدیث کو ذکر کرتے ہیں "
۳۔ عقد الدرر میں جابر بن یزید سے انہوں نے امام باقرسے ایک طویل حدیث روایت کی ہے اس میں ہے "اے جابر !حضرت مہدی حضرت امام حسین کی اولاد سے ہیں (عقد الدرر ۱۲۶باب ۴، فصل ۲)
۴۔ابن ابی الحدید معتزلی شرح نہج البلاغہ میں علی کے اس فرمان "اورہمارے ذریعے اختتام ہو گا نہ تمہارے ذریعے "کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
"یہ اس مہدی کی طرف اشارہ ہے جو آخری زمانے میں ظہور کرے گااوراکثر محدثین کا نظریہ یہ ہے کہ وہ فاطمہ کی اولاد سے ہے اورہم معتزلہ کے علماء بھی اس کا انکار نہیں کرتے بلکہ صراحت کے ساتھ اسے اپنی کتب میں ذکر کرتے ہیں اوران کے بزرگ علماء نے اس کا اعتراف کیا ہے ۔
مزید لکھتے ہیں قاضی القضادرحمہ اللہ نے اابو القاسم اسماعیل بن عباد سے اس نے علی سے متصل سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ آپ نے مہدی کا ذکر کیا اورفرمایا وہ امام حسین کی اولاد سے ہے پھر ان کا حلیہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔
"وہ روشن پیشانی والا ، اونچی تیکھی ناک والا ، بڑے پیٹ والا ،موٹی رانوں والا، چمکیلے دانتوں والا ہے اور اس کی دائیں ران پر تل ہے"۔
اس حدیث کو بعینہ عبداللہ بن قتبیہ نے اپنی کتاب غریب الحدیث میں ذکر کیا ہے(شرح نہج البلاغة ابن ابی الحدید ۱:۲۸۲۔۲۸۱، شرح خطبہ نمبر ۱۶)
۵۔ ینا بیع المودت میں مناقب خوارزمی سے ان کی سند کے ساتھ حضرت امام حسین علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا:۔
"میں اپنے جد رسول کے پاس گیا انہوں نے مجھے اپنی ران پر بھٹایا اورفرمایا:۔
اے حسین اللہ نے تیری پشت سے نو اماموں کو منتخب فرمایا ہے ان میں نواں قائم ہوگا اوروہ سب کے سب اللہ تعالی کی نظر میں فضلیت اورمقام ومرتبے لحاظ سے برابر ہیں"(ینابیع المودة ۳:۱۲۸باب ۶۴)
۶۔ نیز ینا بیع میں مناقب خوارزمی سے ان کی سند کے ساتھ سلمان سے روایت نقل کی ہے کہتے ہیں ۔
"میں حضرت پیغمبر کے پاس گیا توحضرت امام حسین آپ کی ران پر بیٹھے تھے آپ ان کی آنکھوں کو چوم رہے تھے اورمنہ کا بوسہ لے رہے تھے اورفرمارہے تھے "توسردار ہے سردار کا بیٹا ہے سردار اکا بھائی ہے توامام ہے ۔ امام کا بیٹا ہے اورامام کا بھائی ہے توحجت ہے ،حجت کا باپ ہے تونو حجتوں کا باپ ہے ان میں سے نواں قائم ہو گا"(ینابیع المودة ۳:۱۶۷باب ۹۶)
اور سلیمان کو اس حدیث کو صدوق نے کتاب الخصال میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہتے ہیں ۔
"ہم سے بیان کیا میرے باپ نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا سعد بن عبداللہ نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا یعقوب بن یزید نے حماد بن عیسیٰ سے انہوں نے عبداللہ بن مسکان سے انہوں نے ابان بن تغلب سے انہوں نے سلیم بن قیس ہلالی سے انہوں نے سلمان فارسی سے کہ کہتے ہیں میں پیغمبر اکرم کے پاس حاضر ہوا توحضرت امام حسین آپ کی آغوش میں بیٹھے ہوئے تھے اورآپ ان کی آنکھوں اورمنہ کو چوم رہے تھے اورفرمارہے تھے ۔
"انت سید ابن سید ،اخوسید ،انت امام بن امام اخواامام ، انت حجة ابو حجة ، انت ابو حجج تسعة تاسعم قائهم "
"توسردار ہے سردار کا بیٹا ، توامام ہے امام کا بیٹا اوراماموں کا باپ توحجت ہے ، حجت کا بیٹا اورنو حجتوں کا باپ ان میں سے نواں قائم ہوگا "(الخصال ۲:۴۷۵۔ ۳۸ ابواب الاثنی عشر، کمال الدین ۱:۲۶۲۔۹ باب ۲۴)
۷۔ اصول کافی میں علی بن ابراہیم نے انہوں نے اپنے باپ ابراہیم بن ہاشم سے انہوں نے محمد بن عمیر سے انہوں نے سعید بن غزوان سے انہوں نے ابو بصیر سے انہوں نے حضرت امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا۔
"حسین بن علی کے بعد نوامام ہوں گے ان میں نواں قائم ہو گا(اصول کافی ۱:۵۳۳۔۱۵باب ۱۲۵)
صدوق نے کافی کی روایت کو اپنے باپ سے اور انہوں نے علی بن ابراہیم سے نقل کیا ہے(الخصال ۲: ۴۸۰۔۵۰ ابواب الاثنی عشر)
اوراس کی سند میں کوئی ایسا شخص نہیں جس کی جلالت وعظمت میں شک کیا جائے ۔
۸۔ینابیع میں حمدینی جوینی شافعی کی فرائد السمطین سے ان کی سند کے ساتھ اصبغ بن نباتہ سے انہوں نے ابن عباس سے انہوں نے پیغمبر اکرم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:۔
"میں ،علی ، حسن، حسین اورحسین کے نوفرزند کے نوفرزند پاک وپاکیزہ اورمعصوم ہیں"(ینابیع المودة ۳:۱۶۲باب ۹۴، نیز مودت عاشرة ۲:۸۳، میں بھی اس عنوان کے تحت منقول ہے"فی عدد الآئمة وان المهدی منهم "
مہدی محمد ابن حسن عسکری ہیں
اب ہم ان چند نصوص واحادیث کا ذکر کرتے ہیں جو بغیر تاویل کے حضرت امام مہدی پر دلالت کرتی ہیں اوران کی غیبت سے پہلے ان کی خبر دیتی ہیں۔
۱۔ صدوق نے اپنی صحیح سند کے ساتھ محمد بن حسن بن ولید سے انہوں نے محمد بن حسن صفار سے انہوں نے یعقوب بن یزید سے انہوں نے ایوب بن نوح سے وہ کہتے ہیں میں امام رضا سے عرض کیا :۔ ہمیں امید ہے کہ آپ کے ہاتھ میں حکومت آجائے گی اوراللہ تعالی بغیر تلوار کے اسے آپ کے پاس لوٹا دے گا اورآپ کی بیعت کرلی گئی ہے اورآپ کے نام کے دراہم چھپ چکے ہیں ۔
توآپ نے فرمایا "ہم میں سے کوئی نہیں ہے جسے خطوط لکھے گئے ہوں ، اوراس سے مسائل پوچھے گئے ہوں ، انگلیوں نے اس کی طرف اشارہ کئے ہوں اوراس کی طرف اموال لائے گئے ہوں مگر یہ کہ اسے قتل کردیا گیایا اسے بستر سے موت آئی۔
یہاں تک کہ خداوند متعال اس حکومت کے لیے ایک ایسے شخص کو بھیجے گا جس کی پیدائش اورپرورش مخفی ہو گی لیکن نسب مخفی نہیں ہوگا"(کمال الدین ۲:۳۶۰۔ اباب ۳۵)
اس حدیث میں امام مہدی کی ولادت کے متعلق امورکی طرف اشارہ ہے اوریہ کہ اس کا علم صرف امام حسن عسکری کے خواص کو ہو گا اس لیے ایک صحیح حدیث میں آیا ہے ۔"مہدی وہ ہے جس کے بارے میں لوگ کہیں گے ابھی تک پیدا نہیں ہوئے"۔
صدوق نے صحیح سند کے ساتھ روادیت کی ہے وہ کہتے ہیں ہم سے بیان کیا میرے باپ نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا سعد بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں ہم سے بیان کیاموسی خشاب نے اور انہوں نے عباس بن عامر قصبانی سے وہ کہتے ہیں میں نے امام موسی کاظم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ۔
"اس حکومت کا مالک وہ ہے جس کے بارے میں لوگ کہیں گے وہ ابھی پیدا نہیں ہوا"(کمال الدین ۲:۳۶۰۔۲باب ۳۴۔اسی باب میں دیگر طرق سے بھی ذکر کیا ہے۔)
۲۔ مقدسی شافعی نے عقدالدرر میں امام محمد بن باقر سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا:"یہ حکومت سن کے لحاظ سے ہم میں سے سب سے چھوٹے کے پاس آئے گی"(عقدالدرر :۱۸۸باب ۶)
اس میں بھی امام مہدی بن حسن عسکری کی طرف اشارہ ہے۔
۳۔کلینی نے صحیح سند کے ساتھ علی بن ابراہیم سے انہوں سے نے محمد بن حسین سے انہوں نے ابن ابی نجران سے انہوں نے فضالہ بن ایوب سے انہوں نے سدیر صیرافی سے روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں میں امام صادق کو یہ فرماتے ہوئے سنا "اس حکومت کامالک یوسف سے کچھ مشابہت رکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔
مزید فرماتے ہیں "اس امت کو اس لیے بھی تیار رہنا چاہئے کہ اللہ اپنی حجت کے ساتھ وہی کرے جو اس نے یوسف کے ساتھ کیا تھا کہ وہ ان کے بازاروں میں گھومے اور ان کی بساط کو باندھے یہاں تک کہ اللہ تعالی اس طرح اذن دے دے جیسے یوسف کو دیا تھا کہ لوگ کہنے لگیں کیا تو ہی یوسف ہے ؟تواس نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں (اصول کافی۱:۳۳۶،۴ باب ۸۰)
۴۔ ینا بیع المودة میں امام رضا سے روایت ہے "حضرت امام حسن عسکری کی اولاد سے صالح فرزند ہی صاحب الزمان ہے اوروہی حضرت امام مہدی ہیں"
قندوزی نے ینا بیع میں نقل کیا ہے کہ یہ حدیث ابو نعیم اصفہانی کی کتاب الاربیعن میں بھی موجود ہے"(ینا بیع المودت ۳:۱۶۶باب نمبر ۹۴)
۵۔ اسی کتاب میں امام رضا سے روایت منقول ہے کہ :۔
"میرے بعد میرا بیٹا محمد امام ہے محمد کہ اس کا بیٹا علی اس کے بعد اس جا بیٹا حسن ،حسن کے اس کا بیٹا حجت قائم اوریہ وہی ہے جس کا غیبت میں انتظار کیا جائے گا، ظہور میں اس کی اطاعت کی جائے گی اوروہ زمین کو اس طرح عدل وانصاف سے پر کردے گا جیسے وہ ظلم وجور سے پر ہو چکی ہو گی۔
رہا یہ کہ کب قیام کرے گا ؟ تو یہ وقت بتائے گا مجھ سے میرے باپ نے اورانہوں نے اپنے آباء واجداد سے اور انہوں نے پیغمبراسلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا وہ قیامت کی طرح اچانک تمہارے پاس آجائے گا(ینا بیع المودت ۳:۱۱۵۔ ۱۱۶باب ۸۰، اس وضاحت کے ساتھ کہ اسے حموینی شافعی کی فرائد السمطین سے نقل کیا ہے)
۶۔ اصول کافی میں صحیح سند کے ساتھ علی بن ابراہیم سے انہوں نے حسن بن موسی خشاب سے انہوں نے عبداللہ بن موسی سے انہوں نے عبداللہ بن بکیر سے انہوں نے زرارة سے روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت امام جعفر صادق کو یہ فرماتے ہوئے سنا :۔
بیشک قیام سے پہلے ہمار بیٹا غالب ہو گا راوی کہتا ہے میں نے کہا ایسا کیوں توفرمایا خوف کی وجہ سے وہ اپنے پیٹ کی طرف اشارہ کیا پھر فرمایا:۔
اے زرارة یہی وہ منتظر ہے کہ لوگ جس کی ولادت میں شک کریں گے بعض کہیں گے اس کا باپ بغیر بچے کے مر گیا بعض کہیں گے یہ حمل میں تھا(یعنی باپ کی شہادت کے وقت شکم مادر میں تھا)بعض کہیں گے اپنے باپ کی موت سے دوسال پہلے پیدا ہوا ۔
اے زرارة یہی منتظر ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی شیعوں کا امتحان لے گا اس وقت باطل پرست لوگ شک وشبہ میں مبتلا ہوجائیں گے(اصول کافی ۱:۳۳۷۔۵باب ۸۰، کمال الدین ۲:۳۴۲۔۲۴باب ۳۳۔۲،۳۲۳۳۶باب ۳۳، ایک اورسند کیساتھ لیکن پہلی سند زیادہ عمدہ ہے)
وہ کہتے ہیں حضرت امام جعفرصادق نے فرمایا قائم کو دوغیبتیں ہوں گی ایک چھوٹی دوسری لبی پہلی غیبت میں اس کی جگہ کو فقط اس کے خاص شیعہ جانتے ہوں گے اوردوسری میں فقط خالص چاہنے والے(اصول کافی ۱:۳۴۰۔ ۱۹باب ۸۰)
اس حدیث کے حضرت امام جعفر صادق سے صادر ہونے میں شک نہیں ہے کیونکہ اس کے راوی موثق ہیں اورحضرت امام مہدی بن حسن عسکری علیھما السلام پر اس کی دلالت آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہے۔
۸۔ کمال الدین میں صحیح سند کیساتھ روایت نقل کی ہے کہتے ہیں "مجھے میرے باپ نے بیان کیا انہوں نے عبداللہ بن جعفر حمیری سے انہوں نے ایوب بن نوح سے انہوں نے محمد بن ابی عمیر سے انہوں نے جمیل بن دراج سے انہوں نے زرارة سے وہ کہتے ہیں حضرت جعفر صادق نے فرمایا:۔
لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا جس میں ان سے ان کا امام غائب ہو جائے گا ۔
میں نے عرض کیا لوگ اس زمانہ میں کیا کریں گے؟توفرمایا اسی شی کے ساتھ تمسک کریں جو ان کے پاس ہے حتی کہ ظاہر ہو جائے(کمال الدین ۲:۳۵۰۔۴۴باب ۳۳)
۹۔ اصول کافی میں علی بن ابراہیم سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ابن عبی عمیر سے انہوں نے ابو ایوب خزاز سے انہوں نے محمد بن مسلم سے روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت امام جعفرصادق کو فرماتے ہوئے سنا"صاحب امر کی غیبت کے بارے میں اگرتمہیں خبر ملے تو اس کا انکار نہ کرنا"(اصول کافی ۱:۳۳۸۔ ۱۰باب ۸۰، اسی باب میں اس حدیث کو ا س کے ساتھ طریق صحیح ذکر کیا ہے ہمارے بعض علماء نے احمد بن محمد سے انہوں نے علی بن حکم سے اورانہوں نے محمد بن مسلم سے نقل کیا ہے۱:۳۴۰۔۱۵)
میں کہتا ہو ں بالاتفاق بارہ اماموں میں سے فقط حضرت امام مہدی غائب ہو ئے ہیں اورجب یہ حدیث صادر ہو ئی تھی اس وقت آپ پیدا نہیں ہوئے تھے اسی لئے اس حدیث میں ولادت کے بعد آپ کی غیبت پر تاکید کی گئی ہے کلینی بے اسے دوایسی سندوں کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ جن کے صحیح ہونے کے بارے میں علماء شیعہ کا اتفاق ہے
۱۰۔ کمال الدین میں ہے "مجھ سے بیا ن کیا میرے باپ دادااور محمد بن حسن (رضی اللہ تعالی عنہما)نے وہ کہتے ہیں میں ہم سے بیان کیا سعد بن عبداللہ اورعبداللہ بن جعفر حمیری اوراحمد بن ادریس اورانہوں نے کہا کہ ہم بیان کی احمد بن حسین بن ابوالخطاب اورمحمدبن عبدالجبار اورعبداللہ بن عامر بن سعد اشعری نے اورانہوں نے عبدالرحمن بن ابی نجران سے انہوں نے حضرت امام صادق سے کہ میں امام کو فرماتے ہوئے سنا:۔
خداکی قسم تمہارا مام کئی سال تک زندہ رہے گا اورتمہیں آزمایا جائے گا یہاں تک کہ اس کے متعلق کہاجائے گا وہ مر گیا یا جس وادی میں گیا تھا وہیں ہلاک ہوگیا اورمومنین کی آنکھیں اس پر آنسو بہائیں گی۔
اورتم اس طرح متزلزل ہو جاوگے جیسے کشتیاں سمندر کی لہروں میں ہچکولے کھاتی ہیں اورنہیں نجات پائے گا مگر وہ شخص کہ جس سے اللہ نے عہد وپیمان لیا ہوگا اوراس دل میں نور داخل کردیا ہو گا اورخود اس کی مدد کرے گا(کمال الدین ۲:۳۴۷۔۳۵باب ۳۳)
محمد بن مساور سے پہلے والے سب راوی بلا اختلاف جلیل القدر اورثقہ ہیں لیکن محمد بن مساور جو ۱۸۳ء ھ میں فوت ہوا مجہول ہے اورمفضل کی ثاقت میں بھی اختلاف ہے
لیکن خود یہ حدیث ان کے نقل حدیث کے سلسلے میں مانتداری کی بہترین دلیل ہے کیونکہ یہ ایسی اعجاز آمیزخبر ہے کہ جو ابن مساور کی وفات کے ستتر سال بعد وقوع پذیر ہوئی کیونکہ غیبت ۲۶۰ئھ میں ہوئی اورکلینی نے بھی اسے صحیح سند کے ساتھ محمد بن مساور سے اس نے مفضل سے نقل کیا ہے (اصول کافی ۱:۳۳۶۔۳ باب ۸۰)
لیکن اس مفہوم پر مشتمل دیگر کثیر روایات کو دیکھ کر اس کے صدور کا بھی یقین ہو جاتا ہے۔
مثلاابن سنان کی وہ صحیح حدیث کہ جسے صدوق نے اپنے باپ اورانہوں نے محمد بن حسن بن احمد بن ولید سے انہوں نے صفار سے انہوں نے عباس بن معروف سے انہوں نے علی بن مہزیار سے انہوں نے حسن بن محبوب سے انہوں نے اسحاق بن جریزسے انہوں نے عبداللہ بن سنان سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں میں اورمیرے والدحضرت جعفر صادق کے پاس حاضر ہوئے توآپ نے فرمایا:۔
اس وقت تمہارا کیا حال ہو گاجب تم ہدایت کرنے والے امام اورپرچم ہدایت کو نہیں دیکھ سکو گے()کمال الدین ۲:۳۴۸۔ ۴۰باب ۳۳
۱۱۔ اصول کافی میں ہے کہ ہمارے کئی علماء نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے انہوں نے اپنے باپ محمد عیسیٰ سے انہوں نے بکیر سے انہوں نے زراة سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت جعفر صادق کوفرماتے ہوئے سنا "بے شک قائم آل محمد قیام سے پہلے غائب ہو گاوہ ڈرے گااورحضرت نے اپنے پیٹ کی طرف اشارہ کی یعنی قتل سے "(اصول کافی ۱:۳۴۰۔۱۸باب ۸۰، کمال الدین ۲:۴۱۸۔۰ا باب ۴۴میں صدوق نے اسے صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا ہے کیونکہ محمدبن ماجیلویہ ثقہ ہے)اوراس کی سند بالاتفاق صحیح ہے
۱۲۔ مقدسی شافعی کی عقدالدرر میں شہید کربلا حضرت امام حسین سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا :اس حکومت کا مالک ، حضرت امام مہدی علیہ السلام دودفعہ غائب ہو گا ، ایک غیبت زیادہ طویل ہو گی حتی کہ بعض لوگ کہنے لگیں گے کہ فوت ہوگیا بعض کہیں گے قتل کردیا گیا اوربعض کہیں گے چلا گیا "(عقدالدرر ۱۷۸باب ۵)
اس طرح کی احادیث صحیح سند کے ساتھ پہلے بیان ہو چکی ہیں ملاحظہ ہو نمبر ۷۔۶
۱۳۔ کمال الدین میں ہے کہ "مجھ سے بیان کیا میرے باپ اور محمد بن حسن (رضی اللہ عنہما)نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا سعد بن عبداللہ اورعبدا للہ بن جعفر حمیری نے کہا ہم سے بیان کیا احمد بن حسین بن عمر بن یزید نے انہوں نے حسین بن ربیع مدائنی سے (کافی ۱:۳۴۱۔۳۳ باب ۸۰ ، میں اسے احمد بن حسن سے اس نے عمر بن یزید سے اس نے حسن بن ربیع ہمدانی سے ذکر کیا ہے۔اورظاہرہ یہ صحیح ہے کیونکہ سعد اورحمیری نے احمد بن حسین بن عمر بن یزید سے روایت نہیں کی بلکہ سعد نے بہت سارے مقامات پر احمد بن حسن سے روایت نقل کی ہے اوراس سے مراد ابن علی بن فضال فطعی ثقہ ہے رہا عمر بن یزید تو چاہے یہ صیقل ہو یا بیاع سابری اس کی وفات غیبت سے دسیوں سال پہلے ہوئی ہے)
انہوں نے محمد بن اسحاق سے انہوں نے اسید بن ثعلبہ سے انہوں نے ام ہانی سے کہ وہ کہتی ہیں جب میں جب میں نے امام محمد باقر سے ملاقات کی تومیں نے ان سے اس آیت"( فلا اقسم با لخنس الجوار الکنس ) "
مجھے ان ستاروں کی قسم جو چلتے چلتے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اورغائب ہو جاتے ہیں ۔ کے متعلق سوال کیا توآپ نے فرمایا :۔
یہ وہ امام ہے جو اپنے والد کی وفات کے بعد ۲۶۰ئھ میں غا ئب ہوگا پھر رات کی تاریکی میں چمکنے والے شہاب ستارے کی طرح ظاہر ہو گا اگرآپ اسے پائیں گی تو آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائے گی (کمال الدین ۱۔۳۲۴:۱باب ۳۲اسی باب میں ۱: ۳۳۰ ۱۵باب ۳۲اسے ام ہانی نے تھوڑسے سے اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے)
پہلے یہ لوگ فوت ہو چکے تھے پس یہ حدیث ان کے سچے ہونے کی دلیل ہے۔
۱۴۔ کمال الدین میں صحیح سند سے یہ روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں ہم سے بیان کیا محمد بن حسن (رضی اللہ عنہ )نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا سعد بن عبداللہ نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابو جعفر محمد بن احمد علوی نے اورانہوں نے ابو ہاشم داودبن قاسم جعفری سے وہ کہتے ہیں میں امام علی نقی کو فرماتے ہوئے سنا :۔
"میرے بعد میرا جانشین میرا بیٹا حسن ہو گاپس جانشین کے جانشین کے بارے میں تم کیا کرو گے۔
میں نے عرض کی میں قربان ہوجاوں ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ؟
توفرمایا:۔کیونکہ تم اسے دیکھ نہیں سکو گے اوراسے تمہارے لئے نام کے سات ذکر کرنا جائز نہیں ہوگا میں نے کہا پس ہم کیسے ذکر کریں گے توفرمایا:تم کہنا حجت آل محمد (کمال الدین ۲:۳۸۱۔۵باب ۳۷،کافی ۱:۳۲۸۔۳باب ۷۵)
یہ سند حجت ہے کیونکہ اس کے سب راوی موثق ہیں اوراس میں جو علوی ہیں یہ جلیل القدرشیعہ مشایخ میں سے ہیں جیسا کہ نجاشی نے اپنے رجال میں العمر کی البو فلی کے حالات میں تحریر کیا ہے(رجال نجاشی ۸۲۸۔۳۰۳)اس سلسلہ میں یہی احادیث کافی ہیں لیکن تین کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا ضروری ہے۔
اول :۔آخری حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کو بالکل نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ جس جملے میں نام لینے سے منع کیا گیا ہے اس کا سبب دیگر روایات میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی زندگی کے لیے جو خطر ہ بیان کیا گیا ہے(حضرت امام مہدی کی ولادت کی دلیلوں میں ہم ان احدیث کی طرف اشاری کریں گے۔)
اگر اس جملے کو (تم اسے نہیں دیکھ سکتے ) کونام لینے سے منع کرنے والے جملے کہ جس کی علامت دیگر احادیث میں آپ کی جان کو لاحق خطرہ بتایا گیا ہے کے ساتھ ملایا جائے تویہ غیبت سے کنایہ ہے یعنی تم اپنے امام مہدی کو جب چاہو نہیں دیکھ سکتے کیونکہ تم جس طرح میری زندگی میں مجھے دیکھنے پر قادر ہو اس طرح اسے دیکھنے پر قادر نہیں ہوگے کیونکہ وہ تم سے غائب ہوگا اوراس کا نام لیکر ذکر نہ کرنا کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن اسے پہچان کے اسے پانے پر قادر ہوجائے ۔خلاصہ یہ ہے کہ :۔دیکھنے کی نفی غیبت کی طرف کنایہ ہے اورنام لینے سے منع کرنا خطرے کی وجہ سے تھا اورپھر نفی اورنہی بھی زمانہ غیبت سے مخصوص تھی اور یہ صرف ان سب یا بعض مخاطبین کے لیے تھی ورنہ امام حسن عسکری کی زندگی میں میں آپ کو دیکھا تھا اوربہت سارے لوگوں نے آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کو دیکھ اتھا جیسا کہ اسی فصل میں بیان کریں گے۔
دوم :۔ جو نصوص وروایات ہم نے ذکر کی ہیں یہ اس سلسلے میں وارد ہونے والی روایات کا ایک مختصر سا نمونہ تھا اورہم نے ان کا انتخاب کسی علمی تحقیق کے لیے نہیں کیا یعنی ہم نے صحیح اسانید سے بحث عقیدے کو پختہ کرنے کے لیے نہیں کی کیونکہ ہمارا عقیدہ توپہلے ہی راسخ ہے بلکہ صرف اپنے دعوی کو ثابت کرنے کے لیے ایک وسیلے کے طور پر اسے بیان کیا ہے ورنہ ہمیں ان اسانید کی بالکل ضرورت نہیں ہے کیونکہ :۔
اولا:۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وجود کے آخری زمانے تک مستمررہنے پر وافر مقدار میں قطعی دلیلیں موجود ہیں جیسا کہ ان کو تفصیل سے پیش کرچکا ہوں اور ان کے ہوتے ہوئے ان اسانید کیضرورت نہیں ہے۔
ثانیہ اس بات پر وافر دلیلیں موجود ہیں کہ امام مہدی کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث بلاواسطہ طور پر ان کتابوں سے لی گئی ہیں جو آپ کی ولادت سے دسیوں سال پہلے لکھی گئی ہیں اورشیخ صدوق نے اس کی گواہی دی ہے
پس اگر کسی کی سند میں کوئی ضعف تھا بھی تووہ مضر نہیں ہے کیونکہ ان کا اس اعجاز نما خبر پر مشتمل ہونا جو بعد میں وقوع پذیر ہوئی خود ان کے سچے ہونے کی علامت ہے۔
سوم:۔احادیث حضرت امام مہدی علیہ السلام چاہے پیغمبر سے منقول ہوں یا اہل بیت علیھم السلام سے ایک ہی حقیقت پر مشتمل ہیں اوران میں کوئی فرق نہیں ہے اورجس طرح اس حقیقت کو صحیح حدیث ثابت کرتی ہے اسی طرح ضعیف بھی ثابت کرتی ہے کیونکہ اگرکوئی موثق شخص خبر دے کہ زید مرگیا ہے پھر ایک خیر موثق بھی یہی خبر دے توہم اسے نہیں کہ سکتے کہ توجھوٹ بول رہا ہے ۔
اسی طرح تیسرا ، چوتھا ، پانچواں ۔۔۔دسواں شخص یہی خبر لائے توہم نہیں کہہ سکتے تم جھوٹ بول رہے ہو چاہے ہمیں علم نہ بھی ہو کہ وہ سچا ہے یا نہیں بلکہ ان میں سے ہر خبر ایک احتمالی قرینہ ہو گی کہ جسے اس سچی خبر کے ساتھ ملایا جائے گا حتی کہ وہ سچی خبر درجہ یقین کو پہنچ جائے گی۔
کیونکہ جتنے قرائن زیادہ ہوتے ہین اتنا ہی ان کی نقیض کا احتمال کم ہوتا ہے ۔
اگریہی موضوع پر اخبار اتنی زیادہ ہوں جن کی وجہ سے انسان یقین کی حد تک پہنچ جائے تومحال ہے کہ وہ موضوع سچا اورواقع کے مطابق نہ ہو۔
یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام عملی قدروں کو ٹھوکر مار کر بالخصوص یہ ثابت ہونے کے بعد کہ ان سے مراد امام مہدی ہیں علم حدیث کی الف ، با سے ناواقف بعض لوگ جو احادیث مہدی کے متعلق شکوک وشہبات پیدا کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ :۔
یہ اس مہدی پر دلالت نہیں کرتیں تویہ درحقیقت ایک ناشناختہ شکست کا اظہار اوراس بات کا آئینہ دار ہے کہ کسی عقیدے سے بحث کرنے کیلے ان کے پاس فکری مواد بہت کم ہے اسی وجہ سے جھوٹ اورغلط بیانی کی کوئی پروا نہیں کرتے۔
البتہ اصلاح کرنے کے پس پردہ عقائد کو کتابی صنعت کی شکل میں بیان کرنے کی ان کی کوشش اس بات کا مظہر ہے کہ ان کاسر چشمہ مغربی تمدن ہے اسی سے وہ رہنمائی حاصل کرتے ہیں اوراس سلسلے میں انہیں کا پیسہ خرج ہوتا ہے ۔
لیکن وہ لوگ اس بات سے غافل ہیں کہ عقیدہ ہوا کی سمت کوئی کوڑا کرکٹ نہیں اوراس صحیح راہ روش کو انہوں نے ترک کردیا جس کو پیغمبر اکرم اوران کی اہل بیت نے امام مہدی کا پہنچاننے کے لیے معین کیا تھا اوراس کے ساتھ ہی ان کا نام ونسب بھی بتادیا تھا
امام مہدی کی ولادت
امام مہدی کے اہلبیت میں سے ہونے ، ان کے آخری زمانے میں ظہور کرنے اوراس پر مسلمانوں کا اتفاق جان لینے کے بعد ہمیں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کو ثابت کرنے والی دلیلوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
جب کہ امام مہدی کے نسب سے جو بحث ہم نے کی تھی اس کا نتیجہ بھی واضح ہے کہ بیشک امام مہدی اہل بیت کے بارہ اماموں میں سے بارہویں امام ہیں اورآپ کا سلسلہ نسب یوں ہے محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابو طالب علیھم السلام ۔
آپ باپ کی طرف سے حسینی اورماں کی طرف سے حسنی ہیں کیونکہ امام باقر کی والدہ گرامی امام حسن کی دختر اختر جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا تھیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت امام مہدی کی ولادت اوراس کے شرعی ثبوت کے بارے میں بحث کرنا ایک غیر طبیعی بحث ہے مگر بعض تاریخی مغالطوں اورشکوک وشبہات کی وجہ سے جیسا کہ آپ کے چچا جعفر کذاب کا دعوی کرنا کہ میرے بھائی حسن کی کوئی اولاد نہیں تھی ۔
اورحکومت وقت کا ان کے اس دعوی کو قبول کرتے ہوئے امام حسن عسکری کی وارثت ان کے حوالے کردینا جیسا کہ خود علماء شیعہ اثنی عشری نے لکھا ہے اور اگر غیر شیعہ نے لکھا ہے توانہیں کے طرق سے نقل کیا ہے۔
یہی چیز ایک منصف اورغور وفکر کرنے والے کیلیے کافی ہے کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ شیعہ ایک چیز کو نقل کریں اوراس کے بطلان کو ثابت کیے بغیر اس کے خلاف عقیدہ رکھیں یہ ایسا ہی ہے جیسے شیعہ ان روایات کو نقل کرتے ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ معاویہ ، حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں پیغمبر کے ہاں کسی بھی مقام ومرتبے کا قائل نہیں تھا۔
پس معاویہ کا انکار بھی ثابت ہے اورحضرت علی کا مقام ومرتبہ بھی ثابت ہے اوردونوں کا ثبوت یقین کی حدتک ہے۔
اسی طرح شیعوں کے یہاں جعفر کذاب کا انکار اورحکومت وقت کا ان کے انکار سے مطابق عمل درآمد کرنا ثابت ہے اوراس کے مقابلہ میں حضرت امام مہدی کی ولادت بھی ،اقرار ، مشاہدہ اوربرہان کے ساتھ ثابت ہے۔
لیکن مغرب کے دستر خوانوں پر پلنے والے انہیں شبہات سے استفادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اورانہیں (اصلاح )کے نئے اوررنگارنگ لباس سے سجاتے ہیں ۔
چنانچہ ہمارا دعوی ہے کہ کسی شخص کی ولادت صرف اس کے باپ اوردادا کی گواہی سے ثابت ہوجاتی ہے چاہے اسے کسی نے بھی نہ دیکھا ہومورخین نے اس کی ولادت کا اعتراف کیا ہو۔
علماء نساب نے اس کا نسب بیان کیا ہو اس کے قریبی لوگوں نے اس کے ہاتھ پر معجزات کا مشاہدہ کیا ہو اس سے وصیتیں اور تعلیمات ،نصیحتیں اورارشادات ، خطوط ، دعائیں ، درود ، منا جات منقول ہوں ، مشہور اقوال اورمنقول کلمات صادر ہوئے ہوں ، اس کے وکیل معروف ہوں ،ان کے سفیر معلوم ہوں اورہر عصر ونسل میں لاکھوں لوگ اس کے مدر گار اورپیروکار ہوں۔
مجھے اپنی عمر کی قسم!جو شخص ان شبہات کو ابھارتاہے اورحضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کا انکار کرتا ہے کیا اس سے زیادہ ثبوت چاہتا ہے یا اپنی زبان حال کے ساتھ مہدی کو وہی کہہ رہا ہے جو زبان متعال کے ساتھ مشرکین آپ کے جد امجد پیغمبر کے بارے میں کہتے تھے۔
"وقالو الن نومن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعاً ، اوتکون لک جنة من نخیل وعنب فتفجر الانهارخلالها تفجیرا،اوتسقط السماء کمازعمت علینا کسفااو تاتی بالله والملائکة قبیلاً ، اویکون لک بیت من زخرف اوترقی فی السماء ولن نومن لرقیبک حتی تنزل علینا کتابا نقروه! قل سبحان ربی هل کنت الا بشرا رسولا
کفار مکہ نے کہا جب تک تم ہمارے واسطے زمین سے چشمہ جاری نہیں کروگے ہم تم پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یا کھجوروں اورانگوروں کا تمہارا کوئی باغ ہو اس میں تم بیچ بیچ میں نہریں جاری کرکے دکھاویا جیسے تم گمان رکھتے تھے ہم آسمان کو ٹکرے کرکے گراؤ یا خدا اور فرشتوں کو اپنے قول کی تصدیق میں ہمارے سامنے گواہی میں لا کھڑا کرو یا تمہارے رہنے کیلیے کوئی طلائی محل سرا ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاو۔
اورجب تک ہم تم پر (خدا کے ہاں سے ایک )کتاب نازل نہ کرو گے ہم اسے خود پڑھ لیں اس وقت تک ہم تمہارے آسمان پر چڑھنے کے بھی قابل نہیں ہو گے (اے رسول )تم کہہ دو کہ میں ایک آدمی (خدا کے)رسول کے سوا اورکیا ہوں (جو یہ بیہودہ باتیں کرتے ہو(اسراء ۱۷:۹۴۔۹۰)
اے اللہ تعالی ! ہمیں اس کی ہدایت کی کوئی امید نہیں جو حق کو پہچان کر باطل سے تمسک کرتا ہے کیونکہ ج سورج کی روشنی میں نہیں دیکھ سکتا وہ چاند کی روشنی میں کیسے دیکھ سکتا ہے ہم توجاہل تک حق کو پہنچانا چاہتے ہیں اورکمزورایمان ک وقوی کرنا چاہتے ہیں ۔
حضرت امام حسن عسکری کا اپنے فرزند حضرت امام مہدی کی ولادت کی خبر دینا۔
اس کی دلیل وہ روایت ہے جو محمد بن یحییٰ عطار نے احمد بن اسحاق سے انہوں نے ابو ہاشم جعفری سے صحیح سند کے ساتھ نقل کی ہے
وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن عسکری سے عرض کیا آپ کی عظمت مجھے آپ سے سوال کرنے سے روکتی ہے پس مجھے آپ سوال کرنے کی اجازت فرمائیں توآپ نے فرمایا:۔
پوچھو !میں نے عرض کیا اے میرے آقا کیا آپ کا کوئی فرزند ہے ؟
آپ نے فرمایا:۔ ہاں
میں نے کہا اگرآپ کو کوئی حادثہ پیش آگیا تواسے کہاں تلاش کریں ؟فرمایا مدینہ میں "(اصول کافی ۲۔۳۲۸:اباب ۷۶)
اورعلی بن محمد کی محمد بن علی بن بلال سے صحیح روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے امام حسن عسکری نے اپنی وفات سے دوسال قبل خط لکھ کر اپنے خلیفہ کی خبر دی پھر اپنی وفات سے تین دن پہلے خط لکھ کر مجھے یہی خبر دی(اصول کافی ۱: ۳۲۹۔۲باب ۷۶)
علی بن محمد سے مراد ثقہ اورفاضل ادیب ابن بندار ہیں اورمحمد بن علی بن بلال کی وثاقت اورعظمت زبان زد خاص وعام ہے اورعلماء رجال کے بقول ابوالقاسم حسین بن روح جیسے افراد آپ کے پاس آتے تھے۔
دایہ کی امام مہدی کی ولادت کے بارے میں گواہی
یہ پاک وپاکیزہ علوی سیدہ امام جواد کی بیٹی ، امام ہادی کی بہن اورحضرت امام عسکری علیہ السلام کی پھوپھی حکیمہ ہیں امام زمانہ کی ولادت کے وقت آپ کی والدہ نرجس خاتون کی دایہ کا کام آپ نے سر انجام دیا تھا (کمال الدین ۲۔۴۲۴،۱ وباب ۴۲شیخ کی الغیبة ۲۰۴۔۲۳۴)
اورولادت کے بعد امام زمانہ کو دیکھنے کی گواہی دی تھی (اصول کافی ۱:۳۳۰، باب ۷۷، کمال الدین ۲:۴۳۳۔۱۴باب ۴۲)اورولادت کے کام میں بعض عورتوں نے آپ کی مدد کی تھی جیسے ابوعلی خیزرانی کی لونڈی جو اس نے امام عسکری کو ہدیة کے طور پر دی تھی جیسا کہ موثق راوی محمد بن یحییٰ کی روایت میں ہے (کمال الدین ۲:۴۲۱۔۷باب ۴۲)اورامام عسکری کی خادمہ ماریہ اورنسیم (کمال الدین ۲:۴۳۰۔۵باب۴۲۔شیخ کی کتاب الغیبة ۲۱۱۔۲۴۴)
مخفی نہ رہے کہ مسلمانوں کے بچوں کی پیدائش کے وقت ماں کا مشاہدہ فقط دایہ کرتی ہے جو اس کا انکارکرتا ہے وہ ثابت کرے کہ اس کی ماں کو دایہ کے علاوہ کے علاوہ بھی کسی نے دیکھا تھا ۔اور پھر امام مہدی کی ولادت کے بعد امام عسکری نے سنت شریفہ کو جاری کرتے ہوئے عقیقہ کیا تھا جیسا کہ سنت محمدیہ کے پابند لوگ بچے کی پیدائش کے وقت کرتے ہیں۔
آئمة کے اصحاب اورغیر اصحاب میں سے جن لوگوں نے امام مہدی کو دیکھنے کی گواہی دی ہے
امام عسکری کی زندگی میں اورآپ کی اجازت سے آپ کے اورآپ کے والد امام ہادی کے کئی اصحاب نے امام مہدی کو دیکھنے کی گواہی دی ہے۔
جیسا کہ امام عسکری کی وفات کے بعد اورغیبت صغری میں کہ جو۲۶۰ئھ سے ۳۲۹ئھ تک جاری رہی اس میں کئی لوگوں نے امام زمانہ کو دیکھنے کی گواہی دی ہے
ان گواہی دینے والوں کی کثرت کے پیش نظر انہیں دیکھنے کا ذکر کریں گے جنہیں کافی بزرگان متقد میں نے ذکر کیا ہے۔
اوروہ ہیں کلینی (وفات ۳۲۹ہجری)کہ جنہوں نے تقریباً غیبت صغری کا پورا زمانہ پایا ہے۔
صدوق (متوفی ۳۸۱ہجری )کہ جنہوں نے غیبت صغری کے بیس سال زیادہ سال پائے ہیں
شیخ مفید (متوفی ۴۱۳ہجری)اورشیخ طوسی(متوفی ۴۶۰ہجری)اوران روایات میں سے فقط چند ایک کو ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جن میں آپ کو دیکھنے والوں کے نام بھی ہیں۔
اس کے بعد ہم فقط آپ کو دیکھنے والوں کے نام ذکر کریں گے اوریہ بتائیں گے کہ کتب اربعة میں کہاں کہاں پر ان کی روایا ت موجود ہیں۔
۱۔ کلینی نے صحیح سند کے ساتھ محمد بن عبداللہ اورمحمد بن یحییٰ سے انہوں نے عبداللہ بن جعفرحمیری سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں :۔
"میں اورشیخ ابوعمرو ، احمد بن اسحاق کے پاس جمع ہوئے احمد بن اسحاق نے مجھے اشارہ کیا کہ جانشین کے متعلق سوال کروں میں نے کہا اے ابو عمرومیں تم سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں اورجس چیز کا میں سوال کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے کوئی شک نہیں ہے
یہاں تک کہ عمری کی تعریف اورآئمہ کی زبانی اس کی توثیق کرنے کے بعد کہتا ہے پس ابو عمرو سجدے میں گر گئے اورگر یہ کرنے لگے پھر مجھ سے پوچھ جو چاہتا ہے تومیں نے کہا کیا تم نے امام عسکری کے جانشین کو دیکھا ہے؟
انہوں نے جواب دیا ہاں خدا کی قسم اوران کی گردن ایسی ہے اورانہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا میں نے کہا نام کیا ہے توکہا اس کے متعلق سوال کرنا حرام ہے اوریہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں میں کون ہوتا ہوں حلال اورحرام کرنے والا بلکہ امام نے خود فرمایا ہے۔
کیونکہ حکومت سمجھتی ہے کہ امام عسکری فوت ہوگئے اور ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا اور ان کی میراث کو دے دی ہے جس کا کوئی حق نہیں تھا اوران کے عیال ہیں جو چکر کاٹتے پھرتے ہیں اورکوئی جرا ت نہیں کرتا کہ ان کی پہچان کرائے یا انہیں کوئی چیز دے اورجب نام آجائے گا توتلاش شروع ہوجائے گی پس اس سے باز رہو(اصول کافی ۱: ۳۳۰۔۳۲۹۔ ۱باب ۷۷، اورصدوق نے اسے کمال الدین ۱۴۔۴۴۱:۴باب ۴۳، میں صحیح سند کے ساتھ اپنے باپ سے انہوں نے محمد بن حسن سے انہوں نے عبداللہ بن جعفر حمیری سے روایت کیا ہے)
۲۔کافی میں صحیح سند کے ساتھ علی بن محمد جوابن بندار ثقہ انہوں نے مہران قلانسی ثقہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں :۔
میں نے عمری سے کہا حضرت امام حسن عسکری بھی چلے گئے تواس نے کہا چلے گئے لیکن اپنا جانشین تم میں چھوڑ گئے کہ جس کی گردن اس طرح ہے اوراپنے ہاتھ سے اشاری کیا (اصول کافی ۱:۳۲۹۔ ۴باب ۷۶، ۳۳۱۱۔۴باب ۷۷)
۳۔ صدوق نے صحیح سند کے ساتھ جلیل القدر مشایخ سے روایت نقل کی ہے کہتے ہیں ہم سے بیان کیا محمد بن حسن (رضی اللہ عنہ)نے وہ کہتے ہیں ہم سے بیان کیا عبداللہ بن جعفر حمیری نے وہ کہتے ہیں میں نے محمد بن عثمان عمری رضی اللہ عنہ سے کہا میں آپ سے وہی سوال کرناچاہتا ہوں جو ابراہیم نے اپنے پروردگار سے کیا تھا جب انہوں نے کہا تھا :۔
"رب ارنی کیف تحیی الموتی قال اول، تومن قال بلیٰ ولکن لیطمئن قلبی"
"اے میرے پروردگار مجھے دکھا دے کہ توکیسے مردوں کو زندہ کرتا ہے فرمایا :کی توایمان نہیں رکھتا کہا کیوں نہیں لیکن اس لئے کہ میرا دل مطمئن ہوجائے(البقرہ۲:۲۶۰)
پس تومجھے اس حکومت کے وارث کے بارے میں بتا کیا تونے اس کودیکھا ہے تواس نے کہا :ہاں اوراس کی اس طرح گردن ہے اوراپنے ہاتھ سے اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا(کمال الدین ۲:۴۳۵۔۳باب ۴۳)
۴۔ صدوق نے کمال الدین میں روایت نقل کی ہے کہتے ہیں ہم سے بیان کیا ابوجعفر محمد بن علی اسود نے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے علی بن حسین بن موسی بن بابویہ نے محمدبن عثمان عمری کی وفات کے بعد کہا میں ابوالقاسم روحی سے کہوں گا کہ وہ امام زمانہ سے عرض کریں کہ وہ میرے لئے ایک بیٹے کی اللہ سے دعافرمائیں ۔
وہ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا اورانہوں نے آگے بات پہنچائی پھر تین دن کے بعد مجھے خبر دی کہ امام نے علی بن حسین علیھم السلام کے لئے دعامانگی ہے اورعنقریب خداتعالی اسے ایک مبارک بیٹا عطا کرے گا جس کے ذریعے خداتعالی نفع پہنچائے گا اوراس کے بعد اوربچے ہوں گے۔
پھر صدوق اس کے بعد کہتے ہیں :ابو جعفر محمد بن علی اسود جب بھی مجھے اپنے استاد محمد بن حسن بن احمد بن ولید رضی عنہ کے پاس آتے جاتے علوم کو لکھتے اورحفظ کرتے ہوئے دیکھتے توکہتے کہ تعجب نہیں ہے کہ تجھے علم کا اس قدر شوق ہو کیونکہ تو امام زمانہ کی دعا سے پیدا ہواہے(کمال الدین ۲:۵۰۲۔۳۱باب ۲۵)
۵۔شیخ طوسی نے کتاب الغیبہ میں جلیل القدر علماء سے روادیت کی کہتے ہیں "مجھے خبر دی محمد بن محمد بن نعمان اورحسین بن عبیداللہ نے ابو عبداللہ محمد بن احمد بن صفوانی سے وہ کہتے ہیں شیخ ابوالقاسم (رضی اللہ عنہ )نے ابو الحسن علی بن سمری کو وصیت کی۔
چنانچہ آپ بھی ابوالقاسم تیسراسفیرہی کی طرح کام کرتے ہیں رہے جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا توشیعہ آپ کے پاس آئے اورسوال کیا کیا کہ آپ کے بعد وکیل اورآپ کا قائم مقام کون ہے توآپ نے صرف اتنا بتایا کہ مجھے اس سلسلے میں اپنے بعد کسی کو وصیت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا(کتاب الغیبة شیخ طوسی ۲۶۳۔۳۹۴)
اورواضح ہے کہ سمری کا مقام امام علیہ السلام کی وکالت میں وہی ہے جو ابوالقاسم حسین بن روح کا ہے لہذا ضرورت کے وقت آپ امام کی طرف رجوع کرتے تھے اورآپ کی زیارت سے شرفیاب ہوتے تھے
اسی وجہ سے امام زمانہ کے ارشادات ، وصیتیں اورحکام ان کے چارسفیروں کی روایات میں متواتر ہیں(یہ سب تین جلدوں میں "المختارمن کلمات الامام المہدی"تالیف شیخ غروی کے نام سے چھپ چکی ہے)
اوردیگر کثیر روایات موجود ہیں جو دلالت کرتی ہیں کہ چار سفیر وں میں سے ہر ایک نے اپنی وکالت کے زمانے میں امام کو دیکھا تھا اوربہت سارے مواقو میں توشیعوں کے سامنے دیکھا۔
جیساکہ ہم امام زمانہ کو دیکھنے والوں کے ناموں میں اس کی طرف اشارہ کریں گے دیکھنے والے مندرجہ ذیل ہیں
ابراہیم بن ادریس ابواحمد (الکافی ۱:۳۳۱۔۸باب۷۷۔ارشادشیخ مفید ۲:۲۵۲شیخ طوسی کی کتاب الغیبة ۲۳۲۔۲۶۸اور۳۱۹،۳۵۷)
ابراہیم بن عبدہ نیشاپوری (الکافی ۱:۳۳۱۔۶باب ۷۷، ارشاد ۲:۳۵۲، الغیبة ۲۳۱۔۲۶۸)ابراہیم بن محمدتبریزی(الغیبة۲۲۶۔۲۵۹)
ابراہیم بن مہز یار ابو اسحاق اہوازی (کمال الدین ۲:۴۴۵۔۱۹باب ۲۳)احمد بن اسحاق بن سعد اشعری(کمال الدین ۲:۳۸۴۔۱باب ۳۸)
اوراس نے امام کو دوسری مرتبہ (شیخ صدوق کے والد اورکلینی کے مشایخ میں سے )سعد بن عبداللہ بن ابی خلف اشعری کے ہمراہ بھی دیکھا تھا(کمال الدین ۲:۴۵۶۔۲۱باب ۴۳)احمد بن حسین بن عبدالملک ابو جعفر ازدی بعض نے کہا ہے اودی (کمال الدین ۲:۴۴۴۔۱۸باب ۴۳۔الغیبة ۲۲۳۔۲۵۳)عباس کی اولاد میں سے احمد بن عبداللہ ہاشمی انتالیس مردوں کے ہمراہ(الغیبة ۲۲۶۔۲۵۸)احمد بن محمد بن مطہر ابو علی جو امام ہادی اورامام عسکری کے اصحاب میں سے ہیں(الکافی ۱: ۳۳۱۔۵ باب ۷۷ ۔ارشاد ۲:۲۳۵۲۔الغیبة ۲۳۳:۲۶۹)
ابو غالی ملعون احمد بن ہلال ابو جعفر العبر تائی ایک جماعت کے ہمراہکہ جس میں علی بن بلال ،محمد بن معاویہ بن حکیم ، حسن بن ایوب بن نوح ، عثمان بن سعید عمری (رضی اللہ عنہ )اوردیگر افراد ان کی پوری تعداد چالیس تھی(الغیبة ۳۱۹۔۳۵۷)اسماعیل بن علی النو بختی ابو سہل (الغیبة ۲۳۷۔۲۷۲)ابو عبداللہ بن صالح(الکافی ۱:۳۳۱۔۷باب ۷۷ ، ارشاد ۲:۳۵۲)ابو محمد الحسن بن وجناء النصیبی (کمال الدین ۲:۴۴۳۔۱۷باب ۴۳)ابو ہارون جو محمد بن حسن کرخی کے مشایخ میں سے ہیں (کمال الدین ۲:۴۳۲، ۹باب ۴۳،اور ۴۳۴۲۔۱باب ۴۳)امام زمانہ کا چچا جعفر کذاب اس نے آپ کو دومرتبہ دیکھا تھا (الکافی ۱:۳۳۱۔۹باب ۷۷، کمال الدین ۲:۴۴۲۔۱۵باب ۴۳الارشاد۲:۳۵۳الغیبة ۲۱۷۔۱۴۷)سیدہ علویة حکیمہ بنت امام جواد(الکافی ۱:۳۳۱۔۳باب ۷۷، کمال الدین ۲:۴۲۴، ۱باب ۴۲اور۲:۴۲۶۔۲باب ۴۲، الارشاد ۲:۳۵۱،الغیبة ۲۰۴،۲۳۴اور۲۰۵۔۲۳۷اور۲۰۷۔۲۳۹)
زہری اوربعض نے کہا ہے زہرانی اور اس کے ہمراہ عمری (رضی اللہ عنہ )تھے (الغیبة ۲۳۶۔۲۷۱)رشیق صاحب المادرای (الغیبة ۲۱۸۔۲۴۸)
اورابو القاسم روحی (رضی اللہ تعالی عنہ)(کمال الدین ۲:۵۰۲۔۶۱باب ۴۵، الغیبة ۲۶۶۔۳۲۰اور۲۶۹۔۳۲۲)
عبداللہ سوری(کمال الدین ۲:۴۴۱۔۱۳باب ۴۳)عمرواہوازی(الکافی ۱:۳۲۸۔۳باب ۷۶اور۱:۳۳۲۔۱۲باب ۷۷ ، ارشاد۲:۳۵۳، الغیبة ۲۰۳۔۲۳۴)
علی بن ابراہیم بن مہزیار اہوازی(الغیبة ۲۲۸۔۲۶۳)جعفر بن ابراہیم یمانی کا ایلیچی علی بن محمد شمشاطی (کمال الدین ۲:۴۰۱۔۱۴باب ۴۵)
غانم ابو سعید ہندی(الکافی ۱:۵۱۵۔۳ باب ۱۲۵، کمال الدین ۲:۴۳۷، حدنمبر ۶کے بعد باب ۴۳۔)کامل بن ابراہیم مدنی (الغیبة ۲۱۶۔۲۴۷)ابو عمروعثمان بن سعید عمری(الکافی ۱:۳۲۹۔۱باب ۷۶، اور۱۰:۳۲۹،۴باب ۷۶، اور۱:ا۳۳۔۴باب ۷۷، الارشاد۲:۳۵۱، الغیبة ۳۱۶۔۳۵۵)محمد بن احمد انصاری ابو نعیم زیدی ۔
اورامام کو دیکھنے میں ان کے ہمراہ تھے ابو علی محمودی ۔علان کلینی ۔ ابو ہثیم دیناری ابوجعفر احول ہمدانی اوریہ تقریبا تیس مرد تھے کہ جن میں سید محمد بن قاسم علوی عقیقی بھی شامل تھے (کمال الدین ۲:۴۷۰۔۲۴باب ۷۳، الغیبة ۲۲۷۔۲۵۹)
سید موسوی محمد بن اسماعیل بن امام موسی بن جعفر اوریہ اس زمانے میں پیغمبر کی اولاد میں سے سب سے زیادہ بوڑھے تھے (الکافی ۱:۳۳۰۔۲باب ۷۷، ارشاد۲:۳۵۱، الغیبة ۲۳۰۔۲۶۸)شہر قم کے شیعوں کے وفد کے قائد کے طور پر محمد بن جعفر ابو العباس حمیری (کمال الدین ۲:۴۷۷حدیث ۶کے بعد باب ۴۳)
محمد بن حسن بن عبداللہ تمیمی زیدی المعروف ابو سورة (الغیبة ۲۳۴۔۲۶۹، اور۲۳۵۔۲۷۰)اورمحمد بن صالح بن علی بن محمد بن قنبر الکبیر امام رضا کا غلام(کمال الدین ۲:۴۴۲۔۱۵باب ۴۳، اس نے جعفر کذاب کا امام کا زمانہ کو دیکھنا بیان کیا ہے اورظاہر ہے کہ اس نے خود بھی دیکھا ہیلیکن کافی میں واضح طور پر فرمایا ہے کہ اس نے خود نہیں دیکھا لیکن اس کو دیکھا ہے جس نے امام کو دیکھا تھا اوروہ جعفر کذاب ہے کافی :۳۳۱۔۹باب ۷۷)
محمد عثمان عمری (رضی اللہ عنہ (کمال الدین ۲:۴۳۳۔۱۳باب ۴۲، اور۲۴۳۵۔۳باب ۴۳اور،۲:۴۴۰۔۹ باب ۴۳اور۲:۴۴۰۔۱۰باب ۴۳، اور۴۴۱۲۔۱۴باب ۴۳)
اورانہوں نے حضرت امام حسن عسکری کی اجازت سے چالیس مردوں کے ہمراہ آپ کی زیارت کی تھی کہ جن میں معاویہ بن حکیم اورمحمد بن ایوب بن نوح بھی تھے (کما ل الدین ۲:۴۳۵۔۲باب ۴۳)یعقوب بن منفوش (کما ل الدین ۲:۲۴۳۷۔۵باب ۴۳)یعقوب بن یوسف ضراب غسانی (الغیبة ۲۳۸۔۲۷۳)اوریوسف بن احمد جعفری (الغیبة ۲۲۵۔۲۵۷)
امام مہدی کے وکلاء اورآپ کے معجزات کا مشاہدہ کرنے والوں نے آپ کو دیکھنے کی گواہی دی ہے
صدوق نے پتوں سمیت ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے امام مہدی کے معجزات کا مشاہدہ کیا ہے اورآپ کی زیارت بھی کی ہے بعض آپ کے وکلاء ہیں بعض ان کے علاوہ ،ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کررہے ہیں اوران کی تعداد اسقدر زیادہ ہے کہ ان کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہے بالخصوص اس تناظر میں کہ یہ مختلف علاقوں سے ہیں ۔
بغداد سے :۔عمری کا بیٹا ، حاجز ، ہلالی ، عطار
کوفہ سے :۔ عاصمی
اہواز سے :۔ محمد بن ابراہیم بن مہزیار
قم سے :۔احمد بن اسحاق۔
ہمدان سے :۔محمد بن صالح
شہرری سے :۔بسامی اوراسدی (محمد بن ابی عبداللہ کوفی)
آذربایجان سے :۔قاسم سب علاء
نیشاپورسے :۔محمد بن شاذان
وکلاء کے علاوہ دوسرے حضرات۔
بغداد سے :۔ابو القاسم بن ابو حلیس ، ابوعبداللہ کندی ، ابو عبداللہ جنیدی ، ہارون قزار ، نیلی ، ابو القاسم بن دبیس ، ابو عبداللہ بن فروخ ابو الحسن کا غلام مسرور طباخ ، حسن کے دونوں بیٹے احمد اورمحمد اورنوبخت خاندان سے اسحاق کا تب وغیرہ ہیں ۔
ہمدان سے :۔محمدبن کشمرد ، جعفر بن حمدان اورمحمد بن ہارون بن عمران
دینورسے :۔حسن بن ہارون ، احمد بن سعید اخیہ ّاورابو الحسن۔
اصفہان سے :۔ابن باذالہ
صیمرہ سے :۔زیدان
قم سے :۔حسن بن نضر ، محمد بن محمد علی بن اسحاق اوراس کے والد اورحسن بن یقوب
ری سے:۔ قاسم بن موسی ، اس کا بیٹا،ابو محمد بن ہارون ، علی بن محمد ، محمد بن محمد کلینی اورابو جعفر رفاء۔
قزوین سے :۔مرداس اورعلی بن احمد
نیشابور سے:۔محمد بن شعیب بن صالح ۔
یمن سے :۔فضل بن یزید ، حسن بن فضل بن یزید ، جعفری ، ابن اعجمی اورعلی بن محمد شمشاطی ۔
مصر سے :۔ ابوراجء وغیرہ ۔
نصبین سے :۔ ابو محمد حسن بن وجنا ء نصیبی
نیز شہروز ،صیمرہ،فارس،اورمروکے شہروں سے بھی امام کو دیکھنے والوں کوذکر کیا ہے(کما ل الدین ۲:۴۴۳:۴۴۲۔۱۶باب ۴۳)
خدام ، خادماؤں اورکنیزوں کی حضرت امام مہدی کو دیکھنے کی گواہی
حضرت امام مہدی کا مشاہدہ ان لوگوں نے بھی کیا تھا جو آپ کے والد گرامی حضرت امام عسکری کے گھر میں خدمت گزار تھے۔
اسی طرح بعض نوکرانیوں اورلونڈیوں نے جیسا کہ طریف خادم ابو نصر (الکافی ۱:۳۳۲۔۱۳باب ۷۷، کمال الدین ۲:۴۴۱۔۱۲باب ۴۳ارشاد۲:۳۵۴، الغیبة ۲۱۵۔۲۴۲، اوراس میں طریف کی بجائے ظریف ہے)ابراہیم بن عبدة نیشا بوری کی خادمہ کہ جس نے اپنے آقا کے ہمراہ امام زمانہ کی زیارت کی تھی(الکافی ۱:۳۳۱۔۲باب ۷۷، ارشاد ۲:۳۵۲، الغیبة ۲۳۱۔۲۶۸)خادم ابو ادیان (الکافی ۲۔۴۷۵، حدیث۲۵، کے باب ۴۳)
خادم ابو غانم جو کہتا ہے "حضرت امام حسن عسکری کہ ہاں بیٹا پیدا ہوا آپ نے اس کا نام محمد رکھا اورتیسرے دن اپنے اصحاب کے سامنے اسے پیش کیا اورفرمایا:۔
"هذا صاحبکم من بعدی ، وخلیفتی علیکم ، وهو القائم الذی تمتدالیه الاعناق بالانتظار، فازا امتلات الارض جوراوظلما خرج فملاقسطاوعدلا "
"میرے بعد یہ تمہارا ساتھی اورمیرا خلیفہ ہے اور یہی وہ قائم ہے جس کا لوگ انتظار کریں گے اورجب زمین ظلم وجورسے پر ہو جائے گی تویہ ظاہر ہو کر اسے عدل وانصاف سے پر کردے گا"(کمال الدین ۲:۴۳۱۔۸باب ۴۲)
نیز اسی چیز کی گواہی دی ہے خادم عقیدنے(کمال الدین ۲:۴۷۴، حدیث۲۵، کے بعد باب ۴۳، الغیبة ۲۳۷)خادمہ عجوز(الغیة ۲:۲۷۳۔۲۷۶۔۲۳۸)
اورابو علی خیزرانی کی وہ کنیز جو اس نے حضرت امام حسن عسکری کو ہدیہ کے طور پر دی تھی (کمال الدین ۲:۴۳۱۔۷باب ۴۲)
اورجن خادماؤں نے امام مہدی کو دیکھنے کی گواہی دء ہے ان میں نسیم (کمال الدین :۴۴۱۔۱۱باب ۴۳)
اورماریہ بھی شامل ہیں(کمال الدین ۲:۴۳۰۔۵باب ۴۲، اوراس موقع پر نسیم نے ماریہ کے ہمراہ امام زمانہ کی زیارت کی)
ابو الحسن کے غلام مسرور طباخ نے بھی اسی طرح کی گواہی دی ہے (کمال الدین ۲:۴۴۲۔۱۶باب ۴۳)
ان سارے لوگوں نے ویسی ہی گواہی دی ہے جیسی کہ امام عسکری کے گھر میں رہنے والے خادم ابو غانم نے دی ہے۔
حکومتی اقدامات امام مہدی کی ولادت کی دلیل ہیں
حضرت امام حسن عسکری ربیع الثانی ۲۳۲ئھ ہجری میں پیدا ہوئے اورآپ بنی عباس کے تین بادشاہوں معتز (متوفی ۲۵۵ہجری)اورالمہتدی (متوفی ۲۵۶ہجری)اورمعتمد(متوفی ۲۷۹ہجری)کے ہم عصر رہے۔
معتمد ایل بیت کے خلاف سخت کینہ اورتعصب رکھتا تھا اس کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ کی مشہورکتابیں جیسے طبری وغیرہ اوراگر آپ ۲۵۷ء ھ ہجری،۲۵۹ ئھ ہجری اور۲۶۰ہجری وغیرہ اوراگر آپ مطالعہ کریں کہ جو اس کی حکومت کے پہلے سال ہیں توآپ کو آئمہ علیھم السلام کے خلاف اس کے کینہ اوردشمنی کا بخوبی اندازہ ہو جا ئے گا۔
اوراللہ تعالی نے اسے زندگی ہی میں سزا دی کیونکہ اس کے پاس بالکل کچھ نہیں رہا تھا حتی کہ اسے تین سو دینار کی ضرورت ہوئی جو اسے نہ مل سکے اوراس کی موت بھی بہت بریت طریقے سے ہوئی کہ ترک اس سے ناراض ہوگئے اورمورخین کا اتفاق ہے کہ انہوں نے پگھلے ہوئے سیسے میں پھینک کراسے ہلاک کردیا۔
اس کے انتہائی گھٹیا اورکمینگی پرمبنی اقدامات میں سے ایک یہ تھا کہ امام حسن عسکری کی وفات کے بعد اس نے فوری طور پر اپنے سپاہیوں کو آپ کے گھر کی دقیق تلاشی لینے اورامام مہدی کے متعلق جستجو کرنے کا حکم دیا ۔
نیز حکن دیا کہ آپ کی نوکرانیوں کو قید کردیا جائے اورآپ کی عورتوں کو رسن باندھ دئیے جائیں اورجعفرکذاب شیعوں کے پاس اپنے بھائی عسکری والا مقام ومرتبہ حاصل کرنے کے لالچ میں اس کی مدد کر رہا تھا اورجیسا کہ شیخ مفید نے لکھا ہے اسی وجہ سے امام عسکری کے پسماندہ گان پر قید وبند اورتذلیل توہین جیسی مصیبتیں ٹوٹ پڑیں (الارشاد۲:۳۳۶)
یہ سارے اقدامات اس وقت کئے جا رہے تھے جب حضرت امام مہدی کی عمر شریف صرف پا نچ برس تھی اوریہ جان لینے کے بعد کہ یہی بچہ وہ امام ہے جو طاغوت کے سر کو کچل دے گا معتمد عباسی کے لیے آپ کی عمر مہم نہیں تھی کیونکہ وہ متواتر روایات میں دیکھ چکا تھا کہ اہل بیت کا بارہواں امام دنیا کو ظلم وجورکے ساتھ پر ہونے کے بعد عدل وانصاف سے پر کردے گا۔
پس امام مہدی کے بارے میں اس کا وہی موقف تھ اجو فرعون کا موسی کہ بارے میں تھا چنانچہ خوف کی وجہ سے موسی کی ماں نے بچپن ہی میں آپ کو سمندر کی لہروں کے حوالے کردیا تھا
اوراس حقیقت کا فقط معتمد عباسی ہی کو علم نہیں ہوا تھا بلکہ اس سے پہلے معتز اورمہدی بھی اس کو جان چکے تھے اس لئے امام عسکری کی مسلسل یہ کوشش رہی کہ امام مہدی کی خبر آپ کے مخلص شیعہ اورچاہنے والوں سے باہر نہ نکلے۔
ساتھ ساتھ آپ نے اپنی وفات کے بعد شیعوں کوقیادت والے مسئلے میں اختلاف سے بچانے کے لیے مناسب اقدامات اوراحتیاطی تدابیر بھی اختیار کررکھی تھیں چنانچہ آپ نے کئی بارخود اپنے شیعوں امام مہدی کی ولادت کی خبردی
نیز اسے مخفی رکھنے کی بھی ہدایت کی تاکہ کہیں وقت کے طاغوتوں کو اس کا علم نہ ہو جائے کہ یہ وہی بارہواں امام ہے جس کے متعلق جابر بن سمرہ کی وہ حدیث ہے جسے کثیر لوگوں نے روایت کیا ہے اوراسے متواتر قرار دیا ہے ورنہ اس نوعمر بچے سے تخت معتمد کو اورکیا خطرہ ہو سکتا ہے کہ جس کی عمرابھی پانچ سال سے متجاوزنہیں ہوئی
اگراسے یہ علم نہ ہوتاکہ یہ وہی حضرت مہدی منتظر علیہ السلام ہے کہ جس کے درخشندہ دور کی خبر احادیث متواترہ نے دی ہے اورظالم وجابر حکمرانوں کے بارے میں اس کے موقف کی روایات نے وضاحت کی ہے۔
اگرایسا نہیں ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے توحکومت جعفر کذاب کی اس گواہی سے کیوں قانع نہ ہوئی کہ اس کا بھائی عسکری فوت ہوا ہے اوراس کا کوئی بیٹا نہیں ہے؟
کیا حکومت یہ نہیں کرسکتی تھی کہ جعفرکذاب کو اپنے بھائی کی وراثت دے دیتی بغیر ان احمقانہ اقدامات کے جو امام عسکری کے فرزند سے حکمرانوں کے خوف زدہ ہونے پر دلالت کرتے ہیں؟
کہا جاتا ہے حکمرانوں کی کوشش کی تھی کہ حق حقدار ہی کو ملے اس لیے وہ امام عسکری کے جانشین کے بارے میں جستجو کررہے تھے تاکہ جعفرکذاب اپنے دعویٰ کی بنا پر ناحق میراث نہ لے جائے
ہم کہتے ہیں:۔اگریوں ہوتا توپھر حکومت کو ایسے شکوک وشبہات پیدا کرنے والے طریقے سے امام مہدی کے بارے میں جستجو نہیں کرنی چاہئے تھی بلکہ حکومت کے لیے ضروری تھا کہ جعفرکذاب کے دعوے کو کسی قاضی کے پاس بھیج دیتی بالخصوص جب یہ مسئلہ میراث کاتھا اور اس قسم کے مسائل ہردن پیش آتے رہتے تھے۔
اورپھر قاضی کا کام تھا تحقیقات کرنا اور امام عسکری کی ماں آپ کی بیویوں ، خادماوں اورخاندان اہل بیت میں سے آپ کے دیگر مقربین کو طلب کرکے گواہی مانگنا پھر ا ن کی گواہیوں کی روشنی میں فیصلہ صادر کرنا لیکن یوں حکومت کا خود اس مسئلے کے درپے ہونا۔
اورپھر حکومت کے شخص اول کا اتنی جلدی اس مسئلے میں دلچسپی لینا کہ ابھی امام عسکری دفن بھی نہیں ہوئے اورعدالت کے خصوصی مسائل میں سے ہونے کے باوجود اس کی دائرہ اختیار سے اسے خارج کرنا اورسپاہیوں کا امام عسکری کے گھت میں موجود افراد پر اچانک چھاپہ مارنا۔
یہ سب چیزیں اس بات کی دلیل ہیں کہ حکام وقت کو امام مہدی کی ولادت کا یقین تھا اگرچہ انہوں نے انہیں دیکھا نہیں تھا کیونکہ انہیں پہلے سے ہی اہل بیت کے بارہویں امام کا علم ہوچکا تھا۔
جیسا کہ ہم اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ حکومت امام مہدی کو راستے سے ہٹانے کی غرض سے تلاش کررہی تھی نہ اس لیے کہ حقدار تک ھق پہنچانے بلکہ اس پر قبضہ کرنا اوراسے غصب کرنے کے لیے یہ سب کچھ کررہی تھی کیونکہ امام عسکری کی زندگی میں اس کے لیے کوئی بہانا ہاتھ نہیں آیا تھا۔
لہذا آپ کی غیبت کے رازوں میں سے ایک راز آپ کی جان کو لاحق یہ خوف تھا جیسا کہ غیبت سے دسیوں سال پہلے آپ کے آباواجداد اس سلسلے میں فرماچکے تھے
علما انساب نے حضرت امام مہدی کی ولادت کا اعتراف کیا ہے
بیشک ہرفن میں اسی فن کے ماہر ین کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اورہمارے اس مسئلے کا تعلق علماء انساب سے ہے اوراس مسئلے میں وہی بہترین فیصلہ کرسکتے ہیں ان میں سے بعض کا نظریہ ملاحظہ فرمائیں۔
۱-علم انساب کا مشہور ماہر ابونصر سہل بن عبداللہ بن داودبن سلیمان بخاری
جوچوتھی صدی کے علماء میں سے ہیں اوروہ ۳۴۱ہجری کو زندہ تھے اورامام زمانہ کی غیبت صغری جو ۳۲۹ہجری میں ختم ہوئی کے معاصر علماء انساب میں سب سے زیادہ مشہور ہیں۔
وہ "سرالسلسلة العلویة"میں کہتے ہیں محمد تقی کے فرزند علی نقی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس کانام تھا حسن عسکری آپ کی ماں ایک ام ولد نوبیہ تھی جسے ریحانہ کے نام سے پکاراجاتا تھا۱پ ۲۳۱ہجری کو پیدا ہوئے اورآپ نے ۲۶۰ئہجری میں سامرہ میں وفات پائی اس وقت آپکی عمر انتیس برس تھی ۔
حضرت امام علی نقی کے ہاں جعفر بھی پیدا ہوا جسے شیعہ جعفر کذاب کہتے ہیں کیونکہ اس نے اپنے بھائی حسن کی میراث کا دعوی ٰ کیا تھا اوراس نے ان کے فرزند قائم حجت کا انکار کیا جس کے نسب میں کوئی شک نہیں ہے۔(’سرالسلسلۃ العلویۃ‘ابو نصر بخاری۳۹)
۲۔ پانچویں صدی ہجری جے علماء میں سے مشہور نساب سید عمری:۔
کہتے ہیں جب امام حسن عسکری نے وفات پائی تواس وقت جناب نرجس سے آپ کے فرزند کا آپ کے رشتہ داروں اورخاص شیعوں کو علم تھا۔
اورہم عنقریب آپ کی ولادت کے حالات اوران روایات کو ذکر کریں گے جو اس سلسلے میں وارد ہوئی ہیں اورمومنین بلکہ سب لوگوں کی آپ کی غیبت کے زریعے آزمائش کی جارہی ہے
اورجعفر بن علی نے اپنے بھائی کے مال اورآپ کی تقسیم کے سلسلے میں ان سے زیادتی کی اوراس نے انکارکردیا کہ ان کا کوئی بیٹا ہے اوربعض فرعونوں نے آپ کے بھائی کی خادماوں پرقابض ہونے کے سلسلے پر قابج ہونے کے سلسلے میں اس کی مدد کی(المجدی فی انساب الطالبیین ۱۳۰)
۳۔فخر رازی شافعی
(متوفی ۶۰۶ہجری)اپنی کتاب الشجرہ المبارکة فی انساب الطالبیة میں "امام عسکری کی اولاد"کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں
"امام حسن عسکری کے دوبیٹے اوردو بیٹیاں تھیں بیٹوں میں سے ایک صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ہیں اوردوسرا موسی ہے جو اپنے پاب کی زندگی میں فوت ہو گیاتھا اوربیٹیوں میں ایک فاطمہ ہے جو باپ کی زندگی میں ہی فوت ہوگئی اوردوسری ام موسی یہ بھی فوت گئی تھی(الشجرة المبارکة فی انساب الطالبیة فخر رازی ۷۹۔۷۸)
۴۔مروزی ازوی قانی
(متوفی ۶۱۴ہجری کے بعد)نے اپنی کتاب "الفخری"میں امام علی نقی کے بیٹے جعفر کو کذاب کہا جاتا ہے اس لیے کہ اس نے اپنے بھائی کے بیٹے کا انکار کیا تھا (الفخری فی انساب الطالبیین:۷)اوریہ چیز بہترین دلیل ہے کہ مروزی امام مہدی کی ولادت کا عقیدہ رکھتے تھے۔
۵۔علم انساب کے ماہر سید جمال الدین احمد بن علی الحسینی :۔
المعروف ابن عنبہ (متوفی ۸۶۸)اپنی کتاب "عمدة الطالب فی انساب آل ابی طالب" میں لکھتے ہیں
"رہے علی یادی توسر من رای میں ٹھرنے کی وجہ سے ان کا لقب عسکری ہے اوراس کو عسکر بھی کہا جا تاتھا آپ کی والدہ گرامی ایک ام ولد ہیں جو نہایت فضلیت وشرافت کی مالکہتھیں متوکل نے آپ کو سرمن رای بھیج دیا تھا اوروفات تک وہیں ٹھہرایا تھا اورآپ کے دوبیٹے تھے امام حسن عسکری علم وزہد میں بے مثال تھے اورشیعوں کے بارہویں امام مہدی کے یہی والد ہیں اورمہدی ہی قائم منتظر ہیں کہ جن کی والدہ کا نام نرجس ہے
آپ کا بھائی عبداللہ جعفر ہے جس کا لقب کذاب ہے کیونکہ اس نے اپنے بھائی حسن کی وفات کے بعد امامت کا دعوی کیا تھا(عمدة الطالب فی انساب آل ابی طالب۱۹۹)
فصول فخریہ جو فارسی میں چھپی ہے میں کہتے ہیں ابو محمد حسن جنہیں عسکری کہا جا تا ہے اورعسکر سامراء کو کہا جا تا ہے متوکل نے آپ کو آپکے والد کو مدینہ سے سامراء بلا کرروک لیا تھا
۶۔ گیارہویں صدی کے علماء انساب میں سے زیدی ابو الحسن محمد حسینی یمانی صنعانی :۔
انہوں نے امام محمد باقر کی اولاد کا نسب بیان کرنے کے لیے ایک شجرہ نسب بنایا ہے اورامام علی نقی کے نام کے نیچے آپ کے پانچ بیٹوں کا ذکر کرتے ہیں
امام عسکری ، حسین ،موسی، محمد،علی اورپھر امام عسکری کے نام کے نیچے بلاوسطہ لکھتے ہیں "محمد "اوراس کے بالمقابل لکھتے ہیں "شیعوں کا منتظر "(روضة الباب لمعرفة الانساب سیدابوالحسن محمد حسینی یمانی صنعانی ۱۰۵)
۷۔محمد امین سویدی
:۔(متوفی ۱۲۴۶)اپنی کتاب "سبائک الذہب فی معرفة قبائل العرب "میں لکھتے ہیں محمد مہدی کی مران کے والد کی وفات کے وقت پانچ سال تھی آپ درمیانہ قد اونچی تیکھی ناک روشن خوبصورت بال اورچہرے کے مالک تھے۔(سبائک الذہب سویدی ۳۴۶)
۸۔ ہم عصر نساب محمد ویس حیدری شامی:۔
اپنی کتاب الدرر البہیہ فی الانساب الحیدریہ والا ویسیہ "میں امام علی نقی کی اولاد کے بارے میں لکھتے ہیں آپ کے پاس پانچ بچے تھے ،محمد ، جعفر،حسین، امام عسکری اورعائشہ پھر حضرت امام حسن عسکری کے فرزند مہدی ہیں جو غائب ہیں
پھر بلافاصلہ اس کے بعد عنوان "امام محمد مہدی اورامام حسن عسکری "کے ذیل میں کہتے ہیں امام حسن عسکری ۲۳۱ئھ کو مدینہ میں پیدا ہوئے اور۲۶۰ئھ کو سامراء میں وفات پائی ۔امام محمد مہدی کے لیے بالکل کسی اولاد کا ذکر نہیں کیا گیا (الدرر البہیہ فی الانساب الحیدریہ والا یسة طبع حلب شام ۱۴۰۵ئہجری )
پھر وہ اپنی آخری عبارت کے حاشیے پر لکھتے ہیں امام مہدی پندرہ شعبان ۲۵۵ئہجری کو پیدا ہوئے آپ کی والدہ ماجد ہ نرجس خاتون ہیں
اورآپ کے حلیے کے بارے میں لکھتے ہیں "انتہائی سفید رنگ‘روشن پیشانی ، علیحدہ علیحدہ آبرو، چمکیلے رخسار ، اونچی تیکھی ناک ، تعجب آور حسن ، سرو کے درخت کی طرح سیدھی قدوقامت ، پیشانی چمکتے دمکتے ستارے کی طرح روشن ہے دائیں رخسار پر تل ہے جیسے چاندی کی سفیدی پر کستوری کے ذرے ہوں گھنے بال ہیں جو کانوں کو ڈھانپے ہوئے ہیں ، آنکھوں سے حسن ، شگفتگی اورحیا میں ان سے بڑھ کر کوئی نہیں دیکھا(حاشیہ الدرر البہیہ ۷۴۔۷۳)
یہ امام مہدی کی ولادت کے بارے میں علماء انساب کے اقوال تھے ان میں شیعوں کے ساتھ ساتھ سنی اورزیدی بھی تھے اورضرب المثل ہے کہ مکہ والے اپنے قبیلوں کو بہتر جانتے ہیں ۔
علماء اہل سنت کا اعتراف حضرت امام مہدی کی ولادت کے سلسلے میں
حضرت امام مہدی کی ولادت کااعتراف سنی علماء نے تحریری طور پر کیا ہے اوراس کا سلسلہ کسی زمانہ میں منقطع نہیں ہوا ہے بعض نے اس سلسلہ میں خاص بحث کی اوراس کا غیبت صغری (۲۶۰۔۳۲۹ہجری)سے لیکر آج تک جاری ہے
ہم ان میں فقط بعض کو ذکر کریں گے مزید تفصیل کے لیے ان اعترافات کے دیگر مجموعوں کی طرف رجوع کریں(ملاحظہ ہو سید قزویجنی کی کتاب "ایمان الصحیح "شیخ مہدی فقیہ ایمانی کی کتاب "الامام المہدی فی نہج البلاغہ "تبریزی کی "من ھو الامام المہدی "شیخ علی یزدی حائری کی "الزام الناصب "استاد علی محمد دخلیل کی "الامام المہدی "سید ثامر عمیدی کی "دفاع عن الکافی "اس میں اہل سنت کے ایک سو اٹھائیس علما ء کے نام ان کی صدیوں کی ترتیب سے مذکور ہیں کہ جہنوں نے امام مہدی کی ولادت کا اعتراف کیاہے)
ان میں سے پہلا ابو بکر محمد بن ہارون رویانی (وفات ۳۰۷ء)ہجری اپنی کتاب المسند (خطی نسخہ )میں اورآخری استاد معاصر یونس احمد سامرائی ہے اپنی کتاب "سامراء فی ادب القرن الثالث الہجری "میں یہ کتاب بغداد یونیورسٹی کی مدد سے ۱۹۶۸میلادی میں چھپی تھی ۔
ملاحظہ ہو دفاعن الکافی"۱:۵۹۲۔۵۶۸،الدلیل السادس اعترافات اہل السنة "کے عنوان کے ذیل میں)
۱۔ ابن اثیر جزری عزالدین :۔(متوفی ۶۳۰ہجری)نے انی کتاب الکامل فی التاریخ "میں ۲۶۰ء ہجری کے واقعات میں لکھا ہے
اسی سال حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام فوت ہوئے اورشیعوں کے بارہ اماموں میں سے ایک ہیں اورشیعوں کے جو مہدی منتظر کے والد یہی ہیں (الکامل فی التاریخ ۷:۲۷۴،۲۶۰ہجری کے آخری واقعات میں )
۲۔ ابن خلکان :۔(متوفی ۶۸۰ہجری)وفیات الاعیان میں لکھتے ہیں شیعوں کے عقیدے کے مطابق امام حسن عسکری کے فرز ند ابوالقاسم محمد جو حجت کینام سے مشہور ہیں بارہویں امام ہیں آپ پندرہ شعبان ۲۵۵ ئہجری روز جمعہ کو پیدا ہوئے
پھر مورخ ابن ازرق فارقی (متوفی ۵۷۷ہجری )سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے تاریخ "میا فارقین "میں لکجا ہے یہی حجة نو ربیع اول ۲۵۷ ء ہجری کو پیدا ہوئے اوربعض نے کہا ہے آٹھ شعبان ۲۵۶ ء ہجری کو اوریہی زیادہ صحیح ہے (دفیات الاعیان ۴:۱۷۶۔۵۶۲۔)
آپ کی ولادت کے بارے میں ابن خلکان کا قول ہی صحیح ہے کہ آپ پندرہ شعبان ۲۵۵ ء کو بروز جمعہ پیدا ہوئے۔
اسی پر سارے شیعہ علماء کا اتفاق ہے اوراس سلسلے میں علماء شیعہ نے صحیح روایات اورعلمائے متقدمین کے اقوال نقل بھی کئے ہیں اورشیخ کلینی "جنہوں نے غیبت صغری کا تقریبا پورا زمانہ پایا ہے "نے اس کو مسلمات میں شمار کیا ہے اوراس کے خلاف وارد ہونے والی احادیث پر اس کو مقدم کیا ہے۔
چنانچہ صاحب الزمان کے روز ولادت کے بارے میں لکھتے ہیں آپ پندرہ شعبان ۲۵۵ء ہجری کو پیدا ہوئے(اصول کافی ۱:۵۱۴باب ۱۲۵)
شیخ صدوق (متوفی ۳۸۱ئہجری )نے اپنے شیخ محمد بن محمد بن عصام کلینی سے انہوں نے محمد بن یعقوب کلینی سے انہوں نے علی بن محمد بن بندار سے روایت نقل کی ہے کہ امام زمانہ پندرہ شعبان ۲۵۵ہجری کو پیدا ہوئے"(کمال الدین ۲:۴۳۰۔۴باب ۴۲)
لیکن کلینی نے اپنے قول کو علی بن محمد کی طر ف نسبت نہیں دی کیونکہ یہ مشہور ہے اوراس پر اتفاق ہے۔
۳۔ذہبی:۔ (متوفی ۷۴۸ہجری )نے اپنی تین کتابوں میں امام مہدی کی ولادت کا اعتراف کیا ہے انہوں نے اپنی کتاب "العبر"میں لکھا ہے "اور۲۵۶ئہجری میں امام مہدی بن حسن عسکری بن علی نقی بن محمد تقی بن علی رضا بن موسی کاظم بن جعفر صادق شیعوں نے انہیں خلف حجة ، مہدی منتظر اورصاحب الزمان جیسے القاب دے رکھے ہیں اوریہ بارہ میں سے آخری امام ہیں (المعبر خبر من غبر ۳:۳۱)
اورتاریخ دول الاسلام میں امام حسن عسکری کے حالات میں لکھتے ہیں حسن بن علی نقی بن محمد تقی بن علی رضا بن موسی کاظم بن جعفر صادق ابو محمد ہاشمی حسینی شیعہ کے ان اماموں میں سے ایک ہیں جن کی عصمت کا دعوی کرتے ہیں اورانہیں حسن عسکری کہا جاتا ہے کیونکہ یہ سامراء میں رہے ہیں ۔
اورسامراء کو عسکو کہا جاتا تھا اوریہی شیعوں کے منتظر کے والد ہیں آپ نے سامراء میں آٹھ ربیع الاول ۲۶۰ہجری کو انتیس سال کی عمر میں وفات پائی اوراپنے والد کے پہلو میں دفن ہوئے اورآپ کے فرزند محمد بن مہدی بن حسن عسکری جنہیں شیعہ قائم اورخلف حجة کہتے ہیں ۲۵۸ ء ہجری کو پیدا ہوئے اوربعض نے ۲۵۶ہجری کہا ہے(تاریخ دول الاسلام ۲۶۰۔۲۵۱ہجری کے واقعات والا جز ۱۵۹۔۱۱۳)
اور"سیر اعلام النبلاء "میں لکھا ہے منتظر شریف ابوالقاسم محمد بن حسن عسکری بن علی الہادی بن محمد بن علی رضا بن موسی کاظم بن جعفر صادق بن محمد باقر بن زین العابدین بن حسین الشھید بن امام علی بن ابی طالب علوی حسینی بارہ اماموں میں سے آخری امام ہیں (سیر اعلام النبلاء ۱۳:۱۱۹، حالات نمبر۶۰)
میں کہتا ہو ں :۔ہمارے لیے ذہبی کا امام مہدی کی ولادت کے بارے میں نظریہ مہم ہے لیکن امام مہدی کے بارے میں ان کا عقیدہ تویہ دیگر لوگوں کی طرح سیراب کے منتظر ہیں جیسا کہ ہم مہدی کے محمد بن عبداللہ ہونے کے قائل حضرات کی بحث میں وضاحت کرچکے ہیں
۴۔ ابن وردی :۔ (متوفی ۷۴۹ہجری)اپنی کتاب تتمہ المختصر المعروف تاریخ ابن وردی کے ذیل میں لکھتے ہیں "محمد بن حسن عسکری ۲۵۵ ء میں پیدا ہوئے"(اس سے مومن بن حسن شبلنجی شافعی نے اپنی کتاب نورالابصار میں نقل کیا ہے۱۸۶)
۵۔ احمد بن حجر ہیتمی شافعی (متوفی ۹۷۴اپنی کتاب "الصواعق المحرقہ "کے گیارہویں باب کی تیسری فصل کے آخر میں لکھتے ہیں :۔
ابو محمد الحسن الخالص جنہیں ابن فلکان نے عسکری کہا ہے ۲۳۲ ء ہجری کو پیدا ہوئے ۔۔۔۔۔سرمن رای میں وفات پائی اوراپنے باپ کو چچا کے پہلو میں دفن ہوئے آپ کی عمر ا ٹھائیس سال تھی اورکہا جاتا ہے کہ آپ کو بھی زہر دیا گیا تھا آپ کا فقط ایک بیٹا تھا ابوالقاسم محمد بن حجة اوروالد کی وفات کی وقت اس کی عمر پانچ برس تھی۔لیکن اسی عمر میں اللہ تعالی نے اسے حکمت عطا کر رکھی تھی اوراسے قائم منتظر کہا جاتا ہے اورکہا جا تا ہے کہ یہ مدینہ میں غائب ہوئے اورنہیں معلوم کہاں گئے (الاتحاف بحب الاشراف۶۸)
۷۔ مومن بن حسن شبلبخی :۔(متوفی ۱۳۰۸ ء ہجری)نے اپنی کتاب نورالابصار میں امام مہدی کے نام نسب شریف کنیت اورالقاب کا اعتراف کیا پھر لکھتے ہیں شیعوں کے عقیدے کے مطابق یہ بارہ میں سے آخری امام ہیں پھر تاریخ ابن وردی سے وہی نقل کیا ہے جو نمبر ۴، میں گزر چکا ہے(نورالابصار۱۸۶)
۸۔ خیر الدین زرکلی:۔(متوفی ۱۳۹۲ہجری)اپنی کتاب "الاعلام "میں حضرت امام مہدی کے حالات میں لکھتے ہیں محمد بن حسن عسکری شیعوں کے آخری امام ہیں سامراء میں پیدا ہوئے اورجب آپ کے والد کی وفات ہوئی توآپ کی عمر پانچ برس کی تھی اورکہاگیا ہے کہ آپ کی تاریخ پیدائش پندرہ شعبان ۲۵۵ ء ہجری اورتاریخ غیبت ۲۶۵ ء ہجری (الاعلام ۸۰:۶)
میں کہتا ہوں :۔غیبت صغری کا آغاز ۲۶۰ ء ہجری کو ہوا اورہماری معلومات کے مطابق اس پر اس سب شیعہ اورغیر شیعہ کہ جنہوں نے تاریخ غیبت لکھی ہے کا اتفاق ہے اوراعلام میں جو کچھ ہے شاید یہ کتابت میں غلطی ہوئی ہے کیونکہ زرکلی نے غیبت کا سن حروف کے بجائے عدد میں لکھا ہے اورکتابت میں عدر کی غلطی کا احتمال بہت زیادہ ہے اس کے علاوہ اوربھی کثیر اعترافات ہیں کہ جب کی اس بحث میں گنجائش نہیں ہے۔
اہل سنت کا اعتراف کہ امام مہدی امام حسن عسکری کے فرزند ہیں
اہل سنت کے بہت سارے علماء نے اعتراف کیا ہے کہ مہدی جو آخری زمانہ میں ظہور کریں گے وہ حسن عسکری کے فرزند محمد ہیں اورآپ ان اہل بیت کے بارہویں امام ہیں جو سارے مسلمانوں کے امام ہیں نہ فقط شیعوں کے
جیسا کہ بعض لوگ اس کا دعوی کرتے ہیں گویا پیغمبر نے فقط شیعوں کو ثقلین یعنی کتاب الہی اورعترت اہل بیت سے تمسک کرنے کا حکم دیا تھا
بہر حال ہم ان انصاف پسند علماء کے اقوال ذکر کرتے ہیں جنہوں نے حقیقت کی تصریخ کی ہے
محی الدین ابن عربی :۔(متوفی ۶۳۸ہجری)نے فتوحات مکیة میں حمزاوی نے "مشارق الانوار "میں اورصبان نے "اسعاف الراغبین "میں عبدالوہاب بن احمد شعرانی شافعی(متوفی ۹۷۳ہجری)کی کتاب "الیواقیت والجواہر"سے نقل کیا ہے کہ محی الدین ابن عربی نے اپنی کتاب فتوحات مکیة کے باب نمبر ۳۶۶بحث پنجم میں اس حقیقت کا برملا اعتراف کیا ہے
لیکن بزرگوں کی میراث کی حفاظت کے دعویداروں نے کتاب سے اس اعتراف کو نکال دیا ہے کیونکہ میں نے خود جستجو کی لیکن مجھے نہیں ملا
شعرانی محی الدین سے نقل کرتے ہوئے کہتا ہے شیخ محی الدین کی فتوحات کے باب نمبر ۳۶۶پر عبارت یہ ہے :۔
معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کا ظہور حتمی اوریقینی ہے لیکن اس وقت تک ظہور نہیں کریں گے جب تک زمین ظلم وجور سے پر نہیں ہو جائے گی پس آپ اسے عدل وانصاف سے پر کریں گے اگردنیا کا فقط ایک دن باقی رہ جائے اسی کو اللہ تعالی اس قدر طویل کردے گا تاکہ آپ حاکم بن جائیں اورآپ پیغمبر اکرم کی عترت اورفاطمہ کی اولاد سے ہیں آپ کے جد حسین ابن علی ابی طالب ہیں اورآپ کے والد حسن عسکری بن امام علی نقی ہیں (الیواقیت والجواہر شعرانی ۲:۱۴۳، مطبع مصطفی البابی الحلبی مصر ۱۳۷۸ہجری ،۱۹۵۹ء)میلاد دی۔)
۲۔ کمال الدین محمد بن طلحہ شافعی :۔(متوفی ۶۵۲ ء ہجری)اپنی کتاب مطالب السئوول میں لکھتے ہیں آپ ابو القاسم محمد بن حسن خالص بن علی متوکل بن قانع بن علی رضا بن موسی کاظم بن جعفرصادق بن محمد باقر بن زین العابدین بن حسین ذکی بن علی مرتضی امیرالمومنین بن ابی طالب مہدی حجة ، خلف صالح اورمنتظرہیں رحمة اللہ وبرکاتہ
اس کے بعد ایک قصیدہ لکھا ہے جس کا مطلع یہ ہے :۔
فهذاالخلف الحجة ایده الله
هذامنهج الحق وآتاه سجایاه
یہ خلف حجة ہے اوراللہ نے اس کی تائید کی ہے یہ راہ حق ہے اوراللہ تعالی نے اسے خصوصیات عطا کی ہیں (مطالب السئوول ۲:۷۹باب۱۲)
۳۔ سبط ابن جوزی حنبلی :۔(متوفی ۶۵۴ ء ہجری)اپنی کتاب "تذکرة الخواص " میں حضرت امام مہدی کے بارے میں لکھتے ہیں آپ محمد بن ابن حسن ابن علی ابن محمد ابن علی ابن موسی رضا بن جعفرابن محمد بن علی ابن حسین ابن علی ابو طالب (علیھم السلام )ہیں آپ کی کنیت ابو عبداللہ اورابو القاسم ہے آپ ہی خلف حجة صاحب الزمان ، قائم ، منتظر تالی اورآخری امام ہیں (تذکرة الخواص ۳۶۳)
۴۔ محمد ابن یوسف ابو عبداللہ کنجی شافعی:۔(مقتول ۶۵۸ ء ہجری)اپنی کتاب "کفایة الطالب "کے آخری صحیفہ میں امام حسن عسکری کے متعلق لکھتے ہیں ۔
آپ کی پیدائش ربیع الثانی ۲۳۲ ء ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی اورربیع الاول سے آٹھ دن پہلے ۲۶۰ ء ہجری میں وفات پائی اس وقت آپ کی عمر ۲۸برس تھی اورآ پ سرمن رای والے گھر کے اسی کمرے میں دفن ہوئے جہان آپ کے والد دفن ہیں اوراپنے بعد اپنے بیٹے امام منتظر کو خلیفہ بنایا اورہم کتاب کو یہی پر ختم کرتے ہیں اوران کے بارے میں الگ الگ کتابیں لکھیں گے۔
یوسف کنجی شافعی نے امام مہدی کے بارے میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے اوراس کا نام "البیان فی اخبار صاحب الزمان "رکھا ہے اوریہ ان کی کتاب کفایة الطالب کے ساتھ چھپی ہے اوردونوں ایک ہی جلد میں ہیں اس میں انہوں نے بہت ساری چیزیں ذکر کی ہیں اورآخر میں یہ ثابت کیا ہے کہ مہدی غیبت سے لیکر آخری زمانے تک زندہ اورباقی ہیں آپ ظہور فرما کر دنیا کو عدل وانصاف سے پر کردیں گے جیسا کہ وہ ظلم وجور سے پر ہو چکی ہو گی(البیان فی اخبار صاحب الزمان :۵۲۱باب ۲۵)
۵۔ نور الدین علی بن محمد صباغ مالکی:۔(متوفی ۸۵۵ہجری)نے اپنی کتاب "الفصول المہة"کی بارہویں فصل کا عنوان یوں قرار دیاہے "حسن عسکری کے فرزند ابو القاسم الحجة اورخلف صالح کے ذکر میں جو بارہویں امام ہیں "
اوراس فصل میں کنجی شافعی کے اس قول کو دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے "مہدی کی غیبت سے لیکر اب تک ان کا زندہ اورباقی رہنا کوئی محال نہیں ہے جیسا کہ اللہ کے اولیاء میں سے عیسی بن مریم ،خضراورالیاس اب تک زندہ اورباقی ہیں اوراب کے دشمنوں میں دجال اورابلیس لعین ابھی تک زندہ ہیں ان کی دلیل کتاب سنت ہیں
پھر اس نے اس کتاب وسنت سے دلیلیں پیش کی ہیں اورامام مہدی کی ولادت آپ کی امامت کے دلائل آپ کی احادیث ، غیبت ، آپ کی حکومت کی مدت کنیت اورآپ کے نسب کو تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے جو امام حسن عسکری سے متصل ہوتا ہے(ابن صباغ کی الفصول مہمة ۲۰۰۔۲۸۷)
۶۔ فصل بن روز بہان :۔(متوفی ۹۰۹ ہجری کے بعد)نے اپنی کتاب البطال الباطل "میں اہل بیت کی شان میں اس نظم کو لکھنے کے بعد اس پر فخر کیا ہے۔
سلام علی المصطفی ٰالمجتبیٰ
سلام علیٰ السید المرتضی
سلام علیٰ ستنا فاطمة
من اختارها الله خیرالنسا
سلام من المسک انفاسه
علی ٰ الحسین الالمعی الرضا
سلام علی ٰ الاورعی الحسین
شهید یریٰ جمسه کربلا
سلام علیٰ سیدالعابدین
علی ابن الحسین المجتبیٰ
سلام علیٰ الباقرالمهتدیٰ
سلام علی ٰ الصادق المقتدی ٰ
سلام علیٰ الکاظم الممتحن
رضی السجایا امام التقیٰ
سلام علیٰ الثامن الموتمن
علی الرضا سید الاصفیا
محمد الطیب المرتجی
سلام علیٰ الاریعی النقی
علی المکرم هادی الوریٰ
سلام علی السید العسکری
امام یجهزجیش الصفا
سلام علی القائم المنتظر
ابی القاسم العرم نور الهدی
سیطع کالشمس فی غاسق
ینجیه من سیفه المنقیٰ
قوی یملاالارض من عدله
کما ملئت جوراهل الهویٰ
سلام علیه وآبائه
وانصاره،ماتدوم السما
سلام ہو اللہ کے برگزیدہ مصطفی پر ، سلام ہو سید مرتضی ٰ پر،سلام ہو فاطمہ زہراپر جسے اللہ نے سب عورتوں سے افصل بنایا ہے سلام ہو حسن مجتبی پر جو سرچشمہ ہدایت ہیں ، سلام ہو حسین شہید پر جس کا جسم کربلا میں دیکھا گیا ، سلام ہو سید العابدین پر جو حسین کے بیٹے علی اوربرگزیدہ ہیں سلام ہو باقر پر جو ہدایت یافتہ ہیں سلام ہو صادق پر جن کی اقتداکی جاتی ہے۔
سلام ہو کاظم پر جسے آزمایا گیا جو پسندیدہ اخلاق والے اورمتقوں کے امام ہیں سلام ہو آٹھویں امین علی رضا پر جو چنے ہووں کے سردارہیں ، سلام ہو محمد تقی پر جو پرہیز گارپاک وپاکیزہ اورلوگوں کی امیدوں کا مرکز ہیں ، سلام ہو وسیع الاخلاق علی نقی پر جو معظم ومکرم اورامت کے لیے ہادی ہیں ، سلام ہو سید عسکری پر۔
سلام ہو ابوالقاسم قائم منتظر پر جو نورہدایت ہیں وہ تاریک رات کے بعد سورج کی طرح طلوع کریں گے اوراپنی برگزیدہ تلوار کے ساتھ نجات دیں گے وہ زمین کو عدل سے پر کرد یں گے جس طرح وہ خواہشات کے شکارلوگوں کے ظلم سے پر ہو گی سلام ہو اس پر اس کے آباواجداد پر اوراس کے مدد گاروں پر جب تک آسمان باقی ہے(دلائل الصدق ۲:۵۷۴۔۵۷۵، بحث پنجم ، شیخ محمد حسن مظفر نے اپنی کتاب دلائل الصدق میں کتاب البطال الباطل پوری کی پوری نقل کی ہے)
۷۔شمس الدین محمدبن طولون حنفی:۔(متوفی ۹۸۳ ء ہجری)مورخ دمشق نے اپنی کتاب "الائمہ الاثناعشر"میں امام مہدی کے بارے میں لکھا ہے "آپ پندرہ شعبان ۲۵۵ ء ہجری بروز جمعہ پید اہوئے اورجب آپ کے والد نے وفات پائی توآپ کی عمر پانچ برس تھی (الائمہ الاثنا عشرابن طولون حنفی:۱۱۷)
پھر بارہ اماموں کا ذکر کر کے کہتے ہیں میں نے ان کے بارے میں یہ نظم کہی ہے:
علیک بالائمة الاثنی عشر
من آل بیت المصطفیٰ خیر البشر
ابو تراب ، حسن ، حسین
بخض زین العابدین شین
محمد باقر کم علم دریٰ ؟
والصادق ادع جعفراً بین الوری
موسی هو الکاظم ، ابنة علی
لقبة بالرضا وقدره علی
محمد التقی قلبه معمور
علی النقی دره منثور
والعسکری الحسن المطهر
محمد المهدی سوف یظهر
محمد مصطفی جو خیر البشر ہیں ان کی آل میں سے بارہ اماموں کے ساتھ تمسک کرنا ضروری ہے ،ابو تراب حسن ، حسین اورزین العابدین سے بغض رکھنا گنا ہے محمد باقر کتنا علم رکھتے تھے اورصادق کو لوگوں کے درمیان جعفر کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔
جو موسی جو کاظم ہیں اوران کے فرزند علی ہیں جن کا لقب رضاہے اورا ن کی شان عظیم ہے محمد تقی جن کا دل آباد ہے علی نقی کے موتی بکھرے ہوئے ہیں حسن عسکری جو پاک وپاکیزہ ہیں محمد مہدی جو عنقریب ظہور کریں گے(الائمہ الاثناعشر:۱۱۸)
۸۔ احمد بن یوسف ابو العباس قرمانی حنفی :۔(متوفی ۱۰۱۹ہجری)اپنی کتاب "اخبار الدول وآثار الاول " کی گیارہویں فصل"ابو القاسم محمد حجة خلف صالح کے بارے میں "کہتے ہیں والد "والد کی وفات کی وقت آپ کی عمر پانچ برس تھی اوراسی میں اللہ تعالی نے آپ کو حکمت عطا کی تھی جیسا کہ یحییٰ کو بھی بچپن میں ہی عطا فرمائی تھی اورآپ متوسط قد ، اونچی تیکھی ناک ، روشن پیشانی اورخوبصور چہرے اوربالوں والے تھے ۔۔۔اورعلماء کا اتفاق (ملاحظہ فرمائیے ان کا قول "علما کا اتفاق ہے "اورپھر اس کا موازنہ اصلاح طلب نعرے لگانے والوں کے باطل خیالات سے کیجئے)
اس بات پر کہ مہدی ہی آخری وقت میں قیام کریں گے آپ کے ظہور کی اخبار نے تائید کی ہے اورآپ کے نور سے عالم ک وروشنی ملے گی اس پر بہت سی روایات ہیں آپ کے ظہور سے دنوں راتوں کی تاریکی ختم ہو جائے گی جیسے اندھیری رات کے بعد صبح ہو آپ کا عدل پورے عالم پر چھا جائے گا جو چودہویں کے چاند سے بھی زیادہ ضو فشان ہو گا(اخبارالدول وآثارالاول قرمانی :۳۵۴۔۲۵۳، فصل ۱۱)
۹۔ سلیمان بن ابراہیم المعروف قدروزی حنفی:۔(متوفی ۱۲۷۰ہجری)قندروزی ان حنفی علماء میں سے ہیں جنہوں نے حضرت امام مہدی کی ولادت اوران کے قائم منتظر ہونے کاصراحت کے ساتھ اعلان کیا ہے اورگذشتہ بحثوں میں ہم ان کی کئی دلیلیں اوراقوال نقل کرچکے ہیں ۔
اب ان کے اس قول کو نقل کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یقینی اورثقہ راویوں کی روایت سے ثابت ہے کہ آپ پندرہ شعبان ۲۵۵ ء ہجری روز جمعہ سامراء میں پیدا ہوئے(ینا بیع المودة ۳:۱۱۴باب ۷۹کے آخری میں ۔)
اس بحث کو ہم یہاں پر ختم کرتے ہیں البتہ یہ بتاتے ہوئے کہ وہ علمای جو امام مہدی کی ولادت یا ان کے آخری زمانے میں قائم منتظر ہونے کے قائل ہیں ان کی تعداد ان علماء سے کئی گنازیادہ ہے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے
امام مہدی کے متعلق شبہات
گذشتہ فصلوں میں امام مہدی سے متعلق عقیدے سے بحث کی گئی تھی لیکن اس فصل میں ان شکوک وشبہات کا جواب دیں گے جو بعض طفلانہ فکر رکھنے والے لوگ پیدا کرتے رہتے ہیں اوراگر ان کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ لوگ علوم حدیث اوران کی اصطلاحات سے بالکل بے بہری ہیں توکوئی تعجب کی بات نہیں ہے
اسی وجہ سے وہ ایسی رکیک دلیلیوں کو وسیلہ بناتے ہیں جو تارعنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہیں جیسا کہ اسی فصل میں آپ پر واضح ہو جائیگا۔
صحیحین میں احادیث کے نہ ہونے کا بہانہ
ان کی بے اساس دلیلوں میں سے ایک یہ ہے کہ بخاری اورمسلم نے امام مہدی کے بارے میں ایک بھی حدیث نقل نہیں ہے(الامام الصادق ابو زہرہ :۲۳۹۔۲۳۸، امہدی والمہدیة احمد امین :۴۱)
اس دلیل کا جواب دینے سے پہلے چندامورکی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا ضروری ہے
اول :۔بخاری سے صحیح طورپرمنقول ہے کہ انہوں نے آپ کی صحیح کے متعلق کہا ہے میں اس کتاب کوایک لاکھ صحیح حدیث یا دوسری جگہ ہے دولاکھ صحیح حدیث میں سے مرتب کیا ہے اورجن صحیح احادیث کو میں نے ترک کیا ہے وہ اس میں موجود ہ احادیث سے کئی گنا ہ زیادہ ہیں ۔
پس خودامام بخاری بھی نہیں کہتے کہ جوبھی حدیث انہوں نے نقل کی وہ ضعیف ہے بلکہ جن کوانہوں نے صحیح قرارد یا ہے وہ ان کی ذکر کردہ احادیث سے دسیوں گنازیادہ ہیں ۔
دوم کسی عالم اہل سنت نے یہ نہیں کہ اکہ بخاری ومسلم نے جو حدیث ذکر نہیں کی وہ ضعیف ہے بلکہ ان کی روش اس کے برعکس ہے اسی وجہ سے انہوں نے صحیحین پ رمستدرک کے عنوان سے کتابیں لکھی ہیں کہ جن میں دیگر کثیر صحیح روایات کو جمع کیا ہے۔
سوم:۔علماء جو صحیح حدیث یا خبر متواتر کی تعریف کرتے ہیں تواس میں کہیں پر یہ شرط نہیں ہے کہ صحیحین یا ان میں سے ایک اسے ذکرکیا ہوپس کسی حدیث کی صحت یا تواتر کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ اس کے روای یہ دونوں یا ان دونوں سے کوئی ایک ہو بلکہ اگربخاری اورمسلم دونوں نے ایک متواتر خبر کی روایت نہ کی ہو تو یہ چیز بھی اس کے تواتر کوکوئی نقصان نہیں پہنچاتی ۔
علماء اہل سنت کے نزدیک اس کی بہترین مثال عشرہ مبشرہ والی حدیث ہے کہ جسے اہل سنت متواتر سمجھتے ہیں لیکن نہ اسے بخاری نے روایت کی ہے اورنہ مسلم نے
چہارم :۔جو شخص ظہور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے انکار کے صحیحین کے ان کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث بناتاہے اس نے صحیحین کی حقیقت کو نہیں پہچانا جیسا کہ ہم اس دلیل کے جواب میں اس کی وضاحت کریں گاملاحظہ فرمائیں۔
کسی پر یہ بات مخفی نہیں ہے کہ امام مہدی کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث مختلف امور کو بیان کرتی ہیں جیسے آپ کا نام بعض خصوصیات ، ظہور کی علامات ،رعیت کے درمیان فیصلے کرنے کی روش اس کے علاوہ اوربہت سارے امور اوربلاشک ان میں سے ہر حدیث میں ضروری نہیں ہے کہ لفظ مہدی بھی ذکر ہو کیونکہ اس کے بغیر بھی مراد واضح ہے مثلا ایک حدیث جو امام مہدی کانام لیکر ان کی ایک صفت بیان کرتی ہے۔
پھر یہ موصوف اوراس کی یہ صفت بخاری میں مذکور ہو لیکن حضرت امام مہدی کے نام کے ساتھ نہیں بلکہ ایک مرد کے عنوان کے ساتھ توکسی عقل مند کو شک نہیں ہو سکتا جی اس مرد سے مراد حضرت امام مہدی ہیں ورنہ بعض احادیث کے اجمال کو کیسے دورکیا جائیگا؟ کیا شرق وغرب میں علماء مسلمین کے بیان مجمل کو مفصل کی طرف لوٹانے کا کوئی اورطریقہ ہے چاہے یہ مجمل ومفصل ایک کتاب میں ہوں یا دومیں۔
اورجب ہم صحیحین پر نگا ہ کرتے ہیں تودیکھنے ہیں کہ بخاری اورمسلم نے امام مہدی کے بارے میں دسیوں مجمل احادیث روایت کی ہیں جنہیں علماء اہل سنت نے امام مہدی کی طرف لوٹایا ہے کیونکہ صحاح ، مسایند اورمستدرکات میں ایسی صحیح احادیث موجود ہیں جو اس اجمال کو رفع کرتی ہیں ۔
بلکہ ایسی احادیث بھی بخاری ومسلم میں موجود ہیں جو واضح طور پر حضرت امام مہدی کے بارے میں ہیں ۔
اس حقیقت کو بیان کرنے سے پہلے ایک نقطہ کی طرف اشارہ کرنا بہت ضروری ہے وہ یہ کہ اہل سنت کے چار موثق علماء نے اس حدیث :۔المھدی حق ، وھو من ولد فاطمة
"مہدی حق ہیں اوروہ اولاد فاطمہ سے ہیں "کو واضح طور پر صحیح مسلم سے نقل کیا ہے اوراب اگر صحیح مسلم کے موجو دایڈیشنز میں جستجو کریں تویہ نہیں ملے گی۔
مندرجہ ذیل علما نے کہا ہے کہ حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے
۱۔ابن حجر ہیثمی(متوفی ۹۷۴ہجری )صواعق محرقہ میں باب نمبر ۱۱، فصل اول صفحہ ۱۶۳
۲۔متقی ہندی حنفی(متوفی ۹۷۵ہجری)نے کنزالعمال میں جلد نمبر ۱۴، صفحہ ۲۶۴، حدیث نمبر۳۸۶۶۲۔
۳۔ شیخ محمد علی صبان (متوفی ۱۲۰۶ہجری)نے اسعاف الراغبین صفحہ ۱۴۵
۴۔ شیخ حسن عدوی حمزاوی مالکی (متوفی ۱۳۰۳ہجری)میں مشارق الانوار میں صفحہ ۱۱۲۔
بہر حال صحیحین کی بعض احادیث سے مراد فقط حضرت امام مہدی ہی ہیں اورصحیحین کی احادیث کے سمجھنے میں یہ کوئی ہمارا اجتہاد نہیں ہے بلکہ اس پرصحیح بخاری کے پانچ شارح متفق ہیں جیسا کہ ہم اس کی وضاحت کریں گے
صحیحین کی وہ احادیث جن کی تفسیر حضرت امام مہدی سے کی گئی ہے
بخاری نے اپنی صحیح میں فقط دجال کے خروج اوراس کے فتنے کی روایت پر اکتفاکیا ہے(صحیح بخاری۴:۲۰۵، کتاب الانبیاء ، باب ماذکر عن بنی اسرائیل اور۹:۷۵، کتاب الفتن باب ذکر الدجال)
لیکن صحیح مسلم میں دجال کے خروج ، اس کی سیرت ،اوصاف ، فتنہ وفساد ،لشکر اورخاتمے کے بارے میں دسیوں احادیث موجود ہیں (صحیح مسلم شرح نووی کے ہمراہ ۲۳:۱۸،اور۸۸۔۵۸، کتاب الفتن واشراط الساعة)
اورشرح صحیح مسلم میں نووی نے واضح طور پر کہا ہے یہ احادیث جو قصہ دجال کی بارے میں وارد ہوئی ہیں اس کے وجود کے عقیدے کے حق ہونے کی دلیل ہیں اوریہ کہ وہ ایک معین شخص ہے اللہ تعالی اس کے ذریعے اپنے بندوں کی آزمائش کرے گا۔اس کے بعد لکھتے ہیں اہل سنت اور سارے محدثین وفقہا اوراہل نظر افراد کا یہی نظریہ ہے(صحیح مسلم شرح نووی کے ساتھ ۱۸:۵۸)
رہا ان احادیث کا ظہور حضرت امام مہدی کے ساتھ تعلق تویہ علماء اہل سنت کے ان اعترافات سے واضح ہو جاتا ہے کہ مہدی ان کے آخری زمانے میں ظاہر ہونے اورعیسیٰ کا ان کے ہمراہ خروج کر کے دجال کو قتل کرنے میں ان کی مدد کرنے والی احادیث متواتر ہیں جیسا کہ ان احادیث کے تواتر کو ثابت کرنے کے لیے ان کے اقوال نقل کئے جا چکے ہیں ۔
۔صحیحین میں نزول عیسیٰ کی احادیث
بخاری اورمسلم میں سے ہر ایک نے اپنی سند کے ساتھ ابوہریرہ سے روایت کی ہے وہ کہتا ہے پیغمبرنے فرمایا:۔کیف انتم ازا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم "
"تم اس وقت کیسے ہو گے جب تم میں ابن مریم نازل ہو گااورتمہارامام جو تم میں سے ہو گا (صحیح بخاری ۴:۲۰۵، باب ماذکر بنی اسرائیل ۔ صحیح مسلم۱:۱۳۶۔۲۴۴باب نزول عیسیٰ بن مریم اوران دونوں بابوں میں ایسی بہت ساری احادیث موجود ہیں )
اورصحیح مسلم نے اپنی سند کے ساتھ جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر سے سنا کہ :
"لا تزال طائف من امتی یقاتلون علی الحق ظاهرین الی یوم القیامة قال:فینزل عیسیٰ بن مریم علیه السلام فیقول امرهم تعال صل لنا فیقول لا ان بعضکم علی بعض امراء تکرمة لهذه الامة "
"میری امت کا ایک گروہ قیامت کے دن تک حق پر لڑتا رہے گا پھر فرمایا پس عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے توان کا امیر کہے گا آہمیں نماز پڑھا وہ امت کے احترام میں کہے گا نہیں تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں "(صحیح مسلم ۱:۲۴۷۔۱۳۷ باب نزول عیسیٰ)
یہاں تک واضح ہو گیا کہ مسلمانوں کا امام جو عیسیٰ بن مریم کے نزول تک موجود ہوگا جیسا کہ صحیحین میں ہے وہ اس گروہ کا امیرہوگاجوقیامت تک حق پرجنگ کرے گاجیسا کہ صحیح مسلم میں ہے یوں کہ عیسیٰ اس گروہ کی تعظیم اوراحترام میں امامت کرانے سے انکار کریں گے۔
مسلم کی حدیث کا واضح طورپریہی معنی ہے اس میں کوئی تاویل ممکن نہیں ہے اورجب ہم دیگر صحاح ، مسایند وغیرہ کیطرف رجوح کرتے ہیں توان میں ایسی کثیر روایات پاتے ہیں جو اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ قیامت تک حق لڑنے والے گروہ کا امیر امام مہدی ہے نہ کوئی اور۔
انہیں میں سے ایک اورروایت ہے جسے ابن ابی شیبة نے ابن سیرین سے نقل کیا ہے:۔المهدی من هذه الائمة وهو الذی یوم عیسیٰ بن مریم "
"مہدی ان اماموں میں سے ہے اوریہی عیسیٰ بن مریم کو جماعت کرائیں گے(المصنف ابن ابی شیبة ۱۵:۱۹۸، حدیث نمر۱۹۴۹۵)
انہیں میں سے ایک وہ روایت ہے جسے ابو نعیم نے اپنی سند کے ساتھ اورعمر ودانی سے اس نے حذیفہ سے اپنی سنن میں نقل کیا ہے وپ کہتے ہیں پیغمبر اسلام نے فرمایا:۔
"یلقفت المهدی وقدنزل عیسیٰ ابن مریم کانما یقطرمن شعره الماء ،فیقول المهدی :تقدم صل بالناس ،فیقول عیسیٰ :انما اقیمت الصلاة لک فیصلی خلف رجل من ولدی "
"جب مہدی متوجہ ہوں گے کہ عیسی ٰ بن مریم نازل ہوچکے ہیں اوران کے بالوں سے پانی کے قطرے گررہے ہیں تومہدی کہیں گے آگے بڑھو اورلوگوں کو نماز پڑھاو اس وقت عیسیٰ کہیں گے آپ ہی کے لیے نماز کا اہتمام کیا گیا ہے پس عیسیٰ میری اولاد میں سے ایک مرد کے پیچھے نماز پڑھیں گے(الحاوی للفتاویٰ سیوطی ۲:۸۱)اس کے بعددیگرروایات کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے جواس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ صحیحن کی حدیث میں امام سے مراد مہدی ہیں(ملاحظہ ہو سنن ترمذی ۵:۱۵۲۔۲۸۲۹۔ مسند احمد ۳:۱۳۰، الحاوی للتفاوی ۲:۷۸، مناوی کی فیض الغدیر۶:۱۷)
ان احادیث میں سے اکثر کو سیوطی نے اپنے رسالے "العرف الوردی فی اخبارالمہدی"میں جمع کیا ہے یہ رسالہ ان کی کتاب "الحاوی للتفاوی"کے ساتھ چھپ چکا ہے۔ان احادیث کو انہوں نے حافظ ابو نعیم کی کتاب الاربعین سے نقل کیا ہے اورجواحادیث جنہیں نعیم بن حماد نے ذکر کیا ہے کہ جس کے متعلق سیوطی کا کہنا ہے یہ آئمہ حفاظ اوربخاری کے شیوخ میں سے ایک ہے(الحاوی للفتاوی۲:۸۰)
میں کہتاہوں:۔اگرآپ بخاری کی شروح میں غور فرمائیں توآپ ان کی سب کو اس بات پر متفق پائیں گے کہ بخاری کی حدیث میں جو لفظ امام آیا ہے اس سے مراد امام مہدی ہیں ۔
صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں بخاری کی گذشتہ حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں احادیث مہدی متواتر ہیں بلکہ وہ کہتے ہیں "عیسیٰ کا اس امت کے ایک مرد کے پیچھے نمازپڑھنا جبکہ ایسا آخری زمانے میں قیامت کے قریب ہوگا "اس صحیح قول کی دلیل ہے کہ زمین حجة خدا سے خالی نہیں رہ سکتی(فتح الباری شرح بخاری ۶:۳۸۵۔۳۸۳)جیسا کہ ارشاد الساری میں بھی یہی لکھا ہے کہ اس امام سے مراد حضرت امام مہدی علیہ السلام ہیں اورجناب عیسیٰ نماز میں حضرت امام مہدی کی اقتداکریں گے(ارشادالساری ۵:۴۱۹)۔
بعینہ یہی بات صحیح بخاری کی شرح عمدة القاری میں بھی ہے(عمدة القاری شرح بخاری ۱۶:۴۰۔۳۹)
اورفیض الباری میں توابن ماجہ سے ایک حدیث ذکر کی ہے جوبخاری کی اس حدیث کی تفسیر کرتی ہے پھر لکھتے ہیں "پس یہ واضح ہے کہ احادیث میں امام کا مصداق اوراس سے مراد حضرت امام مہدی ہیں "اس کے بعد لکھتے ہیں "اس حدیث کے بعد کس حدیث پرلوگ ایمان لائیں گے(فیض الباری علی صحیح البخاری ۴:۴۷۔۴۴)
اور"البدرالساری الی فیض الباری "کے حاشیے پر مذکورہ حدیث کی طویل شرح کرنے کے بعد حدیث بخاری کی وضاحت کرنے والی ان احادیث کوجمع کیاہے جوتصریح کرتی ہیں کہ امام سے مراد حضرت امام مہدی ہیں
اس کے بعد لکھتے ہیں "ابن ماجہ کی حدیث اس معنی کوزیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے اوراس کی سند بھی قوی ہے"(حاشیہ البدرالساری الی فیض الباری۴:۴۷۔۴۴)
مسلم نے اپنی صحیح میں اپنی سندکے ساتھ جابربن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ پیغمبرنے فرمایا:۔
"یکون فی آخرامتی خلیفه یحثی المال حثیا لایعده عدا "
"میری امت کے آخرمیں ایک خلیفہ آئے گا جواس قدرمال عطا کرے گا جسے کوئی شمارنہیں کرسکے گا"۔اوراس حدیث کو دیگرطرق سے بھی جابراورابوسعیدخدری سے نقل کیا ہے(صحیح مسلم۱۸:۳۹)
اور"احثاء مال"ایسی صفت ہے جس سے مراد کثرت میں مبالغہ ہے اوراہل سنت کی کتب اورروایات میں اس کا موصوف امام مہدی کے سواکوئی نہیں ۔اسی قسم کی ایک حدیث ترمذی نے ابوسعیدخدری سے اپنی سندکے ساتھ روایت کی ہے اوراسے حسن قراردیا ہے کہ پیغمبرنے فرمایا:۔
"ان فی امتی المهدی "
"بیشک میری امت میں مہدی ہے"
اس کے بعد فرمایا:۔
"فیجی ء الرجل فیقول:یامهدی اعطنی اعطنی فیحثحی المال له فی ثوابه مااستطاع ان یحمله
"پس ان کے پاس ایک مرد آکر کہے گا مجھے دیجئے مجھے دیجئے پس مہدی کپڑے میں اسقدر مال باندھ کر اسے دیں گے جتنا وہ اٹھا سکتا ہوگا(سنن ترمذی ۴:۵۰۶۔۲۲۳۲)یہی روایت ابوھریرہ اورابوسعیدخدری سے دیگردسیوں طرق سے مروی ہے(ابن ابی شیبة کی المصنف ۱۵:۱۹۶۔۱۹۴۸۵و۱۹۴۸۶، مسند احمد ۳:۸۰، عبدالرزاق کی المصنف۱۱:۳۷۱۔۲۰۷۷۰، مستدرک حاکم ۴:۴۵۴دلائل النبوة للبیہقی ۶:۵۱۴، تاریخ بغداد۱۰:۴۸مقدسی شافعی کی عقدالدرر :۶۱باب ۴، کنجی شافعی کی البیان ۵۰۶باب ۱۱، البدایۃ ولنہایۃ۶:۲۴۷، مجمع الزوائد ۷:۳۱۴، الدرالمنشور۶:۵۸الحاوی للفتاوی ۶:۵۹و۲۶و۶۳و۶۴۔)
۔ صحیح مسلم میں بیابان میں دھنسنے والی احادیث:۔
صحیح نے اپنی صحیح میں اپنی سند کے ساتھ عبیداللہ بن قطبیہ سے نقل کیا ہے وہ کہتا ہے حارث بن ابی ربیعہ ، عبداللہ بن صفوان اورمیں ام المومنین ام سلمہ کے پاس گئے انہوں نے ان سے اس لشکر کے متعلق سوال کیا جو زمین میں دھنس جائے گا (اوریہ ابن زبیر کے زمانے کی بات ہے)توانہوں نے کہا کہ پیغمبرنے فرمایا تھا:۔ "یعوذ عائز فی البیت ، فیبعث الیه بعث ، فاذاکانو اببیداء من الارض خسف بهم "
"پناہ لینے والے گھر میں پناہ لے گا اوراس کی طرف فوج بھیجی جائے گی پس جب وہ صحرامیں ہونگے تووہ دھنس جائیں گے"(صحیح مسلم شرح نووی کے ساتھ ۱۸:۴و۵و۶و۷۔)
بعض جہلا کا خیال ہے کہ یہ حدیث زبیر کے حامیوں کی گھڑی ہوئی ہے عبداللہ بن زبیرنے مویین کے ساتھ سختی کی تھی جو اسکے قتل ہونے کی موجب ہوئی تھی۔لیکن حقیقت ایسی نہیں ہے کیونکہ یہ حدیث مختلف طرق سے مروی ہے جیسے ابن عباس ، ابن مسعود، ابوہریرہ ،جدعمروبن شیعب ، ام سلمہ ،صفیہ، عائشہ،حفصہ ،قعقاع کی بیوی نفیرہ اوردیگربڑے بڑے صحابہ اورحاکم نے بعض طرق کو بخاری اورمسلم کے مطابق صحیح قراردیا ہے(مسند احمد ۳:۳۷، سنن ترمذی ۴:۵۰۶۔۲۲۳۲، مستدرک حاکم ۴:۵۲۰، ذھبی کی تلخیص المسندرک ۴:۵۲۰۔اورابو داود نے اسے اپنی سنن میں صحیح سند کے ساتھ ذکرکیا ہے جیسے کہ "عون المعبودشرح سنن ابی داود "میں اس کی وضاحت موجود ہے ۱۱:۳۸۰شرح حدیث ۴۱۶۸۷، اورسیوطی نے حدیث کے کثیر طرق اورجن صحابہ نے اسے روایت کی ہے کو اپنی تفسیر درمنشور میں سورہ سباکی آیت نمبر۵۱کی تفسیر میں جمع کیا ہے۶:۷۱۴۔۷۱۲)
بہر حال صحرا کا دھنسنا اس لشکر کے ساتھ پیش آئے گا جوحضرت امام مہدی کے ساتھ جنگ کرے گا جیسا کہ اس سلسلے میں وارد ہونے والی تمام احادیث بتاتی ہیں اوریہ وضاحت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ مسلم کی حدیث سے مراد کیا ہے۔
غایت المامول میں لکھتے ہیں ہم نے نہیں سنا کہ اس وقت تک کوئی لشکر دھنسا ہو اگرایسا ہوا ہوتا تویہ واقعہ اصحاب الفیل کی طرح مشہور ہوتا(غایة المامول شرح التاج الجامع للاصول ۵:۳۴۱) پس ضروری ہے کہ یہ دھنسا مہدی کے دشمنوں کے ساتھ ہو دیر سے ہو یا جلدی اوروہاں پر باطل پرست گھاٹے میں ہوں گے
احادیث حضرت مہدی کو ضعیف قراردینے میں ابن خلدون کا استدلال
ظہور حضرت امام مہدی کے منکروں نے ابن خلدون کے بعض احادیث کو ضعیف قراردینے کے ساتھ تمسک کیا ہے۔
لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان لوگوں نے علماء اہل سنت کیطرف سے ابن خلدون کو دیئے گئے جوابات کی طرف توجہ نہیں کی۔
نیز اس بات کو بھی بھول گئے کہ ابن خلدون نے بعض احادیث کو ضعیف قرار دینے کے باوجود بعض کوصحیح قراردیا ہے۔
استاد احمدامین کا شاگرد اورازہر یونیورسٹی کے پروفیسرسعدحسن احادیث مہدی کے متعلق لکھتے ہیں ان احادیث کو اورناقدین حدیث نے در کیا ہے اوران پر تنقید کی ہے اور علامہ ابن خلدون نے بڑی سختی سے ان کا انکار کیا ہے (المہدیةفی الاسلام :۶۹)اورایسا ہی خیال ان کے استاد احمد امین کا بھی ہے(المہدیولمہدویة ۱۰۸)یہی بات ابوزہرہ (الامام الصادق ۲۳۹)محمدفریدوجدی(دائرمعارف القرن العشرین ۱۰:۴۸۰)اورجبہان(جبہان کی تبدید الظلان ۴۸۰۔۴۷۹)جیسے دیگرافرادنے بھی کہی ہے اور سائح لیبی کہتا ہے"ابن خلدون نے ان سب احادیث پر تنقید کی ہے اورایک ایک کوضعیف قراردیا ہے"(تراثنا وموازین النقد۔علی حسین السائح الیبی :۱۸۵، مقالہ جو کلیة الدعوة الاسلامیہ "میگزین جو لیبیا سے نکلتا ہے ، میں نشرہواعدد۱۰۔۱۹۹۳ئطبع بیروت)
ابن خلدون نے احادیث کے ضعیف قراردینے کی حقیقت
بیشک ابن خلدون نے احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے اوربعض کو صحیح اوریہ کوئی ہماری اپنی بات نہیں ہے بلکہ خود ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں اس کی وضاحت کی ہے جیسا کہ ہم اس کی عبارت نقل کریں گے۔
اورلگتا ہے کہ استاداحمد امین نے اس کی صحت کی تصریح کونہیں دیکھا اورصرف اس کی تصنعیفات کی طرف اشارہ کردیا ہے۔
پھر یہ لوگ زبن خلدون کی تاریخ کا مطالعہ کیے بغیراس بات کوبڑھا چڑھا کرنقل کرتے ہیں فرض کریں اگرابن خلدون نے احادیث مہدی میں سے ایک کوبھی صحیح قرار نہ دیا ہوتوکیا دیگرعلماء حدیث ودرایة کا ان کوصحیح اورمتواتر دینا کافی نہیں ہے حالانکہ ابن خلدون کا موضوع تاریخ اوراجتماعیات ہے۔
پھر ابن خلدون نے کتنی احادیث کو ضعیف قرارد یا ہے تاکہ اس کے اس عمل کو اس قدر بڑھاچڑھا کرپیش کیا جائے۔
ابن خلدون نے صرف تیئس احادیث کا مطالعہ کیا اوران میں سے انیس کو ضعیف قراردیا ہے اوراحادیث مہدی کو ذکر کرنے والوں میں سے اس نے فقط سات افرادکا ذکر کیا ہے۔ترمذی ،ابوداؤد،بزار،ابن ماجہ، حاکم ، طبرانی ،اورابویصلی موصلی(تاریخ ابن خلدون ۱:۵۵۵، فصل ۵۲)
اس طرح انہوں نے ان اڑتالیس علماء کو چھوڑدیا ہے جنہوں نے احادیث کو مہدی کو ذکر کیا ہے کہ جن میں پہلے ابن سعد (متوفی ۲۳۰ہجری)صاحب طبقات اورآخری نورالدین ہیثمی (متوفی ۸۰۷ہجری)ہیں اوراحادیث مہدی کوروایت کرنے والے صحابہ میں سے انہوں نے فقط چودہ کا ذکر کیا ہے(تاریخ ابن خلدون۵۵۶)جب کہ انتالیس صحابہ کو چھوڑ دیا ہے اوراس کی تفصیل فصل اول میں گزر چکی ہے۔
نیز انہوں نے ان چودہ صحابہ کی بھی بہت کم احادیث کا ذکر کیا ہے چنانچہ ہم نے خود ابوسعید خدری کی احادیث کو شمار ہے فقط ان کی احادیث ان تمام احادیث سے زیادہ ہیں جو ابن خلدون نے ذکر کی ہیں اورابوسعید ان کے ذکر کردہ چودہ صحابہ میں سے ایک ہیں۔
اس سے بڑھ کو ابو سعید خدری کی جب احادیث کو انہوں نے ذکر کیا ہے ان کے بھی سارے طرق کو ذکرنہیں کیا ہے فقط چند کو ذکر کیا ہے کیونکہ دیگر طرق کا انہیں علم ہی نہیں ہے۔اوراگرآپ ہمارے ذکرکردہ طرق ملاحظہ فرمائیں اورپھر ان کا موازنہ ان سے کریں جنہیں ابن خلدون نے اپنی تاریخ کی جلد اول کی فصل نمبر ۵۲میں بیان کیا ہے توآپ کو ہماری اس بات کا یقین ہوجائے گا۔
اس لیے ابن خلدون پرسخت تنقید ہوئی اوران کومختصراورمفصل جواب دیا گیا اس سلسلہ میں ابوالفیض اپنی کتاب "ابرازالوہم"میں ابن خلدون کی تصعیفات کیساتھ تمسک کرنے والوں کے بارے میں لکھتے ہیں :۔
"جن پرآج تواترمخفی ہے اوراس سے جاہل ہیں اوران کا جہل انہیں علم کے راستے سے دور اور رو کے ہوئے ہے یہ وہ لوگ ہیں جوظہورمہدی کاانکار کرتے ہیں اوران کے بار ے میں وارد ہونے والی احادیث کے ضعیف ہونے کا یقین رکھتے ہیں جب کہ یہ لوگ ضعیف ہونے کے اسباب حدیث ضعیف کے معنی اورعلم حدیث کے قواعد واصول سی بھی واقف نہیں ہیں اوران کاظرف ان احادیث مہدی سے خالی ہے جن کا تواترکسی بیان کا محتاج نہیں ہے"
اس انکارکی دلیل فقط وہ کمزور اورجھوٹی علتیں ہیں جو ابن خلدون نے بعض احادیث کو ضعیف قراردینے کیلئے ذکرکی ہیں اوران کے ذریعے انہوں نے ان احادیث کے ثقہ راویوں پر الٹے سیدھے اورغلط الزامات لگائے ہیں جب کہ اس وسیع میدان میں ابن خلدون کی کوئی جگہ نہیں ہے اوراس سلسلے میں اس کاکوئی حصہ اورکردار نہیں ہے
لہذاان پر کیسے اعتماد کیا جاسکتاہے اوران مسائل کی تحقیق میں کیسے ان کیطرف رجوع کیا جاسکتا ہے ضرورت یہ ہے کہ گھر میں دروازے سے داخل ہوا جائے اورحق یہ ہے کہ ہرفن میں اس کے ماہرین کی طرف رجوع کیا جائے لہذافقط حفاظ اورنافذین ہی کا حدیث کو صحیح یا ضعیف قراردینا قابل قبول ہوسکتاہے
(البزار:۴۴۳)اس کے بعد حدیث کے متعددحفاظ اورناقدین کے اقواک کو نقل کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ
احادیث حضرت امام مہدی صحیح اورمتواترہیں
شیخ احمد شاکرکا کہنا ہے "ابن خلدون نے اس چیز کو چھیڑاہے جس کا سے علم نہیں ہے اوراس نے اس وادی میں قدم رکھا ہے جس کاوہ اہل نہیں۔
اس نے اپنے مقدمے کی اسی فصل میں عجب تضادات اورواضح غلطیوں کا ارتکاب کیاہے دراصل ابن خلدون محدثین بات کو سمجھ ہی نہیں پائے کیونکہ اگروہ انہیں سمجھ لیتے تووہ ساری باتیں نہ کہتے جو انہوں نے کہی ہیں(شیخ عبدالمحسن ابن حمدالعباد کا مضمون "مہدی کے بارے میں وادرہونے والی احادیث جھٹلانے کاجواب")یہ مضمون مدینہ منورہ میں "الجامعہ الاسلامیہ "نامی رسالہ میں ۱۴۰۰ ء ہجری میں چھپا ہے عدا، بارھویں جلد نمبر ۴۶،۱۴۰۰ ء ہجری )
شیخ عباد کا کہنا ہے ابن خلدون ایک مورخ ہیں نہ علم رجال کے ماہر تاکہ ان کی تصحیح اوررضعیف پر اعتمادکیا جائے بلکہ اس سلسلے میں بیہقی ، عقیلی ، طابی، ذہبی ، ابن یتمیہ ، ابن قیم جیسے علم حدیث ودرایة کے ماہر پر اعتماد کیا جائیگا جنہوں نے احادیث مہدی کو صحیح قراردیا ہے(سابقہ حوالہ)
بہر حال ابن خلدون کی تضیفات کے ساتھ تمسک کرنے والوں کی دلیل باطل ہے کیونکہ خودابن خلدون نے ان میں سے چار احادیث کی صحة کا اعتراف کیا ہے اوروہ مندرجہ ذیل ہیں ۔
۱۔ وہ حدیث جسے حاکم نے عون اعرابی عن ابو الصدیق ناجی عن ابو سعید خدری کے طریق سے روایت کیا ہے اس کے بارے میں ابن خلدون نے سکوت اختیار کیا ہے اوراس پر کوئی تنقید نہیں کی کیونکہ اس کے تمام روای اہل سنت کے ساتھ علماء کے نزدیک موثق ہیں اگرچہ انہوں نے اسے صحیح نہیں کہا لیکن ان کا سکوت اس کے صحت کے اعتراف کی دلیل ہے(تاریخ ابن خلدون ۱:۵۶۴، فصل نمبر۵۲)
۲۔ وہ حدیث جسے حاکم نے سلیمان بن عبیدعن ابوالصدیق ناجی عن ابو سعید خدرہ کے طریق سے روایت کیا ہے اس کے بارے میں ابن خلدون کا کہنا ہے "اس کی سند صحیح ہے"(تاریخ ابن خلدون ۱:۵۶۴)
۳۔ وہ حدیث جسے حاکم نے ظہور حضرت امام مہدی کے بارے میں علی سے روایت کیا ہے اوراسے بخاری ومسلم کے معیار کے مطابق صحیح قرار دیا ہے ابن خلدون کا کہنا ہے "یہ سند صحیح ہے جیسا کہ ذکرہوچکا ہے"(تاریخ ابن خلدون ۱:۵۶۵)
۴۔وہ حدیث جسے ابوداود سجستانی نے اپنی سنن میں صالح بن خلیل سے انہوں نے ام سلمہ سے نقل کیا ہے اوراس کی سند کے بارے میں ابن خلدون کا کہنا ہے اس کے راوی صحیح حدیث کے راوی ہیں ان پر کسی تنفید وتنقیص کی کوئی گنجائش نہیں ہے(تاریخ ابن خلدون ۱:۵۶۸)
تضعیفات ابن خلدون کی کہانی ہندسوں کی زبانی
ہندسوں کی زبان کسی نقص وتنقید بحث اورتمحیص کو قبول نہیں کرتی ۔
اب ہم ابن خلدون کی تضعیفات میں بحث کے نتائج کواس زبان کے سپرد کرتے ہیں تاکہ سب ممکنہ صورتوں میں ان کے اس کام کی علمی حیثیت واضح ہوسکے اوریہ تب ہوگا جب آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ "معجم احادیث المہدی "پانچ جلدوں پر مشتمل ہے اوران میں احادیث کو ہزار جلدوں سے اکٹھا کیا گیا ہے اورانہیں مختلف قسموں پر تقسیم کیا گیا ہے ملاحظہ فرمایئے:۔
۱۔ پہلی اوردوسری جلد ان پانچ سو ساٹھ (۵۶۰)احادیث پر مشتمل ہیں جو ساری کی ساری سنی اورشیعہ طرق سے پیغمبر اکرم سے مروی ہیں ۔
۲۔تیسری اورچوتھی جلدان (۸۷۶)احادیث پرمشتمل ہیں جوآئمہ اہل بیت سے مروی ہیں اوران میں سے بہت ساری احادیث شیعوں کے ساتھ اہل سنت نے بھی نقل کیا ہے۔
۳۔پانچویں جلدان (۵۰۵)احادیث پر مشتمل ہے جو آیات قرآنیہ کی تفسیر کرتی ہیں اورشیعہ وسنی مفسرین نے جتنی بھی تفسیر پرمبنی احادیث حضرت امام مہدی کے بارے میں ذکر کی ہیں وہ سب تقریبااس میں موجود ہیں ۔
اس لحاظ سے احادیث کی تفسیرکرنے والی احادیث کو چھوڑ کربقیہ کی تعدادبنے گی (۱۴۳۶)اورتفسیر کرنے والی احادیث کو ملائیں توکل بن جائیں گی (۱۹۴۱)اوراگران کے سارے طرق شمار کیے جائیں توتقریبا چار ہزار بنتے ہیں ۔
اب غورفرمائیں:۔
۱۔ابن خلدون نے فقط (۲۳)احادیث کے متعلق بحث کی ہے ۔۲۔ان کے طرق کی تعداد(۲۸)ہے۔
۳۔ ابن خلدون نے ان میں سے چار کو صحیح قرار دیا ہے ۔۴۔ ان میں ضعیف ۱۹ ہیں
پس ابن خلدون (۱۹۱۸)احادیث کو زیربحث نہیں لائے ان میں سے (۵۳۷)حدیث پیغمبرسے مروی ہے (۸۷۶)اہلبیت سے اور(۵۰۵)احادیث آیات قرآنیہ کی تفسیرکرتی ہیں اوراس طرح ۲۳کا عدد مندرجہ ذیل نسبتیں تشکیل دیتا ہے:۔
۱۔ پیغمبر سے مروی احادیث کے ساتھ اس نسبت بنتی ہے۱۰۷،۴/
۲۔ پیغمبر اسلام اوراہم بیت سے مروی ساری احادیث کے ساتھ ہے ۶۰۱،۱/
۳۔ اورساری احادیث کے ساتھ ہے ۱۸۴،۱/اوراگر ابن خلدون ساری احادیث کو زیر بحث لائے ہوتے صحیح احادیث کی تعداد جو ان کے نزدیک ۲۳ میں سے ۴ہے کا تناسب یہ ہوتا:۔
۱۔ اگرپیغمبر اسلام سے مروی ساری روایات پر تنقید ی نظر کرتے تو۹۸احادیث صحیح ہوتیں ۔
۲۔ پیغمبر اسلام اوراہل بیت سے مروی احادیث سے۲۵۰احادیث صحیح ہوتیں۔
۳۔ اگرساری احادیث پر تنقید کرتے توصحیح احادیث کی تعداد ۳۳۸ہوتی۔
اورواضح ہے کہ پہلا عدد ہی احادیث مہدی کے تواتر کے لیے کافی ہے اورجن احادیث کو ابن خلدون نے درکیا ہے انہیں اگر ان احادیث سے نسبت دی جائے جنہیں ابن خلدون بحث زیر بحث نہیں لائے تومندرجہ ذیل تناسب بنتاہے:۔
۱۔ پیغمبر سے مروی احادیث کے ساتھ تناسب یہ ہے ۳۹۲۔ ۳/
۲۔ پیغمبر اسلام اوراھل بیت سے مروی احادیث کے ساتھ ۳۲۰،۱/
۳۔ تمام احادیث کے مجموعے کے ساتھ ۹۷۸،۰/
لہذا کیسے یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ابن خلدون نے ساری احادیث مہدی کو ضعیف قرار دیا ہے جب کہ وہ بہت ہی کم تعدادکوزیربحث لائے ہیں اوران میں سے بھی بعض کو انہوں نے صحیح قرار دیا ہے
عیسیٰ بن مریم ہی مہدی ہیں
بعض مشترقین اورغیرمشترقین نے امام مہدی کے انکار کے سلسلے میں محمد بن خالدجندی کی اس حدیث کو بہانہ بنایا ہے کہ اللہ کا نبی عیسیٰ ہی مہدی ہے لیکن میں نے علماء اسلام میں کوئی ایسا عالم نہیں دیکھا جس نے حدیث کو ذکر کرنے کے بعد اس پرتنقید نہ کی ہو اوراس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔
لہذا بالاتفاق قابل قبول نہیں ہے لیکن اس غرض سے کہ اس کا بطلان کسی پر پوشیدہ نہ رہے اس کی حقیقت کو بیان کرنا ضروری ہے۔
اس حدیث کو ابن ماجہ نے یونس بن عبدالاعلی سے انہوں نے شافعی سے انہوں نے محمدبن خالدجندی سے انہوں نے ابان بن صالح سے انہوں نے حسن بصری سے انہوں نے انس بن مالک سے انہوں نے پیغمبر اسلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :۔
"معاملہ سخت ہوجائے گا دنیا پیچھے کی طرف چلتی رہے گی ،لوگ کنجوس ہوتے جائیں گے اورقیامت قائم نہیں ہوگی مگربرے لوگوں کے نقصان میں اورکوئی مہدی نہیں ہے عیسیٰ بن مریم کے سوا(سنن ابی ماجہ ۲:۱۳۴۰۔۴۰۳۰، اورخود ابن ماجہ نے یہ حدیث بھی نقل کی ہے۔"المهدی حق وهومن ولدفاطمة ""مہدی حق ہے اوراولاد فاطمة سے ہے۲:۱۳۶۸۔۴۰۸۶، جو گزر چکی ہے نیز ہم ذکر کرچکے ہیں کہ اہل سنت میں کسی نے اسے صحیح قرار یا ہے اورکسی نے متواتر۔۔۔۔۔۔)
اس کی رد اوربطلان کے لیے کسی علمی کاوش کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ حدیث گزشتہ ساری صحیح اورمتواتر احادیث کے مخالف ہے
اوراگرمروی حدیث کے ذریعے نقص کے باوجود استدلال صحیح ہو تو علم رجال اورفن درایت ایک بازیچہ اطفال جائے گا اوراس کا مطلب جعلی احادیث کو صحیح قرار دینا ، جھوٹے راویوں کو جلیل القدر اورثقہ شمار کرنا ،مجہول احادیث کو مشہور بنانا اورناصبیوں کو سادات سمجھنا ہوگا۔
اورثقہ وقابل اعتماد کو مجروح اورمطعون کے ساتھ ملانے اچھے اوربرے کو یکجا کرنے اورناقص وکامل کے درمیان فرق نہ کرنے کی صورت میں اسلام میں کوئی بھی متواترحدیث نہیں رہی گی۔
کیاکوئی عقلمند مسلمان ایسا ہے جودجال صفت راوی محمد بن خالد جندی کی تصدیق کرسکتا ہو؟
کیونکہ یہی وہ شخص ہے جس نے حدیث جند(جندجو صنعا سے دودن کے فاصلے پر ایک مقام ہے) کونقل کیاہے کہ جس کاجعلی ہونامشہورہے اوروہ حدیث یہ ہے"چارمساجد کی طرف پالان کسے جائیں گے مسجد حرام ، میری مسجد،مسجداقصیٰ اورمسجد جند"(تہذیب التہذیب۹:۱۲۵۔۲۰۲)
دیکھئے کس طرح اس نے لوگوں کے دلوں کوجند کی چھاونی کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس سے پہلے تین مقدس مساجد کا ذکرکیا ہے اور تعحب ابن ماجہ پر ہے کہ انہوں نے محمد بن خالد جندی کی اس عبارت ولا مھدی الا عیسیٰ بن مریم (مہدی وہی عیسیٰ بن مریم ہے)والی حدیث کو ذکر کیا ہے۔
حالانکہ یہی حدیث دیگر صحیح طرق سے بھی مروی ہے کہ جن میں یہ اضافہ نہیں ہے
ان میں سے ایک وہ ہے جسے طبرانی اورحاکم نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ابوامامہ سے بالکل انہیں الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے لیکن اس میں یہ الفاظ ولامھدی الا عیسیٰ بن مریم (مہدی وہی عیسیٰ مریم ہے )نہیں ہیں۔
اورحاکم نے اسے صحیح قراردیا ہے اورکہا ہے "یہ حدیث صحیح ہے لیکن بخاری اورمسلم نے اسے ذکر نہیں کیا"(مستدرک حاکم ۴:۴۴۰، کتاب الفتن اولماحم اورطبرانی کیالکبیر۸:۲۱۴۔۷۷۵۷)
ہاں حاکم نے بھی ابن ماجہ کی اس حدیث کو اس اضافے کے ساتھ نقل کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کی ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو اپنی مستدرک میں تعجب کے لیے نقل کیا ہے نہ کہ بخاری اورمسلم پرحجة کے لیے(مستدرک حاکم ۴:۴۴۲۔۴۴۱، کتاب الفتن والملاحم)
ابن قیم نے "المنارالنیف "میں اس حدیث (ولامھدی الا عیسی ٰ بن مریم)(مہدی وہی عیسٰی بن مریم ہیں)کا ذکرکیا ہے اوراس کے متعلق علماء اہل سنت کے اقوال نقل کئے ہیں اورکہا ہے اس حدیث کو صرف محمد بن خالد جندی نے روایت کیاہے۔
اورآبری (متوفی ۳۶۳ہجری)سے نقل کیا ہے کہ محمد بن خالد علماء حدیث ودرایت کے درمیان معروف نہیں ہے اوربیقہی سے نقل کیا ہے اسے فقط محمد بن خالد نے نقل کیا ہے اورحاکم ابوعبداللہ نے کہا ہے یہ مجہول ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے پس اس سے روایت کیا گیا ہے کہ اس نے ابان بن ابو عیا ش سے اورانہوں نے مرسل حدیث پیغمبر اکرم سے نقل کی ہے
پس اس کی بازگشت بھی محمد بن خالد کی طرف ہوئی جو مجہول ہے حدیث منقطع ہے اورظہور مہدی کی احادیث زیادہ صحیح ہیں(المنارالنیف۱۲۹۔۳۲۴و۱۳۰۔۳۲۵)
اورابن حجر نے ابوعمرو اورابو الفتح ازدی کی محمد بن خالد پر تنقید پو ذکر کیاہے(تہذیب التہذیب ۹:۱۲۵۔۲۰۲)
میں کہتا ہوں حدیث:۔(ولامہدی الاعیسی بن مریم)
(مہدی وہی عیسی بن مریم) ایک ناقابل قبول روایت ہے جسے ابن ماجہ نے ذکر کیا ہے(میزان الاعتدال ۳:۵۳۵۔۷۴۷۹)
قرطبی نے کہا ہے یہ جملہ( ولامہدی الاعیسیٰ بن مریم)
اس سلسلے میں وارد دیگر احادیث کے معارض ہے پھر محمد بن خالد پر طعن کرنے والوں اوراس کی حدیث کو رد کرنے والوں کے اقوال نقل کرنے بعد کہا ہے
"حضرت امام مہدی کے ظہور اوران کی عترت اوراولاد فاطمة سلام اللہ علیھا سے ہونے کے سلسلے میں پیغمبر اکرم سے صحیح احادیث موجود ہیں پس فیصلہ انہیں کے مطابق کیا جائے گا کہ اس حدیث کے مطابق"(التذکرہ ۲:۷۰۱)
ابن حجر کا کہنا ہے نسائی نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ حدیث قابل قبول نہیں ہے اوردیگر حفاظ نے قطعی طور پر کہا ہے کہ اس سے پہلے والی احادیث جو واضح طور پر کہتی ہیں کہ مہدی اولاد فاطمہ سے ہے زیادہ صحیح ہیں(الصواعق المحرقہ:۲۶۴)
ابونعیم نے حلیة الاولیاء میں اس حدیث کو غریب شمار کیا ہے اورکہا ہے "ہم نے اس کو نہیں لکھا مگرشافعی حدیث سے "(حلیۃ الاولیاء۹:۶۱)
ابن تیمیہ کا کہنا ہے وہ حدیث جس میں یہ جملہ (ولا مہدی الاعیسیٰ بن مریم)مہدی وہی عیسیٰ بن مریم ہیں )ہے اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اوریہ ایک ضعیف حدیث ہے جسے اس نے یونس سے اس نے شافعی سے اوراس نے یمن کے ایک مجہول شخص سے روایت کیا ہے۔
ایسی سند کے ساتھ توروایت حجة نہیں ہوا کرتی اوریونس اس سے روایت کی گیا ہے کہ مجھ سے بیان کیاگیا شافعی سے اور خلعیات وغیرہ میں ہے ہمیں یونس نے بتایا شافعی سے نہ ہمیں شافعی نے ان دونوں کا مطلب یہ ہے کہ خود شافعی نے نہیں بتایا پس شافعی کی طرف بھی اس کی نسبت ثابت نہیں ہے۔
پھر محمد بن خالد جندی کی حدیث کے متعلق کہتا ہے اس میں تدلیس ہے جو ا س کے ضعیف ہونے پردلالت کرتی ہے اوربعض لوگ توکہتے ہیں شافعی نے اسے روایت ہی نہیں کیا(مہناج السنة ابن تیمیہ ۴:۱۰۲۔۱۰۱)
چنانچہ محمد بن خالد جندی کے بہت زیادہ مطعون ہونے کی وجہ سے امام شافعی کے بعض حامیوں نے ان سے اس حدیث کو دور کرنے کی کوشش کی ہے اورکہا ہے کہ شافعی کے شاگرد نے ان پر جھوٹ بولا ہے اوردعویٰ کیا ہے کہ شافعی نے خواب میں دیکھا تھا وہ کہہ رہے تھے "مجھ پریونس بن عبداالاعلی نے جھوٹ بولا ہے یہ میری حدیث نہیں ہے(ابن کثیر کی الفتن والملاحم ۳۲)
ابو الفیض غماری نے اس حدیث :۔(ولامہدی الا عیسیٰ مریم)مہدی وہی عیسیٰ بن مریم ہے کو آٹھ محکم ومضبوط دلیلوں سے رد کیاہے۔(ابراز الوہم المکنون :۵۳۸)
مہدویت کے سابقہ دعووں سے استدلال
لامہدویت کا ڈرامہ کرنے والوں نے آخری زمانے میں ظہورمہدی کا انکار کرنے کے لیے مہدویت کے سلسلے میں گذشتہ دعووں کودلیل بنایا ہے جیسے حسنیوں کا دعوی کہ محمد بن عبداللہ بن حسن مہدی ہے
عباسیوں کادعوی کہ مہدی عباسی مہدی ہے اور اسی طرح دوسرے دعاوی جیسے ابن تومرت یامہدی سوڈانی یا محمدبن حنفیہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کی مہدویت کادعوی۔اس استدلال کی بنیاد مہدویت کے باطل دعووں پر ہے اوریوں حق باطل کے درمیان ایک دھوکہ دینے والا موازنہ قائم کرکے انہیں گڈمڈ کردیا گیا ہے جسکی وضاحت مندرجہ ذیل باتوں سے ہو جاتی ہے
اول:۔ان دعویداروں میں ظہور مہدی کی ایک علامت موجود نہیں تھی اورصحیحین کی روایات کی روشنی میں یہ بعض علامات گزر چکی ہیں۔
دوم:۔ان سب کی موت ثابت ہوچکی ہے اورکوئی مسلمان ان کے زندہ ہونے کا عقیدہ نہیں رکھتا۔
سوم:۔ یہ سب آخری زمانے میں نہیں تھے کہ جو ظہور مہدی کی شرط ہے اورپھر ان میں سے کسی نے زمین کو عدل وانصاف سے پر نہیں کیا
چہارم :۔سب سے اہم یہ کہ اگریہ استدلال صحیح ہو تو عدالت ختم ہو جائے گی کیونکہ فرعون مصر سے لیکن آج تک سارے طاغوتوں نے ایسے دعوے کئے ہیں۔
لہذا جاہلوں کے دعوی علم کی وجہ سے ہمیں علماء کو جاہل قرار دینا ہوگا ، بہادرکوبزدل ، سخی کو بخیل اوربردبار کو بیوقوف کیونکہ ہر اچھی صفت میں بعض لوگوں نے جھوٹے دعوی کئے ہیں ۔
ظہور مہدی کامسئلہ ان مسائل میں سے ایک ہے جن سے سیاسی اہداف رکھنے والوں نے فائدہ اٹھایا ہے اسی وجہ سے بعض لوگوں نے خود اس کا دعویٰ کیا تھا اوربعض نے اپنے مفادکی خاطراس کی ترویج کی تھی ۔
اورجیسے ایک عقل مندانسان کسی غیر مستحق کے دعوی کی وجہ سے وجود حق کا انکارنہیں کرسکتا اسی طرح مہدویت کے ان باطل دعووں کی وجہ سے اس مہدی کے ظہور کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا جس کی بشارت ہمارے نبی اعظم نے دی تھی
اسی کے ساتھ ساتھ علماء اسلام نے امام مہدی کے بارے میں وارد ہونے والی بہت ساری روایات اوران کی اکثر اسناد کو صحیح قرار دیا ہے کہ جو ساری مل کر متواترہوجاتی ہیں اوربعض سے توتواترکا مسلم شمار کیاہے جیسے کہ اس کا ذکرپہلے ہوچکاہے
ان شبہات کی قلعی کھلنے اوران کے نقش بر آب ثابت ہونے کے بعد ایک شبہ باقی رہ جاتا ہے اوروہ یہ کہ امام مہدی کی اسقدر طویل عمر عقل وعلم کے معیار پرپوری نہیں اترتی۔
یہ شبہ ان لوگوں کی سب بڑی دلیل ہے اورآخری فصل میں ہم حسب ضرورت اس پر بحث کریں گے تاکہ واضح ہوجائے کہ یہ عقل وعلم کے خلاف ہے اورثابت کریں گے کہ عقل کی اپنی حدودہیں اوریہ کسی شخص کی ذاتی خواہشات ، تمناوں اورمیلان سے آزاد ہے اوراس کے اپنے احکام ہیں جنہیں تمام عقلاء قبول کرتے ہیں اوران کا قبول کرنا کسی فرد کی عقل پرموقوف نہیں ہے
نیز اس بات کو روشن کریں گے کہ محال ذاتی اورممکن ذاتی میں بہت بڑافرق ہے محال ذاتی میں وقوع کسی حال میں بھی ممکن نہیں ہے حتی کہ انبیاء اوراوصیاء کے ذریعہ بھی واقع نہیں ہوسکتا جیسے نقضین کا جمع ہونااورممکن ذاتی جوعام طور پر وقوع پذیر نہیں ہوتا لیکن اس کے واقع ہونے کا امکان ہے اوریہ کہ وقوع پذیر ہونے اورنہ ہونے کے لحاظ سے محال عقلی اورمحال عادی ایک جیسے نہیں ہیں۔
لیکن ان لوگوں نے انہیں اسطرح ملاجلا کرپیش کیا ہے کہ اب عام خیال یہ بن گیا ہے کہ جوشئی بھی عام طورپروقوع پذیرنہیں ہوتی وہ محال عقلی ہے کیونکہ ان دونوں میں انہوں نے فرق نہیں کیا اورہم دلیل سے ثابت کریں گے کی ان کا یہ بہانہ عقل وعلم کی روشنی میں کسی دلیل اوربرہان کی حیثیت نہیں رکھتا۔
امام مہدی عقل اورعلم کی روشنی میں
جو لوگ حضرت امام مہدی کا انکار کرتے ہیں اورانہیں امام حسن عسکری کا بیٹا محمد نہیں مانتے وہ ایسی دلیلوں سے تمسک کرتے ہیں جن کا عقائد کے سلسلے میں اسلام کی معین کردہ روش سے دور ک بھی واسطہ نہیں ہے
اسلام کی روش جس طرح عقل ومنطق پر قائم ہے اسی طرح فطرت اورغیب پر بھی استوار ہے غیب پر ایمان مسلمان کے عقیدے کا جز ہے کیونکہ قرآن وسنت نے بار بار اس کی طرف دعوت دی ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:۔
( الم ذلک الکتاب لاریب فیه هدی للمتقین الذین یومنون بالغیب ) ۔۔
الم یہ ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے ان متقین کے لیے ہدایت ہے جوغیب پر ایمان رکھتے ہیں(سورة بقری آیت ۱۔۳)
نیز فرماتا ہے:۔
( تلک من انباء الغیب نوهیها الیک ) ۔۔۔۔۔
یہ غیب کی خبریں ہیں جن کی ہم تیری طرف وحی بھیجتے ہیں (سورة ہود۴۹)
اورحدیث کی کتابوں میں ایسی سینکڑوں روایات موجود ہیں جو ایمان بالغیب اورانبیاء ورسل کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق کرنے پر زور دیتی ہیں اورایمان بالغیب کے انکار کے باوجود مسلمان کاعقیدہ صحیح نہیں ہوسکتا چاہے اس کو سمجھ لے اوراس کے اسرار اوررتفصیلات تک پہنچ جائییانہ جیسا کہ فرشتے ، جن عذاب قبر ، سوال منکرونکیراوردیگر وہ غیب کی خبریں جب پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔
قرآن مجید نے انہیں ذکر کیا ہے حضرت پیغمبر نے ان کی خبردی ہے اورثقہ عادل اورامین لوگوں کے ذریعہ ہم تک نقل ہوئی ہیں انہیں میں سے اہم مسئلہ ظہور حضرت امام مہدی ہے کہ جو زمین کوعدل وانصاف سے پرکردیں گے جیسا کہ وہ ظلم وجورسے پرہوچکی ہوگی۔
پس حضرت مہدی کا انکارمسلمانوں کے لیے ممکن نہیں ہے کہ جن کا ذکر صحاح اورمسایند وسنن میں موجود ہے ان کے طرق کی کثرت راویوں کی وثاقت، تاریخی دلائل اورمشاہدات کو پوری تحقیق سے ہم پیش کرچکے ہیں
منکرین چاہے مغرب کے پروپیگنڈے اورمستشرقین کے لٹریچر سے متاثر ہوئے ہوں یا اپنے بزرگوں سے وراثت میں ملے تعصب میں اندھے ہوئے ہوں جب متواتر احادیث ، محکم دلیلیں اورپے درپے اعترافات کے مقابلے میں اپنے آپکو خالی ہاتھ اوربے بس دیکھتے ہیں توامت مسلمہ کو اس سے منحرف کرنے اورمرحلہ انتظار میں انہیں اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ نہ کرنے پرآمادہ نہ کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے بعض پست اورباطل قسم کی قیاس آرائیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اورکہتے ہیں امام مہدی کی عمر کا اسقدر طویل ہونا اوراس کے لوازمات علم وعقل اورحقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے لیکن اللہ کی مدد اوراس کی توفیق سے عنقریب واضح ہوجائے گا کہ ان کی یہ منطق کس قدرعلمی اصول وضوابط اورصحیح معیاروں سے دور ہے ۔
شایدان کے اہم ترین شبہات یہ ہیں طول عمر کم سنی غیبت سے خود حضرت امام کو کیا فائدہ ہے اورمسلمان غائب امام سے کیسے استفادہ کرسکتے ہیں ۔
چنانچہ ہم علمی طریقے سے اورعقلی دلائل کی روشنی میں بحث کررہے ہیں ملاحظہ فرمائیے
سوال اول:۔ پانچ سال کی عمرمیں آپ کیسے امام ہو سکتے ہیں؟
جواب:۔ بیشک امام مہدی مسلمانوں کی امامت میں اپنے والد بزرگوار کے جانشین تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نہایت کم سنی میں روحانی اورفکری طور پر ایک کامل امام تھے اوربچپن کی امامت آپ سے پہلے بھی کئی اماموں کوحاصل ہو چکی تھی امام محمد تقی آٹھ سال کی عمر میں امام بنے تھے امام علی نقی نو سال اورامام مہدی کے والد امام حسن عسکری بائیس سال کی عمر میں امام تھے۔
توآپ نے ملاحظہ فرمایا کہ بچپن میں امامت والاواضح اورصریخ منصب امام مہدی اورامام محمد تقی کو حاصل ہوا۔
ہم نے اس کو واضح منصب اس لیے کہا ہے کیونکہ یہ امام مہدی کے بعض آباؤ اجداد میں دیکھا گیا ہے مسلمانوں نے اس کا مشاہدہ کیا ہے اوراس کے مختلف علمی تجربات دیکھتے ہیں اورایک ظاہر اورواضح چیز کو ثابت کرنے کے لیے امت کے عملی تجربے سے زیادہ محکم اورواضح دلیل دوسری کوئی اورچیز نہیں ہوسکتی اس کی وضاحت مندرجہ ذیل نکات سے ہوجائے گی
۱۔ اماموں کی امامت کوئی ایسا حکومتی منصب نہیں ہے جو وراثت میں باپ سے بیٹے کی طرف منتقل ہوتا ہے اورحکومتی سسٹم اسے سہارا دیتا ہے جیسا کہ امویین ، فاطمیین،عباسیین،میں تھا بلکہ اسلام ومسلمین کی زعامت کا معیار امام کافکری وروحانی بنیادوں پر قیادت کے لائق ہونا ہے اور امام امت کے مختلف گروہوں کو فکری اورروحانی لحاظ سے قانع کرکے اپنی امامت کا لوہا منواتے تھے۔
۲۔ ان گروہوں کی صدر اسلام میں بنیاد رکھی گئی اورحضرت امام محمد باقر وحضرت امام صادق کے زمانے میں پھولے پھلے اوران دواماموں کے زیرنظر چلنے والے مدرسے نے عالم اسلام میں ایک وسیع اورولولہ انگیز فکرپیدا کی جس نے اس وقت کے مختلف اورمعروف انسانی اوراسلامی علمی میدانوں میں سینکڑوں فقہا ، متکلمین ، علمااورمفسرین پیدا کئے۔
حسن بن علی وشاکا کہنا ہے میں نے مسجد کوفہ میں نوسو شیوخ پائے ان میں سے ہر ایک کہتا تھا مجھ سے یہ حدیث امام جعفر بن محمد نے بیان کی ہے(رجال نجاشی ۴۰۔۸۰ حسن بن علی بن زیاد وشاکاکے حالات میں)
۳۔ جن شرائط کا یہ مدرسہ میں پرچار کرتا تھا اورجنہیں یہ امامت قراردیتا تھا وہ بہت سخت تھیں کیونکہ وہ یہ نظریہ پیش کررہا تھا کہ امام علیہ السلام فقط معصوم اوراپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم ہوسکتا ہے۔
۴۔ اس مکتب اوراس کے ہم فکر لوگ امامت میں اپنے عقیدے پر پختہ رہنے کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دیتے رہے کیونکہ اس وقت کی کوئی حکومت یہ سمجھتی تھی کہ یہ ہمارے خلاف کوئی خط تشکیل دے رہے ہیں کم از کم فکری لحاظ سے۔
لہذا اس وقت کی حکومتیں مسلسل حملے کرتی رہیں کئی قتل ہوگئے کئی قید میں بند کردیئے گے اورسینکڑوں لوگ قیدخانوں کی تاریکیوں میں جام شہادت نوش کرگئے۔
یعنی ائمۃ علیھم السلام کی امامت کے عقیدے کی انہیں بھاری قیمت ادا کرنی پڑی تھی اورانہیں اس عقیدے پر اکسانے والی چیز سوائے اللہ کے قرب کے اورکوئی نہیں تھی
۵۔ ائمۃ علیھم السلام ان گروہوں سے الگ تھلک نہیں رہتے تھے اورنہ بادشاہوں کی طرح عالی شان محلوں میں زندگی گزارتے تھے اورنہ ہی مخفی رہتے تھے مگر یہ کہ خودحکومت انہیں قید یاجلاوطن کردے۔
چنانچہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے آباواجداد میں سے ہر ایک کے سینکڑوں راوی اورمحدث ان کے اپنے ہم عصرلوگوں کے ساتھ خطوکتابت ان کے طویل سفر پھر عالم اسلام کی مختلف جوانب میں اپنے وکلاء کو بھیجنا اورحج کوموقع پر شیعہ کا زیارت کاعادی ہونا
یہ سب امام اور عالم اسلام کے مختلف نقاط میں آپ کے ہم فکر اورپیروی کرنے والے مختلف لوگوں کے درمیان ایک واضح اورمسلسل رابطے کی دلیل ہیں ۔
۶۔ اس دور کی حکومتیں آئمہ علیھم السلام کی اس روحانی قیادت کواپنے اقتدار کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کرتی تھیں اسی وجہ سے اس قیادت کو ختم کرنے کی پوری کوشش تھی اوراسی لیے بڑے بڑے غلط کام سرانجام دیتیں اوراگر ضرورت محسوس کرتیں توسنگدلی اورسرکشی کے نمونے بن جاتیں اورآئمہ علیھم السلام کے خلاف قیدوبند اوردیگر محرمانہ حملے جاری رکھتیں جس کی وجہ سے مسلمان بالخصوص چاہنے والوں کو بہت دکھ ہوتا اورحکومت کے خلاف نفرت پیدا ہوتی تھی۔
ان چھ نکات کو جو تاریخی حقائق پر مشتمل ہیں اگرمدنظر رکھیں تومندرجہ ذیل نتیجے تک پہنچنا ممکن ہوجائے گا۔
بچپن میں امامت والی بات ایک کھلی حقیقت تھی کوئی وہم نہیں تھا کیونکہ بچپن میں جو بھی امام سامنے آیا اورانہوں نے مسلمانوں کے لیے اپنے آپ کو روحی اورفکری امام متعارف کرایا۔
اوروسیع وعریض دنیا میں پھیلے ہوئے آپ کے چاہنے والوں اورپیروکاروں کا آپ امام اوررہبر مان لینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ:۔آپ علم ومعرفت کے اعلی درجے پر فائز تھے فقہ تفسیر وعقائد وغیرہ پر پورا تسلط رکھتے تھے۔اگرایسا نہ ہوتا توممکن نہیں تھا کہ اتنے بڑے بڑے گروہ آپ کی امامت کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے۔با لخصوص اس تناظر میں کہ آپ اپنے پیروکاروں کو اپنے ساتھ رابطہ رکھنے اوراپنی شخصیت کو پرکھنے کا پورا موقع فراہم کرتے تھے کیا ممکن ہے کہ ایک بچہ اپنی امامت کا اعلان کرے اوروہ بھی علی الاعلان اوراتنے بڑے بڑے مختلف گروہوں کے سامنے۔
اوریہ سب اس کی حقیقت سے مطلع ہوئے بغیر اوراس بچے کی حیثیت کا اندازہ لگائے بغیر اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیں اوراس راہ میں اپنا امن اورزندگی جیسی قیمتی ترین چیز قربان کردیں ؟
اورکیا یہ ممکن ہے کہ واقعاوہ فکری اورعلمی لحاظ سے بچہ ہو لیکن اسقدر طویل رابطے کے باوجود ظاہر نہ ہو؟
فرض کریں کہ اہل بیت کی امامت کو ماننے والے حقیقت حال کو کشف کرنے پر قادر نہیں تھے توپھر حکومت کیوں خاموش رہی اوراس نے حقیقت حال کو ظاہر کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی حالانکہ یہ اس کے مفاد میں تھا
اوراگرامامت کا وہ دعویدار بچہ فکروعلم میں بھی بچہ تھا توحکومت کے لیے یہ کام کس قدر آسان تھاجیسا کہ دیگر بچوں میں ہے؟
اورکس قدر اس کے لیے مفید تھا یہ اسلوب کہ بچے کو شیعوں اورغیرشیعوں کے سامنے اس طرح پیش کردیتی جیسے وہ تھا اوراس کے روحانی اورفکری بنیادوں پرا مامت کے لائق نہ ہونے کو ثابت کردیتی۔
اگرچالیس یا پچاس سالہ شخص کے امامت کے لائق نہ ہونے کو ثابت کرنا مشکل ہو توبھی بچے کے لیے یہ کام مشکل نہیں ہے چاہے وہ کتنا ہی ذہین وفطین ہو اوریہ ان سب طریقوں سے آسان تھا جوان حکومتوں نے اپنا رکھے تھے۔
پس وقت کی حکومت کی اس سلسلے میں خاموشی کی صرف ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے اوروہ یہ کہ اس نے درک کرلیا تھا کہ بچپن کی یہ امامت ایک کھلی اورروشن حقیقت ہے کہ کوئی جعلی اوربناوٹی شی۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے مختلف مواقع میں اس کی کوشش کرنے اوراس میں ناکام ہونے کی وجہ سے بہت نزدیک سے یہ چیز درک کرلی تھی۔
کیونکہ تاریخ ہمیں اس قسم کے کئی واقعات بتاتی ہے جن میں حکومت کی ناکامی واضح ہوتی ہے اس کے برعکس ایسا ایک بھی واقعہ نہیں ملتا جس میں بچپن کی یہ امامت لڑکھڑائی ہویا اس چبے نے اپنے سے بالاتر کا سامنا کیا ہواورلوگوں کا اس پراعتماد متزلزل ہو گیا ہو۔
اورہم نے جو کہا تھا کہ بچپن میں امامت ایک کھلی اورروشن حقیقت تھی اس سے ہماری مرادیہی تھی اوراس کی مثال خداکے رسولوں میں بھی ملتی ہے جیسے کہ یحییٰ نبی کے بارے میں خدا فرماتا ہے:۔
( یا یحییٰ خذ الکتاب بقوة واتینا الحکم صبیا)
اے یحییٰ کتاب کو قوت کے ساتھ پکڑلو اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت عطا کی(سورہ مریم ۱۹۔۱۲اورفصل دوم کے نمبر۵، اور۸ میں ابن حجر ہیثمی شافعی اوراحمد بن یوسف قرمانی حنفی کااعتراف گزرچکا ہے کہ مہدی کو بچپن میں حکمت عطاہوئی)
اورجب یہ ثابت ہوگیا کہ بچپن کی امامت ایل بیت کہ ہاں اوریہ ایک کھلی حقیقت ہے موجود تھی توخاص طور سے امام مہدی کے بچپن میں امام بننے پر اعتراض کونا کوئی معقول بات نہیں ہے۔
دوسراسوال :۔ طول عمر
شاید سب سے اہم اعتراض کہ جس کا ہمیشہ سے پھر پور پروپیگنڈا کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ جب مہدی ایک ایسے انسان ہیں جو مسلسل گیارہوں صدی سے زندہ ہیں توانہیں اتنی طویل عمر کہاں سے ملی اوران طبیعی قوانیں سے کیسے محفوظ رہے جس میں بڑھاپے کا مرحلہ ضروری ہے(یہ شبہہ کتب عقائد میں بہت قدیم زمانے سے زیر بحث لایا جاتا ہے اورشیعوں کے بڑے بڑے علماء نے اس کا مختلف طریقوں سے جواب دیا ہے ہم ان میں سے فقط بعض کو ذکر کریں گے)
اس شبہے کو سوال کی صورت میں بھی پیش کیا جاسکتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے ایک انسان کئی صدیوں تک زندہ رہے ؟اس سوال کے جواب کے لیے مسئلہ امکان کی بطور رتمہید وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔
امکان کی تین قسمیں ہیں ۔
اول :۔امکان عملی
یعنی وہ امکان جو فعلا اورواقعا ممکن ہے اورواضح طور پر وجود رکھتا ہے ۔
دوم :۔امکان علمی!
یعنی وہ امکان جو صرف علمی پہلو سے محال نہیں ہے اورعلم اس کے وجود کو محال قرارنہیں دیتا
سوم :۔امکان منطقی!
یعنی وہ امکان جو عقلاء کی نظر میں محال نہیں ہے اورعقل اس کے وجود کو نا ممکن قرارنہیں دیتی ۔اب ہم اس مسئلہ کوامکان منطقی سے شروع کرتے ہوئے مندرجہ ذیل صورت میں پیش کرتے ہیں ۔
کیا انسان کا صدیوں تک زندہ رہنا عقلی لحاظ سے ممکن ہے ؟اس کا جواب مثبت ہے پس عمر کا طبیعی حدسے کئی گناہ زیادہ ہونا محال نہیں ہے اوریہ بات تھوڑے سے غوروفکر سے واضح ہوجاتی ہے البتہ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا لیکن ایسے حالات کو اہل تاریخ نے درج کیا ہے اورعلمی نشریات نے نقل کیاہے جن سے انسان کوتعجب نہیں ہوناچاہئے خاص طورپر مسلمانوں کوکہ جن کے کانوں میں وحی الہی کی یہ آوازٹکراتی ہے۔
( ولقد ارسلنا نوحا الی قومه فلبث فیهم الف سنة الا خمسین عاما)
اورہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا پس آپ ان میں پچاس کم ہزار سال رہے(العنکبوت:۲۹۔۱۴)
امکان کے اس معنی کومزید واضح کرنے کے لیے ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں اگرایک شخص ایک مجمع میں دعوی کرے کہ وہ دریا کو چل کرعبورکرسکتا ہے یا آگ پرسے گزرسکتا ہے بغیراس کے کوئی نقصان پہنچے توحتمی طور پرلوگ اس پرتعجب کریں گے اوراس کا انکارکریں گے۔
لیکن اگروہ اپنے دعوی کے ثابت کرتے ہوئے دریا کوعبور کرلے یا آ گ پرسے گزرکردکھادے تولوگوں کا انکاراورتعجب ختم ہوجائے گا پھر اگرایک دوسراشخص یہی دعوی کرے تواس کا تعجب درجہ کمترہوجائیگا اوراگرتیسراچوتھا پانچواں دعوی کرے تویہ تعجب مزید کم ہوتا جائیگا۔
کیونکہ پہلی مرتبہ لوگوں کو تعجب ہوا تھا وہ پانچویں مرتبہ میں اسی قوت اورحالت پر باقی نہیں رہے گا بلکہ یقینی طور پر کم ہوتا ہوتا ختم ہوجائے گا۔
ہمارا مسئلہ بھی اسی طرح کا ہے۔ قرآن نے خبردی کہ نوح نبوت سے پہلے کی عمر کے علاوہ اپنی قوم میں ساڑھے نوسو سال تک رہے اوریہ کہ حضرت عیسیٰ فوت نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالی نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا ہی۔
( وقولهم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول الله وما قتلوه وماصلبو ه ولکن شبه لهم وان الذین اختلوفیه لفی شک منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلو یقینا ، بل رفعه الله الیه وکان الله عزیزاحکیما)
اوران کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے اللہ کے رسول عیسیٰ ابن مریم کو قتل کردیا حالانکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل ہی کیا اورنہ سولی ہی دی مگر ان کے لیے ایک دوسرا شخص عیسٰی کے مشابہ کردیا گیا جو لوگ اس بارے میں اختلاف کرتے ہیں یقینا وہ لوگ اس کے حالات کی طرف دھوکے میں پڑے ہیں ان کو اس واقعہ کی خبر بھی نہیں فقط اٹکلی کے پیچھے ہیں اورعیسی ٰ کو انہوں نے یقینا قتل کیا بلکہ خدا نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا ہے اورخدا بڑازبردست تدبیر والا ہے(النساء :۴۔۱۵۸۔۱۵۷۔۴)
اسی طرح بخاری ومسلم کی روایات میں ہے کہ عیسی ٰنازل ہوں گے نیز ان میں موجود ہے کہ دجال زندہ ہے(بخاری اورمسلم میں خروج دجال اورنزول عیسیٰ کی احادیث کو ہم مفصل بیان کر چکے ہیں نیز ذکر کرچکے ہیں کہ اہل سنت کے کن علماء نے اسے اپنا مسلم عقیدہ شمار کیا ہے اورواضح طور پر کہتے ہیں کہ دجال آخری زمانے تک زندہ رہے گا اورحضرت عیسیٰ حضرت امام مہدی کی مددکے لیے آخری زمانے میں نازل ہوں گے ملاحظہ ہو فصل سوم صحیحین کا احادیث مہدی سے خالی ہونے کا بہانہ)
اب جب صحیح روایات پکارپکار کرکہتی ہیں اورگواہی دیتی ہیں اورپے درپے اعترافات منظر عام پر آتے ہیں کہ پیغمبر کی عترت طاہرہ اوراولاد فاطمہ سے امام حسن عسکری کے فرزند حضرت امام مہدی۲۵۵ ء ہجری میں پیدا ہوئے اورابھی تک زندہ اورموجود ہیں توتعجب اورانکارکی کوئی وجہ نہیں اوراس سے انکار سوائے دشمنی اورہٹ دھرمی کے کچھ نہیں ہے۔
تفسیر رازی میں ہے "بعض اطباکہتے ہیں انسانی عمر۱۲۰سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی لیکن آیت جھٹلاتی ہے اورعقل آیت کی موافقت کرتی ہے۔
کیونکہ انسان میں جوترکیب ہے اس کا باقی رہنا ذاتا ممکن ہے ورنہ باقی نہ رہتی اوراس میں موثر کی دائمی تاثیر بھی ممکن ہے کیونکہ موثر اگرخدا تعالی ہے تووہ واضح طورپردائمی ہے۔ اوراگرغیر ہے تواس کا بھی کوئی موثر ہوگاآخرکاراتناواجب الوجوب پرہوگی جوکہ دائم ہے پس اس کی تاثیر بھی دائمی ہوسکتی ہے پس بقا ذاتا ممکن ہے۔اوراگر ایسا نہ ہوتا توکسی ایسے عارضی سبب کی وجہ سے ہوگا جس کامعدوم ہوناممکن ہے ورنہ وہ اسقدر باقی نہ رہتا کیونکہ جو مانع عارض ہے وہ واجب الوجود ہے
پس ظاہر ہوگیا کہ ان کی یہ بات عقل ونقل کے خلاف ہے"(تفسیرکبیر رازی ۲۵:۲۴)
یوں رازی نے غیرمعمولی طور پر انسان کے طول عمر کے ممکن ہونے پراستدلال کیا ہے جب کہ جناب حضرت عیسیٰ کی طول عمر ثابت ہے لہذا یہی برہان حضرت مہدی کی طول عمر میں بھی جاری ہوسکتی ہے۔
اوراس استدلال کومزید تقویت صحاح وغیرصحاح کے حضرت عیسیٰ کے آخری زمانے میں دجال کے قتل اورامام مہدی کی مدد کرنے پر اتفاق سے مل سکتی ہے اس کی تفصیل مہدی کون ہے والے کے جواب میں گزر چکی ہے اب ہم امکان عملی کی بحث کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کیا عملی طور پریہ امکان ہے کہ انسان اسقدر طویل عمر پائے اورکیا تجربہ اس کا شاہد ہے؟
جواب:
موجودہ تجربات ، موجودہ امکانات اورحالات کی روشنی میں اس حد تک کامیاب نہیں ہوسکے کہ انسان کی طبیعی عمر کو ایک سال یادوگنا بڑھا دیں اوریہ چیز بظاہر دلیل کی محتاج نہیں ہے لیکن یہ انسانی عمر طویل نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے کیونکہ امکان عملی میں ایک انسان دوسرے انسان کی طبیعی عمر کو طویل کرنے کا فقط حیلہ کرسکتا ہے لیکن عمریں خدا کے ہاتھ میں ہیں۔
لہذا تقدیر کے خلاف عمر کو زیادہ کرنا انسان میں نہیں ہے ہاں اللہ تعالی معمر لوگوں کی زندگی کوطویل کرنے کے اسباب فراہم کرسکتا ہے اورسائنس زیادہ سے زیادہ ان اسباب کی کشف کرسکتی ہے لیکن ان اسباب کو خود فراہم نہیں کرسکتی کیونکہ بالاتفاق یہ اسباب خدا کے ہاتھ میں ہیں۔
دوسرا سوال کیاامکان علمی کی روشنی میں انسان کی عمر طبیعی حدسے زیادہ طویل ہو سکتی ہے؟
جواب اول:
جی ہاں !متعدد شواہداوراعدادوشمار امکان علمی کو ثابت کرتے ہیں ۔
۱۔ سائنسی تجربات انسانی عمر کومعمول سے زیادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اوریہ تجربات بڑھاپے والے قانون کو توڑرہے ہیں۔
چنانچہ مصر سے نکلنے والے رسالے "المقطف"کے شمارہ اگست ۱۹۲۱ ئمطابق۲۶ذیقعدہ ۱۳۳۹ ئہجری کی جز دوم جلد ۵۹صفحہ ۲۰۶پر اس عنوان ’انسان کا زمین پر ہمیشہ رہنا "کے تحت آتا ہے امریکاکی جونس ہبکنس یونیورسٹی کے پروفیسر ریمنڈبول کہتے ہیں ۔
بعض سائنسی تجربات سے ظاہرہوتا ہے کہ انسانی جسم کے اجزاکو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا جاسکتا ہے لہذا انسانی زندگی کے سوسال کے ہونے کا احتمال ہے اوراسکے ہزارسال تک طویل ہونے میں بھی کوئی مانع نہیں ہے"
اسی رسالے کے ۵۹کے عدد سوم صفحہ ۲۳۹پر ہے "یہ ممکن ہے کہ انسان ہزاروں سال تک زندہ رہے اگراس کی زندگی کو ختم کرنے والی چیزیں اسے عارض نہ ہوں اوران کی یہ بات فقط ایک گمان ہی نہیں ہے بلکہ سائنسی تجربات کا نتیجہ ہے ہم اس امکان علمی کی تائید کے لیے انہیں شواہد پر اکتفاکرتے ہیں ج ماہرین نے اسے امکان علمی میں تبدیل کرنے کے لیے انجام دیئے ہیں۔
۲۔ حال ہی میں بیروت "الایمان پبلیشرز اوردارالرشید "دمشق سے شائع ہونے والی کتاب "حقائق اغرب من الخیال"جزء اول صفحہ ۲۴پر ہے۔
بیریر۱۹۵۵۱ ء میں اپنے آبائی وطن مونٹریا میں ۱۶۶ سال کی عمرمیں دنیا سے رخصت ہو اورا س کی عمرکی اس دوستوں کے گواہی دی اورمیونسپل کمیٹی کے رجسٹروں میں اس کا ریکارڈ محفوظ ہے اورخود بیر یرانے ۱۸۱۵ ء میں واقع ہونے والی جنگ کا راجنیا کے واقعات بڑی وضاحت سے بیان کئے تھے
زندگی کے آخری دنوں میں اسے نیویارک لایاگیا جہاں پر طبیعی ماہرین کی ایک ٹیم نے اس کا چیک اپ کیا توانہوں نے دیکھا کہ اس کا بلڈپریشر، نبض اوردل کی دھڑکن بالکل صحیح ہے اوردماغ ابھی تک جوان ہے۔
لیکن اس کے باوجود انہوں رپورٹ دی کہ اس کی عمر ۱۵۰سال سے زیادہ ہے اوراس کے صفحہ تیس پر ہے کہ توماس بار ۱۵۲سال تک زندہ رہا"۔
اورصاحب سنن سجستانی نے "المعمرون نامی ایک کتاب لکھی ہے اس میں اس نے بہت سارے سن رسیدہ افراد کا تذکرہ کیا ہے ان میں سے بعض کی عمر توپانچ سوسال تک زندہ رہا "۔
۳۔ فقط طبی ماہرین کا بڑھاپے کے مرض اورموت کے اسباب کو پہنچاننے کیلئے تجربات کرنا اورانسانی عمرکو طولانی کرنے کے لئے مسلسل کوشش کرنا اگرچہ محدود حدتک ہی کیوں نہ ہو یہ خود امکان کی ایک دلیل ہے ورنہ ان کا یہ کام فضول اورخلاف عقل ہوگا۔
اس کی روشنی میں حضرت امام مہدی کے مسئلے میں تعجب یا انکار کی کوئی منطقی وجہ نہیں ہے مگریہ کہاجائے کہ حضرت امام مہدی سائنس سے بھی سبقت کے گئے ہیں پس آپ کی شخصیت میں امکان علمی امکان عملی میں تبدیل ہواقبل اس کے کہ سائنس ترقی کرتے ہوئے
لیکن یہ بھی انکار یاتعجب کی کوئی عقلی وجہ نہیں بن سکتی کیونکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک شخص سائنس سے پہلے کینسر کی دوا دریافت کرلے اوراسلامی نظریہ میں ایسی سبقت کے کئی واقعات ملتے ہیں۔
چنانچہ قرآن مجید میں وجود ، طبیعت اورانسان کے متعلق کئی حقائق کی طرف اشارے کئے ہیں اورسائنس نے بعدان سے پردہ اٹھایا ہے۔
ہمیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ہمارے سامنے یہ قرآن کریم ہے جو حضرت نوح کا واقعہ بیان کرکے امکان عملی کا واضح ثبوت فراہم کررہا ہے اسی طرح احادیث نبویہ نے متعدد اشخاص کے صدیوں سے زندہ ہونے کی وضاحت کی ہے جیسے حضرت خضر حضرت عیسیٰ اوردجال،
جیسا کہ مسلم نے اپنی صحیح میں جساسہ سے نقل کیا ہے ان پرہم کیوں ایمان رکھتے ہیں حالانکہ اسلام کے مستقبل کے لئے ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے سوائے حضرت عیسی کے جونازل ہو کرحضرت امام مہدی کے وزیر ، مددگار اورآپ کے لشکر کے قائد ہوں گے جیسا کہ کثیر روایات میں ہے(ملاحظہ ہو شہید محمد باقر کی "الجوث حول المھدی)
اورکیوں بعض لوگ حضرت امام مہدی کا انکار کرتے ہیں جب کہ مستقبل میں وہ اس قدراہم کام کرنے والے ہیں کہ زمین کوعدل وانصاف سے پرکریں گے اورحضرت عیسٰی آپ کے پیچھے نماز پڑھیں گے(اس چیز کا صحیح بخاری کے پانچ شارحین نے اعتراف کیا ہے جیسا کہ اس کی تفصیل فصل سوم کے اول میں گزر چکی ہے)
جواب دوم:۔
فرض کریں بڑھاپے والا قانون حتمی ہے اورانسانی عمر کو طبیعی حدسے زیادہ طویل کرنا ان طبیعی قوانین کے خلاف ہے جن کا ہم آج تک مشاہدی کررہے ہیں توامام مہدی کی نسبت یہ چیز معجزہ ہوگی اوریہ کوئی تاریخ میں انوکھا واقعہ نہیں ہے۔
پھر مسلمان جو اپنا عقیدہ قرآن کریم اورسنت شریفہ سے حاصل کرتا ہے کو اس پرتعجب یا انکار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس کے سامنے اس سے بھی زیادہ مضبوط طبیعی قانون ٹوٹ گیا ہے جیسا کہ جناب ابراہیم کو جب بھڑکتے ہوئے شعلوں میں ڈالا گیا تو اللہ تعالیٰ نے معجزہ کے ذریعے ان کو نجات دی اور آگ گلزار بن گئی۔قرآن اس کی یوں تصریح کرتا ہے
( قلنا یا نار کونی برداوسطاما علی ابراهیم)
ہم نے کہا اے آگ ! ابراہیم پر بالکل ٹھنڈی اور سلامتی کا باعث بن جا(سورة انبیاء۲۱۔۲۹)
اب یہ اوراس قسم کے دوسرے معجزات وکرامات جو خدا نے خاص طور پر اپنے اولیاء کو عطا کئے ہیں سائنسدانوں کی مادی وسائل سے تیارکردہ نئی نئی ایجادات اوربڑی بڑی اختراعات کی وجہ سے فہم کے زیادہ قریب ہوگئے ہیں۔
یہی ایجادات اگر سابقہ دور میں ذکر کی جاتیں توسختی سے ان کا انکار کیا جاتا لیکن ہم ان کا مشاہدہ کررہے ہیں مثلا یہی ٹیلیویژن جسے پہلے ہم روایات میں پڑھتے تھے کہ :۔آخری زمانے میں مشرق میں رہنے والے لوگ مغرب میں رہنے والوں کو سنیں گے اوردیکھیں گے"
اوربعض لوگ انہیں بالکل غیر معقول قراردیتے تھے لیکن آج کل ایسا ہورہا ہے لہذا کسی شئی کے وجود پر تعجب کرنا یا اس کے وجود کا انکار کرنا صرف اس بنا پر کہ اس کی نظیر نہیں ہے یا وہ عام نہیں ہے کوئی منطقی اورعلمی بات نہیں ہے جب کہ یہ چیزیں امکان علمی اورمنطقی کے دائرے میں ہے اوراس پر متعدد شواہد بھی موجود ہیں
ایسی ہی بڑی بڑی علمی دریافتوں کی خبر دینے والی احادیث مثل وروایات ہیں جو امام مہدی کے معجزانہ طور پر ظہور کی خبر دیتی ہیں کہ جو جدید ایجادات کے بالکل مطابق ہے۔حضرت امام صادق سے مروی ہے کہ :۔جب ہمارا قائم ظہور کرئے گاتواللہ تعالی ٰ ہمارے شیعوں کے لیے ان کے کانوں اورآنکھوں میں اسقدر کشش پیدا کردے گا کہ ان کے اورہمارے درمیان کوئی بڑافاصلہ نہیں رہے گاوہ ان سے بات کرے گا تووہ سن رہے ہوں گے اوراسے اس کی اپنی جگہ پر دیکھ رہے ہوں گے(روضة کافی ۸:۲۰۱۔۳۲۹)
اس قدر طولانی غیبت کا رازکیا ہے؟
تیسرا سوال:۔اس قدر طولانی غیبت کا رازکیا ہے؟
کہتے ہیں حضرت مہدی کی عمر کے اس حد تک طولانی ہونے پر اتنا زور کیوں دیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے قوانین توڑنا پڑیں یا معجزہ کی ضرورت ہو ؟کیوں اس بات کو قبول نہیں کرلیتے کہ آخری زمانے میں امت بشریہ کی قیادت کے لیے اسی زمانے میں ایک شخص پیدا ہوگا اورطبیعی حالات میں زندہ رہ کر انقلاب کے لیے قیام کریگا؟
جواب:۔ہمارے سابقہ معروضات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کا جواب بہت واضح ہے اللہ نے ایسی حکمتوں اوراسرار کی وجہ سے کہ جن تک ہماری رسائی نہیں ہے یا ان میں سے بعض کو ہم جانتے ہیں۔
اس جہان میں یا کسی اورجہان میں بعض اشخاص کو امام مہدی کی عمر سے بھی بہت زیادہ طویل عرصے سے زندہ رکھا ہوا ہے ہم ان پریقینی صورت میں ایمان رکھتے ہیں پس امام مہدی کے بارے میں بھی ایسا ہی کرنا چاہے کیونکہ جیسے کہ پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں ہم مسلمان ہونے کے ناطے ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی کوئی فضول کام انجام نہیں دیتا۔
نیز غیب کی بہت سی چیزوں پرایمان رکھتے ہیں کہ جن پر عقلی ومقلی محکم دلائل موجود ہیں پس کوئی حرج نہیں ہے کہ ہمیں اپنے کسی عقیدے کی حکمت اورفلسفہ معلوم نہ وہوجیسا کہ احکام شرعیہ قوانین الہیہ اوربندگی وعبادت کے ایسے کئی اعمال ہیں جن کے راز اورحکمتیں ہمیں معلوم نہیں ہیں لیکن ان کی پابندی کرتے ہیں اسی طرح دو سرے الہی وغیرہ الہی ادیان میں بھی ایسا ہے بلکہ انسانی اورملکی قوانین میں بھی ایسا ہوتا ہے
اب ہم کہتے ہیں کہ سابقہ فصول میں ہماری قائم کردہ دلیلیں جو یہ بتارہی ہیں کہ مہدی پرایمان لاناضروری ہے اس کی خصوصیات سمیت اور یہ کہ وہ حسن عسکری کا فرزند حجة ہے اوریہ کہ پانچویں سال میں امام تھا اوریہ کہ اب تک زندہ ہے اگرکافی ہے توحتمی کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اس طولانی غیبت کا عقیدہ رکھیں چاہے اس کے کسی فلسفے کا ہمیں علم ہو یا نہ۔
اگرچہ ممکن ہے کہ ہم اپنی محدودعقل اورقاصر فہم کے ساتھ بعض اسرار کا پتہ لگالیں ۔لیکن جو مسلمان حضرت امام مہدی کی طولانی عمر کے معجزے اورغائب ہوتے ہوئے ان کے وجود کے فوائد کا قائل نہیں ہو سکتا اس کے لیے ضروری ہے کہ نئے سرے سے اپنے عقیدے کو عقلی ونقلی دلیلوں کی کسوٹی میں پرکھے۔
اس بنا پر اس دوسرے فرض کو قبول کرنا بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ دلیلیں ہماری اس طرف راہنمائی کرتی ہیں کہ زمین ایک لحظہ کے لیے بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی اس پر ایمان لانے کے بعد چاہے اس کے اسرار کا ہمیں علم ہو یا نہ ہو اس عقیدے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ حضرت مہدی ولادت سے لے کر اب تک زندہ ہیں
سوال چہارم :۔ امام غائب کا فائدہ کیا ہے؟
بعض اذہان میں یہ سوال بھی گردش کرتا ہے کہ امام مہدی جب اس طرح غائب اورنظروں سے اوجھل ہیں توامت مسلمہ کو ان سے فائدہ کیا ہے؟
جواب:۔
جوشخص اس مسئلے میں دقت اورتحقیق کرتا ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ ان صحیح روایات کومدنظر رکھے جو کہتی ہیں امام مہدی بہت سریع یا اچانک ظہورفرمائیں گے یعنی کسی مخصوص زمانے یا وقت کی تعین کے بغیراس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی ہر نسل ان ظہور مبارک کی منتظر رہے لہذااس مسئلہ میں تامل کرنے سے مندرجہ ذیل فوائد کا کشف کرنا مشکل نہیں ہے۔
۱۔ یہ چیز ہرمومن کو شریعت پر کاربند رہنے اوراس کے اوامر ونواہی کی پابندی کرنے کی طرف دعوت دیتی ہے اوراسے دوسروں پر ظلم کرنے اوران کے حقوق کو غصب کرنے سے باز رکھتی ہے۔
کیونکہ امام مہدی کے اچانک ظہور کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی اس حکومت کی بنیادرکھیں گے جس میں ظالم سے انتقام لیا جائے گا،عدل کو رائج کیا جائے گا اورظلم کو صفحہ ہستی سے مٹادیا جائیگا۔اگرکہاجائے شریعت اسلام جس کا دستور قرآن کریم ہے نے ظلم وزیادتی سے منع کردیا ہے پس وہی کافی ہے توہم کہیں گے حکومت سلطنت اورطاقت کے وجود کا عقیدہ رکھنا بہت قوی مانع شمار کیا جاتا ہے۔
صحیح میں آیا ہے کہ اللہ تعالی ٰ بادشاہ کے ذریعے وہ کچھ روکتا ہے جوقرآن کے ذریعے نہیں روکتا۔
۲۔ یہ چیز ہر مومن کودعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو امام مہدی کے لشکر میں شامل کرنے ان کی پوری طرح حفاظت کرنے اپنی قربانی دینے اورشریعت الہیہ کو قائم کرنے کے لیے ان کی حکومت کو پوری زمین پر پھیلانے کیلئے ہر وقت اپنے آپ کو تیار اورآمادہ رکھے۔
کیونکہ اس سے مومن نے اندر باہمی تعاون اوراپنی صفوں کو منظم ومضبوط رکھنے کا شعور پیدا ہوتا ہے اس لیے کہ مستقبل میں وہ حضرت امام مہدی کے لشکر میں شامل ہونے والے ہیں
۳۔ یہ غیبت مومن کو اپنے فرائض خاص طور پرامر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے فریضے کو جلد از جلد انجام دینے پرآمادہ کرتی ہے کیونکہ حضرت امام مہدی کے مددگاروں کے لیے فقط انتظار میں بیٹھے رہنا کافی نہیں ہے بلکہ عظیم اسلامی حکومت قائم کرنے اورظہور سے پہلے اس کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے امربالمعروف اورنہی عن المنکرکا فرفریضہ انجام دینا ضروری ہے۔
۴۔ امت مسلمہ جو زندہ اورموجود حضرت امام مہدی کا عقیدہ رکھتی ہے ہر وقت عزت اورکرامت کے احساس کے ساتھ زندی گزارے گی
اللہ تعالی کے دشمنوں کے سامنے اپنا سر تسلیم خم نہ کرے گی ان کی ظلم وزیادتی اورسرکشی کے سامنے نہیں جھکے گی کیونکہ اسے ہر لمحے امام مہدی کے کامیاب ظہور کا انتظار ہے لہذا وہ ذلت وپستی سے محفوظ رہے گی استکباری قوتوں اوران کے تمام آلہ کاروں کو حقیر اورمعمولی سمجھے گی
اوریہی احساس مقابلہ کرنے قربانی دینے اورپایدار رہنے کاایک بہت بڑا عامل ہے اوریہی اللہ اوراسلام کے دشمنوں کوخوفزدہ کئے ہوئے ہے اوریہی ان کے مسلسل خوف اورڈرکا راز ہے۔ اس لئے انہوں نے ہمیشہ نظریہ مہدویت کو کمزورکرنے کی کوشش کی ہے اوراس میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کے لیے قلموں کو خریداہے کہ انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے انہیں گمراہ کرنے اوراپنے صحیح نظریات سے منحرف کرنے اپنے فاسد عقائد کی ترویج کرنے کے لیے ان کے اندر ربابیت بہائیت ، قادیانیت، اوروہابیت جیسے نئے نئے فرقے پیدا کیے ہیں ۔
ان کے علاوہ ظہور امام مہدی کا عقیدہ رکھنے والا شخص آخرت میں بھی اس کے بہت سارے فوائد اورثمرات حاصل کرسکتا ہے ان میں سرفہرست اللہ تعالی کے عدل اوراس امت پرمہربان ہونے کا عقیدہ رکھنا ہے کہ اللہ تعالی نے اسے بغیرکسی سہارے کے نہیں چھوڑدیا کہ دین سے اانحراف کودیکھ کے وہ مایوسی کا شکار ہوجائے بلکہ ان کے لیے امام مہدی کی قیادت میں دین کے تمام روئے زمین پر غالب ہونے کی امید برقراررکھی ہے۔
دوسرا فائدہ انتظار پراجروثواب ہے امام صادق سے ایک صحیح حدیث سے مروی ہے "ہمارے مہدی کا انتظار کرنے والا اپنے آپ کو راہ خدامیں خون میں لت پت کرنے والے کی مثل ہے"
اسی طرح کاایک فائدہ اللہ تعالی کے اس فرمان کا پابندرہنا ہے جس میں وہ ابراہیم کی اپنے بیٹوں کو وصیت نقل کررہا ہے۔
( یا بنی ان الله اصطفی لکم الدین فلا تمومن الا وانتم مسلمون)
میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لئے دین کو منتخب کیا ہے پس نہ مرنا مگر اس حالت میں کہ مسلمان ہو(البقرہ :۲۔۱۳۲)
اورہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ جو بندہ اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کئے بغیر مرجائے وہ جاہلیت والی موت مرتا ہے اورہمارے زمانے کے امام یہی امام مہدی ہیں ان سب چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات بھی ظاہر ہوجاتی ہے کہ "زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی"
آخرمیں اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ دشمنان اسلام کی مسلسل اورسر توڑ کوشش رہی ہے کہ خود مسلمانوں کی صفوں کے اندر ایجنٹ پیدا کریں شاید انہیں بعض ایسے لوگ مل جائیں جنہیں وہ اچک لیں اوراپنی چادردیواری میں محفوظ کرلیں اورانہیں جھوٹے القاب دے کر کہ جن کہ وہ عرصہ دراز سے بھوکے ہیں اپنے اہداف تک پہنچنے کے لیے ان سے سواری کا کام لیں اوراسلام اوراس کے اعلی اصولوں کو بدنام کرنے والے رسالوں اورتنظیموں کے لیے انہیں آلہ کار کے طور استعمال کریں ۔
لیکن انہیں وہی لوگ ملیں گے جو اپنے روشن راستے سے منحرف ہو کر اپنے آپ کو بچے کی طرح وہ شعور سے بے بہرہ ان دایوں کی گودوں میں ڈال دیئے ہیں جو ہر گندے کھیل کے لیے بچے کو تیار کرتی ہیں
جیسے آجکل سلیمان رشدی جیسے لوگ کمزورمسلمانوں کو اپنے زہریلی پروپیکنڈے سے ڈسنے میں مصروف ہیں
لہذا مسلمانوں کو گھٹیا ہتکنڈوں کے خطرات سے آگاہ کرنا ان کے ناپاک عزائم سے بچانا اورقرآن وسنت اورمکتب اہلبیت علیھم السلام کے حقیقی ایمان کے قلعے میں محفوظ کرنا ناشرعا واجب ہے
چنانچہ ندا سلام پر لبیک کہتے ہوئے ہم نے اس کتاب میں اسلام کے ایک بنیادی نظریے کے بارے میں بحث کی ہے اوروضاحت سے بیان ہوچکا ہے کہ ظہور حضرت امام مہدی کا نظریہ اسلام کے دائمی پیغام کا لازمہ ہے اوراسے جھٹلانا اسلام کے پیغام کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔
اوراس کتاب کا سلاست اسلوب اورقوت دلیل کے علاوہ امتیاز یہ ہے کہ اس میں نظریہ مہدویت کی حقیت کے متلاشی ہر شخص کے لیے جواب موجود ہے
والحمدللہ علی ھدایتہ ، الصلوة والسلام علی افضل انبیائہ ورسلہ محمد، علی آلہ الطاہرین ، وصحبہ المخلصین ومن سارعلی نھجھم الی یوم الدین(المحرم الحرام ۱۴۱۷ھجری)
فہرست
امام مہدی علیہ السلام کے نسب کے بارے میں احادیث ۴
حضرت امام مہدی علیہ السلام کنانی ،قریشی اورہاشمی ہیں ۴
حدیث کی روشنی میں حضرت امام مہدی (عج)کا حضرت عبدالمطلب کی اولادسے ہونا ۴
حدیث کی روشنی میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کاحضرت ابو طالب کی اولادسے ہونا ۵
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اولادعباس سے ہونے والی احادیث ۶
مجمل احادیث ۶
مذکورہ مجمل احادیث پرایک نظر ۷
واضح احادیث ۸
حدیث:۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام اہل بیت علیھم السلام سے ہیں ۱۰
حدیث: حضرت امام مہدی(عج)عترت سے ہیں ۱۱
احادیث۔ حضرت امام مہدی (عج)پیغمبر اکرم کی اولاد میں سے ہیں ۱۲
حدیث:۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کی اولادسے ہیں ۱۳
حدیث:۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام پیغمبر کے نواسے حضرت امام حسن علیہ السلام کی اولادسے ہیں۔ ۱۶
حدیث کے باطل ہونے پر سات دلیلیں ۱۶
پہلی دلیل: ۱۶
دوسری دلیل ۱۷
تیسری دلیل ۱۸
چھوتھی دلیل ۱۸
چھٹی دلیل ۱۹
ساتویں دلیل ۱۹
احادیث :"اسم ابیہ اسم ابی (عبداللہ ) ۲۱
اس تعارض کی حقیقت اور اس کی علمی حیثیت ۲۲
حضرت امام مہدی کے حضرت امام حسین کی اولادسےہونے کی تائیدکرنے والی احادیث ۲۶
حدیث ثقلین ۲۶
حدیث:من مات ولم یعرف امام زمانہ ۲۹
حدیث : ان الارض لاتخلومن قائم لله بحجة ۳۰
"زمین حجت خدا سے خالی نہیں ہوسکتی" ۳۰
دلیل کہ بارہ خلفاء سے مراد بارہ امام ہیں ۳۵
امام مہدی امام حسین کی اولاد میں سے ہیں اورآپ کے نویں فرزند ہیں ۴۱
مہدی محمد ابن حسن عسکری ہیں ۴۴
لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا جس میں ان سے ان کا امام غائب ہو جائے گا ۔ ۴۶
امام مہدی کی ولادت ۵۰
حضرت امام حسن عسکری کا اپنے فرزند حضرت امام مہدی کی ولادت کی خبر دینا۔ ۵۲
دایہ کی امام مہدی کی ولادت کے بارے میں گواہی ۵۳
آئمة کے اصحاب اورغیر اصحاب میں سے جن لوگوں نے امام مہدی کو دیکھنے کی گواہی دی ہے ۵۳
امام مہدی کے وکلاء اورآپ کے معجزات کا مشاہدہ کرنے والوں نے آپ کو دیکھنے کی گواہی دی ہے ۵۸
خدام ، خادماؤں اورکنیزوں کی حضرت امام مہدی کو دیکھنے کی گواہی ۵۹
حکومتی اقدامات امام مہدی کی ولادت کی دلیل ہیں ۶۰
علما انساب نے حضرت امام مہدی کی ولادت کا اعتراف کیا ہے ۶۳
۱-علم انساب کا مشہور ماہر ابونصر سہل بن عبداللہ بن داودبن سلیمان بخاری ۶۳
۲۔ پانچویں صدی ہجری جے علماء میں سے مشہور نساب سید عمری:۔ ۶۳
۳۔فخر رازی شافعی ۶۴
۴۔مروزی ازوی قانی ۶۴
۵۔علم انساب کے ماہر سید جمال الدین احمد بن علی الحسینی :۔ ۶۴
۶۔ گیارہویں صدی کے علماء انساب میں سے زیدی ابو الحسن محمد حسینی یمانی صنعانی :۔ ۶۴
۷۔محمد امین سویدی ۶۵
۸۔ ہم عصر نساب محمد ویس حیدری شامی:۔ ۶۵
علماء اہل سنت کا اعتراف حضرت امام مہدی کی ولادت کے سلسلے میں ۶۶
اہل سنت کا اعتراف کہ امام مہدی امام حسن عسکری کے فرزند ہیں ۶۸
امام مہدی کے متعلق شبہات ۷۵
صحیحین میں احادیث کے نہ ہونے کا بہانہ ۷۵
صحیحین کی وہ احادیث جن کی تفسیر حضرت امام مہدی سے کی گئی ہے ۷۷
۔صحیحین میں نزول عیسیٰ کی احادیث ۷۷
۔ صحیح مسلم میں بیابان میں دھنسنے والی احادیث:۔ ۸۰
احادیث حضرت مہدی کو ضعیف قراردینے میں ابن خلدون کا استدلال ۸۱
ابن خلدون نے احادیث کے ضعیف قراردینے کی حقیقت ۸۱
احادیث حضرت امام مہدی صحیح اورمتواترہیں ۸۳
تضعیفات ابن خلدون کی کہانی ہندسوں کی زبانی ۸۴
عیسیٰ بن مریم ہی مہدی ہیں ۸۵
مہدویت کے سابقہ دعووں سے استدلال ۸۸
امام مہدی عقل اورعلم کی روشنی میں ۹۰
سوال اول:۔ پانچ سال کی عمرمیں آپ کیسے امام ہو سکتے ہیں؟ ۹۲
دوسراسوال :۔ طول عمر ۹۴
امکان کی تین قسمیں ہیں ۔ ۹۵
اول :۔امکان عملی ۹۵
دوم :۔امکان علمی! ۹۵
سوم :۔امکان منطقی! ۹۵
سوال یہ ہے کیا عملی طور پریہ امکان ہے کہ انسان اسقدر طویل عمر پائے اورکیا تجربہ اس کا شاہد ہے؟ ۹۷
جواب: ۹۷
دوسرا سوال کیاامکان علمی کی روشنی میں انسان کی عمر طبیعی حدسے زیادہ طویل ہو سکتی ہے؟ ۹۷
جواب اول: ۹۸
جواب دوم:۔ ۹۹
اس قدر طولانی غیبت کا رازکیا ہے؟ ۱۰۰
تیسرا سوال:۔اس قدر طولانی غیبت کا رازکیا ہے؟ ۱۰۰
سوال چہارم :۔ امام غائب کا فائدہ کیا ہے؟ ۱۰۱
جواب:۔ ۱۰۱